Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08

آرزو نے منت طلب نظروں سے ماں کو دیکھا۔
حازم نے مجھے بولا ہے کہ آرزو کے ریل کا ٹکٹ کل کے لیے کروایا ہے تو تمہیں آج کے بجائے کل خود کراچی چھوڑنے آئے گا۔
امی وہ مذاق کر رہے ہونگے۔
تمہارا دماغ چل گیا ہے لڑکی ،جیسے حازم بول رہا ہے اس کے مطابق چلو۔
آرزو کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
اور خبردار جو پرائی عورتوں کے سامنے تماشا بنایا تو ! امی نے تنبیہی نظروں سے آرزو کو دانت پیس کر ادھر ہی خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا ۔
پہلے جو فرمانبرداریاں دکھا چکی ہو ، وہی کافی ہیں۔ آپ میری سگی ماں ہے یا سوتیلی ہیں؟
آرزو نے گردن جھکا کر ماں سے سرگوشی میں پوچھا۔
سگی ہوں اسی لیے سمجھا رہی ہوں تمہارے بابا کو خبر ہوئی تو یہ نا ہو وہ مکمل طور پر کراچی واپسی پر پابندی لگا دیں لہذا شرافت سے شوہر اور سسرال کے ساتھ گزارا کرو۔
کل کونسا دور ہے ؟
امی حازم کو خواہ مخواہ اپنے ٹکٹ پر خرچہ کرنا پڑے گا! آرزو نے پورا زور لگایا کہ ماں مان جائے۔
تمہیں کیا پریشانی ہے اس کے ٹکٹ کی ؟
امی آپکو پتا ہے حازم کی آمدن کتنی کم ہے !
تم اسکی کم آمدن پر دل نہ جلاؤ ! زمہ دار اور سمجھ دار بچہ ہے جبھی تو بولا ہے ۔ تم جیسی کانوں کی کچی کو کیا سمجھ ہے کہ گھر کو کیسے بساتے ہیں؟۔
پھر بھی امی. آرزو نے منہ بسورا۔
اپنا منہ سیدھا کر لو ! انکی تمام رشتہ دار عورتوں کا سارا دھیان تم پہ ہی ہے۔
آرزو کا جی چاہا دھاڑیں مار مار کر روئے اور حازم کو خوب کھری کھری سنا ڈالے۔
امی کا فون دوبارہ سے بجا ۔ جی حازم بیٹا ۔
آرزو کے کان کھڑے ہو گئے۔
امی صرف ہوں ہاں کر رہیں تھیں، امی کا دھیما اور تشکر آمیز لہجہ آرزو کا جی جلا رہا تھا۔
پتا نہیں میرے والدین کو اس شخص میں کونسے ہیرے جڑے نظر آتے ہیں جو نہال ہوئے جا رہے ہیں۔
آرزو نے تپ کر سوچا۔
امی فون بند کرتے ہی حازم کی امی کے پاس چلی گئیں جو اپنی دیورانی جیٹھانی کو کھانا پیش کر رہیں تھیں۔
بہن جی ابھی ہمیں اجازت دیں ،حازم کے کسی دوست نے ہمیں ریلوے اسٹیشن تک پہنچانا ہے ۔
ارے باجی ایک اور رات رک جاتے تو اچھا ہوتا ، اب مختصر وقت میں جہلم کی سیر بھی نہیں کروا پائے ہیں۔
ارے نہیں بہن ابھی تو آنا جانا لگا رہے گا ان شاءاللہ۔
آرزو تو آج نہیں جا رہی ہے ، حازم نے اسکا ٹکٹ کل کے لیے کروا دیا ہے ۔
اچھا ! ریشماں بیگم کو بھی حیرت ہوئی۔
اس نے آن لائن فون پر سے ہی رد و بدل کر لیا ہے۔
حازم کی چچی تائی اور ممانیاں منہ کے زاویے ٹیڑھے میڑھے کرنے کی تگ و دو میں تھیں۔
ہائے یہ برائلر مرغیاں بھی نری بیماری ہیں ، سستی تو ہیں مگر فشار القلب اور کولیسٹرول کو کھلی دعوت ہے ۔ اب کھا تو رہی ہوں حازم کا ولیمہ مگر چار دن بستر میں ہی پڑی رہوں گی۔ تائی نے جلاپے میں آکر زہر اگلا، ساتھ بیٹھی باقی کم ظرف عورتیں بھی اسکی ہاں میں ہاں ملا رہیں تھیں۔
حازم کی امی دم سادھے ہکی بکی کھڑی تھیں ۔
ارے بہن بیماریاں تو اس عمر میں ویسے بھی لگ جاتیں ہیں ، وہ چاہے حازم کا ولیمہ ہو یا پھر کسی اور کا ۔!
آرزو کی امی نے نرم لہجے میں تائی کی تلخ زبان کو لگام دی، جبکہ آرزو ویسے ہی کھول رہی تھی۔
جی چاہ رہا تھا ایک دفعہ حازم سامنے آ جائے تو اس کا حشر نشر کر دے۔
سب مہمان آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے ، سب سے پہلے کراچی والے مہمان رخصت ہوئے ۔باقی رشتہ دار عورتیں بھی انکا رکھ رکھاؤں دیکھنے کے لیے جاسوسی کر رہیں تھیں۔
سب چلے گئے گھر ویران ہو گیا ، حازم اپنے قریبی دوست احباب کے ساتھ باہر کا سارا کام نپٹا کر تھکا ہارا گھر لوٹا تو آرزو کو سوگ مناتے پایا۔
پر زور احتجاج کے لئے ولیمے کی سج دھج والے لباس کے بجائے عام سا جوڑا زیبِ تن کئے اپنا پسندیدہ شغل فرما رہی تھی۔
رو رو کر آنکھیں سجا لیں تھیں۔
حازم نے کمرے میں داخل ہوتے ساتھ چٹخی چڑھائی تو عقب سے آرزو پھٹ پڑی۔
ابھی تو آپکے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے۔!
اپنی ضد پوری کر لی ہے !۔
آپکی ظاہری حالت کی طرح آپکی سوچ بھی فقیر ہے ۔
چٹاخ زور دار تھپڑ آرزو کو پلنگ پر گرا گیا۔
کیا سمجھتی ہو اپنے آپکو ؟ آسمان سے اتری حور ہو ؟
آرزو گال پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حازم کو دیکھے جارہی تھی۔
بد لحاظ ، زبان دراز لڑکی بارہا سمجھایا ہے کہ میرے سامنے تمیز کے ساتھ بات کیا کرو مگر آپ کو پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی ہے۔
بہت لحاظ کر لیا آپکا ! اب زبان کھلی تو حشر نشر کر دوں گا !
آرزو کے آنسو لڑھک لڑھک کر گردن تک جا رہے تھے ۔
یکدم بستر پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور چلا کر بولی۔
آپ نے مجھے مارا ؟!
آپ انسان نہیں ہیں بلکہ حیوان ہیں !
چٹاخ زور دار دوسرا تھپڑ بھی آرزو کا گال لال کر گیا۔
******************************************
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہے کہ وہ چہرے پر ہرگز تھپڑ نہ مارے”.
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک ایسے گدھے کا گزر ہوا، جس کے چہرے کو نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اسے (چہرے پر) نشان لگایا”۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اس پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث میں چہرے پر مارنے کی سخت ممانعت ہے حتیٰ کہ کسی بھی جانور کو چہرے پر مارنا بھی حرام قرار دیا گیا ہے کجا کے کسی انسان کے چہرے پر مارا جائے، چاہے وہ بچہ ہی کیوں نہ ہوں۔ قطعاً جائز نہیں ہے۔
******************************************
اب ذرا میرے سامنے چلاؤ زبان !
حازم تو شدید غصے میں پاگل ہو رہا تھا ، سارا دن کمینے لوگوں کی باتیں سنتا رہا ہوں اور اب آپ بھی انہیں کے انداز سے میرے ساتھ محو گفتگو ہیں۔
زبان گدی سے کھینچ کر باہر نکال کر رکھ دوں گا۔!
حازم نے شہادت کی انگلی سے آرزو کو دھمکایا۔
آرزو ہچکیوں سے روتے ہوئے بستر سے نیچے اترنے لگی اور بولی میں ابھی آپکے امی ابو کو بتاؤں گی کہ آپ نے مجھے مارا ہے ۔
حازم نے فوراً آگے بڑھ کر آرزو کو دبوچ لیا۔
ادھر سے ایک انچ بھی ہلی تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔
کیا سمجھا ہے آپ لوگوں نے ہمیں !
ذہنی مریض ہو آپ! حازم کے مضبوط حصار میں محصور آرزو نے ہچکیوں میں زبان کو پھر سے چلایا۔
ذہنی مریض بن کے دکھایا نہیں ہے ابھی۔ حازم نے دانت پیسے۔
چھوڑو مجھے! میرا دم گھٹ رہا ہے!
خاموش ہو کر اپنے بستر پر لیٹ جاؤ ! اب اگر زرا سی آواز نکالی تو اس سے بھی برا حشر کروں گا۔
حازم نے تنی رگوں سے آرزو کو دھمکایا اور اٹھا کر پلنگ پر پھینک دینے والے انداز میں زبردستی بٹھایا۔ اور خود رنجیدہ ہو کر اپنی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
کمرے میں مکمل سکوت چھا چکا تھا سوائے آرزو کی ہچکیوں کے۔
بند کرو یہ رونا دھونا!
حازم نے سرعت سے اٹھ کر میز پر پڑے جگ سے پیالے میں پانی انڈیلا اور آرزو کے سامنے بڑھایا۔
پانی پیو ! حازم نے رعب دار آواز میں پکارا مگر آرزو ہنوز نظر انداز کر رہی تھی۔ میں نے بولا ہے پانی پیو! حازم دانت پیس کر دھاڑا۔
آرزو نے خوف سے لرزتے ہاتھوں سے گلاس تھامنا چاہا مگر ہاتھوں کی لرزش سے پانی چھلک گیا۔
منہ کھولو میں خود پلاتا ہوں ۔
خوفزدہ آرزو نے پانی کا پیالہ لبوں سے لگا لیا اور سست روی سے گھونٹ گھونٹ اپنے اندر انڈیلنے لگی۔
دو منٹ لگا کر چند گھونٹ حلق سے نیچے اتار سکی۔
حازم نے آرزو کو پانی نہ پیتے دیکھ کر پیالہ لبوں سے ہٹا لیا . مزید تو نہیں پینا؟
آرزو گردن کو نفی میں جھٹکنے لگی۔
ابھی خاموش ہو کر سو جاؤ صبح فجر کے بعد گھر سے نکلنا ہے ۔
اپنا سارا سامان باندھ لیا ہے یا ابھی باقی ہے ؟
آرزو نے ہچکیوں میں مثبت انداز میں گردن جھٹکی۔
چلو شاباش ابھی سو جاؤ ! میں بتی بجھانے لگا ہوں۔
نئی نویلی دلہن کی اجڑی حالت دیکھ کر حازم کو ترس آنے لگا مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا، پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اور حازم کو پتا تھا کہ ابھی آرزو سے بات کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
بتی گل ہوگئی مگر پلنگ پر بیٹھی آرزو مسلسل اپنے ارمانوں کا سوگ منا رہی تھی۔
دل میں حازم کے لیے شدید نفرت پیدا ہو چکی تھی۔
حازم اپنی چارپائی پر لیٹا حالات کی ستم ظریفی پر حزن و ملال کی کیفیت میں تھا۔
سوچا تھا شادی ہو گی تو زندگی میں رنگ بکھیرنے والی مل جائے گی جو کام سے گھر واپسی پر خوش دلی سے استقبال کرے گی، میرے آرام و سکون کا خیال رکھے گی مگر یہاں خیال تو دور کی بات ،الٹا طعنے اور کوسنے سننے کو ملتے ہیں۔
******************************************
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“مومن مرد مومنہ عورت سے ناراض نہيں ہوتا اوراس سے بغض نہیں رکھتا ، اگر ایک چيز اس نے اس میں بری دیکھی ہے توکسی اورچيز سے وہ خوش ہوجائے گا” صحیح مسلم حدیث نمبر ( 36 ) ۔
سمرۃ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“بلاشبہ عورت پسلی سے پیدا کی گئي ہے اوراگر آپ پسلی کوسیدھا کرنے کی کوشش کرینگے تو اسے توڑ بیٹھیں گے”.مسند احمد ( 5 / 8 ) صحیح ابن حبان حدیث نمبر ( 1308 ) صحیح الجامع ( 2 / 163 )
اور ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
“مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو ، اورتم میں سب سے زيادہ بہتر اوراچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے اچھا ہو”۔ سنن ترمذی ( 1/ 217 ) مسند احمد ( 2 / 250 ) دیکھیں السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی حدیث نمبر ( 284 )
******************************************
اتنی زبان دراز ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔
آرزو کی ہچکیاں اور حازم کی اکڑ میں رات بیت گئی، فجر کی اذانوں نے کانوں میں رس گھولا۔
حازم تو یکدم بستر پر اٹھ بیٹھا جبکہ آرزو اوندھے منہ پڑی بے خبر سو رہی تھی۔
آرزو اٹھو ہمیں کراچی کے لئے نکلنا ہے دیر ہو جائے گی۔
دو تین بار پکارنے پر بھی آرزو ٹس سے مس نہ ہوئی تو فکر مندی سے حازم نے کمرے کی بتی جلائی اور آرزو کا چہرہ چھو کر دیکھا تو آگ جیسی تپش محسوس ہوئی۔ یا رب اسے تو بہت تیز بخار ہو گیا ہے، ابھی تو امتحان بھی سر پر ہیں اسکے۔
کیا کروں؟
حازم پچھتاوں میں جکڑ گیا ۔
کاش میں رات کو تھوڑا سا برداشت کر جاتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ ابھی تو ریل کے ٹکٹ بھی ملتوی نہیں کروا سکتا ہوں۔
آرزو اٹھو ! حازم نے ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے آرزو کے چہرے پر چھڑکاؤ شروع کر دیا۔
آرزو کسمسائی۔
جلدی کرو ! کراچی کے لیے نکلنا ہے۔
سرعت سے آرزو اٹھ بیٹھی۔ آنکھیں مل کر دائیں بائیں دیکھا مگر نقاہت محسوس ہو رہی تھی۔ رات والا منظر آنکھوں کے سامنے جھلملانے لگا۔
چلو میں آپکو غسل خانے تک لے چلتا ہوں ، ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے حواس بحال ہو جائیں گے۔
آرزو خاموشی سے حازم کی پیروی میں پاؤں میں چپل اڑسنے لگی۔
حازم کے حصار میں جھولتے جھولتے بیت الخلاء تک پہنچی۔
جاؤ اندر ! میں باہر ہی کھڑا ہوں۔
بنا کچھ کہے آرزو دس منٹ لگا کر باہر نمودار ہوئی۔
چلو! حازم نے اسے اپنے حصار میں دوبارہ لے لیا۔
کمرے میں پہنچاتے ہی بولا۔ نماز پڑھ لو ! میں ابھی مسجد سے نماز کے فورا بعد واپس آ رہا ہوں ہمیں سٹیشن کے لئے نکلنا ہے۔ امی ناشتہ بنا رہی ہیں ۔
آرزو نے دھیرے سے گردن جھٹکی اور تیاری میں مشغول ہو گئی۔ دل غم سے چور تھا مگر صرف ایک بار کراچی پہنچنے کی جستجو ستا رہی تھی۔
اب تو میں کبھی بھی اس وحشی شخص کے پاس نہیں آؤں گی۔
حریص محبت نہیں بلکہ حریص وحشت ہے یہ شخص. روتے دھوتے تیاری مکمل کی تو اتنی دیر میں حازم ولیمے کا بچا سالن ، نان اور چائے لے آیا۔
آرزو آجاؤ جلدی سے !
مجھے نہیں کھانا ! منہ بسورے آرزو نے جواب دیا۔
آرزو میں نے بولا ہے کہ تھوڑا سا ناشتہ کھا لو پھر گولی بھی کھانی ہے اور میں خالی پیٹ گولی نہیں لینے دونگا۔
میں نے بولا ہے مجھے بھوک نہیں ہے۔ آرزو دھاڑی۔
حازم نے لاچارگی میں گردن جھٹک کر نوالہ آرزو کے منہ کی طرف بڑھایا جو منہ بسورے پلنگ کے کونے پر ٹکی اپنی کتابوں کو گود میں رکھے جلد از جلد گھر سے نکلنے کےلئے منتظر بیٹھی تھی۔
منہ کھولو! حازم نے مزید قریب ہو کر خونخوار نظروں سے آرزو کو بولا۔
خوف کے مارے آرزو نے فوراً منہ کھول لیا ۔ حازم لقمے توڑ توڑ کر آرزو کے سامنے لا رہا تھا جبکہ آرزو چار و ناچار زہر مار کر رہی تھی۔ چند لقموں کے بعد حازم کا بڑھتا ہوا ہاتھ پیچھے ہٹایا ۔ یہ آخری لقمہ لو اور پھر جلدی سے گولی بھی!
مجبوراً آرزو نے آخری لقمہ بھی لے لیا مگر حلق سے نیچے اتارنا مشکل لگ رہا تھا۔ حازم نے گولی بڑھائی اور ساتھ میں پانی کا پیالہ۔
مجھے گولی نہیں لینی ۔ طبیبہ صاحبہ لمبا سفر ہے لہذا لے لیں یہ نا ہو سفر میں طبیعت زیادہ بگڑ جائے۔
آرزو کو رونا آرہا تھا ،رات کو ان ہاتھوں سے تھپڑ کھائے ہیں اور ابھی انہیں ہاتھوں سے کھانا کھا رہی ہوں۔
صرف ایک مرتبہ کراچی پہنچ جاؤں کبھی بھی جہلم واپس نہیں آؤں گی۔
چند آنسو ٹوٹ کر گالوں کو بھگو گئے۔
حازم نے آگے بڑھ کر ہاتھ صاف کئے اور آرزو کو اپنے مضبوط حصار میں لے کر پیشانی پر مہر محبت ثبت کی ۔ آرزو مجھے غصہ آگیا تھا ، مجھے معاف کر دو!
میں نے بارہا سمجھایا تھا کہ مجھے ہر بات میں زبان درازی بالکل بھی پسند نہیں ہے مگر کل آپ نے حد ہی پار کر دی تھی۔ پتا ہے کل میرے نیک رشتہ داروں نے میری اور ابو کی کتنی جگ ہنسائی کروائی ہے۔
اور اوپر سے آپ نے مجھے سانس لینے کا موقع بھی نہیں دیا اور میری تذلیل شروع کر دی تھی۔
آرزو حازم کے ساتھ لپٹی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
اچھا ابھی رونا نہیں ہے شاباش! بس میرے ساتھ زبان درازی نہ کرنا!:
ابھی چلو امی ابو کو الوداعی سلام بول لو ، آپکی غیر موجودگی میں وہ لوگ عمرے پر چلے جائیں گے، انکو بولو آپکے اچھے نمبروں کے لیے دعا کریں گے۔
حازم نے آرزو کو ساتھ لگایا اور کندھوں سے پکڑ کر والدین کے کمرے میں لے آیا۔ ابو امی ہم لوگ بس ابھی نکلنے والے ہیں تو آرزو آپ سے ملنے آئی ہے۔
آرزو نے سوجھی سوجھی آنکھوں سے دونوں کو دیکھا تو امی نے آگے بڑھ کر سینے سے لگا لیا۔
آرزو نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔
ہائے میری بچی رو کیوں رہی ہے؟
امی اسکو امتحانات کی بہت پریشانی ہے ابھی صرف تین دن باقی ہیں تو اس لیے گھبرا گئی ہے۔
امی نے آرزو کے لال انگارہ گالوں کوچوما تو تپش محسوس ہوئی۔ ہائے میری بچی کی طبیعت تو ٹھیک ہے حازم؟
اسکے گال اتنے تپ رہے ہیں۔ حازم کے ابو دیکھیں نا ذرا !
ابو نے آرزو کی پیشانی کو چھوا تو بولے ،حازم واقعی تمہاری ماں ٹھیک بول رہی ہے۔
حازم نے گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے بولا۔
ابو اسکو کل کی تھکاوٹ اور امتحانات کی پریشانی لاحق ہے اسی لئے میں نے اسے کل واپس نہیں بھیجا تھا کہ ولیمے کی تھکان کے ساتھ ساتھ سفر کی تھکان مزید بڑھ جائے گی۔
حازم جان چھڑانے کے لیے ہر حربہ آزما رہا تھا جبکہ آرزو زار و قطار روئے جا رہی تھی۔
آرزو بس کرو ! ابھی امی ابو آپکے لیے ڈھیر ساری دعائیں مانگیں گے! ہے نا امی؟ ۔
کیوں نہیں ! ہمارے بہو بیٹے کو اللہ پھولے پھلائے آمین۔ ہماری بہو تو کل حور پری لگ رہی تھی ماشاءاللہ، حازم مجھے لگتا ہے اسے کسی کی نظر لگ گئی ہے۔
امی نے دوبارہ آرزو کو چوم ڈالا۔
امی ابو بہت دیر ہورہی ہے ہمیں جلد از جلد نکلنا ہے ۔
مشکل سے حازم نے بات کو سمیٹا اور آرزو کا سامان لے کر باہر آگیا ، والدین دعائیں دیتے دروازے کی چوکھٹ پر پہنچ آئے۔
حازم نے جاننے والے رکشہ ڈرائیور کو گھر کے دروازے کے باہر ہی بلا لیا اور سفری تھیلوں کو رکھ کر آرزو کو لے کر پھٹ پھٹ چخ چخ رکشے میں سوار ریل سٹیشن پہنچ گیا۔۔۔
آرزو ہنوز خاموش کھوئی کھوئی اپنی ہتھیلیوں کو گھورے جا رہی تھی۔
کراچی واپسی کے لیے ریل پر سوار ہو گئی مگر ہنوز خاموش تھی۔ سوجھی آنکھیں جھکی گردن اور ہاتھ میں کتاب تھامے حازم کے دل میں اتر رہی تھی۔
حازم نے بھی چھیڑنا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی میں ہی عافیت جانی۔
گھنٹہ بھر گزر جانے کے بعد آرزو نے نیند میں جھولنا شروع کر دیا۔
حازم نے فوراً آگے بڑھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور سہلانے لگا۔
پیشانی کی تپش ابھی بھی بخار کا پیش خیمہ تھی۔
حازم کو آرزو کے بخار بڑھ جانے کی فکر ستائے جا رہی تھی، گزشتہ ہفتے کا سفر آنکھوں میں چل رہا تھا ، کتنے خواب اور کتنے ارمانوں سے میں اسے ساتھ لایا تھا مگر آج پھر وہی دوریاں اور احساس کمتری ستا رہا ہے ۔
سفر میں چند ایک پڑاؤ پر حازم نے آرزو کو زبردستی اٹھا کر پانی جوس کی پیش کیا مگر وہ ہنوز رد کر رہی تھی۔ حازم کے زبردستی کرنے پر دوچار سپ لے لیتی۔
طویل ترین سفر نہایت اذیت میں کٹا ، حازم کے دل میں طرح طرح کے خیال جنم لے رہے تھے کہ اگر آرزو نے اپنے والدین کو بتا دیا یا پھر دوبارہ واپس نہ آئی تو میرا کیا بنےگا ؟
امی ابو تو جیتے جی بستر مرگ پر چلے جائیں گے۔
میرے مالک اس لڑکی کا دل میرے لیے نرم کر دے آمین ثم آمین۔
راستے میں حازم دعائیں مانگتا آرزو کو لے کر منزل مقصود پر پہنچ آیا۔
لڑکھڑاتی آرزو حازم کے ساتھ لگی خراماں خراماں چل رہی تھی۔
حازم نے خاموش چلتی آرزو سے سلسلہ کلام جوڑا۔ آرزو ہمارے بیچ جو بھی ہے اسے اپنے تک محدود رکھنا ، میں نہیں چاہتا ہم دونوں کی وجہ سے دونوں خاندان پریشان ہوں۔
حازم کے ساتھ چلتی آرزو بنا بولے اپنا سفر جاری رکھے ہوئی تھی۔
گھر پہنچنے پر سب نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور کھانے پینے کے بعد دونوں کو آرام کے لئے کمرے میں جانے کا بولا۔
انکل میری تو ریل کا وقت ٹھیک دو گھنٹے بعد ہوجائے گا تو میں کچھ دیر ہی رکوں گا۔
ارے بیٹا اتنے کم وقت کے لئے کیوں آئے ہو ؟ کچھ دن تو رک جاتے ، انکل میں رک جاتا مگر آپکو تو پتا ہے دکان کو بھی بند نہیں کیا جا سکتا اور امی ابو کے جانے میں بھی چند دن باقی ہیں۔ ہاں یہ بات تو میرے ذہن سے نکل گئی تھی۔
بہرحال تھوڑی دیر کے لیے کمر سیدھی کرو جا کر ۔
آرزو بیٹی حازم کو کمرہ دکھاؤ۔
جی !
آرزو خاموشی سے حازم کے آگے چلنے لگی اور مطلوبہ کمرے کا دروازہ کھول کر واپس پلٹنے لگی تو حازم نے ہاتھ تھام لیا۔ ابھی بھی ناراض ہو آرزو ؟!
حازم نے ملتجی نظروں سے دیکھا۔
آرزو نے شکوہ کناں نظروں سے دیکھ کر لب کاٹنے شروع کر دیئے۔
بہت غصے میں ہو ؟
ہنوز خاموشی۔
معاف کر دو نا !
ابھی سفر میں چلا جاؤں گا اور پھر پتا ہے سفر میں کچھ بھی ہو سکتا ہے !
آرزو نے خالی نظروں سے حازم کو دیکھا۔
حازم نے آگے بڑھ کر آرزو کو اپنے حصار میں لے لیا اور گالوں پر اپنے اخلاص کی مہریں ثبت کر دیں جبکہ آرزو بت بنی کھڑی تھی جیسے تمام احساسات و جذبات دم توڑ گئے ہوں۔
امتحانات یکسوئی سے دینا ! اور اگر کچھ پوچھنے کی ضرورت پڑی تو مجھے فون کر لینا ۔ آٹھ مئی تک تو فارغ ہو جاؤ گی ان شاءاللہ۔ پھر واپس کب تک آؤ گی ؟ لینے آؤں نا ؟
اچھا چلو! جب جی چاہا آ جانا.! پتا ہے جب میں واپس جاؤں گا تو میرا کمرہ بہت خالی خالی لگے گا ۔ مجھے بہت یاد آؤں گی آرزو!
حازم کی جذبے لوٹاتی آنکھیں بھی آرزو کو پگھلا نہ سکیں۔
آرزو کچھ تو بولو یار!
کچھ سوچ کر آرزو گلو گیر لہجے میں بولی۔ میں تو بداخلاق ، بدزبان اور خاص کر زبان دراز ہوں ! آپکو تو خوش ہونا چاہئے کہ جان چھوٹی ہے ، بقول آپکے میں نے آپکا سکون تہہ و بالا کیا ہوا تھا! یہی بات ہے نا ؟
آرزو کی آنکھیں چھلک پڑیں.
آپ تو بیوی کو پیٹنا مردانگی گردانتے ہیں نا !!!
حازم لاجواب ہو گیا۔
آرزو میں نے بارہا بولا ہے کہ میں آپ پر ہاتھ اٹھانا نہیں چاہتا تھا وہ تو بس آپ نے بات ہی ایسی کر دی تھی کہ میرا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
لو بدلہ لے لو !
مجھے بھی ایسے ہی مارو جیسے میں نے مارا تھا۔ حازم نے ہار مان لی اور دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
حازم میری مار اور آپکی مار برابر ہو سکتی ہے بھلا؟
ایک مرد کا زور دار تھپڑ کسی نازک دوشیزہ کے لیے کتنا شدید ہو سکتا ہے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ ساری رات میرے جبڑے دکھتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مجھے بخار نے آن لیا۔
دو دن بعد میرا پہلا پرچہ ہے ۔ میں نے کتنی محنت کی ہے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔
آرزو زار و قطار روئے جا رہی تھی۔
حازم کا جی چاہا ایک لمحے کے لیے بھی آرزو کو اپنے سے الگ نہ کرے مگر ساتھ ہی وہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے دل کا غبار نکال لے۔۔
آرزو نے جب جی بھر کر رو لیا تو کمرے سے باہر جانے کےلئے پلٹی ۔
حازم نے فوراً لپک کر اسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔
آرزو آئندہ کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا صرف ایک دفعہ مجھے معاف کر دو ۔
کسی کو بھی ہمارے اس جھگڑے کی خبر نہ ہو پلیز۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے آرزو تنگدستی کا طعنہ سن سن کر یہ بات میرے لیے گالی بن گئی ہے۔۔
مفلس ہونا کوئی جرم نہیں ہے ! خوشیاں پیسوں سے نہیں بلکہ خلوص سے خریدی جاتی ہیں۔ یہ تو دلوں کا سودا ہے جسے نہ کسی مال کی ضرورت ہے اور نہ کسی کار کوٹھی کی ۔ عزت اور محبت ہو تو انسان جھونپڑی میں بھی گزارا کر لیتا ہے۔ آرزو میں تو محبت کا حریص ہوں مجھے خالی ہاتھ نہ لوٹانا۔!
میری زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ میرے دل کا ترجمان ہے۔ میرا یہ ترجمان حریصِ آرزو ہے فقط!
حازم کے سینے میں سمٹی آرزو زار و قطار نمکین پانی کی ندیاں بہا رہی تھی۔
اپنے پرچے بہت دھیان سے حل کرنا مجھے بہت خوشی ہو گی کہ میری آرزو اپنی آرزو کو پانے میں کامیاب ہو گئی ہے ، ایک خاص اور آخری التجاء مجھے میری آرزو لوٹا دینا۔
کھڑے کھڑے نجانے کتنی گھڑیاں راز و نیاز کی نظر ہو گئیں۔ آرزو میرے نکلنے کا وقت ہو رہا ہے۔ میں
نے ابو سے گھر کی فالتو چابی لے لی تھی ،ابھی یہ اپنے پاس رکھ لو جب جی چاہے اپنے اس فقیر کے پاس لوٹ آنا ، اس فقیر کے دل کے دروازے بہت کشادہ ہیں ، کبھی بھی دل کے دروازوں میں تنگی محسوس نہیں کرو گی۔ محبت کے لیے مال نہیں پیار درکار ہے جو آپکو بنا کسی روک رکاوٹ ملے گا ان شاءاللہ۔
مجھے معاف کر دینا۔ حازم نے آرزو کو اپنے سینے میں بھینچ کر بستر پر بٹھایا اور خود سامنے فرش پر بیٹھ گیا۔
آرزو آپکا مفلس جا رہا ہے کچھ بولنا ہے تو بولو ۔ حازم نے آرزو کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بوسہ لیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔ سانسوں نے وفا کی تو پھر ملیں گے ان شاءاللہ۔
آرزو دیکھتی رہ گئی اور حازم نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
شام آٹھ بجے قمر صاحب کے فون پر آنے والی کال نے سب کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *