Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07
چند لمحوں بعد زوردار آواز پر حازم اچھل کر بیٹھ گیا ،اپنے عقب میں دیکھا تو طبیبہ صاحبہ کتابوں کو میز پر پٹخ کر اپنا غیض و غضب نکالے جا رہیں تھیں۔
حازم کا خون کھول کر رہ گیا پھر تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گویا ہوا۔آرزو صاحبہ میرے حصے کا زہر ان بےجان کتابوں پر نہ انڈیلیں تو بہتر رہے گا۔
آپ کو اگر میری صورت سے اتنی نفرت ہے تو قلق نہ کریں آپ کو جلد ہی کراچی واپس بھیج رہا ہوں ، صرف ولیمے کا انتظار ہے ،میرے اختیار میں ہوتا تو وہ بھی رکوا دیتا مگر امی ابو بضد ہیں اور آپکے والدین بھی پہلی مرتبہ ہمارے گھر تشریف لا رہے ہیں لہذا ہوش کے ناخن لے لیں تاکہ یہ چار دن سکھ کے ساتھ گزر جائیں۔
آرزو کا پھولا چہرہ اور چہرے سے جھلکتا غضب حازم کو کچھ دیر کے لئے مسکرانے پر مجبور کر گیا مگر موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے دوبارہ چارپائی پر نیم دراز ہو گیا۔
لیٹے لیٹے آرزو کو دوبارہ مخاطب کرنا پڑا ۔ آج ساتھ چلنا ولیمہ کے لیے جو لباس پہننا ہے وہ خریدنا باقی ہے ۔
امی تو چاہ رہی تھیں کہ ہم پہلے سے خرید لیں مگر میرے منع کرنے پر کے آپکی پسند کے مطابق خریدیں گے لہذا آج میرے ساتھ چلنا۔۔
حازم خود ہی اکیلے بول کر خاموش ہو گیا مگر آرزو ہنوز منہ پھلائے خاموش بیٹھی تھی۔
حازم نےلیٹے لیٹے ساری حقیقت گوش گزار کر دی مگر ہٹ دھرم آرزو تو اپنے نام کی ایک تھی ، ٹھان چکی تھی کہ حازم کو ناکوں چبوا کر چھوڑے گی ، ۔مرحلہ مراھقہ کی اکڑ ابھی بھی باقی تھی، لاڈ ،ضد ،اضافی توجہ کی خواہش مند آرزو شدت غم سے دوچار تھی جوکہ مفلس حازم کے لیے خطرے کے گھنٹی تھی۔
شادی سے قبل اندازہ تھا کہ یہ ضدی لڑکی اسے ستائے گی مگر عملی میدان میں اسکی امید سے بھی زیادہ باغی لگنے لگی۔
جی چاہا اٹھ کر دوبارہ سے روٹھی آرزو کو منا لے مگر حازم کی انا حائل ہو گئی۔۔۔
کتنی دیر گزر جانے کے باوجود بھی سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔
چار و ناچار حازم چارپائی پر سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
آرزو میری طرف دیکھو!
مگر آرزو سامنے پڑے لکڑی کے میز کو کھرچے جا رہی تھی۔
آرزو مجھے جی بھر کر کھرچ لو مگر اس بے جان میز کے بخیے نہ ادھیڑو !!
حازم کے بولنے کی دیر تھی کہ آرزو نے اپنی انگلیوں کے بجائے پاس پڑی کچی قلم سے میز کو کرچ کرچ رگڑنا شروع کر دیا ۔
یا رب یہ تو بالکل بچوں والی ضد کر رہی ہے ! حازم کا جی چاہا اس دبلی آرزو کو اٹھا کر دو کرارے تھپڑ جھڑ دے مگر ضعیف والدین کے جھریوں زدہ چہرے آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگے۔ ساری زندگی کی جمع پونجی کے بعد بہو صاحبہ ملی ہیں جن کے خیالات کوہ ہمالیہ کی بلندیوں سے بھی اوپر کی طرف شامل سفر ہیں۔
******************************************
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :” دوزخ نفسانی خواہشات سے اور جنت ان باتوں جو نفس کو بری معلوم ہوں سے ڈھانک دی گئی ہے۔ ”،( صحیح بخاری:2110)
******************************************
ٹھیک ہے اگر نہیں بولتی تو نہ بولو ، میں اپنی پسند سے اکیلا جا کر لے آؤں گا اور وہی لباس پہننا پڑے گا۔ میری بات کان کھول کر سن لو!
اگر میں نے اس لباس کے علاوہ کوئی اور لباس دیکھا تو پھر اپنی خیر منا لینا۔ اسکو دھمکی نہ سمجھنا ! اچھی طرح جانتی ہو میں اپنی بات پر عمل درآمد کرنے والا مرد ہوں ، ابھی ڈھیل صرف امتحانات کی وجہ سے مل رہی ہے ورنہ آپکو سیدھا کرنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
حازم نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوتا چلا جا رہا تھا جبکہ آرزو پوری آب و تاب سے اشکبار ہو چکی تھی۔
جھٹکے سے چارپائی پر سے اتر کر سرعت سے آرزو کے سامنے لال انگارہ آنکھیں لیے کھڑا تھا۔ تھر تھر کانپتی آرزو کی بچی کھچی ہمت بھی جواب دے گئی۔
آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ زبان تو جیسے تالو کے ساتھ چپک کر ہلنا بھول چکی تھی۔
آرزو میری طرف دیکھو!
آرزو جو کہ جھکی گردن کے ساتھ اشکبار تھی فورا خوف سے حازم کو دیکھنے لگی۔
مجھے جواب کیوں نہیں دے رہی ہو ؟
میں آپکا ملازم نہیں بلکہ شوہر ہوں جس کے بہت سارے حقوق ہیں۔
میں کتنی دیر سے آپ سے محو گفتگو ہوں مجھے جواب کیوں نہیں مل رہا ہے؟
بولو !
حازم نے اپنے مضبوط ہاتھ سے آرزو کا جھکا چہرہ اوپر اٹھایا !
آرزو کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں واضح طور پر جھلک رہی تھیں۔
آخری بار بول رہا ہوں مجھے ہاں یا ناں میں جواب ملنا چاہئے ورنہ نتائج کی زمہ دار آپ خود ہو گی۔ مجھے مجبور نہ کرو میں جذبات میں آ کر کچھ کر بیٹھوں۔!
ک ک ک ک کیا کریں گے؟
خوفزدہ آرزو کی پھنسی ہوئی آواز نکلی۔
پتا ہے میں آپ کے ساتھ کیا کروں گا ؟
نہیں !
آپکو خوب پھینٹی لگاؤں گا!
حازم نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے رکھا اور بے ترتیب کتابوں کو سیدھا رکھنے لگا۔
ولیمے کا لباس لینے کے لیے میرے ساتھ چلو گی نا ؟
نہیں مجھے نہیں جانا !
وجہ ؟
بس مجھے پڑھنا ہے ، میں نے 15 اپریل تک اپنے تمام مضامین کا حساب لگا کر ان دنوں کے ساتھ تمام مضامین کو ضرب دی ہوئی ہے ۔۔۔ آرزو نے بسورے منہ کے ساتھ جواب دیا۔
اچھا تو مضامین کی ضرب کی تو سمجھ آتی ہے مگر ساتھ میں مجھے تو ضربیں نہ لگائیں۔
حازم نے شریر نظروں سے آرزو کو چھیڑا۔
آپ نے میرا دل دکھایا ، مجھے نہیں آپ سے بات کرنی!
آرزو نے اشکبار آنکھوں سے حازم کے دل کے تار چھیڑے۔
اور میرے دل کا کیا ہو گا جو مسلسل دو ہفتوں سے دکھ رہا ہے!
آپ مرد ہیں ! آپکی خیر ہے ۔ کیوں جی مردوں کے سینے میں سیسا پلائی ڈلا ہوا ہے؟
حازم کا جی چاہ رہا تھا کہ آرزو کے ساتھ لمبی گفتگو کرے مگر نئی نویلی دلہن صاحبہ کے انوکھے مزاج تھے یا پھر حازم کو زچ کرنے کا کوئی موقع نہ جانے دیتی۔
یہ بات نہیں ہے!
تو پھر ؟
بس مرد مضبوط اعصاب کے حامل ہوتے ہیں!
اچھا ! ویسے مجھے تو یہ اندازہ ہی نہیں تھا! حازم نے مصنوعی حیرت کا مظاہرہ کیا۔
اگر مرد مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں تو آپ میرے اوپر اعتبار کر لیں ! آپکو مضبوط اعصاب کا یہ مرد خالی پیٹ سونے نہیں دے گا، خود بھوکا رہ لے گا مگر طبیبہ صاحبہ کو کھانا ملتا رہے گا۔
حازم نے پورے خلوص کے ساتھ بولتے ہوئے آرزو کے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیا۔
آرزو آپکے دل میں جتنے بھی وہم ہیں وہ نکال پھینکیں ، ہماری شادی ہو گئی ہے ،ابھی کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ ہمارا جینا مرنا ساتھ ہے ، شادی گڈی گڈے کی نہیں ہوئی بلکہ جیتے جاگتے ذی روح اس خوبصورت بندھن میں بندھے ہیں۔
پھولے منہ کے ساتھ آرزو نے اثبات میں گردن جھٹکی۔
ساتھ چلو گی نا ؟
آرزو نے فوراً گردن نفی میں ہلائی۔
اچھا چلو جیسے آپ کی مرضی مگر بعد میں کوئی شکوہ سننے کو نہ ملے۔
مہندی بھی لے آؤں ؟ آپ نے تو مہندی بھی نہیں لگائی ہاتھوں میں !
حازم نے آرزو کے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا۔
پوچھ سکتا ہوں کیوں نہیں لگائی تھی؟ حازم کی جذبے لٹاتی آنکھیں آرزو کو گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی تھیں۔
وہ مجھے رات کو پڑھنا تھا اس لیے نہیں لگائی تھی۔ بولتے ساتھ آرزو نے کرسی سے اٹھتے ہوئے ہاتھ چھڑانے کی بھرپور کوشش کی مگر حازم کی مضبوط گرفت کے سامنے مجبور ہو گئی۔
آپکو جو پسند ہوا لے آنا ، میں وہی پہن لوں گی۔
ابھی مجھے مزید پڑھنا ہے لہزا میرے ہاتھ چھوڑیں ۔
آرزو نے کانپتی آواز سے بولا۔
حازم نے آرزو کے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں کے ساتھ لگا کر آرزو کو آزاد کر دیا۔
مجھے دکھاؤ اگر کچھ مدد درکار ہے تو مدد کر دیتا ہوں!
نننن نہیں مجھے اپنی مدد آپ کے تحت پڑھنے کی عادت ہے، میں خود کر لوں گی ، آپ بس آرام کریں ۔
آرزو نے بھاگ کر کتابیں اچک لیں اور پلنگ پر تحریر شدہ مواد بکھیر دیا۔
حازم نے پر شوق نظروں سے اس روح پرور منظر سے اپنی آنکھیں خیرہ کیں۔
ابھی کسی قسم کی کوئی ناراضگی یا کوئی شکوہ باقی تو نہیں ہے ؟
نہیں نہیں کوئی بھی نہیں آپ اپنا کام کریں ، میں اپنا کر رہی ہوں۔
حازم نے آرزو کی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کمرے سے نکل جانا ہی مناسب سمجھا۔
******************************************
حازم آرزو کے درمیان تناؤ کھچاؤ کے ساتھ ولیمے کا دن بھی قریب آن پہنچا ۔ آرزو کا دل اپنے والدین، آپا حدیقہ اور چھوٹے دو بھائیوں سے ملنے کےلئے بیقرار تھا۔
آرزو حازم کو اکثر و بیشتر نظر انداز کر دیتی۔
حازم بھی وقتاً فوقتاً اسے ڈراتا دھمکاتا رہتا۔ کبھی کبھی آرزو کا دل اس کی طرف مائل ہونے لگتا مگر پھر وہی مادہ پرستی اسے اپنے حصار میں جکڑ لیتی۔
والدین کا سسرالی گھر کے چھوٹے سے صحن میں قدم رکھتے ہی آرزو کا بھاگ کر لپٹ جانا اور پھر رم جھم برکھا کا باقاعدہ آغاز ہونا غیر معمولی نہ تھا۔ جسکو سبھی نے تسلی تشوی دینے کی بھرپور کوشش کی۔ تھوڑا ہوش آیا تو حدیقہ آپا کو موجود نہ پا کر غمگین ہو گئی۔
بابا آپا کدھر ہیں؟ انہوں نے تو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ یہاں آکر رکیں گی۔
بس یکدم ایک مجبوری آڑے آ گئی اور وہ نہیں آ سکی۔ ایسی بھی کیا مجبوری تھی کہ سگی بہن کے ولیمے میں شراکت بھی نہیں کر سکتیں؟!
آرزو ان کو سانس تو لینے دو ، آرام سے بیٹھیں گے تو پوچھ لینا۔ حازم نے آنکھ سے اشارہ کیا۔
چلیں انکل آپ ادھر تشریف لے آئیں۔ حبیب صاحب اور حازم پورے خلوص کے ساتھ تمام اہلِ خانہ کے ساتھ محبت اور نرمی سے پیش آ رہے تھے۔
حازم کی امی بھی اپنی سمدھن کا ہاتھ تھامے آرزو کے کمرے میں لے آئیں۔
آپ بیٹھیں باجی ادھر آرام کریں ، میں بس ابھی آتی ہوں۔
ارے نہیں بہن آپ کدھر چلیں؟ چائے پانی کا بندوست ہوا ہے بس ابھی برتنوں میں انڈیلنا باقی ہے۔
حازم کی امی کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے ان خاص مہمانوں کی سیوہ کی جائے۔۔ جبکہ آرزو ماں کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔
ریشماں بہن آرزو سے بھی کام لیا کریں نا !
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ تو ہمارے آنگن کی رونق اور خوشبو ہے ، سارا دن پڑھائی میں لگی رہتی ہے ، اس کا وجود کمرے میں ہونا بھی کسی نعمت سے کم نہیں باجی۔ آرزو تو ہماری لاڈلی ہے۔
آپ کے بیٹے کی تو لاڈلی کوئی نہیں ہوں ، ہر وقت مجھے ڈرا کر رکھتا ہے کھڑوس سا نا ہو تو، ایک دفعہ کراچی پہنچنے تو دو مجھے پھر ، حازم صاحب کو مزہ چکھانا ہے۔
آرزو کا شریر دماغ پہلے سے منصوبہ بندی کر چکا تھا۔
ہمسایوں کی بیٹی نے آرزو کے ہاتھ کلائیوں سمیت مہندی سے سجا دیئے۔ ماشاءاللہ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔ شادی والے دن کتنا بولا تھا کہ لگوا لو مگر میری بات نہیں مانی تھی۔
امی اس وقت لگی یا اب لگی ایک ہی بات ہے، آرزو نے لاپروائی سے جواب دے کر پاس کھلی کتاب کی طرف جھانکا۔
آرزو میری بچی کل ولیمہ ہے آرام سے اس کے بعد پڑھ لینا ۔ امی آپ کو نہیں پتا میرا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔
یا اللہ یہ لڑکی تو پاگل ہو جائے گی۔ تم نے یقیناً حازم کو بھی ستایا ہو گا ۔ میں کیوں ستانے لگی بھلا ؟ میرے پاس وقت ہو گا تو میں کسی کو ستاؤں گی نا امی!
کیا مطلب؟
مطلب یہی کہ میں زیادہ وقت پڑھنے میں صرف کرتی ہوں!
اور حازم ؟
وہ اس چارپائی پر براجمان ہو کر مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں!
کیا مزاق ہے یہ آرزو؟
تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ بی ایس سی میں چلی جانا جس کے لیے تمہاری امتحانات کی تیاری مکمل ہے تو پھر یہ فضول قسم کی حرکتیں کیوں کر رہی ہو۔؟
امی آپ پریشان نہ ہوں حازم کو ذرا بھی اعتراض نہیں ہے۔
وہ تو آرام سے اس چارپائی پر سو جاتے ہیں اور میں رات کو کتابیں چاٹتی ہوں۔ آرزو نے کونے میں پڑی چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔
امی کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ آرزو یہ کیا حماقتیں کرتی پھر رہی ہو ؟ تمہیں میں نے اور حدیقہ نے کتنا سمجھا کر رخصت کیا تھا اور تم سب کچھ اسکے برعکس کر رہی ہو۔ وہ شوہر ہے تمہارا یا ملازم ہے ؟
امی آپ ویسے ہی پریشان ہوتی ہیں، حازم کو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ کہتے ہیں جی بھر کر پڑھو۔
آرزو نے ہاتھوں پہ لگی مہندی کو پھونک مار کر سکھانے کی کوشش کی۔ جبکہ امی کا دماغ کھول کر رہ گیا۔
آرزو میں تمہاری اس حرکت سے سخت ناخوش ہوں ، کیا تمہاری ساس کو اس بات کا علم ہے ؟
کس بات کا امی ؟
ان سب کو پتا ہے کہ مجھے پڑھائی کا شوق ہے اور میں زیادہ وقت پڑھائی پر صرف کرتی ہوں۔
یا میرے مولا ! امی کا جی چاہا اپنا سر پیٹ لیں۔
آرزو کل جو ولیمے کے بعد تمہاری روانگی کے ریل ٹکٹ ہیں ،میں نے کینسل کروا دینے ہیں۔
نہیں امی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے!
آرزو رو دینے کو تھی۔
یہ تمہاری جو فضول حرکتیں ہیں نا ہماری ناک کٹوا دیں گی۔
امی نے غم و غصّے سے چور ہو کر بولا۔
امی آپ سے کسی نے شکایت کی ہے۔؟
اے شکر کر لڑکی اتنا شکل و صورت کا شریف النفس ملا ہے ورنہ تیری جو عادتیں ہے نا دوسرے دن تجھے واپس کراچی بھجوا دیتا۔ اے میں پوچھتی ہوں کونسی قیامت برپا ہو گئی ہے جو تو دن رات کتابیں پڑھتی رہتی ہے۔؟
امی کا تو دل بیٹھا جا رہا تھا۔
امی آپ بھی نا خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنا لیتی ہیں۔ آرزو سدھر جا ابھی بھی وقت ہے۔ تجھے اچھی طرح پتا ہےکہ تیرے باپ اور حازم کی بھی استطاعت نہیں ہے میڈیکل میں بھیجنے کی تو پھر تو کیوں ایسی فضول حرکتیں کرتی پھر رہی ہے؟
امی نے سرگوشی والے انداز میں اپنی پریشانی ظاہر کی۔
امی آپا نے مجھے رخصتی کے وقت بولا تھا کہ وہ میرا سارا خرچہ اٹھائیں گی بس ایک مرتبہ رخصت ہو کر جہلم چلی جاؤ۔
اچھا تو رخصتی کے وقت اس نے یہ حماقت کی تھی۔
تمہاری عقل گھاس چرنے گئی ہے؟ لڑکی کیا حازم کی خود دار طبیعت گوارا کرے گی کہ وہ سالی سے پیسے لے کر بیوی کو ڈاکٹر بنائے؟ بیوی بھی وہ جو نکموں کی سردار ہے ۔
امی آپ بھی حد کرتی ہیں۔ بولتے ساتھ ہی آرزو نے سڑ سڑ رونا شروع کر دیا۔
آرزو اللہ کرے تجھے عقل آ جائے۔
ابھی بند کرو رونا دھونا تمہاری ساس کیا سوچے گیں؟
امی نے پریشان ہو کر آرزو کو ساتھ لگا کر آنسو صاف کئے۔
پہلے تم کم خر دماغ تھی جو وہ حدیقہ بھی ساتھ میں شامل ہو گئی تھی۔ اس کی تو میں طبیعت صاف کر لوں گی پہلے تمہارے تو کس بل نکال لوں۔
امی آپ پورے ایک ہفتے بعد اپنی رخصت شدہ ذہین بیٹی کو مل رہیں ہیں مگر پھر بھی دل جلانے والی باتیں کرتی ہیں۔ آرزو نے لاڈ سے ماں کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔
حازم سارا دن کراچی والے مہمانوں کی خاطر مدارت میں مصروف رہا ، پھر چھوٹے سے ولیمے کی بنیادی تیاری میں ہی رات کے بارہ بجا دیئے۔ تنبو کو گھر کے سامنے والے میدان میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر تان دیا تاکہ تمام سسرال ریل کے مقررہ وقت پر واپس جا سکیں اور ولیمے میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو ۔
تمام انتظامات کی فراغت کے بعد امی ابو کے کمرے ہی لیٹ گیا جبکہ آرزو اپنی امی اور دونوں بھائیوں کے ساتھ اپنے کمرے میں محو خواب تھی۔
چھوٹی سی بیٹھک میں ابو اور قمر صاحب کے سلانے کا انتظام کیا گیا۔
******************************************
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ: بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَي إِلَيْهِ الْأَغْنِيَاء ُ وَيُتْرَکُ الْمَسَاکِينُ، فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَي اللهَ وَرَسُولَهُ ،(صحيح مسلم رقم 1432)
صحابی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے تھے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو دعوت کو نہ آیا تو تحقیق اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” ثَلَاثَةٌ کُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: عَوْنُهُ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاکِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُکَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاء َ (سنن النسائي رقم 3120 صحيح) .
صحابی ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن کی مدد کرنا اپنے ذمہ لازم کر رکھا ہے ، مجاہد کی امداد کرنا ، ایسے نکاح کرنے والے شخص کی امداد کرنا جو کہ ہر ایک برائی سے بچنے کے واسطے نکاح کرے اور ، وہ غلام جو کہ حق مکاتبت ادا کرنا چاہتا ہو اس کی امداد کرنا۔
******************************************
گھر کے سامنے والے میدان میں تنبو لگ گیا جبکہ آرزو کی دلی تمنا تھی کہ شاہانہ سٹیج بنایا جائے اور بڑا فانوس بیچو بیچ لٹکے ، وہ سب کی موجودگی میں نفیس لباس میں تازہ پھولوں کی برکھا میں لے جا کر بٹھائی جائے۔مگر حازم کے مالی حالات ایسے ہر گز نہ تھے کہ وہ ان چونچلوں میں پڑتا۔ چالیس سے پچاس نہایت قریبی لوگ ولیمے میں مدعو تھے۔ جن میں اکثریت حازم کی مالی حیثیت سے مطابقت رکھنے والے لوگ اور ہمسائے بھی شامل تھے۔ ولیمے میں مرغی کا سالن ، ساتھ میں روغنی نان اور میٹھے میں زردہ پیش کیا گیا۔
آرزو جو کہ مجبوراً حازم کے خریدے گئے ہلکے جامنی رنگ کی پشواز چوڑی دار پاجامہ اور ساتھ میں کھسہ زیبِ تن کیے ہوئے بہت پیاری لگ رہی ہے۔ ہمسائی لڑکی نے ہی میک اپ سے آرزو کو مزید نکھار دیا۔
شادی کے بعد آج پہلی مرتبہ آرزو نے زیب و زینت کی زحمت گوارہ کی۔۔
حازم بیچارا تو باہر دوستوں کے ساتھ انتظامات میں الجھا ہوا تھا ،جبکہ قریبی نیک رشتہ دار اسی ٹوہ میں تھے کہ کسی طرح انکی نئے رشتہ داروں کے سامنے جگ ہنسائی ہو۔
تمام قریبی عورتوں کو گھر کے اندر ہی کھانا بھجوا دیا گیا۔ باہر تنبو میں اپریل کے مہینے میں موسم کافی خوش گوار تھا سبھی مہمان آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
حازم کا دل مچلا ایک مرتبہ دیدار آرزو کر لے مگر کوئی مناسب موقع نہیں مل پا رہا تھا۔
فون پر پیغام بھیجا ، مجھے ویڈیو کال کرو!
دماغ درست ہے یہاں پر تمام عورتیں موجود ہیں اور میں فون پر چپکی اچھی لگوں گی۔؟
تو پھر بیٹھک میں آؤ ! مجھے آپکو دیکھنا ہے!
اگر نہ آئی تو ؟!
تو پھر اپنا حشر یاد رکھنا!
ابھی میرا بال بھی باکا نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ میرے گھر والے موجود ہیں!
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
آرزو کس کے ساتھ ٹک ٹک کر رہی ہو؟
امی حازم ہیں!
بس کھانے کا پوچھ رہے ہیں !
تو اسے اندر بولاوء میں نے بھی صبح سے نہیں دیکھا اسے۔
امی بول رہے ہیں ابھی مصروف ہوں ! آرزو نے لاپروائی سے ماں کو ٹالا۔
آرزو جان بوجھ کر حازم کو ستا رہی تھی۔
آخری بار بول رہا ہوں مجھے ملنے بیٹھک میں آؤ!
اور جو صحن میں دس عورتیں موجود ہیں انکا کیا کروں؟
انکو بھی ساتھ لے آؤ !
حازم نے زچ ہو کر بولا۔
چلیں پھر میں سب کو بولتی ہوں کہ دلہا حازم کو مبارکباد پیش کر لیں۔
آرزو میں اس وقت لوگوں کے درمیان ہوں ورنہ میں آپکی گیچی مروڑ دیتا!
ہائے کاش ! پر چلیں کوئی بات نہیں پھر سہی!
آرزو باز آ جاؤ ورنہ !
ورنہ کیا ؟
کراچی نہیں جاؤ گی ! یہ میرا فیصلہ ہے !
میری اجازت کے بغیر ایک قدم بھی باہر نکال کر دکھاؤ تو دیکھنا!
اپنی دھمکیاں اپنے پاس رکھیں! میرا چار دن بعد پہلا پرچہ ہے ۔
تو ؟
تو محترم دلہا حازم جی میرا ریل کا ٹکٹ خریدا جا چکا ہے اگر نہ گئی تو پیسے ضائع ہونگے۔
پیسوں کی فکر نہ کرو !
کیوں آپ راتوں رات وزیراعلی منتخب ہو گئے ہیں؟
آرزو میرے صبر کا امتحان مت لو کہ آپکو پچھتانا پڑ جائے!
میرا صرف ایک اشارہ کافی ہے اور آپکے بابا میری بات کو رد نہیں کریں گے!
وہ میرے بابا ہیں !
اور میرے سگے سسر ہیں!
آرزو یہ کس کے ساتھ اتنی لمبی گفتگو کر رہی ہو ؟ حازم کی رشتہ دار عورتیں گھورے جا رہی ہیں!
کچھ نہیں امی بس ایسے ہی۔
آرزو نے حازم کی دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے فون پرس میں واپس ڈال دیا۔
چند لمحوں بعد امی کے پرس میں پڑا فون بجا ۔
جی حازم بیٹا سب کچھ خیر و عافیت سے ہو گیا ہے میرا بیٹا؟
حازم کا نام سنتے ہی آرزو کی ہمت جواب دے گئی۔
ہائے اللہ حازم نے ابھی منع کر دیا تو میں کبھی بھی کراچی واپس نہیں جا پاؤں گی۔
امی غور سے حازم کو سن کر اس کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں۔
کوئی مسئلہ ہی نہیں میرا بیٹا ، جیسے آپ چاہو گے ویسا ہی ہوگا ۔
بیٹے آپکی خواہش سے زیادہ ہمیں اور کوئی چیز عزیز نہیں ہے ۔ آپ بس بے فکر ہو جاؤ۔
فون بند کرتے ہی آرزو نے امی سے بیتابی سے پوچھا۔ امی حازم نے آپکو کیوں فون کیا ہے؟
کیوں تمہیں کیا پریشانی ہو رہی ہے ؟ میں اس کی ماں ، اس کی ساس ہوں، جب چاہے مجھے فون کرے بلکہ ہمیں تو ویسے بھی ہر دو روز بعد فون کرتا رہا ہے۔
امی ابھی کیوں فون کیا ہے حازم نے ؟
کیا تمہیں نہیں پتا ؟
کیا مطلب امی ؟
مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے ۔ مجھے واضح طور پر بتائیں نا !
آرزو نے منت طلب نظروں سے ماں کو دیکھا۔
حازم نے مجھے ……………
