Harees e Muhabbat by Umm e Umair NovelR50712 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04
Rate this Novel
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 01 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 02 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 03 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04 (Watching)Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 05 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 06 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 07 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 08 Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 09 Harees e Muhabbat by Umme Umair Last Episode
Harees e Muhabbat by Umme Umair Episode 04
حازم کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے اسکو تسلی دی جائے، دس منٹ خاموشی کی نظر ہو گئے تو حازم نے چار و ناچار جیب میں پڑے موبائل کو کھنگالنا شروع کر دیا۔
کچھ سوچ کر رنگریز کو کال ملائی۔ سلام دعا اور مبارکباد کے تبادلہ کے بعد دکان اور مال کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
بس یار ابھی ہم سفر میں ہی ہیں ، 18 گھنٹے تو کہیں نہیں گئے ہیں۔
پاس بیٹھی آرزو کے دل میں ٹھیس اٹھی ، کاش میری اس کنگلے سے شادی نہ ہوتی تو آج میں بھی آپا کی طرح بڑی بڑی گاڑیوں اور نوکر چاکروں کے ساتھ آتی جاتی۔
موتیوں نے دوبارہ سے بےمول ہونا شروع کر دیا۔
فون کو جیب میں واپس ڈالتے ہوئے حازم کو آرزو کی سڑ سڑ دوبارہ سنائی دینے لگی۔
“آرزو آپ پھر رو رہی ہو یار”؟
“مجھے بتاؤ میں کیسے آپکو چپ کرواؤ” ؟
اگر آپ میرے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتی تو امی ابو کے ساتھ سیٹ بدل لیتے ہیں اگلے پڑاؤ پر۔۔؟
میں اور ابو ادھر رک جائیں گے اور آپ امی کے ساتھ بیٹھ جانا۔!
ابھی ٹھیک ہے؟!
آرزو ہنوز خاموش بیٹھی نمکین موتی لٹا رہی تھی۔
کچھ دیر منتظر رہنے کے بعد حازم نے گلا کھنکارا اور گویا ہوا۔ ایسا کرنا کسی بھی حماقت سے کم نہیں ہو گا، امی ابو کیا سوچیں گے؟متفکر حازم نے آرزو کی طرف جھک کر دیکھا۔
“شکر ہے کچھ تو خشک میوہ جات کا اثر ابھی بھی دماغ میں باقی ہے”۔ آرزو نے چہرے کو صاف کرتے ہوئے پہلو بدلا۔
“چشمِ بددور ، دل نایاب کے کیا کہنے۔! آپکی لب کشائی سے خاکسار کی ہمت افزائی ہوئی ہے، اگر جان کی امان پاؤں تو ایک ادنیٰ سی عرضی ہے ۔ عرض نہیں بلکہ عرضی ہے.”
جی فرمائیں! آرزو نے مسکراہٹ کو چھپانے کی جان توڑ کوشش کی مگر ناکام رہی۔
ہائے آپکا یوں مسکرانا اور حازم کا باغ باغ ہو جانا اس یکتا گھڑی کا انمول تحفہ ہے۔
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا آرزو اپنے قہقہے کو روک نہ پائی۔ آپ نے مزاح میں ڈگری کی ہوئی ہے کیا۔؟
نہیں جی خاکسار تو والد ماجد کی شاگردی میں تن تنہا خشک میوہ جات سے فیضیاب ہوتا رہا ہے۔
اور ہمارا دوسرا کاروباری شریک رنگریز خان ان دو ہستیوں کے ساتھ میری زندگی کے بہت سے قیمتی لمحات گزرے ہیں۔
“ویسے صد شکر آپ کی قاتلانہ مسکراہٹ سے فیض یاب ہوا ہوں آواز کا تو پوچھیں کچھ نا جی۔
ویران کنویں کے پاس اگے پیپل کے درخت پر بیٹھی کو کو کو کو کرتی کوئل جیسی”۔ حازم نے پورے جزب میں آ کر آرزو کے لئے تعریفی پل باندھ دئیے۔
“آپ اس طرح کی بیان بازی میں کافی ماہر لگتے ہیں، کوئی خاص استاد دستیاب رہا ہے یا ناولوں کی دنیا میں مقید رہ چکے ہیں جی۔؟!
اللہ کی پناہ ہے جی! سارا دن تو بتاشے چھوارے تولنے میں گزر جاتا تھا ، یہ تو بس آپ میری بیوی ہیں تو دلی جذبات امڈ امڈ آ رہے ہیں ۔۔۔حازم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
کچھ دیر کے لئے آرزو کا دل ڈوبا۔ ساری زندگی میں دو دو چار کی گنتی میں پڑی رہوں گی۔
پاس بیٹھا حازم حقیر لگنے لگا۔
جبکہ حازم پورے خلوص کے ساتھ آرزو کو بہلانے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔
آرزو آپ سے پوچھنا تھا کہ ابھی آپ میرے ساتھ خفا تو نہیں ہے نا۔؟
اگر ہوں بھی تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ گلے میں پڑے طوق کو نبھانا تو ہے نا۔!!!
حازم کا دل چند لمحوں کے لیے شدید اداس ہوا مگر خود پر مزاح کا خول چڑھا کر چہرے پر جبری مسکراہٹ سجا لی۔
“طوق سے مراد اگر حازم حبیب ہے تو بندہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ مہذب بھی ہے”۔
یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کتنا مہذب ہے۔؟ آرزو نے سوالیہ نظروں سے حازم کو دیکھا۔
ٹھیک ہے آپکو پورا حق ہے آزما لیں! بالکل بھی مایوس نہیں ہوں گی ان شاءاللہ۔
ویسے آپکا حسن خلق شروع سے ہی ایسا تھا یا صرف مجھ مسکین کے ساتھ خاص قسم کا معاملہ روا رکھا ہوا ہے۔؟
کیا مطلب؟ آرزو کی دکھتی رگ پھڑکی۔
میرا مطلب یے آپکا حسن خلق مریضوں کے ساتھ بھی ایسے ہی رہا تو جس مریض نے شفا یاب ہونا ہے وہ بیچارہ بھی رحلت فرما جائے گا۔ حازم نے بھنویں اچکائیں۔
آپ میرے حسن خلق پر جان نہ جلائیں۔ مریض جانیں اور میں جانو۔!
فی الحال تو مریض حازم آپکے سامنے دست دراز یے اور سوالی بنا بیٹھا ہے۔
آرزو کی ہتھیلیاں عرق آلود ہونا شروع ہو گئیں۔
کچھ بات بن نہ پائی تو باہر جھانکنے لگی۔
ابھی کتنا فاصلہ باقی ہے؟
آرزو صاحبہ ریل کا فاصلہ تو کٹ جائے گا مگر دلوں میں فاصلے آ جائیں تو انکا ملاپ مشکل نہیں بلکہ ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔ حازم کی جذبے لٹاتی آنکھیں آرزو کو ہلا کر رکھ گئیں۔
خاموش کیوں ہو گئیں ہیں مستقبل قریب کی طبیبہ صاحبہ۔؟ کچھ غلط بول دیا ہے ؟
نہیں .!!!
آرزو نے گلے میں پھنسی ہوئی آواز نکالی اور باہر دیکھنے لگی۔۔۔
میرے ساتھ اتنی بے رخی کیوں برتی جا رہی ہے پھر ؟ نا تو میں پہلے سے شادی شدہ ہوں اور نہ کوئی اور میری زندگی میں ہے تو پھر آپ اتنی خفا کیوں ہیں۔؟
وجہ صرف بےتحاشہ مال ہے تو وہ میرے اور آپکے نصیب کی بات ہے۔ اللہ کی دین ہے جسے چاہے جتنا دے اور جسے چاہے دے کر واپس لے لے۔
میری نظر میں پیسہ تو ہاتھوں کی میل ہے، آنی جانی چیز ہے ۔ میں نے پیسے کو اپنی ضرورت ضرور سمجھا ہے مگر کمزوری نہیں بنایا ہے ۔۔
آرزو ہنوز خاموش بیٹھی حازم کا گھمبیر لہجہ سن رہی تھی کہ جس کا دل کچھ دیر کے لئے حازم کی طرف مائل ہوتا مگر اگلے ہی لمحے اسکی مالی حیثیت پر غمزدہ ہو جاتا ۔
آپ تھک گئی ہوں گی، بنکر پر چلی جائیں اور سو جائیں ابھی سفر بہت لمبا ہے۔ حازم نے آرزو کی طرف سے خاطر خواہ جواب نہ پاکر نیا حل بتایا۔
نہیں میں ادھر ہی ٹھیک ہوں، آپ نے جانا ہے تو چلے جائیں۔
نہیں میں تو نہیں جاؤں گا ، جہاں پر میری دلہن ہو گی مجھے ادھر ہی بیٹھنا ہے ۔
تو بنکر پر بھی آپ دلہن کے ساتھ تشریف لے جاتے؟
آرزو کی برق رفتار زبان پھر پھسلی۔
جی نہیں بنکر پر تو نہیں جاتا مگر سامنے بیٹھ کر ضرور اپنی آنکھوں کو خیرہ کرتا۔!!
“کوئی حال نہیں ہے سوال چنا تو جواب گندم ملتا ہے”. آرزو نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی نازک گردن جھٹکی۔
آرزو آپکو سوال کے مطابق جواب بھی ملا ہے صرف آپکی طبیعت پر گراں گزرا ہے۔ بولتے ساتھ ہی حازم نے آرزو کی نازک کلائی تھام لی۔
آپ میری کلائی کو تھامے بغیر بھی بات کر سکتے ہیں۔!
سنا ہے شعبہ طب سے منسلک لوگوں کی ہر نس میں ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے تو بس میں وہی ذہانت اپنے اندر انڈیلنا چاہتا ہوں۔
آرزو نے دھڑکتے دل کے ساتھ حازم کو گھورا۔
چھوڑیں میری کلائی بلکہ میں خود آپکی کلائی تھام کر ذہانت کا ٹیکہ لگا دیتی ہوں۔
ذہے نصیب، وہ آئے تھامنے ہماری کلائی کو ، کبھی ہم انہیں اور کبھی اپنی کلائی کو دیکھتے ہیں۔
حازم نے آرزو کی کلائی کو آزاد کرتے ہوئے اپنا مضبوط بازو سامنے کر دیا۔
آپ لاعلاج ہیں۔ آرزو نے رخ پھیرتے ہوئے بولا۔
ہائے وہ انکا یوں دیکھنا اور پھر رخ موڑ کر بیٹھ جانا ، کیمسٹری کا ناکام تجربہ ہے۔
چلیں کوئی بات نہیں ہے ، جیسے آپ آرام دہ محسوس کرتی ہیں، خاکسار تو ہر پل ہمسایہ ہونے کے حقوق و واجبات پورے کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
آپ کی دکان پر لڑکیوں کی بھرمار تو ہوتی ہو گی؟ آرزو نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد نیا سوال داغا۔
طبیبہ صاحبہ خشک میوہ جات کی خریداری کا شغل نوجوان نسل نہیں بلکہ عمر رسیدہ اشخاص ہی فرماتے ہیں ، جنہیں ان تمام میووں کی افادیت کے بارے میں علم ہوتا یے۔ اور ویسے بھی ہماری کونسی بہت بڑی دکان ہے جس پر لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے بالخصوص لڑکیاں وہ بھی والد ماجد کی سرپرستی میں ۔ اللہ کا خوف کھاؤ لڑکی۔!
حازم نے مصنوعی جھرجھری لی۔
آپ نے جہلم سے شادی کیوں نہیں کی پھر ؟ میرا مطلب ہے کہ کسی رشتہ دار کے گھر سے ؟ یا آپکا کوئی رشتہ دار سرے سے ہے ہی نہیں ہے ؟
سب ہیں ننھیال ددھیال بھرا پڑا ہے رشتوں سے مگر ہمارا رہن سہن انکے مقابلے کا نہیں ہے تو سبھی نے انکار کر دیا ، میرے پاس نہ کار ہے نا بنگلہ ہے اور نہ کوئی سرکاری نوکری ہے ۔ میں سائیکل پر جان مار کر دکان پر آتا جاتا ہوں، جان مار کر ٹیوشنز پڑھاتا ہوں۔ یعنی لگی دیہاڑی والا بندہ! بقول میرے تمام عظیم رشتہ داروں کے میں تو صرف دو وقت کی روٹی ہی پوری کر پاؤں گا۔
حازم کے لہجے میں تلخی اور غم واضح جھلک رہا تھا۔
تو آپکو کبھی بھی کوئی کزن پسند بھی نہیں آئی؟
چیزیں یا لوگ پسند اس وقت آتے ہیں جب وہ آپکی دسترس میں ہوں۔ میں تو ان سب کی نظروں میں لنڈا بازار میں پڑے ایک سستے کوٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔
آرزو کو کچھ دیر کے لئے حازم پر بہت ترس آنے لگا مگر وہ اپنے خول میں سمٹی بس حازم کو سنے جارہی تھی۔
آرزو !!!
جی !
مجھے سن رہی ہو نا؟
جی میں نے سب سنا ہے۔!
آپ نے پوچھا ہے تو میں نے بتایا ہے ورنہ مجھے آپ سے ترس زدہ کیفیات نہیں چاہیئں۔
حاضر جواب آرزو کہاں باز رہنے والوں میں سے تھی۔
آپ پہ ترس کھا کون رہا ہے! جائیں جا کر منہ دھوئیں۔!
آپ کے گھر سے دھو کر نکلا تھا۔!
دوبارہ دھو لیں.!
کیوں جی ؟!
کیونکہ طبیبہ چاہتی ہے کہ مریض حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہو۔!
ناچاہتے ہوئے بھی دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔
اسی نوک جھونک میں سفر کا پیشتر حصہ کٹ گیا، مختلف شہروں میں ریل کا پڑاؤ اور پھر مسافروں کی آمد و رفت میں آرزو حازم کے پہلو میں دبکی بیٹھی رہی اور پھر نیند کا غلبہ ہوا تو ادھر ہی حازم کے کندھے پر جھول گئی۔
ڈبے میں موجود بچوں کے شور شرابے پر کچھ دیر کے لئے آنکھ کھل جاتی تو فورا سیدھی ہو کر بیٹھ جاتی مگر چند ہی لمحوں میں جھول کر حازم کے کندھے کے ساتھ لگ جاتی۔
حازم اس ضدی ، اڑیل نازک حسینہ کی نفسیات کو مکمل طور پر بھانپ چکا تھا مگر موقع کی نزاکت کو مدنظر رکھے ہوئے تھا۔
آنکھیں بند کیے اپنوں کے لگائے گئے گھاؤ سوچوں کو منتشر کر دیتے مگر پھر بغل میں چپکی آرزو کا وجود کسی بہت عظیم نعمت کا احساس دلا جاتا۔
طویل سفر کی تھکان کی بنا پر گاہے گاہے آنکھ لگ جاتی مگر ریل کے پڑاؤ ، بچوں کے شور شرابے پر خمار آلود آنکھیں دائیں بائیں کا موازنہ کرنے لگتیں۔
ہر دو گھنٹوں کے بعد کال کر کے والدین کی خبر گیری کرنا بھی اولین ترجیح تھی۔
ابو کی یاددہانی پر سسرال والوں کو بھی اپنی روانگی اور سفری خیر و عافیت پر آگاہی دی ۔ جبکہ آرزو بےسدھ حازم کے کندھے کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ نجانے کتنی راتوں کے رتجگے کاٹ کر آئی ہے۔
حازم کا بارہا جی چاہا کہ ہلکی پھلکی شرارت سے آرزو کو جگایا جائے مگر پھر اس کی گل افشانیوں کا سوچ کر ارادہ ملتوی کر دیا۔
اللہ کی رحمت اور فضل سے تیز گام جہلم کی حدود میں داخل ہونا شروع ہو گئی۔ جان توڑ طویل سفر اپنے اختتام کو پہنچنے والا تھا ۔
گھپ اندھیرا ویران زمینوں کو چاروں اطراف سے اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا۔
رات کے دس بجے تیز گام جہلم کی پٹڑی پر سست روی سے تمام تھکے ماندے مسافروں کو اتارنے کے لئے تھم گئی۔
حازم نے اپنے ساتھ چپکی آرزو کو دھیرے سے جھنجھوڑا۔ آرزو اٹھو ! ہم جہلم پہنچ گئے ہیں۔ شاباش جلدی کرو۔!
امی مجھے نہیں جہلم جانا ، مجھے سونے دیں پلیز۔!
آرزو سوئے سوئے بڑبڑا رہی تھی۔
آرزو ہوش میں آؤ.! آپکی امی کراچی میں ہیں اور آپ ابھی جہلم کے پر فضا ریل سٹیشن پر اپنے شوہر نامدار کے ساتھ پہنچ چکی ہیں۔
حازم نے آرزو کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
ایک جھٹکے سے آرزو ہڑبڑائی ۔ ہائے اللہ دیر ہوگئی ہے، میری تو آنکھ ہی نہیں کھلی، میں نے تو آج پریکٹیکل کے لیے کچھ نوٹس لینے تھے۔
آرزو آپکو جتنے بھی نوٹس لینے ہیں وہ آپکو میں بنا دوں گا مگر فی الحال خواب خرگوش سے باہر نکل آئیں ۔
آرزو !!! آپ ابھی تک نیند میں ہی ہیں۔ حازم نے آرزو کے نازک گالوں پر اپنی ہتھیلیوں سے تھپتھپایا۔۔۔
آرزو فورا ایک جھٹکے سے دوبارہ سیدھی ہو گئی۔
یہ آپ کس خوشی میں اتنی لاڈیاں فرما رہے تھے۔؟
جی میں دلہا ہونے کی خوشی میں ہوں اس لیے دلہنیا کو نیند سے اٹھانے کی جسارت کر بیٹھا ہوں، مگر دلہنیا صاحبہ آنکھ کھلتے ہی اسلحے سے لیس شریف دلہا پر گولا باری کر رہی ہیں۔۔۔
“آپ تھکتے نہیں ہے “؟
جی تھکا تو بہت ہوں، سارا راستہ میرے کندھے کو توڑتی آئی ہیں۔
کیا مطلب ہے آپکا۔؟ تفصیلی مطلب گھر سمجھ لیجئے گا مگر ابھی مختصراً یہی عرض ہے کہ آپ تقریباً آدھے سے زیادہ راستہ میری گود پر قابض رہی ہیں، اب تو گردن میں بھی بل پڑ گیا ہے۔
تو کس نے کہا تھا ہیرو بنیں اور میرے ساتھ چپک کر بیٹھیں، اس وقت تو بڑے بڑے دعوے فرمائے جا رہے تھے کہ آپ بنکر پر سو جائیں میں نیچے بیٹھ کر اپنی آنکھوں کو خیرہ کروں گا۔
اس دعوے پر تو ابھی بھی قائم ہوں۔۔حازم انگڑائی لیتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
کرتا جھاڑا اور گردن کو دائیں بائیں جھٹکے دینے لگا۔
آرزو بھی اپنے شکن آلود لباس کو سیدھا کر رہی تھی کہ اچانک نظر خالی ڈبے پر گئی تو چونک گئی۔ یہاں پر جو لوگ موجود تھے وہ کدھر چلے گئے ہیں؟
آرزو جی آپ مدہوش تھیں جب وہ لوگ پیچھے لاہور سٹیشن پر اترے تھے۔
ہائے اللہ آپ اور میں اکیلے تھے یہاں پر ؟؟؟
جی!! کیوں آپ نے فوج بلوانی تھی کیا؟
حازم نے آرزو کا فکر مند چہرہ دیکھا تو بات کو مزاج کا رنگ دینے لگا۔
چلیں پائیدان کھل چکا ہے نیچے اتریں٫ ذرا دھیان سے نیچے پٹڑی میں پاؤں نہ پھنسا لینا۔!
مجھے چلنا آتا ہے لہذا بےفکر رہیں۔!
جی آپ کی ہر صلاحیت کا معترف خاکسار اپنے الفاظ واپس لیتا ہے، اب بس باہر نکلیں آدھی ریل خالی ہو چکی ہے۔ حازم نے تمام سامان کو اپنے ہاتھوں میں جکڑا اور آرزو کا انتظار کرنے لگا۔
تھکی ماندی آرزو لڑکھڑاتی ہوئی پائیدان کی طرف بڑھنے لگی۔ حازم نے اس کی لڑکھڑاہٹ کو بھانپ لیا، تمام سامان کو ادھر ہی چھوڑ کر فورا آگے بڑھ کر آرزو کو کندھوں سے تھام لیا ۔
آرزو کو باحفاظت بینچ پر بٹھا کر سارا سامان نکالا اور امی ابو کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
آرزو بینچ کے ایک کونے میں سمٹی رنجیدہ سی بیٹھی تھی کہ ناچاہتے ہوئے بھی موتی ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ سارا سامان جن میں دو صندوق اور تین بڑے تھیلے پاؤں میں پڑے دھول سے اٹ چکے تھے۔
سوچوں میں گم آرزو نے گردن کو اس وقت اوپر اٹھایا جب ساس سسر بھی لڑکھڑاتے آن سر پر پہنچے۔
ان کے سلام کے جواب میں آرزو نے دھیمے سے جواب دیا اور چہرہ دوسری طرف موڑ کر آنسو صاف کرنے لگی۔۔
ابو آپ امی اور آرزو کے پاس رکیں میں کوئی رکشہ ، چنگ چی دیکھتا ہوں۔ حازم بیٹا میرے خیال میں دو رکشے لے لو کیونکہ سامان زیادہ ہے ۔
جی ابو بس ابھی کسی کے ساتھ بھاؤ کر کے لایا۔
چند منٹوں میں دو چنگ چی ریل سٹیشن کی خارجی سڑک پر پھٹ پھٹ کرتے آن ٹہرے۔
ابو آپ امی اور آرزو کے ساتھ بیٹھ جائیں میں سارا سامان لے آؤں گا۔
چلو آرزو بیٹی! ساس سسر نے شفقت سے افسردہ آرزو کو ساتھ لیا اور چنگ چی میں سوار ہوگئے جبکہ حازم سامان کو لادنے میں الجھا ہوا تھا۔
ابو کی خواہش کے مطابق سبھی ایک ہی وقت میں اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھے۔ پھٹ پھٹ چاں چاں کرتے دونوں چنگ چی حازم کے گھر کے باہر رکے۔ پیسوں کی ادائیگی کے فورا بعد حازم نے بھاگ کر دروازے کا تالہ کھولا۔
اندھیرے میں ڈوبا گھر دیکھ کر آرزو کا دل بھی ساتھ ہی ڈوب گیا۔ کیا شادی کا گھر ایسے ہوتا ہے ؟ نہ کوئی استقبال کے لئے کھڑا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی چراغاں کی گئی ہے۔ بلال ٹاؤن میں تین مرلے کے گھر کو دیکھ کر آرزو کو کسی صندوق کا گمان ہونے لگا۔۔۔
آنکھوں میں بار بار آپا کی رخصتی اور انکا استقبالیہ اور چار منزلہ کوٹھی کی چراغاں دل چھلنی کرنے لگی۔
ہائے ابو نے کس کنگلے کے ساتھ مجھے بیاہ دیا ہے؟ ۔
آرزو نے بد دلی سے گھر کے اندر قدم رکھا جبکہ ساس سسر اور حازم نہال ہوئے جا رہے تھے۔
ساس نے فورا آرزو کا ہاتھ تھام کر حازم کے کمرے کی راہ لی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی نئی لکڑی اور اس پر کی گئی پالش کی مشک آرزو کو متلا گئی۔ جی چاہا ادھر سے بھاگ جائے مگر فرار کے سارے راستے تو حازم کے پاس نکاح نامے میں قید ہو چکے تھے۔
کمرے میں ٹیوب لائٹ کی سفید روشنی نے اس سادہ مگر صاف ستھرے کمرے کے تمام خدو خال واضح کر دئیے۔
ارے بیٹی کھڑی کیوں ہو ؟ ادھر آرام سے پلنگ پر ٹانگیں اوپر کر کے بیٹھ جاؤ۔تم نے اگر غسل لینا ہے تو لے لو تاکہ تھکان کم ہو جائے گی، حازم تمہارا سامان لے کر آ رہا ہے۔ اور میں کچھ کھانے پینے کے لئے لاتی ہوں۔
ریشماں بیگم نے خلوص سے بہو کو آرام کا عندیہ سنایا اور خود کمرے سے باہر نکل گئیں۔
آرزو کا جی چاہ رہا تھا کہ خوب دھاڑیں مار مار کر روئے۔ ابھی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا سوچ رہی تھی کہ حازم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلام جھاڑا۔ اور ایک کونے میں سامان رکھ کر گویا ہوا۔
جی طبیبہ آرزو اور حازم کی دلہن کو ہم دل کی گہرائیوں سے شادی کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
آرزو نے شکوہ کناں نظروں سے گھور کر منہ بسورا۔ ارے ارے آپ تو پھر رونے لگی ہیں۔
چلیں میں مبارک باد واپس لے لیتا ہوں آپ بس جاؤ غسل خانے میں اور تازہ دم ہو جاؤ۔
کبھی حازم کا جی چاہتا کہ آرزو کو دو لگا کر سیدھا کرے اور بولے سوگ منانا بند کر دے مگر اس کی بھولی سی صورت دیکھ کر ترس بھی آ رہا تھا کہ اتنی دور سے وہ سب کچھ چھوڑ کر صرف حازم کے لیے آئی ہے۔
آرزو کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ بھئی۔
حازم نے آگے بڑھ کر آرزو کو کندھوں سے پکڑ کر بٹھانا چاہا تو آرزو نے ادھر ہی زار و قطار رونا شروع کر دیا۔
شش شش آرزو پلیز امی ابو کیا سوچیں گے یار ۔ حازم نے آرزو کو اپنے مضبوط حصار میں لیتے ہوئے تسلی دی مگر سب بیکار۔
آرزو اگر ابھی چپ نہ ہوئی تو میں نے آپکو اٹھا کر غسل خانے کے نلکے کے نیچے جا کر بٹھا دینا ہے۔
جائیں میں آپ سے بات نہیں کرتی۔
بات نہ کرو مگر رو مت اللہ کی بندی!
حازم نے سرگوشی والے انداز میں متنبہ کیا۔ چلو فٹا فٹ اٹھو اور جا کر لباس بدلو!
لباس کس کےلئے بدلو ؟ ادھر کون بیٹھا ہے میرے استقبال کے لئے؟
کیا مطلب؟ حازم نے دکھی دل سے نئی نویلی دلہن کو دیکھا۔
ایسے ہوتی ہے شادی بھلا؟
ناچاہتے ہوئے بھی آرزو کی زبان پھسل گئی۔
تو پھر کیسے ہوتی ہے شادی؟ آپ ہی بتا دیں! میں بالکل ویسے ہی کر لوں گا۔ حازم نے معنی خیز نظروں سے آرزو کو دیکھا۔
آپ مجھے مزید پریشان کر رہے ہیں! آرزو نے انگلیاں مروڑتے ہوئے بولا۔
یا اللہ میں کیسے اس لڑکی کو بتاؤں کہ بس اب شادی ہو چکی ہے ،اب صرف آگے کا سوچو ، بار بار افسوس نہ کرو۔! حازم نے آرزو کو کندھوں سے تھامتے ہوئے التجائیہ انداز اپنایا۔۔
اب بالکل بھی تنگ نہیں کرنا اچھے بچوں کی طرح اپنا چہرہ دھو اور کھانا کھاؤ ! سارا راستہ نہ کچھ کھایا ہے اور نہ پیا ہے۔سمجھی ہو !!
ورنہ پھر مجھے اور طریقے بھی آتے ہیں سمجھانے کے۔!!!
آرزو نے حازم سے نظریں چرائیں اور اپنے مطلوبہ صندوق کو کھنگالنے لگی۔
یہ ہوئی ہے نا اچھی بچی والی بات۔!
حازم !!
جی امی! بیٹا باہر آؤ ذرا۔!
ابھی آیا امی!
میں واپس آؤں تو مجھے آپ غسل خانے سے باہر نکلتی ہوئی ملو ورنہ جو بولا ہے وہ کر دکھاؤں گا۔!
حازم کی پر اثر دھمکی آرزو کو چند لمحوں کے لیے ہلا گئی۔
صندوق سے کپڑے نکال کر سیدھی ہوئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
