Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05
صندوق سے کپڑے نکال کر سیدھی ہوئی تو یکدم آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ فورا لپک کر دیوار کا سہارا لے کر نیچے فرش پر ہی بیٹھ گئی۔ حازم جو امی کی پکار پر کمرے سے کچھ دیر کے لئے باہر نکلا تھا، واپس لوٹا تو آرزو کو نڈھال بیٹھے دیکھ کر غیر ارادی طور پر چھلانگ لگا کر آرزو کے سر پر آن پہنچا۔
ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر دیکھا تو پسینے کی ہلکی ہلکی بوندیں اور تپش سی محسوس ہوئی۔
آرزو اٹھو ادھر سے اور بستر پر بیٹھو!
بولا بھی ہے جا کر غسل کر لو اور کھانا کھاؤ مگر آپ کے کان کے پاس جوں بھی نہیں رینگتی وہ بھی شاید امتحانات کی تیاری میں مشغول ہے۔
حازم نے آرزو کو کندھوں سے پکڑ کر پلنگ پر بٹھایا جبکہ آرزو ہنوز خاموش پھٹی پھٹی نظروں سے حازم کو دیکھ رہی تھی۔
کیوں کیا ہوا ہے؟
جوں کی غیبت کر دی ہے کیا؟حازم نے مسکراتے ہوئے بھنویں اچکائیں۔
واقعی خشک میوہ جات کھا کھا کر آپکا دماغ کافی تر ہے ۔آرزو نے منہ بسورا۔
حسن ظن ہے طبیبہ آرزو صاحبہ کا ورنہ ناچیز تو سائیکل سوار استادی میں آتا ہے۔
دروازے پر دستک نے دونوں کو خاموش کروا دیا۔
ارے امی اندر آ جائیں باہر کیوں کھڑی ہیں؟
امی کا پر مسرت چہرہ دیکھ کر حازم نے سکھ کا سانس لیا۔
بہو شربت پیو بیٹی !
آرزو نے خاموشی سے گلاس تھام لیا ۔ ارے بیٹی پیو ، دیکھو نا تھک کر نڈھال ہو چکی ہو۔ جلدی سے غسل لو اور کپڑے بدل لو!
آرزو نے فوراً حازم کی طرف دیکھا۔
جی امی آرزو ابھی جا رہی ہے۔
امی ابو کدھر ہیں؟
ارے اپنی بہو کے لئے شنواری چلے گئے ہیں، بول رہے ہیں تازہ تکے کباب لے آؤں۔
مجھے بتا دیتے ، ابھی ساڑھے دس بج رہے ہیں، کیا ضرورت تھی اس وقت جانے کی؟
ارے نہیں بیٹا آپ دلہن کے پاس بیٹھو !
امی نے کرسی سے اٹھتے ہوئے آرزو کو شربت الائچی اور صندل پینے کی خاص تنبیہ کی۔
آرزو نے دھیرے سے اثبات میں گردن ہلائی۔
ارے شرما رہی ہے ! آہستہ آہستہ سب کے ساتھ گھل مل جائے گی ان شاءاللہ۔ امی نے نکلنے سے پہلے مسکراتے ہوئے حازم کا ماتھا چوم ڈالا۔۔۔
امی آپ اس شرمیلی بچی کی زبان درازیاں سنیں تو طبیعت بوجھل ہو جائے۔ حازم صرف سوچ کر رہ گیا۔
امی کے نکلتے ہی لپک کر دروازہ بند کیا۔
آپ کی میرے ساتھ تو عداوت سمجھ آتی ہے مگر الائچی اور صندل کو تو خوار نہ کریں۔
طبیعت میں بوجھل پن دور ہو جائے گا فورا سے پہلے اسے پی لیں۔
آرزو نے تگڑی گھوری ڈال کر دو سانسوں میں غٹا غٹ گلاس ختم کر دیا۔
ابھی خوش ہیں؟
جی بہت خوش ہوں!
ابھی کوئی اور حکم؟
ابھی میری پیروی میں بیت الخلاء چلیں!
کیا مطلب؟
مطلب یہ ہے کہ آپ کو غسل خانہ دکھا دوں!
تشریف لے آئیں یا پھر موٹر کا پائپ ادھر ہی لے آؤں؟
اتنا تردد نہ کریں! میں آرہی ہوں!
شربت کے بعد آرزو کے گلے کی رگیں تر ہو گئیں اور خود کو ہشاش بشاش محسوس کرنے لگی۔
آرزو کے بعد باقی اہل خانہ بھی تازہ دم ہو کر کھانے کے لیے جمع ہو گئے۔ امی نے ضد کر کے حازم آرزو کا کھانا کمرے میں پہنچا دیا۔
بال سنوارتی آرزو کے ہاتھ اس وقت تھم گئے جب حازم کو ٹرے میں کھانا کمرے میں لاتے دیکھا۔ جبکہ حازم نے معنی خیز مسکراہٹ سے کھانے کی دعوت دے ڈالی۔
کمرے میں پڑے چھوٹے سے میز کو گھسیٹ کر ٹرے سجا دی اور آرزو کا انتظار کرنے لگا۔
طبیبہ صاحبہ جلدی سے آ جائیں کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔!
آرزو جو کتنے گھنٹوں کی بھوکی تھی بنا چوں چرا کئے تازہ تندوری نان ، مرغ کڑاہی کے ساتھ ساتھ تکے اور کبابوں کے ساتھ عدل و انصاف کرنے لگی۔
حازم نے بھی خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ کھانے سے فراغت کے بعد خاموشی سے ٹرے اٹھائی اور باہر باورچی خانے کی طرف ہو لیا۔ جبکہ آرزو اپنی گیلی زلفوں کو کیچر میں قید کرنے لگی۔
حازم کے ابو دستک ہو رہی ہے اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔
ہاں بھائی بھابھی آئے ہوں گے شنواری جاتے ہوئے راستے میں ملاقات ہوئی ہے۔
حازم بچے آپ جاؤ اور مٹھائی بھی لے آؤ۔! سب کا منہ میٹھا کروائیں گے۔
خوشی کا موقع ہے۔
جی ٹھیک ہے ابو اگر نایاب والے کھلے ہیں تو لے آتا ہوں۔
بڑے تایا تائی کے ساتھ چھوٹے چچا چاچی بھی کتنے مہینوں بعد مفلس بھائی کی دہلیز پار کر رہے تھے۔
حازم نے سلام کے بعد کونے میں کھڑی سائیکل نکالی اور مٹھائی کے لیے گھر سے نکل گیا۔
آرزو جو کھڑی چھوٹے سے کمرے میں چل کر ٹانگیں سیدھی کر رہی تھی ، دستک پر پلٹی۔
آرزو بیٹی حازم کی تائی چاچی آئی ہیں تم سے ملنے۔
آرزو نے دھیرے سے سلام بولا اور پلنگ کے ایک کونے میں ٹک گئی۔
اچھا بھئی ریشماں بہت بہت مبارک ہو آخر حازم کو بھی کسی نے لڑکی دے ہی دی ہے۔
تائی کے کاٹ دار جملے پر امی کا چہرہ اتر گیا اور رسانیت سے بولیں۔ بس باجی اللہ کے فضل و کرم سے سب خیریت سے ہو گیا ہے۔
بھئ لڑکی والوں نے گھر بار دیکھا ہوتا تو شاید انکار ہی کر دیتے ، پر چلو جو ہوا ٹھیک ہی ہوا ہے۔
آرزو نے فوراً ساس کی طرف دیکھا جو مظلومیت کی تصویر بنی بیٹھی تھیں۔
*****************************************
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بے حیا اور بدزبان نہیں ہوتا”۔
(سنن الترمذی:1977, الالبانی صحیح الصحیحہ:320)
******************************************
باجی مجھے لگتا ہے حازم مٹھائی لے آیا ہے ، آپ لوگ بیٹھو میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔
ارے رہنے دو مٹھائی کو خالص کھوئے والی برکت حلوائی کی برفی ہو تو ہی مزا ہے کھانے کا ورنہ تو بس میں نے شوگر نہیں بڑھانی ہے۔ تائی نے ناک بھوں چڑھائی۔
باجی پتا نہیں حازم کو اس وقت کونسی دکان کھلی ملی ہے ۔ چائے تو بنانے دیں!۔
******************************************
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے (صحیح بخآری:6018)
******************************************
اچھا چلو ضد کرتی ہو تو بنا لو ورنہ ہم تو کھا پی کر ہی آئے ہیں۔
امی کے کمرے سے
نکلتے ہی تائی نے آرزو کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ اے لڑکی شکل و صورت کی اتنی اچھی ہو کیا ضرورت تھی اس کنگال گھرانے میں آنے کی ۔
ساری زندگی مفلسی کی نظر کر دو گی۔ ساتھ بیٹھی چاچی سے بھی رہا نہ گیا تو جلتی پر تیل ڈالنا شروع کر دیا۔
اتنے بڑے کراچی میں تمہیں کوئی رشتہ نہ ملا جو اتنی دور آ گئی ہو ، ہائے۔!! سو موت فوت لگی آئی ہے ، کیسے پہنچوں گی اپنے والدین کے گھر ؟ اگر کوئی حرج مرج ہو جائے تو ادھر ریل میں ہی ایڑیاں رگڑتی رہو گی اور جانے والے چلے جائیں گے۔
کمرے کے باہر سے گزرتے حازم کا خون کھول کر رہ گیا ، جی چاہا کمرے میں آکر تائی چاچی کو خوب کھری کھری سنائے مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ آرزو کے سامنے کسی قسم کی کوئی بدمزگی ہو ۔
ظالم اور حاسد رشتہ داروں کی بے حسی پر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
******************************************
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے اور یہ آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہے“۔
(سنن الترمذی:2354)
******************************************
حازم نے خاموشی سے جاکر تایا چچا کے پاس چائے اور مٹھائی سجا دی۔
آدھے گھنٹے کی سیاست کے بعد مہمان تو رخصت ہوگئے مگر آرزو جو کانوں کی کچی پہلے سے ہی تھی اور اس شادی کے حق میں قطعاً نہ تھی حازم کی کمرے میں واپسی پر زارو قطار رو رہی تھی۔
حازم نے کچھ دیر صبر کیا مگر پھر رہا نہ گیا۔
آرزو میں نے تائی چاچی کی ساری گفتگو سن لی ہے ، آپ ان مال کے حریصوں کی باتوں پر نہ جاؤ.!
آپ کی ہر ضرورت کو پورا کرنا میری ذمہ داری ہے۔ مگر شرط ہر جائز ضرورت کی ہے۔
مانا کہ میرے پاس زیادہ مال نہیں ہے مگر میرے پاس چھت تو اپنی ہے ۔
اگر ابھی میں مہینے کا تیس ہزار کما رہا ہوں تو آگے مزید کما سکتا ہوں ، اللہ نے مجھے صحت و تندرستی جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔
کتنا کما لو گے ؟ پچاس ہزار مہینے کا ؟
آج کل مہنگائی کے دور میں پچاس ہزار سے کیا بنتا ہے۔ آرزو آپ نے کبھی گھر کو چلایا ہے جو آپکو پتا ہے ؟
حازم آرزو کی بحث پر حیران ہو رہا تھا۔
آپ صرف اٹھارہ سال کی ہو اور ایک دن کی دلہن ہو ! ایسے بڑی بڑی باتیں آپکو زیب نہیں دیتی ہیں۔!
پتا ہے پورے سات سال بڑا ہوں میں آپ سے !
کچھ میری اور اپنی عمر کا تو لحاظ کر لو۔!
حازم کی روشن آنکھیں شدت غم سے لال انگارہ ہو رہی تھیں، چند لمحے روتی آرزو کو افسوس سے دیکھا اور گردن جھٹک کر گویا ہوا۔
بہرحال میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ، آپکے لیے تحفہ خریدا تھا ، مگر ابھی سوچ رہا ہوں شاید کہ وہ آپکے شایان شان نہ ہو لہذا تحفہ اس سنگھار میز کے دراز میں پڑا ہے اگر طبیعت مانی تو استعمال کر لینا۔
مجھے شدید تھکاوٹ ہے میں ابھی سونے کو ترجیح دوں گا۔ آپ کے رونے کا شغل پورا ہو جائے تو کمرے میں جلتی بتی بجھا دینا۔
حازم نے تھکے ماندے لہجے میں بولا اور کونے میں پڑی لوہے کی چارپائی پر لیٹ گیا۔ جبکہ آرزو پلنگ پر بیٹھی اپنے لکھے پر شکوہ کناں تھی۔
کتنے ارمان اور چاؤ سے ہم اسے لے کر آئے ہیں مگر وہی مفلسی کا طعنہ جو کہ ہر ایرے غیرے کا زبان حال بنا ہوا ہے۔ دیوار کی طرف چہرہ موڑے حازم کے آنسو تکیے کو تر کر ریے تھے۔ رات نجانے کب آنکھ لگ گئی صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔ آٹھ کر کمرے میں دیکھا تو بتی ہنوز جل رہی تھی جبکہ آرزو پلنگ پر زلفیں بکھیرے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔
جی چاہا اسے چھوئے مگر ارادہ ملتوی کرتے ہوئے غسل خانے کی راہ لی۔ فجر کی ادائیگی کے بعد گھر واپسی پر نماز کے لیے آرزو کو اٹھانا چاہا ، بار بار آواز دی مگر وہ ایک طرف سے دوسری طرف کسمسا رہی تھی۔
یک دم آپے سے باہر ہو کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ کیا تکلیف ہے ؟
نماز پڑھ لو !
مجھے صرف اتنی سے تکلیف ہے۔
مال تو نہیں مگر ایمان ابھی باقی ہے الحمدللہ۔!
******************************************
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کثرت سے سجدہ کیا کرو، کیونکہ جب تم صرف اور صرف اللہ کےلئے سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسکے بدلے ایک درجہ بلند کرے گا اور تمہارا ایک گناہ معاف کرے گا”
(صحیح مسلم:1093)
******************************************
میں بعد میں پڑھ لوں گی! مجھے سونے دو!
اور اگر سوتے میں روح پرواز کر گئی تو ؟
کیا مشکل ہے یار ؟
اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتی ہوں۔!
نماز پڑھ کر سو جاؤ کوئی بھی نہیں اٹھائے گا۔!
حازم اپنی سی کوشش کر کے نڈھال ہو کر واپس چارپائی پر لیٹ گیا مگر ڈھیٹ آرزو چارد کھینچ کر دوبارہ سو گئی۔
حازم کا جی چاہا اس آرزو کا دماغ ٹھکانے لگا دے مگر ابھی تھوڑا اور وقت دیتا ہوں شاید سدر جائے۔
******************************************
ارے حازم بیٹا اتنی صبح بغیر ناشتہ کیے کدھر جا رہے ہو؟
امی دکان پر جا رہا ہوں!
ارے باؤلا ہو گیا ہے دلہن کیا سوچے گی؟ ۔
کچھ نہیں سوچے گی امی جان! آدھا دن تو اس نے سو کر گزارنا ہے تو میں کس لیے دن ضائع کروں؟ رنگریز دو دن سے اکیلا ہے دکان پر اور ابو کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، انہیں بولیں گھر پر آرام کریں۔
پر پھر بھی بیٹا میں تو کہتی تھی صرف آج کا دن چھٹی کر لیتے۔!
امی اگلے ہفتے ولیمہ بھی ہے تو اس دن بھی چھٹی کرنی پڑے گی۔
پگلا نہ ہو تو ! اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے۔ ولیمہ کے لیے تو خوشی منانی چاہیے۔
جی امی ! خوشی منانے کا حق صرف مالداروں کے پاس ہی ہے ، ہم غریبوں کی خوشیاں تو مفلسی میں سسکتی سسکتی دم توڑ جاتی ہیں۔ حازم نے غم سے سوچا مگر ماں کے سامنے مسکرا کر بولا۔ امی میں شام کو جلدی واپس لوٹ آؤں گا ان شاءاللہ۔
ارے بتاتے جاؤ دلہن کیا کھائے گی ؟
امی آپکی بہو ہے اور گھر پر چھوڑے جا رہا ہوں جو اس نے بولا وہی بنا دینا۔
اب اجازت ہے جاؤں؟
جا میرے چاند! ابھی بھی تھکان تیرے چہرے سے جھلک رہی ہے۔
امی آپ ویسے ہی چھوٹی چھوٹی بات پر پریشان ہوتی رہتی ہیں۔
حازم دکھی دل کے ساتھ بنا ناشتہ کیے نکل آیا، رنگریز کے پہنچنے سے پہلے ہی دکان کھول چکا تھا اور ساتھ میں تمام سودا سلف کو ترتیب دیئے جا رہا تھا۔
ایک گھنٹے بعد رنگریز کی آمد ہوئی جو کہ حازم کو حیرت سے دیکھے جا رہا تھا، اوئے یار حازم تو ادھر کیا کر رہا ہے؟
کام کر ہوں لالہ !
پر یارا تیری تو کل شادی ہوئی ہے اور آج تو کام پر آ گیا ہے!
لالہ غریبوں کی شادیاں ایسے ہی ہوا کرتی ہیں!
حازم نے مونگ پھلی کو چھانٹتے ہوئے بولا۔
حازم تو خوش تو ہے نا ؟
رنگریز نے ہمدردی سے پوچھا۔
کیوں نہیں لالہ بہت خوش ہوں!
خوشی تو دل کی ہوتی ہے یہ مادی چیزیں تو بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔
ہاں یہ بات تو تیری بالکل ٹھیک ہے!
کوئی گاہک آیا ہے صبح سے؟ ہاں لالہ آپ تو جانتے ہو شادیوں کا دور چل رہا ہے تو چھوارے بتاشے اور مونگ پھلی بیچ چکا ہوں۔
ویسے لالہ اس دفعہ مال تو صاف ستھرا ملا ہے ہمیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔
بنوں کا بادشاہ خان اپنا یار ہے ، کیسے اچھا مال نہ دیتا۔
یہ بات تو ہے یار لالے ۔
حازم نے چھواروں کو بوری سے نکال کر ٹوکریوں میں بھرنا شروع کر دیا۔
چند منٹوں بعد جیب میں پڑا فون چنگاڑا۔
نکال کر دیکھا تو تیکھی مرچی آرزو صاحبہ ۔
السلام علیکم!
جی طبیبہ جی فرمائیں!
ناچیز کی یاد تو نہیں ستا رہی تھی۔
حازم دکان سے نکل کر ویران گلی کے نکڑ میں چلا گیا۔
جبکہ رنگریز معنی خیز مسکراہٹ سجائے ہاتھ ہلا رہا تھا۔
آپ جناب کہاں پر تشریف فرما ہیں؟
اور یہ کونسا طریقہ ہے ؟
نئی نویلی دلہن کو ایسے نظر انداز کیا جاتا ہے؟
آرزو ایک ہی سانس میں سارا غبار نکالنے پہ تلی ہوئی تھی۔
دلہن صاحبہ بولنے کا موقع دیں گی تو خاکسار کچھ عرض کرے گا۔
فرمائیں!
دلہن صاحبہ صبح کتنی مرتبہ اٹھایا تھا فجر کے لیے؟ مگر کیسے مجھے دھتکار رہیں تھیں۔
کچھ یاد آیا ہے یا واپسی پر بادام ، اخروٹ لیتا آؤں؟
کس لیئے؟
تاکہ آپکی یادداشت بحال ہو سکے۔!
آپ نے کبھی سیدھی بات کی ہے؟
اور آپ نے کبھی میٹھی بات کی ہے ؟
ہر وقت کریلے اور چونگیں چبائی پھرتی ہیں!
طنز کر رہے ہیں؟
حقیقت بیان کر رہا ہوں!
نئی دلہن کے ساتھ کون ایسی باتیں کرتا ہے ؟
نئے دلہے کو کون ایسے کھجل خوار کرتا ہے ؟
آرزو کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گئی۔
چلیں کوئی بات نہیں ہے سچ کڑوا ہوتا ہے بہت کم لوگ ہضم کر سکتے ہیں! حازم کرب سے بولا۔
مجھے کس لئے فون کیا تھا؟
ویسے ہی غلطی کر لی تھی!
چلیں اب غلطی کر ہی لی ہے تو سیدھے منہ بات بھی کر لیں۔
میرا منہ سیدھا ہے ، صرف آپ کی آنکھوں کا دھوکا ہے.!
بندر کے ہاتھ میں ماچس! حازم نے بولتے ساتھ زبان دانتوں تلے دبائی۔
یہ بندر کس کو بولا ہے؟ اور کونسی ماچس؟
آپ راتو رات مذکر کیسے بن گئی ہیں؟
تو مثال کیوں دی ہے ؟
ویسے ہی شوقیہ دے ڈالی ہے بھئی۔
آپ بندر تھوڑی ہیں آپ تو بندریا ہیں!
حازم میرے سامنے تو آؤ ایک مرتبہ طبیعت نہ صاف کر دی تو دیکھنا!
میری طبیعت تو آپ گزشتہ ایک ہفتے سے صاف کرتی ہوئی آ رہی ہیں ابھی مزید کی سکت نہیں رہی ہے۔!
حازم نے ہارے ہوئے لہجے میں بولا۔
واپس لیں اپنے الفاظ پھر!
“چلیں بھئی بندر کیا جانے ادرک کا سواد “۔ میرے خیال میں یہ مناسب رہے گا آرزو!
آپ کتنے ڈھیٹ ہیں !
آپ سے کم ہوں طبیبہ آرزو!
مجھے رونا آ رہا ہے!
رو لیں پھر ! میں نے منع تو نہیں کیا آپکو!
کون اپنی ایک دن کی دلہن کو رونے کا بولتا ہے ؟
اور کون اپنے ایک دن کے دلہے سے جھگڑتا ہے ؟
میں کب جھگڑی ہوں ؟
نہیں آپ کے منہ سے تو ہر وقت پھول جھڑتے ہیں کہ جن کی کثرت نے مجھے باغ باغ کر دیا ہے۔
طنز کے تیر اچھے چلا لیتے ہیں!
بہت شکریہ!
ہونہہ!
فون ابھی نہ بند کرنا آرزو!
چلیں میں جیسے بھی ہوں مگر ایک بات کان کھول کر سن لیں اگر میرے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ ایسی زبان استعمال کی تو پھر میری برداشت جواب دے جائے گی۔
زبان درازی میرے ساتھ تو وقتی طور پر چلے گی مگر میں ایک لمحے کے لیے بھی اجازت نہیں دوں گا کہ آپ میرے والدین کے ساتھ منہ ماری کریں۔
آپ کا درس ختم ہو گیا ہے؟
نہیں ہوا !
تو پھر مزید فرمائیں!
شام جلدی آ جاؤں گا تیار رہنا ، آئس کریم کھانے چلیں گے۔
سائیکل پہ جائیں گے؟ آرزو کی زبان پھسلی۔
آپ کے لئے ہوائی جہاز منگوا لوں ؟
رات کو کیسے آئی تھی؟
پھٹ پھٹ چخ چخ رکشے میں!
تو پھر دوبارہ بھی اسی پھٹ پھٹ چخ چخ میں جاؤ گی۔!
مجھے نہیں جانا کہیں بھی!
آرزو کا لہجہ تلخ ہو گیا۔
ٹھیک ہے نہ جانا!
حازم نے رنجیدہ دل کے ساتھ فون بند کر دیا اور بناوٹی مسکراہٹ سجا کر رنگریز کی پھلجڑیاں سننے لگا۔
ادھر آرزو رو دھو کر کتابیں کھول کر بیٹھ گئی۔
جی چاہا ہر چیز پھاڑ دے اور یہاں سے بھاگ جائے۔
عصر کی نماز کے بعد حازم نے گھر کے اندر قدم رکھا تو………
