Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01

“اوہ یار رنگریز خان ایک دفعہ اپنا آڈر لکھوا دیا ہے ، اب آپ یقیناً دوبارہ بھول گئے ہو نگے اور بولیں گے کہ افراتفری میں لکھ نہیں پایا۔ ہزار مرتبہ بولا ہے کہ کاپی پینسل پاس رکھا کریں اور ایک ایک لفظ اپنے کھاتے میں لکھا کریں مگر مجال ہے جو آپ محترم کے کان کے پاس ننھی سی جوں بھی رینگ جائے۔ اب اگر مال وقت پر موصول نہ ہوا تو ابا جی نے میری چھترول کر دینی ہے”۔
حازم نے فون کی سکرین کو بنا دیکھے عجلت میں بنا رکے ایک ہی سانس میں سارا مدعا بیان کر دیا ۔
یار خان ابھی بول کیوں نہیں رہا ہے۔؟؟
چند ثانیے بعد فون کان سے ہٹا کر دیکھا تو انجان نمبر نے کچھ دیر سوچنے پر مجبور کر دیا۔
“رنگریز انسان بن اور میرے ساتھ آنکھ مچولی نہ کھیلا کر ۔”!
آخری بار بول رہا ہوں، زبان ہلا ورنہ کال کر کر کے ہلکان ہو جائے گا اور میں نے نہیں اٹھانی اور اگر مال وقت پر نہ پہنچا تو میں نے مطلوبہ قیمت میں کٹوتی کرنی ہے ۔
“وہ میں بات کر رہی ہوں”۔ آرزو ہچکچاتے ہوئے گویا ہوئی۔
“رنگریز ابھی تو مجھے زنانہ آواز سے بیوقوف بنائے گا؟ کبھی تو نمبر بدلتا ہے اور کبھی اوچھی حرکتوں پہ اتر آتا ہے!”۔
حازم نے زچ ہو کر مخاطب کو لتاڑا۔
“دیکھیں میں کراچی سے بات کر رہی ہوں۔”
” اچھا تو اب تو بنوں سے کراچی پہنچ گیا ہے کمینہ”۔
آپ مجھے بولنے کا موقع دیں گے یا نہیں۔؟ مخاطب کی برداشت جواب دے گئی۔
حازم کو جھٹکا لگا ۔ یہ تو واقعی لڑکی بات کر رہی ہے۔
“جی فرمائیں”.
“میں کراچی سے آرزو بات کر رہی ہوں”۔!
کون آرزو۔؟ “میں نہیں جانتا کسی آرزو کو” ۔
“خشک میوہ جات کا کاروبار کرتے ہیں اور یادداشت اتنی کمزور ہے آپکی محترم حازم حبیب صاحب”۔!
تڑخ کر کرارا جواب آیا۔
“دیکھیں محترمہ میں اس وقت شدید قسم کا مصروف ہوں میرے ذہن میں کسی قسم کی کوئی آرزو موجود نہیں ہے ماسوائے دکان کا مال منگوانے کے” ۔
آرزو کا خون کھول کر رہ گیا اور دانت پیس کر بولی۔ “رشتے سے انکار کر دیں!”۔
حازم ایک جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔” آپکو میرا نمبر کہاں سے ملا ہے”۔؟
بابا کے فون سے چرایا ہے ۔!
“بہت نیکی کا کام کیا ہے۔”حازم نے تپ کر آرزو کو لتاڑا۔
آپ سے مطلب۔؟
“محترمہ فون آپ نے کیا ہے میں نے نہیں کیا اور رہ گئی بات رشتے سے انکار کی تو میں نہیں کروں گا، مسئلہ آپکے ساتھ ہے تو خود ہی اپنے والدین کو بتا دیں، مجھے کس لیے استعمال کر رہی ہیں”۔ ؟
“آپ سمجھتے کیا ہیں اپنے آپکو”۔؟
“میں کچھ خاص نہیں بس خشک میوہ جات کا سرجن ہوں ، ایک نظر میں بتا سکتا ہوں کہ بادام اخروٹ کاغذی ہیں۔”
آرزو کا خون کھول کر رہ گیا۔ “میرے ساتھ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے جو بولا ہے وہ کریں” ۔
“محترمہ آپکو ایک مرتبہ واضح کر دیا ہے کہ میں انکار نہیں کروں گا، آپ خود کر دیں اگر اتنا ہی مسئلہ ہے تو” ۔
“آپ ڈھیٹ پیدائشی ہیں یا ابھی ہوئے ہیں”۔؟
“ڈھیٹ تو نہیں ہوں البتہ دل والا ہوں۔”
“دیکھا ہے نا آپکو سستا ہونے میں ایک سیکنڈ لگا ہے۔”
“محترمہ تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کریں۔! آرزو ہی رہیں ، میری ضد نہ بنیں تو آپکے لیے ہی بہتر ہو گا، فون آپ نے کیا ہے میں نے نہیں کیا۔ سمجھیں ہیں آپ ۔؟ اور کیا میری ناک بہتی رہتی ہے جو آپ میرے ساتھ رشتے سے انکار کروا رہی ہیں”۔؟
آرزو کا خون کھول کر رہ گیا ، کیا سوچا تھا اور کیا ہو رہا ہے ؟۔تپ کر بولی۔
” کیا جہلم میں ساری لڑکیاں فوت ہو گئیں ہیں جو آپ کراچی میری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے پہنچ آئے تھے”؟۔
“جہلم میں قطعا لڑکیوں کی کمی نہیں ہے اور اللہ کی رحمت سے سب لڑکیاں بھی حیات ہیں، مگر میرا مقدر آپ کے ساتھ لکھا جا چکا ہے اس لیے تقدیر مجھے وہاں پر کھینچ لائی تھی”۔
“میں آپکو آخری دفعہ بول رہی ہوں آپ انکار کر دیں۔”
“بھئی میں کیوں کروں انکار؟ بڑے بزرگوں نے فیصلہ کیا ہے اور مجھے من و عن قبول ہے”۔
“آپ بتائیں آپ کیوں جہلم میں یعنی میرے ساتھ شادی کرنے سے انکاری ہیں اور اتنی دیدہ دلیری سے مجھ اجنبی سے محو گفتگو ہیں۔”؟
آرزو نے غصے سے گردن جھٹکی اور پاس بیٹھی سہیلی کو رو دینے والی نظروں سے دیکھا ۔
ابھی آواز نہیں آ رہی ہے آپکی۔؟
جواب دینا پسند فرمائیں گی یا میں فون بند کر دوں۔؟
“جہلم غیر ترقی یافتہ چھوٹا سا شہر ہے۔”آرزو نے شکستہ لہجے میں بولا۔
آپکو چھوٹے شہر سے کیا فرق پڑتا ہے۔؟ کیا آپ نے جہلم میں کوئی قلعہ تعمیر کروانا ہے۔؟ یا پھر کراچی والے خاص قسم کا خلائی کھانا نوش فرماتے ہیں جو جہلم والوں کی دسترس سے دور ہے۔؟
“بات قلعے یا کھانے کی نہیں ہے، لہذا آپ میری بات کو مزاح کا رنگ نہ دیں۔!”
“محترمہ آپ نے شہر کا گشت کرنا ہے یا گھر کی چار دیواری میں رہنا ہے “۔؟
آپ بات کو کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں۔؟
“میں آپکو آخری مرتبہ بول رہا ہوں آپ نے انکار کرنا ہے تو کریں اور اپنے والدین کے ذریعے انکار کہلوا کر بھیج دیں، مجھے اپنے عزائم کے لیے قربانی کا بکرا نہ بنائیں۔”
حازم نے سنجیدہ لہجے میں دو ٹوک بات کی۔ “آپکی بات مکمل ہو چکی ہے”؟
“نہیں”۔!
“پھر جلدی کریں مجھے دکان بند کر کے ٹیوشن کے لیے جانا ہے”۔
دیکھیں میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، میں نے ایف ایس سی میں داخلہ لینے کے لیے ایک سال کا ضیاع کیا تھا تاکہ مطلوبہ نمبر مل سکیں مگر اب جب میڈیکل کالج جانے کا وقت قریب آیا ہے تو آپ موصوف ٹپک پڑے ہیں۔ میرے ایف ایس سی کے امتحانات ہونے والے ہیں۔ لہذا میرا خواب چکنا چور نہ کریں اور اس رشتے سے انکار کر دیں۔
“تو آپ دل لگا کر پڑھائی پر توجہ دیں
،,آرزو صاحبہ میں اس رشتے سے انکار نہیں کروں گا۔ آپ نے جہاں ایک سال ایف ایس سی پہنچنے کے لیے ضائع کیا ہے وہاں ایک اور میڈیکل میں جانے کے لیے کر دیں”.
“آپ کتنے ڈھیٹ ہیں۔”
“آپ سے کم ہوں”۔!
“محترمہ اصل بات کی طرف آئیں۔”
“آپ کنگلے سے شادی کر کے مجھے کیا ملنا ہے؟۔ ساری زندگی رکشے ، ریل میں ہی جوتیاں چٹخاتی رہوں گی”۔
“تو گویا آپ بھی مال کی حریص نکلی ہیں”.آجکل کی لڑکیوں کے ساتھ پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔؟ صرف بنگلہ موٹر ہی چاہیے ، ساتھ چلنے والا بندہ بیشک شرابی کبابی ہو ۔ حازم نے بھی بنا لحاظ کیے دل کی ساری بھڑاس نکالی۔
“محترم حازم صاحب میں پانچ مرلے کے مکان سے نکل کر دوسرے تین مرلے کے ڈربے میں نہیں آنا چاہتی ہوں۔ “
“تو نہ آئیں میں نے آپکو مجبور تو نہیں کیا ہے.”
“رشتہ آپ لے کر آئے تھے ہمارے گھر یا میں لے کر آئی تھی۔”؟
“رشتہ میرے والدین لے کر گئے تھے اور میں نے صرف ایک فرمانبردار بیٹا ہونے کا ثبوت دیا ہے٫ آپ کو فرمانبرداری چںبھتی یے تو چبھے،
میں اپنی بات مکمل کر چکا ہے لہذاٰ شادی والے دن ملاقات ہو گی ان شاءاللہ۔”!! ابھی سکون سے اپنے امتحانات کی تیاری کریں اور اسکے علاوہ نکاح کی مقررہ تاریخ بھی ذہن نشین رکھیے گا۔!
یہ سب سن کر آرزو کھول کر رہ گئی، جواب کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ حازم کی بھاری آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔
“اور ہاں آخری بات دوبارہ فون کرنے کی زحمت نہ کیجئے گا۔”
“ابھی فون بند نہ کرنا میری بات مکمل نہیں ہوئی ہے۔” آرزو نے ترش لہجے میں واضح کیا۔
“فرمائیں”۔! حازم کا چبھتا لہجہ آرزو کو مزید تپا گیا۔
“آپ نے کراچی آنا ہے تو شوق سے آئیں مگر میں شادی والے دن انکار کر دوں گی”۔!
“آپ نے اگر اپنے بوڑھے باپ کی پگڑی اچھالنی تو ضرور انکار کیجئے گا٫مگر میں اور میرا باپ اپنی زبان سے نہیں پھریں گے ۔ امید ہے میری بات سمجھ آ چکی ہے، اور ہاں اگر جان کی امان پاؤں تو ایک اور عرض کروں؟؟۔ اپنی مشیر خاص کو بدل لیں یا پھر انہیں سرگوشیاں کرنے کا سلیقہ سکھا دیں، مجھے انکی ایک ایک سرگوشی واضح سنائی دے رہی تھی”۔
آرزو کھول کر رہ گئی۔ آپکو تو میں دیکھ لوں گی۔!
“جی ضرور خاکسار کی دلی مراد بھر آئے گی”۔
“دل پھینک قسم کے اوچھے سے لڑکے ہیں آپ”۔؟
“محترمہ آپ نے ہر بات کا آغاز خود کیا ہے اور جب معقول جواب ملتا ہے تو آپ سے ہضم نہیں ہوتا ہے۔”
خیر کوئی بات نہیں شادی کے بعد آپ نے خوشدلی سے میری ہی ہاں میں ہاں ملانی ہے”۔
“بلی کے خواب میں چھیچھڑے۔”
“چلیں دیکھتے ہیں پھر کیسے بلی کو تھیلے سے باہر نکالنا ہے”۔
“میری امی کو بتا دینا جو آپکو پسند ہے وہ شام میں فون کرنے کا بول رہی تھیں، میرا مطلب ہے کپڑوں کا رنگ وغیرہ”۔
“مجھے آپ سمیت کچھ بھی نہیں چاہیئے” ۔ “سمجھے آپ”.!
“یہ تو وقت بتائے گا کس کو کیا چاہیے محترمہ آرزو قمر” ۔!
“چلتا ہوں دعاؤں میں یاد رکھیئے گا”۔
آرزو نے جواب کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دوسری طرف سے مخاطب اپنی بات مکمل کر کے فون بند کر چکا تھا۔
رافعہ سنا ہے تم نے اس کنگال کو۔؟
آنسو ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے۔ پاس بیٹھی سہیلی بھی غم کو کم کرنے میں ناکام تھی۔
یار آرزو اگر میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے مطلوبہ نمبر نہ لے سکی تو بورڈ بدل لینا اور امتحانات جہلم سے دے لینا۔ راولپنڈی بورڈ سے یا پھر کسی اور بورڈ سے۔
“رافعہ تمہیں تو پتا ہے میں نے دن رات ایک کر کے امتحانات کی تیاری کی ہے اور ابھی اس کنگال کے ساتھ شادی کی بات چل پڑی ہے ، میں جتنی بھی کوشش کروں مگر میرا دھیان بٹ جاتا ہے “۔
کالج کے عقبی میدان میں بیٹھی دونوں سہیلیاں غم زدہ نظر آ رہیں تھیں۔
“اچھا چلو اب رو تو نہیں ، بس اپنی پڑھائی اور امتحانات پر بھرپور توجہ دو ۔”
“رافعہ ایک ہفتے میں میرا نکاح ہے اور ساتھ رخصتی بھی ہے، میں کیسے پڑھ سکتی ہوں؟ اوپر سے اجنبی شہر اور لوگ ہیں”۔ آرزو نے زار و قطار روتے ہوئے درد دل کو آنسوؤں کی نظر کیا۔
“اوپر سے یہ بندہ ایک نمبر کا کنگلا ہے۔۔۔ پتا نہیں کیا دیکھ کر ابا نے ہاں بولی ہے۔”
“یار بات چیت سے تو بندہ معقول لگتا ہے۔”
تو تم کر لو نا نکاح اس سے۔! آرزو نے رونا روک کر غصے میں کہا۔
“ہائے میرے ابا کے دوست کا بیٹا تھوڑی ہی ہے”.۔
“کاش آپی کی شادی پر یہ کنگلا خاندان شرکت کے لیے نہ آتا “۔
ویسے تو نے دیکھا تو ہے نا حازم کو ۔؟
“ہاں کنگلے کو باہر تنبو میں کرسیاں لگاتے اور اٹھاتے ہی دیکھا تھا”۔
“کیا پہنا ہوا تھا” ۔؟
“کرتا شلوار ہی پہنا تھا کنگلے نے۔”
“اس نے دیکھا تھا تمہیں”؟
” دیکھا ہو گا میں نے تو غور نہیں کیا” ۔ آرزو نے آنکھوں کو رگڑتے ہوئے بولا۔
یار آرزو اگر اس نے تمہارے گھر والوں کو بتا دیا کہ تم نے اسے یہ سب بولا ہے تو پھر کیا ہو گا۔؟
“مجھے نہیں لگتا وہ ڈھیٹ کسی کو بھی بتائے گا اور اگر بتا بھی دیا تو میرے لیے آسانی ہو جائے گی، زیادہ سے زیادہ ابا وقتی غصہ کریں گے اور بعد میں ٹھیک ہو جائیں گے”۔
“یار آرزو اس بات کو اتنا معمولی نہ لو”۔!
تو پھر کیا کروں۔؟ آرزو نے آنسوؤں کو بے مول کرتے ہوئے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا۔
“میرے خیال میں اسے دوبارہ فون کرو اور اسے بولوں کہ اس بات کو ادھر ہی دفنا دو” ۔
تاکہ اسے اور سر پر چڑھا لوں۔؟
مرضی ہے تمہاری۔!
“یہ نا ہو تمہارے ابا غصے میں آ کر تمہاری پڑھائی ہی نہ چھڑوا دیں۔”
کچھ دیر سوچ کر آرزو نے دوبارہ کال ملائی مگر حازم اپنی بات کا پکا نکلا اور فون کال کو نظر انداز کر دیا۔ بارہا کال کرنے پر کوئی جواب نہ پاکر آرزو مضطرب نظر آنے لگی۔ یار یہ کتنا ڈھیٹ ہے اب فون ہی نہیں اٹھا رہا ہے۔
******************************************
حازم میرا بچہ ذرا فون ملاؤ قمر سے بات کر لوں اور پھر ریل کے ٹکٹ بھی تو لینے باقی ہیں۔ کچھ دیر کےلئے حازم کا جی چاہا کہ ساری صورتحال سے والدین کو آگاہ کر دے مگر مصلحتاً خاموشی سے جیب سے فون نکال کر نمبر ملا کر ابو کو پکڑا دیا۔
“حازم ادھر بات سنو “۔
جی امی۔
یہ دیکھو بہو پہ یہ رنگ خوب جچے گا ۔
حازم نے دکھی دل کے ساتھ دیکھا اور بولا امی مجھے کچھ خاص پتا نہیں ہے جو آپکو پسند ہے وہ لے لیں۔ بلکہ میرے خیال میں زیادہ کپڑے نہ لیں جب وہ آئے گی تو جو پسند ہو گا ، میں دلا دوں گا۔
ارے باؤلا ہو گیا ہے اتنی دور بہو لینے جا رہے ہیں تو خالی ہاتھ تو نہیں جائیں گے، آخر ان کے بھی دوست احباب جمع ہونگے۔
“میرے تو بس میں نہیں ہے خوب قیمتی عروسی لباس خریدوں مگر اب تیرے ابو نے ساری زندگی کی جمع پونجی عمرے پر لگا دی ہے” ۔
“امی میری شادی کو رہنے دیتے نا ، جب آپ واپس آتے تو اگلے سال کوئی حتمی فیصلہ کر لیتے”۔ ناچاہتے ہوئے بھی حازم کی زبان پھسل گئی۔
“کیسی باتیں کرتے ہو بیٹا۔”؟
“بات پکی ہوچکی ہے ،اگلے ہفتے جا کر بہو کو لے آئیں گے ۔ اور تمہارے ابو کبھی بھی تمہیں اکیلا گھر چھوڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔
تمہیں تو پتا ہے آج کل کے حالات کیسے ہیں “۔ امی نے ان سلے کپڑوں کو تہہ لگاتے ہوئے رسانیت سے بولا۔
امی ابھی اس کے امتحانات بھی قریب ہیں اور سنا ہے اسے میڈیکل میں جانے کا بھی بہت شوق ہے تو کیا یہ سب مناسب رہے گا۔؟حازم نے جھجھکتے ہوئے حکمت سے ماں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
“ارے پگلے تو اسکو پڑھانا اور وہ تجھے پڑھائے گی”۔!
“امی وہ کیسے پڑھائے گی مجھے ۔؟جو خود ابھی ایف ایس سی کے امتحان دے رہی ہے”۔
“میرے بچے وہ تیرا خیال کرے گی ، پکا دھو کر دے گی ، تیری تنہائی کی ساتھی بنے گی ان شاءاللہ”۔
پتا نہیں امی تنہائی کی ساتھی بنے گی یا مزید عذاب میں مبتلا کرے گی۔ حازم نے دکھی دل کے ساتھ سوچا مگر زبان پر نہ لا سکا۔
“امی میں جا رہا ہوں سونے صبح جلدی اٹھا دیجئے گا۔”
“حازم ابھی فون پر نہ آنکھیں دکھاتے رہنا ، فورا سو جانا میرے چاند”۔ کمرے سے نکلتے حازم نے مسکرا کر ماں کو دیکھا اور بولا , امی فی الحال فون ابو کے پاس ہیں اور ویسے بھی سارا دن گاہکوں اور اپنے طلباء کے ساتھ سر کھپا کھپا کر صرف بستر میں ہی وقت ملتا ہے فون کو تفصیل سے دیکھنے کا ، آپ وہ بھی چھیننا چاہتی ہیں۔”! حازم نے پیار بھری سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا۔
اچھا صرف آدھا گھنٹہ ہے میں آکے دیکھوں گی۔
“جی آ جائیے گا، میں آپ کو سویا ہوا ملوں گا ۔”
بستر پر لیٹتے ہی آرزو کا اکھڑ لب و لہجہ بے چین کیے جا رہا تھا ، پتا نہیں کیا کرے گی۔؟ کتنے ارمانوں سے میرے والدین تیاریوں میں مشغول ہیں ، ایک ایک دن گن رہے ہیں، اوپر سے کراچی ریل کے ٹکٹوں کا خرچا اور باقی اخراجات الگ سے ہوں گے، اگر اس نے عین موقع پر انکار کر دیا تو کیا ہو گا ۔؟
“میرے مفلس والدین کتنے چاؤ کے ساتھ تیاریاں کر رہے ہیں اور اس آرزو صاحبہ کے مزاج ہی نہیں مل رہے ہیں۔ بدتمیز ، زبان دراز بھی کتنی ہے ، کیسے دھڑلے سے مجھے دھمکا رہی تھی۔ ایک دفعہ میرے ہتھے چڑھے اسکو سیدھا کر دوں گا۔” دل و دماغ کی دلیلیں حازم کو بے چین کیے جارہی تھیں۔
میرے خیال میں بہتر ہے امی ابو کو آگاہ کر دوں۔حازم کچھ دیر سوچ کر بستر سے نکل کھڑا ہوا اور اپنارخ ابو کے کمرے کی طرف کر دیا۔ اندر سے آنے والی آواز نے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *