Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Harees e Muhabbat by Umme Umair

حازم بیٹا شادی کے کپڑے پھر کراچی قمر صاحب کے گھر پہنچ کر ہی پہن لینا ورنہ اتنے لمبے سفر میں ستیا ناس ہو جائے گا۔
جی امی جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں ، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
حازم نے ڈولتے دل کے ساتھ جواب دیا ، کسی انہونی کا خوف اندر ہی اندر ستائے جا رہا تھا۔ مگر دل نہ مانتا کہ والدین کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کرے۔ خود ہی دن رات اس بھٹی میں جل رہا تھا۔
ریل میں سوار ہوتے ہی آرزو کا پیغام موصول ہوا، "ابھی بھی وقت ہے لوٹ جاؤ ،میں نے عین نکاح کے وقت انکار کر دینا ہے"۔
یکدم حازم کا گلا خشک ہو گیا، جی چاہا چیخ چیخ کر امی ابو کو بولے کہ ہمارا سفر رائگاں جائے گا ، چلو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ مگر پھر ایک امید اور ایک آس تھی جو کہ اسے قمر صاحب کی نفیس طبیعیت میں نظر آئی تھی کہ انکی تربیت میں کھوٹ نہیں ہو سکتا ہے۔ انکی بیٹی انکی عزت کو خاک میں نہیں ملائے گی۔
طفل تسلی دے کر خود پر وقتی قابو پا لیا مگر دل شدید قسم کی تشنگی محسوس کر رہا تھا۔ ہم مفلسوں کی زندگی کے غم بھی نرالے ہیں، کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں ہے۔
بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کا تھکا دینے والا سفر رو دھو کر منزل مقصود تک لے آیا۔
گزرنے والا ایک ایک لمحہ اذیت ناک تھا مگر حازم یہ سب تن تنہا اپنی جان پر جھیل رہا تھا۔
"آرزو پاگل تو نہیں ہو گئی ہو ۔! بھلا یہ وقت ہے رونے دھونے کا۔؟ کل شادی ہے اور تم نے پاگل پنے کی انتہا کر دی ہے"۔
امی میں نے پہلے بھی بولا تھا کہ مجھے شعبہ طب میں جانا ہے مگر میری کسی کو پرواہ ہو تو ہے نا.!!
آرزو تجھے تیرے ابو نے واضح کر دیا تھا کہ کالج کی فیس اور ہوسٹل کا خرچہ برداشت نہیں کر پاؤں گا تو آگے بی ایس سی میں چلی جانا ، پھر تیری کھوپڑی میں یہ بات کیوں نہیں بیٹھتی ہے۔؟ امی نے زچ ہو کر آرزو کو گھورا۔
" امی میرے سارے امتحانات میں یہ شادی والا ٹنٹا چلتا رہا ہے" ۔ آرزو نے زار و قطار اپنی آہ و زاری جاری رکھی۔
" تمہارے ابا نے تمہاری رضا مندی سے رشتہ طے کیا تھا تو اب اچانک کونسے کیڑے نظر آنے لگے ہیں اس رشتے میں"۔؟
"وہ وقت اور تھا مگر اب وقت بدل گیا ہے ، آپا کا رشتہ اتنے بڑے گھرانے میں کیا ہے ، نوکر چاکر، گاڑی بنگلہ اور میرے لیے آپکو وہ کنگلہ حازم ملا تھا"؟۔
"اے لڑکی چلو بھر پانی میں ڈوب مرو ! کچھ حیا کر! بڑی کا اپنا نصیب اور تیرا اپنا نصیب ہے ، تو کس لیے دوسروں کو دیکھ کر اپنے مقدر پر شکوہ کنائی کرتی ہے۔؟ اے شکر کر اتنا شریف ، نیک لڑکا مل گیا ہے جس کی شرافت کے چرچے جہلم شہر کی شاندار چوک میں ہیں۔ تمہارے باپ نے سفید بال دھوپ میں بیٹھ کر نہیں کیے ہیں ، رشتہ طے کرنے سے پہلے فون پر اپنی ساری تحقیق کروائی ہے ۔ اماں نے سالن چولہے پر چڑھاتے ہوئے قہر آلود نظروں سے آرزو کو لتاڑا۔ فون ایک شخص کو نہیں بلکہ اس مارکیٹ کے مختلف دکانداروں سے اس سلسلے میں تسلی کی ہے۔
باورچی خانے کے دروازے پر کھڑی آرزو کے آنسو تواتر سے گر رہے تھے۔ "اماں اس کے پاس چار پیسے ہوتے تو رخصتی کے بعد جہاز پر لے کر جاتا، مگر کنگلہ جو ہے اس لیے مجھے ریل پر خوار کروائے گا۔"
"کچھ عقل کو ہاتھ مار آرزو جیسے تیرا باپ دادا جہاز پر ہی سفر کرتا رہا ہے جو وہ بیچارہ تجھے جہاز پر لے کر جائے"۔۔ آرزو کے رونے میں مزید روانی آ گئی۔
دلہنیا کے گھر پہنچنے پر دلہا کو کپڑے بدلنے کا عندیہ سنایا گیا جبکہ مولوی صاحب کی آمد بھی بہت جلد متوقع تھی۔
کپڑوں سے فراغت کے بعد کھانا پیش کیا گیا ، گھر میں معمول کے مطابق چہل پہل تھی۔ تمام قریبی دوست احباب مدعو تھے۔
چند ضروری وضاحتوں کے بعد نکاح خواں نے کاغذی کاروائی شروع کر دی اور ایجاب و قبول کے لیے رجسٹریشن فارم گھر کے اندر بھیج دیا گیا۔
حازم کو ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہو گئے۔ خود سے زیادہ بوڑھے ماں باپ کا امیدوں بھرا چہرہ بار بار پریشان کر رہا تھا۔
پتا نہیں میں نے نا بتا کر غلطی تو نہیں کر دی۔ مگر اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یارب تو ہی ہم سب کی عزت رکھ لے اور اس اڑیل کو کچھ عقل دے دے آمین۔
سوچوں میں غلطاں حازم نے جھکی گردن کو اس وقت اوپر اٹھایا جب قمر صاحب ہاتھ میں پکڑے رجسٹر کو لے کر واپس لوٹے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *