Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 01)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 01)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
اسلام علیکم دوستوں میں آپ کو بتاتی چلوں یہ صبح صبح کا منظر سہانا ہم منہا مرزا کے ساتھ گُزارے گے جن کا دن جہاڑو کرنے سے شروع ہوتا ہے اور رات کو برتن دھونے پہ ختم ہوجاتا ہے۔کشف اپنا سیل فون سیلفی اسٹک پہ لگائے فر فر کسی نیوز ریپوٹر کی طرح بول رہی تھی۔
بکواس نہیں کرو۔منہا جو اپنا روم صاف کررہی تھی کشف کی بات پہ اس کی پیٹھ پہ تھپڑ رسید کیا۔
افففف اللہ ظالموں فلحال میرے ساتھ حادثہ پیش آیا جس کے لیے ابھی ہم لیتے ہیں ایک دن کا بریک پھر جلدی ملیں گے اِس لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیے گا۔کشف اپنی ہانکتی ویڈیو بند کرگئ
کالج نہیں جانا جو میرے کمرے کا حشر بگاڑنے آئی ہو؟منہا نے کشف سے کہا جو رشتے میں اُس کی چچا زاد کزن تھی پر آپس میں محبت بھی محبت تھی منہا کشف سے دو سال بڑی تھی پر وہ آپس میں بے تکلف ہوکر ساری بات کردیا کرتے تھے ابھی کشف اس کے کمرے میں لیز چپس کا پیکٹ کھولتے دیکھا تو گہری سانس لی جانتی جو تھی اُس نے پھر ایسے ہی کمرے میں پھینک دینا ہے جس سے اُس کو دوبارہ سے صفائی کرنے پڑے گی۔
ویکینڈ پہ میں ہم کالج نہیں جاتے ڈیئر۔کشف نے شرارت سے آنکھ ونک کرتے کہا۔
منہا ماہر بھائی آئے ہیں امی کا حکم ہے ان کے لیے زبردست سی چائے بنا کر آؤ۔حیا منہا سے ایک سال چھوٹی بہن کمرے میں آتی منہا سے بولی جس کے چہرے کا رنگ ماہر نام پہ سنجیدہ ہوگیا تھا جب کی کشف کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ آگئ تھی۔
چائے تو بہانا ہے اصل میں تو بس وہ دیدارِ یار کرنے آئے ہیں۔کشف چپس کا ٹکڑا چباتی بولی حیا نے مسکراہٹ دبائی۔
فضول مت بولوں۔منہا نے آنکھیں دیکھاکر کہا۔
اِن نظروں سے ہی اُن کو گھائل کیا ہوگا یقیناً۔کشف کہاں باز آنے والی تھی۔
مرو تم۔منہا نے تکیہ اُٹھاکر اس کی طرف اُچھالا جو کشف نے بڑی مہارت سے کیچ کیا۔
چائے بنانا کونسا مشکل کام ہے تم بنادیتی یا گھر میں کسی ملازمہ سے کہہ دیتی۔منہا نے اپنی توپوں کا رخ حیا کی طرف کیا۔
پتا تو ہے ان کو چائے مطلب منہا اور کسی کی نہیں پسند۔حیا نے معصوم شکل بنائے کہا تو منہا پاؤں پٹختی کمرے سے جانے لگی۔
ایک کڑک الائچی والی چائے کشف مرزا کے لیے بھی۔کشف نے جلے پہ تیل کا کام کیا منہا بنا کوئی جواب دیئے دروازہ زور بند کرگئ ان دونوں کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
رحم کرتی دروازہ اپنے کمرے کا ہی تھا۔کشف ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتی بولی مگر سننے والی جاچُکی تھی۔
منہا کچن میں آتی چائے بنانے کے بعد زور سے کٹیلی ٹرے میں رکھی دو کپس رکھنے کے بعد اپنے قدم باہر ڈرائینگ روم کی طرف بڑھائے۔
اسلام علیکم!!!منہا نے ٹرے ٹیبل پہ رکھ بنا دیکھے سلام کیا جس پہ لائٹ پنک کلر کی شرٹ کے ساتھ وائٹ جینز پینٹ پہنے شخص نے نظر بھر کر اس کی طرف دیکھا تھا جو پرپل کلر کے پرنٹڈ سوٹ میں ڈوپٹہ اچھے سے سر پہ سجائے سادگی میں بھی اس کو بہت خوبصورت لگی۔
وعلیکم اسلام!!!!ماہر نے مسکراکر سلام کا جواب دیا منہا ٹرے رکھ کر جانے لگی مگر اپنی ماں کی آواز پہ اُس کے قدم تھمے۔
منہا اتنی جلدی ہے کیا ماہر کو چائے تو سرو کرو۔رخشندہ بیگم نے کہا تو منہا نے ماہر کی جانب دیکھا جو ابھی بھی مسکراتا اس کی طرف دیکھ رہا تھا منہا کو اُلجھن ہونے لگی مگر ماں کی بات پہ ماننی تھی ورنہ پورا ایک ہفتہ ایک بات پہ لیکچر ملنا تھا۔
چائے۔منہا نے دانت پیس کر کہا کیونکہ کافی دیر سے وہ چائے ہاتھ میں لیکر کھڑی تھی پر ماہر صاحب کو منہا کا چہرہ دیکھنے سے فرصت ہو تو وہ بیچاری چائے کو بھی ایک نظر دیکھے۔
او سوری۔ماہر خجل سا ہوتا چائے کا کپ اُس کے ہاتھ سے لیں لیا۔
آپ کو دوں۔منہا نے رخشندہ بیگم سے پوچھا تو انہوں نے ہاں میں سرہلایا۔
نظر سے جب نظر ملی
ارے یاروں
نظر سے جب نظر ملی
ہاتھ میں تب چائے ملی
منہا جیسے کمرے میں داخل ہوئی اُس کو دیکھ کر کشف پٹری سے اُتر کر حیا کو دیکھ کر شعرانہ انداز میں کہا۔
واہ
واہ
حیا نے تالیاں بجاکر داد دی کشف گردن اکڑاکر اُس کی داد وصول کی۔
تم دونوں نکلی نہیں ابھی تک میرے کمرے سے منہا کا پارہ ہائے ہوا کشف کا ایجاد کیا ہوا شعر سن کر۔
نہیں سوچا آپ سے دیدار یار کی تفصیل پوچھ لیں۔حیا نے زچ کرنے والے انداز میں کہا۔
اب اگر ایک اور بیہودہ گفتگو کی تو سر پھاڑ دوں گی میں۔منہا نے غصے سے کہا۔
ماہر ٹو بی جیجا جی چلیں گئے کیا دروازے تک چھوڑ آئی تو کجھ اپنے اُداسی محسوس تو ہوئی ہوگی۔وہ کشف ہی کیا جو باز آجائے۔
میں ہی چلی جاتی ہوں۔منہا دونوں کو گھور کر دیکھتی کمرے سے نکل گئ کشف نے مسکراکر حیا سے ہائے فائے کیا۔






ثاقب مرزا نے دو شادیاں کی ہوئی تھی جن میں پہلی بیوی سے ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی بیٹا سعید مرزا تو بیٹی عانیہ مرزا کے جب کی دوسری بیوی سے ان کو دو بیٹے تھے اور ایک بیٹی تھی بڑے بیٹے کا نام نور احمد تھا دوسرے بیٹا کا نام واحب احمد تھا جب کی بیٹی کا نام فاریہ مرزا تھا۔
سعید مرزا جو سب سے بڑے بیٹے تھا انہوں نے اپنی کلاس فیلو ہما سے شادی کی تھی جو ایک سُلجھی ہوئی خاتون تھی سعید احمد کے دو بیٹے تھے بڑا بیٹا نعیم دوسرے بیٹے کا نام حمزہ تھا نعیم پڑھائی کے سلسلے میں کینیڈا میں مقیم تھا اس کے برعکس حمزہ نے اپنی پڑھائی پاکستان میں ہی کی تھی۔
سعید کے بعد عانیہ مرزا کی باری آئی تھی جن کی شادی انہوں نے اپنے دوست کے بیٹے عمران مٙلک سے کی تھی جو بہت کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے عانیہ مرزا کی تین اولادیں تھی پہلی دو بیٹیاں پھر ایک بیٹا بڑی بیٹی کا نام حنا تھا دوسری بیٹی کا نام ثنا تھا بیٹے کا نام ماہر رکھا جو حال میں ہی اپنی پڑھائی پوری کرتا پاکستان آیا تھا اور اُس نے اپنی فلمی انڈسٹری کھولی تھی وہ خود کبھی ٹی وی پہ نہیں آیا تھا وہ بس ڈائریکٹر وغیرہ یا فوٹوگرافی کرتا تھا۔
نور احمد کی شادی ثاقب مرزا نے رشتیدار کی بیٹی رخشندہ سے کروائی تھی جن میں ان کی دو بیٹیاں تھی ایک منہا دوسری حیا دونوں کا رشتہ ثاقب مرزا کی مرضی سے سعید احمد کے بیٹوں کے ساتھ طے پایا تھا اُن کے خاندان میں منگنی کو نکاح کی طرح بہت اہمیت دی جاتی ہے ایک دفع جس کا نام جس کے ساتھ جُڑ جائے لازم ہوجاتا ہے شادی بھی ہو پھر چاہے کسی ایک افراد کی رضا ہو یا نہ ہو منہا کا نعیم کے ساتھ حیا کا حمزہ کے ساتھ وہ خود تو اِس دُنیا سے چلے گئے مگر ان کے فیصلہ برقرار تھا جس کے خلاف نعیم تھا جس وجہ سے وہ پاکستان نہیں تھا آتا لفظی طور پہ اُس نے صاف انکار کردیا تھا جس کو ابھی تک کوئی خاطر میں نہیں لایا تھا۔
واحب احمد کی شادی اپنی خالہ زاد سومل سے ہوئی تھی جن سے ان کی دو اولادیں تھی بیٹا ساگر کی پیدائش کے پانچ سال بعد کشف کی پیدائش ہوئی تھی جو گھر بھر کی لاڈلی تھی وجہ اُس کا شوخ اور چنچل ہونا تھا سارا دن ہنستی اور ہنساتی۔
فاریہ مرزا شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے ملک سیٹل تھی کبھی کبھار ہی بس آیا کرتی تھی ان کا ایک بیٹا تھا ولید۔





ایک بڑی سی کار کالج گیٹ کے پاس رُکی آتے جاتے اسٹوڈنٹس خوبصورت کار دیکھ کر رُک گئے تھے جانتے تھے آنے والی ہستی کون تھی۔
کار کے رُکتے ہی کشف جو موبائل میں مصروف تھی اپنا بیگ کندھے پہ ڈالتی کار سے باہر نکلی کالج میں انٹر ہوتی ہی اُس کی فرینڈس اس کے استقبال میں کھڑی تھی جن سے ملنے کے بعد اُس کی نظریں یہاں وہاں بھٹکتی کسی کو تلاش کررہی تھیں اپنی فرینڈس کو بعد میں آنے کا کہتی وہ کالج کے سنسنان گوشے کی طرف بڑھی جہاں بس اکا دکا اسٹوڈنٹس ہی بیٹھتے تھے تاکہ پڑھائی میں ڈسٹربنس نہ ہو کشف وہاں آئی تو جس کی اُس کو تلاش تھی اُس کو بینچ پہ اکیلا بیٹھا پایا کشف کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ آئی وہ اپنا بیگ مضبوطی سے پکڑتی اس کے پاس بینچ پہ بیٹھ گئ۔
آداب۔کشف نے بیٹھتے ہی کہا موحد جو اپنے اسائمنٹ پہ ایک نظر ڈال رہا تھا جانی پہچانی آواز قریب محسوس کرتے نظرانداز کرتا بیٹھ گیا کشف کو بُرا تو بہت لگا مگر ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی اُس کو موحد کے اِس طرح رویے کی عادت تھی وہ الگ بات تھی تکلیف پھر بھی نئے سرے سے ہوتی تھی اُس کو کالج جوائن کیے ابھی سات ماہ ہوئے تھے کشف کو اپنا کلاس فیلو سب سے الگ تھلگ رہنے والا سویٹ نیچر کا موحد بہت پسند تھا اُس کو کب موحد سے محبت ہوئی پتا ہی نہیں چلا اپنی محبت کا اظہار وہ بلاجھجھک اس سے کر بھی لیا کرتی موحد کا ہر بار انکار ہوتا وہ ہمیشہ سے روڈ بیہیو رکھتا کبھی اس کی پزیرائی نہیں کی کشف کو خود میں ایسی بات نہ دیکھتی جس سے موحد اُس کو انکار کرتا خوبصورتی اور ذہانت میں اس کے مقابل کوئی نہیں تھا اپنی کلاس میں سب زیادہ امیر لڑکی وہی تھی ہر کوئی اُس کے آگے پیچھے ہوتا مگر وہ جس کی نظر چاہتی وہ کبھی بھی اس کو نہ دیکھتا ایسا ہوتا ہے نہ جب ہر انسان کو توجہ دو مگر کوئی ایک نہ دے تو آپ کو اُس انسان سے سب سے زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے کشف کے ساتھ بھی کجھ ایسا تھا۔
اسلام علیکم!!!!کشف نے موؤدب انداز میں سلام کیا اس کو یقین تھا اب تو جواب ضرور ملے گا اور وہی ہوا۔
وعلیکم اسلام!!!موحد سنجیدگی سے جواب دیتا کھڑا ہوا تو کشف بھی کھڑی ہوئی۔
کیسی لگ رہی ہوں میں ؟کشف نے اس کا دھیان اپنی طرف کروانا چاہا جو لائٹ براوٴن گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ وائٹ ٹراؤزر پہنے کھلے بالوں کے ساتھ بہت خوبصورت اور معصوم لگ رہی تھی۔
گھر میں آئینہ دیکھ کر نہیں آئی کیا۔موحد تیز قدم اُٹھاتا بولا۔
وہ تو کہتا ہے کشف مرزا تم بہت خوبصورت ہو اتنی کے دیکھ کر لبوں سے شعر ادا ہوجائے۔کشف نے موحد کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر مزے سے بتایا اس کی بات سن کر موحد نے ناچاہتے ہوئے بھی چہرہ اُس کی طرف موڑا جو واقع میں بہت خوبصورت تھی۔
تم بھی اس لیے نہیں دیکھتے نہ کیونکہ پھر نظر ہٹانا مشکل لگتا ہے تمہیں۔کشف خوشفہمی کی انتہا پہ پہنچی موحد اُس کی بات سنتا نفی میں سرہلانے لگا۔
تم بھی بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔کشف نے سچے دل سے کہا جو گرے شرٹ اور پینٹ میں سنجیدہ تاثرات لیے بہت پیارا لگ رہا تھا موحد کا تعلق میڈل کلاس فیملی سے تھا وہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا باپ دو سال پہلے ہی دنیا سے چلاگیا تھا جس سے ساری ذمیداریاں اب موحد پہ تھی موحد کی ماں نائلا سلائی کا کام کرتی بڑی بہن صائمہ ٹیچنگ کرنے کے ساتھ شام میں بچوں کو ٹیوشن دیتی دوسری بہن حمائمہ ٹیوشن پڑھانے میں اُس کا ساتھ دیتی جب کی تیسری بہن پندرہ سال کی تھی جو اسکول میں پڑھتی تھی موحد پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کرتا تھا ورکشاپ پر تین بچے سے سات بجے تک وہ وہاں کام کرتا پھر آٹھ بچے ریسٹورنٹ میں تین گھنٹے ویٹر کا کام کرتا بارہ بجے جب گھر آتا تو بس دو گھنٹے آرام کرتا اُس کے بعد باقی کا وقت اپنی پڑھائی پہ دیتا ایسے میں اُس کی زندگی میں فلحال پیار محبت کرنے کا وقت نہیں تھا اُس کے سر پہ بہنوں اور ماں کی ذمیداریاں تھی جن کا پورا کرنا وہ اپنا فرض سمجھتا تھا اِس لیے جتنا ہوسکتا تھا وہ ان کے لیے کرتا تھا اپنے لیے جینا اس نے باپ کی وفات کے بعد چھوڑدیا اب اس کی زندگی میں ماں بہنوں کا علاوہ کسی اور کہ گنجائش نہیں تھی کشف کی تو بلکل نہیں اُس کی نظر میں کشف کی مثال اس بچے جیسی تھی جو منہ میں سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوتے ہیں کشف آسمان کی حور تھی تو موحد خود کو زمین کا ایک معمولی انسان سمجھتا تھا۔
مجھے بلاوجہ اپنی تعریف پسند نہیں۔موحد اپنی کہہ کر کلاس میں اینٹر ہوگیا۔
سڑو۔کشف بڑبڑاتی اُس کے پیچھے کلاس میں داخل ہوئی موحد اپنی سیٹ سنبھال چُکا تھا اس کو اکیلا بیٹھا دیکھ کر کشف ساتھ میں بیٹھ گئ موحد سیٹ چینج کرنے والا تھا پر کلاس ٹیچر کو دیکھ کر واپس بیٹھ گیا۔
کوششیں رائیگان ہیں ہم سے دور جانے کی
جہاں بھاگ کر جاؤ گے ہم سب سے پہلے پاؤ گے۔
کشف موحد کے پاس جھک کر شاعرانہ انداز میں بولی موحد نے زور سے اپنے لب بھینچ لیے پھر سرجھٹکتا نوٹ بُک نکال لیا اُس کے برعکس کشف فرصت سے بازوں سیٹ پہ ٹکائے اپنا چہرہ اُس پہ رکھ کر موحد کو دیکھ رہی تھی۔
کشف پلیز سامنے دیکھو۔موحد کب سے خود پہ اُس کی نظریں جمی دیکھی تو زچ ہوتا دیکھا اگر میم افسانہ کو پتا لگ جاتا تو کشف کے ساتھ ساتھ اس کو بھی کلاس سے باہر نکال دیتی تھی جس کی پرواہ کشف کو تو نہیں پر موحد کو تھی۔
تمہیں پتا ہے مجھے اپنا نام تب بہت پیارا لگتا ہے جب تمہارے منہ سے سنتی ہوں۔کشف موحد کی بات نظرانداز کرتی بولی۔
لیکچر پہ فوکس کرو۔موحد نے آنکھیں دیکھاتے کہا۔
تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں۔کشف غور سے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
اینی پروبلم۔میم افسانہ کی تیز آواز پہ کشف فورن سیدھی ہوکر کھڑی ہوئی۔
نو میم نو پروبلم۔کشف نے فورن سے کہا موحد کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی کشف کے چہرے کی اُڑی رنگت دیکھ کر جس کو چھپانے کے لیے اس نے اپنا سر کتاب کی طرف جھکادیا۔
تو میں یہاں پڑھا رہی ہوں آپ وہاں کیا دیکھ رہی ہیں۔میم افسانہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ایسے ہی ایک جگہ دیکھ کر ایسا لگا جیسے گردن اکڑگئ ہو اور ہلنے جُلنے سے قائل ہوگئ تو بس وہی چیک کررہی تھی۔کشف نے معصوم شکل بناکر کہا کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آواز آئی۔
میں نے جوآج پڑھایا ہے کل سب سے پہلے آپ سے پوچھو گی۔میم افسانہ ایک تیز نظر پورے کلاس میں ڈال کر کشف سے بولی۔
شیور میم۔کشف تابیداری سے کہتی دوبارہ بیٹھ گئ۔
تمہیں بڑی ہنسی آرہی تھی۔کشف ناراض لہجے میں بولی جس پہ موحد نے کوئی جواب نہیں دیا۔






حمزہ تمہیں پتا ہے ہم فرینڈز مری ٹرپ پہ جارہے ہیں۔حیا نے اشتیاق بھرے لہجے میں پاس بیٹھے حمزہ کو بتایا حیا یونی میں اپنی پہلی کلاسس اسکیپ کرتی حمزہ کے ساتھ کافی پینے آئی تھی۔
تم نہیں جارہی۔حمزہ نے آرام سے کہا۔
حمزہ مجھے تمہاری بلاوجہ روک ٹوک نہیں پسند میری اپنی بھی کوئی زندگی ہے تم ہربار میرے بنائے ہر پلان میں ایسا کرتے ہو کبھی یہاں نہ جانا وہاں جانا یہ نہ کرنا وہ نہ کرنا سبجیکٹ یہ پڑھنا ہے ڈریسنگ ایسی کرنی ہے بال ایسے بنانے ہے ہر کام میں تمہاری مرضی کے مطابق تو نہیں کرسکتی نہ۔حیا کا موڈ بُری طرح خراب ہوا اِس لیے جو منہ میں نان اسٹاپ بولتی حمزہ کو دیکھنے لگی جو ہاتھ کی مٹھی ٹھوڑی پہ جمائے فرصت سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔
تقریر اچھی تھی پر میرا جواب وہی تم نہیں جاؤں گی۔حمزہ سپاٹ انداز میں کہتا کافی پینے لگا۔
وجہ۔حیا نے گہری سانس لیکر پوچھا۔
شادی کے بعد جہاں تم کہوں گی میں لیکر چلوں گا پر تمہیں تمہاری لاپرواہ دوستو کے ساتھ میں ہرگز جانے کی اجازت نہیں دوگا۔حمزہ نے آرام سے جواب دیا۔
ڈیڈ نے پرمیشن دے دی ہے۔حیا نے دانت کچکچائے۔
میں تمہارا منگیتر ہوں حیا میری بات تمہارے نزدیک اہم ہونی چاہیے۔حمزہ تنگ آکر بولا۔
مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔حیا اپنا بیگ اُٹھاتی کھڑی ہوتی بولی۔
حیا یار کیا بچپنا ہے اتنے دنوں بعد ملے ہیں اور تم فضول کی بحث میں دن خراب کررہی ہوں۔حمزہ حیا کا ہاتھ تھام کر واپس بیٹھاکر بولا جس کا منہ غبارے کی طرح پھول گیا تھا۔
تو میری کیا غلطی خود تو بزنس میٹینگز کے بہانے شہر شہر گھومتے ہو اور مجھے پہ پابندیاں لگاتے ہو۔حیا جھلاکر بولی۔
میں شہر شہر کام کے سلسلے میں جاتا ہوں ناکہ شہر شہر گھومنے۔حمزہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا بولا۔
بات مت کرو مجھ سے۔حیا نے گھور کر کہا۔
اوکے میری جان پر اپنا چہرہ تو ٹھیک کرو۔حمزہ نے پیار سے کہا
جان بھی کہتے ہو اور بلاوجہ شک بھی کرتے ہو۔حیا نے افسوس سے کہا۔
بات شک کی نہیں ہے حیا مجھے تم پہ خود سے زیادہ اعتبار ہے تم بہت معصوم ہو میں نہیں چاہتا تیز لوگوں سے ملو جلو مجھے تمہاری معصومیت بہت پسند ہے تم میری بچپن کی محبت ہو بس میں بے بس ہوں تمہارے معاملے میں۔حمزہ اس کے گال پہ ہاتھ رکھتا نرمی سے بولا۔
تو میں مری جاؤں۔حیا اس کا ہاتھ تھامتی بولی
نہیں۔حمزہ نے گھور کر کہا۔
حم
ششش۔
حیا کجھ کہنا چاہتی تھی پر حمزہ نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش کروایا۔







امی آپ کو پتا تو تھا میرا ٹیسٹ ہے پھر آپ کیسے ساگر بھائی کو جانے دیا مجھے اُن کے ساتھ یونی جانا تھا۔منہا کا آج بارہ بجے کے وقت یونی میں ضروری ٹیسٹ تھا اِس لیے وہ اس کی تیاری کرنے کے لیے باقی کی کلاسس مس کردی تھی پر جب وہ تیار ہوتی باہر آئی تو گھر میں کسی مرد کو ناپاکر وہ پریشان ہوکر بولی حیا اور کشف تو ڈرائیور کے ساتھ جہاں جانا ہو چلی جاتی تھی پر منہا نہیں جاتی تھی گھر میں کوئی ساتھ ہو تبھی وہ باہر جاتی تھی
ساگر کو کام سے جانا تھا میں کیسے روکتی۔رخشندہ بیگم نے کہا
پر اب میں کیا کرو ٹیسٹ شروع ہونے میں بس چالیس منٹ بچے ہیں۔منہا ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھتی پریشان لہجے میں بولی۔
صبح ہی حیا کے ساتھ چلی جاتی لائبریری میں تیاری کرتی تو اب پریشان نہیں ہونا پڑتا۔رخشندہ بیگم نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا
مجھے کونسا الہام ہوا تھا ایسا کجھ ہوگا۔منہا تھک ہار کے صوفے پہ بیٹھ گئ۔
آج چلی جاؤ ڈرائیور کے ساتھ کونسا بڑی بات ہے۔سومل بیگم جو کب سے ان کی باتیں سن رہی تھی مشورہ دیتی بولی۔
نہیں چچی جان۔منہا نے انکار کیا۔
اسلام علیکم!!!پانچ منٹ بعد منہا جو انگلی دانتو تلے دبانے میں مصروف تھی جانی پہچانی آواز سن کر نظر اُٹھا کر دیکھا جہاں ماہر فارمل حلیے میں چہرے پہ دلکش مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔
وعلیکم اسلام!!!بیٹا وقت پہ آئے ہو۔رخشندہ بیگم کو ماہر آج کسی فرشتے سے کم نہ لگا
خیریت؟ماہر منہا کو دیکھ کر بولا
منہا نے دماغ خراب کر رکھا تمہارے پاس اگر وقت ہو تو اِس کو یونی ڈراپ کردو ضروری ٹیسٹ ہے یونی کا۔رخشندہ بیگم کی بات پہ ماہر کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی تھی منہا جزبز ہوکر رہ گئ تھی وہ سب کی موجودگی میں اُس کا سامنا مشکل سے کرتی تھی کجاکہ اکیلے میں سفر کرنا منہا کو جھری جھری سی آئی۔
ساگر بھائی آنے والے ہوگے میں ان کے ساتھ چلی جاؤں گی۔منہا نے انکار کیا۔
میں باہر آپ کا ویٹ کررہا ہوں۔ماہر سنجیدگی سے کہتا باہر نکل گیا۔
منہا ایسے نہیں بولنا چاہیے تھا ماہر کو بُرا لگا ہوگا۔سومل بیگم نے نرمی سے کہا منہا شرمندہ سی نظریں جھکاگئ۔
اب دیر نہیں ہورہی جاؤ ماہر انتظار کررہا ہے۔رخشندہ بیگم کی بات سن کر منہا اپنی چادر ٹھیک کرتی باہر کی طرف آئی۔اس کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتے ہی ماہر نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
سوری اگر آپ کو برا لگا ہو تو۔منہا نے خاموش کو توڑ کر کہا
کوئی بات نہیں مجھے آپ کی کسی بات کا بُرا نہیں لگتا دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ماہر کی بات پہ منہا لب بھینچتی گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ماہر نے گردن موڑ کر منہا کو دیکھ کر میوزک سسٹم آن کیا۔
Tera fittor jab say chadh gaya ray
Tera fittor jab say chadh gaya ray
Ishq Jo zara zara sa tha wo badh gaya ray
Tera fittor jab say chadh gaya ray
Tou Jo meray sang chal nay laghe
Toh meri raah hain dhadhk nay laghe
Dekho Jo na ek pal tumhay
Meri banhay tarap nay laghe
Ishq Jo zara zara sa tha wo badh gaya ray
Tera fittor jab say chadh gaya ray
Tera fittor jab say chadh gaya ray
منہا نے اپنی چادر کا کونہ مضبوطی سے جکڑ لیا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا آگے بھر کر یہ گانا بند کردے پر ہائے وہ بس چاہ سکی آج سے پہلے کبھی بھی اُس کو اپنا پسندیدہ گانا اتنا بُرا نہیں لگا جتنا آج لگ رہا تھا کیونکہ ماہر کے ساتھ بیٹھ کر اس کو بہت عجیب لگ رہا تھا اس کو لگ رہا تھا ماہر نے جان بوجھ کر اس کو تنگ کرنے کی خاطر چلایا ہے۔
Hathon say lakeerain yahee kahti hai
K zindagi Jo hai meri tujhi mai hai
Ab rahti hai
Labo p likhi hai meri khowahish
Lafzo mai kese mai batao
Ik tujh ko he panay ki khatir
Sab say juda mai hojao
Kal tak mainay Jo bhi khowab thai dekhay tujh mai hain dekh nay laghe
Ishq Jo zara zara sa tha wo badh gaya ray
Tera fittor jab say chadh gaya ray
Tera fittor jab say chadh gaya ray
ماہر نے ایک مُسکراتی نظر منہا پہ ڈالی جس کو دیکھ کر لگ رہا تھا چلتی ہوئی گاڑی سے کود نے کا اِرادہ رکھتی ہو ماہر جانتا تھا یہ سونگ منہا کا فیورٹ ہے اُس کو لگا منہا رلیکس محسوس کرے گی پر منہا کو دیکھ کر اس کو ایسا کجھ نظر نہیں آیا
Sanso k kinaray baray tanha thai
Tou aakar in ko chu le
Yahee to meray arma thai
Sari duniya say mojhay kia lena
Hai bas tujh ko he pahchan
پلیز اِسے بند کریں۔منہا کو مزید گانا سننا محال لگا تو کہا
اچھا تو ہے۔ماہر سونگ کا وُلیم کم کرتا بولا۔
مجھے نہیں اچھا لگ رہا۔منہا نے بنا دیکھے کہا۔
میرے ساتھ ہو اِس لیے؟ماہر نے اپنا چہرہ اُس کی طرف کرکے پوچھا
اپنا چہرہ سامنے کرکے گاڑی چلائے مجھے یونیورسٹی جانا ہے جنت میں نہیں۔ماہر کی بات نظرانداز کر کے منہا نے کہا
اتنا یقین کے سیدھا جنت میں جائے گی۔ماہر عش عش کرکے بولا۔
بلکل۔منہا نے پُراعتماد ہوکر کہا۔
آپ کی یونیورسٹی آگئ جنت میں ساتھ جائے گے ابھی آپ انتظار کریں۔ماہر گاڑی سائیڈ پہ روکتا ہوا بولا۔
میں یہاں تک آپ کے ساتھ آئی ہوں بس۔منہا سیٹ کھول کر جانے کیا اُس کو باور کروانا چاہا
پر مجھے تو دُنیا اور جنت کا سفر آپ کے ساتھ کرنا ہے۔ماہر گہری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔
ضروری نہیں جو انسان کرنا چاہے ہر بار وہ ہو۔منہا سنجیدگی سے جواب دیتی گاڑی سے اُترگئ منہا کے جانے کے بعد ماہر نے تھکی سانس خارج کی۔







موحد گھر آیا تو گھر میں خاموشی کا راج تھا اُس نے اپنا بیگ صوفے پہ رکھا پھر اپنی ماں کے کمرے میں گیا جن کے پاس پہلے ہی اُس کی بڑی بہن صائمہ بیٹھی ہوئی تھی۔
اسلام علیکم اماں!!!!موحد بیڈ پہ ان کے پاس آکر عقیدت سے بولا
وعلیکم اسلام!!! فریش ہوجاو تو میں کھانا دیتی ہوں۔ نائلا بیگم نے مسکراکر کہا۔
عروسہ کہاں ہیں اور گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہیں؟موحد نے سوال کیا۔
کمرے میں منہ پُھولا کر بیٹھی ہے۔صائمہ نے اکتاہٹ سے اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں بتایا۔
کیوں کیا بات ہے۔موحد اٹھتا بولا۔
کجھ نہیں موحد پریشان مت ہو ٹھیک ہوجائے گی تھوڑی دیر تک۔نائلا بیگم نے آرام سے کہا۔
پر پتا تو چلے۔موحد بضد ہوا۔
دال روٹی بنائی تھی مہینے کے آخری دن ہے بس دال کو دیکھ کر عجیب وغریب شکلیں بناتی کمرے میں چلی گئ کھانا بھی نہیں کھایا۔نائلا بیگم نے بتایا۔
اچھا میں دیکھتا ہوں جاکر۔موحد کجھ سوچ کر بولا۔
رہنے دو موحد تمہیں دیکھ کر فرمائشوں کی دُکان کھول دے گی سارا دن توں تم کام کرتے رہتے ہو بس ہمارا ہی خیال رکھتے ہو عروسہ اب بچی نہیں جو ایسے نخرے کرتی ہے اُس کو سمجھ جانا چاہیے گھر کے حالات کے بارے میں۔صائمہ نے سنجیدہ انداز میں کہا
آپی بچی ہے وہ اگر میں اُس کا خیال نہیں کروں گا تو کون کریں گا دوسرا یہ کے وہ ہم سے ہی فرمائش کرتی ہے تو کوئی بُری بات تو نہیں۔موحد رسانیت سے بولا۔
وہ بچی بس پانچ سال تم سے چھوٹی ہے بات فرمائش کرنے کی نہیں عروسہ فضول خرچی کرتی ہے جو ٹھیک نہیں۔صائمہ نے ایک بار پھر کہا۔
آپ بس کھانا دیں میں اور عروسہ ساتھ کھائیں گے۔موحد نے کہا صائمہ سرہلاتی باہر نکلی تو موحد عروسہ کے پاس گیا۔
میرا بچہ کیوں خاموش ہے۔موحد نے پیار سے خاموش بیٹھی عروسہ سے پوچھا۔
کیوں کی میری اس گھر میں کسی کی پرواہ نہیں۔عروسہ نے ناک چڑھا کر کہا
جھوٹ کم بولا کرو۔حمائمہ جو پاس بیٹھ کر بچوں کی کاپیاں چیک کررہی تھی عروسہ کی بات پہ فورن سے بولی۔
اب میں جھوٹی بھی ہوگئ۔عروسہ تپ کے بولی۔
اِدھر آؤ کھانا کیوں نہیں کھایا۔موحد اس کو اپنے پاس بیٹھا کر پوچھنے لگا
مجھے نہیں پسند مسور کی دال۔عروسہ نے بتایا۔
کھانے کے بارے میں ایسا نہیں کہتے گھر میں جو پکا ہو بسم اللہ کہہ کر کھایا کرتے ہیں کھانے پہ انکار مطلب کھانے کی ناشکری کرنا وقت پہ جو ملے بنا کجھ کہے کھایا کرتے ہیں کجھ لوگوں کے پاس تو یہ بھی نہیں ہوتا باسی روٹی بچی ہوئی روٹی کھایا کرتے ہیں پر ان کے لبوں میں اللہ کے لیے شکر ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں اللہ شکر کرنے والے کو پسند کرتا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کے ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شمار ہو تو وہ جس حال میں رکھے ہمیں الحمد اللہ کہنا چاہیے۔موحد اس کے بال سہلاتے آرام س سمجھانے لگا۔
میں شکر کرتی ہوں بھائی پر دال۔عروسہ ہچکچا کر کہتی خاموش ہوگئ۔
دال ہمارے اللہ کے رسولﷺ شوق سے کھایا کرتے ہیں اور آپ کو نہیں پتا دال کھانے کے کتنے فائدے ہوتے ہیں۔موحد نے مسکراکر کہا تب تک صائمہ کھانا لیکر آچُکی تھی۔
اب سے میں کوشش کروں گی کھانے کے معاملے میں کجھ نہ کہوں بلکہ جو ہو صبر و شکر کے ساتھ کھاؤ۔عروسہ موحد کی بات سمجھ کر بولی۔
گڈ میرا بچہ اب آؤ کھانا کھاتے ہیں۔موحد نے مسکراکر کہا عروسہ سرہلاتی کھانے کی طرف متوجہ ہوئی۔
یہ بھی تو بتاتے جو انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اللہ پھر اُس کو اور نوازتا ہے۔صائمہ نے کہا تو موحد نے عروسہ کو اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو سن لوں۔
اج کل ہم دال یا سبزی کا سن کر ناک منہ چڑھا لیتے ہیں امیر لوگ تو دال کو پکانا توہین سمجھتے ہیں ان کے حساب سے دال چاول یا دال روٹی بس چھوٹے لوگ ہی کھاسکتے ہیں جب کی ایسا کجھ نہیں میں جو دال کے بارے میں جانا ہے آپ کو بتاتی چلوں
زیادہ تر جرمنی فرانس جنوبی افریقہ اور کئی مشرقی ممالک میں وسیع پیمانے پر کا شت کیا جا تا ہے۔ان مما لک میں اسے اہم غذائی حیثیت حاصل ہے یورپ میں مسور سوپ بنانے اور مو یشیوں کے لیے چارہ وغیرہ تیار کرنے میں استعمال ہو تا ہے امر یکہ میں غذائی ضرورت کے تحت ممالک سے درآمد کی جا تا ہے پاک و ہند میں خاکستری چھلکے والا مسور کاشت کی جا تا ہے قرآنِ حکیم میں اس کا ذکر یوں آتا ہے کہ بنی اسرائیل من و سلو ا کی نا قدرتی کر تے تھے دوسری اشیاء کے علاوہ مسور
کے بھی خواہش مند ہوئے تھے انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ہمارے لیے مسور پیاز پیدا کر ے لیکن مسور کی مختصراً تاریخ اسی طرح مسور کا ذکر مختلف حدیثِ مبارکہ میں بھی ملتا ہے۔جو ہم آپ کو آگے چل کر سنا تے ہیں اور ساتھ ہی اس کے انسانی جسم کے لیے کیا فوائد ہیں ان سے بھی انہیں آگاہ کر تے ہیں آگے بڑھنے سے قبل آپ سے گزارش ہے کہ ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے آج کل گھروں میں اکثر فارمی مرغی پکائی جا تی ہے اور اگر ہوٹلوں کے باہر چھلی
ہوئی مرغیوں کی لمبی قطار دیکھی جا ئے تو اندازہ کر نا مشکل نہیں کہ یہ نسل کس کھانے کا زیادہ شوق رکھتی ہے بچے اور نوجوان سبزی کے نام پر ناک منہ چڑاتے نظر آ تے ہیں۔اور دوسری جانب بعض خواتین بھی کاہل اور تن آسان ہو گئی ہیں کہ ڈبے کے مصالحوں اور فارمی مرغی سے آدھے پونے گھنٹے میں مختلف ذائقوں کے سالن تیار ہو جا تے ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ سالن پکا ئے جا ئیں اور ان کے اجزاء کے ساتھ تیار کرنے کی مجھے سخت حیرت ہو تی ہے کہ یہ کیسی بد نصیب نسل ہے جو دال جیسی لذیز اور مفید غذا سے محروم ہے دالوں کو اگر درست طریقے سے پکا یا جا ئے اور اس کے ضروری لوازمات پیش کیے جا ئیں تو دالیں بھی قورمے کڑ ھا ئیوں سے کم نہیں۔
دوسری طرف ہمارے رسول ﷺ نے بتایا !!!!!
فرمانِ مصطفیٰ: مسور کی دال کھاؤ، کیونکہ یہ دل کو نرم اور آنسوؤں کو زیادہ کرتی ہے۔ (مسند الفردوس، رقم الحدیث:3876) مفتی صاحب! کیا یہ حدیث درست ہے؟
جواب: سوال میں مذکور حدیث حضرت أبو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروى ہے، اس حدیث کو علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے “اللآلی المصنوعہ” 2/ 180 میں امام ابن السنى رحمہ اللہ کى کتاب “الطب النبوى صلى اللہ علیہ وسلم” کے حوالے سے اور امام ابو نعیم الأصبہانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “الطب النبوی صلى اللہ علیہ وسلم” میں اور امام دیلمی رحمہ اللہ نے اپنى کتاب مسند الفردوس (بحوالہ الغرائب الملتقطۃ) میں ذکر کیا ہے، ذیل میں اس حدیث کو مکمل سند، متن اور ترجمہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس حدیث کا حکم ذکر کیا جاتا ہے:
وقال ابن السني في الطب: أنبأنا علي بن محمد حدثنا حسون بن أحمد بن سليمان حدثنا موسى بن محمد المرادي حدثنا يحيى بن حوشب الأسدي عن صفوان بن عمرو عن مكحول عن أبي هريرة قال قال رسول الله: إن نبيا من الأنبياء اشتكى إلى الله قساوة قلوب قومه فأوحى الله إليه وهو في مصلاه أن مر قومك يأكلوا العدس فإنه يرق القلب ويدمع العينين ويذهب الكبر وهو طعام الأبرار.
اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة (2/ 180، الناشر: دار الكتب العلمية بيروت)
وقال: يحيى منكر الحديث.
وأخبرنا أحمد بن محمد بن إسحاق في كتابه، أَخْبَرنا علي بن محمد، حَدَّثَنا حسنون بن أحمد بن سليمان، حَدَّثَنا موسى بن محمد المرادي، حَدَّثَنا يحيى بن حوشب الأسدي، عَن صفوان بن عَمْرو، عَن مكحول، عَن أَبِي هُرَيرة، قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَليْهِ وَسلَّم: إن نبيا من الأنبياء اشتكى إلى الله تعالى قساوة قلوب قومه فأوحى الله إليه وهو في مصلاه أن مر قومك أن يأكلوا العدس فإنه يرق القلب ويدمع العين ويذهب بالكبر وهو طعام الأبرار.
الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (2/ 637، رقم الحدیث: (688)، الناشر: دار ابن حزم)
قال: أخبرنا محمد بن الحسين الثقفي إذناً، أخبرنا أبي، أخبرنا ابن السني، أخبرنا علي بن محمد، حدثنا حسنون بن أحمد بن سليمان، حدثنا موسى بن محمد المرادي، حدثنا يحيى بن حوشب الأسدي، عن صفوان بن عمرو، عن مكحول، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” شكا نبي من الأنبياء إلى الله عز وجل قساوة قلوب قومه، فأوحى الله إليه وهو في مصلاه أن مُرْ قومك أن يأكلوا العدس، فإنه يرق القلب، ويدمع العين، ويذهب بالكبرياء، وهو طعام الأبرار “.
الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس: (5/ 290، رقم الحديث: (1829) ط: جمعية دار البر)
ترجمہ:
حضرت أبو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروى ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ايک نبى علیہ السلام نے اللہ تعالى کے سامنے اپنى قوم کے دلوں کى سختى کا شکوہ کیا، تو جس وقت وہ نبى علیہ السلام اپنى جائے نماز پر تھے، تو اللہ تعالى نے ان کى طرف وحى نازل فرمائی کہ آپ اپنى قوم کو دال کھانے کى تلقین کریں، کیونکہ دال کھانے سے دل میں نرمى پیدا ہوتی ہے، یہ آنکھوں میں آنسو لاتى ہے، تکبر کو ختم کرتى ہے اور یہ نیک اور برگزیدہ بندوں کا کھانا ہے۔
حکم الحدیث:
اس حدیث کو علامہ سیوطى رحمہ اللہ نے “اللآلی المصنوعہ” 2/ 180 میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے: اس حدیث کى سند میں ایک راوى “یحیى بن حوشب الأسدى” ہیں، وہ “منکر الحدیث” (محدثین کى اصطلاح میں ضعیف راوى) ہیں، اسى طرح ابن عراق الکنانى رحمہ اللہ نے “تنزیہ الشریعۃ” 2/ 244 میں اس حدیث کو اور علامہ سیوطى رحمہ اللہ کے کلام کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ” یحیى بن حوشب” سے روایت کرنے والے”موسى بن محمد المرادى” ہیں، جن کو میں نہیں جانتا۔
نیز دال کى اس جیسى فضیلت سے متعلق (7) احادیث مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ سے بھى مروى ہیں، جن میں سے بعض سند کے اعتبار سے شدید ضعیف بھى قرار دى گئى ہیں۔
تاہم دال کى فضیلت سے متعلق اس طرح کا جو بھی مضمون احادیث میں بیان کیا گیا ہے، اس کے بارے میں چند جلیل القدر محدثین رحمہم اللہ کے اقوال درج ذیل ہیں:
1- علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے “الموضوعات”: ٣/ ١١٢(١٣٢٥-١٣٢٦) میں حضرت على رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمن بن دلہم رحمہ اللہ سے دال کى فضیلت سے متعلق حدیث ذکر کرنے کے بعد ان کو موضوع قرار دیا ہے۔
2- علامہ ابن القیم جوزی رحمہ اللہ نے “المنار المنیف” ص 128 میں فرمایا: دال، چاول، لوبیا وغیرہ سے متعلق جتنى بھى احادیث ہیں، وہ سراسر جھوٹ ہیں۔
3- علامہ عجلونى رحمہ اللہ نے “کشف الخفا” 1/ 319 میں فرمایا: ابن الغرس نے کہا ہے کہ مجدالدین نے “سفر السعادۃ” میں فرمایا: دال، لوبیا وغیرہ کے متعلق کوئى حدیث صحیح نہیں ہے، ان احادیث کو زندیق لوگوں نے ان ابواب میں اپنى طرف سے گھڑی ہیں اور ان احادیث کو اسلام کى بدنامى کے لیے محدثین کى کتابوں میں شامل کر دیا ہے، اللہ تعالى ان کو ناکام بنائے۔
4- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے “مجموع الفتاوى”27/ 23 میں فرمایا: وہ حدیث جس میں دال کھانے کو دل کى نرمى کا باعث قرار دیا گیا ہے، وہ حدیث جھوٹ اور من گھڑت ہے۔
5- علامہ سیوطى رحمہ اللہ نے “تدریب الراوى” 1/ 342 میں دال سے متعلق حدیث کو موضوع احادیث میں سے شمار کیا ہے۔
خلاصہ کلام:
سوال میں مذکور حدیث “سند” کے اعتبار سے ضعیف ہے، جبکہ اس حدیث کے “متن” (مضمون) کو بہت سے محدثین نے “موضوع” (من گھڑت) بھی قرار دیا ہے، لہذا اس حدیث کو آنحضرت صلى اللہ علیہ وسلم کى طرف نسبت کر کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
