Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03
سوچوں میں غلطاں حازم نے جھکی گردن کو اس وقت اوپر اٹھایا جب قمر صاحب ہاتھ میں پکڑے رجسٹر کو لئے واپس لوٹے۔
حازم نے بیتابی سے ابو کی جانب دیکھا جو میٹھی مسکراہٹ لیے آگے بڑھے اور قمر صاحب کے بغل گیر ہوگئے، کمرے میں مبارک باد کے مبارک الفاظ گونجنے لگے، حازم بے یقینی کی کیفیت میں اپنے ارد گرد بڑھتے مرد حضرات کے ساتھ مصافحہ اور معانقہ کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ دل ودماغ پر چھائے تشنگی کے بادل چھٹ گئے۔
دل میں تکمیل نکاح کی خوشی میٹھی پھوار بن کر برسنے لگی۔ آرزو کو ایک نظر دیکھنے کی چاہ سر اٹھانے لگی، مگر ساتھ اسکے دھمکی آمیز پیغامات نے خوش وقتی خمار پر اوس ڈال دی۔
ریل کی کراچی سے روانگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تین لوگوں کی بارات کو فی الفور رخصتی کا عندیہ سنا دیا گیا۔
آرزو جو بڑی بہن کے گلے لگے زار وقطار روئے جارہی تھی، رخصتی کی خبر سن کر ہچکیاں بندھ گئیں، رافعہ، نائلہ، حدیقہ سبھی دل جوئی میں لگ گئے مگر آرزو کا بیقرار دل کسی صورت حازم کے ساتھ جہلم آنے کے لیے مان نہیں رہا تھا۔
حدیقہ آپا کی سرگوشی نے کچھ دیر کے لیے آرزو کو سوچنے کے قابل بنایا اور موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حازم کی امی کو کمرے میں بلا کر آرزو کا ہاتھ انکے ہاتھ میں دے دیا گیا۔
ریشماں بیگم نے آگے بڑھ کر آرزو کو اپنے سینے سے لگا کر ماتھا چوما اور بڑی چادر اوڑھا کر رخصتی کی اجازت چاہی۔
“خالہ میں اور میرے میاں آپ سب کو ریل اسٹیشن تک پہنچا آتے ہیں، ہماری بڑی گاڑی بالکل دروازے کے پاس باہر کھڑی ہے”۔
“ارے نہیں بیٹی اللہ آپ سب کا بھلا کرے حازم نے تمام انتظامات گھر سے نکلنے سے پہلے کر لیے تھے ، تمہیں تو پتا ہے نا گوگل پر سفر کے اوقات اور گاڑیوں کی دستیابی سب میسر ہے “۔
ارے خالہ کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ سیف بالکل بھی برا نہیں منائیں گے، آپ انکی طرف سے بےفکر ہو جائیں۔
چلو بیٹی پھر جیسے آپ لوگوں کی مرضی ہے، اندر مردوں سے مشورہ کر لیں، ۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ حازم کی امی نے شیرنی لہجے میں بات کو سمیٹا۔
حدیقہ ہاں میں جواب پاتے ہی شوہر کو فون ملانے لگی۔
ریشماں بیگم آرزو کی اماں کی دل جوئی میں لگ گئیں۔۔۔ بہن آپ آرزو کی طرف سے بالکل بے فکر ہو جائیں ،ہم اسے اپنی بیٹی بنا کر لے کر جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ ایسے ہی رکھیں گے، ہماری اور حازم کی طرف سے آپکو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ پاس پڑی کرسی پر براجمان آرزو کا دل چھلنی ہوا جا رہا تھا مگر گردن جھکائے قیمتی موتی بے مول ہو کر دامن بھگو رہے تھے۔
******************************************
“میری ہمسفر بننے کے لئے بہت شکریہ”۔! حازم نے ریل کے ڈبے میں داخل ہونے سے پہلے ہی چادر میں لپٹی آرزو کا ہاتھ تھام لیا اور نشست سنبھالتے ہی پہلی سرگوشی کا آغاز کیا۔
امی ابو کے شدید اصرار پر دلہا دلہن کے لیے ریل کا الگ والا ڈبہ بک کروایا گیا جبکہ وہ دونوں خود عام عوام کے ساتھ براجمان تھے۔۔ حازم کے بارہا منع کرنے کے باوجود بھی اسکی ایک نہ چلی۔
تیز گام ریل مسافروں کو لئے چکا چک اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھی۔ ریل کی رفتار کے ساتھ آرزو کے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جا رہی تھی۔
عروسی لباس کو تو وہ شروع سے ہی رد کر چکی تھی ، سادہ سے کالے پھول دار لینن کے لمبے کرتے کے ساتھ بڑی سی چادر کو اپنے چاروں اطراف لپیٹے ،گردن جھکائے اپنی نشست پر بیٹھی انگلیاں مروڑ رہی تھی، جبکہ حازم اسکی ایک ایک حرکت سے باخبر تھا جو کہ آرزو کو عرق آلود کیے جا رہا تھا۔
سامنے بیٹھی عمر رسیدہ عورت سے رہا نہ گیا تو نوبیاہتا جوڑے سے مسکراتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔ لگتا ہے بیٹا نئی نئی شادی ہوئی ہے آپ دونوں کی۔؟
“جی خالہ ہماری شادی آج ہی ہوئی ہے۔”
حازم نے مسکرا کر بولتے ساتھ ہی آرزو کا ہاتھ دوبارہ سے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور سہلانے لگا۔
آرزو کی بچی کھچی ہمت بھی جواب دے گئی۔
“بیٹا بہت بہت مبارک ہو! چاند سورج کی جوڑی ہے ماشاءاللہ”۔ خالہ نے پرشوق نظروں سے آرزو کا معائنہ شروع کر دیا۔ جبکہ حازم اندر ہی اندر آرزو کی حالت پر محفوظ ہو رہا تھا۔
” زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کچھ تو شرم کر لیں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہیں”۔ آرزو نے دانت چبا کر جھکی گردن کے ساتھ سرگوشی کی۔
حازم نے آرزو کا ہاتھ مزید دبایا اور بولا ، آپ بے فکر رہیں اگر کسی کو کوئی شک گزرا تو آپکی ملکیت کا لائسنس میری جیب میں پڑا ہے، فورا نکال کر دکھا دوں گا”۔
میں نے بولا ہے اپنی حد میں رہیں۔!
” بھئی میں کونسا سرحد پار بم پھینکنے جا رہا ہوں”۔؟
“شرم و حیا بھی کچھ چیز ہوتی ہے، اگر نہیں ہے تو سیکھ لیں۔”
“ابھی آپ آگئی ہیں تو فوراً سیکھ لوں گا کیونکہ مجھے ہر نئی چیز سیکھنے کا بے حد شوق ہے”۔ حازم نے آگے جھک کر آرزو کی آنکھوں میں جھانکا۔
آرزو کا جی چاہ رہا تھا دھاڑیں مار کر روئے۔
کس مصیبت میں گرفتار ہو گئی ہوں۔؟ دونوں کی کاٹ دار سرگوشیاں اپنے عروج پر تھیں۔
“بیٹا کیا نام ہے آپکا اور آپکی دلہن کا” ؟ سامنے والی متجسس ہستی کو بھی شاید اپنا بیتا زمانہ یاد آ گیا تھا۔
“جی خالہ میرا نام حازم ہے اور میری دلہن کا نام آرزو ہے”۔
دونوں کے نام بہت خوبصورت ہیں ماشاءاللہ۔ بیٹا حازم نام کا کیا معنی ہے؟
“حازم کا مطلب ذہین اور معاملہ فہم ہے ۔”
حازم نے ادب و احترام کے ساتھ جواب دیا۔
“ہونہہ معاملہ فہم کو تو دیکھو ذرا۔!!!”
“باتیں تو ایسے کر رہے ہیں جیسے سگی خالہ بیٹھی ہوں سامنے”۔ آرزو نے کھول کر بولا۔
“دلہن جی آپ کیوں غم کھاتی ہیں؟ انکی عمر 70 کا ہندسہ عبور کر رہی ہے۔ میرے لیے تو قابل احترام ہیں اور وہ جو بھی بات پوچھیں گی میں عزت کے ساتھ بتاؤں گا اور محبت سے پیش بھی آؤں گا۔ آخر ہماری زندگی کے یادگار ترین سفر کی ساتھی ہیں”۔ حازم نے ترین کو جوش خطابت میں لمبا کھینچا۔
دونوں کی نوک جھونک جاری تھی جبکہ بزرگ خاتون نے بنکر کا رخ کیا اور سونے کے لیے پر تولنے لگیں۔ بزرگ خاتون کے دائیں بائیں انکا قبیلہ بھی ہمسفر تھا جن میں سات سال سے لے کر بارہ سال کے آٹھ سے دس بچے بھی شاملِ سفر تھے۔ بچوں نے ریل میں سوار ہوتے ہی پہلے تو چپسوں کو کرچ کرچ کھایا اور پھر ریل کے پٹڑی پر رینگتے ہی اونگھنا شروع کر دیا۔
اب حازم کے لیے میدان خالی تھا ، وہ گھر سے یہی سوچ کر آیا تھا کہ سفر میں دلہن کی ساری غلط فہمیاں دور کر دے گا ۔ مگر یہاں تو مزاج ہی نہیں مل رہے تھے۔
ویسے آپ میرے ساتھ اتنی ناراض کیوں ہیں؟
جیسے آپکو تو کوئی خبر نہیں ہے ۔ جواب کے بجائے نیا سوال داغا گیا۔
“میں اتنی گئی گزری ہوں جس کو آپ نے مسلسل ایک ہفتہ نظر انداز کیا تھا”۔
آپکو میں نے بول دیا تھا کہ یہ فیصلہ بزرگوں نے کیا ہے تو انہی سے رجوع بھی فرمایں۔ میں نے کچھ غلط تو نہیں بولا تھا ویسے؟!
حازم نے کان کے قریب دوبارہ سرگوشی کی۔
“آپ ذرا فاصلے پر ہو کر تشریف رکھیں میں بہری نہیں ہوں ، واضح سنائی دیتا ہے مجھے”۔ آرزو نے اپنی چادر کو کھینچ کر گھونگھٹ گرا کر آدھا چہرہ چھپا لیا۔
“ہائے سنائی تو دیتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا ہے۔” حازم نے چوٹ کی۔
“گھر پہنچ کر سنائی کے ساتھ ساتھ دکھائی بھی دینے لگے گا”۔ “کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک دن کی دلہن ہے” ؟ “
جو پاس تشریف فرما ہیں وہ کہہ بھی چکے ہیں اور مان بھی چکے ہیں”۔آرزو ہر بات کے ساتھ حازم کو لاجواب کر رہی تھی۔
“آپ یہ میڈیکل کالج والا غصہ میرے اوپر تو نہ نکالیں” ۔!
کیا آپ نے میری بات مانی تھی ۔,؟
“میں کیوں اپنا نقصان کرتا” ؟
“اپنے نقصان کی کتنی فکر تھی اور میری ذرا بھی پرواہ نہ کی”۔
جذبات میں بولتے ہوئے آرزو نے اپنے الفاظ پر غور نہ کیا مگر بعد میں پچھتائی۔
حازم نے گلا کھنکارا اور رسانیت سے بولا۔ “آرزو مجھے آپکی ہی تو فکر تھی اسی لیے تو آپکو ساتھ لے آیا ہوں، ہر وقت اپنے دل کے قریب رکھنے کے لئے!۔”
آرزو کے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہونے لگیں فورا ہاتھ چھڑا کر باہر کے مناظر دیکھنے لگی۔
“ابھی کونسا کبیرہ گناہ سرزد ہو گیا ہے جو اتنی بے رخی فرمائی جا رہی ہے۔؟حازم نے بے تابی ظاہر کی۔
“مجھے ایسی چھچھوری حرکتیں بالکل بھی پسند نہیں ہیں۔”
“اور مجھے تو بہت پسند ہیں۔”
“آپ اپنی پسند کا ہی کیوں سوچتے ہیں”؟
“میں نے تو آپکو آپکی پسند کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا اور ساتھ میں حل بھی بتلا دیا تھا ۔”اگر آپکو ہماری شادی پر غصہ ہے تو جتنا غصہ نکالنا ہے سفر میں ہی نکال لیں ورنہ میرے چھوٹے سے گھر میں آپکے شکوے ماند پڑ جائیں گے۔”
مطلب۔؟
“مطلب یہ ہے کہ بہت احتیاط کرنا ہو گی ، میرے بوڑھے والدین کے کانوں تک کسی قسم کا کوئی شکوہ نہ پہنچے،میرے والدین آپکو بہت چاؤ اور محبت سے لا رہے ہیں، میری ماں آپکی آمد کی خوشی میں کتنی راتیں نہیں سو پائی ہیں۔”
اور آپ .؟؟ آرزو کی زبان دوبارہ سے پھسل گئی۔
حازم نے آرزو کا ہاتھ دوبارہ سے اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے خمار آلود لہجے میں بولا۔ میں بھی ایک ہفتے سے ٹھیک طرح سے سو نہیں پایا کیونکہ آپ کی جاندار دھمکیوں نے مجھے بھی بہت بے چین کیے رکھا تھا، اسی بات کا قلق تھا کہ یہ نا ہو کہ ہمارے کراچی پہنچنے پر آپ نے اگر عین نکاح کے وقت انکار کر دیا تو پھر میرے والدین کا کیا بنے گا۔
“صرف والدین کا قلق تھا؟۔”
“ہاں”۔!
آرزو میرے والدین نے زندگی میں بہت اذیتیں اٹھائی ہیں ، میں نہیں چاہتا انہیں میری ذات سے منسلک کسی بھی بات سے تکلیف پہنچے۔
آپ کے ساتھ کوئی بھی مسئلہ ہو اسے صرف میری ذات تک محدود رکھنا، کبھی بھی میرے والدین کو کسی بات کی بھنک بھی نہ پڑے ۔
حازم کا نہایت سنجیدہ لہجہ آرزو کی بولتی بند کر گیا۔
اور سنائیں امتحانات کی تیاری کیسی جا رہی ہے؟
حازم نے خاموش آرزو کو دوبارہ اپنی طرف متوجہ کیا۔ یکدم آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر آرزو کے گال بھگونے لگے۔
ارے میرا مقصد آپکو پریشان کرنا تو نہیں تھا ، آپ پلیز چپ ہو جائیں۔
حازم کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔
آرزو اگر آپ فیل بھی ہوگئی تو کوئی بات نہیں ،میں آپکو خود پڑھاؤں گا باہر لوگوں کو پڑھاتا ہوں تو اپنی بیوی کو نہیں پڑھاؤں گا۔
آرزو کے رونے میں مزید تیزی آ گئی۔
دیکھیں آپ چپ ہو جائیں پلیز ، ضروری تو نہیں ہے کہ آپ فیل ہوں ، ہو سکتا بورڈ ہی ٹاپ کر جائیں۔
حازم کو اس نازک صورتحال پر قابو پانا نہایت کٹھن لگ رہا تھا۔
گردن گھما کر دیکھا تو مسافروں کی اکثریت اونگھ رہی تھی۔
آرزو دیکھیں آپ دل چھوٹا نہ کریں، اللہ بہتر کرے گا ان شاءاللہ۔
غم و غصّے سے بھری آرزو نے کھا جانے والی سوجھی آنکھوں سے حازم کو گھورا۔
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے “۔
“اب بس ہو گیا ہے۔! اب کیا ہو سکتا ہے آرزو”؟۔!
اور ویسے بھی نیکی کا کام ہی ہوا ہے، حازم نے ڈرتے ہوئے بولا۔
“میں کونسی بدی کر رہی تھی؟ صرف امتحانات ہی سکون سے دینا چاہتی تھی”.
“کیا میں نے آپکو ایک مرتبہ بھی فون کیا یا کوئی پیغام بھیج کر تنگ کیا یا کسی اور قسم کی پریشانی دی” ؟
حازم نے معصومیت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔
آرزو نے غم ناک نظروں سے حازم کی بچی کھچی خوشی بھی ہوا کر دی ۔
“آپکو پتا ہے آپ نے میرے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ہے”۔!
حازم ہقا بقا رہ گیا، حیرت سے ساتھ بیٹھی مستقبل کی ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا کہ جس کے پاس ہر بات کا جواب موجود تھا۔
چند ثانیے خاموشی کی نظر ہو گئے مگر آرزو کا سڑ سڑ رونا جاری و ساری تھا۔
آرزو ادھر دیکھیں پلیز۔! حازم نے دھیمے التجائیہ لہجے میں آرزو کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، آخر غمگین آرزو نے شکوہ کناں نظروں سے حازم کو دیکھا۔
“آرزو آپ مستقبل میں مریضوں کو تو ٹیکے لگائیں گی سو لگائیں گی مگر مجھے تو ابھی سے لگانے شروع کر دیئے ہیں”۔
“کیا مطلب ہے آپ کا “۔؟ آرزو نے تقریباً دھاڑتے ہوئے حازم کو آڑے ہاتھوں لیا۔
“وہ میرا مطلب تھا کہ ہاتھ ذرا سا ہلکا رکھیں آپ ایک دن کی دلہن ہیں اور مجھ غریب کو اپنے آنسوؤں میں ڈبو کر رکھ دیں گی ۔” ہمسائے مسافر بھی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ادھر ہم دونوں مستقبل کے سہانے خواب سجانے کے بجائے جھگڑ رہے ہیں،
یقین کریں مجھے روٹھی بیوی کو منانے کا ذرا برابر بھی تجربہ نہیں ہے”۔حازم نے معصومیت سے بولا۔
“ہو جائے گا تجربہ آہستہ آہستہ”.
“کیوں یہ پیراسٹامول کی گولی ہے یا پیناڈول ہے جو آہستہ آہستہ اثر انداز ہو گی”؟؟
“آپ میری ہر بات کو مزاح کا رنگ نہ دیں تو بہتر ہے ورنہ اچھا نہیں ہو گا آپکے ساتھ”۔!
“ابھی یہ حال ہے تو پتا نہیں اور کتنا کھجل ہوں گا”۔؟حازم نے سوچ کر لمبی سانس کھینچی اور بولا
“اچھا چلیں اگر سامان میں کتابیں بھی ساتھ ہیں تو نکال لیں، اتنا لمبا سفر ہے ۔ کیسے کٹے گا ؟
بہتر ہے اس فارغ وقت کو کسی مفید سرگرمی کی نظر کیا جائے”۔
“میرا نہیں ہے دل ابھی پڑھنے کو”۔! کورا جواب پا کر حازم نے گردن کو دائیں بائیں گھمایا۔
آرزو سفر بہت لمبا ہے بہتر ہے کوئی ایسا کام شروع کیا جائے جس سے دھیان بٹا رہے اور وقت کے گزرنے کی خبر بھی نہ ہو۔
“چلیں پہیلیاں بوجھتے ہیں آپ میرے سے پوچھیں اور میں آپ سے۔! حازم نے جوش سے بولا مگر آرزو کی بیزار شکل دیکھ کر ساری خوشی ہوا ہو گئی۔
“آپ بتاؤ آپ کیا کرنا چاہتی ہو” ؟
“میرے سے بس بات ہی نہ کریں تو بہتر ہے ، میرا دل جلا ہوا یے”.
آپ کا تو جلا ہوا ہے ساتھ میرا تو نہ جلائیں جی ۔،! “دل۔!!!میرا مطلب ہے جی”۔
“آپکو زیادہ بولنے پر ٹرافی ملنی ہے کیا “؟
“فی الحال تو صرف دلہن ملنے کی خواہش ہے، ٹرافی کا اگلے سفر میں سوچیں گے”۔
حازم کا دھیما میٹھا لہجہ آرزو کی دھڑکنیں اتھل پتھل کر گیا۔
“آپ بس پریشان نہ ہوں میں آپکی پوری مدد کروں گا تاکہ آپ میرٹ پر پورا اتر سکیں ان شاءاللہ۔ “
آرزو بنا جواب دیئے خاموشی سے گردن جھکائے حازم کو سن رہی تھی، کبھی جی چاہتا تو باہر کے مناظر پہ ایک آدھ نظر ڈال لیتی یا پھر حازم کے اصرار پر اس پہ اچٹتی نگاہ پر اکتفا کرتی۔
حازم کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے اسکو تسلی دی جائے، دس منٹ خاموشی کی نظر ہو گئے تو حازم نے چار و ناچار جیب میں
