Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 09)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 09)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
کیا واقع ایم کے وہ ہے جس سے تمہیں محبت تھی۔حیا نے حیرت سے کشف سے کہا
ہممم ہمشکل تو نہیں ہوسکتا اُس کا میں نے گوگل پہ اُس کی معلومات حاصل کی تھی۔کشف بے تاثر لہجے میں بولی۔
یقین نہیں ہوتا ویسے لوگ سچ کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا۔حیا کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔
میں کل تمہاری طرف آوٴں گی۔کشف نےفون دوسرے کان کے پاس رکھ کر کہا
تم اُس سے بھاگ کیوں رہی ہو؟حیا نے پوچھا
میں کیوں بھاگوں گی ویسے بھی مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔کشف نے مضبوط لہجے میں کہا
تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں ورنہ مجھے لگا شاید سالوں پُرانی محبت پھر سے جاگ اُٹھی ہے حیا کے شرارت سے کہا
بکواس نہیں کرو۔کشف اپنے دل کی آواز سن کر گھبراکر بولی۔
کشف اگر فرق نہیں پڑتا تو اُس کا سامنا کرو ویسے بھی اُس کی نظر میں تم شادی شدہ ہو کونسا وہ تمہیں چاہتا ہے ہوسکتا ہے اس نے شادی کرلی ہوگی ایک دو بچے بھی ہوگے۔حیا اُس کا صبر آزماتی بولی
دو بچے ہو یا دس مجھے کیا پرواہ میں اب اُس کو اِس لائق بھی نہیں سمجھتی کے اُس کا سامنا کروں۔کشف نخوت سے بولی۔
اچھی بات ہے۔ حیا نے گہری سانس لیکر کہا۔




موحد تیار ہوتا باہر جانے کو نکل رہا تھا جب صائمہ اُس کے سامنے آئی۔
ماشااللہ بہت پیارے لگ رہے ہو۔صائمہ نے مسکراکر کہا
شکریہ۔موحد ہلکی مسکراہٹ سے بولا۔
مرزا خاندان کا لنک اُس لڑکی سے جوڑا ہے نہ۔صائمہ نے پوچھا
آپا پلیز۔موحد بے بس ہوتا بولا
میں بس ایسے پوچھ رہی ہو لڑکی شادی شدہ ہے اب تمہاری کم ہمتی کی وجہ سے تو اُس کے گھر والے کی مدد کیوں کررہے ہو؟صائمہ نے جاننا چاہا
ایسا کجھ نہیں یہ بزنس ہے یہاں پرسنل اور پروفیشنل باتوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے۔موحد نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے ویسے لڑکی پیاری تھی تمہیں
آپا۔موحد ضبط کرتا بولا
اچھا اچھا میں نہیں کہتی کجھ اب جاؤ تم۔صائمہ ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کشف کو پتا تھا دس بجے موحد یہاں آجائے گا اِس وجہ سے وہ فورن سے اُس کے آنے سے پہلے جانا چاہتی تھی پر اُس کے جانے کا سن کر جہان بھی تیار ہوگیا تھا کے ساتھ چلے گا اِس لیے اُس کو لیٹ ہوگیا تھا
بھابھی جہان ریڈی ہے؟کشف نے عجلت سے کہا
ریڈی ہے پکڑو۔لیلا نے مسکراکر کہا کشف جہان کا ہاتھ پکڑتی باہر جانے لگی سیڑھیاں اُترتے وقت اُس کی نظر جب ساگر کے ساتھ آتے وجود پہ پڑی تو وقت جیسے تھم سا گیا تھا گرے کلر کے کورٹ وائٹ شرٹ کے ساتھ وائٹ پہنے بالوں میں جیل لگائے وہ بہت جاذب نظر آرہا تھا کشف کو وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور پرکشش لگا تھا دل بے ایمان ہوگیا تھا اُس کو دیکھ کر دوسری طرف موحد کی نظر پہ اُس پڑی تو کجھ حیران بھی ہوا تھا پر حیرانی کو بھلائے وہ کشف کو دیکھ رہا تھا جو گلابی کلر کے سادہ سے سوٹ میں تھی کندھوں کے اطراف وائٹ شال پہن رکھی تھی جب کی آنکھیں ویران سی تھی موحد کو جانے کیون وہ اُداس معلوم ہوئی تھی اتنے سالوں بعد وہ اُس کے سامنے تھی پر اُس کے ساتھ بچہ دیکھ کر موحد کو یاد آیا تھا وہ کسی اور کی ہے یہ بات پتا ہوکر بھی اُس کو تکلیف ہوئی تھی کشف چلتی ہوئی بلکل اُس کو نظرانداز کرتی گُزرگئ تھی جیسے پہچانتی ہی نہ ہو موحد کے قدموں کی رفتار دھیمی ہوگئ تھی دل سے اچانک آواز آئی تھی کیا اُس نے پہچانہ نہیں یا وہ اِن چھ سالوں میں بھول چُکی تھی اُس کا انداز تو اُس کو یہی سوچنے پہ مجبور کررہا تھا جو اُس کو بہت بُرا لگا تھا
بہت قریب سے آنجان بن کر گُزرا ہے
وہ جو دور سے۔۔۔۔۔پہچان لیا کرتا تھا۔۔۔!
کیا ہوا اندر چلو نہ۔ساگر نے اُس کو ایک جگہ کھڑا ہوا دیکھا تو کہا۔
کجھ نہیں بس ایسے ہی۔موحد مسکراکر بولا ساگر اُس کو لیکر ڈرائینگ روم میں آیا جہاں واحب صاحب پہلے سے موجود تھے واحب صاحب بہت گرم جوشی سے اُس کے ساتھ ملے
مجھے اندازہ نہیں تھا آپ اتنی کم عمری میں اِتنا بڑا مقام حاصل کیا ہے میں سمجھا کوئی بڑی عمر کا مرد ہوگا۔واحب صاحب ہنس کر بولے
بس اللہ کا کرم ہے۔موحد نے بس اتنا کہا ملازم ریفریشمنٹ کا سامان بھی لیکر آگیا تھا۔
آپ کے اسسٹنٹ نے تو ساری بات بتائی ہوگی۔ساگر کے موحد سے کہا
جی مجھے ہر بات کا علم ہے۔موحد نے سرہلاتے ہوئے کہا۔
یہ فائل ہے اِس میں ہمارے نیو پراجیکٹ کی ساری انفارمیشن ہے۔ساگر نے فائل اُس کی طرف بڑھاکر کہا۔
موحد نے ساری فائل پہ نظر ڈالی تھی وہ ان کے کام سے ایمپریس ہوا تھا ویسے بھی وہ یہاں ڈیل فائنل کرنے آیا تھا چاہے پھر کام پسند نہ بھی آتا تو۔
آپ۔
موحد نے جیسے بولنا شروع کیا اُس کا فون رنگ کرنے لگا
ایکسکیوز پلیز۔موحد نے ایک نظر اسکرین پہ جگمگاتے نمبر پہ ڈال کر کہا۔
شیور۔ساگر نے کہا
ہیلو۔موحد تھوڑا فاصلے پہ آتا کال ریسیو کیے بولا۔
سر آپ نے جو معلومات حاصل کرنے کا کہا تھا وہ پتا لگ گیا آئے ڈی حیا حمزہ نام لڑکی کی تھی لیکن جو اُس نے ناول پوسٹ کیا تھا کیا تو اُس کے خود کا لِکھا ہوا نہیں تھا اُس کا رائٹر کے ایم تھا مطلب کشف مرزا۔موحد کی دھڑکن تیز ہوئی تھی کہانی پڑھ کر اُس کو شک تو ہوگیا تھا پر اب جیسے اُس کے شک پہ مہر لگ گئ تھی۔
ٹھیک ہے۔موحد بہت دیر بعد بس یہی بول پایا
سر آپ نے یہ بھی کہا تھا جب اُس رائٹر کا پتا لگ جائے تو اُس کا ڈیٹا بھی معلوم کرنا جو میں نے کیا کشف مرزا کی شادی آج سے چھ سال قبل ہوئی تھی پر سات ماہ بعد اُس کے شوہر نے طلاق دے ڈالی تھی اُس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر میں رہتی تھی ایک دو جگہ جابز بھی کرچکی ہیں پر پھر ریزائن دے دیتی ہے۔لڑکا جانے کیا کجھ موحد سے کہہ رہا تھا جب کی موحد کا سر طلاق لفظ پہ بُری طرح چکرایا گیا تھا اُس کا وجود زِلزلوں کی زد میں آگیا تھا۔
پکی انفارمیشن ہے؟موحد بے یقین سا تھا۔
ہینڈرڈ پرسنٹ۔دوسری طرف سے پرجوش آواز اُبھری موحد ساکت سا موبائل کو ہاتھ میں پکڑتا واپس جگہ پہ پہنچا۔
کیا ہوا از ایوری تھنگ اوکے؟ساگر نے پوچھا
یس مجھے کجھ سوچنے کا وقت چاہیے تھا ایسے ایک دم سے میں ڈیل فائنل نہیں کرسکتا میں کجھ دنوں تک آپ کو جواب دوگا پھر ہم کنٹریکٹ سائن کرے گے۔موحد نہیں جانتا تھا یہ بات اُس نے کیوں کی جب کی وہ سب طے کر آیا تھا پر اب اُس کے اِرادے بدل گئے تھے۔
سوچنا کیسا سب کجھ آپ کے سامنے ہے۔واحب صاحب نے کہا
میں اتنا بڑا فیصلہ اتنی جلدی نہیں لیں سکتا میں ایسے ہی آپ کو ففٹی پرسنٹ کا مالک نہیں بناسکتا نہ۔موحد نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا
اِس میں بس ہمارا نہیں آپ کا بھی فائدہ ہوگا۔ساگر کو اُس کی بات بُری لگی۔
ہوسکتا ہے میں کجھ دن سوچوں گا پھر آپ کو جواب دوں گا۔موحد اپنی بات پہ قائم رہا تو مجبورن واحب صاحب اور ساگر کو اُس کی بات ماننی پڑی جس سے موحد کی آنکھوں میں چمک اُبھری۔





لاحاصل ہی سہی پر محبت تجھ سے ہی ہے
توں ملے یا نہ ملے فقط چاہت تیری ہی ہے
کیا سوچ رہی ہو؟حیا نے خاموش بیٹھی کشف سے پوچھا۔
یہی کے زندگی میں ایسا کیوں ہوتا ہے جس انسان کا سامنا نہیں کرنا چاہتے جس کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے جن سے ہم ملنا نہیں چاہتے تو وہ لوگ اچانک سے کیوں آجاتے ہیں ہماری زندگی میں؟کشف نے اپنی اُلجھن بتائی۔
یہ زندگی یہ دنیا ایسی ہی ہے یہاں جس سے جتنا بھاگو گے تقدید تمہیں اُس کے روبرو آکر کھڑا کریں گی اِس لیے کسی سے بھاگنا چھوڑ دینا چاہیے۔حیا نے اُس کے برعکس سکون سے جواب دیا۔
اور جس کو پانا چاہتے ہیں اُس کو اُتنا ہی ہماری دسترس سے دور کیا جاتا ہے۔کشف اُداس مسکراہٹ سے بولی
اُداس رہنا چھوڑ دو کشف جو ہونا تھا وہ ہوگیا کب تک اُس بات کا سوگ مناتی رہو گی۔حیا نے رسانیت سے کہا
میں کسی بات کا سوگ نہیں منارہی بس اب پہلے والی بات بھی نہیں میری زندگی میں۔کشف تلخ لہجے میں بولی۔
کیوں نہیں ہے بلکل ہے ہم ہے تمہارے ساتھ تم خود کے لیے ہمارا سوچو ہمارے لیے خود کو پہلے کی طرح کرلوں تاکہ ہم تمہاری فکر سے دور ہوجائے۔حیا نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
تم لوگوں کا سوچو مطلب شادی کرلوں۔کشف طنزیہ بولی
میں نے ایسا تو نہیں کہا۔حیا بُرا مان کر بولی
مطلب تو وہی تھا نہ۔کشف دوبدو ہوکر بولی
ہر بات کا غلط مطلب مت نکالوں کرو ضروری نہیں جو تم سمجھ رہی ہو حقیقت بھی ویسی ہو۔حیا نے سنجیدگی سے کہا
میں یہاں کجھ پل سکون کے لیے آئی تھی پر شاید میرا سکون اب کہی نہیں۔کشف اُٹھ کر بولی۔
کیا ہوگیا ہے کشف ناراض کیوں ہورہی ہو میں نے جسٹ بات کی تم سے۔حیا اُس کو اٹھتا دیکھ کر پریشان ہوکر بولی۔
میں ناراض نہیں بس مجھے فلحال اکیلے رہنا ہے اِس لیے میں جارہی ہوں۔کشف نے جواب دیا
میرا کیا اب تم پہ حق نہیں تم سے میں بات بھی نہیں کرسکتی۔حیا شکوہ کرتی بولی۔
ایسا نہیں ہے بس میرا دل نہیں لگ رہا یہاں۔کشف اُس کے گلے لگ کر بول کر چلی گئ حیا نے دُکھ سے اُس کو جاتا دیکھا۔




موحد واپس اپنے گھر آیا تو کشف کے بارے میں سوچنے لگا اُس کو وہ بہت خاموش اُداس سنجیدہ لگی تھی پہلے والی چمک اُس میں تھی ہی نہیں اور یہ بات اُس کو پریشان کیے جارہی تھی کہی نہ کہی وہ اِن سب باتوں کا ذمیدار خود کو سمجھ رہا تھا کشف کا اُس کو نظرانداز کرنا یہ بات یاد آتے ہی اُس کو اپنے دل میں تکلیف اُٹھتی محسوس ہوئی وہ کہاں عادی تھا کشف کے اِس انداز سے مگر پانچ سالوں میں بہت کجھ بدل گیا تھا جس کو موحد اب ٹھیک کرنا چاہتا تھا اب ایسی کوئی مجبوری کوئی دیوار نہیں تھی جو اُن کے بیچ آتی ایسا موحد کا ماننا تھا۔
تم تھک نہیں جاتے میری محبت نظرانداز کرتے کرتے اپنا سرد ترین رویہ رکھتے رکھتے۔
ایک دن ایسا آئے گا جب تم میری ان فضول باتیں سننے کے لیے بے قرار اور بے چین رہوگے میری ایک جھلک دیکھنے کو ترسو گے۔
کشف کی کہی پُرانی باتیں دماغ میں گونجی تو چہرے پہ اُداس مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔
میٹنگ اچھی نہیں ہوئی کیا؟صائمہ موحد کے ساتھ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
اچھی تھی پر ابھی کجھ فائنل نہیں ہوا۔موحد نے جواب دیا۔
کیوں؟صائمہ نے جاننا چاہا
بس میں چاہتا ہوں اتنا بڑا ڈسیشن ایسے نہ لوں ویسے بھی میرے سارے بزنس میں کسی اور کا حصہ بھی ہے۔موحد نے سنجیدگی سے کہا
جیسا تمہیں ٹھیک لگے۔صائمہ اُس کی بات سمجھ کر بولی۔
آپا اگر میں کوئی فیصلہ کروں تو آپ میرا ساتھ دے گی؟موحد نے اپنے اندر بے چین کرتا سوال کیا۔
افکورس دوں گی۔صائمہ نے مسکراکر کہا۔
شکریہ۔موحد تشکر سے بولا۔
کیا بات ہے مجھ سے شیئر کرو۔صائمہ نے اُس کے چہرے پہ اُلجھن دیکھی تو کہا۔
آج مجھے پتا چلا اُس کی طلاق ہوچکی ہے۔موحد آسمان کی طرف دیکھ کر بولا
کشف کی؟صائمہ حیران ہوئی
جی۔موحد بس اتنا بول پایا
خوشی ہورہی ہے یا افسوس۔صائمہ نے عجیب سے سوال کیا
ظاہر ہے افسوس خوشی کیوں ہوگی۔موحد نے فورن سے کہا
افسوس تو مجھے بھی ہوا تم سے خوشی کا اِس لیے کہا کہ شاید خوشی محسوس کررہے ہوگے کے اللہ نے سالوں پُرانی محبت سے ملوایا تمہیں اُس قابل بھی بنایا کے اب تمہیں اپنے قدم بڑھاتے وقت یہ خیال نہیں آئے گا کے تم اُس کے لیے ٹھیک نہیں تم اُس کی ضروریات پوری نہیں کرسکتے اور نہ یہ سوچو گے کہ تمہارا ساتھ پاکر وہ بس ہرچیز کے لیے ترس جائے گی۔صائمہ نے آرام سے کہا
میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں آپ سے۔موحد ان کی بات پہ گہری سانس لیکر بولا۔
کہو۔صائمہ نے اجازت دی۔
میں کشف سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔موحد نے کہا
یہ فیصلہ کرتے وقت دیر نہیں کردی تم نے۔صائمہ نے افسوس سے کہا
پتا نہیں پر میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا۔موحد نے جواب دیا
میں ساتھ ہوں تمہارے پر مجھے نہیں لگتا وہ لڑکی اب تمہارا ساتھ چاہے گی دوسرا اُس کے گھروالوں کا بھی تو مسئلا ہوگا۔صائمہ نے کہا
میں سب ہینڈل کرلوں گا آپ بس میرے حق میں دعا کریں۔موحد نے کہا
وہ تو میں ہمیشہ کرتی ہوں۔صائمہ نے مسکراکر کہا





صبح کشف ناشتے کی ٹیبل پہ آئی تو سب کو خاموشی سے ناشتہ کرتا دیکھا کل وہ لیٹ گھر آئی تھی اور آکر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی اِس لیے کل میٹنگ میں کیا ہوا اُس بات سے ابھی وہ ناواقف تھی کشف نے سب پہ ایک نظر ڈالی پھر سرجھٹک کر اپنا ناشتہ کرنے لگی۔
سب خاموش کیوں ہیں آج؟ناشتے کے بعد کشف سے رہا نہیں گیا تو لیلا سے پوچھ لیا۔
ایم کے نے کنٹریکٹ کرنے کے لیے سوچنے کا وقت مانگا ہے ساگر کا ماننا ہے کے شاید ایم کے انکار نہ کردیں اِس کا ڈیل کا ہونا بے حد ضروری ہے اِس لیے سب پریشان ہے۔لیلا نے ساری بات اُس کو بتائی
اور بھی تو ہے ڈیڈ اور بھائی بس ایم کے کی مدد کیوں چاہتے ہیں۔کشف نے کہا
کیوں کے جو فائدہ ایم کے سے کام کرنے پہ ہمیں ہوگا وہ دوسری کمپنیز کے ساتھ پارٹنرشپ کرنے سے نہیں ہوگا۔لیلا نے جواب دیا۔
اچھا تو ڈیڈ اور بھائی اپنا فائدہ دیکھ رہے ہیں۔کشف عجیب لہجے میں بولی
ایسا ہی سمجھو۔لیلا نے سرہلاتے کہا۔
جتنا ایم کے کا نام ہے پھر مجھے نہیں لگتا وہ ہمارا ساتھ دے گا۔کشف نے اپنا خدشہ بیان کیا
ایسا تو نہیں بولوں اچھا بولو اور سوچو تاکہ سب اچھا ہو۔لیلا نے اُس کی بات سن کر ٹوکتے ہوئے کہا جس پہ کشف طنزیہ مسکرائی۔




حمزہ آج کل آفس سے لیٹ کیوں آتے ہو؟حیا حمزہ کا کوٹ ہینگ کرتی بولی۔
کام زیادہ ہے بہت بڑا کنٹریکٹ ملا ہے اِس وجہ سے لیٹ ہوجاتا ہوں۔حمزہ نے مسکراکر جواب دیا۔
تو تم تو بوس ہو اسٹاف سے کہا کرو نہ۔حیا نے منہ بسور کر کہا
اسٹاف کے ساتھ ساتھ میرے حصے میں بھی تو کام آتا ہے اور بوس ہونے کا یہ مطلب تو نہیں میں سارا کام ان کے حوالے کرکے خود آرام سے بیٹھ جاوٴ۔حمزہ اُس کی بات پہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
اچھا پر کوشش کیا کرو جلدی آنے کی حنزہ بھی بہت بار پوچھتا ہے تمہارا۔حیا نے کہا
اوکے میری جان۔حمزہ مسکراکر اُس ماتھا چوم کر بولا
فریش ہوجاو تب تک میں کھانا لگواتی ہوں۔حیا نے کہا
ٹھیک ہے اور امی کہاں ہیں؟حمزہ نے واشروم کی طرف جاکر سوال کیا۔
وہ تو چچا جان کے ساتھ کیسی بزنس پارٹی میں گئ ہیں۔حیا نے بتایا تو حمزہ سر کو جنبش دیتا واشروم چلاگیا حیا بھی نیچے کھانے کا کہنے جانے لگی۔





اپنا خیال نہیں رکھتی اِس لیے ڈاکٹر نے کہا آپ کمزور ہیں۔آج ماہر منہا کو منتھلی چیک اپ کے لیے لیں گیا تھا جہاں ڈاکٹر نے منہا کو اپنا زیادہ خیال رکھنے کا کہا تھا تب سے ماہر منہا سے ناراض ناراض سا تھا کے وہ اُس کی غیرمودگی میں اپنا خیال نہیں کرتی اور منہا سر جھکا کر کسی مجرم کی طرح گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی۔
اِتنا خیال تو کرتی ہوں اپنا۔منہا نے منہ بسور کر کہا جس پہ ماہر نے ایک گھوری سے نوازہ۔
اگر رکھتی تو مجھے کہنا نہ پڑتا۔ ماہر نے کہا
آپ ناراض تو نہ ہو اب میں کونسا لاپروائی کرتی ہوں آپ اِتنا خیال کرتے ہیں تو مجھے کیا ضرورت ہے۔ منہا نے اُس کے ہاتھ پہ اپنا نازک ہاتھ رکھ کر کہا
جو بھی پر آپ خود سے لاپرواہ نہیں ہوگی دوبارہ آپ کے ساتھ ایک اور ننہا وجود ہے جس کا خیال آپ کو رکھنا ہے۔ ماہر نے نرمی سے کہا
میں دوبارہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوگی۔ منہا نے معصومیت سے کہا تو ماہر مسکرایا۔






ایم کے (موحد) آفس میں تھا جب انٹرکام پہ اُس کو خبر ملی کے واحب صاحب اور ساگر اُس سے ملنے آئے ہیں یہ جان کر موحد کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ۔
اُن کو میرے کیبن میں بھیجو۔ ایم کے (موحد)نے کہا۔
اسلام علیکم! موحد اپنی جگہ اُٹھ کر مصافحہ کرتا بولا
وعلیکم اسلام!دونوں نے سلام کا جواب دیا۔
ہم کنٹریکٹ کے مطلق آپ سے بات کرنے آئے ہیں۔ ساگر نے کہا
جی میں بھی آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ ایم کے (موحد)نے کہا
تو آپ نے کیا سوچا؟ واحب صاحب نے سنجیدگی سے دریافت کرنا چاہا۔
آپ کا بہت نام بھی تھا آپ جو ہماری کمپنی سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ہمیں پسند ہیں لیکن۔ایم کے (موحد) اتنا کہتا خاموش ہوگیا
لیکن کیا؟ ساگر نے سوال کیا
لیکن میری ایک شرط ہے۔موحد نے کہا
شرط کونسی شرط بزنس شرطوں پہ تو نہیں ہوتے۔ واحب صاحب کو اُس کی بات پسند نہیں آئی۔
میری طرف سے آپ اِس کو ایک ڈیل سمجھ لیں اگر آپ نے میری بات مان لی تو میں آپ کی کمپنی کے شیئرز جو آپ نے بیچ دیئے تھے وہ واپس مل سکتے ہیں آپ کا نام دوبارہ اپنا مقام حاصل کرسکتا ہے۔ موحد نے کندھے اُچکاکر کہا
صاف صاف سے بتائے۔ساگر نے کہا
میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرلیں گے تو میں آپ کا پرپوزل ایکسیپ کروں گا۔ موحد واحب صاحب کی طرف دیکھ کر بولا
کیا بکواس ہے یہ۔ واحب صاحب غصے سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
ہم یہاں آپ سے ڈیل کرنے آئے ہیں اور آپ ہماری عزت پہ بُری نظر ڈال بیٹھے ہیں۔ ساگر بھی غصے سے بولا
کول ڈاوٴن نہ تو میں بکواس کررہا ہوں اور نہ میری آپ کے گھر کی عزت پہ بُری نظر ہے میں تو بس عزت سے آپ کے گھر کی عزت کو اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں۔ اُن کے برعکس موحد سکون سے بولا۔
ہم لعنت بھیجتے ہیں چلو ساگر۔ واحب صاحب موحد سے کہتے آخر میں ساگر سے مخاطب ہوئے۔
سوچ لیں یہ آفر بہت اچھی ہے آپ کی بیٹی کو بہت خوش رکھوں گا۔ موحد نے ایک بار پھر کہا
ساگر غصہ سے اُس کی طرف بڑھنے لگا پر واحب صاحب نے اُس کا بازوں پکڑلیا ساگر ایک تیکھی نظر اُس پہ ڈالتا وہاں سے چلاگیا ان کے جاتے ہی موحد کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔




تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ان کے گھروالوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا پھر رشتے کی بات کرتے ایسے تو تم نے سارا معاملہ بگاڑ دیا ابھی تو کشف کو بھی ماننا تھا تمہیں۔ صائمہ کو موحد نے بتایا تو اُس نے افسوس سے کہا
آپا مجھے جو سہی لگا میں نے وہ کیا۔ موحد نے جواب دیا۔
تم یہ بات پانچ چھ سال پہلے کرتے تو اچھا تھا۔ صائمہ نے کہا
تب اُن کا ری ایکشن اِس سے زیادہ بُرا ہوتا اُن کا لگتا میں پئسو کی وجہ سے ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ موحد تلخ انداز میں بولا
وہ جو بھی سوچتے پر تمہیں کوشش کرنی چاہیے تھی اپنی محبت کو کسی اور کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا عاشق تو اپنے محبوب پہ کسی کا سایہ برداشت نہیں کرتا پر تم نے کیا کیا۔ صائمہ نے تاسف سے کہا
مجھ پہ طنزیہ کرنا آسان ہے میں اُس کو حاصل کر بھی لیتا نہ تو آج جو جتنی تکلیف میں ہوں تب اور زیادہ ہوتا جب وہ تنگی زندگی گُزارنے سے تنگ آکر مجھے چھوڑ کر چلی جاتی میں کبھی برداشت نہیں کرپاتا محبت نہ پانے میں اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی پاکر کھونے میں ہوتی ہے۔ موحد اُس کی بات پہ بولا۔
عورت بڑا گھر پئسا نہیں چاہتی وہ ایک مخلص شوہر کا ساتھ عزت دینے والا شوہر مان دینے والے شوہر کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے اگر ایک عورت کو اپنے شوہر سے یہ سب ملتا ہے نہ تو پھر چاہے اُس کا شوہر کسی جھونپڑی میں ہی کیوں نہ رہے عورت بنا اُف کیے خوشی خوشی اس کے ساتھ رہتی ہے۔صائمہ نے سنجیدگی سے کہا
کتابی باتیں ہیں۔ موحد بے یقین سا تھا۔
تمہیں ایسا لگتا ہوگا ورنہ امی کی مثال تمہارے سامنے تھی بُرے حالت میں بھی انہوں نے ابا کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا چار بچوں کی ذمیداریاں الگ سے تھی کبھی کبھی ان کو فاقہ کرنا پڑتا تھا پر کبھی ابا سے شکوہ شکایت نہیں کی مذاق میں بھی یہ نہیں کہا ان سے کے وہ خوش نہیں ہر حالات میں ہر وقت ان کے چہرے پہ سکون ہوتا تھا۔ صائمہ کہہ کر چلی گئ موحد کو اپنی بات پہ شرمندگی ہونے لگی۔






کشف کو لیلا نے بتادیا تھا موحد کی شرط کے بارے میں جس کو سن کر وہ شاک میں چلی گئ تھی اُس کو نہیں تھا پتا موحد ایسا بھی کرسکتا تھا پر یہ بات جان کر وہ اپنے اندر کوئی احساس محسوس نہیں کرپائی بس ایک خالی پن سا تھا جو اُس کو محسوس ہورہا تھا۔
چچا جان نہیں مانے گے پریشان نہیں ہو۔ حیا نے کشف کو تسلی کروائی۔
کیا میں اتنی بے مول ہوئی جو جب چاہے جو چاہے جیسے چاہے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ کشف نے سپاٹ انداز میں کہا
ایسا کیوں بول رہی ہو کشف خود تم نے ہی تو بتایا تھا اسٹیٹس کی وجہ سے وہ تمہاری طرف قدم نہیں بڑھاتا تھا اگر وہ وجہ ختم ہوئی ہے تو اُس نے کوشش کی پر تم نہیں چاہتی تو ایسا نہیں ہوگا کونسا چچا جان اُس کو ہاں کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ حیا نے سنجیدگی سے کہا
بات اُن کی نہیں بات موحد عرف ایم کے کی ہے جس نے پہلے مجھے ٹھکرایا میری محبت کی توہین کی اور اب مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے اِسے میں اب کیا سمجھو۔ کشف نے اُس کو دیکھ کر کہا
تم کجھ بھی نہیں سمجھو۔ حیا نے گہری سانس بھر کر کہا
محبت انسان کو بے بس کیوں کرتی ہے کیوں ہم محبت سے پیچھا نہیں چھڑوا سکتے کیوں ہمارا نرم دل کسی پتھر دل رکھنے والے انسان کے ساتھ لگتا ہے کیوں ہم چاہتے ہیں جن سے ہمیں محبت ہے وہ بھی کرے۔ کشف نے ایک ساتھ سوال کیے۔
محبت کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔ حیا نے مسکراکر کہا پر کشف مسکرا بھی نہ پائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ ہمیں ایم کے کی آفر کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ساگر نے کجھ جھجھک کر کہا وہ اِس وقت اسٹڈی روم میں تھے۔
دماغ ٹھیک ہے تمہارا ایک ڈیل کے لیے میں اپنی بیٹی کی شادی اُس سے کروادوں۔ واحب صاحب نے گھور کر کہا
آپ میری بات سمجھنے کی کوشش تو کریں آپ اور امی بھی تو اُس کی شادی کروانا چاہتے ہیں تو ایم کے کیوں نہیں۔ ساگر نے ایک اور کوشش کی۔
ساگر میں اُس کا رشتہ کسی کنٹریکٹ کے تحت نہیں کرے گے اب دوبارہ یہ بات مت کرنا۔ واحب صاحب نے جیسے بات ختم کی۔





کشف آج کجھ چیزیں لینے کے لیے گاڑی لیکر نکلی تھی جب گاڑی آدھے راستے پہ رک گئ تھی
کشف نے دیکھا تو گہری سانس لیکر رہ گئ اُس نے آس پاس دیکھا ایک جگہ کافی سنسان تھی
کشف کو گھبراہٹ ہونے لگی۔
یااللہ اب میں کیا کروں۔ کشف پریشانی سے بڑبڑائی۔
وہ کھڑی ابھی سوچ ہی رہی تھی کے دور سے بائیک آتی نظر آئی جس میں دو لڑکے موجود تھے وہ بائیک سیدھا آتی عین اُس سامنے رکی کشف مدد کا کہنے والی تھی مگر اُن کی نظریں اپنے وجود پہ محسوس کی تو چادر کا کونا مضبوطی سے تھام لیا۔
ہم چھوڑ آتے ہیں بیٹھ جائے۔ایک لڑکا سرتاپا اُس کو دیکھ کر بولا
اپنا راستہ ناپو مجھے ضرورت نہیں۔کشف تڑخ کے بولی
اووو آپ تو غصہ ہوگئ۔ دوسرا خباثت سے ہنستا بولا۔
جاؤ نہیں تو میں شور مچاؤں گی۔کشف نے دھمکی دی۔
ہاہاہاہاہا۔میڈم یہاں کون ہے جو آپ کی آواز سن کر آئے گا۔لڑکا اُس کی بات پہ زور سے ہنستا بولا
کشف ان کو دیکھنے کے بعد بھاگنے کا سوچ کر فورن سے ڈور لگائی۔
ارے فالو کرو اِس کو بچنی نہیں چاہیے۔ لڑکے نے کہا تو دوسرے نے فورن سے بائیک اسٹارٹ کرکے کشف کے پیچھے لگائی۔
کشف ان کو اپنے قریب دیکھ کر گھبراگئ تھی بھاگ بھاگ کر اُس کا سانس پُھول گیا تھا پہلے لڑکے نے اُس کی چادر کو کھینچا تو کشف کا پاؤں چادر میں اٹکا جس سے وہ نیچے گِر پڑی۔
آآآ۔
کشف کی چیخ نکل گئ جب کی وہ دونوں اب قہقہقہ لگاکر رہے تھے۔
ماننا پڑے گا ہو تو بڑی جیدار۔ لڑکا اس کے گال پہ ہاتھ رکھتا بولا مگر کشف نے نفرت سے اُس کا ہاتھ جھٹکا۔
تیری تو۔لڑکے نے اس کے بال مٹھیوں میں جکڑے
کمینے انسان چھوڑو مجھے۔ کشف درد ضبط کرتی بولی۔ جب کی دوسرا لڑکا اُس کی چادر اُتار کر دور پھینک چُکا تھا کشف کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سماجائے۔
لڑکی سے دور رہو۔ اپنے پیچھے آتی بھاری آواز سن کر دونوں نے مڑکر دیکھا کشف نے سامنے دیکھا تو اُس کے لب پھڑپھڑائے
موحد۔
کیوں تیرے چاچے کی بیٹی لگتی ہے۔ لڑکے نے بازوں چڑھاکر کہا موحد جو سرخ آنکھوں سے کشف کو دیکھ رہا تھا اُس کی بات پہ تیکھی نظر اُن پہ ڈالی موحد چلتا اُن کے مقابل ہوا اور اپنی ہتیھلی کشف کے سامنے کی جس پہ کشف نے فورن سے اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
ابے دور ہٹ۔ لڑکے نے اُس کو دھکا دیا جس پہ موحد نے زوردار مکہ اُس کے منہ پہ مارا لڑکے کو اپنا جبڑا ٹوٹتا محسوس ہوا۔
تیری تو۔ دوسرے لڑکے نے اپنے ساتھی کو مار کھاتا دیکھا تو آگے آیا موحد نے اپنی ٹانگ اُس کی ٹانگ میں اُلجھا کر نیچے گِرادیا کشف حیرت سے موحد کے پیچھے کھڑی سارا منظر ملاحظہ فرمارہی تھی۔
بس یا اور ڈور چاہیے۔ موحد دونوں کی ٹانگوں پہ حملا کرتا بولا جس پہ وہ کراہ کر سامنے ہاتھ جوڑ لیے۔موحد ان کو چھوڑتا دور جاکر کشف کی چادر ہاتھ میں لی اور کشف کے گرد لپیٹی۔
چلو میں چھوڑ دیتا ہوں۔ موحد نے کہا
میں خود چلی جاؤں گی۔کشف بے رخی سے بولی
کشف ضد نہیں کرو۔موحد گہری سانس بھرتا بولا
تم ہوتے کون ہو جس کے ساتھ میں چل پڑو۔ کشف نے طنزیہ کیا
تمہارا محافظ۔موحد اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
میرے محافظ میرا باپ اور بھائی ہے۔ کشف نے نظریں پھیر کر کہا۔
میں بھی بن سکتا ہوں اگر تم چاہوں تو۔ موحد نے کہا
میں کیوں چاہوں گی ایسا۔ کشف اُس کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتی بولی۔
کیوں کی میں چاہتا ہوں ایسا۔ موحد فورن سے بولا۔
جاؤ یہاں سے۔کشف نے کہا
تم بھی چلو یہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔موحد حکیمہ لہجہ اپناکر بولا
مسٹر ایم کے آپ نے میری جتنی مدد کی اُس کا بہت شکریہ مزید میں آپ کا احسان نہیں لینا چاہتی۔کشف اُس کو دیکھ کر اجنبی پن کا مظاہرہ کرتی بولی۔
احسان نہیں محبت ہے میری۔موحد اُس کے چہرے پہ پھونک مارتا بولا
کاش تم یہ میری محبت میں کرتے۔
کشف کو سالوں پُرانہ اپنا جُملا یاد آیا۔
محبت کا مطلب معلوم بھی ہے۔کشف نے طنزیہ کیا۔
پہلے نہیں تھا جانتا پر تمہارے آنے کے بعد جان گیا ہوں۔
م میری
ح حیات
ب بن جانا
ت تاحیات۔
موحد اُس کی آنکھوں میں یک ٹک دیکھتا محبت بھرے لہجے میں بولا اُس کا محبت بھرا انداز کشف کو فریب لگ رہا تھا کتنی تمنا تھی اُس کو ایک لفظ محبت کا موحد سے سننے کی اور آج اتنے سالوں بعد اُس کی مُراد پوری ہوگئ تھی تو اُس کو تمنا نہیں رہی تھی اور نہ خوشی محسوس ہورہی تھی۔
میرا تم سے کوئی تعلق نہیں محبت کا تو بلکل بھی نہیں کیونکہ محبت کا اصل مطلب میں سہی سے جان گئ ہوں۔
م موت
ح حسرت
ب بربادی
ت توڑ ڈالنا۔
کشف موحد کی بات رد کرتی بولی
تعلق دل آپکی باتوں سے جڑا ہے یہ
آپ خاموش ہوجاؤ تو ٹہیر
جاتی ہے دل کی دھڑکن
موحد کشف کی بات کا بُرا مانے بنا گہری مسکراہٹ سے بولا۔
دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔ کشف بے زار ہوتی بولی۔
دل بھی بے ایمان ہوگیا ہے میرا سچی۔ موحد معصومیت سے بولا
گھر چھوڑ آؤ مجھے تم سے بحث نہیں کرنا چاہتی۔کشف تلملا کر کہتی اُس کی گاڑی کی جانب بڑھی موحد بھی مسکراتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر اُس کے پیچھے چلنے لگا گاڑی میں بیٹھ کر اُس نے کشف کو دیکھا جو اپنا چہرہ کھڑکی کے پاس کیے پوری طرح اُس کو نظرانداز کرنے کی کوششوں میں تھی موحد کے اندر اُس کو چھیڑنا کا خیال آیا تو اُس نے میوزک آن کردیا۔
Itni Mohabbat karo na
Mai dhoob na jao kahee!!!
Wapas kinnaray p aana
Mai bhool na jao kahee
Dekha jab say hai chahra
Tera mai to hafto say soya nh
Bol do na zara dil mai
Jo hai rah chuppa mai
Kesi say kahu ga nhhhh!!
Mai kesi say kahu ga nh
Mai kesi say kahu ga nahi!!
کشف جو موحد کو نظرانداز کرنے کا سوچتی باہر کا نظارہ دیکھنے میں مصروف ظاہر کرنے کی کوشش کرنا چاہ رہی تھی گاڑی میں بجتے میوزک نے اُس کا دماغ گھمادیا تھا وہ سمجھ گئ تھی موحد یہ جان بوجھ کر کررہا ہے تاکہ وہ اُس سے بحث کرے اِس لیے وہ بھی ڈھیٹ بنتی بیٹھی رہی۔
Hummay neend aati nh hai akelay
Khowabo mai aaaya karo
Nh chal sakho ga tumharay
Bina mai mera tum Sahara bano
Ik tumhay chahnay k alawa
Aur kuch hum say hota nh
Bol do na zara dil mai
Jo hai rah chuppa mai
Kesi say kahu ga nhhhh!!
Mai kesi say kahu ga nh
Mai kesi say kahu ga nahi!!
موحد نے گانے کی آواز مزید تیز کی اور ایک چور نگاہ کشف پہ ڈالی جو خود کو بے نیاز ظاہر کررہی تھی موحد کو کشف کی خاموشی بُری اور اُس کے ساتھ سفر کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا جبھی اُس نے گاڑی کی اسپیڈ سِلو کرلی تھی تاکہ سفر لمبا ہو۔
Hammari kami tum ko
Mahsos hogi
Bhega deingi jab barishin
Mai bhar kar k laya ho
Aankho mai apni adhuri
Si kuch khowaishain
Rooh say chahnay walay
Aashiq baat jismo ki
Kartay nhhhh!!
Bol do na zara dil mai
Jo hai rah chuppa mai
Kesi say kahu ga nhhhh!!
Mai kesi say kahu ga nh
Mai kesi say kahu ga nahi!!
اِس سے زیادہ گھٹیا گانا نہیں ملا چلانے کے لیے۔ گانے کے ختم ہوتے ہی کشف پھٹ پڑی جس پہ موحد نے مسکراہٹ دبائی۔
کیوں اچھا نہیں لگا میرا تو فیورٹ ہے میں سمجھا تمہیں بھی پسند آئے گا۔ موحد نے چہرہ اُس کی طرف کیے کہا
شرم آنی چاہیے تھی کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھ کر ایسے گانے سننے پہ۔کشف نے اُس کو شرم دلانی چاہی۔
کسی لڑکی کے ساتھ ہوتا تو شاید شرم آجاتی پر میں تو اپنے مستقبل کی شریکِ حیات کے ساتھ ہوں تو کسی شرم کسی حیا۔ موحد آنکھ ونک کرتا بولا
دماغ سٹیاگیا ہے تمہارا اِس لیے بہکی بہکی باتیں کررہے ہو۔ کشف اُس کی بات پہ اپنے دل کی آواز کو سُلاتی جھلا کر بولی۔
دل دماغ نے تمہیں پانے کی تمنا کی ہے اِس لیے ایسی باتیں کررہا ہوں۔ موحد نے آرام سے کہا
یہ تمہاری گاڑی ہے یا گدھا گاڑی جو اتنی آہستہ چل رہی ہے۔ کشف کو اب فیل ہوا کے گاڑی آہستہ چل رہی ہے تو کہا
گاڑی ہے موحد نے آرام سے کہا
تو اسپیڈ تیز کرو نہ۔ کشف نے تپ کے کہا
تیز کیوں۔موحد نے سوال کیا
دیکھو موحد اگر تم نے میری بات نا مانی نہ تو میں چلتی گاڑی سے کود جاوٴں گی۔ کشف نے دھمکی دیتے کہا
پلیز ایسا نہ کرنا اگر تمہیں کجھ ہوا تو میں شادی کس سے کروں گا۔ موحد اُس کی دھمکی پہ محفوظ ہوتا بولا۔
موحدددد۔ کشف نے دانت پیس کر اُس کا نام لیا۔
اوکے اوکے کرتا ہوں تیز غصہ نہیں کرو۔ موحد نے مسکراکر کہا۔ کشف نے غور سے اُس کی مسکراہٹ دیکھی تھی اُس نے کبھی موحد کی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی اب اُس کو لگ رہا تھا شاید ہی کس کی مسکراہٹ اتنی خوبصورت ہوگی جتنی سامنے بیٹھے شخص کی تھی۔





کشف گھر آکر ناچاہتے ہوئے بھی موحد کا انوکھا روپ جو دیکھا اُس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
یااللہ آپ نے ایک بار اُس کو میرے سامنے کھڑا کیا آپ کو تو پتا ہے نہ اُس کو دیکھ کر میرا دل بغاوت کرنے پہ اُتر آتا میں اُس کو بھول جانا چاہتی ہوں اُس نے میری محبت کا اعتبار نہیں کیا تھا جب میں اُس کا ساتھ چاہتی تھی تو اُس نے صاف انکار کردیا تھا پھر بھی آپ نے اُس کی محبت میرے اندر سے ختم نہیں کی۔ کشف شکوہ کناں انداز میں رب سے گویا ہوئی۔
شاید اب تمہاری اُس کو پانے کی دعائیں قبول ہوگئ ہو۔اُس کے دل سے آواز آئی۔
میں نے اپنی ساری دعائیں واپس لی تھی۔ کشف دل کی آواز سے گھبراکر بولی۔
میرا اُس کو نظرانداز کرنا اُس کو کھٹک رہا تھا تبھی ایسا کررہا ہے وہ تاکہ میں دوبارہ سے اُس کے پیچھے لگ پڑوں۔ کشف پھر سے بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکے میں کوئی خامی ہے جو آپ رشتہ نہیں دے رہے ایم کے کو؟ سومل بیگم نے واحب صاحب سے پوچھا
خامی نہیں ہے کوئی۔ واحب نے جواب دیا
تو آپ مان جائے کشف کا گھر بس جائے گا کیا پتا اب وہ انکار نہ کریں۔سومل بیگم نے جھٹ سے کہا اُن کو کشف کی طرف سے بہت فکر لگی رہتی تھی۔
بیگم میں کیسے اُس کی بات مان لوں اگر وہ اپنے گھر میں کسی بڑے فرد کو بھیجتا تو الگ بات تھی پر وہ شرط کی بنا پہ شادی کرنا چاہتا ہے اُس کو تو شاید کشف کی طلاقِ آفتا ہونے کا بھی نہیں پتا۔واحب صاحب نے سنجیدگی سے کہا
تو آپ اُسے کہے اپنے والدین کو ہمارے گھر بھیجے کشف کا ہمیں سوچنا چاہیے وہ تو بلاوجہ انکار کررہی ہے۔ سومل بیگم نے کہا
پہلے کشف کو راضی کرو پھر دیکھتے ہیں۔ واحب صاحب اتنا کہہ کر سونے کے لیے لیٹ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی وہ سب ناشتے کی ٹیبل پہ موجود تھے جب سومل بیگم نے واحب صاحب کو بات کرنے کا اِشارہ کیا۔
کشف آپ سے ایک بات کرنی ہے۔ واحب صاحب نے سنجیدگی سے اُس کو مخاطب کیا۔
جی کہیں۔ کشف نے جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑے کہا
پانچ سال سے بہت رشتے آئے جس پہ آپ نے انکار کیا ہم نے آپ کی بات مان بھی لی مگر اب ہم چاہتے ہیں منہا اور حیا کی طرح خوش وخرم زندگی بسر کررہے۔ واحب صاحب اتنا کہہ کر چُپ ہوئے لیلا نے ساگر کو دیکھا جس پہ اُس نے کندھے اُچکاکر لاعلمی کا اِظہار کیا
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کشف نے پوچھا
ہم چاہتے ہیں آپ کا جو رشتہ آیا ایم کے کی طرف سے اُس کو قبول کرلیں۔ واحب صاحب کی بات پہ اُس کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے محسوس ہوئے باقی سب بھی اپنی جگہ حیران تھے واحب صاحب کا یہ فیصلہ اچانک کا تھا۔
میں شادی کے لیے انکار کرچکی ہوں۔کشف ضبط کرتی بولی۔
پانچ سالوں سے سنتے آرہے ہیں اب ہم اقرار چاہتے ہیں۔ واحب صاحب نے کہا
نو ڈیڈ۔ کشف نے صاف انکار کیا
بہت سنا لیا تمہیں اب ہماری بات سننی ہے۔ سومل بیگم نے کہا
ریئلی آپ کو پتا بھی ہے یہ ایم کے ہے کون اُس کا اصل نام کیا ہے میں بتاتی ہوں اُس کا اصل نام موحد یوسف ہے جس سے میں شادی کرنا چاہتی تھی پر محض اُس کے میڈل کلاس ہونے سے آپ لوگوں نے میری بات کو اگنور کیا اور ایک ایسے انسان سے میرا رشتہ جوڑ دیا جو بس سات ماہ چلا آپ لوگوں نے بہت حقارت سے اُس کا نام لیا تھا ملنا تک گوارہ نہیں کیا میں سب سے منت کرتی رہی پر سب نے کان بند کرلیے تھے اور اب جب وہ امیر ہوگیا ہے اُس کا اپنا بزنس اسٹابلیش ہوا ہے تو آپ میری مرضی کے بنا اُس کو میری زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ آج اُس کے حالات ہمارے حالات سے بہت اچھے ہیں پر اُس میں وہ غرور نہیں جو مرزا خاندان میں تھا میں نے اکثر سنا ہے وقت پہ یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وقت کو بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور دیکھے واقع وقت بدل گیا ہے جہاں کل آپ لوگ تھے وہاں موحد یوسف عرف ایم کے ہے کل آپ اُس کا منہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور آج آپ کو اُس کی ضرورت ہے والدین کو لگتا ہے وہ جو فیصلہ کرتے ہیں وہ سہی ہوتے ہیں پر کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا جیسے چچا جان کا فیصلہ غلط ثابت ہوا منہا کے حق میں ویسے ہی آپ لوگوں کا جلدبازی میں لیا فیصلہ میرے لیے بُرا ثابت ہوا شادی پہ رضامندی دینے کی اجازت ہمارے دین نے لڑکی کو دی ہے پر کبھی کبھی والدین یہ بات فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ کشف ایک سانس میں سب کو سناتی اُٹھ گئ تھی باقی سب ساکت سے جہاں تھے وہی کے وہی رہ گئے۔
