Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06
عصر کی نماز کے بعد حازم نے گھر کے اندر قدم رکھا تو ابو کے جاندار قہقہے سماعتوں سے ٹکرائے۔
سائیکل کو ایک کونے میں کھڑا کر کے بیٹھک میں موجود نفوس کو اجتماعی سلام کیا۔ امی ابو کے ساتھ براجمان آرزو نے دیکھتے ساتھ ہی چہرے کو مروڑا جو کہ حازم کے لیے مخصوص قسم کا استقبال تھا ۔
امی ابو کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے ۔ شکر ہے میرا بچہ آج جلدی آگیا ہے ، صبح سے آرزو کتابوں میں الجھی ہوئی تھی، کچھ دیر قبل ہی سانس لینے کے لیے باہر نکلی ہے ماشاءاللہ،آرزو کے آ جانے سے ہمارے اس ویران گھر کی رونق دوبالا ہو گئی ہے حازم۔امی نے آرزو کی بلائیں لے ڈالیں۔ جبکہ آرزو اور حازم اشاروں کنایوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔۔ حازم بیٹا اچھا ہوا تم آ گئے ہو آرزو کو کچھ دیر اپنے علاقے کی سیر کروا کر لے آنا۔ ذرا ٹانگیں سیدھی کر لے گی۔
جی ابو ٹھیک ہے۔ حازم نے کھا جانے والی نظروں سے آرزو کو تاڑا۔
اب جاؤ کمرے میں اپنا لباس بھی تبدیل کر لو اور میں کھانے پینے کے لئے کچھ لاتی ہوں۔
امی رہنے دیں کھانا ! دن میں رنگریز کے ساتھ کھا لیا تھا ، ابھی بس پانی پیوں گا۔
اچھا تم کمرے میں آرام کرو ،میں پانی چائے سب لاتی ہوں۔
جاؤ بیٹا آرام کرو ! آج کام پر نہ جاتے تو اچھا تھا مگر میرے جاگنے سے پہلے ہی نکل گئے تھے۔
جی ابو رنگریز لالہ دو دن سے اکیلا تھا تو سوچا بہتر ہے آپ بھی کچھ آرام کر لیں۔
وہ تو بیٹا ٹھیک ہے مگر پھر بھی آرزو سارا دن اکیلی کتابوں میں سر کھپاتی رہی ہے ، گھر ہوتے تو کچھ اسکی بھی امتحانات کی تیاری میں مدد کروا دیتے۔
جی ابو ! حازم نے سعادت مندی میں گردن ہلائی اور سامنے والی کرسی پر براجمان آرزو کو معنی خیز نظروں سے دیکھا۔
جاؤ بیٹا آرام کرو ! میں کچھ دیر کے لئے صادق صاحب کے گھر سے ہو آؤں ، کافی دنوں سے مسجد نہیں آ رہے ہیں ، پوچھنے پر خبر ملی ہے کہ کافی دنوں سے علیل ہیں۔
حازم کے ابو میں بھی چلتی ہوں انکی بیگم سے ملے کافی عرصہ بیت گیا ہے ، ہر غم خوشی میں ہمارے گھر آتی جاتی ہیں، آج ہی حازم کی شادی کی مبارکباد کے لئے فون بھی کیا ہے ۔ بول رہی تھیں ہماری طرف آتیں مگر صادق صاحب کی صحت کے پیش نظر نہیں آ پائیں۔
اچھا چلو تم تیار ہو جاؤ ۔ بس حازم کے لیے چائے لے آؤں ۔
آپ رہنے دیں امی ! میں حازم کو چائے بنا دیتی ہوں.
ارے بیٹی آپکو تو ابھی کسی کام کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دوں گی۔
یہ کام تھوڑی ہے امی جی اور ویسے بھی چائے کونسا گلانی پڑتی ہے۔ آرزو نے محبت اور سعادت مندی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔۔
حازم کو تو غش آنے لگا ، ایک دن میں اتنی فرمانبرداری دکھائی جا رہی ہے۔
ہونٹوں پہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو چھپانے کے لیے جیب میں پڑے فون کو نکال کر کھنگالنے لگا۔
اچھا بیگم جیسے ہماری بہو کی خواہش ہے اسے شوق سے کرنے دو ۔!
حبیب صاحب نے آنکھ کے اشارے سے ریشماں بیگم کو خاموش کروا دیا اور خود ہمسایوں کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگے۔
ابو میں کچھ دیر آرام کروں گا۔ ہاں ہاں بیٹا جاؤ ،کل جان توڑ سفر اور آج صبح سے دکان پر جان مار کر آئے ہو۔
آرام کرو میرے چاند۔ اللہ تم دونوں کو شاد و آباد رکھے۔ آمین۔
ضعیف والدین کے جھریوں زرہ چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔
حازم نے کمرے میں آتے ہی سیدھے اپنا رخ چارپائی پر کیا اور تکیے پر سر رکھتے ہی دو منٹ میں نیند کی وادی میں اتر گیا ۔
آرزو کے کمرے میں پہنچنے سے پہلے ہی حازم گہری نیند میں پہنچ چکا تھا۔
عجیب قسم کا نمونہ پلے پڑا ہے ۔ کھڑوس، خشک مزاج، کنگال ، آرزو بڑبڑاتے ہوئے پلنگ پر منہ بسورے بیٹھ گئی۔
نواب صاحب کے لئے چائے کس لیے بناؤں خود خراٹے لے رہے ہیں۔
آدھا گھنٹہ ورق گرانی کی نظر ہو گیا مگر حازم اسی کروٹ پہ سو رہا تھا۔
کچھ دیر کے لئے آرزو کو ترس آیا سوچا کہ ابھی اٹھے تو اپنے گزشتہ رویے کی معافی مانگ لے گی۔مگر پھر وہی ابلیسی وار اسکے کچے ذہن کو جکڑنے لگے ۔کمرہ اور اس میں موجود ہر چیز حقیر لگنے لگی۔ تائی چاچی کی باتیں کانوں سے ٹکرانے لگیں۔ وہ لوگ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں ، ظاہر ہے وہ انکے قریبی رشتہ دار ہیں ، ہر اچھائی برائی سے واقف ہیں، میرا واسطہ پڑے تو ابھی ایک ہی دن گزرا ہے۔
پھر دھیان میکے کی طرف چلا گیا ،حدیقہ آپا کی شادی کا نفیس لباس اور مکلاوا کے لیے میکے واپسی پر طلائی زیورات سے لدی پھندی آئی تھیں اور کیسے سیف بھیا انکے آگے پیچھے ہو رہے تھے اور ادھر دیکھو میری کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔ میرا لباس بھی دیکھو کتنا سستا سا ہے۔
کڑھائی بھی بس گزارے لائق ہی یے۔ جوتے بھی عام سے ہیں ، چند ماہ کے بعد ساری سلائی اکھڑ جائے گی۔
اپنا اور آپا کا موازنہ کرتے کرتے ایک گھنٹہ گزر گیا مگر حازم ٹس سے مس نہ ہوا ۔ آرزو کا جی چاہا پانی ڈال کر اٹھا دے مگر اکڑ بھی تو دکھانی تھی ، پلنگ پر بکھری کتابوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔ ٹھیک دو گھنٹے بعد حازم نے کروٹ بدلی تو سامنے پلنگ پر براجمان آرزو پہ نظر گئی۔ جو کہ اوندھے منہ لیٹی ورق گردانی میں غرق تھی۔
******************************************رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“بظاہر یہ دولت بڑی سرسبز اور بہت ہی شیریں ہے۔ لیکن جو شخص اسے اپنے دل کو سخی کرے تو اسکی دولت میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کی دولت میں کچھ بھی برکت نہیں ہو گی، اس کا حال اس شخص جیسا ہو گا جو کھائے جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔”( صحیح بخآری:2750)
*****************************************
کتنی خوبصورت ہے یہ لڑکی ! کاش اس کا دل بھی ایسا ہی خوبصورت ہو جائے۔ حازم کے دل سے ایک ٹھیس اٹھی۔
گلا کھنکار کر چارپائی سے نیچے اتر کر کمرے میں لٹکے کپڑوں کو اٹھایا اور غسل خانے کی راہ لی۔
آرزو تو کھول کر رہ گئی۔
غسل کے بعد کمرے میں واپس آکر خاموشی سے بالوں کو سنوارنے لگا ، آئینے میں دیکھتے ہوئے اچانک نظر آرزو پر گئی جو حازم کو ہی دیکھے جارہی تھی۔
طبیبہ صاحبہ چوری چوری کیوں دیکھتی ہیں؟
سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں! حازم نے آئینے میں دیکھتے ہوئے مخاطب کیا۔۔ مانا کہ آپکا دلہا وجیہہ ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گھر میں دیدار یار پر ڈکیتی شروع کر دی جائے۔
آرزو کی زبان کہاں رکنے والی تھی۔
آپکو خوش فہمی اکثر رہتی ہے یا پھر ابھی شادی کے بعد پیدا ہوئی ہے؟۔
آرزو کا تیکھا انداز بیان حازم کو ہلا کر رکھ گیا۔۔
حازم نے بالوں سے فارغ ہو کر رخ موڑا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر آرزو کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کیسے کسی لڑکی کی زبان اتنی سرعت سے چل سکتی ہے؟!
اور مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کیسے کوئی شادی کے دوسرے دن بھی کام پر جا سکتا ہے؟
اچھا تو دلہا سے دوری کا غم ستائے جا رہا تھا طبیبہ صاحبہ کو !!!
جی نہیں !
صرف شادی کے آداب سکھا رہی ہوں!
حازم کا فلک گیر قہقہہ آرزو کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
میں آپ سے شادی کے آداب سیکھنے سے گریز برتوں گا چونکہ پہلے سے ہی آپ مجھے اتنے اخلاقی ٹیکے لگا چکی ہیں۔ اب مزید اخلاقی ٹیکوں کی سکت دم توڑ چکی ہے۔ حازم نے پر شوق نظروں سے آرزو کو دیکھا تو وہ بوکھلا کر ورق گردانی کرنے لگی۔
گھبرائیں نہیں ! میں نے تمام اخلاق سیکھے ہوئے ہیں۔
آپ فی الحال امتحانات پر توجہ دیں۔
یکدم آرزو کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔
آپ زیادہ پھیلیں نہیں !
اگر اسکو پھیلنا بولتے ہیں تو سکڑنا پتا نہیں کیسا ہو گا؟!
جیسا بھی ہو مجھے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے پسند نہیں ہیں !
تو پھر آپکو کیا پسند ہے ؟ اپنی شیریں زبان سے سمجھا دیں تاکہ خاکسار اسی پر عمل پیرا ہو.!
دیکھا ہے آپ پھر مجھے زچ کر رہے ہیں!
آپ چھوئی موئی ہیں جو اتنی جلدی زچ ہو جاتی ہیں۔!
جب سے ہماری شادی ہوئی ہے آپ نے ایک بھی اچھی بات نہیں کی ہے میرے بارے میں!
آرزو نے پھسر پھسر رونا شروع کر دیا۔
یا رب ! میں کس عذاب میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ حازم نے پلنگ کے کونے پر ٹکتے ہوئے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔
جبکہ آرزو ہنوز سڑ سڑ کیے جا رہی تھی۔
دیکھا ہے ! آپ نے مجھے عذاب بولا ہے !
حازم کو سمجھ نہیں آ رہی تھی اس جھگڑالو لڑکی کو کیسے سیدھا کرے۔
آرزو آپ مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟
جب سے شادی ہوئی آپ نے میرے ساتھ سیدھے منہ بات تک نہیں کی ، میری پسند ناپسند ، یا میرے بارے میں جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ہے ، آپکی سوئی تو صرف فقر پر اٹکی ہوئی ہے۔ جیسے میں کسی تیسری دنیا کا عجوبہ ہوں جو آپ کے ساتھ وقتی طور پر زبردستی باندھ دیا گیا ہوں۔
آپ نے مجھے انسان سمجھا ہی کب ہے ؟!
ناچاہتے ہوئے بھی حازم کا لہجہ تلخ ہو گیا۔
آنکھیں شدت غم سے لال ہونا شروع ہو گئیں۔ ناچاہتے ہوئے بھی آگے بڑھ کر روتی ہوئی آرزو کا چہرہ اپنے بھاری مضبوط ہاتھ میں جکڑ لیا۔
بولو جواب دو !
جب سے میرے ساتھ رابطہ کیا ہے کونسی خیر والی بات کی ہے؟ ہر وقت منفی بات اور میری جگ ہنسائی کرتی آ رہی ہو!
کیا میں انسان نہیں ہوں ؟ کیا میرے جزبات احساسات نہیں ہیں؟ میں کوئی راہ گیر ہوں جسے آپ اپنی مرضی کے مطابق گزر گاہ سے گزرے کی اجازت نہیں ہے.!اتنا گرا پڑا ہوں میں ؟ جب چاہتی ہو دھتکار دیتی ہو۔! کان کھول کر سن لو آج کے بعد آپکی کی یہ زبان درازی سنائی دی تو میرے سے برا کوئی نہیں ہو گا۔!
فقیر ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے !غربت و افلاس کوئی جرم نہیں ہے مگر آپ جیسے مادہ پرست لوگوں نے اس کو جرم بنا ڈالا ہے۔ ہم جیسے غریبوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے لوگ خود گری ہوئی سوچ کے مالک ہوتے ہیں، جنہیں مال کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ہے۔ کان کھول کر سن لو ! حازم نے شدید غصے میں آرزو کے چہرے کو جکڑا ہوا تھا۔ آرزو حازم کی شفاف آنکھوں میں لالی کے ڈورے دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی، آرزو کی دراز زبان تالو کے ساتھ چپک گئی۔
مشکل سے گلے میں پھنسی ہوئی آواز نکالی.
حازم مجھے چھوڑ دیں ،مجھے درد ہو رہا ہے ۔ میرا جبڑا دکھ رہا ہے۔
آنسو تواتر سے گول گالوں کو بھگو رہے تھے۔
حازم نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا اور فورا اپنا مضبوط ہاتھ آرزو کے چہرے سے ہٹا لیا۔
پلنگ سے اٹھتے ہوئے گویا ہوا اور ہاں میرے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کے لئے بہت شکریہ۔!
لمبی سانس کھینچی اور سرعت سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
آرزو کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
پہلے سے ہی ٹوٹا دل شکوہ کناں تھا اب باقی کسر حازم کے غصے نے نکال دی۔
******************************************
حازم مغرب کا گھر سے نکلا عشاء کے بعد گھر لوٹا تو سیدھا والدین کے کمرے میں چلا گیا۔ جانتا تھا کہ اگر ابھی آرزو نے زبان چلائی تو اس کا پارہ ہائی ہو جائے گا۔
کھانا لے آؤں حازم ؟
نہیں امی بھوک نہیں ہے۔
کیوں بیٹا دن میں بھی کچھ نہیں کھایا یے۔
دلہن کو کھانے کے لیے بلانے گئی ہوں تو وہ بھی سو رہی ہے۔
جی امی اس پر پڑھائی کا بہت دباؤ ہے ۔ حازم نے نظر چراتے ہوئے اپنی اور آرزو کے درمیان ہونے والی جھڑپ پر پردہ پوشی کی۔
بیٹا ولیمہ میں ابھی پانچ دن باقی ہیں ۔ قمر
صاحب کے تمام اہلِ خانہ کراچی سے آئیں گے تو میں اور تمہاری ماں نے سوچا ہے کہ بیٹھک کو خالی کر کے ان سب کے سونے کا انتظام کر لیتے ہیں ۔ جی ابو جیسے آپکو مناسب لگے اور ویسے بھی آرزو کے امتحانات بھی قریب ہیں اسکو بھی ساتھ ہی بھجوا دیتے ہیں، تم بھی دو چار دن سسرال ٹھہر جانا۔
ابو میرا ٹھہرنا درست نہیں ہے اور ویسے بھی آپ نے پانچویں رمضان مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہو جانا ہے ۔
تو کیا ہوا بیٹا۔
نہیں ابو آپ نے پندرہ سال اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے دن رات جان ماری اور پیسے جمع کیے ہیں۔
میں نہیں چاہتا کہ آپ مکہ مکرمہ سفر سے پہلے ہی بیمار پڑ جائیں۔
ارے بیٹا قمر صاحب کیا سوچیں گے ؟ بہو اکیلی بھیج دی ہے۔
ابو آپ پریشان نہ ہوں، جب وہ امتحانات سے فارغ ہو جائے گی تو میں اسے واپس لے آؤں گا۔
بلکہ اس کے لیے اچھا تھا ابھی بھیج دیتے تاکہ آرام سے اپنی پڑھائی پر توجہ دیتی۔ مگر ابھی ولیمہ والا مسئلہ بیچ میں آ گیا ہے۔
ارے بیٹا ولیمہ کو مسئلہ تو نہ بولو ، یہ تو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یے۔
جی ابو سنت تو ہے مگر ہمارے رشتہ داروں نے ہمارے ولیمہ کا بھی خوب ٹھٹھہ بنانا ہے، نجانے کتنے کیڑے نکالیں گے۔
حازم نے غمگین دل سے امی ابو سے شکوہ کر ڈالا۔
ارے بیٹا وہ لوگ اپنی زبان میلی کرتے ہیں تو کرنے دو ، ہمارے پاس جتنا مال موجود ہے ہم تو اپنی حیثیت کے مطابق ہی چلیں گے۔ امی نے بھی دکھی دل سے بیٹے کی ڈھارس بندھائی۔
جاؤ بیٹا آرام کرو ، صبح سے اٹھے ہو اور بہو اگر اٹھی ہے تو بتاؤ میں کھانا گرم کر دوں، دونوں اکھٹے کھا لو !
ویسے بیٹا ہماری بہو ہے بہت خوب صورت اور محبت کرنے والے ، ہم دونوں کے ساتھ تو ایسے بات چیت کر رہی تھی جیسے برسوں سے شناسائی ہو ماشاءاللہ۔
حازم دھیرے سے مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا، جہاں پر ظالم حسینہ مدہوش پڑی تھی۔
کمرے کی چٹکی چڑھا کر بتی جلائی تو نظر آرزو کے مکھڑے پر گئی جس پر آنسوؤں کے نشان خشک ہو چکے تھے۔
میں کچھ زیادہ ہی سختی کر گیا ہوں ، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، اس عمر میں لڑکیوں کے سو خواب ہوتے ہیں، خواہشات ہوتی ہیں۔ پر یہ میرے ساتھ زبان درازی بھی تو بہت کرتی ہے، ہر بات کا جواب بنا میری عمر کا لحاظ کیے ، بلاجھجک میرے منہ پر دے مارتی ہے۔
اسکو اگر ابھی نہیں روکوں گا تو یہ میرے سر چڑھ جائے گی۔
پیار سے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر اسے کوئی بات اثر ہی نہیں کرتی ہے۔
حازم ٹکٹکی باندھے آرزو کے چہرے کا طواف کر رہا تھا جو یقیناً خوب رو دھو کر تھک ہار کے سو گئی تھی۔
میرے خیال میں اسے کھانے کے لیے اٹھا دوں۔ نہیں رہنے دیتا ہوں اگر دوبارہ واویلا شروع کر دیا تو امی ابو کو پتا چل جائے گا ، خواہ مخواہ کی بدمزگی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
حازم نے اپنا بڑھتا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیا ، کمرے کی بتی بجھا کر اپنی چارپائی کا رخ کر گیا۔
کیا فائدہ ایسی شادی کا ؟ نا یہ لڑکی خوش ہے اور میرا سکون بھی غارت ہو چکا ہے۔
اپنی تنگدستی پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہونے لگی ہے۔ میرے مالک میں تو حریصِ محبت ہوں ، میری حرص ، میری طمع ، میری فطرت کبھی بھی مال پر فریفتہ نہیں رہی ہے میرے مالک! میری اس بیوی کو بھی ایسا بنا دے آمین۔
آدھی رات تک کروٹیں بدل بدل کر آخر نیند مہربان ہو ہی گئی۔
******************************************
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“صبر ہر چیز سے بڑھ کر بہترین اور وسیع تر عطیہ ہے”( صحیح بخاری:1469)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“یقیناً وہی صبر ہے جو ابتدائے صدمہ میں ہو”( صحیح بخاری:238)
“میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ سے کرتا ہوں”(سورہ یوسف:86)
******************************************
حسب معمول صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی ، کمرے کی بتی جل رہی تھی مگر آرزو غائب تھی۔ کھڑکی سے باہر چھوٹے سے آنگن میں جھانکا تو گھپ اندھیرا تھا۔
اچانک گھبراہٹ طاری ہو گئی ، آرزو کہاں چلی گئی ہے؟
چھلانگ لگا کر بستر سے نکل کر صحن کی بتی جلا کر دائیں بائیں دیکھا مگر مکمل سکوت، بیٹھک میں جھانکا ، باورچی خانے میں دیکھا۔ امی ابو کے کمرے کا بند دروازہ بھی منہ چڑھا رہا تھا۔
یا رب یہ لڑکی کہاں چلی گئی ہے ؟!۔ چند ثانیے ہی گزرے کہ آرزو صاحبہ بالوں میں تولیہ لپیٹے بیت الخلاء سے وارد ہوئیں۔
حازم نے سکھ کا سانس لیا اور آگے بڑھ کر آرزو کو کندھوں سے پکڑ کر کمرے میں کھینچ لایا۔
آرزو آپ نے مجھے پریشان کر دیا تھا۔
کمرے میں پہنچتے ساتھ ہی حازم نے الجھے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
آرزو نے بنا جواب دیئے پھولا چہرہ موڑ لیا اور بال نچوڑنے لگی۔
آرزو مجھے پتا ہے آپ میرے ساتھ خفا ہو مگر ابھی تفصیلی بات کرنے کا وقت نہیں ہے مجھے نماز سے لوٹنے دو پھر آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے ان شاءاللہ۔ میری جماعت کا وقت نکل جائے گا۔
حازم نے عجلت میں بیت الخلاء کا رخ کیا اور ادھر سے ہی مسجد کے لئے نکل کھڑا ہوا جبکہ ابو پہلے سے ہی مسجد میں موجود تھے۔
گھر واپسی پر آرزو کو سجدہ ریز دیکھ کر دلی اطمینان ہوا۔
پلنگ کے ایک کونے میں ٹک کر آرزو کا انتظار کرنے لگا۔
نماز سے فراغت کے بعد بھی آرزو پھولے چہرے کے ساتھ حازم کو نظر انداز کر کے کتاب لے کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
آرزو آپ ناراض ہو میرے ساتھ ؟
میری طرف دیکھو آرزو!
آرزو نے تو جیسے چپ کا روزہ رکھ لیا تھا۔ کتاب پر نظریں جمائے حازم کو ستا رہی تھی۔
حازم نے پانچ منٹ انتظار کے بعد آگے بڑھ کر آرزو کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا اور بولا۔ کل میں نے آپکو غصے میں یہاں سے پکڑا تھا نا ؟؟؟
آرزو پھولے چہرے اور اتھل پتھل دھڑکنوں کے ساتھ حازم کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھے جا رہی تھی۔
ابھی پھاہے بھی رکھ دیتا ہوں ۔حازم نے آرزو کے گالوں پر مہر محبت ثبت کر دی ۔ میں تو حریص محبت ہوں آرزو! میرے ساتھ ایسی بے اعتنائی نہ برتو ! بولو ابھی آپ میرے سے ناراض نہیں ہو!
میرا وعدہ ہے آج آپکو کیمسٹری، بائیو ، فزکس اور ریاضی میں پوری مدد کروں گا وہ بھی مکمل طور پر مفت۔!
حازم پورے جذب کے ساتھ اپنے دلی جذبات آرزو کے گوش گزار کر رہا تھا جبکہ آرزو کی آنکھیں جہلم میں آنے والے سیلابی ریلے کا سماں باندھ رہی تھیں۔
فرش پر دو زانو بیٹھا حازم آرزو کی ایک ہاں کا منتظر تھا مگر آرزو ڈھیٹوں کی سردار بھاں بھاں روئے جا رہی تھی۔
آرزو اللہ کا واسطہ ہے چپ ہو جاؤ ورنہ میں نے ایک جانپڑ لگا دینا ہے۔
حازم نے آرزو کو صرف ڈرانے کی نیت سے دھمکایا مگر دلخراش نتائج سے اس کی بچی کھچی ہمت بھی جواب دے گئی۔
ہچکیاں اور غم زدہ نظروں کے تیر حازم کی ازدواجی زندگی میں ساون کی برکھا کی سی منظر کشی پیش کر رہے تھے۔
اچھا رو لو جتنا رونا ہے جب فارغ ہو گئی تو مجھے بتا دینا۔ میں آج کام پر نہیں جا رہا ہوں۔
حازم نے بیزار لہجے میں بولا اور دوبارہ چارپائی پر نیم دراز ہو گیا۔
چند لمحوں بعد زوردار آواز………………
