Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 02)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 02)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
رات کا وقت تھا جب سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے کشف بھی اپنے کمرے میں بیڈ پہ بیٹھی موحد کے بارے میں سوچ رہی تھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
محبت ملی تو نیند بھی اپنی نہ رہی فراز
گمنام زندگی تھی کتنا سکون تھا۔
بالوں کی لٹ کو گھماتی کشف نے زِیر لب شعر پڑھا۔
پر میری محبت ابھی کہاں مجھے ملی ہے۔کشف نے دُکھ سے سوچا۔
موحد ائے لو یو الوٹ اور میں تمہیں پاکر ہی رہوں گی میں نہیں جانتی ایسی کونسی چیز ہے جو تمہیں میرے پاس آنے سے روکتی ہے پر کشف کو اپنے راستے میں آنے والا کانٹا ہٹانا جانتی ہے موحد کو بس کشف کا ہونے کا ہے آج تو نہیں تو کل جتنا وقت گُزر جائے موحد کو بس کشف کا ہونا ہے۔کشف تصور میں موحد سے مخاطب ہوتی آنکھیں موند لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُڈ مارننگ ایوری ون۔صبح ہوتے ہی کشف ہال میں آتی سب سے بولی پھر آخر میں واحب صاحب کے پاس آئی جو اخبار پڑھنے میں مصروف تھے۔
کیسی ہے میری جان۔واحب صاحب کشف کو دیکھ کر محبت سے پوچھنے لگی۔
ٹوٹلی فٹ آپ کے سامنے۔کشف نے مسکراکر اپنی طرف اشارہ کیا
پڑھائی کسی جارہی ہے کالج میں کوئی پروبلم ہو تو بتانا مجھے واحب احمد کی بیٹی ہو تم۔واحب صاحب نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولے۔
ڈونٹ وری ڈیڈ آپ شاید بھول رہے ہیں کشف مرزا سے پروبلم بھی ڈرتی ہیں۔کشف نے گردن اکڑاکر کہا تو واحب صاحب ہنس پڑے۔
رخصانہ اماں کا فون آیا تھا کجھ دنوں میں ہمارے پاس آرہی ہیں۔سومل ان کے پاس آتی بولی رخصانہ اماں کا نام سنتے کشف کے چہرے کا رنگ اُڑا تھا جو آتی تو مہینہ بھر کے لیے تھی مگر ان دونوں یعنی حیا اور کشف کو تگنی کا ناچ نچاتی تھی ملازموں کے ہوتے ان سے کام کرواتی تھی جس سے وہ بس ان کے جانے کی دعائیں کرتی تھی رخصانہ اماں ثاقب مرزا کے دور کی رشتیدار تھی۔
ارے وہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے اِس بار سالوں بعد چکر لگایا ہے انہوں نے۔رخشندہ بیگم خوشگوار حیرت سے بولی۔
خاک اچھی بات ہے۔کشف منہ میں بڑبڑائی جو خود کے علاوہ کسی نے نہیں سنا۔
ہاں اچھا ہیں آجائے ان نکمیوں کو بھی کجھ سیکھنے کو ملے گا۔سومل بیگم نے کشف کی طرف اشارہ کیے کہا۔
آپ کے سامنے آپ کی بیوی آپ کی اکلوتی بیٹی کو نکمی بول رہی ہے آپ کجھ کہے گے نہیں اِس بارے میں؟کشف اپنی آنکھیں پھیلاکر واحب صاحب سے بولی جو کشف کی بات سن کر چہرے پہ مصنوعی غصہ کے تاثرات چہرے پہ سجائے سومل بیگم کو دیکھ رہے تھے۔
شروع ہوگیا اس کا ڈرامہ۔سومل بیگم نفی میں سرہلاتی بولی۔
بیگم آرام سے ہماری بیٹی سے زیادہ اِس خاندان میں کوئی ہوشیار عقلمند نہیں۔واحب صاحب نے کشف کو اپنے ساتھ لگاکر کہا کشف گردن اوپر کر بیٹھ گئ۔
ایسے اور ہوشیار عقلمند پیدا ہوجائے خاندان میں تو کیا ہی بات ہے۔سومل بیگم طنزیہ بولی۔
بیبی جی ناشتہ ٹیبل پہ لگ گیا ہے۔کشف کجھ کہنے والی تھی مگر ملازمہ نے آکر ناشتے کی اطلاع کی۔
میں حیا اور منہا کو بلاتی ہوں۔کشف کھڑی ہوتی بولی۔
حیا جلدی سے ناشتہ کرو پھر ایک دھماکیدار خبر سنانی ہے۔کشف دھڑام سے دروازہ کھولتی حیا سے بولی جو بیڈ پہ اپنا موبائل یوز کررہی تھی۔
پہلے دھماکیدار خبر بتاو ورنہ ناشتہ کھایا نہیں جائے گا۔حیا موبائل سائیڈ پہ کرتی متجسس ہوکر بولی۔
ابھی تو کجھ کھایا جائے گا اگر پہلے بتادیا تو وہ ایک دو نوالے بھی بامشکل نگل سکوں گی۔کشف نے مزے سے بتایا۔
ایسا کیا پھر پہلے ناشتہ کرتی ہوں کیونکہ مجھے زوروشور کی بھوک لگی ہے۔حیا بیڈ سے اُتر کر بولی۔
گُڈ فار یو۔کشف کہتی منہا کے کمرے میں آئی۔
تمہیں لیا او سی ڈی ہے کیا؟ کشف نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
اللہ خیر کیوں۔ منہا جو بیڈ شیٹ درست کررہی تھی کشف کی بات پہ بول پڑی۔
جب دیکھو کوئی نہ کوئی صفائی کرتی رہتی ہو۔ کشف اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولی۔
اپنے کمرے میں صفائی کرنے میں کیا حرج ہے ویسے بھی انسان جہاں رہتا اُس جگہ کی صفائی کرنی چاہیے۔ منہا نے آرام سے جواب دیا
ملازم ہیں وہ یہ کام کرسکتے ہیں۔ کشف نے کہا
میں بھی تو کرسکتی ہوں اگر ملازم ہیں تو ضروری نہیں ہم تھوڑا تھوڑا کام بھی ان کو بولے۔ منہا نے مسکراکر کہا۔
ناشتہ تیار آگر کرلوں۔ کشف بات بدل کر بولی۔
تم چلو میں آتی ہوں۔ منہا نے کہا کشف ایک نظر اُس کے صاف کمرے میں پہ ڈالی جہاں ہر چیز اپنی جگہ سلیقے سے رکھی ہوئی کمرے پہ نظر ڈال کر وہ باہر نکل گئ۔
ناشتہ سب نے آرام سے کھایا ناشتے کے بعد حیا کشف کا ہاتھ تھامتی کمرے میں لائی تاکہ دھماکیدار نیوز سنے سکے۔
بتاؤ اب کیا بات ہے؟حیا نے سنجیدگی سے پوچھا
سننے کی ہمت ہے؟کشف نے سسپینس پیدا کیا۔
افففف کشف ہمت کو چھوڑو بات کرو۔حیا جھنجھلا کر بولی۔
بات یہ ہے کے اماں رخصانہ آرہی ہے ہمارا خون خشک کرنے۔کشف نے منہ بناکر حیا سے کہا جس کا اُپر کا سانس اُپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔
یہ مزاق تھا۔حیا حیرت میں غلطان ہوتی بولی
کاش میں کہہ سکتی یہ مزاق تھا۔کشف ڈرامائی انداز میں بولی
نہیںںںںں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیا نے باقاعدہ کانوں پہ ہاتھ رکھ زور سے کہا کشف کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے ہوئے۔
میری کانوں کی دشمن اب بس کرو۔ کشف اپنے کان میں انگلیاں ٹھونستی حیا سے بولی۔
یار کشف پچھلی بار کیسے انہوں نے باتھروم کی صفائی کروائی تھی ہم سے۔ حیا رونے والی ہوکر بولی۔
باتھروم کی کیا کمرے کا فرش کیسے دُھلوایا تھا ہم سے۔ کشف پریشانی سے بولی۔
ہاں نہ اِس بار پتا نہیں کیا کہے گی اب تم ہم بڑی ہوگئ ہیں تب تو چھوٹی تھی ان کو رحم نہ آیا۔ حیا انگلی دانتوں تلے دباکر بولی۔
بس اللہ سے دعا کرو۔ کشف ہاتھ آسمان کی جانب کرکے بولی تو حیا سرہلاتی اس کی بات پہ عمل کرنے لگی۔
یااللہ اماں رخصانہ جس فلائٹ میں آئے وہ فلائٹ مس ہوجائے۔
آمین۔ کشف کی دعا پہ حیا نے فورن سے کہا
یااللہ اگر وہ بائے روڈ آئے تو اُن کی گاڑی کا ٹائر پینچر ہوجائے۔
آمیں اِس بار کشف نے آمین کہا۔
یااللہ ان کے دل میں ہمارے لیے رحم فرما۔
آمین۔ حیا نے جلدی سے کہا
یااللہ کجھ ایسا کردیں کے ہم ان کو نظر نہ آئے۔
آمین۔ کشف آنکھیں زور سے میچ کر بولی۔
یااللہ
بس کرو اب۔ منہا جو کب سے مسکراہٹ ضبط کرتی ان کی دعائیں سن رہی تھی ان کی دعاؤں کی لسٹ تویل دیکھی تو ٹوکا۔
کیا بس کرو تم سے وہ کام کروائے تو میں پوچھو۔ کشف منہ کے زاویے بگاڑ کر بولی
اور نہیں تو اُن کی نظر میں تو یہ سلیقہ شعار ہے۔ حیا ناک چڑھاکر بولی۔
فضول میں مت ڈرو اور تمہارے بھلے کے لیے کرتی ہیں۔ منہا نے آرام سے کہا
کیسا بھلا ان کے بھلے کے چکر میں ہماری کمر ہماری ٹانگیں درد کرجاتی ہیں۔ کشف نے فورن سے کہا
درد بھی وہ جو ہفتے سے زیادہ عرصہ چلے۔ حیا نے جلدی سے کہا کشف نے فورن سے تائید میں سرہلایا۔
تم دونوں سے بحث کرنا فضول ہے جاؤ جاکر اپنے کالج یونی جانے کی تیاری کرو۔منہا نفی میں سرہلاتی بولی۔
اوو ہاں مجھے اسائمنٹ جمع کروانا تھا۔حیا سر پہ ہاتھ مارتی واشروم کی طرف بھاگی۔کشف بھی اپنے کمرے کی طرف چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی صاحب سے بات کریں کب آرہا ہے نعیم پاکستان۔ رخشندہ بیگم نور احمد صاحب سے بولی۔
ہمم ان کی طرف سے گہری خاموشی ہے جس سے مجھے خود خدشہ ہے میں بات کرکے دیکھتا ہوں۔ نور احمد صاحب نے کہا
ان کو بتادیجئے گا خاندان میں کیا اہمیت ہے منگنی کی منہا کا نام نعیم کے ساتھ منسوب ہوچکا ہے اگر وہ پِھرنے کی کوشش کریں تو ایسا مت کرنے دیجئے گا۔ رخشندہ بیگم سنجیدہ انداز میں گویا ہوئی۔
ایسا کجھ نہیں ہوگا میں کروں گا سعید بھائی سے بات انشااللہ اچھا جواب ملے گا۔ نور احمد صاحب نے کہا
جلد ورنہ وہ حمزہ اور حیا کے رشتہ کا بھی بھول جائے۔ رخشندہ بیگم دو ٹوک انداز میں بولی۔
کسی بدشگنی کی باتیں کررہی ہو کہا نہ میں نے بات کروں بھائی سے بس پھر بات ختم فضول کے خدشات نہ خود سوچو نہ میرے دماغ میں ڈالوں۔ نور احمد صاحب اس بار سخت لہجے میں بولے۔
ماں ہوں جوان بیٹیوں کی آپ کے بھائی کے گھر کے جو رنگ ڈھنگ دیکھنے کو مل رہے ہیں نہ وہ مجھے اچھے خدشات پالنے کی اجازت نہیں دیتے اتنے سال ہوگئے ہیں نعیم ایک بار بھی پاکستان نہیں آیا سنی سنائی باتوں پہ میں یقین نہیں کرتی پر اب وہ باتیں سچ لگنے لگی ہے۔ رخشندہ بیگم نے کہا
مسئلاً کیسی باتیں؟ نور احمد صاحب نے جاننا چاہا۔
خاندان والے باتیں بنارہے ہیں نعیم کو اعتراض ہے منہا کے ساتھ جڑے رشتے میں تبھی پاکستان نہیں آرہا میں نے تب یقین نہیں کیا پر جب ماہر اکیلا پاکستان آیا تو مجھے وہ باتیں سچ لگنے لگی ہے۔ رخشندہ بیگم نے بتایا۔
من گھڑت کہانیاں ہے دو بھائیوں میں درار پیدا کرنے کے لیے رہی بات ماہر کے پاکستان آنے کی تو کونسا وہ دونوں ساتھ گئے تھے جو ہم ساتھ آنے کی توقع کرتے۔ نور احمد صاحب نے کہا۔
مجھے نہیں پتا اب بس بات کرئیے گا۔ رخشندہ بیگم ہاتھ کھڑے کیے بولی سعید مرزا کا الگ اپنا بڑا سا گھر تھا جہاں وہ الگ رہائش پذیر تھے ان کے برعکس احمد نور صاحب اور واحب احمد صاحب ایک ساتھ رہتے تھے بزنس بھی ایک تھا
سعید مرزا کے الگ گھر رہنے پہ دونوں بھائیوں نے اعتراض کیا تھا کے آپ سوتیلے پن کا مظاہرہ کررہے ہیں پر انہوں نے آرام سے سمجھادیا تھا۔






بیچ روڈ پہ گاڑی کے رُکتے ہی حیا گاڑی سے اُتری پھر نظر گھماکر دیکھا تو سائیڈ پہ گاڑی کھڑی تھی جسے دیکھ کر اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی ڈرائیور کو واپس جانے کا کہتی وہ ہیل کی ٹِک ٹِک کرتی دوسری گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئ جہاں حمزہ بلیک جینز پینٹ شرٹ پہنے آنکھوں پہ بلیک گاگلز چڑھائے بیٹھا تھا۔
لُک ویری پریٹی۔ حیا کے بیٹھتے ہی حمزہ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا جس کا چہرہ بلش کرگیا تھا حیا نیلے رنگ کے کُرتے اور جینز میں ملبوس تھی ڈوپٹہ ایک کاندھے پہ تھا جب کی بالوں کا جوڑا بنایا تھا میک اپ کے نام پہ بس گلوکوز لگایا تھا جس سے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی حیا کو میک اپ کا بہت شوق تھا پر حمزہ کو نہیں اِس لیے وہ میک اپ کا استعال نہیں کیا کرتی تھی۔
شکریہ اب گاڑی چلاؤ یونی کے لیٹ ہورہا ہے۔حیا نے مسکراکر کہا
ابھی باتیں کرتے ہیں پھر گھنٹہ بعد چھوڑ آؤں کا یونیورسٹی۔حمزہ اُس کے ہاتھ کی پشت سہلاتا بولا۔
ایسے تو میری فرسٹ کلاس مس ہوجائے گی۔حیا فکرمند ہوکر بولی
کل لیں لینا اگر کجھ سمجھ نہ آئے تو مجھے کال کرنا میں سمجھادوں گا۔حمزہ نے مسئلے کا حل بتایا تو حیا مسکراتی سرہلانے لگی۔
کہیں اور چلتے ہیں نہ ایسے گاڑی میں کیا کریں گے۔حیا نے اُس کو گاڑی چلاتے نہیں دیکھا تو کہا
یہ اچھی جگہ ہے بہت خاموش پرسکون یہاں بس میں اور تم ہیں کوئی تیسرا ہمیں ڈسٹرب کرنے والا نہیں۔حمزہ نے آرام سے کہا
تمہاری بھی مجھے کبھی سمجھ نہیں آتی۔حیا نے کہا
بس اتنا سمجھ لوں حمزہ سعید مرزا تمہیں جنون کی حدتک چاہتا ہے اُس سے الگ ہونے کا سوچنا بھی مت۔حمزہ شدت پسندی سے بولا جس کو محسوس کرتی حیا کو گھبراہٹ ہونے لگی کبھی کبھی وہ ایسے ہی ڈر جایا کرتی وہ جانتی تھی حمزہ اپنی چیزوں کے لیے بہت پوزیسو رہنے والا بندہ ہے اس کے معاملے میں تو جنونی بھی جس سے کبھی کبھی اُس کو خوف آتا تھا آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
تمہاری یہی باتیں مجھے روکتی ہے تم سے ملنے کے لیے۔ حیا نے ونڈو کی طرف منہ کرکے کہا
جب میرے ساتھ ہو تو مجھے دیکھا کرو۔ حمزہ اس کے چہرہ اپنی طرف کرکے کہا۔
تمہیں ہی دیکھتی ہوں پر تمہارے چہرے پہ شدت پسندی مجھے خوف میں مبتلا کرتی ہے۔ حیا نے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر دھیمے لہجے میں کہا۔
میرے اندر وہم ہوتے ہیں تمہارے معاملے میں جس سے انسان پیار کرتا ہے نہ اس کی کھونے کا ڈر ہمیشہ لگا رہتا ہے ایسا ہی ایک خوف میرے اندر کنڈلی مار کر بیٹھا ہے۔ حمزہ نے حیا کا ہاتھ پکڑ کر جو وہ اُس کے چہرے پہ پھیر رہی تھی۔
وہم کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ ایک لاعلاج ہے۔ حیا نے مسکراکر کہا حمزہ مسکراتا اس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ دیکھ رہا تھا۔
تمہاری مسکراہٹ میرے اندر جان ڈالتی ہے۔ حمزہ حیا کا ہاتھ اپنے دل پہ رکھ کر بولا
آج موڈ میں لگ رہے ہو خیر تو ہے نہ؟ حیا اس کے دل کی دھڑکن سن کر نروس ہوتی بولی۔
میرے دل کی آواز کو محسوس کرو جو تمہارا نام لیں رہا ہے۔ حمزہ اس کی بات نظرانداز کرتا بولا۔
حمزہ پلیز ایسی باتیں مت کرو مجھے شرم آرہی ہے۔ حیا اپنا چھڑواتی دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھ کر بولی۔
میری جان تو مجھے دیکھنے ہیں تمہارے چہرے پہ وہ رنگ جن پہ بس میرا حق ہے۔ حمزہ گہری مسکراہٹ سے بولا حیا نے زور سے سر کو نفی میں ہلایا۔
اچھا تو میں بتاتا ہوں میں آج خوش کیوں ہوں۔ حمزہ گہری سانس لیکر بولا
کیا بات ہے؟ حیا چہرے سے ہاتھ ہٹاکر بولی حمزہ نے اپنا ہاتھ حیا کے سامنے پھیلایا تو حیا مسکراتی اس کی چوڑے مضبوط ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
تم نے کہا نہ وہم کا کوئی علاج نہیں تو میں بتاتا چلوں میرے پاس ہے۔ حمزہ اتنا بول کر حیا کو دیکھنے لگا جو غور سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
کونسا علاج؟ حیا نے پوچھا
ہم دونوں کورٹ میں نکاح کریں گے بعد میں بھی تو ہونا ہے پر میں ابھی چاہتا ہوں میرے دل کو سکون مل جائے گا سارے خدشات ختم ہوجائے گے تم میری ہو میں جانتا ہوں پر تب میرے ساتھ پرمینٹلی سرٹیفیکٹ ہوگا ہمارے نزدیک منگنی کی اہمیت بہت ہے نکاح کے برابر ہے پر اسلام میں نہیں میں مکمل طور پہ تمہیں اپنی دسترس میں لینا چاہتا ہوں۔ حمزہ کی بات پہ حیا بے یقین نظروں سے حمزہ کو دیکھا اُس کو ہرگز حمزہ سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی






دل والوں
دل میرا
سننے کو بے قرار
ہے کہوں نہ پیار ہے
کہوں نہ پیار ہے۔
کشف موحد کے پاس آتی خوبصورت آواز میں گانا گانے لگی۔
میں مصروف ہوں اِس لیے ڈسٹرب نہیں کرو۔ موحد نے سنجیدگی سے کہا
ہممم اِس لیے لائبریری میں بیٹھے ہو تاکہ میں تیز آواز میں بات نہ کرسکوں۔ کشف نے سمجھنے والے انداز میں کہا۔
کشف پلیز مجھے تنگ مت کیا کرو جو تم مجھ سے چاہتی ویسا کجھ نہیں ہوسکتا اِس لیے ابھی سے سنبھل جاؤ۔موحد دھیمے مگر سخت لہجے میں بولا۔
میں کیا چاہتی ہوں تم سے زرہ روشنی ڈالنا اِس بات پہ؟کشف نے شرارت سے اُس کی جانب دیکھ کر کہا۔
تمہیں لگتا ہے تم ایسے مجھے خود سے محبت کرنے پہ مجبور کرسکتی ہوں تو تمہاری یہ سب سے بڑی بھول اور وقت کا ضائع ہے بہتر اِس میں ہے کے تم اپنے راستے میرے راستوں سے جوڑنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ میرے ساتھ تمہاری کوئی منزل نہیں بس سفر ہے اور سفر ہے جس کا کوئی ٹھکانہ یا منزل نہیں۔موحد نے سپاٹ انداز میں کہا پر وہ نہیں جانتا تھا سامنے بیٹھی لڑکی جس سفر پہ نکلی تھی اُس کے لیے رُکنا اب ممکن نہیں تھا۔
مجھے میں کیا کمی ہے موحد بہت پیار کرتی ہوں میں تم سے پر تم ہو جس کی نظر میں میری محبت کی کوئی ویلیو ہی نہیں۔کشف رندھی آواز میں بولی اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی جس سے موحد نے اپنی نظریں چُرائی تھی۔
کمی تم میں نہیں ہے کشف میرے ساتھ تمہارا گُزارا نہیں ہوسکتا تھا یہ جو تمہارا موبائل ہے نہ۔ موحد نے ٹیبل پہ اُس کے فون کی طرف اشارہ کرتے کہا
میری بائیک کی قیمت سے ڈبل قیمت ہوگی اِس کی تم محلوں میں رہنے والی ہو ایک جھونپڑی میں تمہارا رہنا ممکن نہیں ایک دن میں اکتا جاؤں گی غلط فیصلے سے بہتر ہے تم ابھی میرا بات سمجھ جاؤں یہ پیار محبت کجھ نہیں ہوتا تمہاری محبت اُس دن کہی نہیں رہے گی جب میری زندگی کا لائیف اسٹائل دیکھو گی جہاں تم ہر چیز کو ترس جاؤں گی اچھے سے کھانا تک نصیب نہیں ہوگا میرے اُپر میری جوان بہنوں کی زمیداریاں ہیں مجھے میری ماں کا سہارا بننا ہے میری زندگی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں اِس لیے بہتر ہے اپنے یا میرے لیے مشکلات کھڑی مت کرو اپنا جیسا کوئی انسان تلاش کرو جو خالی اپنا ساتھ نہیں بلکہ ہر وہ آسائش دے جن کی تم عادی ہو۔ موحد تلخ انداز میں بولتا گیا کشف گنگ سی موحد کی باتیں سن رہی تھی جو بس اسٹیٹس کی وجہ سے اس کے ساتھ کنارہ کررہا تھا۔
موحد تم مجھے جس حال میں رکھوگے میں بنا شکوہ شکایت کیے خوشی خوشی تمہارے ساتھ رہ لوں گی میرے لیے بس تمہارا پاس ہونا تمہارا ساتھ تمہارا نام ہی کافی ہے میں کبھی تمہاری بہنوں اور ماں کے درمیان نہیں آؤں گی کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی تم بس میرا ہاتھ تھام کر تو دیکھو۔کشف اپنے آنسوؤ پیتی موحد کا بازوں تھام کر بولی۔
میں پھر بھی یہی کہوں گا میرے قدم کبھی تمہاری طرف نہیں بڑھ سکتے۔ موحد سنجیدگی سے اپنا بازوں آزاد کرواتا بولا کشف کجھ بولنا چاہتی تھی جس کو اٙن سنا کرتا وہ لائبریری سے نکل گیا کشف نے دور تک اُس کی پشت کو دیکھا تھا۔
میں بھول جاؤں تمہیں اب یہی مناسب ہے
مگر بُھلانا چاہوں بھی تو کیسے بھولوں؟
کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو کوئی خواب نہیں
یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کیا کہوں کمبخت
بُھلانا پایاکہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں !!
وہ ایک خیال جو آواز تک گیا ہی نہیں !!
وہ ایک بات جو میں کہہ نہ سکی تم سے
وہ ایک رابطہ جو ہم میں کبھی رہا نہیں
مجھے یاد ہے سب جو کبھی ہوا ہی نہیں!!!





ہنی گولڈ کلر کے شلوار قمیض پہنے منہا ٹیرس پہ کھڑی چائے سے لطف اندروز ہورہی تھی جب اُس کا سیل فون بج اُٹھا منہا نے ٹیبل سے فون اٹھاکر دیکھا تو ماہر کی کال تھی سوچا کاٹ دے پر اپنے خیال کی نفی کرتی کال پِک کردی۔
اسلام علیکم! !!!منہا نے جیسے کان پہ فون رکھا ماہر کی گھمبیر آواز اسپیکر سے اُبھری۔
وعلیکم اسلام! !!!منہا سلام کا جواب دیتی خاموش ہوگئ۔
کیسی ہو؟ ماہر نے پوچھا
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟ منہا نے اخلاقً حال دریافت کیا۔
آپ نے پوچھ لیا اب کافی بہتر ہوں۔ ماہر نے سکون سے کہا
مجھ سے ایسے بات مت کیا کریں۔ منہا نے گہری سانس بھر کر کہا
تو پھر آپ بتادے کیسے بات کروں۔ ماہر نے مسکراکر پوچھا۔
میں کسی اور کے ساتھ منسوب ہوں آپ کو زیب نہیں دیتا میرے بارے میں ایسے خیالات رکھنے کا۔ منہا نے سنجیدگی سے اُس نے ٹھان لیا تھا وہ اب ماہر سے صاف صاف سے بات کریں گی ماہر پہلے تو نہیں مگر جب سے پاکستان واپس آیا تھا تب سے عجیب برتاؤ رکھنے لگا تھا اُس کی بولتی نگاہوں سے وہ ہمیشہ خائف ہوتی تھی پھر آہستہ آہستہ ماہر ڈھکے چُھپے لفظوں میں اپنے جذبات کے بارے میں آگاہ کرتا گیا جو منہا کو سہی نہیں لگا بچپن سے اُس نے اپنے نام کے ساتھ نعیم کا نام سن لیا تھا رخشندہ بیگم نے اس کے بارہ سال کے ہوتے ہی بتادیا تھا ہمارے خاندان میں منگنی نکاح کے برابر ہے اور اس کی منگنی نعیم کے ساتھ طے ہے لہٰذا وہ یہ بات اپنے دماغ میں نشین کرلیں اور اُس نے کیا بھی یہی تھا بچپن میں نعیم کا روخا انداز دیکھ کر بھی اُس نے اپنا دل نعیم کے لیے کبھی میلا نہیں ہونے دیا خود کو نعیم کی امانت سمجھا اُس کے کینیڈا جانے پہ بھی اُس کو بہت دُکھ ہوا تھا کے ایک بار مل کر جاتا مگر کجھ سال بعد ماہر کا اُس کی زندگی میں ایسے آنا ٹینشن میں مبتلا کرگیا تھا وہ بس اس کو کزن کی طرح دیکھتی اور سمجھتی تھی اُس سے زیادہ نہیں ماہر لاکھ نعیم سے بہتر پر منہا کو پتا تھا ماہر کجھ کہے اُس کی قسمت میں بس نعیم کا ساتھ تھا۔
آپ میری ہیں بس۔ ماہر کے مُسکراتے لب فورن سے سمیٹ گئے تھے۔
آپ جانتے ہیں آج سے نہیں بچپن سے کے میرا نام نعیم کے ساتھ جوڑا گیا ہے پھر بھی آپ ایسے داعوے کررہے ہیں۔ منہا افسوس سے بولی۔
نانا جان نے غلط فیصلہ لیا تھا ان کو اپنا بھتیجا نظر آیا پر اپنا بھانجا نہیں خیر میں پُرانی باتیں نہیں کروں گا نعیم کا کوئی اِرادہ نہیں پاکستان آنے کا میں بات کروں گا موم سے وہ آپ کی اور میرے رشتے کی بات کریں گی۔ ماہر نے سنجیدہ لہجے میں کہا
آپ کو خُدا کا واسطہ ایسا مت کیجئے گا۔ منہا ماہر کے اِرادے جان کر پریشان ہوکر بولی۔
ایسا تو کروں تو کیا آپ کو کسی اور کا ہوتا دیکھو۔ ماہر تلخ انداز میں بولا
بلکل میرے لیے نعیم ضروری ہے آپ نہیں میں نے اپنا نام ہمیشہ نعیم کے ساتھ جڑا سنا ہے میں اب کیسے آپ کے بارے میں سوچوں۔ منہا نے دُکھ سے کہا ماہر کے اندر چھن سے کجھ ٹوٹا تھا۔
ہمارے بڑوں کو ہماری کچی عمر میں بڑی باتیں نہیں ڈالنی چاہیے ضروری نہیں ہوتا جیسا وہ سوچتے ہیں ہمیشہ سہی ہو یا ویسا ہی ہو جیسا وہ چاہ رہے ہو بچپن سے جُڑے رشتے ہمیشہ تکلیف کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ ہر انسان کا اپنا خیال ہوتا ہے اپنے ہمسفر کے طور پہ میں جانتا تھا آپ کا نام کسی اور کے ساتھ منسوب ہے پر میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں سب جانتے ہوئے بھی میرے دل نے آپ کو چُنا آپ کا نام لیا منہا میری زندگی میں آپ بہت ضروری ہوگئ ہے جیسے جینے کے لیے سانس میں آپ کو کسی اور کے ساتھ سوچتا ہوں تو دل بند ہوتا محسوس ہوتا ہے میں جب پاکستان آیا تھا تو میں نے جب آپ کو دیکھا میں تب بھول گیا تھا آپ میری نہیں ہوسکتی پر پھر بھی آپ سے محبت کرنے لگا میرے لیے آپ کی خوشی عزیز ہے میں کبھی آپ کو تکلیف دُکھ نہیں دے سکتا پر آپ کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا عجیب کشمش میں پڑگیا ہوں پر اب جو ہے جو ہوگا میری اپنی تجویز کی ہوگی۔ ماہر عقیدت سے کہتا منہا کے دل کی دھڑکن کو اُتھل پُتھل کرگیا تھا ماہر اپنی ساری بات کیے کال کاٹ چُکا تھا پر منہا ماہر کی باتوں میں جکڑگئ تھی۔







. نیوٹن کے حرکتِ قانون کے دوسرے قانون کے مطابق ، جب ایک قوت کو تیز کیا جاتا ہے تو ایک قوت تیار کی جاتی ہے۔
کلاسیکی میکانکس میں ، نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق ، ہم کہتے ہیں کہ کسی جسم میں بڑے پیمانے پر میٹر ہوتا ہے ، اگر کسی وقت بھی ، وہ حرکت کی مساوات کو مانتا ہے۔
آخری حصے میں رشتہ داری طبیعیات کی توقع ہے کیوں کہ آخری تین ابواب نیوٹن کے حرکت ، مطلق اور رشتہ دار حرکت ، اور ہرٹز کی حرکیات کے قوانین پر غور کرتے ہیں۔
میں ، الیکسس بوورڈ نے یورٹنس کے ,1821مدار کے فلکیاتی جدولوں کو شائع کیا تھا ، جس میں نیوٹن کے تحریک اور گروت کے قوانین کی بنیاد پر مستقبل کی پوزیشنوں کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
نیوٹنین میکانکس کے دائرے میں ، حوالہ کا ایک جڑنا فریم ، یا غیر مبہم حوالہ فریم ، وہی ہے جس میں نیوٹن کا تحریک کا پہلا قانون جائز ہے۔
کہنے کو تو حیا کلاس اٹینڈ کررہی تھی مگر اُس کا دماغ حمزہ کی بات میں اُلجھا ہوا تھا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کریں۔
کن سوچو میں ہو فزکس کی ٹیچر چلی گئ۔ حیا کی دوست نے اس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجاکر کہا تو وہ یکدم ہوش میں آئی۔
میرے سر میں سردردر میں گھر جارہی ہوں۔ حیا اپنا بیگ پکڑتی بولی۔
دو کلاسس مس کرچکی ہو ایک غیردماغی حالت میں لی ہے تمہارا کیا ہوگا جنت نے افسوس کیا۔
وہی جو قبول خُدا کو ہوگا۔ حیا مسکراکر کہتی کلاس سے باہر نکل پڑی۔
گھر آکر وہ سب کو سلام کرتی اپنے کمرے میں بند ہوگئ شام کے وقت وہ باہر نکلی تو سب اپنے کاموں میں مصروف تھے اُس نے کشف سے بات کرنے کا سوچا مگر جب وہ کمرے کے دروازے کے پاس گئ تو اندر سے لاک تھا ایک دو باہر آواز دی کوئی رسپانس نہ ملنے پہ وہ منہا کے کمرے میں گئ اُس کا بھی وہی حال تھا۔
ایسا کیا ہوگیا جو یہ دونوں مایوں میں بیٹھ گئ ہے۔ کافی دیر منہا کو آوازیں دینے کے بعد جب دروازہ نہیں کُھلا تو حیا جھنجھلا کر بولی
رات کے کھانے کے وقت وہ دونوں موجود نہ تھیں حیا بھی زہر مار کر دو تین نوالے لیتی کمرے میں آکر آج کے واقع کے بارے میں سوچنے لگی۔
حیا میری جان چپ کیوں ہو بتاؤ کرو گی نہ مجھ سے نکاح دو تین سال بعد جب بھائی آجائے گے تب بھی تو ہوگا اچھا ہے اگر ہم ابھی کرلیں میں نے کوئی غلط فرمائش تو نہیں کی۔حمزہ حیا کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھامتا نرمی سے بولا۔
حمزہ پر ایسے خوفیہ نکاح کرنا سہی نہیں تم فضول میں وہم پال رہے ہو دو تین سال تم صبر کرو۔حیا نے پریشانی سے کہا۔
حیا میرا دل بے چین رہتا ہے جب تک نکاح نہیں ہوگا مجھے چین نہیں ملے گا۔حمزہ نے کہا
میں سوچ کر بتاؤں گی۔حیا نے ابھی فیصلا کرنا سہی نہیں سمجھا۔
اوکے جب ہاں کرو تو میرے آفس آجانا انکار کرو پھر بھی پر میں ہاں کی توقع کروں گا ورنہ سمجھو گا محبت بس میری طرف سے ہے۔حمزہ نے سنجیدگی سے کہا
حمزہ پلیز تمہیں میرے فیصلا کا احترام کرنا ہوگا۔حیا نے کہا
میں کروں گا حیا ہمیشہ کروں گا پر یہ بات کجھ ایسی ہے کے میں انکار سننا پسند نہیں کروں گا۔حمزہ دو ٹوک بولا۔
میں بتادوں گی۔حیا نے ٹالا۔
حیا آج نہیں تو کل تم نے ہونا میرا ہے یہ بات یاد رکھنا میں کسی خدشے کے تحت یہ کہہ رہا ہوں اُمید ہے تم مایوس نہیں کرو گی۔حمزہ کہہ کر اس کے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب رکھنے چاہے مگر حیا نے گھبراکر اپنا ہاتھ کھینچ لیا حمزہ کو بُرا تو بہت لگا مگر خاموش رہا۔
یونی جارہے ہیں ہم اب تم آرام سے سوچ کر مجھے بتانا محبت کرتی ہو تو یقین بھی ہونا چاہیے۔حمزہ نے کہا
اعتبار یقین ہے مجھے تم پہ۔حیا نے جلدی سے کہا
تمہارے فیصلے سے پتا چل جائے گا میری کیا حیثیت ہے تمہارے دل اور نظروں میں۔حمزہ گاڑی اسٹارٹ کرتا بولا حیا بس خاموشی سے حمزہ کا چہرہ دیکھنے لگی۔
سب کجھ یاد کرنے کے بعد حیا نے گہری سانس لی بالآخر وہ ایک فیصلے پہ پہنچ گئ تھی جس سے اس کے چہرے پہ طمانیت چھاگئ کل اُس پہ عمل کرنے کا سوچتی آرام سے سونے کے لیے لیٹ گئ۔




کشف کو آج موحد کی باتوں نے بہت ہرٹ کیا تھا اس کو یقین نہیں ہورہا تھا محض دونوں کے درمیان ایک اسٹیٹس کی وجہ سے وہ ایسا کہہ رہا تھا بار بار اُس کا دل توڑتا تھا۔
یااللہ موحد کا دل میرے لیے نرم کردے پلیز اُس کے دل میں میرے لیے محبت کا دیپ جلائے اس کو میرا محرم بنادے ہم دونوں کو حلال رشتے میں باندھ پلیز میرے اللہ میری دعا قبول فرمادے اُس کے بعد میں کجھ اور نہیں مانگوں گی۔کشف جائے نماز پہ بیٹھتی روتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی آنسو سے پورا چہرہ نم تھا اِس وقت وہ کہیں سے بھی سارا دن مسکراتی کشف نہیں لگ رہی تھی بلکہ ایک دیوانی لگ رہی تھی موحد کی دیوانی جس کو بس اپنے محبوب کا ساتھ اُس کا پیار اُس کی توجہ چاہیے تھی سارا دن وہ کمرے سے نہیں نکلی تھی اکیلے رہنا چاہتی تھی اس لیے جب حیا نے دروازہ کھولنے کا کہا تھا وہ بہری بن کر بیٹھی رہی اُس کو فلحال تنہائی چاہیے تھی تب وہ ایسی پوزیشن میں بھی نہیں تھی اس کی سوجھی آنکھیں دیکھ کر حیا نے سوالوں کا انبار کھڑا کرنا جو ابھی وہ نہیں دینا چاہتی تھی۔
آپ ہر چیز پہ قادر سب کجھ آپ کے کن کے محتاج ہے میری دعا پہ یااللہ کن فرمائے دے آپ کے کن فیکون سے مجھے بہت حوصلہ ہے پلیز یا اللہ کوئی معجزہ کردے پلیز پلیزززززز یااللہ پلیززززززززز۔ کشف دعا مانگتی سجدے میں چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن کشف روزانہ کی طرح فریش چہرے کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی اُس کو دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کے ساری رات اُس نے رو کر گُزاری ہے۔
ڈیڈ کہاں ہیں؟ کشف نے ایپل ہاتھ میں پکڑے سومل بیگم سے پوچھا۔
ضروری میٹنگ تھی جلدی آفس چلے گئے۔ سومل بیگم نے بتایا تو کشف نے ایپل منہ میں ڈالا۔
کھانے سے پہلے دھو تو لیتی۔ سومل بیگم نے ٹوک کر کہا
آپ لوگ یہاں دھوکر رہتے ہیں بار بار دھونے سے ایپل کی لذت ختم ہوجاتی ہے۔ کشف نے اپنا ایجاد کیا فلسفہ جہاڑا۔
مجال ہے جو تمہارے دماغ میں کوئی بات بیٹھے۔ سومل بیگم تاسف سے بولی جب کی کشف مُسکراتی ہاتھ میں ایپل پکڑتی حیا کے کمرے میں آئی جہاں وہ آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہورہی تھی۔
خیر تو ہے کسی پارٹی میں جارہی ہو کیا؟ کشف نے حیرت سے اُس کی تیاری کو دیکھ کر پوچھا جو ریڈ کلر کے فراق میں انتہا کی خو خوبصورت لگ رہی تھی ہونٹوں پہ سرخ کلر کی لپ اسٹک لگائے اب بالوں کو اسٹریٹ کررہی تھی۔
دروازہ بند کرو۔ حیا نے کہا تو کشف عجیب نظروں سے اُس کو گھورتی دروازے کو لاک لگانے لگی۔
اب پھوٹوں بھی۔کشف نے کوفت سے کہا جو ریڈ کلر کی ہائے ہیل پہن رہی تھی۔
بتاتی ہوں تھوڑا صبر کرو۔ حیا نے آرام سے کہا
کشف پہلے وعدہ کرو میں آج جو بات کروں گی وہ بس میرے اور تمہارے درمیان رہے گی۔ حیا اپنے کام سے فارغ ہوتی کشف کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاتی ہوئی بولی۔
ہم دونوں کزن ہونے کے ساتھ ساتھ مخلص دوست بھی ہیں ہم بنا وعدے کیے ایک دوسرے پہ یقین کرسکتے ہیں پر اگر تمہاری تسلی میرے وعدے سے ہے تو میرا وعدہ ہے جو تم بات کرو گی وہ بس ہمارے درمیان رہے گی کسی تیسرے کو تب تک پتا نہیں چلے گا جب تک تم نہیں چاہوں گی۔ کشف نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر کہا حیا مسکراکر آگے بھرتی زور سے اُس کو گلے لگایا۔
مجھے تم سے یہی اُمید تھی۔ حیا نے چہکتے ہوئے بتایا۔
بات کیا ہے وہ بتاؤ۔کشف کو بس بات جاننے کا تجسس تھا۔
حمزہ چاہتا ہے میں اس سے خوفیہ نکاح کروں۔حیا نے گہری سانس لیکر بتایا۔
ہائیڈن نکاح۔ کشف چیختی بولی
آہستہ۔ حیا نے اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔
اِس سب کی کیا ضرورت دونوں کی منگنی تو ویسے ہی ہوچکی ہے۔ کشف نے ناسمجھی سے کہا
میں نے بھی کہا پر حمزہ نکاح پہ بضد ہے۔ حیا نے بتایا
توں اس کو کہو نہ چچا سے بات کریں ناکہ ایسے خوفیہ نکاح کریں۔ کشف نے سمجھانے والے انداز میں کہا
نعیم بھائی نہیں آجاتے تب تک ہمارا نکاح بھی نہیں ہوسکتا دوسرا کجھ غلط بھی نہیں بعد میں بھی تو ہونا ہے نہ۔ حیا نے آرام سے کہا
جیسے تمہارے مرضی حمزہ کجھ زیادہ ہی بے صبرا ہے۔ کشف نے کہا
پیار جو کرتا ہے مجھ سے۔ حیا نے شرمگین مسکراہٹ سے بتایا۔
نکاح کررہے ہو تو نکاح تک ہی رہنا نکاح کے بعد کوئی حد نہیں ہوتی پر اِس نکاح کا کسی کو پتا نہیں ہوگا اِس لیے ایسا کجھ مت کرنا جس سے بعد میں تمہیں پروبلمز کا سامنا کرنا پڑے۔ کشف کا اِشارہ کس بات کی طرف تھا وہ جان کر حیا نے سرہلایا۔





روزانہ معمول کی طرح ڈرائیور حیا کو بیچ راستے پہ چھوڑتا خود چلاگیا تھا حیا آج چادر میں خود کو چُھپائے ہوئے تھی وہ حمزہ کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی غصہ کرنے کا۔
برتھ پارٹی ہے کیا یونی میں؟حمزہ نے اندازً کہا
میرا نکاح ہے۔ حیا نے نظریں جھکا کر بتایا حمزہ ہونک سا اُس کو دیکھنے لگا جس کا چہرہ لال انار ہوگیا تھا۔
تمہیں کوئی اعتراض نہیں۔حمزہ خوش ہوتا بولا
مجھے کیا اور کیوں اعتراض ہوگا۔ حیا نے اُلٹا اس سے سوال کیا۔
تم نہیں جانتی مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے۔ حمزہ خوشی سے پاگل ہونے کے در پہ تھا۔
میں یقین کرتی ہوں حمزہ تم پہ پلیز میرا یقین نہیں توڑنا۔ حیا نے التجائیہ انداز میں کہا۔
ایسا تمہیں کہنا بھی نہیں چاہیے مجھے پتا ہے ہمارا نکاح فلحال خوفیہ ہوگا اِس لیے فکر نہیں کرو۔ حمزہ نے سنجیدگی سے کہا جسے سن کر حیا مطمئن سی مسکرادی۔
چلیں پھر؟ حمزہ نے پوچھا۔
کہاں؟حیا نے فورن پوچھا
مسجد پھر تمہیں یونی ڈراپ کرنا ہے۔ حمزہ نے پلان بتایا۔
ٹھیک ہے۔ حیا نے کہا حمزہ تیز ڈرائیو کرتا مسجد پہنچ گیا تھا حمزہ حیا کا ہاتھ تھام کر مسجد کے اندر داخل ہوا جہاں کے مولوی صاحب سے اُس نے پہلے ہی بات کر رکھی تھی کجھ ہی دیر میں نکاح کے ایجاب ومراحل ہوگئے تھے وہ اب حیا نور احمد سے حیا حمزہ بن گئ تھی دونوں کے چہرے پہ سرشار سی کیفیت تھی حیا نہیں جانتی تھی حمزہ کس وہم کے تحت نکاح کا شور مچایا پر حمزہ نے اُس سے اس کی محبت کا ثبوت مانگا تھا وہ بھلا کیسے نہ دیتی۔
نکاح مبارک ہو۔ حمزہ واپس گاڑی میں بیٹھتا حیا سے بولا
تمہیں بھی مبارک ہو۔ حیا نے کہا
شکریہ۔ حمزہ نے سر کو خم دیا
تم نے تو کل کورٹ کا کہا تھا پھر مسجد کیوں؟ اور تمہارے پاس نکاح کے کاغذ بھی بنے ہوئے تھے کیا بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا کیا؟ حیا نے اُلجھ کر پوچھا۔
ایسا ہی سمجھ لو۔ حمزہ نے بس اتنا کہا حیا کو لگا جیسے حمزہ کوئی بات چُھپارہا ہوں پر اُس نے کُریدہ نہیں۔
خوش ہو نہ اب۔ حیا نے پوچھا
خوشی کی انتہا پہ ہوں۔ حمزہ جھک کر اس کے ماتھے پہ عقیدت بھرا لمس چھوڑ کر بولا۔ حیا کا دل زور سے دھڑکا تھا حمزہ پہلی بار اُس کے اتنے قریب ہوا تھا۔
رلیکس۔حمزہ نے مسکراکر اس کا ہاتھ تھام کر ہلکہ سا دباکر کہا۔
چلیں یونی۔ حیا اپنے آپ پہ قابوں پاتی بولی۔
ہممم چلتے ہیں۔ حمزہ ایک گہری نظر اُس پہ ڈالتا بولا حیا حمزہ کی نظروں سے بچنے کی خاطر اپنا رخ گاڑی کی ونڈو کی جانب کردیا۔







کشف تمہارا فون کہاں ہیں؟ کشف کی دوست طاہرہ نے پوچھا
گم ہوگیا۔ کشف نے آرام سے بتایا
کیا گم ہوگیا کب کیسے اتنا مہنگا فون گم کردیا۔ طاہرہ صدمے کی حالت میں بولی۔
اب گم ہوگیا تو ہوگیا کب کیسے کا بتانے کا کیا فائدہ۔کشف نے بے زاریت سے کہا جب کی حقیقت میں اُس نے اپنا قیمتی فون کمرے کے وارڈوب میں نیچے والے ڈرار میں رکھ دیا تھا اُس نے سوچ لیا تھا وہ اب اتنی مہنگی چیز استعمال نہیں کریں گی موحد کو احساس دلوائے گی کے وہ بنا کسی آسائشوں کے ساتھ بھی رہ سکتی ہے لگژری لائیف جینا اس کے لیے اتنا ضروری نہیں اُس کو بس موحد چاہیے تھا۔
ناشکری ہو بڑی۔ طاہرہ منہ بناکر بولی۔
شکریہ مجھے سمجھنے کے لیے۔ کشف نے مسکراکر کہا
اب کہاں جارہی ہو کجھ منٹ بعد کلاس ہے۔ طاہرہ نے اُس کو کھڑا ہوتا دیکھا تو کہا۔
کام ہے آتی ہوں۔کشف نے بتایا۔
محبت میں گجرے بھی پہنائے جاسکتے ہیں
سونے کی چوڑیاں ضروری تو نہیں
کشف اپنے ڈپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پہ موحد کو بیٹھا دیکھا تو پاس بیٹھ کر شعر سنایا۔
میں ضروری نوٹس بنارہا ہوں میرا دماغ مت خراب کرو۔ موحد بے رخی سے بولا۔
تم تھک نہیں جاتے میری محبت نظرانداز کرتے کرتے اپنا سرد ترین رویہ رکھتے رکھتے۔ کشف نے ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھ کر سوال کیا۔
میرے پاس تمہارے فضول سوالوں کے جواب نہیں۔موحد سپاٹ انداز میں بولا۔
ایک دن ایسا آئے گا جب تم میری ان فضول باتیں سننے کے لیے بے قرار اور بے چین رہوگے میری ایک جھلک دیکھنے کو ترسو گے۔ کشف نے اُداس مسکراہٹ سے کہا۔
وہ ایک دن کبھی نہیں آئے گا۔ موحد کشف کی آنکھوں دیکھ کر بول کر کھڑا ہوا۔
ضرور آئے گا میری محبت میں اتنی طاقت ضرور ہے جو تمہارے دل کو پگھلا سکے۔ کشف نے پُریقین لہجے میں کہا موحد کے قدم کجھ پل کے لیے تھمے تھے پر وہ بنا کشف کو جواب دیئے وہاں سے چلاگیا۔







کیسی غیروں والی بات کررہے ہو نور نعیم پاکستان آئے گا تم پریشان نہیں ہو میں کرتا ہوں بات انشااللہ ایک دو ماہ میں وہ آئے گا تم تسلی رکھو۔ سعید صاحب نے اپنے آفس میں بیٹھے نور احمد صاحب سے کہا جو خاص یہاں منہا اور نعیم کے بارے میں بات کرنے آئے تھے۔
رخشندہ کو خدشات ہیں بس اِس لیے میں چاہتا ہوں جلدی سے آپ نعیم کو پاکستان آنے کا کہے بہت رہ لیا دوسرے مُلک اب اس کو واپس آنا چاہیے تاکہ ہم منہا کے فرض سے سبکدوش ہوجائے تو حیا کا سوچا۔ نور احمد صاحب نے سنجیدگی سے کہا
حیا کا کیا سوچنا ہے وہ بھی میرے حمزہ کی امانت ہے آپ کے پاس دونوں کو ایک ساتھ ہم رخصت کریں گے۔ سعید صاحب نے مسکراکر کہا
تو پھر آپ بات کریں اب۔ نور احمد ایک بار پھر بولے سعید صاحب نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔




وہ دن بھی آگیا تھا جس کا انتظار کشف اور حیا کو بلکل نہیں تھا اماں رخصانہ آج ان کے گھر موجود سب سے مسکرا مسکرا مل رہی تھی منہا کے تو وہ صدقے واری جارہی تھی حیا اور کشف کی حالت پتلی ہورہی تھی بس ان کو دیکھنے سے ہی۔
تم دونوں کو زرہ لحاظ نہیں اماں اتنے سالوں بعد آئی ہیں ان سے کجھ پوچھ لیا جائے۔اماں رخصانہ نے دونوں کو گھور کر کہا۔
ہوگیا ٹیپ شروع۔ کشف بڑبڑائی تو حیا نے زور سے کہنی ماری۔
جی اماں تو پھر بتائے کیسا گُزرا سفر؟ کشف زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولی۔
اب پوچھنے کا کیا فائدہ رہنے دو۔اماں رخصانہ کی بات پہ سب نے مسکراہٹ ضبط کیا کشف اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔
آپ تھک گئ ہوگی کمرے میں جاکر آرام کریں۔ سومل بیگم نے کہا
ہاں تھک تو میں بہت گئ ہوں پیر بھی درد کررہے ہیں کشف تم ایسا کرو پانی گرم کرکے میرے کمرے لاؤ۔اماں رخصانہ سومل بیگم کو جواب دیتی کشف سے بولی۔
پیروں میں درد کیوں آپ کونسا پیدل چل کر آئی ہیں۔حیا کے زبان میں کُھجلی ہوئی۔
کشف تم رہنے دو حیا میرے لیے پانی گرم کرکے آنا۔ اماں رخصانہ کے حکم پہ جہاں کشف نے شکر کا سانس لیا وہی حیا بول کر پچھتائی۔
اللہ تمہیں صبر دے۔ کشف ہمدردرانہ لہجے میں کہتی اپنے کمرے کی طرف گئ۔
حیا گرم پانی لیکر اماں رخصانہ کے کمرے میں آئی جہاں تیس منٹ میں تین بار وہ گرم پانی کرنے کا کہا حیا کو آج پہلی بار اپنے گھر کے بڑے ہونے پہ افسوس ہوا تین بار چکر مطلب چھ دفع سیڑھیوں سے اُپر نیچے کا سفر اماں رخصانہ کے پیر درد کم کرنے کے چکر میں اس کی ٹانگوں اور پیروں میں درد ہوگیا تھا۔
میں اب تھک گئ ہوں آرام کروں گی۔ حیا نے ہانپتے ہوئے کہا۔
بڑی ہی سست لڑکیاں ہو ہمارے دور میں سارا دن کام کرنے کے بعد بھی فریش ہوا کرتے تھے اور ایک تم اور وہ کشف ہے جن کو ایک کام کرنے کا کہو تو تھکاوٹ ہونے لگتی ہے یہ سب دیسی تیل استمعال نہ کرنے کا نتیجہ اب جب تک میں یہاں ہوں تم لوگوں کو دیسی پراٹھے کھلاوں گی تاکہ میرے کام میں تم لوگوں کو تھکاوٹ نہ ہو۔ اماں رخصانہ افسوس پھر حکیمہ انداز میں کہا
ہمیں اپنا ویٹ نہیں بڑھانا۔ حیا تصور میں خود کو موٹی دیکھ کر فورن سے بولی
چپ کرو کوئی موٹی نہیں ہوگی طاقت ہوگی۔اماں رخصانہ نے ڈپٹ کر کہا۔
ہاں پہلوانوں سے مقابلہ جو کرنا ہے ہم نے۔ حیا بڑبڑاہٹ میں بولی مگر اماں رخصانہ کی سماعتوں نے سن لیا۔
کیا کہا؟ اماں رخصانہ کڑے لہجے میں پوچھا
میں نے کہا جیسا آپ کہے۔ حیا سٹپٹاکر بولی۔
ہممم رخصانہ بیگم نے ہنکارہ بھرا حیا اپنے لیے گرم پانی لاتی اُس میں پیر ڈال دیئے دس منٹ بعد کجھ آرام ملا تو لیٹنے سے پہلے کل اپنے یونی نہ جانے کا حمزہ کو میسج پہ بتایا۔






حمزہ اپنے والدین کے ساتھ ڈنر کررہا تھا حیا کا میسج اُس کو ریسیو ہوگیا تھا۔
نور منہا کی شادی چاہتا ہے نعیم تمہاری سنتا ہے اُسے کہو پاکستان کی فلائٹ پکڑے۔ ڈنر کے دوران سعید مرزا کی بھاری آواز گونجی۔
ہما اپنے شوہر کی بات سن کر حمزہ پہ ایک نظر ڈالی جو مطمئن سا رغبت سے کھانا کھارہا تھا۔
نعیم کا کوئی ارادہ نہیں منہا سے شادی کا۔ ہما بیگم نے دھیمی لہجے میں کہا۔
ہما کی بات پہ سعید مرزا نے ہاتھ میں پکڑا اسپون زور سے پلیٹ پہ پٹخا۔
اُس نالائق سے کہو واپس آئے نہیں تو بھول جائے جائداد میں اُس کو کوئی حصہ ملے گا۔ سعید مرزا سخت انداز میں بولے۔
شادی زور زبردستی سے تو نہیں کروا سکتے پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ہما بیگم نے سمجھانے والے انداز میں کہا
سالوں سے رشتہ جوڑا گیا ہے اگر منہا کا رشتہ نہیں ہوا تو حمزہ کو حیا کا رشتہ بھی نہیں ملے گا۔ سعید مرزا کی بات پہ حمزہ کے ہاتھ ایک پل کو روکے تھے۔
آپ کو بچپن میں ان کا رشتہ جوڑنا ہی نہیں چاہتا تھا ویسے اگر حیا کا رشتہ بھی نہ ہو حمزہ سے تو کوئی بات نہیں۔ہما نے کہا حمزہ افسوس کرتی نظروں سے ان کو دیکھنے لگا۔
بھائی شادی منہا سے کرتے ہیں یا نہیں یہ میرا ہیڈک نہیں اُمید کرتا ہوں بھائی کی وجہ سے میرے اور حیا کے رشتے پہ کوئی بات نہیں ہوگی آپ میں سے یا چچا والوں میں سے مجھے حیا سے دور کرنے کا سوچا بھی تو میرے پاس بہت سے طریقے ہیں حیا کو اپنے ساتھ رکھنے کے۔ حمزہ سنجیدگی سے کھڑا ہوتا اپنی بات پہ زور دیتا بولا۔
بات کو سمجھو اگر ہم ان سے ایک بیٹی کا رشتہ نہیں لیں گے تو دوسری کا وہ کیسے دے گے۔ ہما بیگم نے نرمی سے کہا
تم حمزہ کو سمجھانے کے بجائے نعیم کو سمجھاو اب کوئی اور بحث نہیں ہوگی دونوں کی شادی ایک ساتھ ہوگی نور سے میں نے کہہ دیا ہے۔ حمزہ کے کجھ بولنے سے پہلے سعید مرزا گھمبیر آواز میں بولے حمزہ دونوں پہ ایک نظر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف چلاگیا۔
کل کال پہ میں کہوں گی اُس کو۔ ہما بیگم حمزہ کے جانے کے بعد بولی۔
صرف کہنا نہیں راضی کرنا ہے یہاں آنے پہ ورنہ میں اُس کے اکاؤنٹ سے ساری رقم نکلوالوں گا۔ سعید مرز دھمکی آمیز لہجے بولے ہما بیگم کو چُپ لگ گئ۔
