Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Muntazir Mera (Last Episode)

Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain

ماہر آپ نے بے بی کاٹ دوسرے کمرے میں کیوں شفٹ کیا ہے۔منہا نے کمر پہ ہاتھ رکھ کر ماہر سے سوال کیا۔

کیونکہ وہ دوسرے کمرے میں ہوگا۔ ماہر مسکراہٹ ضبط کرتا بولا۔

ماہر۔ منہا کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا اُس کی بات پہ۔

میری جان مذاق کررہا تھا آپ تو ابھی سے ناراض ہونے لگی۔ ماہر مسکراکر اُس کو اپنی تھائی پہ بیٹھا کر بولا۔

تو وہاں کیوں رکھا ہے۔ منہا سرخ چہرہ لیے بولی

کیوں کی ابھی تو عمان کے آنے میں وقت ہے۔ماہر نے آرام سے کہا۔

عمان کون؟ ماہر منہ سے لڑکی کا نام سن کر منہا نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا۔

یار ایسے تو نہ دیکھو عمان ہماری بیٹی اور کون ماہر اس کی پیشانی چومتا بولا

آپ کو کیسے پتا بیٹی ہوگی؟بیٹا بھی ہوسکتا ہے۔ منہا نے کہا

مجھے تو آپ کے جیسی معصوم سی بیٹی چاہیے۔ ماہر نے مزے سے کہا۔

پر مجھے المیر چاہیے۔ منہا نے سکون سے اس کے سینے پہ سر رکھا

المیر کون؟ ماہر کی سفید پیشانی پہ بل نمودار ہوئے۔

المیر ہمارا بیٹا اور کون۔ منہا سر اٹھاتی ماہر کے انداز میں بولی۔

میری بلی مجھ سے ہی میاوں۔ ماہر اُس کی چلاکی سمجھتا بیڈ پہ لیٹاتا گُدگُدا کر بولا

ماہر نہی ہاہاہا

ماہر پلیز

منہا ہنستی ہوئی ماہر کو روکنے کی کوشش کرنے لگی جو اب اس کا لال ہوتا چہرہ دیکھ رہا تھا ہنسنے کی وجہ سے آنکھوں میں پانی بھی آگیا تھا۔

اچھا نہیں کرتا پر خبردار جو آپ نے المیر ولمیر کے لیے مجھے اگنور کرنے کا سوچا تو۔ ماہر اُس کی آنکھوں میں دیکھتا وارن کرنے والے انداز میں کہا جس پہ منہا نے جھٹ سے ہاں میں سرہلایا پھر نفی میں ماہر اُس کی چلاکی پہ اب کی ہنس پڑا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا خبر تھی جاناں

ہمیں پیار ہوجائے گا

دل تمہارے لیے بے قرار

ہوجائے گا۔

کشف پورا دن کمرے میں بند تھی صبح جو کجھ ہوا اُس کے بعد وہ باہر کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اب اُس کا فون رنگ ہوا تو بنا نمبر دیکھے کال جیسے ہی ریسیو کی تو دوسری طرف سے خوبصورت آواز میں گانا سنایا گیا اُس نے فون کان سے ہٹاکر اسکرین پہ نظر ڈالی جو کہ انون نمبر تھا پر آواز سے وہ پہچان گئ ہے دوسری طرف کون ہے۔

تم ویلے انسان کوئی کام نہیں کیا کرنے کو۔ کشف نے تپ کے پوچھا۔

ویلہ بھی بول رہی ہو اور کام کا بھی پوچھ رہی ہو اٹس ناٹ فیئر خیر یہ بتاو میری آواز کسی لگی۔ موحد پیپر ویٹ کو گھماتا کشف سے بولا

زہر۔ پھاڑ کھانے والے انداز میں جواب دیا۔

تم نے زہر کب ٹیسٹ کیا؟ موحد اپنے لہجے میں مصنوعی تجسس پیدا کرکے پوچھا۔

فون کیوں کیا ہے؟ کشف نے صبر کا گھونٹ بھر سوال کیا۔

تم سے ملنا چاہتا ہوں کجھ بتائے ہیں جن کو سُلجھانا چاہتا ہوں۔ موحد بھی سنجیدہ ہوکر بولا۔

مجھے نہیں ملنا تم سے نہ آج اور نہ پھر کبھی۔کشف نے انکار کیا

کشف میں جانتا ہوں تم آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہوں۔ موحد نے کہا

غلط ایسا کجھ نہیں۔کشف نے فورن کہا

تمہارے کہنے سے کیا ہوتا ہے محبت اتنی جلدی دل سے نہیں نکلتی اور تم تو میرے عشق کی دعویدار تھی۔ موحد نے سکون سے کہا

تھی ہوں نہیں۔کشف خود کو مضبوط بناتی بولی۔

کس کو یقین دلارہی ہو مجھے یا خود کو۔ موحد نے پوچھا۔

حقیقت بتارہی ہوں۔ کشف نے کہا

میں نہیں مانتا ایسی حقیقت کو۔موحد نے ماننے سے انکار کیا۔

مجھے فرق نہیں پڑتا۔ کشف اکتاہٹ سے بولی۔

تمہیں فرق پڑنا چاہیے۔ موحد دو ٹوک بولا

کیوں پڑے مجھے فرق۔ کشف نے موبائل فون کو گھور کر کہا جیسے سامنے موحد ہو۔

کیوں کہ میں چاہتا ہوں۔ موحد آرام سے بولا

تمہارا مجھے پہ ایسا کوئی حق نہیں جو تم جو چاہوں میں وہ کرو۔ کشف نے نے باور کروایا

یہ بھی اندازِ گفتگو ہے کوئی؟

جب کرو دل دُکھانے والی بات کرو

حق بھی تو نہیں دے رہی اتنی چاہت سے مانگا رہا ہوں۔ موحد نے بے چارگی سے کہا۔

کہاں ملنا ہے؟ کشف نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا

لوکیشن سینڈ کرتا ہوں۔ موحد کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا بات ہے؟ حمزہ نے حیا کو گم سم دیکھا تو پوچھا۔

کشف کی وجہ سے پریشان ہوں۔ حیا نے بتایا۔

چچا نے غلط کیا ایک تو بنا اُس کی مرضی کے شادی کروائی پھر طلاق بھی۔ حمزہ کا چائے کا گھونٹ پی کر افسوس سے بولا۔

چچا جان نے شادی کروانے وقت بھی کجھ اچھا سوچا ہوگا اور طلاق وقت بھی شیراز دوسری شادی کرنا چاہتا تھا تو تم بتاؤ کشف کا کیا حال ہوتا وہاں۔حیا نے سنجیدگی سے کہا

میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ حمزہ نے کندھے اُچکائے

تم بونگیاں مارسکتے ہو۔ حیا نے طنزیہ کیا۔

اچھا ایسا ہے تو تم بتاؤ وہ تو میں نے تم سے پہلے نکاح کرلیا تھا ورنہ تو تم بھی اُس ولید سے شادی کرلیتی وہ تو اللہ کا کرم ہوا ہماری زندگی میں حنزہ آگیا ورنہ جب میں آتا تو یہ خبر میری منتظر ہوتی کے تمہاری شادی ہوچکی ہے۔حمزہ سخت لہجے میں بولا

ایسی بات نہیں میں کوئی نہ کوئی حل نکالتی پر تمہارے علاوہ کسی سے شادی نہ کرتی۔حیا نے منمناتے کہا

اچھا کیا نکال لیتی۔حمزہ نے رخ اُس کی جانب کیے سوال کیا

ہم پُرانی باتیں کیوں کررہے ہیں رات گئ بات گئ۔حیا نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا۔

رات کا معاملہ نہیں اگر ایسا ہوجاتا نہ تو میرے پستول کی پہلی گولی ولید کے سینے پہ اُترتی دوسری تمہاری پھر آخر میں خود کو شوٹ کرلیتا۔حمزہ اُس کا ہاتھ زور سے پکڑ کر بولا۔

تم پاگل ہو جو پُرانی باتیں لیکر بیٹھ گئے ہو۔ حیا اپنا چھڑوانے کی کوشش کرتی بولی۔

یاد آتی ہیں یہ باتیں ہر دن اور ہر دن نئ اذیت اپنے اندر محسوس کرتا ہوں۔ حمزہ اُس کے ہاتھ پہ اپنی گرفت ہلکی کرتا بولا۔

بُری باتوں کو یاد کرنے سے اذیت ہی ملتی ہے بہتر یہ ہے کہ بُری باتوں کو یاد نہ کیا جائے اگر آجائے یاد تو خود کو مصروف کیا جائے ہمارا گُزرا ہوا کل ہمارا آج خراب نہ کرپائے۔حیا حمزہ کے بازوں پہ سر رکھ کر بولی

ہممم۔ حمزہ بس اتنا بولا

💕
💕
💕
💕
💕

تمہارے ماننے سے گھر میں جو پریشانی ہے وہ حل ہوجائے گی۔ لیلا نے ٹی وی پہ نظر جمائے بیٹھی کشف سے کہا

مجھے کسی ڈیل کا حصہ نہیں بننا۔ کشف سپاٹ انداز میں بولی

جتنے کرائسس میں ہمارا بزنس ہے نہ اگر ایسا رہا تو جلد ہم سڑک پہ آجائے گے۔ لیلا نے اُس کو سمجھانا چاہا۔

آپ چاہتی ہے میں ایم کے سے شادی کرلوں۔ کشف نے چہرہ اُس کی طرف کرکے سوال کیا۔

ہاں میں کیا سب یہی چاہتے ہیں ویسے بھی تم اُس کو چاہتی تھی نہ اگر اللہ نے تمہاری سن لی ہے تو تم کیوں کفر کررہی ہو۔ لیلا نے کہا

میں کُفر نہیں کررہی۔ کشف نے فورن سے کہا

ضد تو ہے نہ یہ کے میری نہیں سنی گئ تو میں بھی نہیں سنوں گی۔ لیلا نے دو بدو جواب دیا

جس پہ گُزرتی ہے نہ بس وہی جانتا ہے۔ کشف نے تلخ کہا

پتا ہے جس تن لگدی او تن جانے۔ لیلا لاپروائی سے بولی

پھر یہ کہہ رہی ہیں جس انسان نے بار بار میری محبت کو ٹھکرایا اب اُس کا ہاتھ تھام لوں۔ کشف نے جیسے افسوس کیا

تم بھی تو پھر وہی کررہی ہو جو غلطی اُس لڑکے نے کی سوچا جائے تو وہ اپنی جگہ درست تھا اُس کے پاس سبب تھا پر تمہارے پاس ایسا کجھ نہیں۔لیلا نے موحد کی حمایت کی۔

آپ ایسے کیسے کہہ سکتی ہے اور درست کیوں تھا وہ؟ کشف نے پوچھا

پہلے اگر وہ میڈل کلاس تھا تو وہ کیسے تمہارا ہاتھ تھام لیتا تمہارے لیے اسٹینڈ لیتا تو شاید اپنی عزت نفس کھودیتا ہرکوئی اُس کو یہ کہتا کے امیر لڑکی سے پئسو کے لیے شادی کرلی اور یہ طعنہ ایک خوددار اور شریف انسان کے لیے بہت بڑا تماچہ ہے۔ لیلا نے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا

کوئی کجھ بھی کہتا اُس کی پرواہ تھی پر میری محبت میری چاہت اُس کی کوئی اہمیت نہیں تھی کیا میرے جذبات اتنے بے مول تھے۔ کشف کجھ سمجھنے کی کوشش میں نہیں تھی

سچے جذبات کسی کے بھی بے مول نہیں ہوتے اور ہر ایک بات کا وقت ہوتا ہے ایم کے کا ساتھ پہلے تمہاری قسمت میں نہیں تھا اِس لیے نہیں ملا اب اللہ نے اُس کا ساتھ تمہاری قسمت میں لِکھا ہے تو تم ناشکری کررہی ہو اُس کو ٹھکراکر۔ لیلا نے گہری سانس لیکر کہا۔

میں کون ہوتی ہوں کسی کو ٹھکرانے والی میں تو خود ٹھکرائی ہوئی ہوں۔ کشف طنزیہ انداز میں خود کا مزاق اُڑاتی ہوئی بولی جس پہ لیلا نے اپنا سر نفی میں ہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕

Last Episode

میں معافی مانگنا چاہتی تھی تم سے۔ عانیہ مرزا منہا کے کمرے میں آتی شرمندگی سے بولی

معافی پر کیوں۔ منہا نے حیرت سے کہا

میرا رویہ شروع سے تمہارے ساتھ بہت بُرا رہا یہ جان کر بھی کے تم میرے بھائی کی بیٹی ہو میرا رویہ تمہارے ساتھ غیروں کی طرح رہا۔عانیہ مرزا نے کہا

آپ نے میرا ساتھ کجھ غلط نہیں کیا پھوپھو اِس لیے آپ کو شرمندہ ہونے یا معافی مانگنی کی ضرورت نہیں۔منہا نے سادگی سے کہا

یہ تمہارا ظرف ہے ورنہ میں تو تمہارے سامنے سوتن لانا چاہتی تھی۔ عانیہ مرزا افسوس سے بولی

سوتن لانا چاہتی تھی کیوں آپ کو ماہر کی اولاد چاہیے تھی جو اللہ نے اب دے دی تو آپ نے سوتن کا خیال بھی اپنے دل دماغ سے نکال لیا میرے لیے یہی بہت ہے۔ منہا نے کہا

شکریہ تم واقع بہت اچھی ہو چاہے جانے والی پہلے میں سوچتی تھی ماہر کیوں تمہارے پیچھے اتنے پاگل ہے اب سمجھ آگیا تم ہو ہی اتنی پیاری معصوم سادہ دل کے ہر کوئی پیار کرنا چاہے بس میں ہی تھی جو تمہیں سمجھ نہیں پائی۔ عانیہ مرزا اس کا چھوتی بولی۔

آپ بھی بہت اچھی ہیں۔ منہا نے کہا تو عانیہ مرزا مسکرادی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری لائیف ہیپی ہے نہ۔ ماہر منہا کے کندھے پہ ٹھوری رکھ کر بولا

ماشااللہ کہے۔ منہا نے فورن ٹوکا

ماشااللہ۔ ماہر مسکراکر بولا

ویسے آج یہ خیال کیسے آگیا آپ کو۔ منہا نے جاننا چاہا۔

بس آگیا موم نے بھی آپ کو آج سہی معنوں میں بہو تسلیم کرلیا مجھے آپ کا ساتھ مل گیا ہمارا بچہ اِس دُنیا میں آنے والا ہے اور کیا چاہیے مجھے اللہ کا دیا سب کجھ تو ہے اسپیشلی آپ۔ ماہر جذب سے کہتا اُس کو دیکھنے لگا جو مسکرارہی تھی۔

بلکل اللہ کی دی ہر نعمت ہے ہمارے پاس میرے پاس سب سے ضروری آپ کا ساتھ ہے۔ منہا اُس کے ہاتھوں کو عقیدت سے آنکھوں پہ لگاکر بولی۔

میں سوچتا ہوں اگر آپ نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔ ماہر اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر بولا۔

میں کیوں نہ ہوتی مجھے تو ہونا تھا آپ کے پاس۔ منہا نے آرام سے کہا

ہاں کیوں کی منہا سے ماہر ہے۔ ماہر آنکھوں میں چمک لیے بولا۔

اور ماہر سے منہا کی سانسیں ہیں۔ منہا بھی اُس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتی گہری مسکراہٹ سے بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕

ہیپی برتھ ڈے میری جان۔ حمزہ حیا کے کان میں سرگوشی کرتا بولا جس پہ حیا مسکراکر کروٹ بدل گئ۔

اٹس ناٹ فیئر۔ حمزہ نے اُس کی پشت کو گھور کر کہا

ایوری تھنگ از فیئر مائے لو۔ حیا نے بنا مڑے کہا

ایسا کیا۔ حمزہ شرارت سے کہتا کمبل کھینچ کر دور پھینک دیا۔

حمزہ یہ کیا۔حیا اٹھتی حمزہ کو گھورتی بولی

بارہ بج گئے ہیں کیک کاٹنا ہے ایک تم ہو جس کو بس سونا ہے۔ حمزہ اُس کا دھیان کمرے میں موجود ٹیبل کی جانب کرواتا بولا جہاں شیشے کی ٹیبل پہ گلاب پھولوں کے درمیاں کیک رکھا تھا۔

حمزہ یو آر دا بیسٹ۔حیا خوش ہوتی بولی

یس ایم بیسٹ بکوز آے ہیو حیا۔ حمزہ اُس کے چہرے سے بال ہٹاتا محبت سے بولا

میں حنزہ کو اُٹھا لاؤں۔حیا مسکراکر جانے لگی جب حمزہ نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا۔

خبردار حیا یہ ہمارا وقت ہے میں فلحال اپنے رقیب کو دیکھنے کے موڈ میں نہیں۔حمزہ نے کہا

وہ بیٹا ہے ہمارا۔حیا نے دانت پیس کر کہا

جانتا ہوں کل اُس کے ساتھ سیلیبریٹ کرلینا ابھی اپنے مجازی خدا کے ساتھ رہو۔ حمزہ نے آرام سے اُس کو اپنی طرف کرکے کہا

اچھا سہی جیسے ہمارے مجازی خدا چاہے۔ حیا نے فرمانبردای سے کہا

صدقے جاؤں ایسی فرمانبردار بیوی پہ۔حمزہ نے جس انداز میں یہ بات کی اُس پہ حیا کا قہقہقہ چھوٹ گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیوں بلایا مجھے یہاں؟ کشف نے ریسٹورنٹ میں آتے ہی موحد سے سوال کیا

تاکہ لڈو گیم کھیلے۔ موحد نے بڑی سنجیدگی سے کہا

کام کی بات کرو۔ کشف نے گھورتے ہوئے کہا

بیٹھو تو سہی۔ موحد نے بیٹھنے کا اِشارہ کیا

میری بات دھیان سے سننا اور سمجھنے کی کوشش کرنا۔ موحد نے نرمی سے کہا جس پہ کشف نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا

میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے اب سے نہیں سات سالوں سے۔موحد نے بات شروع کی

اِس لیے بار بار میری محبت کی تزلیل کرتے تھے۔ کشف خود کو کہنے سے روک نہ پائی

نہیں اِس لیے کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا تم مجھ سے کوئی اُمید لگاؤ میرے پاس تمہیں دینے لیے کجھ نہیں تھا

عزت تھی یقین تھا چھت تھی وفاداری تھی محبت نہ سہی یہ سب دیتے گُزارا کرلیتی میں۔کشف نے ایک بار پھر بیچ میں بولی

ان کے علاوہ بھی بہت چیزیں ہوتی ہیں زندگی میں جس کے بغیر گُزارا نہیں ہوسکتا۔موحد گہری سانس بھرتا بولا۔

عورت سوائے وفاداری کے اور کجھ نہیں چاہتی مرد سے۔ کشف سر جھٹک کر بولی۔

پر جس عورت نے ساری زندگی آسائشوں بھری زندگی گُزاری ہو اُس کے لیے سب مشکل ہوتا ہے تمہارے کالج چھوڑنے کے بعد میں اسکالرشپ پہ جرمنی چلاگیا تھا سوچا تھا پاکستان نہیں آؤں گا اپنی ماں بہنوں کو بھی جرمنی میں بلواؤں گا جرمنی میں مجھے تم بہت یاد آتی تھی وہاں میری دوستی جیک سے ہوئی وہ اکیلا رہتا تھا گھر میں کوئی نہیں ہوتا تھا اُس کے میں وہاں پارٹ ٹائم جاب کرتا تھا جرمنی میں دو سال رہا تھا تو پتا چلا میری ماں اِس دنیا میں نہیں رہی۔موحد بولتے بولتے خاموش ہوگیا کشف بغور اُس کو سن رہی تھی۔

پھر واپس میں پاکستان آیا پھر پاکستان سے دوبارہ جرمنی کا سفر ہوا میں نے اور جیک نے پڑھائی کے ساتھ چھوٹا سا بزنس شروع کیا جس میں ہمیں بہت ترقی ہوئی قسمت اچھی تھی زیادہ دھیان جیک ہی کرتا تھا پڑھائی کے بعد میں نے بھی ساتھ دینا شروع کیا تو وہ چھوٹا بزنس ترقی کی منازل چھونے لگا میں نے آپا صائمہ کی شادی کروادی دوسری بہن جیک کو پسند آگئ تھی جیک مسلمان تھا میں نے کوئی احتراز نہیں کیا اپنی دونوں بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہوگیا پر میری ماں نہیں تھی بس ایک چھوٹی بہن عروسہ بچی تھی وہ ابھی چھوٹی ہے میں نے ایک دن ایک اسٹوری پڑھی جس کو پڑھ کر مجھے شک ہوا کے یہ تم نے لکھی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کے تم شادی شدہ ہو پھر بھی میں جاننے میں لگا کے یہ لکھنے والا کون ہے مجھے اُس کا لاسٹ پارٹ پڑھنا تھا اِن چیزون کے بعد مجھے پتا چلا کے تمہاری طلاق ہوگئ ہے اُس وقت میں تمہارے گھر میں ہی موجود تھا مجھے فورن سے یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اب تمہیں پالوں اِس لیے میں تمہارے بھائی اور باپ کے سامنے شرط رکھی جس کا مطلب دونوں نے غلط لیا۔ موحد نے گہری سانس لیکر ساری بات بیان کی۔

مجھے یہ سب بتانے کا مقصد۔کشف نے کہا

میں چاہتا ہوں مجھے معاف کردو میں نے تمہاری محبت قبول نہیں کی تھی پر تم مجھے قبول کرلوں۔ موحد نے حسرت سے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا

اب کیوں پہلے کیوں نہیں۔کشف نے چہرہ دوسری طرف کرکے بولی

وہی مرغی کی ایک ٹانگ۔ موحد کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے جو اتنی ساری تقریر سننے کے بعد بھی پوچھ رہی تھی۔

پہلے تمہارے قابل نہیں تھا اب تمہیں ہر خوشی دینے کی طاقت رکھتا ہوں۔ موحد نے صبر کا گھونٹ بھر کر کہا

کتنا پیار کرتے ہو۔ کشف نے دوسرا سوال کیا

اِتنا کے اگر تم نے ابھی انکار کیا تو میں خود کو شوٹ کرلوں گا۔ موحد ٹیبل پہ پستول رکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا کشف آنکھیں پھاڑے سامنے رکھی پسٹول کو دیکھ رہی تھی۔

یہ کیا مذاق ہے۔ کشف نے جھنجھلا کر کہا

میرا دیوانہ پن ہے میں بار بار تمہیں کھونے کی صلاحیت نہیں رکھتا اگر پہلے میرے بس میں ہوتا تو کبھی تمہیں کسی اور کے حوالے نہ کرتا۔ موحد سنجیدگی سے بولا

میں انکار کرنے آئے تھی تمہیں۔کشف نے آہستہ آواز میں کہا

کیا سچ میں تمہارے دل میں موجود میرے لیے محبت ختم ہوگئ ہے؟ موحد نے دُکھ سے سوال کیا۔

محبت تو شاید میرے مرنے کے بعد ختم ہو۔ کشف عجیب انداز میں مسکراتی بولی۔

مجھے ایک موقع دو کبھی تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا ہمیشہ خوش رکھوں گا ہمیشہ تمہارا بن کر رہوں گا صبح شام رات اپنی محبت کا اظہار کروں گا دن میں پچاس سے زیادہ کالز کروں گا ہزار سے زیادہ میسجز کروں گا بس تم ہاں کہہ دو۔ موحد کی بات پہ کشف نے حیرت سے اُس کو دیکھا۔

ہوش میں ہو۔ کشف نے ہنس کر پوچھا

ہوش تو تمہاری دوری نے ٹھکانے لگائے تھے۔موحد افسردہ لہجے میں بولا

آگ برابر تھی۔ کشف نے کہا

یو لو می؟ موحد نے آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

یس آے لو یو۔ کشف مسکراکر اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بولی۔

وِل یو میری می؟ موحد سرشار سا بولا۔

یس۔کشف نے سرخ چہرے کے ساتھ کہا تو موحد تشکر بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا پھر اپنا دوسرا ہاتھ اُس کے ہاتھ پہ رکھا تو کشف نے بھی مضبوطی سے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کے والدین اپنے بچوں کی منگنیاں بچپن میں طے کرلیتے ہیں جن کا نتیجہ بڑے ہونے کے بعد کسی کا اچھا ہوتا ہے تو کسی کا بُرا کیونکہ بڑے ہونے کے بعد ہر ایک کا اپنا نظریہ ہوتا ہے والدین تو اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں پر بچپن میں طے کیے ہوئے رشتے سراسر بے وقوفی ہے کیونکہ بچپن میں جڑے سب رشتوں کا احتتام حمزہ اور حیا جیسا نہیں ہوتا کوئی اپنی بچپن کی منگ سے حمزہ کی طرح جنونی نہیں ہوتا کجھ لوگ نعیم جیسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی من مرضی کرنا چاہتے ہیں پر ہر منہا کی قسمت میں ماہر کا ساتھ نہیں ہوتا اِس لیے والدین کو چاہیے کے رشتہ کرنے کے وقت ایک بار اپنی اولاد سے رائے ضرور لیں اور رشتہ تب کریں جب بچے بالغ ہوجائے اگر دونوں طرف سے زبردستی ہوگی تو انجام کشف کی طرح ہوگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *