Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Khuwab O Lams) Episode 3

نور تم آگئی ۔ رمشا جو کی ببڈ پر پڑی تھی اسے دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی تھی ۔
ہمم۔۔ اس نے عبایا اتار کر رکھا تھا ۔
اتنی د یر کیوں ہو گئ مطلب بس تو کب کی آگئی ہے
وہ کل واال لڑکا پھر ملا تھا ۔اس نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا تھا ۔
کییا!! تم نے رک کر اس سے بات تو نہیں کی اگر خانم کو پتا چل گیا تو پتہ ہے نہ کیا ہوگا ۔ اس نے ڈرتے ہوئے کہا تھاتم دونوں کو خانم اپنے کمرے میں بولا رہی ہیں ۔ ۔وہ ابھی یہ باتیں کر ہی رہی تھیں جب خانم کا پیغام آگیا
یس اللہ خیر ۔کیا ہوا ہوگا کہی انھیں پتا تو نہی چل گیا ۔ رمشا جو پہلی ہی خوفزدہ تھی اب اور ڈر گئ تھی۔
پتہ نہیں یہ تو جا کر ہی پتا چلے گا ۔چلو وہ اپنے دوپٹے سنبھالتی کمرے سے نکلی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت خانم کے کمرے میں موجود تھیں جو خود پان کا چھالیہں کترنے میں مصروف تھیں ۔
اپنے کام سے فارغ ہو کر قدم قدم چلتی رمشا کی طرف آئیں تھی۔
” تمہیں یاد ہے نا پرسوں تقریب ہے اور اس سال تمہارا بھی نمبر ” انھوں نے صرف رمشا کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔
ج۔۔۔جی خانم ۔۔۔۔میں تیار ہوں وہ خانم سی بہت ہی ڈرتی تھی۔
ہممم۔۔۔۔انھوں نے ایک نظر سر سے پیر تک رمشا کو دیکھا تھا ۔ نورحیات ۔ بڑے عجیب طریقے سے اس کا نام لیا گیا تھا۔ جی ۔۔جی خانم ۔زبان اس کی بھی ان کے سامنے لڑکھڑاتی تھی ۔
جانتی ہو ہم نے صرف تمھیں ہی پڑھنے کی اجازت کیوں دی
تھی ؟ انھوں نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
جی ۔۔کیوں خانم ۔۔ عجیب سوال تھا مگر اس کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔ کیوں کے ایک تو تم ہمارے عزیز ہمسائے کی بیٹی تھی دوسری یہ کہ ہم چاہتے تھے کی تم سب کو یہاں کے اصولوں کا پابند کرو گی۔
جی ۔۔خانم ۔ نظریں ہنوز جھکی تھی ۔
مگر تم نے تو خود اصول توڑا بولو اب کیا کرے ۔
جی میں کچھ سمجھی ۔۔۔۔۔۔چٹاک ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ایای زوردار تھپڑ اس کی گال پر پڑا تھا خانم نے اس کا چہرا بالوں سے پکڑ کا اوپر کیا تھا جہاں تھپڑ کے نشان پڑ چکے
” کون تھا وہ لڑکا ؟ ۔۔۔
مجھ ۔۔۔مجھے نہیں پتا وہ کون تھا ۔ سیاہ آنکھیں بھیگ چکی تھیں ۔
جھوٹ مت بولو تم نے 20 منٹ بات کی تھا اشرف نے خود دیکھا بال اب بھی اس کے ہاتھوں میں تھے ۔
مجھ ۔۔مجھے نہیں پتا وہ کہ رہا تھا بات ۔۔۔بات کرنی ہے۔۔۔ پر میں نے نہیں کی تھی وہ ضد کر رہا تھا کی ہچکیوں میں اضافہ ہوچکا تھا ۔
یہ وہی لڑکا نہیں ہے جس سے تم پرسوں ٹکرائی تھی تم دونوں اور دوبارہ اس سے بات بھی کی تھی وہ معاف کیا تھا میں نے کے پہلی غلطی تھی دوسری غلطی کی تو گنجائش ہ ی نہیں تھی تمہارے پاس ۔۔ اس کی سزا ملے گی۔ انھوں نے اس کے بال چھوڑ دیئے تھے ۔ ” پرسوں تیار رہنا تمہارا کام بھی پرسوں ہی ہوگا ۔” وہ اب دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔ فیصلہ تھا یا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈیلا تھا وہ سن ہو گئی تھی ۔
یہ آپ کیا کہ رہی ہیں خا۔۔۔خانم ۔وہ ابھی چھوٹی ہے ۔۔رمشا ان کے فیصلے پر تڑپ اٹھی تھی۔
اچھا غلطی تو عمر د یکھ کر نہیں کی اس نے یا ُحسن تو
دیکھ کر نہیں آیا اسے۔۔۔۔۔ انھوں نے پان میں رکھتے ہوئے کہا مگر ۔۔۔۔ اس پہلے وہ کچھ اور بولتی خانم نے اسے جھڑکا تھا ۔۔ خاموش دافع ہوجاو اور پرسوں دونوں تیار رہنا ۔
وہ سن کھڑی تھی الٹے قدموں کمرے میں آئی تھی اور بیڈ پر گر کر رونے لگی تھی ۔
چپ ہوجاو پلیز ۔۔۔۔ رمشا جو خود رو رہی تھی
نور ۔۔ نورِحیات ۔۔۔وہ اسے چپ کروا رہی تھی۔۔ کیسے چپ ہوجاو وہ عورت اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے کیوں ہیں ہم اتنے مجبور ؟ اس نے تکیے منہ دے لیا تھا ۔
تمہیں اس لڑکے سے بات ہی نہیں کرنی چاہ یے تھی ۔اس نے افسوس سے کہا ۔ می ں نے نہیں کی تھی اس نے خود روکا تھا ۔منہ ہنوز تکیے میں تھا ۔
تو تم چل پڑتی اگنور کردیتی ۔اس نے پھر اسے سمجھایا۔ مجھے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے عزت نظر آتی ہے ۔۔ اس نے رمشا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا ۔” مجھے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے عزت نظر آتی ہے ۔جب وہ مجھے تم کی بجائے آپ کہتا ہے عزت دار محسوس کرتی ہوں۔ خود کو وہ دوسروں کے برعکس سنو کی بجائے سنیے کہتا ہے دل کرتا ہے سنتے رہو جب وہ مجھے ہوس زدہ آنکھوں کی بجائے محبت بھری نظروں سے دیکھتا ہے تو محفوظ لگتا ہے مجھے جب وہ نظریں جھکاتا ہے تو اپنا آپ حسین لگتا ہے مجھے ۔نہیں کر سکتی اگنور اسے ۔منہ اس نے پھر تکیے میں دے لیا تھا ۔
نور۔۔نور تم اس سے محبت کرتے ہو۔رمشا نے دل میں سوچا تھا کاش ایسا نہ ہو ۔
پتہ نہی وہ اچھا لگتا ہے مجھے ۔ ۔۔نور ا یسے لڑکے ہمارے لیے نہیں ہوتے ۔اس نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔
کیا فرق ہے مجھ میں کیا فرق ہے مجھ میں اور باقی لڑکیوں میں کیا میں حسین نہیں کیا اپنے ماں باپ کی جائز اولاد نہیں ہوں میرا کیا قصور تھا کے میرے والدین کم عمری میں چلے گئے اور یہ عورت ہمدردی کے نام پر مجھے یہاں لے آئی بولو نہ ۔۔۔اس نے رمشا کا ہاتھ پکڑ کر معصومانہ سوالات کیے تھے ۔
۔ نہیں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے کہ تمہارے ماں باپ چلے گئے تمہارا قصور بس یہ ہے کہ تم حسین ہوں خوبصورت ہو ۔یہاں موجود ہر لڑکی کا یہی قصور ہے اور تمہاری حقیقت جاننے کے بعد وہ بھی تمہارے پیچھے نہیں آئے گا ۔ تم اس کا خیال دل سے نکال دو ۔ اس نے اس کے گال کو چھوتے ہوئے کہا تھا ۔
صحیی کہ رہ ی ہو تم میں اسے کل سب سچ بتا دو گی ۔۔
مگر کیوں مطلب کیسے تمہیں تو اس کا نام بھی نہیں پتا ۔رمشا
نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا جو بہت جلدی مان گئی تھی۔”زائر مومن ۔۔۔زائر مومن ہے نام اس کا ۔اس نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا تھا ۔
کیییا تمہیں کیسے پتا ؟ رمشا کو حیرت ہوئی تھی ۔
یہ تم پوچھ رہی مجھے کی سے پتا ؟ اس نے رمشا کی آنکھوں میں دیکھا ۔
وہ کچھ دیر اس کی بات پر غور کرتا رہا مگر پھر نماز کا سوچ کر مسجد آگیا تھا ۔ باجماعت نماز پڑھنے کے بعد وہ دعا کے لیے صف میں بیٹھا تھا ” یا اللہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں آپ کا شکر کیسے ادا کروں آپ نےہر طرح سے مکمل کردیا مجھے ۔ با با سہی کہتے تھے کہ آپ کے ہر عمل میں بہتری نور حیات دے دی اور کیا چاہیے۔
آپ کی ہر رضا قبول ہے مجھے ۔میں وعدہ کرتا ہوں کی آپ کے ہر فیصلے کو اب سے خوشی سے قبول کروں گا کیوں کہ آپ کبھی برا کسی کے لیے سوچ ہی نہیں سکتے ۔” وہ دعا مانگ کر فارغ ہوا تھا جب امام کی آواز اس کے کانوں میں پڑی ۔” وعدہ تب کرو جب تم خود کو جانو کے تم ہر حالت میں اسے نبھا سکتے ہو ۔ایسا نہ ہو کے حالت د یکھ کر پیچھے ہٹ جاؤ ۔وہ منافق ہوتا ہے اس لیے جلدبازی کی وعدے مت کرو پہلے دیکھو پھر کچھ کرو ۔
مگر امام صاحب خدا تو سب کی بھلائی چاہتا پھر اس کے تابع رہنے کا وعدہ کیوں نہ کرے ؟ نمازیوں میں سے کسی نے پوچھا بیشک وہ بہتر فیصلہ کرتا ہے مگر کئی دفعہ اس فیصلے میں حالت ناقاب برداشت ہوجاتی ہے تو انسان
وعدے کے باوجود پیچھے کرنے لگتا ہے مگر خدا سے وعدہ کر کے ہم مکر نہیں سکتے ۔ اس لیے کچھ بھی ہو جائے اگر تو وعدہ کیا ہے تو نبھاؤ بھی ۔” امام صاحب کی بات سن کر وہ اطمینان سے باہر آیا ۔جب اسے دروازے پر وہ فقیر دیکھائی دیا ۔ بابا جی آپ ۔۔۔۔وہ گھٹنوں کے بل ان کے پاس بیٹھ گیا آپ اس کہاں چلے گئے تھے ؟ تم وہی ہو نا جس نے مجھے سڑک پر گرنے سے بچایا تھا ۔
ہاں بابا اور آپ نے مجھے نورِحیات کو بچانےبچانے کا کہا تھا۔ وہ مجھے مل گئے بابا مگر اسے بچانا کس سے ہے ۔اتنے دنوں کا سوال آخر اس نے پوچھ ہی لیا تھا ۔
اس کی بات سن کر با با جی گہرا مسکرائے تھے۔ ” پتا چل جائے گا اتنی جلدی کس بات کی ہے میرے پاس تمہاری
امانت ہے ۔ وہ تھیلے میں سے کچھ ڈھونڈنے لگے تھے۔
امانت مگر میں نے تو آپ کے پاس کچھ نہیں رکھوایا وہ حیران ہوا تھا ۔ یہ لو بابا جی نے تھیلے میں سے ایک پوٹلی نکال کر اسے پکڑائی تھی۔ یہ کیا ہے ۔ ؟ اس نے حیرت کہا کھولو اس نے پوٹلی کھولی اور اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رگئی تھیں ۔
بابا یہ! اس نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا ۔ کیا ہوا کیا ہے اس میں ؟ انھوں نے اسے حیران دیکھ کر کہا ۔
بابا یہ آپ کو کس نے دیا ؟ اس کی حی رت بھڑتی جا رہی تھی ۔ چند ماہ پہلے کوئی چوغہ پوش آیا تھا رات کے وقت اس نے دیا تھا کہا تھا زائر مومن کی امانت ہے ملے تو دے دی نا اسے اس کی ضرورت پڑے گی ۔انھوں نے اطمینان سے جواب د یا ۔ بابا آپ نے اسے کھول کر نہیں دیکھا کیا تب سے ؟وہ حیران نہیں پریشان ہو گیا تھا ۔ نہی ں امانت تھی کی سے کھولتا مگر اس می ں ای سا کی ا ہے ۔اب وہ
بھی پری شان ہو گئے تھے۔ بابا اس میں سونے کے سکے ہییں ۔اب وہ پھر حیران ہوگیا تھا ۔
ہاہاہا ! اچھا ہوا میں نے کھول کر نہیں دیکھی میرے کس کام کے تھے یہ لے جاؤ اسے۔۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
مگر بابا میں کیسے یہ بنا سوچے سمجھے لے لوں ہو سکتا ہے کوئی مجھے پھنسا رہا ہو۔ اس کی بات سن کر وہ کچھ لمحے خاموش ہوگئے تھے پھر بولے تھے ” زائر تم صحافی ہونا مجھے بتاؤ کے آج کے دور میں سونے کے سکے بنتے ہیں کیا یا کہیں سنا کے فالاں جگہ سونا چوری ہوگیا وہ بھی اتنا زیادہ کے دور میں کوئی کسی کو پھساتا ہے تو پیسہ دیتا ہے قتل کرتا ہے کوئی اتنا مہنگا داؤ کسی کے ساتھ نہیں کھیلتا ۔اور نہ ہی کسی کے پاس وقت ہے ۔اس لیے
یہ وہم دل سے نکال دو اور ہاں تمہیں واقع ہی اس کی ضرورت پڑنے والی ہے ۔ جو خدا منزل بناتا ہے وہ راستے بھی خود نکالتا ہے ۔ یاد رکھنا
گوشہ دل میں مقاِم محبت زندگی کی بقا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اک الف حقیقت دن یا میں باقی سب فنا ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ کہ کر وہ تھیالا اٹھا کر چل پڑے تھے جب زائر بولا ۔
بابا پر یہ ۔۔۔۔ یہ تمہارا ہے تم ہی جانو میرا کام ختم ۔۔۔۔انھوں نے باآواز کہا تھا ۔
تمام راستے وہی ہی سوچتا آیا تھا کی آخر اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ” پہلے بابا کا ملنا پھر نور سے ملنا اور اب یہ سونے کے سکے کہیں کوئی میرے ساتھ گیم تو نہیں کھیل رہا کہی یہ بابا مجھے پھنسا تو نہیں رہے کہی نورحیات بھی تو نہیں وہ تو خواب تھا چلو مان لیا بابا والا جھوٹ ہو سکتا ہے مگر میرے خواب تک رسائی کیسے ممکن ہے تبھی اسکا فون بجا جو کل ہی لیا تھا۔اس نے فون نکال کر ریکھا کوئ ی دی رشناسا نمبر تھا ۔اس نے کال ریسیو کی تھی اسلام علیکم !
ارے کیسے ہیں جرنلسٹ صاحب آپ ؟ آواز بھی غیر سنا شا تھی جی کون ۔۔۔۔۔
اس آواز کو سنے کی عادت ڈال لے صاحب آپ ۔۔۔۔اگے والا
لچا ہی تھاآپ بتا رہے ہیں آپ کون یا میں فون بند کرو ۔ ایک تو پہلے ہی پریشان تھا اوپر سے یہ بونگا ۔
ملک اللہ یار بات کر رہا ہوں جرنلسٹ ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی تمام حسیات ببدار ہوئیں تھیں ۔
مجھے فون کرنے کا مقصد ۔۔۔۔اس خود پر قابو پا کر کہا ۔۔
ارے سارے مقصد آپ کے لیے ہی تو ہے مگر برے ہیں بتا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔لفنگے لہجے ۔ بکواس بند کر اور بتا کام کیا ہے ۔۔۔۔اس کو اب غصہ آرہا تھا ابے او ! تمیز سے بات کر اور سنا ہے بڑی چوں چراں کر رہا ہمارے خلاف کوئی فائل تیار کی ہے تو نے ۔۔۔۔اب وہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔
کوئی فائل۔اس نے مسکرا کر کہا تھا ” تیری کالی کرتوتوں کی ان دونوں
گنت فائلز میرے بیڈ کے نیچے پڑی ہیں بڑا لمبا پاپ ی ریکارڑ ہے تیرا ” اچھا تو اس ریکارڈ میں ڈی سی پی کے قاتل کانام صارم صدیق ہی لکھا ہے نہ ؟ جواب بھی مسکراتے ہوئے آیاتھا ۔
ایک ٹیس اٹھی تھی دل میں ۔”اللہ یار جانتا ہے نہ زائر مومن صحافی ہے اور صحافی بڑی ُکتی چیز ہے اپنے بھائی کو مکھن سے بال کی طرح نکال لو گا ۔”
ہاہاہاہا! ۔جو تیرے ا یمانداری کے لچھن ہے نہ لگتا ہے ایک دن تو خود اس کے خالف ہو گا ۔ جواب تڑاکے سے آ یا تھا ۔
ای ماندار ہوں اس لیے بات کر رہا ہوں ورنہ اب تک تیری بوٹی بوٹی کوے کھا چکے ہوتے ۔ اب تو مجھے سب سمجھ آگیا یہ با با اور سونے کے سکے والاچکر تو کررہا ہے نہ سب کچھ ” اس نے دانت پپس کر کہا تھا ۔
ابے او جرنلسٹ تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا کون بابا کونسے سکے وہ خود حیران تھا ۔زیادہ مت بن تو نے لگایا ہے نہ اس ففقر کو میرے پیچھے اور سونے کے سکے بھی تم نے دیے ہے نہ اسے تجھے لگا زائر
مذہبی ہے ایسے پھس سکتا ہے نیچ انسان” ۔وہ اب اس کا دماغ”خراب کر رہا تھا ۔
” دیکھ جرنلسٹ دشمنی ایک طرف ایک مشورہ دو پہلی فرصت میں اپنے دماغ کا علاج کروا سونے کے سکے اس دور میں ہاہاہاہا تو کیا میرے ساتھ علی بابا چالیس چوریا الفلیلہ کھیل رہا ہے ۔ لہہجہ پختہ تھا ۔
اور ہاں یہ نیچ کسے کہا ملک اللہ یار شیر ہے شیر سامنے سے وار کرتا ہے کسی کندھے پر رکھ بندوق نہیں چلا تا ۔۔
اور جو تو کر رہا۔ہے بند کردے ورنہ تیرے بھائی کی ہڈ یاں بھی نہیں ملے گی۔۔۔ تو بھی یاد رکھنا زائر بھی باز ہے تیرے سامنے سے اڑا کر لے جاؤ گا اپنے بھائی کو چل فون بند کر ۔یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا تھا ۔۔
اگر اس نے نہیں کیا تو کیا بابا سچ کہ رہے تھے یہ میری امانت ہے مگر کون دے سکتا ہے اور مجھے اس کی ضرورت پڑے گی اور اب یہ چوغہ پوش کون ہے عجیب فلمی سی زندگی ہوگئ نورحیات ۔ ہے مگر ان سب میں ایک بات اچھی ہوئی ہےاو تیری مجھے اس کا نام پتا ہے کیا اسےمیرا نام پتا ہوگا میں تو بتایا ہی نہیں ۔ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔