Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 03)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 03)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
(55) سورۃ الرحمٰن (مدنی — کل آیات 78)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اَلرَّحْـمٰنُ (1)
رحمنٰ ہی نے۔
عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (2)
قرآن سکھایا۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ (3)
اس نے انسان کو پیدا کیا۔
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (4)
اسے بولنا سکھایا۔
اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (5)
سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں۔
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ (6)
اور بیلیں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔
وَالسَّمَآءَ رَفَـعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْـزَانَ (7)
اور آسمان کو اسی نے بلند کر دیا اور ترازو قائم کی۔
اَلَّا تَطْغَوْا فِى الْمِيْـزَانِ (![]()
تاکہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔
وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْـزَانَ (9)
اور انصاف سے تولو اور تول نہ گھٹاؤ۔
وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ (10)
اور اس نے خلقت کے لیے زمین کو بچھا دیا۔
فِـيْـهَا فَاكِهَةٌ وَّّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ (11)
اس میں میوے اور غلافوں والی کھجوریں ہیں۔
وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ (12)
اور بھوسے دار اناج اور پھول خوشبو دار ہیں۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (13)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (14)
اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔
وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (15)
اور اس نے جنوں کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (16)
پھر تم (اے جن و انس) اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (17)
وہ دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (18)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ (19)
اس نے دو سمندر ملا دیے جو باہم ملتے ہیں۔
بَيْنَـهُمَا بَـرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ (20)
ان دونوں میں پردہ ہے کہ وہ حد سے تجاوز نہیں کرسکتے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (21)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
يَخْرُجُ مِنْـهُمَا اللُّـؤْلُـؤُ وَالْمَرْجَانُ (22)
ان دونوں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (23)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
وَلَـهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَاٰتُ فِى الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ (24)
اور سمندر میں پہا ڑوں جیسے کھڑے ہوئے جہاز اسی کے ہیں۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (25)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
كُلُّ مَنْ عَلَيْـهَا فَانٍ (26)
جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے۔
وَيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِكْـرَامِ (27)
اور آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (28)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
يَسْاَلُـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِىْ شَاْنٍ (29)
اس سے مانگتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ہر روز وہ ایک کام میں ہے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (30)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَ الثَّقَلَانِ (31)
اے جن و انس ہم تمہارے لیے جلد ہی فارغ ہو جائیں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (32)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُـمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۚ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطَانٍ (33)
اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، تم بغیر زور کے نہ نکل سکو گے (اور وہ ہے نہیں)۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (34)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
يُـرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ (35)
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم بچ نہ سکو گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (36)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ (37)
پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر گلابی تیل کی طرح سرخ ہو جائے گا۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (38)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْاَلُ عَنْ ذَنْبِهٓ ٖ اِنْـسٌ وَّلَا جَآنٌّ (39)
پس اس دن اپنے گناہ کی بات نہ کوئی انسان اور نہ کوئی جن پوچھا جائے گا۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (40)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمَاهُـمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِىْ وَالْاَقْدَامِ (41)
مجرم اپنے چہرے کے نشان سے پہچانے جائیں گے پس پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (42)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
هٰذِهٖ جَهَنَّـمُ الَّتِىْ يُكَذِّبُ بِـهَا الْمُجْرِمُوْنَ (43)
یہی وہ دوزخ ہے جسے مجرم جھٹلاتے تھے۔
يَطُوْفُوْنَ بَيْنَـهَا وَبَيْنَ حَـمِيْـمٍ اٰنٍ (44)
گناہ گار جہنم میں اور کھولتے ہوئے پانی میں تڑپتے پھریں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (45)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّـتَانِ (46)
اور اس کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے دو باغ ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (47)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
ذَوَاتَـآ اَفْنَانٍ (48)
جن میں بہت سی شاخیں ہوں گی۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (49)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فِـيْهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ (50)
ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (51)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فِـيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ (52)
ان دونوں میں ہر میوہ کی دو قسمیں ہوں گی۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (53)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
مُتَّكِئِيْنَ عَلٰى فُرُشٍ بَطَـآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْـرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ (54)
ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے کہ جن کا استر مخملی ہوگا اور دونوں باغوں کا میوہ جھک رہا ہوگا۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (55)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فِـيْهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِۙ لَمْ يَطْمِثْـهُنَّ اِنْـسٌ قَبْلَـهُـمْ وَلَا جَآنٌّ (56)
ان میں نیچی نگاہوں والی عورتیں ہوں گی، نہ تو انہیں ان سے پہلے کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے چھوا ہوگا۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (57)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ (58)
گویا کہ وہ یاقوت اور مونگا ہیں۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (59)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ (60)
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (61)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّـتَانِ (62)
اور ان دو کے علاوہ اور دو باغ ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (63)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
مُدْهَآمَّـتَانِ (64)
وہ دونوں بہت ہی سبز ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (65)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فِـيْهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ (66)
ان دونوں میں دو چشمے ابلتے ہوئے ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (67)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فِـيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ (68)
ان دونوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (69)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
فِـيْهِنَّ خَيْـرَاتٌ حِسَانٌ (70)
ان میں نیک خوبصورت عورتیں ہوں گی۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (71)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِى الْخِيَامِ (72)
وہ حوریں جو خیموں میں بند ہوں گی۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (73)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
لَمْ يَطْمِثْـهُنَّ اِنْـسٌ قَبْلَـهُـمْ وَلَا جَآنٌّ (74)
نہ انہیں ان سے پہلے کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے چھوا ہوگا۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (75)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
مُتَّكِئِيْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ (76)
قالینوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو سبز اور نہایت قیمتی نفیس ہوں گے۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ (77)
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِى الْجَلَالِ وَالْاِكْـرَامِ (78)
آپ کے رب کا نام با برکت ہے جو بڑی شان اور عظمت والا ہے۔
صبح صادق کا دن اطلوع ہوچکا تھا ایسے میں موحد سورہ رحمان ترجمے کے ساتھ عروسہ کو پڑھ کے بتایا تھا تاکہ اُس کو معلوم ہو اللہ کی ہمارے اُپر کتنی نعمتیں ہیں ہم ان کی کس کس نعمت کی ناشکری کریں گے اِس لیے روزانہ صبح وہ اُس کو سورہ رحمان پڑھ کر سناتا جب کے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت وہ ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر سناتا تھا۔
آپ کی آواز بہت پیاری ہے بھائی آپ کو چاہیے پاس والی مسجد میں آذان دے۔ عروسہ جو تلاوت سننے میں پوری طرح مگن تھی موحد خاموش ہوا تو اُس کا طلسم ٹوٹا جبھی وہ بولی۔
ہم اللہ کے اتنے نیک بندے بھی نہیں۔موحد نے مسکراکر کہا۔
کون کتنا نیک ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے فلحال ناشتہ تیار ہے کرلوں۔صائمہ باہر صحن میں اُن کے پاس آتی بولی۔
بھائی آج میں اسکول آپ کے ساتھ بائیک پہ چلوں گی۔ عروسہ اٹھتی ہوئی بولی
ٹھیک ہے پھر جلدی تیار ہوجانا۔ موحد نے کہا۔
لاوٴ میں قرآن پاک کو جگہ پہ رکھتی ہوں۔ صائمہ نے موحد کے دونوں ہاتھوں میں قرآن پکڑے دیکھا تو کہا جہاں وہ اب عقیدت سے قرآن کو آنکھوں سے لگارہا تھا۔
آپ کا وضو نہیں ہوا۔موحد نے مسکراکر کہا صائمہ نے اپنے ماتھے پہ چپت لگائی
سوری۔ صائمہ نے کہا موحد سرہلاتا گھر کے اندر کی طرف بڑھا۔






کشف گھور کے ہاتھ میں پکڑے پراٹھے کو دیکھ رہی تھی جو بہت گول تھا تیل اتنا ڈالا تھا گیا تھا جہاں اُس نے ہاتھ میں پکڑا ہے تو ٹپک ٹپک کر پلیٹ میں گِررہا تھا۔
مجھے نہیں لگتا یہ کھانے کے بعد مہینہ بھر ہمیؑ کجھ اور کھانے کی ضرورت پڑے گی۔ حیا جو اُس کے ساتھ بیٹھی والی کرسی پہ بیٹھی تھی اپنی پلیٹ میں موجود پراٹھے کو دیکھ کر بولی۔
مجھے تو متلی سی ہو رہی ہے اِس کو دیکھ کر۔ کشف منہ کے زاویے بناکر بولی۔
پراٹھے کو تم نے خود منہ میں ڈالنا ہے پراٹھا خود بخود تمہارے منہ میں نہیں جائے گا۔اماں رخصانہ نے گھور کر کہا۔
میں صبح کو بس باؤل انڈہ کھاتی ہوں ساتھ جوس یہ مجھ سے نہیں کھایا جائے گا۔کشف نے پراٹھا پلیٹ میں رکھ کر کہا
بیٹی کھانا تو پڑے گا۔اماں رخصانہ حکیمہ انداز میں بولی۔
ڈیڈ آپ ان سے کہے نہ زیادہ آؤلی چیزیں صحت کے لیے ٹھیک نہیں۔کشف کو کوئی راہِ فرار نظر نہ آئی تو واحب احمد کو بیچ میں گھسیٹا۔
اگر تم بیچ میں آئے تو ایسے چار پراٹھے کھانے پڑے گے۔واحب احمد اپنی بیٹی کی حالت پہ ترس کھاکر کجھ کہنے والے تھے جب اماں رخصانہ نے پہلے وارن کیا اُن کی بات پہ جہاں سب نے مسکراہٹ چھپائی وہی واحب احمد نے ایسے خود کو لاپرواہ ظاہر کیا جیسے انہوں نے کشف کی بات سنی ہی نہ ہو کشف تو بس ان کی بے نیازی پہ عش عش کر اُٹھی ناچار پھر دونوں کو بقول اماں رخصانہ کے دیسی تیل سے بنا ہوا پراٹھا کھانا پڑا۔
ٹیسٹ کیسا تھا پراٹھے کا؟ منہا نے شرارت سے دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا جو کمرے میں آتی بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی۔
جاننے کا اتنا شوق ہے تو کھاکر دیکھتی۔ کشف نے طنزیہ کہا۔
وہ اسپیشلی تم دونوں کے لیے تھا بھلا میں کیسے تم دونوں کی حق تلفی کرتی۔ منہا نے مزے سے بتایا دونوں کم ہی اُس کے ہاتھ آتی تھی ورنہ اکثر تو وہ دونوں اُس کے ناک میں دم کرکے رکھتی تھی۔
شکریہ بڑائے مہربانی اب خاموشی اختیار کریں۔ حیا نے بے زار شکل بناکر کہا۔
اچھا مذاق کررہی تھی میں تم دونوں کے لیے گرین ٹی یا حاج مولا لیکر آتی ہوں۔ منہا نے اب کی سنجیدہ ہوکر کہا اُس کو پتا تھا دونوں نے پہلی دفع اتنا ہیوی ناشتہ کیا تھا دونوں بہت ڈائیٹ کونشیئس تھیں جس وجہ سے ہلکہ پُھلکہ ہی کھاتی تھی اب ان کا ہاضمہ بھی مشکل سے ہوتا تبھی کہا۔
پلیز یہ مہربانی کردو۔ کشف نے فورن سے کہا منہا سر کو جنبش دیتی باہر چلی گئ۔
کش اگر ایک مہینہ یہی چلتا رہا تو ہماری فگر خراب ہوجائے گی۔ حیا اس کی طرف چہرہ کرکے بولی۔
میں تو جم جوائن کرنے کا سوچ رہی ہوں اپنی ڈائیٹ پہ نو کمپرومائز۔کشف نے اپنا پلان بتایا جس سے حیا بھی متفق ہوئی۔





میں ایک ڈیل کے سلسلے میں لاہور جارہا ہوں سوچا تمہیں بتادوں۔دوسرے دن حیا جب حمزہ سے ملی تو اُس نے بتایا۔
کتنے دنوں کے لیے؟حیا نے پوچھا۔
ون ویک یا ون منتھ۔ حمزہ نے پرسوچ انداز میں بتایا۔
اتنا وقت کیوں؟
اور بھی ڈیلرز سے ہیں جن سے میرا ملنا ضروری ہے ان کاموں میں اتنا وقت تو لگ جائے گا۔ حمزہ نے اُس کے پوچھنے پہ بتایا۔
ابھی تو جان چھوٹی تھی میری اب پھر سے تم سیر سپاٹوں پہ نکلے ہو۔ حیا نے تاسف سے کہا
یہ میرا کام ہے حیا بزنس میں جانا پڑتا ہے شادی کے بعد تو تم ساتھ چلو گی یہ دوریاں تو بس اب چند وقت کے لیے ہے۔ حمزہ نے اُس کو اپنے ساتھ لگاکر کہا۔
ٹھیک ہے پر بات کرتے رہنا۔ حیا نے کہا
وہ تو کروں گا۔ حمزہ اس کا گال سہلاکر بولا
اماں رخصانہ بڑا ظلم کرتی ہے۔ حیا اس کی شرٹ کے بٹن پہ ہاتھ پھیر کر بولی
ہاہاہا کبھی کبھی تو آتی ہیں وہ۔ حمزہ نے ہنس کر کہا
تم ملنے آؤں گے ان سے؟حیا نے مسکراکر پوچھا
کوشش کرسکتا ہوں شیور نہیں ہوں کیونکہ میری روٹین اب بزی ہوچکی ہے تمہیں ہی مشکل سے وقت دے پاتا ہوں۔حمزہ نے صاف گوئی سے کہا۔
تمہاری مرضی زور زبرستی تھورئی ہے۔ حیا نے اپنا سر حمزہ کے سینے پہ رکھ کر کہا حمزہ نے مسکراکر اس کے گرد اپنا حصار باندھا۔





یہ میرے کجھ کپڑے ہیں ان کو اچھے سے استری کرنا ایک شکن نہ ہو۔ اماں رخصانہ نے اپنے دو جوڑے کشف کی طرف بڑھا کر کہا۔
میں نوشین سے کہتی ہوں۔کشف نے کہا
میں نے تم سے کہا ملازمہ سے کہنے کا نہیں۔اماں رخصانہ نے کہا۔
میں؟کشف نے اپنی طرف اشارہ کیے کہا
اور کوئی ہے یہاں۔ انہوں نے اُلٹا اُس سے سوال کیا۔
نہیں میں ہوں میں ہی کروں گی پھر۔ کشف منہ کے زاویے بگاڑتی بولی۔
شاباش اب جاوٴ۔اماں رخصانہ نے کہا کشف تین چار جوڑے لیکر آئرن اسٹینڈ کی جانب آئی۔
ہائے میری کمر۔ پانچ منٹ میں اُس نے ایک جوڑا استری کیا تو اپنی کمر میں درد محسوس ہونے لگا۔
ہائے میری ٹانگیں۔کشف اپنے آپ کو دیکھ کر دوہائی دیتی بولی۔
یہاں چیئر کیوں موجود نہیں لازمی میں ہے انسان کھڑے ہوکر کپڑے استری کریں بیٹھ کر آرام سے بھی تو کرسکتا ہے۔ کشف استری کرتی ساتھ میں خود سے باتیں کرنے لگی۔
یااللہ تیرا شکر۔ استری سے فارغ ہوکر کشف شکرادا کرتی اماں رخصانہ کے کمرے کی طرف آئی جو اُس کے انتظار میں تھی۔
کرلیے میں نے۔ کشف نے فخریہ بتایا۔
مبارک ہو اب اِن کو ترتیب سے الماری میں سیٹ کرو۔ ان کی بات سن کر کشف نے ویسا ہی کیا۔





زندگی آزمائش کا دوسرا نام ہے یہاں ہر بار وہ نہیں ہوتا جو انسان چاہتا ہے ہر کوئی آپ کی قسمت میں نہیں ہوتا اور نہ ہر کوئی مقدر کا سکندر ہر انسان سب کجھ پانے کے بعد بھی ادھورا ہوتا ہے کیونکہ بعض دفع ان کے پاس ایک ایسی چیز نہیں ہوتی جو بعد میں ان کی حسرت بن جاتی ہے موحد کا حال بھی کجھ انہی لوگوں میں شُمار تھا جس نے ہر چیز پہ تو صبر وشکر کا مظاہرہ کیا تھا پر اِس بار زندگی نے ایسا موڑ لیا تھا جس پہ اُس کا دل خودغرض بننے کو چاہ رہا تھا اپنے دل کی آواز پہ لیبک پڑھنے کی جی چاہ رہا تھا پر وہ بس چاہ سکتا تھا اصل میں نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا جو وہ چاہنے لگا ہے سوائے اس میں خسارے کے اور کجھ نہیں اپنے دل کو مار کر جینا جس کو چاہوں اُس سے بے رخی برتنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے یہ کوئی اُس سے پوچھتا۔
مان لوں تمہیں بھی اُس سے محبت ہے۔ موحد آج اپنے دوست سے ملنے آیا تھا جو اُس کے ہر حال سے واقف تھا۔
میرے ماننے سے کیا ہوگا۔ موحد تلخ انداز میں بولا۔
تم جو ہو جیسے ہو وہ تمہارے حال سے واقف اُس کے باوجود بھی تمہیں چاہتی ہے تمہاری محبت کی طلبگار ہے پھر کیوں تم اسے اور خود کو اذیت دے رہے ہو۔ افعان نے سنجیدگی سے کہا
وہ میرے حال سے واقف ہے تنگی کی زندگی کیسے گُزاری جاتی ہے اُس سے ناواقف ہے جب اُس سے واقف ہوجائے گی نہ تو یہ پیار محبت کے داعوے دھرے کے دھرے رہ جائے گے۔ موحد نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا
وفادار شخص ہر حالت میں آپ کے ساتھ رہتا ہے حالات کے مطابق نہیں جس طرح تم مجھے اُس کے بارے میں بتاتے ہو میرا نہیں خیال وہ تمہیں اکیلا چھوڑے گی۔ افعان نے اس کو منانا چاہا۔
تمہاری بات مان بھی لوں میں اس کا ہاتھ تھام بھی لوں تو کیا اس کے گھروالے ایسے لڑکے سے اُس کی شادی کروائے گے جس کے مستقبل کی کوئی گرنٹی نہیں جس کو پہلے اپنی بہنوں کی شادی کروانی ہے۔ موحد نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
ایسا کیوں کہہ رہے ہو تمہارے مستقبل کی گرنٹی نہیں ابھی سے تم پڑھائی کے ساتھ بہت ساری جابز کرتے ہیں پڑھائی کے بعد تمہیں بہت اچھی جابز کی آفرز ہوسکتی ہیں تمہاری قابلیت دیکھ کر۔ افعان نے مسکراکر کہا
یہ سب تب ہوگا جب اسکالرشپ ملے گی دعا کرنا مل جائے امی پریشان ہیں آپی صائمہ کی شادی کو لیکر مجھے کوئی اچھی جاب مل جائے تو امی ان کے جہیز کے سامان تیار کرواسکے۔ موحد پریشانی سے بولا۔
جہیز ایک لعنت ہے اگر جہیز کی لالچ ختم ہوجائے تو کوئی بھی ماں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے پریشان نہ ہو اور نہ ہی بیٹی کی پیدائش پہ ان کے جہیز بنانے کے لیے ہلکان ہونا پڑے۔ افعان گہری سانس لیکر بولا۔
اب کون حلال حرام غلط سہی یا لعنت جیسی چیزوں سے دور رہتا ہے یا ان کا فرق سمجھتا ہے۔موحد آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔
ہمارے معاشرے کی یہی تو بُری بات ہے۔ افعان افسوس سے بولا موحد کجھ بس سانس خارج کرتا رہ گیا۔






منہا آج اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کرنے مال آئی تھی اُس کی فرینڈ رباب مال کے دوسرے ایریا کی طرف گئ تھی وہ اب اکیلی اپنے لیے ڈریس لینے کا سوچتی لیڈیز شاپ کی طرف جارہی تھی جب سامنے سے ماہر فون پہ بات کرتا نظر آیا ماہر کو دیکھ کر وہ نظر بچاتی گُزرنا چاہتی تھی پر پاس سے گُزرتے ہی اس کی نازک کلائی ماہر کی گرفت میں آچُکی تھی منہا نے زور سے آنکھین میچ لی ماہر کال سے فارغ ہوتا منہا کی طرف دیکھنے لگا جو پوری لائٹ براوٴن چادر میں چھپی ہوئی تھی۔
مجھ سے بھاگ رہی تھی؟ ماہر نے کلائی آزاد کرتے کہا
میں کیوں آپ سے بھاگوں گی میں تو یہاں شاپنگ کرنے آئی تھی۔ منہا نے جزبز ہوکر بتایا
اچھا کرلی شاپنگ پھر۔ ماہر اس کی معصوم شکل دیکھ کر پوچھنے لگا۔
ابھی کروں گی دوست کے ساتھ آئی ہوں۔ منہا نے جواب دیا۔
گھر آپ میرے ساتھ چلے گی اپنی فرینڈ کو بتادیجئے گا۔ ماہر نے آرام سے کہا
آپ کے ساتھ کیوں؟ منہا گھبراکر بولی
میرے ساتھ کیوں نہیں؟ماہر نے سوال کے بدلے سوال کیا منہا کی پلکیں جھک سی گئ۔
مجھ سے گھبرانا چھوڑ دے میں جتنی آپ سے محبت کرتا ہوں اُس سے زیادہ آپ کی عزت کرتا ہوں۔ ماہر نے ناراض لہجے میں کہا۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ منہا نے منمناکر کہا
پھر کیا مطلب تھا۔ ماہر نے جاننا چاہا۔
ماہر میں آپ کی نہیں پلیز اِس لیے آپ میرے سامنے مت آیا کریں۔ منہا نے پہلی دفع اُس کا نام لیا تھا ماہر ٹرانس کی کیفیت میں منہا کو دیکھتا رہا آج سے پہلے اُس کو اپنا نام اتنا پیارا نہیں لگا جتنا منہا کے منہ سے سن کر لگا اُس کے دل نے خواہش کی منہا بس اُس کا نام لیتی رہے اور وہ پاگلوں کی طرح سنتا رہے۔
آپ ملے یا نہ ملے
یہ میرے
مقدر کی بات ہے مگر
سکون
بہت ملتا ہے آپ کو
اپنا/
سوچ کر
ماہر نے جذب کے عالم میں منہا کو دیکھ کر شعر پڑھا منہا نے نظریں اُٹھا کر ماہر کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اُس کا عکس تھا۔
میں آپ کے جذبات کی قدر کرتی ہوں پر جو آپ چاہتے ہیں میرے لیے ممکن نہیں۔منہا نے کہا
جانتا ہوں میرے لیے اتنا ہی بہت ہے آپ کو میری فیلینگز کی قدر ہے۔ ماہر اُداس مسکراہٹ سے بولا۔
میں اپنی دوست کو میسج کردوں گی آپ جس کام سے آئے تھے وہ کریں تب تک میں اپنی کجھ چیزیں خرید لوں۔ منہا نے بات بدل کر کہا
میرا کوئی کام نہیں میں بس یہاں ایک ماڈل سے ملنے آیا تھا اس سے کجھ باتیں ڈسکس کرنی تھی جو کی ہوگیا آپ اپنی خریداری مکمل کریں اُس کے بعد چلتے ہیں۔ ماہر نے آرام سے کہا منہا سر اثبات میں ہلاتی لیڈیز شاپ کی طرف آئی ماہر بھی اس کی تلقید میں چلتا ہوا پیچھے آیا۔
ایک گھنٹے بعد منہا اپنی شاپنگ سے فارغ ہوئی جس میں زیادہ تر ماہر نے مدد کی تھی شاپنگ کے بعد منہا کو ماہر فوڈ کارنر لیں آیا منہا نے انکار کرنا چاہا تھا پر ماہر نے ایک نہ سنی۔
آپ اپنے لیے کجھ آرڈر کریں۔ ماہر نے مینیو اُس کی طرف بڑھا کر کہا منہا نے اپنا آرڈر بتایا تو سیم ماہر نے بھی وہی آرڈر کیا۔
آپ کو کھانے میں کیا پسند ہیں؟ ماہر نے بات کرنے کے غرض سے پوچھا
چائینز فوڈ۔ منہا نے مسکراکر بتایا۔
نائیس۔ ماہر بھی مسکراہٹ سے بولا۔
آپ کو کیا پسند ہے؟ منہا نے جھجھک کر کہا
مجھے آپ بہت پسند ہیں۔ ماہر نے کھوئے ہوئے انداز میں بولا تو منہا اچانک اظہار پہ گِڑبڑا سی گئ۔
میں کھانے کا پوچھ رہی تھی۔ منہا نے بتایا
کھانا مجھے اسپائسی بہت پسند ہے۔ ماہر خجل ہوتا ہوا بولا۔
چیزیں تیکھی پسند ہیں پر آپ کا مزاج بہت ٹھنڈا ہے۔ منہا نے ہنس کر کہا۔
بلاوجہ غصہ کرنا میری تربیت کا خاصہ نہیں پر جب آجائے تو میرا خود پہ اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ ماہر نے ٹیبل سے ہاتھ ہٹاکر کہا کیونکہ اُن کا آرڈر آچُکا تھا۔
غصہ ویسے بھی حرام ہے انسان غصے میں اپنے آپ میں نہیں رہتا سہی غلط کا فرق بھول جاتا ہے۔ منہا نے سمجھداری سے کہا۔
کوشش کروں گا غصہ نہ کروں۔ ماہر نے کہا
کھانا شروع کریں۔ منہا نے اس کا دھیان کھانے کی طرف کروانا چاہا۔
شیور۔ ماہر ہلکی مسکراہٹ پاس کرتا بولا۔
آج کا میرا دن بہت خوبصورت اور یادگار تھا۔ ماہر اور منہا کھانے سے فارغ ہوتے باہر پارکنگ کی طرف آئے تو ماہر نے اُس کے لیے فرنٹ ڈور کھول کر کہا۔
وجہ؟ منہا اس کی بات کا مطلب سمجھے بنا بولی۔
آپ؟ جواب مختصر سا تھا جسے سننے کے بعد منہا میں ہمت نہ ہوئی کجھ اور بات کرنے کی باقی کا سارا راستہ خاموشی سے کٹا تھا۔






حیا صبح سویر کشف کے کمرے میں آئی تو اُس کو لگا کسی دوزخ میں آگئ ہو اتنا گرم کمرہ محسوس کرکے اس کو حیرانی ہوئی اس نے بیڈ کی طرف دیکھا جہاں کشف پسینے سے شرابور سوئی ہوئی تھی۔
کشف
کشف۔
حیا نے اس کا کندھا جھنجھور کر اُٹھانا چاہا
کیا ہے؟ کشف بے زار ہوکر بولی ایک تو گرمی میں مشکل نیند آئی تھی اُپر سے حیا اس کو جگانے آ پہنچی تھی۔
تمہارے کمرے کا اے سی خراب ہوگیا ہے کیا؟ حیا نے اندازہ لگاکر پوچھا
نہیں لاسٹ ٹائیم ہی تو اے سی بدلوائی تھی۔ کشف نے کہا
تو اے سی کیوں نہیں چل رہا گرمی میں کیسے تم کمرے میں موجود ہو اُپر سے کھڑکیاں بھی بند کررکھی ہے۔ حیا کی نظر کمرے کی بند کھڑکی پہ پڑی تو فورن سے اٹھ کر کھڑکیوں کے پاس آئی۔
اففف پاگل لڑکی جون مہینہ ویسے ہی اتنا گرم ہوتا ہے مرنا ہے کیا تمہیں گرمی میں؟حیا نے تاسف سے کہا۔
نہیں میں نے سوچا اب سے میں سادگی زندگی گُزاروں گی۔ کشف نے بتایا۔
سادگی زندگی جینے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کے انسان گرمی میں سوئے۔ حیا کو اُس کی بات سن کر حیرت ہوئی تو طنزیہ بولی۔
جو بھی پر میں مکمل طور پہ سادہ زندگی جینا چاہتی ہوں۔ کشف نے آرام سے کہا
یہ کوئی تمہارا نیا ایڈوینچر ہے۔ حیا نے پوچھا
نہیں۔ کشف نے گردن کو دائیں بائیں ہلاکر انکار کیا۔
اچھا نہالوں سمیل آرہی ہے تم سے پسینے کی۔ حیا نے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا کشف نے زور سے تکیہ اس کی طرف اُچھالا پھر واشروم کی طرف بڑھ گئ کیونکہ اُس کو خود بھی پسینے کی سمیل آرہی تھی۔ حیا بھی ہنس کر کمرے سے باہر نکل گئ اُس کو گرمی میں پگھلنا جو نہیں تھا پر جاتے وقت اے سی آن کرنا نہیں بھولی تھی۔
کشف ناشتہ کرکے کالج کے لیے روانہ ہوگئ تھی جہاں اُس کو معلوم ہوا کے آج کلاسس نہیں ہوگی ایسے بیزار بیٹھنے کے بعد اُس کے دماغ میں کجھ کلک ہوا تو فورن سے کھڑی ہوتی ڈائیس کے سامنے کھڑی ہوئی۔
اٹینشن پلیز۔ کشف نے کہا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئے سوائے موحد کے۔
جیسا کے آج ہماری کوئی کلاسس نہیں تو کیوں نہ ہم گیم کھیلے۔کشف نے کہا تو سب یس یس کے نعرے لگانے لگے۔
گیم ہوگی کیا؟ ایک کلاس فیلو نے کہا
گیم کجھ یوں ہوگی کے ہم پرچیاں بنائے گے پھر اُس میں جو لکھا ہوگا جس کے ہاتھ میں جو پرچی آئے گی اُس کو وہ کام کرنا ہوگا پر گیم میں نو چیٹنگ۔ کشف نے مسکراکر گیم کا بتایا تو سب متفق ہوئے موحد جانے لیے کھڑا ہوا تو کشف فورن سے بول پڑی۔
جس کو گیم پہ اعتراض ہے وہ نہیں گیم کھیلنا چاہتا پھر بھی اس کو یہاں موجود ہونا ہوگا ساجد تم دروازے پہ کھڑے ہوجائے کسی کو بھی باہر جانے نہیں دینا۔ کشف نے اپنی بات کہہ کر کلاس فیلو کو مخاطب کیا تو وہ دروازے کے پاس کھڑا ہوا۔ موحد بھی ناچار بیٹھ گیا۔
تو ہم پرچیاں بنانا شروع کرتے اگر کوئی اپنی طرف سے ایڈ کرنا چاہتا ہے تو ضرور بتائے۔ کشف نے مسکراکر کہا پھر سب پرچیاں بنانے لگے جو کی تیس کے درمیان تھی جن میں کجھ خالی تھی۔
پرچیاں بنانے کے بعد اس کو گھما کر ٹیبل پہ رکھ دیا تو سب نے کھول کر دیکھا۔
اب ہر کوئی اپنی پرچی میں لکھا ہوا بتائے میری تو خالی ہے۔ کشف نے ہاتھ کھڑے کیے۔
اپنی دوست کو تھپڑ مارو
کوئی ایسی بات جس کا ڈر ہو
زندگی کیا ہے
اپنے کرش کو اے لو یو کہنا۔
ایک کے بعد ایک سب بتاتے گئے تو پہلے کشف نے اپنی کلاس فیلو صدف سے کہا جس کو اپنی دوست کو تھپڑ مارنا تھا۔
یار سوری ناراض مت ہونا۔ صدف اپنی دوست سے کہتی اس کے گال پہ تھپڑ جڑدیا جس پہ سب کے قہقہقہ گونج اُٹھے موحد نفی میں سرہلانے لگا۔ صدف تھپڑ مارنے کے بعد اپنے کان پکڑتی دوست کو گلے سے لگا لیا۔ سب نے پرچی کے مطابق کیا تو گیم دوبارہ شروع کی۔
کشف نے اپنی پرچی پہ لکھا ہوا پڑھا تو زور سے آنکھیں میچ کر لب دانتوں تلے دبائے۔
تمہارا کیا آیا ہے؟ طاہرہ نے تجسس سے پوچھا
جس سے پیار ہے اُس کے لیے شعر پڑھو۔ کشف نے موحد کی طرف دیکھ کر کہا موحد خود پہ اُس کی نظریں محسوس کرتا انجان بنا بیٹھا۔
تو پھر ریڈی ہوجائے۔پوری کلاس نے شور مچایا تو کشف نے گلا کھنکارہ۔
پلیز خاموش ہوجائے تاکہ میں شعر عرض کروں۔ کشف کی بات پہ پوری کلاس میں سناٹا چھاگیا۔
میں ناواقف تھی محبت کے احساس سے
میں ناواقف تھی محبت کے احساس سے
ایک شخص ملا اور مجھے عشق کی آگ سے
روشناس کروا گیا۔
کشف ایک ایک لفظ ادا کرتی موحد کو دیکھنے لگی جو بے نیاز سا بیٹھا تھا باقی پوری کلاس نے زور سے تالیاں بجائی۔







تم سمجھ کیوں نہیں رہے سعید تمہیں پروپرٹی سے عاق کردے گے۔ ہما بیگم نے پریشان کن انداز میں نعیم سے کہا
موم آپ ڈیڈ کو سمجھ جائے زمانہ بدل چُکا ہے بچپن میں بنائے گئے رشتے کامیاب نہیں ہوتے۔ نعیم نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
باپ بیٹے کے درمیاں میں تو پس کر رہ گئ ہوں میری بات سنو نعیم ایک دفع پاکستان آجاؤ تمہیں پتا تو ہے حمزہ حیا کو چاہتا ہے اگر تم نے انکار کیا تو وہ بھی انکار کردیں گے۔ہما بیگم نے سلجھے ہوئے انداز میں کہا۔
حمزہ اپنی چیزوں کے لیے کتنا جنونی ہے آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں حمزہ نے ضرور کجھ سوچ لیا ہوگا ورنہ اِس وقت کالز پہ کالز آپ نہیں وہ کررہا ہوتا۔نعیم حمزہ کی رگ رگ سے واقف تھا تبھی بولا۔
مسئلاً کیا کیا ہوگا اُس نے؟ہما بیگم ٹھٹک کر پوچھنے لگی۔
وہ تو مجھے نہیں پتا پر حمزہ کو پتا ہے میں انکار کروں گا دوسرا یہ بھی کے ایسے میں اُس کو حیا کا رشتہ نہیں ملے گا تو سوچ تو لیا ہوگا نہ اُس نے ایسے سکون سے لاہور میں نہ ہوتا۔نعیم نے کہا
فلحال تم پاکستان کی فلائٹ پکڑو شادی کے بعد پھر منہا کو ساتھ لیں جانا۔ہما بیگم نے کہا
منہا میرے معیار کی نہیں۔نعیم نے عدم دلچسپی دیکھائی۔
تمہارے معیار پہ کون اُترتا ہے وہ بھی مجھے اچھے سے پتا ہے اِس لیے چاہتے ہو اگر کے جائداد سے عاق نہ کیا جائے تو پاکستان آنے کی تیاری کرو ورنہ بھول جاؤ سعید تمہیں پھوٹی کوڑی بھی دے گے۔ہما بیگم نے کہہ کر فون بند کیا دوسری طرف نعیم بہت کجھ سوچنے پہ مجبور ہوگیا۔






ان سے کے فائنل ایکزام شروع ہوچکے تھے جس وجہ سے سب اپنی پڑھائی میں مصروف تھے ان دنوں میں اماں رخصانہ بھی واپس چلی گئ تھی جس پہ حیا اور کشف نے دس دس شکرانے کے نفل ادا کیے تھے۔
تمہارا آج کا پیپر کیسا رہا؟ حیا نے پاپ کارن کھاتی کشف سے پوچھا
سہی تھا بس تم دعا کرو۔ کشف نے آرام سے کہا
میرا تو زبردست تھا۔ حیا نے مزے سے کہا
ہمم اگر تیاری کروانے والا حمزہ ہو تو پیپر زبردست ہی ہوگا۔ کشف نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
آہستہ بولو۔حیا نے اس کے بازوں پہ چٹکی کاٹ کر کہا۔
بہت ہی کوئی مین ہو۔ کشف اپنا بازوں سہلاتی گھور کر بولی۔
منہا کہاں ہیں؟ حیا اُس کی بات نظرانداز کرتی بولی۔
تمہاری بہن ہے تمہیں پتا ہوگا۔ کشف زچ ہوتی بولی۔
مرو تم یہاں۔حیا کی فون پہ حمزہ کی کال آنے لگی تو اُس نے کشف سے یہ کہہ کر کمرے کی طرف آئی کمرے کا دروازہ لاک کرتی وہ آرام سے کشن گود میں رکھتی حمزہ کی کال اٹینڈ کرگئ۔
اتنی دیر کال اُٹھانے میں۔حیا نے جیسے ہی فون کان پہ رکھا اسپیکر پہ حمزہ کی خفگی بھری آواز اُبھری۔
دوسری بیل پہ تو ریسیو کرلی نہ۔ حیا نے مسکراکر کہا۔
مہربانی آپ کی۔ حمزہ طنزیہ بولا۔
چھوڑو اب یہ بتاؤ کب واپس آرہے ہو؟حیا نے بے چینی سے پوچھا۔
رات کو آؤں گا۔حمزہ نے بتایا تو حیا خوش ہوگئ۔
سچی۔حیا چہک کر بولی۔
یس میری جان اور دو دن بعد تمہارا لاسٹ پیپر ہے تیسرے دن پہ میری برتھ ڈے تو میں چاہتا ہوں میری سالگرہ کے دن سارا وقت تم میرے ساتھ رہو۔حمزہ کی بات پہ حیا پریشان ہوگئ۔
حمزہ سارا دن کیسے تمہارا برتھ سلیبریٹ کرنے کے بعد میں گھر واپس آؤں گی ورنہ امی سے کیا کہوں گی۔حیا نے اپنا مسئلا بتایا۔
حیا تم یہ کہنا اپنی دوست کے ساتھ ہو ویسے بھی میں اب تمہارا محرم ہوں۔حمزہ نے آرام سے حل پیش کیا۔
پھر بھی۔حیا کو سمجھ نہیں آیا حمزہ کو کیسے منائے۔
نو آرگیومنٹ حیا تم نے آنا ہوگا میں نے سارا سیٹ اپ کرلیا ہے۔ حمزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
اچھا اور کون کون ہوگا سیٹ اپ کہاں کیا ہے؟ حیا نے گہری سانس لیکر پوچھا وہ سمجھ گئ حمزہ اس کی بات ماننے کے موڈ میں نہیں۔
میں اور تم ہوگے باقی سیٹ اپ میں نے فام ہاؤس میں کیا ہے۔ حمزہ نے مسکراکر کہا۔
بس ہم دونوں؟ حیا حیران ہوئی۔
بلکل کیونکہ میں اپنی زندگی کا خاص دن خاص انسان کے یادگار بنانا چاہتا ہوں۔ حمزہ نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
اوکے دین میں کوشش کروں گی جلد تمہارے پاس آجاؤں۔حیا نے کہا۔
مجھے انتظار ہے اب تو۔حمزہ نے آنکھیں بند کرکے کہا۔





ایکزام کے بعد چھٹیوں میں تمہیں بہت یاد کروں گی۔ کشف نے کالج میں درخت سے ٹیک لگائے موحد سے کہا۔
بہت فضول وقت جو ہے۔ موحد نے بنا دیکھ کر کہا۔
بہت پیار جو ہے تم سے۔
صرف وقت کا ضائع ہے۔ موحد نے سپاٹ انداز میں کہا۔
تمہیں میرا ہونا ہے موحد تم اندازہ نہیں لگا سکتے کتنی محبت کرتی ہوں میں تم سے۔ کشف نے بے بسی سے کہا موحد کی بے رخی اُس کا دل چیر رہی تھی۔
مجھے اندازہ لگانا بھی نہیں ہے کشف مرزا پلیز میری جان چھوڑ دو۔ موجد نے ہاتھ جوڑ کر کہا
میرے بس میں نہیں موحد اگر ہوتا تو اپنے جذبات کو تمہارے سامنے بے مول نہ کرتی اپنی عزت نفس اپنی انا کو مار کر تمہارے سامنے بے باکی سے ہر وقت اپنی محبت کا اظہار نہ کررہی ہوتی یہ میری محبت ہے جو مجھے ہر چیز کروانے پہ مجبور کررہی ہے۔ کشف نے زخمی مسکراہٹ سے کہا۔
میں ایک سیراب ہوں۔ موحد نے بس اتنا کہا۔
تم میری منزل ہو۔ کشف پُریقین ہوکر بولی۔
