Khuwab O Lams By Binte Aaslam Readelle50317 (Khuwab O Lams) Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
(Khuwab O Lams) Episode 6
اسی کے ساتھ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا اور باقی سب نے بھی بلیک تھری پیس میں ملبوس اس خوبرو کو د یکھا تھا جسے
کوئی نہیں جانتا تھا سوائے نور کے جس نے بے ساختہ کہا تھا ۔ زائر مومن۔۔۔۔۔ نور نے بےساختہ تھا زائر مومن
اس نے سبکو اپنی طرف پاتا دیکھ کر دوبارہ کہا …. Fifty gold coinsکیا کہا لڑکے تو نے ۔۔۔۔خانم نے حیرت سےکہا ۔میں نے کہاففٹی او سوری لگتا ہے انگلش سمجھ نہیں اتی ۔میں نے کہا پچاس سونے کے سکے ۔ ایک زور دار قہقہ ہال میں گونجا تھا ۔ لڑکے تیرا دماغ تو خراب نہیں ہےیہاں کام۔کی بات چل رہی
ہےاور تو سنکی دماغ خراب کرنے اگیا ۔خانم نے غصے سے کہا میں سچ کہ رہا ہوں میں سکے دوں گا۔ اطیمنان تھا ۔ ابے او یہاں کی الف لیلہ کی کہانی چل رہی ہے جو تو سکے دےبرہا ہے ۔خانم نے دانت پیس کر جواب دیا۔ لگ تو یہی رہا ہے وہاں ہی تم جیسے جن پریوں کو۔قید کرتےتھے ۔ اس نے اشرف کو دیکھ کر کہا تھا ۔ ” اہہہ۔۔۔دیکھو مدعے پر آتے ہیں میں اس لڑکی کے سکے دینے کے لیے تیار ہوں یہ لو سکے چیک کر لو۔ اس نے پوٹلی اشرف کی طرف اچھالی۔تھی خانم لالچ میں آگئی اس لیے اس نے فورا سکے جانچے تھے ۔سکوں کوجانچنے کے بعد ا یک حیرت انگجز مسکراہٹ اس کے چہرے پر ائی تھی ” یہ تمہارے پاس کہاں سے ائے ؟ “آم کھاو خانم گٹلیاں کی وں گن رہی ہو” ۔اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیاتھا
لڑکے لڑکی تمہاری ہوئی ۔ نہیں میں اس کے ساتھ نہیں جاو گی۔نور نے تڑپ کر کہا تم سے پوچھاکس نے تم اپنے مالک کاحکم مانتی ہو ا تمہارامالک
….Now just follow my orders baby
چلو یہ کہتے وہ اگے بڑھا
مگر وہ نہیں ہلی ۔۔۔وہ پی چھے مڑا تھا ” میں نے کہاچلو۔” مگر وہ نہیں سن رہی تھی اسلیے وہ خود سٹیج پر گیااور اس کاہاتھ پکڑ کر نہیچے آیا۔وہ اس کے اس عمل کی مزاہمت بھی نہیں کرسکی اس نےگزرتے
ہوئے ایک نظر اس لڑکی پرڈالی تھی جسکے.ہاتھ میں نورکی چادر تھی ۔اسنے ڈرتے ہوئے وہ۔چادر زائر کو دے دی
۔زائر نے اسے چادر اڑھائی اور اس کا چہراچپھاکر باہر لے آیا تھا جب اسے پیچھے سے آوازیں ائی تھیں ” یہ توجرنلسٹ
زائر مومن نہیں تھا ایسے شوق بھی رکھتا ” لگتا تو ایسا نہیں ہےویسے تو مذہبی بنتاتھا” اور۔ سونے کے سکے کہاں سے ائے لی ہوگی کسی سے رشوت بھئی ” وہ ان سب تہمتوں کو بر داشت گاڑی تک ایا اس نے بیٹھ کر دوسرا دروازہ نور کے لیے کھولا تھامگر وہ نہیں بیٹھی وہ باہر ایا ۔بیٹھو ۔ اس نےسیٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا نہیں میں نہیں بیٹھو گی آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ؟ اسنے
بےیقینی سے اس کی طرف دیکھا ۔پوچھنا تومجھے بھی بہت کچھ ہے مگر یہاں نہیں ۔اس نے اس کا بازو پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا تھا تمام راستے وہ خاموش رہا
نور کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا اور وہ مسلسل اسے دیکھ رہی تھی اسے اس سے خوف آرہا تھا وہ مسجد آیا عشا کی نماز کا وقت تھا۔ ۔وہ اندر وضو کررہا تھا اور وہ باہر سے دیکھ رہی تھا پانی اور اس کے ہاتھوں کا طلاطم اس کے دل میں طوفان اٹھا رہا تھا وہ کس قدر حسین تھا ۔وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اسے اس سے عشق ہورہا تھا ۔وہ سجدے میں گیا تھا اور جب اٹھا تھا تو چہراانسووں سے بھیگا تھا ” یا میرے مالک مجھے نہیں پتا کہ یہ میں نے غلط یا سہی مگر یہ تو چاہتا تھا اور تیری آخر ہے مجھے معاف کردے میں تیرے فیصلے کے خالف جارہاتھا دنیا میں پھنس رہاتھا۔مجھے معاف فرما دے تو قادر کریم ہے غفورورحیم ہے تو ہی محرم ہے میرا ا جیسا توچاہے گا ویسا ہی ہوگا “
ایہی لطف محبتاں دے وکھرے نے۔۔۔۔۔۔۔۔
جدوں درد ہووے اودوں ہسیے جی۔۔۔۔۔۔
کدے ہتھاں نو کھول کے خیر منگئیے ۔۔۔۔۔۔
کدی سیساں نو مٹھیاں چ کسیے جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کدے پتیاں اگے گائیے نظم ساری ۔۔۔۔۔۔۔
کدی اپے نو وینہ دکھ دسیے جی۔۔۔۔
ا یہی عشق دا مول سرتاج شاعرہ۔۔۔۔۔
جیوے محرم اکھے اوے وسیے جی۔۔۔۔۔۔
نماز کے بعد وہ مولوی صاحب کے پاس آ یا اور انسے
۔کہا۔۔۔نکاح کرنا ہے ابھی ۔
نور کوساتھ لے آیاتھااسنے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تھا ۔ ابھی اس وقت مولوی صاحب نے پوچھا
جی اسی وقت ضروری ہے ۔ اس نے ضبط کے ساتھ کہا تھا ۔ امام صاحب نے ا یک نظر دونوں کو دیکھا تھا ” بھگا کر لائے ہو نہیں خرید کر . پتا نہیں وہ یہ کیسے بول گیا تھا مطلب مولوی صاحب نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تھا ۔
عزت کا سوال تھا کرنا پڑا اور اب ایک نامحرم کو میں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ۔اس کا ا یک ا یک لفظ نور کے دل کو کاٹ رہا تھا ۔ہممم! مولوی صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ” گواہ ہیں “نہیں ہم اکیلے ہیں ۔۔
“اچھا کچھ نمازی ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں . یہ کہ کر وہ چلے گئے اور کچھ دیر بعد ہاتھوں میں کاغذ قلم لیے واپس آئے تھے ۔” نام بتائے نکاح نامہ تیار کرنا ہےزائر مومن ولد بشر مومن۔۔۔۔
اور لڑکی کا ۔۔ نوِرحیات ولد ۔۔۔زائر خاموش ہوگیا تھا اس نے تکلیف سے منہ پھیر لیا تھا حیات ۔۔۔۔حیات ملک” نور نے بتایا ۔اس نے اس کا چہرادیکھا تھا ۔
” ان سب کا حصہ ضرور ہوں مگر پیداوار نہیں ” یہ بات اس نے زائر کو بنا دیکھے کہی تھی ۔۔
گواہ آگئے تھے نکاح شروع ہو گیا تھا ۔
” زائر مومن ولد بشر مومن کیا آپ کو یہ نکاح نور حیات ولد حیات ملک سے بحق مہر دس لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے؟
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔
نوِرحیات ولد حیات ملک کیا آپ کو زائر مومن ولد بشر مومن سے یہ نکاح بحق مہر دس لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے؟
۔۔قبول ہے ۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔۔۔
سائن ہو چکے تھے نکاح کا پاک رشتہ حائل ہوچکا تھا مگر یہ کیسا نکاح تھا نہ شادیانے بجے ،نہ مہندی لگی ،نہ سہرا سجا بلائیں لی آسمانی جوڑوں کا نکاح ایسے تھوڑی نا ہوتا ہے نکاح کے بعد وہ اس کو ہوٹل لایا اس کو گھر نہیں لے جاسکتا تھا چچا اور خاور کی سوالوں کا کیا جواب دیتا ۔ اس نے
کمرے میں آتے ہی دروازے بند کردیا تھا ۔نور نے چادر اتار کر میز پر رکھی تھی ۔زائر نے کوٹ بیڈ پر رکھا اب ٹائی کو نوچ رہا تھا ۔نور سے اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی تھی
اس لیے اسے پکار بیٹھی ۔
زائر۔ !! خاموش بلکل خاموش “اس نے بلند آواز سے کہا تھا کیا سمجھ رہی ہو تم یہ جو ہورہا ہے کیوں ہو رہا ہے “وہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا اور وہ پیچھے کی طرف میں محبت کرتا تھا تم سے اور تم نے مجھے زلیل کردیا “
وہ دیوار سے جا لگی تھی اور وہ اس کے سامنے اس کے قریب تھا اس قدر قریب کے اس کی سانسیں اس کی سانسوں سے پناہ مانگ رہی تھیں ۔
اس نے دونوں ہاتھ اس کے ارگرد دیوار سے ٹکا لیے تھے ۔وہ اسے غصے سے دیکھ رہا تھا اور اسنے اپنی نم آنکھیں جھکا لیں تھیں ۔زائر نے ایک نظر اس کے سراپے کو دیکھا تھا اور پھر اسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا تھا اس سے پہلے کے وہ کوئی مزاحمت کرتی وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں کے
حصار میں لے چکا تھا نور کے لیے یہ نہایت ہی غیر متوقع تھا اس لیے اس نے آنکھیں پوری کھول لی تھیں اور دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی ۔زائر نے دوسرا
ہاتھ بڑھا کر اس کے جوڑے کی پن کو کھولا سیاہ بال کمر تک زائر کا ہاتھ چھپا گئے تھے ۔وہ ہر ایک سانس کے ساتھ اس کو اپنے اندر جذب کرہا تھا وہ اس میں کھو کر سب کچھ بھولنا چاہتا تھا وہ جتنی مزاحمت کر۔رہی تھی اس کے گرفت اتنی
بڑھتی جارہی تھی ۔انکھیں بند کرلینے سے ہر منظر ہر بات واضعی ہورہی تھی ہر گزرتی یاد کے بعد اسکی تکلیف بڑھتی جارہی تھی اور اس کی شدت بھی نور نے تو اب مزاحمت بھی چھوڑ دی تھی ۔ناجانے وہ کتنے ہی لمحے خود بھی تکلیف میںرہا اور اسے بھی رکھا خون کے ذائقے اور مدھم سانسوں کو محسوس کر کے اس نے اسے خود سے الگ کیا اور گھوما کر اس کی پشت کو اپنے سینے سے لگایا اور اس کے کان کے پاس جا کر کہا ” کیوں کیا آپ نے آیسا ؟” اس کا ہاتھ اب اسکے پیٹ پر تھا ۔وہ جو ابھی تک اپنی سانس بحال نہیں کرسکی تھی اوپر سے اسکی روح تک گزرتی سانسیں اور یہ سوال کیا نہیں تھا اس سوال میں قرب ۔دکھ ۔ بے بسی اس کی جان نکل گئی تھی ۔
” بولیں؟” میں مج۔۔۔مجبور تھی ” وہ اسکی گردن سے بال پیچھے کر رہا تھا جب اس کی نظر اس زخم پر پڑی وہاں ناخنوں کے نشان تھے ۔” یہ تب ہوا تھا نہ جب اس عورت نے چادر کھینچی تھی ” ا یک آنسو نور کے کندھے پر جزبہ ہوا تھا اس نے اس زخم پر اپنے لب رکھے تھے اور وہ تڑپ اٹھی تھی ۔زائر نے اسے پھر گھوما کر اپنی جانب کیا تھا ” مجھے کیوں نہیں بتایا” وہ اسکی بیوٹی بون پر جھکا ہوا تھا ۔میں نے کو۔۔۔ کو شش کی تھی مگر نہیں بتا سکتی تھی “…. اسے اپنی ہڈی پر نرم لمس کا احساس ہوا تھا ۔” پھر کیوں نہیں بتایا اب وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر لبوں تک لایا تھا ہاتھ اب بھی کمر پر تھا وہ اس کے اس قدر قریب تھا کہ ہوا کا گزر بھی ممکن نہیں تھا ۔” بولیں وہ اس کی ایک ایک انگلی پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا وہ اسے محسوس کر رہا تھا کہ وہ اس کے پاس ہے اس کے نکاح کے حصار میں ہے ” کک ۔۔۔۔کیا بتاتی کے میں ا یک۔طو لفظ ابھی ادھورا ہی تھا جب زائر نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا تھا ” اس لفظ کو نکال کر بتائیں ” اس کی آنکھیں پرنم
تھیں میں چاہتی تھی آپ مجھے سے دور چلے جائیں نفرت کریں مجھے سے..” وہ جو ابھی اس کی گردن پر دوبارہ جھکا ہی تھا اس نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا ” آپ یہ چاہیے تھیں کہ مجھے اپ سے نفرت ہو جائیں ۔۔۔اس نے پھر اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں جکڑ لیا تھا مگر کچھ لمحے بعد ہی اسے خود
سے الگ کردیا تھا ” تو دیکھیے” وہ الٹے قدم واپس جا رہا تھا ” ہو گئی نفرت زائر مومن کو نفرت ہوگئی آپ سے نہیں خود سے گھن آرہی ہے اپنے آپ سے نفرت ہوگئی ہے خود سے مجھے اہنی محبت کی بولی کون لگاتا ہے کون سودہ۔کرتا ہےاس کا میں نے لگائی خرید لی۔ااپنی محبت ایسے شخص سے نفرت ہی ہونی چاہیےلو ہوگی آپ کامیاب۔۔۔ ہوگئی نفرت ” وہ کمرے سے باہر چلا گیا تھا ۔
جاری ہے
