Khuwab O Lams By Binte Aaslam Readelle50317 (Khuwab O Lams) Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
(Khuwab O Lams) Episode 7
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تڑپ اٹھا تھا اس کی بات سن کر وہ کیسے اس سے نفرت کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے اتنی تکلیف سہی بدناِمزمانہ جگہ پر گیا اپنا معیار۔ گرایا ۔اس نے فون نکال کر حسن کو کال کی ۔
ہیلو حسن !
ہاں زائر کیسا ہے تو ۔؟
پتا نہیں کیسا ہوں اچھا سن کراچی کی دو ٹکٹ بک کروا میں واپس آرہا ۔ہاں امرجنسی ہے ۔
ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر دوسرا کون چچا آرہے ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
نہیں آکر بتاؤ گا تو یہ کام کر اور بتا مجھے اور ہاں ٹرین کی بک کرنا ۔۔۔۔۔ اس نے فون بند
کردیا پتہ نہیں فلائٹ میں پینک ہی نہ کر جائے ۔وہ گھر آیا ہی تھا جب خاور نے پوچھا زائر بھائی اپ کدھر تھے کل سے میں کتنا پریشان ہوگیا تھا؟”
چچا میاں بھی پوچھ رہے تھے آپ کا ۔اس نے اتنے سوال ا یک ساتھ ہی پوچھ لیے تھے ۔
” خاور ا یک ضروری کام سے واپس جارہا ہوں چچا کو بتا دینا اور ہاں ان کا اور اپنا بہت خیال رکھنا ۔یہ کہ کر وہ گیسٹ روم میں گیا اور اپنا سامان لے کر واپس آیا تھا خاور کے گلے لگ کر وہ باہر نکل آیا تھا گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلا خیال بابا کا آیا گاڑی مسجد کی طرف موڑلی تھی وہ ہجرے کے سامنے کھڑا دستک دے رہا۔ تھا جب امام صاحب باہر آئے تھے یہ وہ نہیں تھے جنہوں نے اس کا نکاح پڑھایا وہ یہاں بابا رہتے تھے کل میں مال تھا ان سے ادھر مسجد کےباہر بیٹھتے تھے اکثر ” اس نے تم کی بات کررہے ہو بیٹا ” امام صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ہاں شا ید یہی نام تھا ان کا ۔۔۔ ہ تو آج صبح چلے گئے ” کیا مگر کہاں کل تویہی تھے۔ وہ
حیران ہوا آج صبح ہی گئے ہیں کہ رہے تھے میرا کام ختم ہوگیا جس کو جس کا ہونا تھا وہ تو ہو گیا اب میرا یہاں کیا کام۔۔۔ زائرسمبھ چکا تھا اس لیے الٹے قدموں واپس آگیا تھا وہ۔گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا آنکھیں بند کر لی تھی۔ اس نے ۔۔” بابا یہ کیا کیا آپ نے کیوں چلے گئے مجھے اکیلا چھوڑ کراب میں کسے اپنی تکلیف بتاؤ گا میں ٹوٹ گیا ہوں اس مقام تک پہنچتے پہنچتے کچھ نہیں بچا۔مجھ میں سب ختم ہوگیا ” بند آنکھوں سے آنسو گرے رہے تھے” میری محبت چاہتی ہے میں اس سے نفرت کروں کیسے کرسکتا ہوں میں مجھے سب بتایا گیا تو اسے کیوں نہیں کیا اسے نہیں پتامیری سانسیں اس سے ہوکر مجھ تک آتی ہیں دور جاؤ گا مر۔جاو گا۔میں ٹوٹ گیا ہوں بکھر گیا ہوں وہ سمیٹ لے گی ! کان میں سرگوشی ہوئی تھی مگر وہاں توکوئی نہیں تھا اسے لگا شاید اس کاوہم تھا اسلیے وہ گاڑی میں بیٹھ گیاروم کا دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر سامنے نور پڑی جو رو رو کر وہی بیڈ کےساتھ نیچے بیٹھی سوگئی تھی ۔بازوں کا تک یہ بنائیں وہ بڑی تکلیف میں سو رہی تھی ۔وہ قدم قدم چلتااس کے پاس آیا تھا اور اس کے ساتھ نیچے ہی بیٹھ گیاتھا کو اسکے چہرے کے ایک ایک نقشں کودیکھ رہا تھا جب اس کے نظرزخمی ہونٹ پر پڑی اس میں سے اب خون نکلنا بند ہوگیا تھا ایک باد پھرخود سے وحشت ہوئی تھی نفرت ہوئی تھی خود سے دل نے بے ساختہ کہا تھا یہ کیا کیازائر وہ تو پہلے تکلیف میں تھی کیوں اپنے جزبات کو قابو میں نہ رکھ سکااسے خود سے خوف آرہا تھا ۔اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی کے وہ اس کے چہرے پر بکھرے بال پیچھے کرسکے کجاوہ اسے اٹھا کر بیڈ پر لیٹاتا وہ اسے دیکھ رہا تھا رو رہا تھا وہ اس کی عبادت کر رہا تھا وہ بھی اسکے ساتھ وہ یں نیچے ب یٹھ گیا وہ۔تکلیف میں
سورہی تھی تو وہ سکون سے کیسے سو سکتاتھا وہ اسی کی طرح بیڈ سے ٹیک۔لگا چکاتھا ا یک کمرے میں ایک ہی حالت میں دو انجان بیٹھے تھے اسے دیکھ کر سکون مل رہاتھا سکون غالب آ یا تھا تو نیند نے بھی ڈیرے ڈال لیے تھے۔ وہ چوغہ پوش چلتے چلتے اس کے پاس آ یا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا ” جبر نہیں صبر کرو “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بورڈ روم میں کمشنر کے سامنے کورنگی کا نیا ڈی سی پی بیٹھا تھا ۔انھوں نے ایک ماہ پہلے ہی عہدہ سنبھالا تھا اور آتے ہی انھیں مشکلات نے گھیر لیا تھا ملک اللہ یار کی واردات علاقے میں بڑھتی جا رہی تھیں مگر ثبوت مل نہیں رہے تھے ۔ افتخار کچھ کرو کیا کر رہی ہے تمہاری ٹیم ؟ اوپر سے آرڈر آرہے ہیں۔” کمشنر صاحب ان پر برس رہے تھے . سر! ہم کوشش کر رہے ہی ں مگر کوئی ثبوت ہی نہیں مل رہا کوئی گواہی دینے کےلیے تیار نہیں ہے ” افتخار صاحب خود پریشان تھے ۔ تو ڈھونڈو کسی جرنلسٹ کو ہی ملا لو ساتھ۔ ورنہ تمہار ی اور میری نوکری گئی” انھوں نے خدشہ پیش کیا تھا ۔جی سر آپ پریشان نہ ہوں میں کچھ کرتا ہوں ۔یہ کہ کر وہ باہر آگئے تھے اور آتے ہی ایک میل اور فی میل آفیسرز پر چڑھ گئے تھے ۔
” شازیب آفیسر لمس کدھر ہیں “
سر ۔۔۔وہ۔۔۔۔ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔
? I said where is officer lums malik
سر وہ آفیشل لیو پر ہیں ۔ لڑکی نے جواب دیا کیا یہاں اتنے حالت خراب ہوگئے ہیں اور وہ لیو پر ہیں بلائیں انھیں ابھی مجھے ملنا ہے ان سے ” وہ غصے میں کہتے چل دیے تھے . یس سر ۔۔۔۔۔ ان کے جانے کی بعد انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔
” بلا لیں ؟ لڑکی نے کہا بلانا پڑے گا۔لڑکے نے جواب دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح اس سے پہلے آٹھ۔ گئی تھی سامنے اس کا چہرا دیکھ کر کچھ تذبذ کا شکاد ہوئی تھی ۔اس کو دیکھتے ہی اسے ایک خوبصورت سا احساس ہوا تھا مگر دل میں ایک گلہ بھی تھا” کیوں کیا آپ نے آ یسا میں نے آپ کو اس لیے تو وہاں نہیں بلایاتھا کے آپ مجھے اپنا لے میں تو چاہتی تھی آپ مجھے سے دور رہیے تاکے میرے وجود کے چھینٹے آپ پر نا پڑے مگر آپ نے مجھے اپنا سہرا بنا لیا یہ اب داغ ندامت کے سوا کچھ
نہیں ہے ” آنسو بہنے لگے تھے ۔ اس کی آنکھ کھلی تو سامنے نور کا روتا ہوا چہرا آ یا تھا وہ ایک منٹ میں پر یشان ہو گیا تھا
۔اس نے اس کا چہرا ہاتھوں میں لیا ” کیا ہوا کیوں رو رہی ہو ۔ آپ کل رات کی وجہ سے مجھے نہیں پتا مجھے کیا ہوگیا تھا میں ابھی کہ ہی رہا تھا جب وہ اس کا ہاتھ چھڑا کر واش روم میں گھس گئی ۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور اپنا فون چیک کیا تھا حسن کا میسج تھا 8 بجے کی ٹر ین تھی ان کی ۔زائر اپنی نو ِرحیات کو لی کر روشنی لوں کے شہر چلا تھا ۔۔۔۔۔۔عشق دھوکا بے وفائی کی داستان کراچی نے سنانی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک زائر ۔۔خوابوں کا شہزادہ ۔۔۔۔۔۔ اک لمس شہِر قائدکی رانی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سرے شروع ہونی اب ۔۔۔
خواب و لمس کی کہانی تھی۔۔۔۔۔۔۔
️وہ واش روم سے باہر ائی تھی جب زائر نے اسے بتایا کہ ہم کراچی جارہے ہیں ؟وہ کچھ پریشان ہو گئی تھی
کیوں کہ یہ میرا گھر نہیں ہے اور نہ ہی یہ میرا شہر میرا اصلی شہر کراچی ہے اس لیے ہم واپس جارہے ہیں ۔ اس نے اپنا سامان دیکھتے ہوئے کہا۔ نور نے ہچکچاتے ہوئے زائر کی طرف دیکھا ۔ کیاہوا کوئی مسئلہ ہے ؟ زائر نے اس کےتاثرات د یکھے تھے ۔
وہ۔۔۔میں ان کپڑوں میں۔۔۔۔۔۔وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی اپنے کپڑوں کو لیکر ۔
او ! اچھا آپ کے کپڑے ۔۔وہ کچھ سوچتا ہوا باہر چلا گیا ۔ وہ وہیں کھڑی تھی تھوڑی دیر بعد ویٹر ناشتہ لےآ یا تھا ناشتہ بھی اس نے چند نوالے ہی لیے جب وہ واپس ایا تھا اس کے ہاتھ میں چند شاپر تھے ۔
یہ آپ کا سامان ۔اسنے شاپر اس کی طرف بڑھائے تھے اور خود باہر چل دیا تھا ۔ نا ۔۔۔ناشتہ نہیں کریں گے ؟” نہیں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں اتنا کچھ ہضم کر لیا ہے کہ اب بھوک لگنا مشکل ہے ” وہ بنا مڑے یہ کہ کر چلا گیا ۔ اس نے ایک سرداہ بھری اور شاپر کھول کر دیکھا اس میں فراک پجامہ اور دوپٹہ تھا اور دوسرے میں مکمل برقعہ ۔وہ شاپر تھامے واش روم میں چلی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں کراچی کی ٹرین پر سوار تھے ۔نور مسلسل باہر دیکھ رہی تھی اس کی نگاہیں کسی کی منتظر نہیں تھیں وہ بس اپنے ماضی کو یاد کر رہی تھی کہ کیسے اس کی پیدائش کےدوران اس کی ماں مر گئی ۔اس کے بابا نے اسے پالا خانم اماں کی دوست بن کر آتی تھی کی سے اس کے بابا کا انتقال ہوگیا خانم اسے کوٹھے پر لے گئی پھر بولی لگنا ۔اس کے ماضی میں صرف اذیتیں ہی تھی سوائے ایک خوشی کے وہ تھی
زائر مومن۔۔۔ اس نے ایک نظر اسے دیکھا تھا وہ بھی اسے ہی د یکھ رہا تھا نظریں ملی تھیں۔۔
میری انکھوں کو انکھوں کا
کنارہ کون دے گا۔۔۔۔
سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہی تو تھا جس نے اسے محبت کے سوا کچھ نہیں دیا تھا
اس سے عشق کیا اسے ا یک عزتداد عورت اور بیوی کا درجہ دیا تھا ایک مقام دیاتھا
میرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو۔۔۔۔
تمہیں میرے سوا چہرا تمہارا کون دے گا ۔۔۔۔۔۔۔
میری انکھوں کو انکھوں کا کنارہ کون دےگا ۔۔۔۔۔
وہ واحد تھا جس نے غصے میں بھی اسے تکلیف نہیں پہنچائی تھی اپنا معیار گرا کر اسے اپنا یا تھا اس کی حقیقت سے نفرت نہیں کی تھی ۔
محبت نیلا موسم بن کےاجائے گی اک دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گالبی تتلیوں کو پھر سہارا کون دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری انکھوں کو انکھوں کا کنارہ کون دے گا۔۔۔۔۔
اسے پکارہ بھی تو اب تک اپ کہ کر کبھی یہ احساس نہیں دلایا کے میں اس کےقابل نہیں ہوں ہمیشہ محبت پاش نظروں سے دیکھا ۔میری اواز میں اواز کس کی بولتی ہے ۔۔۔۔
میرے گیتوں کو گیتوں کا اشارہ کون دے گا ۔۔۔۔۔۔
میری انکھوں کو انکھوں کا کنارہ کون دے۔۔۔۔۔۔
سمندرکو سمندد میں سہارا کون دےگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے نظریں چرالی تھیں وہ چاہ کر بھی اسے کچھ نہیں کہ سکتی تھی ۔ ایک طویل سفر ساتھ گزرنا تھا اور اس سے بھی طویل خاموشی ہو گئی تھی۔
ایک کے الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے تودوسرے کی زبان انکاری ہوگئی تھی۔ ٹرین کےباہر زندگی دوڑ رہی تھی مگر اندر ایک منٹ میں دوسرا سانس بھی مشکل سے ارہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرین کراچی سٹیشن پر پہنچ چکی تھی حسن کواسنے آنے سے منع کر دیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ حسن کا کوئی تاثر نور دیکھے جس کی وجہ سے وہ اور اپ سیٹ ہوجائے ۔ وہ اسے ل لیکر گھر اگیا تھا چوکیدار کو اس نے ضرورت کے مطابق بتا دیا تھا ۔” سیڑھیوں سے اوپر بائیں جانب میرا کمرہ ہے اپ ارام کر لیں میں آتا ہوں ۔اس نے میز پر سے چابیاں اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
اپ۔۔پھر کہاں جارہے ہیں اکیلے ہونے کا سوچ کر وہ پھر ڑر گئ تھی ۔
ایک دوست سے ملنے جارہا ہوں جلدی اجاو گا ۔گارڑ ہے باہر اپ پریشان مت ہوئیے گا۔ یہ کہ کروہ باہر چلا گیا تھا اور وہ سڑھیوں کی جانب ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی ایس پی افتخار اس وقت اپنے افس میں تین افیسرز کےساتھ موجود تھے جن میں سب سے پہلےفیمیل سب انسپیکڑ دوسرے نمبر پر سب انسپیکڑ شازیب سبزوری اور تیسرے نمبر پر وہ کھڑی تھی جسے اس کی قابلیت کی بنا پر کورنگی کا سینئر انسپیکٹر بنایا گیا تھا۔لمس ملک ۔ وہ گونج نہیں یلغار تھی وہ لڑکی نہیں شیر کی دھاڑ تھی ۔ لڑکیہونے کے باوجود اس سے ہر خاص و عام غنڈا ڈرتا تھا مگر اس کی چند دن کی غیر موجودگی میں واردات بڑھ گئی تھیں ایک حادثے نے اسے اسکے کیرئیر سے دور کردیا تھا ۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے افیسر لمس آپ کدھر تھیں ۔انھوں نے نرمی سے کہا تھا مگر رعب قائم تھا ۔ سر ا یک ضروری کام تھا ا یک بہت اہم پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے جو ملک اللہ یار سے تعلق رکھتا ہے آپ فکر نہ کرے سر ہم پور ی کوشش کر رہے ہیں کوئی گواہی کوئی ثبوت ضرور
مل جائے گا ” اس اطمینان سے جواب دیا ۔ ٹھیک ہے آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں مگر مجھے اب تک
سمجھ نہیں آ یا آپ جیسی آفیسر اتنی غیر ذمہ دار کی سے یشن سمجھتا ہو مگر زندگی رک نہیں جاتی
خود کو اس ٹروما سے باہر نکالے ۔انھوں نے اسے سمجھایا تھا ۔ یس سر۔ اسنے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی تھی ۔ ویری گڈ لمس مجھے آپ سے یہی امید تھی اور اس سے بھی زیادہ امیدیں ہیں
You are my brilliant officer lums and I don’t want to
lose you focus on your profession you have many
…. things to do
یس سر۔ ا یک ہی تاثر ۔
” اور ہاں کوئی جرنلسٹ ہے زائر مومن اس نے کبھی بہت سٹڈی کی تھی اللہ یار پر اس کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے تھے ۔اس کے اڈے کا رکن بھی بن کر رہا تھا مگر پھر اچانک خاموش ہوگیا ۔ہوسکے تو اس سے رابطہ کریں وہ ہماری بہت ہیلپ کر سکتا ہے ۔
…..Now you can go and do this as early as possible
یس سر انھوں نے ایک ساتھ کہا اور باہر آگئے تھے ۔۔زائر مومن ۔۔۔تینوں نے یک زبان کہا تھا ۔ شازیب اس زائر مومن کی پروفائل مجھے ایک گھنٹے تک میرے ٹیبل پر چاہیے ۔ ُکھلواو اس کی جنم کنڈلی پتہ تو چلے کون سا سورما ہے یہ زائر مومن جس نے اللہ یار کے ناک میں دم کیا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیییا ۔۔۔۔۔۔۔
حسن پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ اس وقت کسئ ریسٹورانٹ میں بیٹھے تھے ۔زائر نے اسے ساری کہانی سنا ڈالی تھی ۔ ” تو بے وقوف ہے نہیں پاگل ہے تو نے اتنا بڑا قدم بنا سوچے سمجھے ہے سب چیزیں اسی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں پہلے خواب پھر وہ بابا نور کا ملنا اور وہ سکے ” اسنے بے بسی سے کہا تھا تیری زندگی ہے یا movie animatedسب کچھ سکرپٹ ہو جیسے ۔ وہ غصے میں تھا ۔” یہ زائر مومن ہے جو اپنے گھر کے مالی کے مالی کی اوالدوں تک کا پتہ رکھتا تھا اس نے ایک لڑکی سے شادی کر لی جس کے بارے میں اسے کچھ
نہیں پتا ۔واہ کیا بات ہے۔وہ غصے میں تھایار مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا میں بے بس ہوگیا تھا اپنے دل کے آگے میں جھکتا چلا گیا اتنا کے مجھے زمیں پر رینگنے والی چیونٹی بھی اپنے سے بالاتر لگ رہی ہے ۔مجھے سکون ملتا ہے اسے دیکھ کر مجھے لگتا ہے اب سب مکمل ہوگیا ۔اس نے بے بسی سے کہا تھا ۔ تو محبت کرتا ہے اس سے ؟ پتہ نہیں یہ محبت ہے یا نہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے دنیا میں آنے
کا مقصد مکمل ہوگیا ۔سکون کی تلاش اس کی قربت میں جا کر ختم ہو جاتی ہے وہ سامنے ہو تو ہر منظر دھندلا جاتا ہے اس کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے مصومیت کے ادوار زندگی سے کبھی ختم نہیں ہوتے اگر یہ محبت ہے تو ہاں اس سے محبت ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ محبت نہیں عشق ہے تو عبادت کرتا ہے اس کی ۔ حسن نے پر سکون ہوتے ہوئے کہا ۔ مجھے ڈر لگتا ہے خود سے کہیں اس کا ماضی کہی میرے دماغ پر حاوی ہوکر میرے دل سے اس کی چاہت کم نہ کر دے ۔ خاموش آنسو بہ رہے تھے ۔ زائر جہاں عشق واجب ہوجائے وہاں چاہتے رہنا الزم ہوجاتا ہے اس کو قضا کرنا غلطی نہیں گناہ ہے ۔حسن اس کی حالت سمجھچکا تھا ۔
ہممم ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خاموش ہوگیا تھا مگر خوف نہیں ۔زائر مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے ضروری ۔حسن نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا ۔ کیا ۔وہ اس کی طرف متوجہ ہوگیا تھا ۔ وہ میں کہ رہا تھا واپس آجا یہ نہ کر مت چھوڑ ہمیں بہت “ضرورت ہے تیری تو ہی اللہ یار کو سزا دلوا سکتا ہے نہیں حسن اب نہیں میں کہ چکا ہوں اب میں واپس نہیں جاؤ گا تھوڑے دنوں تک ر یزائن کر رہا ہوں ۔اس نے درشتی سے جواب دیا تھا ۔ مگر یار تو ایسا کر کیوں رہا ہے اچانک کیوں اس کے لیے تو
نے اپنی جان خطرے میں ڈالی اس کا کارکن بن کر رہا اور اب تو یہ سب مجھے تو کوئی اور بات لگتی ہے انکل کی موت تو اس کی وجہ نہیں ہوسکتی ۔حسن نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔ نہیں یار ا یسی کوئی بات نہیں ۔ میں بس ان سب سے دور جانا چاہتا ہوں اور اب تو نور بھی ان سب کا حصہ ہے میں نہیں
چاہتا کہ اسے کوئی نقصان پہنچے ۔ مگر زائر ۔۔اچھا چلو وہ فائل ہمیں دے دو ہم تو کچھ کر سکے اس نے مزید بحث کے بنا کہا تھا ۔۔۔نہیں وہ فائل میں ڈسکارڈ کر چکا ہوں اور و یسے بھی اس میں کچھ خاص نہیں تھا ۔اس نے سفید جھوٹ بولا۔تھا زائر جھوٹ مت بول میں جانتا ہو تجھے کوئی تو بات ہے جو تجھے یہ سب کرنے پر مجبور کررہی ہے ۔مگر تو کچھ دن سوچلے ۔۔۔ اس نے ایک سرد آہ بھری تھئ ۔
ہممممم۔۔۔۔۔۔وہ بھی کچھ اور سوچ رہا تھا سوچ بدل گئئ تھی ۔
