Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09
آرزو دیکھتی رہ گئی اور حازم نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
شام آٹھ بجے قمر صاحب کے فون پر آنے والی کال نے سب کے کان کھڑے کر دیئے۔
بھئی آج تو کمال ہو گیا حدیقہ، سیف بھی آئے گا؟۔
اچھا چلو آ جاؤ ہم آپکے منتظر ہیں۔ قمر صاحب کے فون بند کرتے ہی متجسس اہل خانہ پوچھنے لگے۔
بھئی ابھی حدیقہ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ کچھ ہفتوں کے قیام کے لیے آ رہی ہے سیف کو کہیں کام کے سلسلے میں جانا پڑ رہا ہے تو سیف نے بولا ہے کہ حدیقہ ہمارے یہاں ٹہر جائے۔
سارا گھرانہ خوشی سے نہال ہو رہا تھا جبکہ آرزو گہری نیند میں تھی، کچھ تو طویل سفر کی تھکان اور کچھ حازم کے ساتھ آئے دن چپقلش پر آہ و زاری نے نڈھال کر دیا تھا۔
آرزو شام سے لے کر صبح پانچ بجے تک سوتی رہی ، حسب معمول آنکھ اذان پر کھل گئی اور محسوس ہوا جیسے حازم نماز کے لیے اٹھا رہا ہے۔ یکدم اچھل کر بستر پر بیٹھ گئی۔ اپنے دائیں بائیں دیکھا تو ساتھ حدیقہ آپا سوئی ملیں۔ آنکھوں پر یقین نہ آیا تو مسلنا شروع کر دیا۔ میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی ہوں؟
ہاتھ بڑھا کر بہن کو محسوس کیا ۔ یہ تو واقعی آپا ہیں۔
مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں اور میں یہ سارا وقت سوتی رہی ہوں۔
شکر ہے میں کراچی میں ہوں ، انگڑائی لے کر بستر سے بیت الخلاء کا رخ کیا۔
نماز کی ادائیگی سے قبل نجانے کیوں حازم کا خیال دل میں آ گیا پھر فورا سر جھٹک کر نماز ادا کرنے لگی۔ ادائیگی کے بعد بھی حازم کا مسجد سے لوٹنا اور مخصوص محبت بھری نظروں سے حصار میں لئے رکھنا یاد آنے لگا۔ اچھا ہے جان چھوٹی ہے کنگلے سے ۔ ساری زندگی صرف محبت کا راگ الاپنے سے تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی ہے ، ضروریات زندگی بھی تو پوری کرنا ہوتی ہیں۔ پھر تھپڑ یاد آنے پر آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں۔ کبھی بھی نہیں جاؤں گی اس حازم کنگلے کے پاس۔
نماز ادا کی تو نشست گاہ میں آکر کتابیں کھول لیں۔
******************************************
حازم تھکا ہارا جہلم ریلوے سٹیشن پر اترا تو جیب میں ہاتھ ڈالنے پر فون سمیت ہر چیز غائب تھی ۔ کسی ظالم سماج نے حازم کی جیب کتر ڈالی اور وہ حالات کا ستایا ہوا سوتا ہی رہ گیا۔۔۔ دل میں ایک ٹھیس اٹھی، ہم غریبوں کے غم بھی نرالے ہیں۔ کتنے مہینے لگا کر موبائل کے لیے پیسے جمع کیے تھے وہ بھی چلا گیا اور جو چند ہزار جیب میں تھے وہ بھی گئے۔ اب گھر پیدل ہی چلنا پڑے گا۔ امی ابو کو نہ بتاؤں تو بہتر ہے ورنہ میرے نقصان پر غم کھائیں گے۔
شکستہ حالت میں شکن آلود کرتا شلوار حازم کی مفلسی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ پاؤں میں پہنی کھیڑی کی سلائی بھی ڈھیلی پڑنے لگی۔
ایک گھنٹہ مسلسل چلنے کے بعد اپنی گلی کے قریب پہنچا تو سکھ کا سانس لیا۔ پتا نہیں ابو نے کتنی مرتبہ فون کیا ہوگا ؟! اگر پوچھا تو کیا بتاؤں گا کہ فون کدھر ہے ؟! اسی شش و پنج میں گھر کے اندر داخل ہو گیا۔
فکر مند ماں کو اپنا منتظر پایا۔
حازم کو دیکھتے ہی لپکیں۔
سلام دعا کے بعد پانی پیا ۔ حازم بچے آرزو کی طبیعت کیسی تھی ابھی ؟
امی بہتر تھی۔
بیٹا تمہارے ابو صبح فجر کے بعد سے تمہیں اور آرزو کو کال ملا رہے تھے مگر دونوں کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
امی آرزو سوئی ہو گی اور میرا فون بند تھا۔حازم نے پردہ پوشی کی ۔ پر پتر صبح دکان پر جانے سے پہلے بھی فون کیا ہے تیرے ابو نے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
امی آپکو تو پتا ہے اسکو بس کتابیں دے دو تو وہ دنیا سے بیگانہ ہو جاتی ہے۔ یقیناً فون کہیں رکھ کر پڑھ رہی ہو گی۔ اچھا میرے بیٹے نہا دھو لو اور پھر آرام کرو ۔ تمہارے ابو تو صبح صبح ہی دکان کے لیے نکل گئے ہیں۔
جی بہتر امی ! میں پہلے سوؤں گا پھر غسل لوں گا ، ریل میں آنکھ تو لگی تھی مگر پھر بھی کہاں بستر والا آرام ملتا ہے۔
خالی ہاتھ حازم نے اپنی چارپائی پر لیٹتے ہی اپنے موجودہ حالات پر شکستگی محسوس کی مگر کچھ دیر کی تگ و دو کے بعد نیند مہربان ہو گئی۔
******************************************
آرزو حازم نے اپنے پہنچنے پر کوئی خیر خبر نہیں دی ہے۔؟ اللہ خیر کرے ۔قمر صاحب نے لقمہ توڑتے ہوئے پریشانی ظاہر کی ۔
پتا نہیں بابا میں تو اپنی دہرائی میں مصروف تھی پرسوں میرا پہلا پرچہ ہے۔آرزو نے اپنی بیزارگی چھپاتے ہوئے سعادت مندی سے بولا۔
آرزو کھانے کے بعد فوراً حازم کو فون کرو اور اسکی خیریت دریافت کرو۔امی نے جانچتی نظروں سے تنبیہہ کی۔
آرزو تم بھی نا حد کرتی ہو ویسے ! بندہ اتنا بھی لاپروا اچھا نہیں ہوتا۔ وہ بیچارہ اتنی دور سے صرف تمہیں چھوڑنے کے لیے آیا تھا تو کم ازکم تمہارا اسکی خیریت پوچھنا تو بنتا ہے! حدیقہ آپا بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھیں ۔ سب نے آرزو کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جبکہ چھوٹے دونوں بڑوں کی باتوں کو بس خاموشی سے سن رہے تھے۔
آرزو تمہیں پتہ ہے حبیب صاحب کے مجھ پر کتنے احسانات ہیں؟
نہیں بابا! آرزو نے معصومیت سے جواب دیا۔
بابا اس نے کتابوں سے ہٹ کے سنا یا سوچا ہے کبھی؟ حدیقہ آپا نے مسکراتے ہوئے ٹہوکا دیا۔
آپا اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔ ایک ہفتہ قبل ہی ہمارے گھر سے گئی ہو ، ہم سے بہتر تمہیں کوئی بھی نہیں جانتا ہے۔
آپ سے تو مجھے ناراض رہنا چاہئے تھا مگر مجھے آپکو دیکھتے ہی پیار آ گیا تھا۔
ارے بھئی ناراض کیوں؟
آپ آئی کیوں نہیں تھی جہلم؟
مجھے سیف اچانک اپنے ساتھ چند دن کے لئے نتھیاگلی لے گئے کہ پھر ملک سے باہر ہونگے تو چند ایک کاروباری معاملات نپٹانے تھے۔
حدیقہ نے اپنی ہکلاہٹ پر قابو پایا۔
پھر بھی آپا ، بہن سے آگے نتھیاگلی تو نہیں ہونی چاہئے۔
اب تمہاری شادی ہو گئی ہے ، تم بھی ایسے ہی کرو گی۔
اللہ نہ کرے! آرزو نے دھیمے لہجے میں بولا جسکو حدیقہ سن چکی تھی ۔
امی کی گھوری آرزو کو پہلو بدلنے پر مجبور کر گئی۔
بابا بتائیں نا ! ابھی تو آرزو غور سے سنے گی آپکی ساری بات ، ابھی اس کا سسرال جو ٹہرا ہے۔ حدیقہ نے آرزو کو چھیڑا۔
بابا نے کھانے سے ہاتھ روک کر آرزو کی طرف دیکھا جو ابھی بھی نوالے کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
آرزو آج ہم جس گھر میں سکون سے رہ رہے ہیں نا یہ نیکی حازم کے ابو حبیب صاحب نے مجھے قرض حسنہ دے کر کی تھی۔
آرزو نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
بیٹی ہم دونوں اس وقت فوج میں صوبیدار کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہونے والے تھے کہ تمہارے دادا مرحوم کی شدید خواہش تھی کہ مکان اپنا ہونا چاہئے۔ میرے پاس رقم کم پڑ رہی تھی حبیب چونکہ میرے قریبی دوست تھے اور کراچی میں ہی مقیم تھے، حازم تقریباً دس سال کا ہو گا، شروع سے ہی مہذب اور تمیز دار بچہ۔
بڑا ہی مہذب ہے۔سوچ کر آرزو کا منہ کڑوا ہو گیا۔
بابا حازم بھائی تو ابھی بھی بہت اچھے ہیں ، اتنے ملنسار ہیں۔ چھوٹے احسن نے تعریفوں کے پُل باندھے۔
آرزو نے اپنی سرد مہری قائم رکھتے ہوئے اپنے سامنے سے پلیٹ کھسکائی۔
ہاں بیٹا احسن اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ بابا پھر کیا ہوا؟
احسن نے تجسس سے پوچھا۔
بیٹا پھر انہوں نے بولا فی الوقت میرے سے قرض حسنہ لے لو جب رقم پاس ہوئی مجھے لوٹا دینا۔
میرا مکان تو ہو گیا مگر انکا چھن گیا ۔ وہ کیسے بابا؟
بیٹا انکے سوتیلے بھائی بہنوں نے انکے حصے کی زمین پر قبضہ جما لیا اور انہیں اپنے باپ کی حویلی سے بھی دھتکار دیا۔ اس حادثہ کے قبل ہی حبیب صاحب کے یہاں دو جڑواں بچے پیدا ہوئے جو حالات کی ستم ظریفی پر زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ پائے اور حکم الٰہی پر اللہ کو پیارے ہو گئے۔
ادھر پینشن سے جو پیسہ ملا اس سے گھر کروائے پر لیا، باقی سے اپنا چھوٹا موٹا خشک میوہ جات کا کاروبار شروع کر دیا اور جہلم میں ایک چھوٹے سے مکان میں گزر بسر کرنے لگے ، اس تین مرلے کے گھر کو بھی خریدے ہوئے زیادہ لمبا عرصہ نہیں ہوا۔۔
تو بابا آپ نے انکی رقم لوٹا دی ۔ حسن سے بھی رہا نہ گیا تو پوچھ بیٹھا۔
ہاں بیٹا اسی وقت تو لوٹانا مشکل تھا مگر معاہدے کے مطابق میں سات سال بعد جہلم انکی چھوٹی سی رہائش گاہ پر گیا تو میرا دل تو جیسے مٹھی میں آگیا ، وہ شخص جس نے میرے آشیانے کو آباد کیا ،وہ خود تنگدستی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ اور مجھے ایک مرتبہ بھی تنگ نہیں کیا کہ میری رقم واپس لوٹاو بلکہ معاہدے کا منتظر رہا ۔
اسی روز میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آرزو حازم کی دلہن بنے گی ۔ حازم ان دنوں میٹرک میں تھا پھر حدیقہ کی شادی پر زبردستی سب کو بلوایا تاکہ تم لوگوں کی ماں بھی تسلی کر لے کہ حازم کیسا شریف بچہ ہے۔
آرزو خاموشی سے گردن جھکائے سب سن رہی تھی مگر دل ابھی بھی حازم کے خلاف گواہی دے رہا تھا۔
تو بابا انہوں نے پھر اپنا مکان آپکی لوٹائی ہوئی رقم سے خریدا ؟ ہاں بیٹا کچھ رقم جو میں نے لوٹائی اور باقی اس لاچار شخص کی سالوں کی محنت تھی۔
بیٹا حبیب کے سوتیلوں نے باپ کی موت سے پہلے ہی اس سے سب چھین لیا ۔ حبیب یہی سوچتا تھا کہ کراچی سے واپسی پر اپنے آبائی گھر جا کر رہائش پزیر ہو گا اور کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر لے گا مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
آرزو !
جی بابا!
بیٹی مجھے حبیب اور حازم دونوں بہت عزیز ہیں ، مجھے کبھی بھی کوئی شکایت نہ ملے، ابھی بھی یہ انکی اعلٰی ظرفی ہے کہ تمہیں صرف امتحانات کے لیے ایک ہفتے بعد واپس بھیج دیا وگرنہ کوئی اور سسرال ہوتا تو بولتے پڑھائی رہنے دو اور گھر داری سنبھالو۔
آرزو نے مردہ آواز میں جی بولا۔
یہ جو ابھی وہ لوگ چند دنوں میں عمرہ کے لیے جارہے ہیں پورے پندرہ سال کی محنت کا پیسہ ہے۔
یہ تو میری خواہش تھی کہ تمہارے نکاح کے ساتھ ساتھ رخصتی بھی ابھی کروا لیتے ہیں تاکہ حازم کے والدین بےفکری سے اپنی عبادت کر سکیں، اکلوتا بیٹا ہے انکا ، ورنہ وہ لوگ تو بول رہے تھے کہ تمہارے امتحانات کے بعد شادی رکھ لیتے ہیں۔
آرزو وہ لوگ بہت عاجزانہ اور صلح جو مزاج والے لوگ ہیں۔ تم امتحانات سے فارغ ہو تو پھر میں تمہیں خود جہلم چھوڑ آؤں گا۔ حازم گھر کی چابی دے گیا ہے نا ؟
جی بابا۔! وہ مجھے دے دینا ، تم نے کہیں اسے بھی گم کر دینا ہے۔
ادھر ہی بی ایس سی میں داخلہ لے لینا کوئی تمہیں آگے پڑھنے سے منع نہیں کرے گا۔
سنتے ساتھ ہی آرزو کے چھکے چھوٹ گئے۔
اضطرابی حالت میں آپا اور امی کو دیکھا جو بابا کی ہاں میں ہاں ملا رہیں تھیں۔
ابھی جلدی سے حازم کو فون کرو اور پھر مجھے ساری صورتحال سے آگاہ کرو۔
جی بابا۔ آرزو بیزار دل لیے کھانے کی میز سے اٹھ گئی ، کمرے میں آکر جی چاہا اپنا سر دیوار کے ساتھ دے مارے۔
فون ہاتھ میں پکڑے سوچ رہی تھی کہ آپا بھی پیچھے ہی آن دھمکی۔
آرزو مجھے تم کچھ اکھڑی اکھڑی سے لگ رہی ہو ۔ کیا بات ہے ؟
کچھ خاص نہیں آپا۔ بس کال کی ہے حازم کو مگر فون بند جا رہا ہے۔
بابا کو بولیں وہ اپنے فون سے کوشش کر لیں ، مجھے کل امتحان کے لیے جلدی اٹھنا ہے لہزا میں جلدی سونا چاہتی ہوں۔
حدیقہ نے بھی مزید چھیڑنا مناسب نہ سمجھا اور آرزو کی امتحانات سے فراغت کا انتظار کرنے لگی۔
بابا نے بھی بارہا فون کی کوشش کی مگر وہی صورتحال، پریشانی نے آن گھیرا۔ حدیقہ حبیب صاحب کے گھر کا نمبر ڈائری سے نکال کر لا دو مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے پتا نہیں بچہ کس حال میں ہو گا ۔ چوبیس گھنٹوں سے بھی اوپر کا وقت گزر چکا ہے۔
یارب گھر کا نمبر بھی خراب ہے شاید ؟ چلو کل۔کوشش کرتا ہوں ان شاءاللہ۔
اگلی صبح قمر صاحب کے فون کرنے سے قبل حبیب صاحب نے فون کر دیا اور حازم کی بخیر و عافیت گھر آمد سے آگاہی اور ساتھ میں اپنی روانگی کا بھی بتا دیا۔
حبیب حازم کا فون بند جا رہا ہے؟ قمر صاحب نے بے چینی سے پوچھا ۔
قمر مجھے بھی یہی بات پریشان کیے ہوئے تھی مگر کہہ رہا ہے موبائل میں کوئی خرابی ہو چکی ہے شاید سفر میں کوئی پانی وغیرہ چلا گیا ہے ، اس لیے کام نہیں کر رہا ہے۔
ہماری بیٹی کا بتاؤ اس کا پہلا پرچہ کیسے ہوا ہے ؟
جناب آپکی بیٹی کتابی کیڑا ہے ، کتابیں بھی اس سے پناہ مانگتی ہیں۔ کالج سے واپس آکر سو رہی ہے۔ شام کو بات کرواؤں گا ، تاکہ پھر حازم سے بھی بات ہو جائے گی ۔
ٹھیک ہے پھر گھر والے نمبر پر ہی کال کر لینا۔ اپنی بیٹی سے بات کرنے کے لیے ہم منتظر رہیں گے۔
قمر صاحب نے حسب وعدہ رات کھانے سے فراغت کے بعد اپنے موبائل سے کال ملائی۔
بڑوں نے آپس میں بات چیت کے بعد فون آرزو کو تھما دیا کہ ساس سسر سے تمیز سے بات کرو اور پھر حازم سے بھی۔
حازم جو تین دن سے آرزو کی آواز کو سننے کے لئے بے چین بیٹھا تھا۔ سکھ کا سانس لیا کہ آرزو نے جھگڑے والی بات کسی سے بھی نہیں کی۔
آرزو بابا کا فون اپنے کمرے میں لے جاؤ اور حازم سے آرام سے بات کرو۔ چار و ناچار آرزو کو فون تھامنا پڑا۔
جی !
جی! دونوں طرف سے جی سے شروعات ہو کر جی پر ٹہر رہی تھی۔
جی طبیبہ صاحبہ امتحانات کیسے جا رہے ہیں؟
حازم کی بھاری مردانہ آواز چند لمحوں کے لیے آرزو کی دھڑکنیں منتشر کر گئی۔
جی آپکی دعاؤں سے بہت اچھے ہو رہے ہیں ! آرزو نے دانت پیس کر بولا۔
کاش میری دعاؤں میں اتنا دم ہوتا تو آج میری آرزو مجھ سے یوں روٹھ کر بات نہ کرتی!
آرزو خاموش رہی۔
میں یاد آتا ہوں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں !
مجھے تو آپ بھولتی ہی نہیں ہو ، پلنگ آپ اور آپکی بکھری کتابوں کے بغیر بالکل ویران ہو چکا ہے ۔
تو آپ آباد کریں اپنے پلنگ کو ! آرزو نے زچ ہو کر دھیمے لہجے میں بولا۔
میں چاہتا ہوں وہی ہستی اسے آباد کرے جس کے نام پر یہ خریدا گیا تھا۔
مجھے ابھی جانا ہے کل کے پرچے کی تیاری کرنی ہے ۔
آرزو !
جی !
اپنی خوبصورت آواز سنانے کا بہت شکریہ!
آپ اس طرح کی گفتگو اپنے والدین کے سامنے کر رہے ہیں ؟
میرے والدین کے پاس دماغ موجود ہے ۔ وہ یہاں پر نہیں ہیں اپنے کمرے میں جاچکے ہیں اور میں بیٹھک میں بیٹھا ہوں۔
کیا آپ سب کے سامنے محو گفتگو ہیں ؟ نہیں آپا اور امی نے مجھے کمرے میں بھجوا دیا ہے۔ ماشاءاللہ کتنا اچھا سسرال ہے میرا مگر بیوی۔۔۔ ! حازم نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا۔
بیوی سے کیا مراد ہے ؟ جو آپ اتنے غمگین ہو رہے ہیں؟
بیوی بہت اچھی لگتی ہے مگر !
مگر مگر کرتے رہیں گے یا آگے بھی کچھ بولیں گے؟ آرزو کو تپ چڑھنے لگی۔
حازم کی ہنسی چھوٹ گئی۔
آپ ہر وقت روکھے لہجے میں بات کیوں کرتی ہیں؟ باقیوں کے ساتھ تو بہت نرمی اور محبت سے پیش آتی ہیں، میرے والدین تو آپ کی باتیں کرتے نہیں تھکتے ہیں۔
جس نے جاندار تھپڑ کھائے ہوں اسکی زبان سے شہد نہیں ٹپکتا ہے ۔
اور تھپڑ کھانے کی وجوہات کے بارے میں کبھی سوچا ہے؟
امتحانات سے فراغت کے بعد ضرور سوچئے گا ، میں منتظر رہوں گا۔ چلتا ہوں ابھی ، اپنا خیال رکھنا! اور ہاں مجھے میری آرزو واپس چاہئے جلد از جلد ۔
آرزو کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی۔ جواب دیئے بنا لرزش زدہ ہاتھوں سے فون بند کر دیا۔ پیشانی پہ آئی نمی کو رگڑا۔
پتا نہیں میرا کیا بنے گا؟ ادھر رومانیت جھاڑی جا رہی ہے اور ادھر بابا مجھے واپس بھیجنے کے در پر ہیں۔
ساس سسر کی روانگی بھی ہو گئی ۔
پندرہ اپریل سے لے کر آٹھ مئی بھی گزر گیا ۔ خیر و عافیت سے امتحانات بھی پایہ تکمیل پر پہنچ گئے۔مگر آرزو کا دل جہلم واپسی پر سوچ کر ہی ڈول جاتا۔
امتحانات کے بعد حدیقہ آپا نے آرزو کو ایک دن دھر لیا اور بات کی جڑ میں پہنچ گئی۔
مجھے صاف صاف بتاؤ تم چاہتی کیا ہو؟
آپا ! بولتے ساتھ ہی آرزو نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ آرزو رونا نہیں مجھے بات کی وضاحت چاہیے۔
حازم پسند نہیں ہے کیا؟
آپا آپ دیکھیں اپنی اور میری زندگی میں واضح فرق ہے ، میں ساری زندگی چھوٹی چھوٹی آسائشوں کے لیے ترستی رہوں گی! حازم مجھے کیا دے سکتے ہیں؟!
آرزو ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ہے میری بیوقوف بہن!
آپا میں بھی چاہتی ہوں آپ کی طرح گھوموں پھروں ، اچھا پہنوں ، اچھا اوڑھوں، میرے آگے پیچھے بھی نوکر ہوں۔ حازم صرف دو وقت کی روٹی اور سال میں ایک دو چکر کراچی کا لگوا سکتے ہیں اور اس سے زیادہ مجھے کیا ملنے والا ہے؟ ۔ آپ نے میرا ولیمے کا جوڑا نہیں دیکھا ، درمیانہ سا ،گزارے لائق تھا۔ میرا بھی جی چاہتا ہے کہ جیسے آپ کے سارے چاؤ پورے کیے گئے تھے ویسے میرے بھی ہوتے مگر حازم کے پاس سوائے فقیری، مفلسی کے کچھ بھی نہیں ہے۔
******************************************
اے ایمان والو! تمہارے مال اور اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں”(سورة المنافقون:9)
رسول اکرم اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ کی قسم!میں تمہارے بارے میں فقر و فاقہ کے بارے میں نہیں ڈرتا، مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے تم پر بھی اس طرح کھول دیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دیے گئے تھے، پھر تم بھی انکی طرح دنیا حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگ جاؤ گے اور یہ دنیاوی فروانی تم کو بھی اس طرح فنا کر دے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں کو کیا تھا”( صحیح بخاری:6061)
******************************************
حدیقہ خاموشی سے آرزو کو سن رہی تھی۔
آرزو سوائے میری ذات کے ، میری شان و شوکت کے پچھے ان بھیانک رازوں کا کسی کو بھی علم نہیں ہے ۔
میں تمہیں صرف اس لیے بتا رہی ہوں تاکہ تمہیں میری بات کی سمجھ آ جائے۔
آرزو اگر شادی کی رات حازم شراب کے نشے میں دھت لڑکھڑاتا جھولتا حجلہ عروسی میں آتا اور تمہاری ذات کی دھجیاں بکھیرتا تو تم کیا محسوس کرتی؟
حازم اگر وحشی درندہ بن جاتا جسے عورت ایک اکھاڑے کی سی دکھتی تو تم اسکی دولت پر مان کرتی اور اس کو اپنے دل کا شہزادہ تسلیم کرتی؟
نہیں نا ؟ تم روتی بلکتی اور کہتی کہ میں کس وحشی شخص کے سپرد کر دی گئی ہوں جو دولت اور شان و شوکت کے نشے میں چور اللہ کی بنائی گئی تمام حدیں پار کر رہا ہے۔
حازم تمہیں اپنی وقتی تفریح کا سامان سمجھ کر، تمہیں اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق استعمال کر کے ہر رات ایک نئی عورت کی باہوں میں جھولتا تو تم کیا محسوس کرتی؟
آرزو کھلے منہ کے ساتھ حدیقہ کی باتوں پر حیران بیٹھی تھی۔
یہ نوکر چاکر ، یہ لمبی کاریں ، یہ لش پش کرتی کوٹھیاں اور ڈھیروں کھانوں سے لدے دستر خواں تمہیں وہ خوشی نہیں دے سکتے جو تمہارے شوہر کا بےداغ کردار دے سکتا ہے ۔ جسکی محبت اپنی بیوی سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی ہے۔ جو رات گھر واپسی کے لیے بار بار گھڑی دیکھتا ہے ، جو چاہتا ہے میری بیوی صرف میری بیوی میرا استقبال کرے ناکہ ایک ہاتھ میں شراب کی بوتل اور دوسری میں شب باشی کے لیے نئی دوشیزہ ساتھ لائے۔
آپا یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں؟
اس لیے کہ مجھے امی نے تمام صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور مجھے تمہاری قسمت پر رشک آ رہا ہے تمہیں حازم جیسا شریف شخص ملا ہے !
تو سیف بھائی شریف نہیں ہے ؟
کبھی سوچا نہیں ہے میں کیوں گزشتہ دو ہفتوں سے یہاں پر بیٹھی ہوں ، وہ شخص جو مجھے ایک رات کے لیے بھیجنا گوارا نہیں تھا کرتا تھا، ابھی زبردستی بھیج دیا ہے ۔ میں اس شخص کی وقتی محبت تھی ، دولت کی ریل پیل نے اس شخص کو اندھا کر دیا ہے۔
آرزو اگر تمہارے اوپر اس شخص کی سیاہ کاریاں کھلیں تو تمہارے دل و دماغ سے دولت کا بھوت دو دنوں میں اتر جائے۔
میں نہیں کہتی ہر دولت مند شخص ایسا ہوتا ہے مگر اکثریت دولت کے نشے میں چور ہو کر اپنی شرافت اور غیرت مندی بھول جاتے ہیں۔
آرزو نکل آؤ! اس مادی دنیا سے باہر! جہاں تمہارا شوہر صرف تمہارا ہو گا ، جو نہ کسی غیر عورت کو اپنے گلے کا ہار بنائے گا اور نہ تمہیں بننے دے گا ۔ قدر کرو حازم کی ! بابا نے بہت بہترین اور بر وقت فیصلہ کیا ہے جس پر مجھے بھی فخر ہے۔
آرزو میں کیسے یہ باتیں اپنے بوڑھے والدین کو بتاؤں ؟ جو میری ظاہری شان و شوکت سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ میں کیوں انکے لئے مسائل پیدا کروں ؟ میں کیوں اپنی ذات سے منسلک غم انکی جھولی میں ڈالوں؟
آرزو اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچو ! ہمارے بوڑھے والدین ہیں ، دو چھوٹے بھائی ہیں جو ابھی پڑھ رہے ہیں ۔ کل کو ہمارے والدین کو کچھ ہو جاتا ہے تو ہمارے اوپر یہ معاشرہ چیلوں کی طرح جھپٹے گا۔
آرزو اللہ کا واسطہ ہے حازم کی قدر کرو۔ جن تلخ تجربات سے میں گزری ہوں ، میں نے کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی ۔قسمت کا لکھا سمجھ کر من و عن قبول کیا ہے۔ اور آگے بھی میری کوشش ہے کہ میرے غموں پر پردہ پڑا رہے۔
آرزو تم نے ابھی اس دنیا کی ظاہری رنگینیاں ہی دیکھی ہیں ، یہ شان و شوکت ، یہ جلوے وقتی چمک دمک کے پیچھے گھناؤنے بہروپئے چھپے ہوتے ہیں۔
آرزو باکردار شخص کا ہاتھ تھام لو ، اسکے بڑھتے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دو !
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
کیا مطلب ؟
مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ حازم تم سے بیزار ہو جائے! جو کچھ تم ایک ہفتہ اس کے ساتھ کر کے آئی ہو ، وہ بہت کم مرد برداشت کرتے ہیں بیوقوف لڑکی!
آرزو نے غم زدہ ، سوگوار انداز میں آپا کو دیکھا۔
آپا میں نے کوشش کی تھی کہ میرا دل حازم کی طرف مائل ہو مگر اس کے سادہ سے سستے لباس اور غربت نے میرا دل اچاٹ کر دیا ہے۔
ابھی اعلیٰ ، نفیس لباس پہننے والوں کے بارے میں سننے کے باوجود بھی تمہارا دماغ ٹھکانے پر نہیں آیا؟ بولو!
آپا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
