Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02
اپنا رخ ابو کے کمرے کی طرف کر دیا۔ اندر سے آنے والی آواز نے قدم روک لیے۔ ابو کی آواز میں بےپناہ مسرت جھلک رہی تھی۔
اللہ میرے حازم کے نصیب اچھے کرے آمین، قمر نے تو بولا ہے صرف تن ڈھانکنے کے لیے ایک جوڑا اور لڑکا لے آنا نکاح کے لیے باقی کسی قسم کی خرافات میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
“حازم کے ابو انہیں ہمارا حازم اتنا پسند آ گیا ہے”۔؟اللہ کی بندی آج کے دور میں ہمارے حازم جیسا داماد کس کو ملتا ہے؟، میں تو شادی کے دوران ہی قمر کی حازم میں دلچسپی بھانپ گیا تھا ،اسی لیے آرزو کا ہاتھ مانگنے کی ہمت پیدا ہو گئی۔
“ویسے حازم کے ابو آرزو حازم کی جوڑی بہت جچے گی ان شاءاللہ۔ یقین کریں مجھے تو اکثر رات کو خوشی سے نیند ہی نہیں آتی ہے”۔
بس اللہ میرے اس ہونہار اور فرمانبردار بیٹے کا دامن خوشیوں سے بھر دے۔ آمین۔ امی نے پورے جزب کے ساتھ ابو کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“اپنے سارے تو بدنصیب نکلے، مال کے حریص ، چاہے وہ تمہارے میکے والے ہوں یا پھر میرے بہن بھائی سبھی نے دھتکار دیا ،انہیں تو لڑکا نہیں بلکہ چلتی پھرتی پیسوں کی مشین درکار تھی”۔ابو نے رنج سے سرد آہ بھری۔
“ارے حازم کے ابا دل نہ جلائیں اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے، اب دیکھیں انہوں نے میرے حازم کو دولت کے ترازو میں تولا یے لیکن مال کی کمی نے منکر بنا دیا ہے مگر دیکھیں جنہوں نے میرے حازم کے کردار اور اخلاق کو پرکھا ہے وہ تو بازی جیت گئے ہیں نا، دیکھنا آرزو میرے حازم کے ساتھ راج کرے گی ان شاءاللہ”۔
حازم کے بڑھتے قدم صحن میں ہی منجمد ہو گئے۔ جی چاہا چیخ چیخ کر بتائے امی ابو آپکی پسند آرزو بھی اسی سوچ کی مالک ہے جس سوچ پر آپ سب کے رشتے دار ناز کرتے ہیں۔ لمبے نوٹ اور بنگلہ کار والی ہی سوچ رکھتی ہے آرزو صاحبہ۔!
حازم نے ناچاہتے ہوئے بھی غصے میں دانت پیس کر آرزو کا نام پکارا اور واپس اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔ بستر پر لیٹتے ہی چند آنسو گالوں پر لڑھک آئے۔ اپنی تنگ دستی اور ماں باپ کے بڑھاپے کو دیکھتے ہوئے حکمت اسی میں ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔
کتنے ارمان اور کتنے چاؤ ہیں میرے والدین کے اور جب اس آرزو کے کرتوت کھلیں گے تو انکے دل پر کیا بیتے گی۔ کاش میں اسکی کال نہ اٹھاتا۔، لیکن اس رنگریز نمونے نے مجھے مروا دیا یے ۔ ہر بار مال کی خریداری پر یہی کچھ کرتا ہے۔
خیر دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے ۔ آدھی رات تو کروٹوں کی نظر ہو گئی، صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی امی کی میٹھی پکار کانوں سے ٹکرائی۔
******************************************
صبح ناشتے کے دوران ہی ابو نے نئے فرنیچر کی گھر آمد سے باخبر کیا۔
ابو کیا ضرورت تھی اتنے پیسے فضول میں خرچ کرنے کی؟ ، ابھی تو ایک فرد کے ریل ٹکٹ بھی تین سے پانچ ہزار روپے میں ملیں گے ، پندرہ سے پچیس ہزار تو ریل ٹکٹوں کی نظر ہو جائے گا۔ حازم فکر مندی سے بولا۔
پاس بیٹھی امی سے رہا نہ گیا تو نرم لہجے میں بیٹے کو سمجھانے بیٹھ گئیں۔
“ارے بیٹا بہو کو اتنے دور سے لا رہے ہیں ، دلہنوں کے سو چاؤ ہوتے ہیں، اب اسے چارپائی پر سلانے سے تو رہے، ویسے بھی آج کل فومی گدوں کا رواج ہے۔ اور ہم نے کونسا پورے گھر کا فرنیچر خرید لیا ہے ، صرف ایک فومی گدا اور پلنگ ہی خریدا ہے ، ساتھ میں صرف چھوٹا سا سنگھار میز ہے ۔ بیٹا وہی دس سال پرانی لوہے کی چارپائیاں ہیں یا ایک میز کرسی پڑا ہے تمہارے کمرے میں، دلہن اپنا بناؤ سنگھار کہاں پر جا کر کرے گی”؟
حازم صرف گردن ہلا کر رہ گیا۔
بس آج شام تک تمہارا کمرہ تیار ہو جائے گا۔ امی مجھے تو چارپائی پر سونے کی عادت ہے اس لیے ایک چارپائی کو کمرے کے ایک کونے میں رہنے دیجئے گا۔
نئے فرنیچر کا ستیاناس کرنے کے لیے دس سالہ پرانی چارپائی کو کس لیے رکھنا ہے کمرے میں بیٹا جی۔؟
“امی کیا فرق پڑتا ہے۔”؟ “بس نیا بچھونا بچھا لیں گے”.
حازم کے ابا اس پگلے کی باتیں سن رہے ہیں۔ ابو نے مسکراتے ہوئے حازم کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
تم بھی کمال کرتی ہو بیگم اب اسکو اپنی عادتیں بدلنے میں کچھ وقت لگے گا۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔
“ابو جی مجھے ٹھیک کرنے کے بجائے اس آرزو کو سدھارنے کی اشد ضرورت ہے جس کی آمد سے پہلے ہی مجھے خطرے کی بو آ رہی ہے”۔ حازم غم سے صرف سوچ کر رہ گیا۔۔۔
حازم نے گھر سے سائیکل کو نکالنے سے پہلے جیب کو ٹٹولا تو اسی نمبر سے دس نظر انداز کالز تھیں۔
“آرزو صاحبہ میرا دماغ چاٹنے سے بہتر ہے پڑھائی پر توجہ دو۔ جو مرضی کر لو اب میں نے فون نہیں اٹھانا ہے۔” حازم نے صحن کے کونے میں کھڑی سائیکل نکالی اور خراماں خراماں کام کی راہ لی۔۔
جوں جوں دن قریب آ رہے تھے حازم کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا، ایک طرف والدین جو امیدیں اور امنگیں سجائے دن رات حازم کی شادی کو زیر بحث رکھتے تو دوسری طرف وہ اڑیل آرزو جو ہر روز دس سے بیس کالز کر کے حازم کو ستاتی۔ مگر حازم بھی اپنے نام کا ایک تھا، اس دو ٹوک گفتگو کے بعد دوبارہ سے آرزو کے ساتھ بات نہ کرنے کی ٹھان چکا تھا۔
بیٹھک میں موجود اپنے طلاب کے ساتھ محو گفتگو تھا جب بپ بپ پیغامات کی بھرمار سنائی دی ۔ چند ثانیوں کے لیے فون کی سکرین دیکھی تو وہی ڈھیٹ لڑکی دھمکیاں دے رہی تھی۔ اگر اب آپ نے میری کال نہ اٹھائی تو میرے سے کوئی برا نہیں ہو گا۔
“آپ سے برا ہے بھی کوئی نہیں ہے آرزو صاحبہ”۔ پیغام پڑھتے ہی حازم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
“سر آج خیریت ہے اکیلے اکیلے مسکرایا جا رہا ہے”۔
احمد یار آپ اپنی پڑھائی پر توجہ دو ناکہ میری مسکراہٹ پر۔! “سر آپ بہت کم مسکراتے ہیں اس لیے پوچھ لیا”۔کمرے میں موجود باقی طلاب نے بھی کھی کھی شروع کر دی۔ یار احمد آپ سب کے والدین مجھے پیسے مسکرانے کے نہیں بلکہ پڑھانے کے دیتے ہیں لہٰذا مجھے آپ سب کتابوں میں غلطاں نظر آو!. حازم نے سنجیدگی کا خول چڑھاتے ہوئے بولا مگر شریر طلباء کی کھی کھی ہنوز برقرار تھی۔
” یار آپ لوگ بھی پکے جاسوس ہو ، سب کو کسی جاسوسی ادارے میں جانا چاہئے”!۔
حازم نے میٹرک مکمل کرتے ہی ساتھ ساتھ گھر میں ٹیوشن پڑھانا شروع کر دی ، اس کی بڑی وجہ ابو کی کم آمدنی تھی۔ بی ایس سی کے بعد حازم نے پڑھائی کو خیر باد بول دیا اور ابو کی خشک میوہ جات کی دکان میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا اور پھر شام میں ٹیوشنز کا سلسلہ جاری رکھا۔
کم آمدنی کی بنا پر تمام قریبی رشتہ داروں نے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔
قد کاٹھ اور شکل و صورت والا حازم مفلسی کی نظر ہوتا چلا گیا۔ عمر کے 25 سال گزر جانے کے باوجود بھی رشتے کا حصول ناممکن رہا ، مگر پھر ابو کے بہت پرانے اور قریبی دوست نے کراچی اپنی بڑی بیٹی کی شادی پر مدعو کیا اور تاکید کی کہ سب گھر والوں کو ساتھ لانا۔ حازم کے کردار اور اخلاق نے قمر صاحب کو گرویدہ بنا لیا۔
یوں حازم کے لیے کراچی کا سفر باعثِ رحمت ثابت ہوا۔
حازم کی یہ خوشی زیادہ دن برقرار نہ رہ سکی ، آرزو کی ضد نے اسے نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
شام تک اسکے کمرے کا حلیہ مکمل طور پر بدل چکا تھا، فومی بستر کے ساتھ ساتھ نیا پھول دار بچھونا اور دیوار کے ایک کونے میں چھوٹا سا سنگھار میز پڑا تھا ، جس پر حازم کا کنگھا ، مسواک اور چند عطر کی چھوٹی شیشیاں پڑی تھی۔
ایسے لگ رہا تھا کہ امی نے آج سارا دن اسکے کمرے میں صرف کیا ہے ، سمینٹی فرش جگمگا رہا تھا۔ ایک کونے میں پڑی چارپائی پر سے اپنے استری شدہ کپڑے اٹھائے اور غسل خانے کی راہ لی۔
چارجر پر لگے فون پر آرزو کا پیغام جگمگا رہا تھا۔
“اگر مجھے واپس فون نہ کیا یا میرے پیغام کا جواب نہ ملا تو بیشک ادھر جہلم میں بیٹھے رہنا۔ سمجھے ہیں آپ حازم صاحب”۔!
حازم نے رنج میں گردن ہلائی اور روٹی کے لئے امی کو پکارنے لگا۔
******************************************
حازم بیٹا شادی کے کپڑے پھر کراچی قمر صاحب کے گھر پہنچ کر ہی پہن لینا ورنہ اتنے لمبے سفر میں ستیا ناس ہو جائے گا۔
جی امی جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں ، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
حازم نے ڈولتے دل کے ساتھ جواب دیا ، کسی انہونی کا خوف اندر ہی اندر ستائے جا رہا تھا۔ مگر دل نہ مانتا کہ والدین کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کرے۔ خود ہی دن رات اس بھٹی میں جل رہا تھا۔
ریل میں سوار ہوتے ہی آرزو کا پیغام موصول ہوا، “ابھی بھی وقت ہے لوٹ جاؤ ،میں نے عین نکاح کے وقت انکار کر دینا ہے”۔
یکدم حازم کا گلا خشک ہو گیا، جی چاہا چیخ چیخ کر امی ابو کو بولے کہ ہمارا سفر رائگاں جائے گا ، چلو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ مگر پھر ایک امید اور ایک آس تھی جو کہ اسے قمر صاحب کی نفیس طبیعیت میں نظر آئی تھی کہ انکی تربیت میں کھوٹ نہیں ہو سکتا ہے۔ انکی بیٹی انکی عزت کو خاک میں نہیں ملائے گی۔
طفل تسلی دے کر خود پر وقتی قابو پا لیا مگر دل شدید قسم کی تشنگی محسوس کر رہا تھا۔ ہم مفلسوں کی زندگی کے غم بھی نرالے ہیں، کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں ہے۔
بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کا تھکا دینے والا سفر رو دھو کر منزل مقصود تک لے آیا۔
گزرنے والا ایک ایک لمحہ اذیت ناک تھا مگر حازم یہ سب تن تنہا اپنی جان پر جھیل رہا تھا۔
******************************************
“آرزو پاگل تو نہیں ہو گئی ہو ۔! بھلا یہ وقت ہے رونے دھونے کا۔؟ کل شادی ہے اور تم نے پاگل پنے کی انتہا کر دی ہے”۔
امی میں نے پہلے بھی بولا تھا کہ مجھے شعبہ طب میں جانا ہے مگر میری کسی کو پرواہ ہو تو ہے نا.!!
آرزو تجھے تیرے ابو نے واضح کر دیا تھا کہ کالج کی فیس اور ہوسٹل کا خرچہ برداشت نہیں کر پاؤں گا تو آگے بی ایس سی میں چلی جانا ، پھر تیری کھوپڑی میں یہ بات کیوں نہیں بیٹھتی ہے۔؟ امی نے زچ ہو کر آرزو کو گھورا۔
” امی میرے سارے امتحانات میں یہ شادی والا ٹنٹا چلتا رہا ہے” ۔ آرزو نے زار و قطار اپنی آہ و زاری جاری رکھی۔
” تمہارے ابا نے تمہاری رضا مندی سے رشتہ طے کیا تھا تو اب اچانک کونسے کیڑے نظر آنے لگے ہیں اس رشتے میں”۔؟
“وہ وقت اور تھا مگر اب وقت بدل گیا ہے ، آپا کا رشتہ اتنے بڑے گھرانے میں کیا ہے ، نوکر چاکر، گاڑی بنگلہ اور میرے لیے آپکو وہ کنگلہ حازم ملا تھا”؟۔
“اے لڑکی چلو بھر پانی میں ڈوب مرو ! کچھ حیا کر! بڑی کا اپنا نصیب اور تیرا اپنا نصیب ہے ، تو کس لیے دوسروں کو دیکھ کر اپنے مقدر پر شکوہ کنائی کرتی ہے۔؟ اے شکر کر اتنا شریف ، نیک لڑکا مل گیا ہے جس کی شرافت کے چرچے جہلم شہر کی شاندار چوک میں ہیں۔ تمہارے باپ نے سفید بال دھوپ میں بیٹھ کر نہیں کیے ہیں ، رشتہ طے کرنے سے پہلے فون پر اپنی ساری تحقیق کروائی ہے ۔ اماں نے سالن چولہے پر چڑھاتے ہوئے قہر آلود نظروں سے آرزو کو لتاڑا۔ فون ایک شخص کو نہیں بلکہ اس مارکیٹ کے مختلف دکانداروں سے اس سلسلے میں تسلی کی ہے۔
باورچی خانے کے دروازے پر کھڑی آرزو کے آنسو تواتر سے گر رہے تھے۔ “اماں اس کے پاس چار پیسے ہوتے تو رخصتی کے بعد جہاز پر لے کر جاتا، مگر کنگلہ جو ہے اس لیے مجھے ریل پر خوار کروائے گا۔”
“کچھ عقل کو ہاتھ مار آرزو جیسے تیرا باپ دادا جہاز پر ہی سفر کرتا رہا ہے جو وہ بیچارہ تجھے جہاز پر لے کر جائے”۔۔ آرزو کے رونے میں مزید روانی آ گئی۔
******************************************
دلہنیا کے گھر پہنچنے پر دلہا کو کپڑے بدلنے کا عندیہ سنایا گیا جبکہ مولوی صاحب کی آمد بھی بہت جلد متوقع تھی۔
کپڑوں سے فراغت کے بعد کھانا پیش کیا گیا ، گھر میں معمول کے مطابق چہل پہل تھی۔ تمام قریبی دوست احباب مدعو تھے۔
چند ضروری وضاحتوں کے بعد نکاح خواں نے کاغذی کاروائی شروع کر دی اور ایجاب و قبول کے لیے رجسٹریشن فارم گھر کے اندر بھیج دیا گیا۔
حازم کو ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہو گئے۔ خود سے زیادہ بوڑھے ماں باپ کا امیدوں بھرا چہرہ بار بار پریشان کر رہا تھا۔
پتا نہیں میں نے نا بتا کر غلطی تو نہیں کر دی۔ مگر اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یارب تو ہی ہم سب کی عزت رکھ لے اور اس اڑیل کو کچھ عقل دے دے آمین۔
سوچوں میں غلطاں حازم نے جھکی گردن کو اس وقت اوپر اٹھایا جب قمر صاحب ہاتھ میں پکڑے رجسٹر کو لے کر واپس لوٹے۔
حازم نے بیتابی سے ابو کی جانب دیکھا جو ۔۔۔۔۔۔
