Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Muntazir Mera (Episode 07)

Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ﴿1﴾

اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو ، اور عدت کو اچھی طرح شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے، ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں، (٢) اور یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں اور جو کوئی اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود سے آگے نکلے، اس نے خود اپنی جان پر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کردے۔

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ﴿2﴾

پھر جب وہ عورتیں اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو تم یا تو انھیں بھلے طریقے پر (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا پھر بھلے طریقے سے ان کو الگ کردو، اور اپنے میں سے دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو عدل والے ہوں۔اور اللہ کی خاطر سیدھی سیدھی گواہی دو ، لوگو ! یہ وہ بات ہے جس کی نصیحت اس شخص کو کی جارہی ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔

وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ﴿3﴾

اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ (البتہ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا ﴿4﴾

اور تمہاری عورتوں میں سے جو ماہواری آنے سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں (ان کی عدت کے بارے میں) شک ہو تو (یاد رکھو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے، اور ان عورتوں کی (عدت) بھی (یہی ہے) جنہیں ابھی ماہواری آئی ہی نہیں، اور جو عورتیں حاملہ ہوں، ان کی (عدت کی) میعاد یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں۔ اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔

ذَٰلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنْزَلَهُ إِلَيْكُمْ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا ﴿5﴾

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تم پر اتارا ہے، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ ﴿6﴾

ان عورتوں کو اپنی حیثیت کے مطابق اسی جگہ رہائش مہیا کرو جہاں تم رہتے ہو اور انھیں تنگ کرنے کے لیے انھیں ستاؤ نہیں، (٩) اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو اس وقت تک نفقہ دیتے رہو جب تک وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں۔پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو انھیں ان کی اجرت ادا کرو، اور (اجرت مقرر کرنے کے لیے) آپس میں بھلے طریقے سے بات طے کرلیا کرو، اور اگر تم ایک دوسرے کے لیے مشکل پیدا کرو گے تو اسے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔

لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ ۖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا ﴿7﴾

ہر وسعت رکھنے والا اپنی وسعت کے مطابق نفقہ دے۔ اور جس شخص کے لیے اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہو، تو جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اسی میں سے نفقہ دے، اللہ نے کسی کو جتنا دیا ہے، اس پر اس سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا۔کوئی مشکل ہو تو اللہ اس کے بعد کوئی آسانی بھی پیدا کردے گا۔

وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُكْرًا ﴿8﴾

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا، اور انھیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انھوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا ﴿9﴾

چنانچہ انھوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا، اور ان کے اعمال کا آخری انجام نقصان ہی نقصان ہوا۔

أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا ﴿10﴾

(اور آخرت میں) ہم نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لہٰذا اے عقل والو جو ایمان لے آئے ہو، اللہ سے ڈرتے رہو۔اللہ نے تمہارے پاس ایک سراپا نصیحت بھیجی ہے۔

رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ قَدْ أَحْسَنَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا ﴿11﴾

یعنی وہ رسول جو تمہارے سامنے روشنی دینے والی اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں، اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے، اللہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق طے کردیا ہے۔

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ﴿12﴾

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی انہی کی طرح اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

سورہ طلاق کی تلاوت کرنے بعد کشف خاموش سی ہوگئ تھی وہ جانتی تھی طلاق کا عمل اللہ کو سخت ناپسند ہے وہ اب سچے دل سے اِس رشتے کو نبھانا چاہتی تھی پر شیراز اس سے جان چھڑوانے چاہتا تھا جس کا اظہار وہ بہت بار کرچُکا تھا۔

معرکہ مار لیا ہو تو میرے لیے ایک کپ چائے بناکر لاؤ سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔شیراز بالکونی میں آتا کشف سے بولا۔

لاتی ہوں۔کشف قرآن پاک پہ غلاف چڑھاتی بولی

شیراز اس کا جواب سن کر کمرے میں آتا رلیکس سا بیٹھ گیا۔

پانچ منٹ بعد کشف کڑک چائے کا کپ اُس کے لیے لائی۔

شکریہ۔شیراز کا موڈ اچھا تھا جبھی بولا۔

زیادہ درد ہے تو سر دباؤ؟کشف نے پوچھا۔

نہیں مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔شیراز اُس کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بیٹھاکر بولا کشف حیرت سے اُس کا نیا روپ دیکھنے لگی۔

کیا بات!کشف نے پوچھا۔

نایاب راضی ہوگئ ہے مجھ سے شادی کرنے کی ڈیڈ اعتراض کریں تو تم ان کو بتانا تمہیں کوئی مسئلہ نہیں۔شیراز کی بات پہ اُس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔

کہہ دوں گی اِس بات کے لیے دیکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔کشف اپنا ہاتھ آزاد کرواتی بولی۔

مجھے تم سے یہی اُمید تھی۔شیراز مسرور سا بولا کشف نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔

💕
💕
💕
💕

اگر تم دوسری شادی کرنا چاہتے ہو تو میری بیٹی کو ابھی کے ابھی طلاق دو۔واحب صاحب کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی تھی وہ کشف کو لینے کے لیے چلے آئے۔

واحب کیا بات کررہے ہو اتنی بڑی بات کیسے کرسکتے ہو۔اسحاق ظفر نے ان کو سمجھانا چاہا۔

بس اسحاق تمہاری دوستی کی وجہ سے میں نے رشتے پہ حامی بھری جانتا نہیں تھا تمہارا بیٹا کسی اور کی محبت میں گرفتار کا ہوگا۔واحب صاحب شیراز پہ اچٹکی نظر ڈال کر گویا ہوئے۔

ڈیڈ میں طلاق نہیں چاہتی اور نہ ہی شیراز کی شادی کرنے پہ کوئی اعتراض ہے ۔کشف نے سپاٹ انداس میں کہا۔

کشف تم خاموش رہو۔واحب صاحب نے سختی سے ٹوکا۔

کیوں خاموش رہوں میں پہلے شادی کروائی اور اب زور زبردستی شادی کے سات ماہ بعد طلاق کا ٹیک میرے ماتھے پہ لگوانے چاہتے ہیں۔کشف سر جھٹک کر بولی۔

میری بیٹی کو ابھی کے ابھی طلاق دو۔واحب صاحب کشف کی بات نظرانداز کرتے شیراز کا گریبان پکڑ کر بولے۔

انکل کنٹرول یوئر سیلف آپ کی عمر کا لحاظ ہے بس ورنہ۔شیراز ان کو خود سے دور کرتا بات ادھوری چھوڑگیا۔

شیراز پلیز مجھے طلاق مت دینا میں تمہارے اور نایاب کے درمیان کبھی نہیں آؤں گی۔کشف منت کرنے والے انداز میں شیراز سے بولی۔

طلاق دو میری بیٹی کو تاکہ میں اُس کو اپنے ساتھ لیں جاسکوں۔واحب صاحب نے غصے سے کہا۔

بھائی صاحب کیوں اپنی بیٹی کا گھر برباد کرنے پہ تُلے ہیں۔مسز اسحاق نے افسوس سے کہا۔

ابھی کونسا آباد ہے۔واحب صاحب طنزیہ بولے۔

سوری کشف پر میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔شیراز کشف کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا کشف زور سے سر کو نفی میں ہلانے لگی۔

میں شیراز اسحاق اپنے پورے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں

طلاق دیتا ہوں

طلاق دیتا ہوں۔

شیراز کے خاموش ہونے کے بعد سناٹا چھاگیا تھا مسز اسحاق اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ گئ کشف بے یقین سی شیراز کا چہرہ تکنے لگی دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہوئی۔

مختصر یہ کہ

اِس بار دل ٹوٹا نہیں مرگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

پانچ سال بعد!

موم میں نے پہلے بھی آپ سے کہا تھا اب دوبارہ کہہ رہا ہوں میں دوسری شادی نہیں کروں گا تو مطلب نہیں کروں گا۔ماہر سخت غصے کی حالت میں بولا۔

میں ماں ہوں تمہاری اگر میں نے تمہاری بات مانی تھی پہلے تو تمہارا بھی فرض بنتا ہے میری بات ماننے کا۔عانیہ مرزا نے ایموشنلی بلیک میل کرنا چاہا۔

آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ مگر جو آپ کہہ رہی ہیں وہ میرے اختیار میں نہیں۔ماہر نے کہا

میں پوتا چاہتی ہوں تمہاری بیوی بانج ہیں طلاق دے کر رخصت کرو۔عانیہ مرزا نفرت سے گویا ہوئی۔

موم اگر آپ نے دوبارہ منہا کے بارے میں ایسا کجھ کہا تو میں اس کو اپنے ساتھ لیکر چلا جاوٴں گا۔ماہر ضبط کی حدود چھوتا بولا پانچ سالوں سے عانیہ مرزا کی ایک رٹ پہ وہ جھنجھلا گیا تھا جنہوں نے منہا کو ابھی تک بچہ پیدا نہ کرنے پہ دوسری شادی کا کہا ماہر صاف انکار کرگیا تھا ڈاکٹرز کے مطابق رپورٹس کلیئر جب اللہ چاہے گا تب عطا کردیں گا اولاد کی نعمت پر یہ بات عانیہ مرزا کو سمجھ نہیں آرہی تھی ان کی تو جیسے برسوں کی خواہش پوری ہورہی تھی وہ بس منہا کو ماہر کی زندگی سے نکالنا چاہتی تھی۔

کیوں نہ کہوں میں۔عانیہ بیگم زور سے بولی۔

آپ کی اِن باتوں سے منہا ڈپریشن کا شکار ہورہی ہے ہمیں کوئی نہیں جلدی بچے کی جب اللہ نے دینا ہوا دے گا اگر نہ بھی ہوا تو کوئی بات نہیں پر میں منہا کے علاوہ کسی اور کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ماہر دو ٹوک کر بولا۔

دیکھتی ہوں میں کیسے نہیں کرتے تم شادی ایک دن خود تم منہا سے اکتا جاوٴ گے۔عانیہ مرزا غرور سے بولی۔

جب ایسا ہوا تو وہ ماہر مٙلک کی زندگی کا آخری دن ہوگا کیونکہ ماہر کی سانسیں منہا ماہر سے جوڑی ہوئی جنہیں سوائے موت کے کوئی چھین نہیں سکتا۔ماہر جنونیت بھرے لہجے میں بولا عانیہ مرزا اپنے بیٹے کو بس دیکھتی رہ گئ جو دیوانہ ہوگیا تھا منہا کا۔

💕
💕
💕
💕
💕

وہ تیز قدموں سے جا رہی تھی جب سائیڈ والا دروازہ کھولا اور کسی نے اُس کو اندر کی جانب کھینچا۔

حمزہ۔حیا نے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا جب کی حمزہ مسلسل اُس کو گھور رہا تھا۔

کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔حیا نے پوچھا۔

کہاں تھی اِتنا ٹائم پانچ منٹ کا کہا تھا تم نے۔حمزہ نے دیوار پہ دونوں ہاتھ رکھ کر حیا سے سنجیدگی سے پوچھا حیا کا خون خشک ہوا حمزہ کا انداز دیکھ کر۔

حنزہ کو اسکول کے لیے تیار کررہی تھی پتا ہے تو ہے تمہیں کتنا وقت لگاتا ہے۔حیا نے منمناکر کہا۔

یہ حنزہ میرا بیٹا کم ہمارا رقیب زیادہ لگتا ہے جب دیکھو بیچ میں آجاتا ہے۔حمزہ نے دانت پیس کر کہا۔

خبردار جو میرے معصوم بیٹے کو کجھ کہا تو۔حیا کے اندر ماں کا جوش جاگا۔

معصوم سیریسلی۔حمزہ نے معصوم لفظ پہ آئبرو اُچکائے۔

حمزہ یار کیا ہے اب جانے دو حنزہ کو ناشتہ بھی کروانا ہے۔حیا نے آرام سے کہا۔

حنزہ کی پرواہ ہے پر میری نہیں۔حمزہ نے غصے سے کہا۔

حمزہ تم اب بلاوجہ غصے ہوتے ہو حیا نے چڑ کر کہا۔

اپنی حرکتوں کے بارے میں کیا خیال ہے سارا حنزہ کو دوگی تو غصہ تو آئے گا نہ جب سے وہ دنیا میں آیا ہے تم نے میری ذات فراموش کرلی ہے بس حنزہ حنزہ کرتی رہتی ہو۔حمزہ غصے سے پھٹ پڑا۔

ایسا نہیں ہے حنزہ چھوٹا ہے اُس کو میری ضروری ہے۔حیا نے نرمی سے کہا۔

پانچ سال کا ہونے والا ہے۔حمزہ نے یاد کروایا ہے

تو پانچ سال کا ہونے والا ہے کونسا پچاس سال کا۔حیا نے لاپرواہی سے کہا۔

حیا۔حمزہ نے تنبیہہ کی۔

تمہیں آفس نہیں جانا کیا؟حیا نے پوچھا۔

جانا ہے۔حمزہ نے کہا

پھر جا کیوں نہیں رہے مجھے بھی قید کیا ہوا ہے۔حیا نے کوفت سے کہا۔

میں چاہوں تو پورا دن ایسے کھڑا کرسکتا ہوں۔حمزہ نے مسکراکر کہا۔

حمزہ میری جان پلیز جانے دو حنزہ انتظار کررہا ہوگا۔حیا نے حمزہ کے گال پہ کس کرکے کہا جہاں حمزہ فورن پِگھلا گیا اور اپنا دوسرا گال اُس کے سامنے کیا تو حیا نے مسکراکر وہاں پہ بھی لب رکھے۔

اب اِجازت ہے؟حیا نے فرمانبرداری سے پوچھا۔

یس مائے لو۔حمزہ نے اُس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا۔

جس طرح تم اپنے بیٹے سے جلتے ہو شاید ہی کوئی باپ جلتا ہو۔حیا حمزہ سے دور ہوتی بولی۔

جس طرح بیٹے کے آنے کے بعد تم شوہر کو بھول گئ ہوں اُس طرح بھی شاید ہی کو بیوی کرتی ہو۔حمزہ بھی دوبدو بولا حیا تیز نظر اُس پہ ڈالتی باہر نکل گئ۔

حنزہ نے آپ کو تنگ تو نہیں کیا؟حیا ہما بیگم سے حنزہ لیتی ہوئی بولی۔

نہیں ہم تو باتیں کررہے تھے۔ہما بیگم نے مسکراکر بتایا۔

ممی ناشتہ۔چار سالہ حنزہ حیا کی گود میں چڑھ کر بولا۔

ابھی لاتی ہوں میں اپنی جان کے لیے ناشتہ۔حیا محبت سے اُس کے گال چوم کر بولی۔

حمزہ نہیں اُٹھا کیا اب تک۔ہما بیگم نے حمزہ کو آتے نہیں دیکھا تو کہا۔

اُٹھ گیا آتا ہوگا۔حیا نے جواب دیا۔

ڈیڈ۔حنزہ نے سیڑھیوں کی طرف دیکھ کر بتایا جہاں نک سک سا تیار حمزہ آرہا تھا۔

کیا ہے ڈیڈ کے بیٹے۔حمزہ نے زور سے اُس کا گال کھینچ کر کہا جہاں حیا نے پیار کیا تھا نیچے آتے وقت حمزہ نے دیکھ لیا تھا تبھی ایسا کیا حمزہ کی اِس حرکت پہ حنزہ بھاں بھاں کرتا رونا شروع کرچُکا تھا۔

حمزہ حد کرتے ہو۔حیا حنزہ کو گود میں لیتی حمزہ سے بولی۔

اتنا بیباں بچہ نہیں جو گود میں اُٹھاتی ہو اِس کو۔حمزہ حنزہ اس سے لیتا بولا۔

جانے کیا پرخاش ہے تمہیں میرے بیٹے سے۔حیا نرمی سے حنزہ کے گال سہلاکر کہا جو سرخ ہوگئے تھے۔

کوئی نہیں ہے تم ملازمہ سے کہو ہمارا ناشتہ لائے۔حمزہ نے حنزہ کے آنسو صاف کرتے کہا۔

کہتی ہوں۔حیا کہہ کر کچن کی طرف جانے لگی۔

اتنی سی بات پہ کون روتا ہے۔حمزہ صوفے پہ بیٹھ کر حنزہ کو اپنی تھائی پہ بیٹھا کر بولا۔

درد ہوتا۔حنزہ نے معصوم شکل بناکر بولا۔

اچھا درد ہوتا۔حمزہ نے اپنی ناک اُس کی چھوٹی سی ناک پہ مس کرتے کہا تو حنزہ نے زور سے سر کو جنبش دی۔

میری بیوی سے دور رہو پھر میں روز اچھے اچھے ٹوائیز دوں گا گیم کھیلوں گا ہر بات مانوں گا۔حمزہ نے اپنے بیٹے کو لالچ دے کر کہا ہما بیگم کا منہ کُھل گیا اپنے بیٹے کی بات پہ۔

آپ کی بیوی میری ممی۔حنزہ نے اپنی آنکھوں کو بڑا کرتے ہوئے کہا۔

پہلے میری بیوی ہے تمہارا حق تو بعد میں بنتا ہے۔حمزہ اُس کی بات پہ بدمزہ ہوتا بولا۔

ناشتہ ٹیبل پہ لگ گیا ہے آجائے۔حیا واپس آتی ان سے بولی۔

چلو جی ناشتہ ٹائیم ہوگیا۔حمزہ کھڑا ہوتا بولا۔

💕
💕
💕
💕

ماہر کی نظر منہا پہ پڑی تو سمجھ گیا وہ بہت دیر سے روتی رہی ہے سرخ ناک اور سوجھی آنکھوں کو دیکھ کر ماہر کو تکلیف ہونے لگی۔

وجہ جان سکتا ہوں اِن کو تکلیف دینے کی۔ماہر نے اُس کی آنکھوں کو چھوکر کہا۔

ماہر آپ پھوپھو کی بات مان لیں۔منہا نے دل پہ پتھر رکھ کر کہا۔

منہا دوبارہ یہ بات مت کیجئے گا۔ماہر نے سنجیدگی سے ٹوکا۔

شاید میں آپ کو اولاد کی خوشی نہ دے پاؤں۔منہا نے دُکھ سے کہا۔

اولاد مرد کی قسمت میں ہوتی ہے میری قسمت میں ہوئی تو آپ سے ہوجائے گی اُس کے لیے مجھے دوسری شادی کرنے کے کی ضرورت نہیں میں اُن جاہل مردوں میں سے نہیں جو اولاد نا ہونے کا بہانہ کرکے دوسری تیسری شادی کرتے ہیں۔ماہر منہا کو اپنے ساتھ لگاتا بولا۔

گھر کا ماحول خراب ہوگیا ہے میری وجہ سے آپ اپنی ماں سے سخت ہوجاتے ہیں۔منہا کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی۔

موم بات ہی ایسی کرتی ہے خود پہ اختیار کھو بیٹھتا ہوں میں۔ماہر گہری سانس بھر کر بولا۔

وہ ماں ہے آپ کی آپ ان کے اکلوتے بیٹے ہیں اُن کے بھی کجھ ارمان ہوگے آپ کو لیکر۔منہا نے نرمی سے کہا۔

میں بے بس ہوں منہا آپ کی جگہ میں کسی کو نہیں دے سکتا۔ماہر نے بے بسی سے کہا۔

میں دعا کروں گی ہمارے درمیان تیسرا ہماری اولاد ہو کوئی عورت نہیں۔منہا خدشے کے تحت بولی اُس کو دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں ماہر اُس سے دور نہ ہوجائے۔

منہا خود کو بلاوجہ کی باتوں پہ پریشان نہیں کریں میں ہوں نہ سب ٹھیک کرلوں گا۔ماہر اُس کا ڈر محسوس کرتا محبت سے بولا۔

اللہ کریں سب ٹھیک ہوجائے۔منہا نے دل میں کہا

💕
💕
💕
💕
💕

جہان آپ میرے پاس آئے۔کشف نے مسکراکر جہان کو اپنی طرف بلایا جسے سن کر تین سالہ جہان کِھلکِھلاتا جہان اپنی پھوپھو کی طرف آنے والا۔اِن پانچ سالوں میں ساگر کی شادی ہوگئ تھی اپنی کولیگ لیلا سے جس سے تین سال کا اُس کا بیٹا تھا اور ایک سال کی بیٹی ماہم تھی واحب صاحب اور سومل بیگم نے کشف کی دوسری شادی کروانی چاہی تھی پر کشف نے صاف کہہ دیا تھا اگر دوبارہ شادی کا کہا تو وہ گھر چھوڑ کر چلی جائے گی جس پہ اِس بار اس کے ساتھ زبردستی نہیں کی گئ تھی شیراز کے بعد کشف پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگئ تھی اب بھی بس جہان اور ماہم کے ساتھ کجھ ہنس بول لیا کرتی تھی ورنہ زیادہ تر اکیلے رہنا پسند کرتی تھی۔

پھوپھو کی جان۔کشف نے اس کو گود میں اُٹھاکر اندر لائی۔

بوت لگی۔جہان نے توتلی زبان میں کہا۔

اووہ بھوک لگی ہے ابھی ہم اِس کا علاج کرتے ہیں۔کشف نے گُدگُدا کر کہا۔

ماہم کہاں ہیں بھابھی؟کشف نے لیلا سے پوچھا

سورہی ہے رات کو ساری رات ٹھیک سے نہیں سوئی تھی۔لیلا نے جواب دیا۔

اچھا میں جہان کے لیے دودہ لیکر جارہی ہوں۔کشف نے بتایا۔

اورینٹ بسکٹ بھی کِھلانا دودہ سے سارا دن تو بس کھیلتا رہتا ہے۔لیلا نے کہا

آپ بے فکر رہے میں کِھلادوں گی اورینٹ تو ویسے بھی جہان کے فیورٹ بسکٹ ہیں۔کشف نے آرام سے کہا۔

پریشان ہیں کجھ؟کشف جہان کو اپنے کمرے بھیجتی ساگر سے پوچھنے لگی جو پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہا تھا۔

ہاں بس بزنس کی ٹیشن ہیں کجھ۔ساگر نے جواب دیا۔

کیوں کیا ہوا ہے؟کشف نے جاننا چاہا

بس ہمارے شیئرز گِرتے جارہے ہیں ایسا پہلی دفع ہوا ہے مارکیٹ میں ہماری کمپنی کی ویلیو کم ہوگئ ہے دن بدن بزنس میں لوسٹ ہورہا ہے۔ساگر نے پریشانی سے بتایا۔

بزنس میں تو ایسا ہوتا رہتا ہے پریشان نہیں ہو آپ۔کشف نے تسلی کروائی۔

ہمم ایم کے کمپنی بہت عروج پہ پہنچ گئ ہے اگر ہماری اُس کے ساتھ اگر پارٹنرشپ ہوجائے تو ہماری لیے فائدیمند ہوگا۔ساگر نے پرسوچ ہوکر کہا۔

ایم کے یہ کیسا نام ہے؟کشف نے پوچھا

نام سے کیا ہے سنا ہے بہت کم عرصے سے نام کمایا ہے اُس نے میڈیا پہ سوشل میڈیا اخبارات میں بہت چرچے ہیں اُس کے پاکستان میں تو اس کا بزنس ہے دوسرے ملک میں بھی اُس کا بزنس پھیلا ہوا ہے ایک تو ٹی وی چینل کا آفس ہے جہاں اگر رائٹر کا لکھا ہوا اچھا نہ بھی ہو وہ ڈئرائیکشن کے لیے ڈائریکٹر ایسا چوز کرتا ہے کے فلم ہو یا ڈرامہ سوپر ہٹ ہوتا ہے۔ساگر نے مزید بتایا۔

انٹرسٹنگ۔کشف ایمپریس ہوتی بولی۔

سوشل میڈیا سے تم نے بائیکاٹ کرلیا ہے ورنہ پتا ہوتا تمہیں۔ساگر نے کہا۔

تو آپ ایم کے بزنس میں سے رابطہ کریں اگر آپ کو اُس کے ساتھ کام کرنے میں پرافیکٹ ملتا ہے تو۔کشف اُس کی بات نظرانداز کرتی بولی۔

ڈیڈ سے بات کروں گا پھر دیکھتے ہیں کیا کہتے ہیں وہ اگر جیسا میں چاہتا ہوں ویسا ہوجاتا ہے تو ہمارا بزنس اپنا مقام واپس حاصل کرسکتا ہے۔ساگر نے امید سے کہا۔

انشااللہ ہوجائے گا آپ پریشان نہیں ہو۔کشف نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔

کمرے میں آکر کشف کی نظر بیڈ پہ پڑے پیپرز پہ پڑی اپنی زندگی پہ لکھی کتاب اُس نے پوری کرلی تھی جس کا اینڈ کیا تھا اُس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا

ٹی وی چینل کا آفس ہے جہاں اگر رائٹر کا لکھا ہوا اچھا نہ بھی ہو وہ ڈئرائیکشن کے لیے ڈائریکٹر ایسا چوز کرتا ہے کے فلم ہو یا ڈرامہ سوپر ہٹ ہوتا ہے۔

ان پیپرز کو دیکھ کر کشف کے کانوں میں ساگر کی آواز گونجی جس کو نظرانداز کرتی وہ ان کو سمیٹ کر سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھ لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واحب مجھے کشف کی بہت فکر رہتی ہے۔سومل بیگم نے چائے کا کپ واحب صاحب کی طرف بڑھاکر کہا۔

فکریں تو میرے پاس بھی بہت ہیں اُپر سے کشف کا بچپنا ایک بات کو اپنی انا کا مسئلہ بناکر بیٹھ گئ ہے۔واحب صاحب نے گہری سانس بھر کر کہا

آپ کو شیراز سے طلاق کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔سومل بیگم نے کہا۔

کیوں نہ کرتا اگر پسند کی شادی کرلیتا تو میری بیٹی سے کون پوچھتا خود تو وہ خوشی خوشی اب اپنی زندگی گُزار رہا ہے۔واحب صاحب نے نفرت سے شیراز کا ذکر کرتے کہا

پُرانی باتوں کو یاد کرنے کا اب کیا فائدہ آپ کوئی مناسب سا رشتہ تلاش کریں جس پہ کشف بھی انکار نہ کریں۔سومل بیگم نے مشورہ دیتے کہا

ابھی آفس کے کجھ مسئلے مسائل ہیں وہ حل ہوجائے تو سوچتے ہیں۔واحب صاحب نے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی ہو؟حیا کشف کے گلے ملتی بولی۔

تمہارے سامنے۔کشف نے جواب دیا۔

اففف کشف مجھ سے تو اچھے سے بات کرلیا کرو کبھی کبھی ہی یہاں آتی ہوں۔حیا آرام سے اُس کے بیڈ پہ بیٹھ کر بولی۔

حنزہ کو ساتھ نہیں لائی۔کشف اس کی بات ان سنی کرکے بولی۔

حنزہ اپنی دادی کے پاس تھا اِس لیے سوچا میں اکیلے آجاتی ہوں۔حیا نے جواب دیا

ہممم سہی کیا۔کشف نے کہا

سنا ہے تم کوکنگ اچھا کرنے لگی ہو میرے لیے پاستا تو بنالوں۔حیا نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا۔

تم بیٹھو میں بناکر لاتی ہوں۔کشف کھڑی ہوتی بولی۔

کشف کے جانے کے بعد حیا کمرے کی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی اُس نے سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا تو کجھ پیپرز اس کے ہاتھ آئے ان میں کشف کی لکھائی اور ٹائٹل دیکھ کر حیا کو تجسس ہوا۔

پڑھوں تو سہی کیا لِکھا ہے محترمہ نہ۔حیا مزے سے پہلا پیج کھول کر بولی اُس نے ابھی ایک پیج پڑھا تھا جب قدموں کی چاپ قریب سنائی دی حیا نے جھٹ سے وہ پیپرز اپنی پرس میں رکھے اور سیدھی ہوکر بیٹھی تاکہ کشف کو شک نہ ہو۔

اتنی جلدی تیار ہوگیا۔حیا نے مسکراکر کہا

بیس منٹ سے زیادہ وقت ہوگیا ہے۔کشف نے بتایا جس پہ حیا کھسیانی سی مسکرادی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

واٹ دا ہیل ایک کام تم لوگوں سے نہیں ہوتا ٹھیک سے۔ایم کے نے ٹیبل پہ موجود ساری فائلز ماربل کے فرش پہ پھینک کر گرجدار آواز میں کہا سامنے کھڑا اُس کا اسسٹنٹ کانپ کے رہ گیا باہر موجود سارا اسٹاف بھی آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔

س سو سوری سس سر۔اسسٹنٹ نے اٹک اٹک کر کہا۔

گیٹ آوٴٹ دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔ایم کے نے غصے سے کہا۔

مس عافیہ میرے کیبن میں آئے۔اسسٹنٹ کے جانے کے بعد ایم کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا انٹر کام پہ بولا ایک منٹ بعد عافیہ کیبن میں موجود تھی۔

اخبار میں نیو اسسٹنٹ کا ایڈ دے جلد سے جلد نیا اور قابل اسسٹنٹ چاہیے مجھے داوٴد سے کہے دے شوٹ پہ اُس کو میرے ساتھ ہونا ہے۔ایم کے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

اوکے سر اور میری رائٹر افروزہ سے بات ہوئی تھی انہوں نے کہا کے وہ لاسٹ اپیسوڈ ابھی نہیں لِکھ سکتی کیونکہ کجھ بزی ہیں۔عافیہ نے ڈرتے ہوئے بتایا۔

ان کے ڈرامہ فلحال بند کردے جب کمپلینٹ لکھ لیں گی تم اس پہ ہم کام کریں گے۔ایم کے نے جوابً کہا۔

جیسا آپ کہے۔عافیہ سر اثبات میں ہلایا۔

نیو رائٹرز تلاش کریں جو یونیک لکھتی ہوں ناکہ سانس بہوں کا جھگڑا۔ایم کے نے ایک نیا حکم صادر کیا۔

کیا کہا سر ایم کے نے؟عافیہ واپس آئی تھی سب نے تجسس سے پوچھا۔

بے چارے کو جاب لیس کردیا اور کہا نیو اسسٹنٹ ہائیر کرو اخبار میں اُس ایڈ دینے کا کہا ہے۔عافیہ نے منہ بگاڑ کر کہا

پھر سے اِس کو تو ابھی ایک ماہ ہوا تھا۔دوسرے لڑکے نے حیرت سے کہا

اِن کے تو سارے کام عجیب ہے اب کہا نیو رائٹرز تلاش کرو وہ یونیک لکھتی بھلا نیو رائٹرز کو کہاں ایکسپیرینس ہوتا ہے لکھنے کا اور سر ہیں کے اتنی بڑی کمپنی میں ان کو موقع دینے کا سوچ رہے ہیں۔عافیہ نے رازدانہ انداز میں کہا۔

ہر وقت سڑے ہوئے کیوں رہتے ہیں ویسے وہ؟شمائلا نے کہا

ضرور کوئی محبوبہ ہوگی اس نے دھوکہ دیا ہوگا جس کا بدلا وہ ہم معصوموں سے لے رہے ہیں۔عافیہ نے کہا۔

اگر آپ معصوموں نے گوسپ کرلیا ہو تم بڑائے کرم پانچ منٹ بعد کانفرنس روم میں آئے۔ایم کے کی بھاری آواز سن کر سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا ایم کے سب پہ اُڑتے رنگ دیکھتا واپس چلاگیا۔

توبہ یہ ہٹلر کیسے اچانک آجاتے ہیں۔عافیہ اپنا رکا سانس بحال کرتی بولی۔

اِن باتوں کو چھوڑو میٹنگ کا سوچوں جو انہوں نے اچانک منعقد کی ہے۔دوسرے لڑکے نے کہا تو سب پریشانی سے سوچنے لگے۔

💕
💕
💕
💕
💕

عانیہ مرزا آہستہ سے سیڑھیاں اُتر رہی تھی اُسی وقت تیز قدموں سے منہا سیڑھیاں اُتر رہی تھی آج اُس کی ڈاکٹر کے ساتھ اپائمنٹ تھی اِس لئے وہ جلدی جارہی تھی کیونکہ باہر گاڑی میں ماہر اُس کا انتظار کررہا تھا عانیہ مرزا نے جب اپنے پیچھے منہا کو آتا محسوس کیا تھا سامنے گلاس وال ڈور سے ماہر کو آتا بھی دیکھا جس سے ان کے دماغ میں کلک ہوا ماہر جیسے ہی مین ڈور پہنچا عانیہ مرزا رک کر جیسے ہی منہا ان کے کجھ فاصلے پہ ہوئی انہوں نے اپنا پیر موڑا اور سیڑھیوں سے گِرتی چلی گئ ان کے ایسا کرنے سے دور سے یہی ظاہر ہورہا تھا جیسے منہا نے ان کو دھکا دیا ہو۔

پھوپھو

موم

دونوں کے منہ سے بے اختیار یہ لفظ ادا ہوئے۔

پھوپھو آپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں آئی۔منہا پریشان سی پوچھنے لگی حو کراہنے کا ڈرامہ کررہی تھی۔

پڑے ہٹو ایک تو مجھے دھکا دیا اُپر سے اب ماہر کو دیکھ کر ہمدردی کا ناٹک کررہی ہو۔عانیہ مرزا نے جھلا کر کہا منہا ان کی بات پہ ساکت سے دیکھنے لگی۔

موم آپ اندر چلیں۔ماہر پریشان سا ان کو اُٹھانے لگا۔

ماہر میں نے ایسا کجھ نہیں کیا۔منہا نے جلدی سے وضاحت دی تاکہ ماہر اُس پہ شک نہ کریں۔

تو کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں۔عانیہ مرزا تپ کے بولی۔

ماہر

منہا نے کجھ کہنا چاہا پر ماہر ہاتھ کے اِشارے کجھ بولنے سے رک دیا عانیہ مرزا یہ دیکھ کر خوش ہوگئ منہا بے یقین نظروں سے ان کو دیکھنے لگی جو اب سہارے سے عانیہ مرزا کو اندر کی طرف لیں جارہا تھا۔

موم آپ بیٹھے میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں۔ماہر نے کہا

ڈاکٹر کی کیا ضرورت ہلکی سی موچ ہے سہی ہوجائے گی پر منہا نے سہی نہیں کیا تم سے شادی کا کیا کہہ دیا وہ تو اِس طرح کی حرکتیں کرنے لگی پڑی۔عانیہ مرزا جھوٹے آنسو بہاتی بولی۔

موم آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی منہا کیوں کرے گی اُس کے دل میں ایسا کجھ نہیں۔ماہر نے رسانیت سے کہا

اووہ تو بیوی ماں سے زیادہ پیاری ہوگئ وہ ٹھیک اور میں غلط۔عانیہ مرزا تپ کے بولی

میں نے ایسا نہیں کہا موم اور نہ میرا ایسا مطلب تھا منہا صاف دل کی مالک ہے وہ ایسا کرنا تو دور سوچ بھی نہیں سکتی میں آپ کو غلط نہیں کررہا پر آپ کو ایسا لگا ہوگا پر منہا ایسا کیوں کرے گی جب کی وہ خود چاہتی ہے میں آپ کا کہا مانوں۔ماہر نے ان محبت سے ان کا ہاتھ تھام کر کہا

میری بات کی تو کوئی اہمیت نہیں جب وہ راضی ہے تو مان لو روبی آج تک کنواری ہے تمہاری وجہ سے۔عانیہ مرزا نے کہا

موم میں دوسری شادی نہیں کرسکتا آپ پلیز بار بار ایک بات نہ کیا کریں آپ کے پیر میں موچ آئی ہے آرام کریں میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں۔ماہر سپاٹ لہجے میں بول کر کمرے سے باہر نکل گیا عانیہ مرزا اپنے پلان میں فیل ہونے پہ کراہ کے رہ گئ۔

ماہر میرا یقین کریں میں نے پھوپھو کا دھکا نہیں دیا میں بھلا کیوں

شششش

کتنا زیادہ بولنے لگی ہے آپ۔منہا جو ماہر کو کمرے میں دیکھ کر بولنا شروع ہوگئ تھی ماہر نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش کروایا۔

ماہر آپ کو مجھ پہ یقین ہے نہ۔منہا نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھا

بلکل مجھے پتا ہے آپ ایسا نہیں کرسکتی موم کو غلطفہمی ہوئی ہوگی ورنہ میری منہا تو بہت معصوم ہے۔ماہر مُسکراکر اس کو اپنے حصار میں لیتے بولا۔

شکریہ مجھ پہ یقین کرنے کا۔منہا نے تشکر سے اس کو دیکھ کر کہا۔

اِس میں شکریہ کی کیا بات آپ میری محبت میرا عشق ہے تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کے میں آپ کا اعتبار نہ کروں۔ماہر آرام سے بولا۔

آپ بہت اچھے ہیں کبھی کبھی مجھے اپنے آپ پہ رشک آتا ہے کے اللہ نے مجھے آپ جیسا ہمسفر دیا۔منہا خوبصورت مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولی۔

مجھے تو ہر وقت خود پہ رشک آتا ہے کہ اللہ نے مجھے آپ کے بدولت ایک انمول تحفہ دیا ہے ورنہ میں آپ کے قابل نہیں تھا اِس لیے آپ کو پانے کی چاہ تو کی پر کوشش نہیں۔ماہر اُس کا سر اپنے سینے پہ رکھ کر بولا

ایسا نہیں سمجھا کریں ہم دونوں ایک دوسرے کے قابل ہے تبھی تو خدا نے ہمیں ملوایا۔منہا آنکھیں بند کرکے بولی۔

اِس لیے اپنے دل میں موجود وہم کو آپ اپنے دل سے نکال دے کیونکہ ماہر مٙلک بس منہا کا ہے اور ہمیشہ اُس کا رہے گا۔ماہر نے شدت سے کہا

میں جانتی ہوں ماہر صرف منہا کا ہے اور ہمیشہ اُس کا رہے گا ماہر اگر منہا سے دور ہوا تو منہا مرجائے گی۔منہا اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ کر بولی ماہر اُس کی آخری بات سن کر تڑپ کر اُس پہ اپنی گرفت مضبوط کی۔

💕
💕
💕
💕
💕

وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب کوئی اُس کے پاس بیٹھ گیا ایم کے نے چونک کر گردن موڑی تو سامنے بیٹھے وجود کو دیکھ کر اُس کے عنابی ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی۔

بھائی کل پھر آپ لیٹ گھر آئے اتنا بڑا گھر ہے مجھے کبھی کبھار وحشت ہوتی ہے اکیلے رہ کر۔اُس کی بہن نے ناراض لہجے میں کہا۔

اکیلے کہاں اتنے سارے لوگ تو ہوتے ہیں یہاں پھر کیوں آپ کو وحشت ہوتی ہے۔ایم کے نے محبت سے اپنی کو اپنے ساتھ لگاکر کہا۔

یہ جو ملازموں کی فوج آپ نے اکٹھا کی ہے مجھے تو شک گُزرتا ہے کے کہیں یہ ریموٹ سے چلنے والے روبوٹ تو نہیں۔اُس نے منہ بسور کر کہا

میری معصوم بہن روبوٹ تو میرے خیال سے کمپیوٹر سسٹم سے کنٹرول میں ہوتے ہیں آپ انجنیئر پڑھ رہی ہے اِتنا تو پتا ہونا چاہیے۔ایم کے نے اپنی جان سے پیاری بہن کو چھیڑ کر کہا ایک وہی تو تھی اب اُس کی جان۔

میں نے جسٹ آپ کو ایک مثال دی وہ مجھ سے بات نہیں کرتے مجھ سے کھیلتے بھی نہیں۔اپنے بھائی کی بات سن کر منہ بسور کر بولی۔

آپ کونسا بچی ہیں۔ایم کے نے گھور کر کہا۔

دل تو بچہ ہے نہ عمر کو آپ اگنور کریں۔اُس نے آنکھ ونک کرتے کہا جس پہ ایم کے نے نفی میں سر کو جنبش دی

ویسے بھائی آج چھٹی ہے تو کیوں نہ ہم باہر چلیں۔ایم کے انکار کرتا پر اپنی بہن کی معصوم شکل دیکھ کر وہ انکار نہیں کرپایا اور سر کو جنبش دے کر حامی بھری جس پہ اُس کی بہن چہک کر گال چومتی تیار ہونے چل پڑی ایم کے فقط مسکرادیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

کشف میں مارکیٹ جارہی ہوں تم بھی ساتھ چلو۔لیلا نے کشف سے کہا جو اخبار میں جابز کے ایڈز دیکھ رہی تھی۔

آپ جائے میرا دل نہیں۔کشف نے مسکراکر انکار کیا۔

ساتھ چلتی تو اچھا تھا جہان بھی ساتھ ہوگا اُس کو تم سنبھالتی۔ لیلا نے کہا

اچھا میں چادر پہنوں پھر آتی ہوں۔کشف نے حامی بھرتے کہا

شکریہ۔لیلا خوش ہوکر بولی۔

پھوپھو ہم تہاں جارہے ہیں؟جہان نے گاڑی میں بیٹھ کر توتلی آواز میں سوال کیا۔

ہم شاپنگ پہ جارہے ہیں آپ اچھے اچھے کِھلونے لینا وہاں سے۔کشف نے اس کا ماتھا چوم کر کہا

مجا آئے گا۔جہان چہکتا بولا

مارکیٹ آکر لیلا نے پہلے بچوں کی چیزیں لی جہان نے آئسکریم کی فرمائش کی تو کشف اُس کا ہاتھ پکڑتی دوسری سائیڈ پہ بنے آئسکریم پارلر کی جانب آئی۔

پرس سے پئسے نکالتے وقت کشف کا ہاتھ جہان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا جہان کی نظر کلرفل بلونز پہ پڑی تو اُس کی آنکھوں میں چمک اُبھری وہ بنا کشف کو بتائے بھاگتا بلونز لینے چلاگیا کشف کا دھیان اُس کی طرف نہیں تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی آپ میرا انتظار کریں گے یہاں ساتھ چلیں گے۔گاڑی سے اُترنے سے پہلے اُس نے سوال کیا

میں ایک کال سن کر آتا ہوں۔ایم کے نے سنجیدگی سے کہا جس پہ وہ سرہلاتی مارکیٹ کے اندر چلی گئ۔ایم کے گاڑی سے باہر آتا کال پہ بات کرنے لگا کال سے فارغ ہوا تو اُس بچے کی رونے کی آواز آئی ایم کے یہاں وہاں دیکھا پر بچہ نظر نہیں آیا وہ سر جھٹکتا جیسے ہی مڑا تو نظر چھوٹے سے خوبصورت بچے پہ پڑی جو آنکھیں مسلتا رونے میں مصروف تھا۔

آپ کی مما گم ہوگئ ہیں کیا؟ایم کے اس کے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پوچھنے لگا۔

نہیں میں کھوگیا ہوں۔جہان نے روتے ہوئے جواب دیا تو ایم کے نے اس کو گود میں لیا

آپ آئے کس کے ساتھ آئے تھے؟ایم نے دوسرا سوال کیا۔

مما پھوپھو بلونز دیکھے تو یہاں آگیا پر پتا نہیں پھوپھو مما کہاں ہیں۔جہان سوں سوں کرتا بولا

بہت کیئرلیس ہیں آپ کی مما اور پھوپھو۔ایم کے تاسف سے بولا جس پہ جہان مزید زور سے رونے لگا ایم کے اس کے اِس طرح رونے پہ سٹپٹاگیا

اچھا آپ کی مما کو تلاش کرتے ہیں تب تک آپ آئسکریم انجوائے کریں۔ایم کے نے بہلانے کی خاطر کہا

پھوپھو آئسکریم کے پاس۔جہان رونا بھول کر بولا

اچھا وہ وہاں ہیں تو چلتے ہیں۔ایم کے نے اس کی ناک دباکر کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کشف آئسکریم لیکر جہان کو دینا چاہا تو وہ کہیں نظر نہیں آیا کشف کا رنگ فق ہوا اُس نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھا مگر سب نے لاعلمی کا اظہار کیا کشف کو سخت ٹیشن ہونے لگی۔

بھابھی کو تو بتادو۔کشف خود سے کہتی لیلا کو کال ملانے لگی مگر کال ریسیو نہیں ہوئی کشف نے جھنجھلا کر کال کرنا بند کیا۔

پھوپھو۔کشف پریشان چہرہ لیے مارکیٹ جانے کا سوچ رہی تھی جب اپنے پیچھے جہان کی آواز سن کر وہ فورن سے پلٹی جہاں جہان ہاتھ ہلاتا اپنی طرف اشارہ کررہا تھا کشف بھاگ کر اس کے پاس گئ تھی اور دیوانہ وار اس کا چہرہ چومنے لگی۔

کہاں گئے تھے بنا بتائے۔کشف اس کے چہرے پہ ہاتھ رکھتی بولی۔

گم ہوگیا تھا۔جہان نے معصومیت سے بتایا

اچھا تو پھر مل کیسے گئے؟کشف نے گھور کر پوچھا

یہ انکل

ارے انکل کہاں گئے؟جہان جو ایم کے کی طرف اشارہ کرکے بتارہا تھا اُس کو ناپاکر حیرت سے بولا کشف نے بھی یہاں وہاں دیکھا پر کوئی ان کی طرف متوجہ نہ تھا اِس لیے جہان کو اب کی گود میں اُٹھاتی مارکیٹ کی طرف بڑھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی دیر کردی آپ نے آنے میں؟ایم کے آیا تو اُس نے پوچھا

چھوٹا بچہ اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا تھا اُس کی مدد کرنے کے چکر میں دیر ہوگئ۔ایم کے نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر جواب دیا۔

اچھا تو مل گئ اُس کو اپنی ماں؟اس نے فکرمندی سے پوچھا

ہاں ایک لڑکی کو پھوپھو کہہ رہا تھا تو میں اُس کو چھوڑتا واپس آگیا۔ایم کے نے کندھے اُچکاکر کہا

اچھا سہی۔اس نے سرہلایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *