Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 06)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 06)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
منہا ڈیپ کلر کا لہنگا پہنے نفاست سے چہرے پہ میک اپ کیے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ماہر کی بہنوں نے اُس کو ماہر کے کمرے میں بیٹھا کر باہر نکل گئ تھی پورے کمرے میں گلاب کے پھولوں کی خوشبوں بسی ہوئی تھی جو ماحول کو خوابناک بنا رہی تھی منہا بیس منٹ سے ماہر کا انتظار کررہی تھی پر ابھی تک ماہر نہیں آیا تھا۔
چررر۔
دروازہ کُھلنے کی آواز پہ منہا سمٹ کر بیٹھ گئ ماہر مسکراتا بیڈ کے پاس آیا۔
میرا آپ کو اپنا بنانے کا خواب پورا ہوگیا میں آپ کو یہاں اپنے کمرے پورے حق کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر جو خوشی محسوس کررہا ہوں وہ میں بتا نہیں سکتا۔ماہر منہا کے چہرے سے ڈوپٹہ ہٹاکر اس کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر مسکراکر کہا۔
آپ نہ بھی بتائے تو آپ کا چہرہ ساری داستان بیان کررہا ہے۔منہا نے چہرہ جھکاکر آہستہ سے کہا۔
اور کیا بتارہا ہے میرا چہرہ؟ماہر منہا کے حنائی والے ہاتھ تھام کر بولا۔
بس یہی۔منہا سٹپٹاکر بولی۔
میں بتاتا ہوں آپ کو اپنے دل کا حال جو پہلے آپ کو کسی اور کے ہونے کا سوچ کر تڑپ رہا تھا۔ماہر نے منہا کو اپنے ساتھ لگاکر کہا۔
پُرانی باتوں کا کیا ذکر اب تو میں آپ کی ہوں۔منہا مسکراکر کہا ماہر اس کی مسکراہٹ پہ صدقے واری ہوا تھا جھک کر اُس کے ماتھے پہ عقیدت بھرا لمس چھوڑا منہا نے سکون سے آنکھیں بند کرکے کُھولی۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ۔ماہر نے ڈرار سے ایک مخملی کیس نکال کر کہا۔
یہ کیا کررہے ہیں؟منہا نے ماہر کے ہاتھ پیروں پہ محسوس کیا تو کہا۔
دے تو سہی پتا لگ جائے گا۔ماہر نے مسکراکر کہا پھر لہنگا کجھ اُپر کرکے اس کو پاوٴں میں پازیب پہنائی۔
بہت خوبصورت یہ تو۔منہا نے مسکراکر پازیب پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔
آپ کے پیر میں موجود ہے تبھی لگ رہی ہے۔ماہر کے جواب پہ منہا کا چہرہ سرخ انار ہوا ماہر مبہوت سا اُس کو دیکھتا رہا۔




کشف کو کجھ رسموں کے بعد کمرے میں لایا گیا تھا۔
تم یہاں بیٹھو شیراز بس آتا ہوگا۔مسز اسحاق نے مسکراکر کہا کشف نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا ان کے جانے کے بعد شیراز کمرے میں آیا۔
یہاں کیا کررہی ہو؟شیراز اُس کے سر پہ کھڑا ہوتا تیز آواز میں بولا کشف نے چہرہ اُٹھاکر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جس کے ساتھ کجھ پل پہلے نکاح ہوا تھا اب اُس کی بیوی بن کر یہاں موجود تھی اور سامنے والا کیا سوال پوچھ رہا تھا۔
میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔شیراز نے اپنا ہاتھ اُس کے چہرے کے سامنے لہرایا جواب میں کشف بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
مجھے یہاں آپ کی والدہ چھوڑ گئ ہیں آپ ان سے پوچھ لیں مجھے یہاں کیا کرنے لیے چھوڑا ہے۔اگر سامنے والا لحاظ نہیں کررہا تھا تو کشف نے بھی عزت دینا ضروری نہیں سمجھا۔
زبان چلاتی ہو۔شیراز اس کے جواب پہ غصے اس کو تھپڑ مارنا چاہا جو کشف نے بیچ میں ہی پکڑلیا۔
میں یہاں آپ کی بیوی کی حیثیت سے ہوں ملازم کی حیثیت سے نہیں اِس لیے دوبارہ مجھ پہ ہاتھ اُٹھانے کی زحمت مت کرئیے گا کشف مرزا نام ہے میرا ایزی مت لیجئے گا۔کشف اس کا ہاتھ چھوڑتی وارن کرنے والے انداز میں بولی شیراز تو اس کو دیکھتا رہ گیا جو چہرے سے معصوم نظر آرہی تھی مگر لگ رہا تھا جیسے معصومیت اُس کو چھو کر بھی نہیں گُزری تھی
یہ میرا بیڈ میرا کمرہ ہے تمہیں یہاں رہنا ہے تو صوفے پہ رہنا ہوگا۔شیراز اپنی شیروانی کے بٹن کھولتا بولا۔
بیوی ہونے کے ناطے اب یہ کمرہ یہ بیڈ ہمارا ہوا۔کشف نے بتانا ضروری سمجھا۔
بار بار بیوی کا لفظ مت یوز کرو وحشت ہورہی ہے مجھے تم بس میرے والدین کی وجہ سے یہاں ہو اگر وہ مجھے فورس نہ کرتے تو میں کبھی یہ شادی نہیں کرتا اِس لیے مجھ سے کسی بھی قسم کی امیدیں وابستہ مت رکھنا کیونکہ میں کسی اور کو چاہتا ہوں۔شیراز اچھے سے اس کو اپنی حیثیت بتاتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
ایک اور امتحان۔کشف بے بسی سے بڑبڑائی۔




افعان پریشان سا موحد کو دیکھ رہا تھا جو زندگی میں پہلی بار شراب نوشی کررہا تھا اُس کی آنکھیں حد سے زیادہ لال ہوگئ تھی افعان کو وحشت ہونے لگی۔
کشف کی شادی ہونے سے اتنا درد ہورہا ہے تو کیوں نہیں مانی اُس کی بات بار بار کہتی رہی پر تم پتھر بن گئے اب جب وہ کسی اور کی ہوگئ تو ناکام عاشقوں کی طرح یہاں بیٹھے ہو۔افعان نے افسوس سے موحد کو دیکھ کر کہا جس کی کیفیت کا اندازہ اس کے چہرے سے لگایا جاسکتا تھا۔
میں کیا دیتا اُس کو سوائے محرومیوں کے۔موحد نشے کی حالت میں بولا۔
محبت،عزت،اعتبار،اپنا ساتھ دیتے۔افعان نے جواب دیا۔
اِن چیزوں کے علاوہ بھی بہت ساری ضروریات ہوتی ہے جو میں کبھی پوری نہیں کرسکتا تھا۔موحد بے بس ہوکر بولا
اُس نے کونسا ایسی چاہ کی تھی وہ تو بس تمہارا خلوص تمہارا ساتھ مانگ رہی تھی۔افعان نے اُس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
اُس کے والدین نے اُس کے حق میں اچھا فیصلہ کیا ہوگا دیکھنا بہت خوش رہے گی وہ میں تو یاد بھی نہیں رہوں گا۔موحد زخمی مسکراہٹ سے بولا افعان بس اس کو دیکھتا رہا جو نااُمیدی کی بلندی پہ کھڑا تھا۔
وہ جو پتھر سے پانی نکال سکتا ہے
وپ اپنے بندے کے لئے وسیلہ بھی بناہی لیتا ہے۔افعان نے سنجیدگی سے کہا موحد بس شراب کی بوتل کو دیکھنے لگا۔




حمزہ کو نعیم کے کینیڈا جانے کے تین دن بعد فون آیا تھا کے اُس کا بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے بتانے والی نعیم کی گرل فرینڈ تھی حمزہ کو جب یہ بات پتا چلی تو وہ جلدی میں بنا کسی کو بتائے کینیڈا جانے کے لیے نکل پڑا تھا کینیڈا آنے کے بعد اُس کا موبائل گم ہوگیا تھا اِس وجہ سے وہ حیا سے بھی رابطہ نہیں کرسکا پاکستان میں کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں حمزہ اِس سب لاعلم تھا نعیم کی حالت بہت سیریس تھی حمزہ نے وہاں رہنا فلحال بہتر جانا نعیم کی حالت کو ٹھیک ہونے میں بہت وقت لگا جب نعیم نے خود کو بہتر سمجھا تو حمزہ کو واپس جانے کا کہا جس پہ حمزہ مان گیا تھا کیونکہ اُس کو بھی حیا کی یاد آرہی تھی جس سے دو ماہ ہوگئے تھے پر وہ بات نہیں کرسکا تھا حمزہ پاکستان جانے سے پہلے حمزہ نیا موبائل لیکر حیا کو کال کرنے لگا پر نمبر بند جارہا تھا حمزہ کو ٹینشن ہونے لگی اِس لیے جلدی سے فلائٹ بُک کرواتا پاکستان واپس لوٹ آیا یہاں آکر اُس کو جو خبر ملی اسے سن کر وہ اشتعال میں آگیا اپنے گھر جانے کے بعد وہ سیدھا حیا کی طرف آیا جہاں نور احمد صاحب رخشندہ بیگم کے ساتھ منہا کی طرف گئے تھے ناشتہ لئے اور واحب صاحب سومل بیگم کشف کی طرف گئے تھے۔
حیا
حیا۔
حمزہ ہال میں آتا زور سے حیا کا نام لینے لگا۔
صاحب جی وہ اپنے کمرے میں ہیں۔ایک ملازمہ باہر آتی حمزہ سے بولی جسے سن کر حمزہ سیڑھیاں چڑھتا حیا کے کمرے کے پاس آتا دھڑام سے دروازہ کھولا حیا جو کھڑکی کے پاس کھڑی تھی گردن موڑ کر دیکھا حمزہ کو کھڑا دیکھ کر اُس کو لگا جیسے کوئی خواب ہے مگر وہ حقیقیت میں کھڑا تھا وائٹ شرٹ کے ساتھ وائٹ جینز پینٹ پہنے بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا کافی فریش سا اُس کے برعکس حیا دو دن پہلے پہنے والے سوٹ میں ملبوس تھی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوگئے تھے چہرے کا رنگ پیلا زد ہوگیا تھا وہ کہیں سے بھی ہروقت تیار رہتی حیا نہیں لگ رہی تھی حمزہ جو سخت غصے میں آیا تھا حیا کی حالت دیکھ کر ایک جست میں اُس کی طرف پہنچا۔
حیا میری جان یہ کیا حالت بنالی ہے اپنی۔حمزہ فکرمند سا اُس کے چہرے پہ ہاتھ رکھتا سر سے پیر تک دیکھتا بولا۔
چٹاخ۔
حیا نے حمزہ کو خود سے دور کیے تھپڑ اُس کے گال پہ مارا حمزہ بے یقین سا حیا کو دیکھنے لگا جو آنکھوں میں نفرت لیے اس کو دیکھ رہی تھی اپنے لیے اُس کی نظروں میں نفرت دیکھتا حمزہ تڑپ کے دوبارہ سے اُس کے پاس آیا۔
حیا کیا ہوگیا ہے پلیز ٹیل می۔حمزہ نے ایک سانس میں پوچھا۔
چٹاخ
چٹاخ
چٹاخ۔
حیا بنا کوئی بات کیے ایک کے بعد ایک تھپڑ اس کو مارنے لگی جو حمزہ بنا غصے کیے برداشت کررہا تھا اُس کو بس ابھی یہ جاننا تھا کہ حیا اِس طرح ری ایکٹ کیوں کررہی ہے جہاں تک اُس کو معلوم ہوا تھا وہ یہ بات تھی کے نور احمد نے حیا کا رشتہ اُس سے توڑ کر کسی اور کے ساتھ جوڑنے کا سوچ رہے ہیں جس سے حمزہ کو غصہ آگیا تھا۔
حیا کیا پاگلپن ہے میرا سانس خشک ہوا پڑا ہے تمہیں مارنے کی لگی ہے بعد میں جتنے چاہے تھپڑ مارلینا پر ابھی مجھے یہ بتاؤ کیا ہوا ہے؟حمزہ اُس بڑھتا ہاتھ تھام کر فکرمندی سے بولا دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے جو مسلسل بہہ رہے تھے۔
اب کیوں آئے ہو تم جب ضرورت تھی تو کہاں غائب تھے۔حیا اپنے ہاتھ چھڑواتی اس کے سینے پہ مُکے برسانے لگی حمزہ گہری سانس لیتا اس کے دونوں ہاتھ جکڑتا قریب کیا۔
ساری بات کیا ہے جو تم یوں غصہ ہورہی ہو؟حمزہ نے نرمی سے پوچھا۔
تمہارے جانے کے بعد ڈیڈ نے میرا رشتہ ولید سے طے کرلیا تھا میرا دوبارہ نکاح بھی ہوجاتا اگر ان کو ہمارے بچے کا پتا نہ چلتا۔حمزہ جو جبڑے بھینچ کر حیا کی بات سن رہا تھا بچے کے نام پہ ٹھٹک کر حیا کو دیکھا جو جانے اور کیا بول رہی تھی۔
بچہ؟حمزہ زیر لب بڑبڑایا۔
ہاں بچہ جس کو امی نے ناجائز بولا۔حیا طنزیہ مسکراہٹ سے بولی حمزہ کا خون کھول اُٹھا تھا ناجائز لفظ پہ۔
ہمارا جائز بچہ ہے یہ ہماری محبت کی نشانی۔حمزہ سخت لہجے میں بولا۔
تم تو چلے گئے تھے جب مجھے تمہاری ضرورت تھی تو۔حیا نے نظریں پھیر کر کہا۔
مجبوری نہ ہوتی تو کبھی بھی نہیں جاتا۔حمزہ نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کرکے کہا۔
بات مت کرو۔حیا بے رخی سے بولی۔دل جب کی ساری ناراضگی ختم کرنے کا چاہ رہا تھا دو ماہ بعد اپنے سامنے حمزہ کو دیکھ کر۔
حیا آئے کانٹ بلیو اِٹ۔حمزہ خوشی سے چور لہجے میں بولا تو حیا ناسمجھی سے اس کو دیکھنے لگی۔
ہم والدین کے رُتبے پہ فائز ہونے والے ہے تم اب میرے ساتھ جاؤ گی حال دیکھو اپنا کیا بنالیا ہے میرے بعد شاید بلکل بھی خیال نہیں کیا پر اب میں لاپرواہی برداشت نہیں کروں بہت خیال رکھوں گا تمہارا۔حمزہ حیا کے ہاتھ کی پشت پہ لب رکھتا بولا۔
مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ تو بلکل بھی نہیں۔حیا نے صاف انکار کیا۔
حیا میری نرمی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ میں سختی کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہوں۔حمزہ نے تیز آواز میں کہا تو حیا رونے لگی۔
یار حیا سیلاب لانا ہے کیا۔حمزہ اس کے بار بار رونے پہ جھنجھلاکر بولا۔
ایک تو اتنا وقت جانے کہاں تھے سب کجھ میں نے اکیلے برداشت کیا جب تم آئے ہو تو تم بھی ایسے بات کررہے ہو۔حیا ہچکیوں کے درمیان بولی تو حمزہ کو اپنے سخت رویے کا احساس ہوا۔
اچھا سوری نہیں کرتا میں اب کجھ پر تم رونا بند کرو۔حمزہ نے منت کرنے والے انداز میں کہا۔
حیا نے ہلکہ سا تھپڑ اُس کے چہرے پہ مار کر اُس کے سینے پہ سررکھ دیا وہ جو سوچ بیٹھی تھی کبھی معاف نہیں کرے گی پر حمزہ کو دیکھ کر اُس کی ساری ناراضگی ختم ہوگئ تھی یاد تھا تو بس اتنا اُس کا حمزہ اُس کے پاس موحود تھا حمزہ نے مُسکراکر اُس کے گرد حصار باندھا۔
زندگی میں کبھی ایک تھپڑ مجھے نہیں پڑا پر آج تم نے تھپڑوں کی بارش کردی۔حمزہ نے جل کر کہا تو حیا نے ایک مکہ اس کے سینے پہ مارا حمزہ بس ضبط کرتا رہا۔
تم بس میری ہو حیا تمہارے نام کے شروع کے حرف اور آخری حرف میرے نام کے جیسے ہیں تم سے دور تو مجھے موت کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔حمزہ حیا کے بالوں پہ لمس چھوڑتا دل میں بولا۔





کیسی ہوں سب ٹھیک ہے نہ؟رخشندہ بیگم نے ناشتے کے بعد منہا سے پوچھا۔
جی امی جان میں ٹھیک ہوں حیا کو بھی ساتھ لاتی آپ۔منہا نے جواب دے کر کہا۔
اُس کا نام مت لو بس اپنے گھر کا سوچو اب۔رخشندہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔
امی حیا نے کونسل گُناہ نہیں کیا کہیں نہ کہیں غلطی ہم سے ہوئی ہے۔منہا نے کہا۔
منہا۔رخشندہ بیگم نے تنبیہہ کی تو منہا خاموش ہوگئ۔
اتنے شوک کلر کا ڈریس پہننے کی کیا ضرورت تھی تمہیں۔عانیہ مرزا نے ناگواری سے منہا سے کہا جو ریڈ کلر کر سادہ سے فراق میں بہت پیاری لگ رہی تھی سر پہ ڈوپٹہ اچھے سے سیٹ کیا ہوا تھا پر عانیہ مرزا کو وہ ایک آنکھ نہ بھاہی۔
کیا بات ہے عانیہ شادی سے کے بعد لڑکیاں ایسے ہی کپڑے پہنتی ہیں۔رخشندہ بیگم نے منہا کا زد ہوتا چہرہ دیکھا تو کہا۔
ہمم۔عانیہ مرزا نے منہ بگاڑا جب کی مرد سب دوسری طرف تھے منہا کو اپنے نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو چہرہ ماہر کی طرف دیکھا جو دور بیٹھا اِشارے سے پوچھ رہا تھا کیا ہوا؟منہا نے دیکھا تو مسکراہٹ آگئ اُس نے مسکراکر نفی میں سرہلاکر ماہر کو تسلی کروائی عانیہ مرزا نے کڑی نظروں سے یہ منظر دیکھا تھا۔




اِتنا تکلف کیوں کیا سومل۔مسز اسحاق نے سومل بیگم سے کہا جو ناشتے کے نام پہ مہینے بھر کا کھانا لائی تھی جیسے۔
تکلف کیسا اتنا تو ہوتا ہے۔سومل بیگم نے سادگی سے کہا۔
تم خوش ہو نہ؟واحب صاحب نے کشف سے پوچھا جو خاموش بیٹھی تھی۔
خوش کس بات پہ؟کشف نے اُلٹا ان سے سوال کیا۔
ابھی تم ناراض ہو بعد میں ہمارے فیصلے پہ فخر محسوس کروگی۔واحب صاحب نے مسکراکر کہا۔
کشف بیٹے شیراز کو اٹھاؤ ساتھ میں ناشتہ کریں۔مسز اسحاق نے کہا تو کشف کا اُس کا رات والا رویہ یاد آیا ساری رات صوفے پہ اس کو نیند نہیں آئی تھی کمر الگ سے درد کررہی تھی۔
جی۔کشف اتنا کہہ کر کمرے میں آئی جہاں شیراز گہری نیند میں تھا اُس کو اتنی گہری نیند میں دیکھ کر وہ سوچنے لگی کیسے جگائے اگر غصہ کرے تو۔
کرتا ہے تو کریں میں کونسا اِس کے غصے سے ڈرتی ہوں۔کشف سرجھٹک کر سوچتی شیراز کو آواز دینے لگی۔
سنو باہر نیچے بلارہے ہیں آپ کو۔کشف نے کہا پر شیراز اپنی جگہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔
ش۔۔شی۔راز۔کشف نے اٹک کر اُس کا نام لیا۔
ہمم کیا ہے؟شیراز مندی مندی آنکھیں کھولتا بیزار سے بولا۔
ناشتے کے لیے بلارہے ہیں باہر۔کشف نے دوبارہ سے بتایا۔
مجھے نہیں کرنا اب تم جاؤ مجھے سونا ہے۔شیراز نے کروٹ بدل کر کہا۔
ایک بار نیچے آکر پھر دوبارہ سولیجئے گا۔کشف نے دانت پیس کر کہا۔
ایک دفع کہا نہ اب جاؤ یہاں سے۔شیراز اٹھ کر اس کے بازوں کو جھٹکا دے کر بولا کشف کراہ کر رہ گئ۔
جھنگلی۔کشف بڑبڑاتی باہر نکل گئ
انہوں نے ناشتہ نہیں کرنا۔کشف باہر آتی اُن سے بولی۔
کہتی نہ ہم آئے ہیں۔واحب صاحب زبردستی مسکراہٹ بولے اسحاق ظفر نے ایک شرمندہ نظر اپنی بیگم پہ ڈالی جو خود نظریں چُراگئ تھی۔
اُن کا سونا ضروری تھا اِس لیے مجھے باہر بھیج دیا۔کشف صاف گوئی سے بولی سومل بیگم نے گھور کر اُس کو دیکھا۔





تم یہاں کیا کررہے ہو؟نور احمد صاحب نے ہال میں حمزہ کو بیٹھا دیکھا تو غصے سے کہا رخشندہ بیگم بھی نفرت سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔
میں یہاں آپ کا انتظار کررہا تھا تاکہ بتاسکوں میں حیا کو لیکر جارہا ہوں۔حمزہ سپاٹ انداز میں بولا اُس کو حیا کے علاوہ کسی سے مطلب نہیں تھا۔
نکاح کے وقت بتایا تھا جو رخصتی پہ بتارہے ہو لیکر جاو اپنی منکوحہ کو جس نے ہمارا نام روشن کیا ہے۔رخشندہ بیگم ناگواری سے بولی۔
امی جان آپ ایسا کیوں بول رہی ہیں۔سیڑھیاں اُترتی حیا اُن کی بات سن کر تڑپ کے بولی۔
تم سے ہمیں بات نہیں کرنی اپنا سامان پکڑو اور جہاں جانا ہے جاوٴ ہمہیں اپنی شکل دوبارہ مت دیکھانا۔رخشندہ بیگم زہر خند لہجے میں بولی۔
اولاد ہے آپ کی ایسے بات کیوں کررہے ہیں آپ مانا کے نکاح آپ کو بتائے بنا کیا تھا بعد میں بھی تو ہونا تھا نہ حیا میری منگ تھی اگر اپنی مرضی سے ہم نے کوئی فیصلہ لیا تو آپ کو اِس طرح ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے۔حمزہ سنجیدگی سے بولا۔
ہمیں تم دونوں سے کوئی بحث نہیں کرنی۔رخشندہ بیگم کہتی وہاں سے چلی گئ نور احمد صاحب بھی ایک نظر اُن پہ ڈال کر چلے گئے حیا نے دُکھ سے اُن کو جاتا دیکھا حمزہ چلتا حیا کے پاس آیا اور اس کو اپنے ساتھ لگایا۔
رلیکس سب ٹھیک ہوجائے گا۔حمزہ نے اُس کے بال سہلاکر کہا۔




دو ماہ بعد!
دو ماہ ہوگئے تھے مگر کشف کی زندگی میں کجھ نہیں بدلا تھا شیراز کا رویہ بہت بُرا تھا اُس کے ساتھ جس سے موحد اُس کو شدت سے یاد آتا تھا اِن دو ماہ بعد میں اُس کو موحد پہ غصہ بھی آتا تھا منہا کی زندگی ماہر کے ساتھ بہت خوشگوار گُزر رہی تھی ولیمے کے دوسرے دن ماہر اُس کو اپنے ساتھ دبئی لیکر گیا تھا اور دو ماہ بعد ان کی واپسی تھی حیا کا چوتھا مہینہ چل رہا تھا حمزہ بہت خیال رکھ رہا تھا اُس کا حمزہ کی حد سے زیادہ محبت توجہ عزت پاکر حیا بہت پُرسکون اور خود کو خوش قسمت محسوس کرتی تھی مگر نور احمد صاحب یا رخشندہ بیگم ابھی بھی اُس سے ناراض تھے حیا نے منانے کی کوشش کی پر بے سود اِس لیے اب حمزہ اس کو ان سے بات کرنے نہیں دیتا تھا کیونکہ حیا پریشان ہوجاتی تھی جو حمزہ کو گوارہ نہیں تھا۔
ہر سجدے پہ دل لیتا ہے نام تیرا
مجھے دورانِ نماز تو یاد نہ آیا کرو۔
کشف نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو اُس کو سمجھ نہیں آیا کیا مانگے دو ماہ سے وہ ایسے ہی بس اپنے ہاتھوں کو دیکھا کرتی تھی اُس کی دعا کی شروعات اور آخر تو بس موحد تھا شادی کے بعد اُس نے دعا مانگنا چھوڑدیا تھا
کجھ دیر تک اپنے ہاتھوں کو دیکھنے کے بعد کشف جائے نماز اُٹھا کر بیڈ پہ بیٹھ گئ۔
موت سے پہلے بھی ایک موت ہوتی ہے
دیکھو زرہ اپنی محبت سے جُدا ہوکر۔
کشف بات کرنی ہے تم سے۔سومل بیگم کشف کے کمرے میں آکر بولی جو کل ان کے یہاں آئی تھی
جی کریں۔کشف نے سنجیدگی سے کہا۔
اتنا خاموش کیوں رہنے لگی ہو خوش رہا کرو پہلے کی طرح بات چیت کرلیا کرو ہمارا دل کٹتا ہے تمہیں ایسے دیکھ کر۔سومل بیگم نے نرمی سے کہا۔
کس بات پہ خوش رہوں میری شادی آپ نے امیر وکبیر ایک شرابی لڑکے سے کروائی ہے اُس پہ یہاں اِس بات پہ کے اُس کا چکر کسی اور لڑکی میں ہے۔کشف ان کی بات پہ طنزیہ بولی۔
حضرت علی رضہ فرماتے ہیں!
رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے میں ہیں بے عیب انسان تلاش کروگے تو اکیلے رہ جاؤ گے۔
اِس لیے میری جان شیراز کو اپنی توجہ اور محبت دو تاکہ وہ تمہاری طرف مائل ہو جن مردوں کو اپنی بیوی سے سہی سے توجہ اور محبت نہیں ملتی نہ تو وہ مرد باہر کی عورتوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں تم بیوی ہو اُس کی پورا حق ہے تمہارا اُس پہ دوسرا یہ نکاح میں اللہ پاک نے بہت برکت اور طاقت رکھی ہے تم کوشش کرو رشتے کو سنبھالنے کی پھر دیکھنا کیسے شیراز تمہارا ہوکر رہتا ہے شادی ہوجانے کے بعد کسی نہ کسی کو تو پٙہل کرنء ہے نہ تم کرو شوہر کا بہت بڑا رتبہ ہے اُس کو سمجھنے کی کرو نامحرم کو بھول کر اپنی محرم کا سوچو۔سومل بیگم نے بہت خوبصورت طریقے سے اس کو سمجھایا اُن کی آخری بات پہ کشف نے بہت ضبط کیا تھا۔
شیراز کی زندگی میں مجھ سے پہلے وہ لڑکی تھی وہ محبت کرتا ہے اُس سے۔کشف نے سنجیدگی سے کہا۔
محبت تو وہ ہوتی ہے جو نکاح کے بعد ہو۔سومل بیگم اُس کی بات پہ مسکرائی۔
میں کوشش کروں گی ان کو میری طرف سے کوئی شکایات نہ ہو پر منافقت مجھ سے نہیں ہوتی جھوٹی محبت کا دیکھاوا میں نہیں کرسکتی میرے دل میں اگر کوئی نامحرم ہے تو میرا کیا قصور محبت کرنا میرے بس میں تو نہ تھا۔کشف نے سنجیدگی سے کہا۔
محبت کرنا تمہارے بس میں نہیں تھا آگے بڑھنا اپنے محرم سے وفا کرنا تمہارے بس میں ہے تم جب تک اپنے دل سے اِس رشتے کو قبول نہیں کروگی تب تک صرف بے کار کوشش ہوگی اُس کا نتیجہ تب آئے گا جب سچے دل سے چاہوں گی۔سومل بیگم نے اس کو دیکھ کر کہا۔
کشف جس طرح نماز جنت کی کنجی ہے ویسے ہی کوشش کامیابی کی کنجی ہے تمہیں یہ ضد ہے ہم نے تمہاری مرضی کے خلاف شادی کیوں کروائی تو میں بتادو والدین اپنی اولاد کے لیے کبھی کجھ بُرا نہیں سوچتے۔سومل بیگم کی بات پہ کشف اُداس سی مسکرائی۔
غرور ٹوٹ گیا،اپنی حد میں آگئے ہیں
انا پرست محبت کی زد میں آگئے ہیں
میں کُل ملاؤں تو اتنے نہیں ملے مجھ کو
جو غم تمہاری محبت کی زد میں آگئے






ماہر آج آپ نے آفس نہیں جانا؟منہا اور ماہر کو واپس آئے دو دن ہوگئے تھے۔
نہیں کیوں کی مجھے اپنی خوبصورت بیوی کے ساتھ وقت گُزارنا ہے۔ماہر نے مسکراکر اس کے ہاتھ تھام کر کہا۔
دو ماہ سے تو یہی کررہے ہیں اب کام پہ بھی توجہ دے۔منہا نے مصنوعی گھوری سے نواز کر کہا تو ماہر نے دل پہ ہاتھ رکھا۔
افففف یہ ادا مار ڈالا۔ماہر نے سینے پہ ہاتھ رکھ کہا تو منہا نے شرما کر نظریں دوسری طرف کی۔
میری ساری توجہ کا محو آپ بن گئ ہیں یہ دل آپ کے بنا کہیں اور نہیں لگتا۔ماہر نے معصوم شکل بناکر کہا۔
بہانے ہیں آپ کے کام نہ کرنے کے۔منہا نے کہا۔
عشق ہے میرا آپ سے۔ماہر اس کی گود میں سر رکھتا بولا۔
پھوپھو ناراض ہوگی اگر آپ ایسے کرتے رہے تو۔منہا نے نرمی سے اس کو بالوں میں پاتھ پھیر کر کہا۔
میں بے چارہ بھی تو بے بس ہوں آپ کے عشق میں آپ کوئی حل نکالے۔ماہر اس کا گال سہلاکر بولا۔
میں کیا حل نکالوں؟منہا ناسمجھی سے بولی۔
میرے ساتھ آفس آیا کریں۔ماہر اُٹھ کر اس کے گال پہ پیار کرتا بولا۔
آپ بھی نہ۔منہا بس اتنا بولا پائی۔
میں بھی کیا۔ماہر اس کے دوسرے گال پہ پیار کرتا بولا۔
کجھ نہیں۔منہا گہری سانس لیکر بولی۔
ٹیلی می ہاؤ مچ یو لو می؟ماہر اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالتا چہرہ اُپر کیے شدت سے بولا۔
ماہر۔منہا کراہ کر بولی انجانے میں ماہر کی گرفت مضبوط ہوگئ تھی۔
ششش
جو پوچھا ہے وہ بتائے۔ماہر نے اپنی بات پہ زور دیتے کہا۔
بہت پیار کرتی ہوں آپ سے۔منہا درد برداشت کرتی بولی۔
کیا کہا؟ماہر آنکھوں میں چمک لیے بولا۔
آئے لو یو سو مچ۔منہا نے پھر سے کہا۔
آئے لو یو ٹو مور دین یو میری جان۔ماہر اس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر بولا۔
یو ہرٹ می۔منہا نے شکوہ کیا۔
بکوز آئے لو یو۔ماہر نے مسکراکر نرمی سے اس کے بال سہلاکر۔
یو ڈونٹ۔منہا منہ بسورا۔
آئے عشق یو۔ماہر مسکراہٹ ضبط کرتا بولا منہا بھی سکون سے مسکراتی اس کے حصار میں سمائی۔



حیا
حیا
حیا۔
حمزہ آفس سے واپس آیا تو کمرے میں حیا کو ناپاکر پاگلوں کی طرح اُس کو آوازیں دینے لگا حیا جو کچن میں اپنے لیے کافی بنانے آئی تھی حمزہ کی آواز سن کر حیا تپ کے رہ گئ جس کو اگر ایک منٹ دیر حیا نظر نہ آتی تو پورا گھر سر پہ اُٹھالیتا تھا۔
صاحب وہ کچن میں ہیں۔ملازمہ نے سرجھکاکر بتایا۔
واٹ۔۔حمزہ تیز نظر سے اُس کو گھورتا کچن کی طرف آیا جہاں حیا مزے سے کافی پی رہی تھی۔
حیا تم یہاں کیا کررہی ہو تمہیں اِس وقت کمرے میں ریسٹ کرنا چاہیے۔حمزہ حیا کے پاس آتا سخت لہجے میں بولا۔
حمزہ مجھ سے نہیں رہا جاتا کمرے میں۔حیا نے کافی کا گھونٹ بھر کر کہا۔
تو مجھے کال کرتی ہم باہر جاتے پر حیا میں دوبارہ تمہیں کچن کے آس پاس بھی نہ دیکھوں۔حمزہ وارن کرتے ہوئے بولا۔
مجھے بس اپنے ہاتھ کی کافی پسند وہ بنانے تو آیا کروں گی نہ۔حیا نے نروٹھے پن سے کہا۔
بلکل بھی نہیں اپنے بچے پہ اور تمہارے پہ میں تھوڑی بھی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔حمزہ اس کے ہاتھ سے کافی پکڑتا گھونٹ بھر کر بولا۔
ایک کافی بنانے سے کیا ہوتا ہے۔حیا نے کافی کا مگ واپس لیتے گھونٹ بھر کر کہا۔
اللہ اللہ کرکے تمہاری حالت پہ سُدھار آیا ہے اور یہ اب کیا تمہیں کچن میں آنے کا شوق چڑھا پہلے تو کبھی نہیں ہوتا تھا۔حمزہ دوبارہ کافی لیکر پی کر بولا۔
اچھا۔حیا نے آئبرو اُچکائے۔
جی۔حمزہ خالی مگ سنک کے پاس رکھ کر بولا۔
آج ہم ڈنر باہر کریں گے۔حیا نے پلان بنایا۔
گھمانے لیں چلوں گا پر باہر کا کھانا نہیں پچھلی بار بھی کتنی اُلٹیاں کی تھیں۔حمزہ نے فورن سے انکار کیا۔
حمزہ۔حیا نے پیار سے اُس کا نام لیا۔
نو میری جان میں نے کہا نہ تمہاری صحت اور بچے پہ نو کمپرومائز۔حمزہ اس کو اپنے حصار میں لیتا بولا۔
بُرے ہو تم بہت۔حیا نے گھور کر کہا۔
تم بہت پیاری ہو لائیک اینجل۔حمزہ اُس کے پھولے گال پہ چٹکی کاٹ کر بولا۔
حمزہ ہم اپنے بچے کا نام کیا رکھیں گے۔حیا نے اچانک پوچھا۔
کمرے میں چلو پھر بتاتا ہوں۔حمزہ اس کو بانہوں میں بھرتا کمرے کی طرف جانے لگا۔
اب بتاؤ۔حمزہ نے اس کو آرام سے بیڈ پہ بیٹھایا تو حیا نے پوچھا۔
بیٹا ہوا تو حمین اگر بیٹی ہوئی تو حورین۔حمزہ بیڈ کی دوسری طرف آتا اس کا سر اپنے سینے پہ رکھ کر بولا۔
نام تو بہت پیارے ہیں۔حیا نے خوش ہوکر بولی۔
ابھی تو ان کے آنے میں وقت ہے میرا سوچو۔حمزہ نے اُس کا چہرہ اُپر کرکے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
تمہارا کیا سوچوں۔حیا نے مسکراکر پوچھا۔
اچھا تو مجھے پیار کرنے دو۔حمزہ اُس کی پیشانی پہ لب رکھتا بولا
وہ تو بچپن سے کرتے ہو۔حیا نے منہ بگاڑ کر کہا
تم نہیں کرتی؟حمزہ نے پوچھا۔
میں بہت کرتی ہوں تمہیں اندازہ نہیں کتنا ڈرگئ تھی جب تم سے بات نہیں ہورہی تھی تو۔حیا پُرانی بات یاد کرتی بولی۔
مجھے اندازہ ہے کیونکہ میں بھی اُس راہ کا مسافر ہوں۔حمزہ اُس کو اپنے حصار میں لیکر بولا۔





کشف واپس گھر آگئ تھی مسز اسحاق کسی پارٹی میں گئ تھی اسحاق ظفر بھی شہر سے باہر تھے وہ اب گھر میں شیراز کے ساتھ اکیلی تھی کجھ سوچ کر کشف کمرے میں آئی۔
آپ کو کجھ چاہیے؟کشف نے شیراز سے پوچھا جو کرکٹ ٹورنامنٹ دیکھ رہا تھا۔
ہممم چاہیے۔شیراز نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا چاہیے؟کشف نے پوچھا۔
میں چاہتا ہوں تم مجھ سے طلاق مانگو۔شیراز سفاکی سے بولا۔
یہ کیا بکواس ہے؟کشف غصے سے بولی۔
میں نایاب کو چاہتا ہوں وہ مجھ سے شادی تب تک نہیں کرے گی جب تک میں تمہیں نہ چھوڑدوں اگر میں تمہیں طلاق دوں گا تو ڈیڈ مجھے بزنس سے بے دخل کردیں گے اِس لیے تم مجھ سے خُلا لو۔شیراز اس کا بازوں دبوچ کر بولا۔
دماغ خراب ہوگیا ہے اگر دوسری شادی کرنی ہے تو کرلوں میں نے کونسا روک رکھا ہے تمہاری نایاب کو مجھ سے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔کشف اپنا بازوں آزاد کرواتی بولی۔
میری بات نہیں مانوں گی۔شیراز اس کے بال مٹھیوں میں جکڑتا بولا۔
آآآہ۔
کشف درد سے چلا اُٹھی اُس کو پچھتاوا ہوا کیوں اِس پاگل کے پاس آئی۔
میں چاہوں تو جان سے ماردوں تمہیں۔شیراز اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر بولا۔
دور رہو۔کشف نے نفرت سے اُس کا ہاتھ جھٹکا۔
اووہ بُرا لگا مجھے بھی تمہیں چھونے میں دلچسپی نہیں۔شیراز زچ کرتی مسکراہٹ سے بولا۔
جہنم میں جاؤ۔کشف اُس کو دھکادیتی باہر نکل گئ۔






کشف خوش نہیں ہے۔سومل بیگم نے واحب صاحب سے کہا۔
بے وقوف ہے وہ ناشکری کررہی ہے۔واحب صاحب نے کہا۔
ہم نے اُس کے حق میں غلط فیصلہ تو نہیں لیا۔سومل بیگم کسی خدشے کے تحت بولی۔
نہیں ایسا سوچو بھی مت کشف کو احساس ہوجائے گا ہم نے کیا ہیرا اُس کے لیے چُنا ہے۔واحب صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
پتا نہیں میرا دل مطمئن نہیں ہوتا کشف تو ہنسنا مُسکرانا بھول گئ ہے کہاں ہر وقت بولتی رہتی تھی اور اب خاموش خاموش سی رہتی ہے۔سومل بیگم پریشان سی بولی۔
تو کیا میں اُس میڈل کلاس لڑکے سے شادی کروادیتا ساری زندگی ہر چیز کے لیے ترستی رہتی۔واحب صاحب ناگواری سے بولا۔
خوش تو ہوتی وہ آپ اُس لڑکے کو سپورٹ کرتے۔سومل بیگم نے کہا
فضول بات مت کرو۔واحب نے سختی سے ٹوکا۔






اسلام علیکم!!منہا نیچے آئی تو عانیہ مرزا کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھ کر سلام کیا۔
یہ ماہر کی بیوی ہے سیر سپاٹوں پہ نکلے تھے اب آگئے ہیں واپس۔عانیہ مرزا نے نخوت سے منہا کا تعارف کروایا۔منہا کو ان کا اِس طرح بات کرنا عجیب لگا۔
اووہ تو یہ ہے وہ۔روبی نے سر سے پاؤں تک اس کا جائزہ لیکر کہا۔
ہمم۔عانیہ مرزا نے بس اتنا کہا۔
میرے لیے فریش جوس لاؤ۔روبی نے منہا سے ایسے کہا جیسے وہ کوئی اُس کی زرخیز ملازم ہو۔
جی لاتی ہوں۔منہا اُس کے مہمان ہونے کا خیال کرتی ہوئی بولی۔
آنٹی اِس میں ہے کیا جو ماہر نے مجھے ٹھکرایا۔منہا کے جاتے ہی روبی نے عانیہ مرزا سے کہا۔
پتا نہیں میں خود اِس سے جان چھڑوانا چاہتی ہوں تم بھی ماہر کو اپنی طرف کرو۔عانیہ مرزا نے اکتاہٹ سے کہا۔
میں ماڈلز کے انٹرویوز پہ ماہر سے ملوں گی ہر وقت اُس کے ساتھ رہوں گی تو ماہر کو مجھ سے محبت ہوجائے گی۔روبی شیطانی منصوبہ بناکر بولی۔
آپ کا جوس۔منہا نے جوس اس کے سامنے کیے کہا۔
کہاں جارہی ہو ہمارے ساتھ بیٹھو روبی میری بیسٹ فرینڈ کی بیٹی ہے۔عانیہ مرزا نے اس کو اندر کی طرف جاتا دیکھا تو کہا۔
ماہر کی کال کرنے کا وقت ہوگیا ہے اگر پہلی بیل پہ ریسیو نہ کی تو پریشان ہوجائے گے اِس لیے اُپر کمرے میں جارہی ہوں۔منہا نے مُسکراکر کہا اُس کی بات پہ دونوں کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی جس سے انجان منہا کمرے میں آگئ تھی۔




گھر میں سب تمہارے ساتھ ٹھیک ہوتے ہیں نہ؟واحب صاحب نے کال پہ کشف سے پوچھا۔
جی آپ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئے اب میں اور میرا نصیب۔کشف نے سنجیدگی سے کہا۔
ایسے بات کیوں کررہی ہو؟واحب صاحب کو تکلیف ہوئی۔
زندگی میں جو حالات میں دیکھ رہی ہو اُس نے مجھے تلخ بنایا ہے۔کشف نے جواب دیا۔
ناراضگی ختم کرلوں۔واحب صاحب نے کہا
میں ناراض نہیں ہوں۔کشف نے فورن سے کہا
پھر کیا بات ہے؟واحب صاحب نے جاننا چاہا
کوشش کررہی ہو جس بات کا آپ کو مان تھا وہ نہ ٹوٹیں۔کشف نے کہا۔
کیا مطلب ہوا اِس بات سے؟واحب صاحب اُس کی بات سمجھ نہیں پائے۔
کجھ نہیں ڈیڈ زندگی نے ایسا اُلجھایا ہے کے میں کجھ سمجھنے کی حالت میں نہیں۔کشف نے کہا
بہت عجیب باتیں کرنے لگی ہو تم۔واحب صاحب کو تاسف ہوا۔
میرا بھی یہی خیال ہے اپنے بارے میں بہت عجیب باتیں کرنے لگی ہوں میں خود بھی عجیب ہوگئ ہوں باقی سب بھی عجیب لگنے لگے ہیں۔کشف نے ان کی بات کی تائید کی واحب صاحب کو لگا جیسے ان کی بیٹی پاگل ہوگئ ہے
پڑچُکا ہے فرق اتنا کہ
اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔





امی جان پلیز معاف کردیں مجھے۔حیا کا پانچواں مہینہ چل رہا تھا وہ آج حمزہ کو بنا بتائے اپنے ماں باپ کے گھر آئی تھی تاکہ ان سے معافی مل سکے رخشندہ بیگم کا دل حیا کی حالت دیکھ کر پِگھل گیا تھا پر وہ ظاہر نہیں کروانا چاہتی تھی۔
آپ ایک دفع معاف کردے پھر میں نہیں آوٴں گی یہاں میرے ہونے والے بچے کے صدقے معاف کردے۔حیا نے پیروں کے پاس بیٹھ کر بولی تو رخشندہ بیگم نے بے ساختہ اُس کو اپنی آغوش میں لیا اپنی ماں کا پیار محسوس کرتی حیا کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
میری بچی معافی تو مجھے بھی مانگنی اتنا مارا جو تھا۔رخشندہ بیگم اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر بولی۔
ہاں مارا تو بہت تھا۔حیا جھرجھری لیکر بولی تو رخشندہ بیگم نے اُس کے ماتھے پہ چپت لگائی۔
اچھا امی جان میں اب چلتی ہوں۔حیا نے وقت دیکھا تو کہا۔
کجھ دن یہی رہو۔رخشندہ بیگم نے اپنے پاس بیٹھاکر کہا۔
حمزہ کو نہیں پتا اُس کے آفس کے آنے کا وقت بھی ہوگیا ہے مجھے نہیں دیکھا تو پورا گھر سر پہ اُٹھالیں گا دوسری بات یہ مجھے ملوانے لاسکتا ہے پر رہنے کی اجازت نہیں دے گا۔حیا نے مسکراکر بتایا۔
خوش ہو حمزہ کے ساتھ؟رخشندہ بیگم نے اُس کا چمکتا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔
بہت زیادہ حمزہ بہت پیار کرتا ہے مجھ سے خیال بھی بہت رکھتا ہے۔حیا نے مسکراکر بتایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا گھر آئی تو حمزہ کو لان میں چکر لگاتا دیکھا ٹریفک کی وجہ سے اُس کو آنے میں وقت لگ گیا۔
حمزہ۔حیا نے اُس کا نام لیا تو حمزہ ایک جست میں اس کے پاس آتا زور سے گلے لگایا۔
حمزہ کیا ہوا۔حیا اِس اچانک افتادہ پہ پریشان ہوتی بولی۔
جان بوجھ کرتی ہو نہ پتا ہے بہت چاہتا ہوں تمہیں اِس لیے تڑپاتی ہو۔حمزہ اس کا چہرہ ہاتھ کے پیالوں میں بھرتا بولا۔
ایسا نہیں ہے حمزہ میں گھر گئ تھی تمہیں پتا ہے امی نے مجھے معاف کردیا۔حیا نے خوش ہوکر بتایا۔
بتاکر جاسکتی تھی۔حمزہ دیوانہ وار اُس کو دیکھ کر بولا۔
تم منع کرتے تبھی نہیں بتایا۔حیا نے وجہ بتائی۔
آئے لو یو حیا لو یو سو مچ۔حمزہ اس کو اپنے حصار میں لیتا شدت بھرے لہجے میں بولا حیا کو سمجھ نہیں آیا اچانک حمزہ کو کیا ہوگیا۔




منہا نہیں کیا گھر پہ؟ماہر گھر آکر کمرے میں منہا کو نہیں دیکھا تو عانیہ مرزا سے سوال کیا
پتا نہیں مجھے کونسا بتاکر جاتی ہے۔عانیہ مرزا نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا ورنہ منہا اُن کو بتاکر گئ تھی کے وہ کشف کی طرف جارہی ہے۔
اچھا میں کال کرتا ہوں۔ماہر پریشان سا جیب میں موبائل نکالتا بولا تو پانچ گھنٹے پہلے منہا کی دس کالز اور پچاس میسجز دیکھ کر اُس کو افسوس ہوا آج کام زیادہ ہونے کی وجہ سے موبائل سلائنٹ پہ کرلیا تھا جس وجہ سے اُس کو پتا نہیں لگا۔
کشف سے ملنے گئ ہے مسیج پہ بتایا تھا مجھے پر میں نے اب دیکھا۔ماہر رلیکس ہوتا بولا۔
ہممم۔عانیہ مرزا نے بس اتنا کہا۔
ماہر ان کو دیکھتا کمرے کی طرف چلاگیا۔





شیراز بہت اچھا ہے اُس کو قبول کرلوں۔منہا نے کشف سے کہا۔
میں کر بھی لوں تو وہ نہیں کرے گا تمہارے لیے مجھے سمجھانا ویسے بھی آسان ہے کیونکہ تم اُس کیفیت سے نہیں گُزری جس سے میں گُزری ہوں۔کشف بدگمان ہوتی بولی۔
کشف کیا ہوگیا ہے کیوں بات بات پہ کاٹ کھانے کو ڈورتی ہوں۔منہا نے حیرت سے کہا
تو اور کیا کروں زندگی اجیرن بن گئ ہے میری پڑھائی چھوٹ گئ میری ایک قیدی بن گئ ہوں میں جس کو جو کوئی بھی چاہے جیسا بھی چاہے استعمال کرسکتا ہے پر اُس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی بس دوسروں کے اشارے پہ ناچتے جاوٴ۔کشف پھٹ پڑی۔
شوہر کے بہت حقوق ہوتے ہیں کسی نامحرم کے لیے محرم سے غافل نہ ہو تو اچھا ہے۔منہا نے اس کی دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا۔
بار بار یاد کروانا ضروری ہوتا ہے کیا میں اگر بھولنے کی بھی کوشش کروں نہ تو کسی نہ کسی طرح اُس کا ذکر آجاتا ہے۔کشف نے بے بسی سے کہا۔
کیا تھا اُس میں ایسا جو تم اتنا پاگل ہوئی ہو اُس کے لیے۔منہا نے جاننا چاہا۔
اس کی نظروں میں احترام تھا دل میں پاکیزگی تھی مضبوط کردار کا مالک تھا لڑکیوں کی عزت کرنا جانتا تھا بس میرے معاملے میں سنگدل تھا۔کشف نے کھوئے ہوئے انداز میں بتایا۔
بھول جانا آسان ہے کوشش کرنا۔منہا نے کہا
اب میں اُس کو یاد نہیں کرتی اب جب سامنے آئے گا بھی نہ تو میں پہچاننے سے انکار کردوں گی۔کشف نے مضبوط لہجے میں کہا۔




