Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode (Watching)
Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
ابھی اعلیٰ ، نفیس لباس پہننے والوں کے بارے میں سننے کے باوجود بھی تمہارا دماغ ٹھکانے پر نہیں آیا؟ بولو!
آپا میں سمجھ نہیں پا رہی کہ سبھی مالدار ایسے تو نہیں نا ہوتے ہیں۔
سبھی ایسے نہیں ہوتے مگر اکثریت کو دولت کا نشہ انسانیت اور اخلاقیات بھلا دیتا ہے ۔
دولت کی ریل پیل انکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہر چیز کو اپنے مال سے خرید سکتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے انکی رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے جب وہ رب العالمین کی گرفت میں آتے ہیں پھر انکی توبہ کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
حدیقہ چھوٹی بہن سے باتیں کرتے کرتے آبدیدہ ہو چکی تھی۔
آپا کیا واقعی سیف بھائی ایسے ظالم ہیں جو اللہ کی بنائی گئی حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔
آرزو سیف کے دو چہرے ہیں ، باہر لوگوں کے سامنے ایک چہرہ اور کمرے کے اندر میرے ساتھ دوسرا مکروہ، شیطانی ، غلیظ دماغ اور حیوانی رویہ۔
سارا دن ایک کرسی پر اے سی کی ٹھنڈک میں بیٹھ بیٹھ کر اپنے آپ کو منجھا ہوا کھلاڑی مانتا ہے۔ ہاتھ میں پکڑے ایک سے ڈیڑھ لاکھ والے فون کی سکرین پر ننگی عورتوں کے نشے میں رہنے والا کیا جانے گا انسانیت اور اخلاقیات؟
آرزو بنا پلک جھپکے حدیقہ کی پرالم داستان پر حیران و پریشان بیٹھی تھی۔
آپا آپ روئیں تو نہیں نا !
آرزو تمہیں ابھی بھی یقین نہیں آ رہا ہے تو دیکھو!
حدیقہ نے گلے کے بٹن کھولنا شروع کر دیئے، سینہ ، کندھے، گردن کی پشت جامنی نیلے نشانوں کی اذیت ناک داستان سنا رہی تھی۔
آپا ! آرزو نے دیکھتے ساتھ ہی بہن کے ساتھ لپٹ کر رونا شروع کر دیا۔
آپا بس کر دیں ، میرے سے برداشت نہیں ہو گا یہ سب!
آرزو میں کبھی بھی تمہیں اپنی اذیت ناک حالت نہ بتاتی مگر تمہاری بیوقوفیوں نے مجھے مجبور کر دیا ہے۔ اور خبردار اگر امی یا کسی اور کو بتایا تو ! حدیقہ نے انگلی کے اشارے سے خبردار کیا۔
اور روتی ہوئی چھوٹی بہن کے آنسو صاف کرتے ہوئے تھپکا۔
آرزو ایسے امیر زادے اپنی حیوانی تسکین کو ان گندی غلیظ فلموں کو دیکھ دیکھ کر پوری کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو اکھاڑہ گاہ بنا لیں ۔
آپا سیف بھائی کی شکل سے تو اتنی شرافت ٹپکتی ہے، میرا تو دماغ گھوم کر رہ گیا ہے۔ آرزو نے روتے ہوئے بہن کے ہاتھ چوم ڈالے۔
اسی لیے تو بول رہی ہوں کہ حازم جیسے انسان کی قدر کرو ، وہ تو ہیرا ہے جسے اپنے ارمانوں سے زیادہ اپنی بیوی کی خواہشات کی فکر ہے ، جو صرف اپنی بیوی کے ساتھ طویل سفر کی خواہش میں ریل ٹکٹ ایک دن کی تاخیر کے لئے دوبارہ خریدتا ہے۔ جس کی کم آمدن ہونے کے باوجود بھی ایک ہزار روپیہ زیادہ دے کر اپنی بیوی کو کسی کانچ کی طرح اپنی غیرت کی چھتری میں لاتا اور لے جاتا ہے ۔
آپا آپکو کیسے پتا ہیں یہ سب باتیں ؟ امی نے بتائی ہیں مگر تم جیسی بیوقوف لڑکی اور پتا نہیں کیا کیا کر کے واپس کراچی لوٹی ہے۔
آپا زیادہ تو نہیں بس یہی بولا تھا کہ آپکی سوچ بھی آپ کے ظاہر کی طرح فقیر ہے!
آرزو نے زبان دانتوں تلے دباتے ہوئے بولا۔
کیا ؟ حدیقہ تو غم سے بس دیکھے جا رہی تھی۔
بس آپا مجھے غصہ آگیا تھا کہ حازم نے میرا ریل ٹکٹ امی بابا کے ساتھ ملتوی کروا کے اپنے ساتھ اگلے دن کا لے لیا ہے۔
آرزو تم نے کتنی بد اخلاقی اور زبان درازی کا مظاہرہ کیا تھا ، یقین کرو حازم کی جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو تمہاری ہتھیلی پر طلاق تھما کر اسی رات کراچی روانہ کر دیتا وہ بھی اکیلے۔!
آرزو نے شرمندگی سے گردن جھکائی رکھے۔
آرزو تمہاری انہی بیوقوفوں کی وجہ سے میں اور امی پریشان تھے۔ آپا تو پھر آپ نے رخصتی کے وقت مجھے میڈیکل کالج کے خرچے والی بات کیوں بولی تھی؟
میں نے وہ بات تمہاری بیوقوفیوں کو سمیٹنے کے لیے بولی تھی تاکہ عزت سے رخصت ہو جاؤ اور پھر شوہر کی محبت توجہ میں رچ بس جاؤ گی۔اور آہستہ آہستہ سنبھل جاؤ گی۔
تو کیا آپ نہیں چاہتیں تھیں کہ میں میڈیکل میں جاؤں ؟
آرزو میڈیکل میں جانے کے لئے مال چاہیے ہوتا ہے جو نہ حازم کے پاس ہے اور نہ بابا کی استطاعت تھی۔
اور تمہیں مزید تعلیم کے لیے نہ حازم نے منع کیا ہے اور نہ بابا نے تو پھر میڈیکل والا بھوت دماغ سے نکال دو ۔ ضروری نہیں جو آپ چاہتے ہیں وہی آپکی زندگی میں ہو ، بعض اوقات آپکی پسندیدہ چیز چھوٹ جانے میں بھی اللہ کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے جو ہمیں ظاہری اور وقتی طور پر دکھائی نہیں دیتی ہے۔
آرزو خاموشی سے بہن کی باتیں سن رہی تھی اور حازم کے ساتھ بیتے لمحات دماغ میں گردش کرنے لگے۔
حازم کی التجاء کانوں میں سرگوشی کرنے لگی۔
آرزو آئندہ کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا صرف ایک دفعہ مجھے معاف کر دو ۔
کسی کو بھی ہمارے اس جھگڑے کی خبر نہ ہو پلیز۔
آرزو آپکا مفلس جا رہا ہے کچھ بولنا ہے تو بولو۔
آرزو نے آپا کو بتانے کے لیے منہ کھولا مگر کسی جذبے کے تحت زبان دانتوں تلے دبا لی۔ حازم کو سب کتنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے سب کی نظروں میں انکا مان قائم رہے، میں نے بھی تو بہت بدتمیزی کی تھی ۔۔۔ شاید یہ پہلی بار تھا کہ آرزو حازم کے حوالے سے ایسے سوچنے پر مجبور ہو گئی۔
دل نے پہلی مرتبہ حازم کے لئے شور مچایا۔
آرزو کہاں کھو گئی ہو ؟
کچھ نہیں آپا ، آپ نے سب ٹھیک بولا ہے حازم حقیقتاً بہت اچھے انسان ہیں ، میں بہت بداخلاقی کے ساتھ پیش آتی رہی ہوں مگر پھر بھی وہ میرے سے اچھے طریقے سے پیش آتے تھے۔
جی اس سے اچھا پیش آنا اور کیا ہو سکتا ہے کہ دلہن کتابوں میں سر دیئے رکھے اور دلہا چارپائی پر کھجل خوار ہوتا رہے۔ بیوقوف لڑکی ہو تم آرزو !
تم نے سب کچھ میری اور امی کی تربیت کے برعکس کیا ہے۔۔
آپا اب کوشش کروں گی ایسا نا ہی ہو ۔
آرزو کوشش نہیں بلکہ مجھے تم سے تاکید چاہیے۔ ابھی فون کرو حازم کو میرے سامنے ۔
آپا بعد میں کر لوں گی.
نہیں ابھی اور اسی وقت کرو فون اور اسے بتاؤ کہ تمہارے امتحانات خیر و عافیت سے انجام پا چکے ہیں اور تم بابا کے ساتھ جہلم لوٹ رہی ہو۔۔
آرزو نے چار و ناچار حازم کا نمبر ملایا مگر نمبر بند جا رہا تھا۔
آپا خود دیکھ لیں نمبر بند ہے تو اسے گھر والے نمبر پر کرو فون۔
آپا وہ دن میں گھر تو نہیں ہوں گے ، سارا دن دکان پر اور پھر شام کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔
چلو ویسے یہ ہے پریشانی والی بات ہے جب سے آئی ہو صرف ایک مرتبہ تم نے اس سے بات کی ہے اور پھر اسے بھولی بیٹھی ہو ۔
آپا بولا ہے نا آئندہ شکایت نہیں دوں گی ان شاءاللہ۔
اب مجھے حازم کے بارے میں سوچتی ہوئی دکھائی دو ۔
ہاہاہا ہا آپا آپکو کیسے دکھے گا کہ میں حازم کو سوچ رہی ہوں یا نہیں ۔آرزو نے ہنستے ہوئے بہن کو دیکھا۔
تمہاری بے چینی ، بے کلی مجھے تمہارے اندر کا حال سنائے گی ان شاءاللہ۔
آپا آپ بھی نا پوری استانی بن چکی ہیں۔
حدیقہ نے کرب سے آرزو کو دیکھا اور بولی ۔زندگی کے مختلف موڑ اور کانٹ چھانٹ آپکی شخصی خلا پر کر دیتے ہیں آرزو ، بہت سارے کام اور چیزیں آپکو زندگی کے تلخ تجربات سکھاتے ہیں۔ ، مجھے یاد ہے یونیورسٹی میں جب سیف نے مجھے اپنی بہن کے ہاتھ شادی کا پیغام بھجوایا تھا تو میرے حیرت اور خوشی سے زمین پر پاؤں نہیں تھے ٹک رہے کہ اتنا امیر زادہ ہے اور کتنے سلجھے انداز میں مجھے شادی کا پیغام بھجوا رہا ہے ۔
مگر وہ تو مجھ جیسی مڈل کلاس لڑکی کو پھانسنے کا ایک انداز تھا۔
وہ شخص میری خوبصورتی کو کیش کروا کر اب ہر رات نئے چہرے کا متلاشی ہوتا ہے۔
آپا اب آپ کیا کریں گی ؟۔ دفع کر دیں ایسے گھٹیا شخص کو ! مجھے تو انکو سیف بھائی بولتے ہوئے بھی نفرت محسوس ہو رہی ہے۔
آرزو میں نے اس شخص کو ایک موقع دیا ہے اگر اپنی ان حرکات و سکنات سے توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ پھر مجھے اپنی زندگی کے بارے میں گہرائی میں جا کر سوچنا ہوگا مگر میں چاہتی ہوں میری چھوٹی سی بہن حازم کے ساتھ ہنسے مسکرائے بغیر کسی مادہ پرستی کے۔
میری بہن کی نیند پرسکون ہو کہ جس میں کسی قسم کا کوئی حیوانی وار اسکی نیند میں خلل نہ ڈالے۔
******************************************
“آپ ان سے کہئے:”آؤ! میں تمہیں بتاؤں کہ تمہارے پروردگار نے تم پر کیا کچھ حرام کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ فحاشی کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں۔۔۔۔”(الانعام: 151)
“وہ (شیطان )تو تمہیں برائی اور فحاشی کا ہی حکم دیتا ہے۔ نیز اس بات کا کہ تم اللہ کے ذمے ایسی باتیں لگا دو جن کا تمہیں خود علم نہیں”۔(البقرہ:169)
“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ وہ فحاشی اور برا راستہ ہے۔”(بنی اسرائل: 32)
“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابن آدم پر اس کے زنا سے حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ لا محالہ اسے ملے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل کا گناہ خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔”( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2253)
“حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو اور فحش کام کرنے والے نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب لوگوں میں مجھ کو وہ شخص زیادہ پسند ہے جو تم میں سب سے زیادہ خوش خلق ہو۔ “(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 996)
******************************************
مکمل سکوت میں غرق آرزو کا ذہن آپا کی باتوں پر بار بار حازم کو سوچنے لگا ۔
تین ہفتے گزر چکے ہیں مگر حازم نے ایک مرتبہ بھی کال نہیں کی ۔ شاید روٹھ گئے ہیں۔ چلو خیر کل پھر کوشش کرتی ہوں ان شاءاللہ۔
بارہا کوشش کے باوجود حازم کا فون بند مل رہا تھا۔۔۔ آرزو کو کچھ تو آپا کی نصیحتیں اور کچھ اپنی خطاؤں کا قلق چاٹے جا رہا تھا۔
گھبراتے ہوئے بابا سے رابطہ کیا۔
وہ بابا میں کافی دنوں سے حازم کو فون کر رہی ہوں مگر مسلسل فون بند مل رہا ہے، نجانے فون کیوں بند ہے ؟، بابا حازم سے آپ کی بات ہوتی رہی کیا ؟۔
قمر صاحب نے پریشانی سے دیکھتے ہوئے بولا ، میری بات تو صرف اسی دن ہوئی تھی جب حازم تمہیں یہاں چھوڑ کر جہلم پہنچا تھا ، اسکے بعد میں تو یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ تمہارے ساتھ رابطے میں ہے ۔
نہیں بابا آپکو پتا ہے میں امتحانات میں مصروف تھی ،موقع ہی نہیں ملا کہ حازم کو کال کرتی ۔ آرزو نے ڈرتے ہوئے کہا۔
آرزو مجھے تمہاری یہ لاپروائیاں بالکل بھی پسند نہیں ہے ۔ بیوقوفی کی بھی انتہا ہوتی ہے۔
اسکے والدین گھر پر نہیں ہے اکیلا بچہ گھر پر پتا نہیں کس حال میں ہوگا؟ اوپر سے رمضان المبارک کا مہینہ ہے ۔
کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔!
گھر پر کال کی ہے ؟
جی بابا مگر کوئی جواب نہیں مل رہا ہے۔
ابھی باندھو ! اپنا سارا سامان اور چلو میرے ساتھ.!
ابھی بابا ؟
ابھی کے ابھی حد کرتی ہو تم آرزو!
تمہارا شوہر پتا نہیں کس حال میں ہو گا اور تم ادھر مزے سے بیٹھی ہو جیسے اسکی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔
جلدی کرو ! شاید ہمیں دو گھنٹے میں نکلنے والی ریل کے ٹکٹ مل جائیں۔
جی بابا بس مجھے پندرہ منٹ دیں پر بابا ابھی آپا اور امی بھی گھر پر نہیں ہیں۔
تم انکی فکر نہ کرو وہ خریداری کے لیے نکلی ہیں جب گھر لوٹیں گی تو احسن حسن بتا دیں گے۔
قمر صاحب پریشانی میں کمرے کے چکر کاٹنے لگے۔
******************************************
حازم یار کافی دنوں سے مجھے تم بہت چپ چپ اور کمزور دکھائی دے رہے ہو ۔ سب خیریت ہے نا لالے؟
ہاں رنگریز لالے سب خیریت ہے ۔ حازم نے پاس پڑی کچی مونگ پھلی کو ڈھانکا۔
یار حازم تو سالوں سے میرے ساتھ کام کر رہا ہے ، میرے سے زیادہ تمہیں کوئی بھی بہتر نہیں جان سکتا ہے۔
لالے بتا ! جو بھی تیرے دماغ میں چل رہا ہے، ورنہ میں نے حبیب لالے کو بتا دینا ہے ، سچی بول رہا ہوں ۔ رنگریز نے خلوص سے پوچھا۔
رنگریز لالے کچھ بتانے کے لیے ہو تو بتاؤں !
حازم تیرا اداس چہرہ تیرے اندر کا حال سنا رہا ہے!۔
رنگریز لالے وہ خالہ کچھ پوچھ رہی ہیں آپ ان کو فارغ کریں میں ٹھیک ہوں لالے۔
حازم نے مشکل سے جان چھڑائی مگر سارا سارا دن خیالوں میں آرزو کے بسیرے ہوتے تھے، طرح طرح کے وسوسے ستاتے کہ اب وہ جہلم لوٹ کر نہیں آئے گی۔یقینا اس نے سب کو جھگڑے کے بارے میں بتا دیا ہو گا۔ اسی لیے تو قمر انکل نے بھی رابطہ نہیں کیا ہے ، پر کیسے کرتے ؟ موبائل تو ہے ہی نہیں ہے ، رنگریز کا نمبر صرف ابو کے پاس ہے جس پر رابطہ ابو نے سعودی اپنے پہنچنے کے اطلاع دی تھی۔
سوچوں کے تانے بانے حازم کو سارا دن ستائے رکھتے۔
—————————————————————–
تھکے ہارے باپ بیٹی طویل سفر کے بعد صبح نو بجے جہلم کے ریلوے سٹیشن پر پہنچے، وہاں سے سیدھا رکشہ لے کر بلال ٹاؤن حازم کے گھر کے باہر آن رکے۔ آرزو میں ہمسایوں سے حازم کے بارے میں کچھ پوچھ گچھ کر لوں تم اندر جاؤ۔ قمر صاحب نے گھر کا تالا کھولا اور خود ہمسایوں کا دروازہ بجانے لگے۔ جبکہ آرزو کو ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے کہ اگر حازم کو کچھ ہو گیا تو بابا مجھے نہیں چھوڑیں گے ، آپا امی سبھی نے مجھ سے خفا ہو جانا ہے۔ یااللہ حازم خیریت سے ہوں!
آرزو نے گڑگڑا کر دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔
آرزو لگتا ہے ہمسائے بھی گھر پر نہیں ہیں تم ادھر گھر پر ہی رہو ، میں شاندار چوک انکی دکان پر جا کر معلوم کرتا ہوں، اپنا فون پاس ہی رکھنا۔
جی بابا!
آرزو نے مری ہوئی آواز نکالی۔
آسمان گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ، ایسے لگ رہا تھا کہ گلے میں کانٹے چبھ رہے ہیں۔بیقراری اپنے عروج پر تھی۔ وہ آرزو جو حازم کی شکل دیکھنا گوارہ نہ کرتی تھی ، آج اس کے لیے گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہی تھی۔ یارب ایک مرتبہ حازم خیریت سے مل جائیں ، میں میڈیکل تو کیا کچھ بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ گزرنے والا ایک ایک لمحہ بھاری تھا ، بمشکل چالیس منٹ بعد بابا کی کال نے حواس بحال کیے۔
آرزو بیٹی حازم خیریت سے ہے کچھ دیر قبل میں انکی دکان پر پہنچا ہوں۔ میں دن ادھر ہی گزاروں گا پھر واپسی کی ریل پر ادھر سے ہی کراچی روانہ ہو جاؤں گا۔
حازم مجھے سٹیشن چھوڑ کر گھر واپس آ جائے گا۔ اور ہاں اس کا فون کہیں کھو گیا تھا جس کی وجہ سے رابطہ نہیں کر پایا نمبر جو ساروں کے اس میں محفوظ تھے۔
حازم کا دل بلیوں اچھل رہا تھا ، پاؤں زمین پر ٹک نہیں رہے تھے۔یکدم اداس چہرے پر خوشی کے رنگ بکھر گئے۔
حازم نے قمر صاحب کو افطاری کے بعد سیدھے سٹیشن چھوڑا اور گھر کی راہ لی۔
گھر میں قدم رکھتے ہی کھانے کی مہک ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی۔
السلام علیکم ! طبیبہ آرزو صاحبہ!
آرزو سفید رنگ کی چکن کی چست قمیض کے ساتھ زرد پاجامہ اور زرد دوپٹہ لٹکائے ہانڈی میں ڈوئی چلائے جا رہی تھی۔ فورا پلٹ کر حازم کو سامنے پاکر خوش گوار حیرت میں مبتلا ہو گئی۔ شکر ہے آپ آ گئے ہیں۔
چشم بد دور ، دل ناشاد، خاکسار کے غریب خانے کو رونق بخشنے پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ خاکسار کو معانقہ کی اجازت دی جائے۔
حازم نے بولتے ساتھ آرزو کو اپنے حصار میں لے لیا۔
جبکہ آرزو کا مشہور بھاں بھاں رونا پھر سے شروع ہو گیا۔
یارب ! اب کیوں رو رہی ہیں؟
اب کونسی خطا سرزد ہو گئی ہے میرے سے ؟
میں آپ سے ناراض ہوں ! آرزو نے حازم کے حصار سے مچل کر نکلنا چاہا۔
وہ کس خوشی میں ؟
ناراض خوشی میں ہوتے ہیں یا غم سے ہوتے ہیں؟
بھئی اب یہ تو پتا نہیں ہے کہ مجھ ناچیز نے میلوں دور بیٹھ کر کونسا جرم سرذد کر دیا ہے۔
ہلکی سی روشنی ڈال دیں تاکہ قیمتی لمحات جنگ کی نظر ہونے کے بجائے کسی نیک کام میں صرف ہو سکیں۔
حازم نے لاڈ سے آرزو کو اپنے سے الگ کرکے سامنے کھڑا کیا۔
جی فرمائیں !
آپ نے فون کیوں نہیں کیا اتنے دن سے ؟ اور نہ میرے امتحانات کے بارے میں دوبارہ پوچھنے کی زحمت گوارہ کی تھی ۔
میرے دل کی آرزو صاحبہ اس دن کراچی سے واپسی پر کسی جیب کترے نے مجھ مفلس کو لوٹ لیا ، پھر وہ دن اور آج کا دن میں بغیر فون کے گھوم رہا ہوں اور آپ سب کے نمبر بھی اسی فون میں محفوظ تھے تو کیسے رابطہ کرتا ؟ ۔ فون والی ڈائری ابو شاید اپنے ساتھ سعودیہ لے گئے ہیں۔
بہرحال ابھی تو شکووں کے لیے عمر پڑی ہے۔
آرزو اس مفلس کو واپسی کا شرف بخشنے کا بے حد شکریہ۔ حازم نے پر شوق نظروں سے آرزو کو دیکھا۔
لوگوں کے لیے عید کا چاند تو ایک ہفتے بعد نکلے گا ، میرا چاند تو ابھی میری آنکھوں کو خیرہ کیے جا رہا ہے۔
آرزو نے شرما کر پلکوں کی جھالر گرا لی۔
ویسے آج شرماتے ہوئے اور ہی پیاری لگ رہی ہیں ماشاءاللہ۔
حازم بس کریں ! ایسی باتوں سے مجھے شرم آتی ہے۔ آرزو نے گلنار ہوتے گالوں کو اپنے ہاتھوں سے چھپا لیا۔
آرزو جی میں نے آپکو پہلے بھی باخبر ذرائع سے بانفس نفیس مطلع کیا تھا کہ حازم حریصِ محبت ہے۔
حازم! آرزو نے شرمیلے پن کی انتہا کر دی۔
جی طبیبہ صاحبہ! ابھی مجھے خشک چھواروں جیسے خشک مزاجی کے ٹیکے نہ لگائیں۔
پہلے ہی ظالم سماج کراچی بورڈ نے میرے ارمانوں پر اپنی ڈیٹ شیٹ کی گولا باری کی ہے ۔
آرزو ہاتھ چھڑا کر بیٹھک کی طرف کھلکھلاتی بھاگنے لگی۔
حازم نے بھی چار و ناچار پیچھے ہی دوڑ لگا دی۔
اچھا چلو پھر میں دکان سے چنے کی دال لے آتا ہوں وہ بیٹھ کر بھون لیتے ہیں۔
حازم! آپ بھی نا حد کرتے ہیں.!
اللہ جانے میرے اوپر سے یہ فوجی حد بندی کب ختم ہو گی ۔ حازم نے مصنوعی خفگی سے آرزو کو گھورا۔
ایک شرط پر ؟
وہ کونسی شرط ہے ؟
پہلے وعدہ کریں پوری کریں گے۔
اگر پوری کرنے والی ہوئی تو کروں گا !
آپ نے بس پوری کرنی ہے۔
ہائے اللہ اب کونسی نئی سرنگ دریافت کر لی ہے جو کھودوانی ہے؟
اب سنجیدہ ہوں گے یا نہیں ؟ جی خادم سامنے کرسی پر بیٹھا ہے اگر سزا کوڑوں کی ہے تو جلاد کو بلوا لیتے ہیں۔
دیکھا ہے نا آپ سنجیدہ نہیں ہو رہے ہیں! میں تو نکاح والے دن سے ہی سنجیدہ ہوں مگر آپ اپنی سنجیدگی غالباً کراچی امتحان بورڑ کے پاس گروی رکھ آئی تھیں۔
دیکھا ہے نا آپ پھر مزاق اڑا ریے ہیں۔ آرزو نے منہ پھلاتے ہوئے بولا۔
آرزو جی آپ نے تو میری ساری آرزوئیں سنجیدگی کی نظر کر دینی ہیں۔
میں نہیں بولتی آپ سے !
آرزو نے منہ بسورا۔
ہائے حازم ! تیرے ٹھنڈے برف پانی جیسے ٹھنڈے نصیب !
پہلے امتحانات کی حد بندی تھی اور اب نئی آزمائش پتا نہیں کونسی ہو گی؟
خاموشی سے آنکھیں بند کر لیں !
کر لی ہیں جی !
اب کھول دوں؟
نہیں جب تک میں نہ بولوں بالکل بھی نہیں کھولنی !
جو حکم سرکار کا ، ہم تو آپ کی لب کشائی کے منتظر ہیں۔ حازم نے بند آنکھوں کے ساتھ زبان چلانی واجب سمجھی۔
آرزو جی کہیں کوئی ٹی بی ٹیسٹ تو نہیں کر رہی ہیں؟ جس کا پہلا تجربہ میرے اوپر کیا جا رہا ہے۔
بس آپ آنکھیں بند کیے بیٹھے رہیں ۔ حازم کو کاغذوں کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی تو حیران رہ گیا ۔ اب پتا نہیں کیا ہے ؟ آرزو آنکھیں کھول لوں؟
آنکھیں کھول لیں جی !
یہ لیں قلم اور آپ نے ان امتحانی پرچوں کو ایک گھنٹے میں بیٹھ کر حل کرنا ہے میں اتنی دیر میں باورچی خانے میں سحری کے لیے دال کو تڑکا اور ساتھ میں باقی کام نپٹا لوں ۔
آپ نے جو پیچھے باورچی خانے میں تباہی مچائے رکھی ہے اس کی صفائی میں ہی تین گھنٹے چلے گئے ہیں۔
حازم تو بیہوش ہوتے ہوتے بچا ؛ فوراً لپک کر آرزو کو جکڑ لیا۔آپ چاہے جو مرضی کر لو ، میں یہ پرچے حل نہیں کروں گا! حازم نے سرگوشی کی۔
اگر نہیں کریں گے تو مجرم ٹھہریں گے۔
مجھے ایسا جرم قبول ہے مگر آرزو صاحبہ آپ سے دوری ناقابل برداشت جرم ہے ۔
آپ وعدہ خلافی کر رہے ہیں۔ آپ بھی کچھ بھول رہی ہیں !
وہ کیا؟
یاد ہے نا میں نے ایک التجاء کی تھی کہ مجھے میری آرزو لوٹا دینا!
تو آرزو لوٹ آئی ہے نا !
لوٹ تو آئی ہے مگر دماغ کراچی میں ہی بھول گئی ہے!
کیا مطلب ؟ آرزو نے کمر پر ہاتھ رکھ کر بھنویں اچکا کر پوچھا۔
مطلب یہ ہے کہ میں ادھر بیٹھ کر پرچے حل نہیں کروں گا! حازم نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا بلکہ ایسا ہے کہ جب آپ اگلے سال بی ایس سی میں جاؤ گی تو ساتھ میں وہی امتحانی پرچہ گھر واپس آکر میرے سے حل کروا لیا کرنا۔
چلیں ٹھیک ہے! اگر ابھی میری بات نہیں ماننی تو پھر آپکا نقصان ہے ۔
وہ کیسے ؟
وہ ایسے!
آرزو نے حازم کے حصار سے نکل کر باورچی خانے میں دوڑ لگا دی۔
آرزو آپ بہت شرارتی ہو ! اور آپ بہت ڈھیٹ ہیں !
کیا بولا؟ حازم نے آرزو کو جھپٹا
میرا مطلب ہے اچھے والے ڈھیٹ !
مفلس ڈھیٹ!
خوبصورت سے ڈھیٹ!
وجیہہ سے ڈھیٹ !
مخلص سے ڈھیٹ !
نیک سے ڈھیٹ !
بلند اخلاق والے ڈھیٹ!
اور صلہ رحمی کرنے والے ڈھیٹ!
سچی مچی والے ڈھیٹ!
حریص محبت والے ڈھیٹ!
آرزو نے مسکراتے ہوئے حازم کو مختلف القابات سے نوازا۔
اور آپ! آرزو پتا کیا ہو ؟
کیا؟
آرزو ڈھیٹ! بلکہ ڈھیٹوں کی سردار ڈھیٹ!
دونوں کے قہقہے یکجا بلند ہوکر چھوٹے سے آنگن میں خوشیاں بکھیرنے لگے۔
******************************************
“اوران کے ساتھ اچھے اوراحسن انداز میں بود باش اختیار کرو ، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ہی ممکن ہے کہ تم کسی چيز کوبرا جانو ، اور اللہ تعالی اس میں بہت ہی بھلائي کردے ۔” النساء ( 19 ) ۔
“اورعورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان مردوں کے ہیں اچھائي کے ساتھ ، ہاں مردوں کوعورتوں پر فضیلت ہے اوراللہ تعالی غالب ہے حکمت والا ہے۔ ” البقرۃ ( 228 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کواپنی بیوی کے بارہ میں احسان اور اس کی عزت کرنے کی وصیت فرمائی ہے ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو لوگوں میں سب سے بہتر ہی اس شخص کوقرار دیا جو اپنی اہل عیال کے ساتھ احسان کرتا ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“تم میں سے سب سے بہتر اوراچھا وہ ہے جواپنے گھروالوں کے لیے اچھا ہے ، اورمیں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں “۔
(سنن ترمذی حدیث نمبر ( 3895 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1977 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو صحیح سنن ترمذي میں صحیح قرار دیا ہے۔
