Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575
Last updated: 11 March 2026
Dil Muntazir Mera (Episode 01)Dil Muntazir Mera (Episode 02)Dil Muntazir Mera (Episode 03)Dil Muntazir Mera (Episode 04)Dil Muntazir Mera (Episode 05)Dil Muntazir Mera (Episode 06)Dil Muntazir Mera (Episode 07)Dil Muntazir Mera (Episode 08)Dil Muntazir Mera (Episode 09)Dil Muntazir Mera (Last Episode)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
بیچ روڈ پہ گاڑی کے رُکتے ہی حیا گاڑی سے اُتری پھر نظر گھماکر دیکھا تو سائیڈ پہ گاڑی کھڑی تھی جسے دیکھ کر اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی ڈرائیور کو واپس جانے کا کہتی وہ ہیل کی ٹِک ٹِک کرتی دوسری گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئ جہاں حمزہ بلیک جینز پینٹ شرٹ پہنے آنکھوں پہ بلیک گاگلز چڑھائے بیٹھا تھا۔
لُک ویری پریٹی۔ حیا کے بیٹھتے ہی حمزہ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا جس کا چہرہ بلش کرگیا تھا حیا نیلے رنگ کے کُرتے اور جینز میں ملبوس تھی ڈوپٹہ ایک کاندھے پہ تھا جب کی بالوں کا جوڑا بنایا تھا میک اپ کے نام پہ بس گلوکوز لگایا تھا جس سے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی حیا کو میک اپ کا بہت شوق تھا پر حمزہ کو نہیں اِس لیے وہ میک اپ کا استعال نہیں کیا کرتی تھی۔
شکریہ اب گاڑی چلاؤ یونی کے لیٹ ہورہا ہے۔حیا نے مسکراکر کہا
ابھی باتیں کرتے ہیں پھر گھنٹہ بعد چھوڑ آؤں کا یونیورسٹی۔حمزہ اُس کے ہاتھ کی پشت سہلاتا بولا۔
ایسے تو میری فرسٹ کلاس مس ہوجائے گی۔حیا فکرمند ہوکر بولی
کل لیں لینا اگر کجھ سمجھ نہ آئے تو مجھے کال کرنا میں سمجھادوں گا۔حمزہ نے مسئلے کا حل بتایا تو حیا مسکراتی سرہلانے لگی۔
کہیں اور چلتے ہیں نہ ایسے گاڑی میں کیا کریں گے۔حیا نے اُس کو گاڑی چلاتے نہیں دیکھا تو کہا
یہ اچھی جگہ ہے بہت خاموش پرسکون یہاں بس میں اور تم ہیں کوئی تیسرا ہمیں ڈسٹرب کرنے والا نہیں۔حمزہ نے آرام سے کہا
تمہاری بھی مجھے کبھی سمجھ نہیں آتی۔حیا نے کہا
بس اتنا سمجھ لوں حمزہ سعید مرزا تمہیں جنون کی حدتک چاہتا ہے اُس سے الگ ہونے کا سوچنا بھی مت۔حمزہ شدت پسندی سے بولا جس کو محسوس کرتی حیا کو گھبراہٹ ہونے لگی کبھی کبھی وہ ایسے ہی ڈر جایا کرتی وہ جانتی تھی حمزہ اپنی چیزوں کے لیے بہت پوزیسو رہنے والا بندہ ہے اس کے معاملے میں تو جنونی بھی جس سے کبھی کبھی اُس کو خوف آتا تھا آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
تمہاری یہی باتیں مجھے روکتی ہے تم سے ملنے کے لیے۔ حیا نے ونڈو کی طرف منہ کرکے کہا
جب میرے ساتھ ہو تو مجھے دیکھا کرو۔ حمزہ اس کے چہرہ اپنی طرف کرکے کہا۔
تمہیں ہی دیکھتی ہوں پر تمہارے چہرے پہ شدت پسندی مجھے خوف میں مبتلا کرتی ہے۔ حیا نے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر دھیمے لہجے میں کہا۔
میرے اندر وہم ہوتے ہیں تمہارے معاملے میں جس سے انسان پیار کرتا ہے نہ اس کی کھونے کا ڈر ہمیشہ لگا رہتا ہے ایسا ہی ایک خوف میرے اندر کنڈلی مار کر بیٹھا ہے۔ حمزہ نے حیا کا ہاتھ پکڑ کر جو وہ اُس کے چہرے پہ پھیر رہی تھی۔
وہم کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ ایک لاعلاج ہے۔ حیا نے مسکراکر کہا حمزہ مسکراتا اس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ دیکھ رہا تھا۔
تمہاری مسکراہٹ میرے اندر جان ڈالتی ہے۔ حمزہ حیا کا ہاتھ اپنے دل پہ رکھ کر بولا
آج موڈ میں لگ رہے ہو خیر تو ہے نہ؟ حیا اس کے دل کی دھڑکن سن کر نروس ہوتی بولی۔
میرے دل کی آواز کو محسوس کرو جو تمہارا نام لیں رہا ہے۔ حمزہ اس کی بات نظرانداز کرتا بولا۔
حمزہ پلیز ایسی باتیں مت کرو مجھے شرم آرہی ہے۔ حیا اپنا چھڑواتی دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھ کر بولی۔
میری جان تو مجھے دیکھنے ہیں تمہارے چہرے پہ وہ رنگ جن پہ بس میرا حق ہے۔ حمزہ گہری مسکراہٹ سے بولا حیا نے زور سے سر کو نفی میں ہلایا۔
اچھا تو میں بتاتا ہوں میں آج خوش کیوں ہوں۔ حمزہ گہری سانس لیکر بولا
کیا بات ہے؟ حیا چہرے سے ہاتھ ہٹاکر بولی حمزہ نے اپنا ہاتھ حیا کے سامنے پھیلایا تو حیا مسکراتی اس کی چوڑے مضبوط ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
تم نے کہا نہ وہم کا کوئی علاج نہیں تو میں بتاتا چلوں میرے پاس ہے۔ حمزہ اتنا بول کر حیا کو دیکھنے لگا جو غور سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
کونسا علاج؟ حیا نے پوچھا
ہم دونوں کورٹ میں نکاح کریں گے بعد میں بھی تو ہونا ہے پر میں ابھی چاہتا ہوں میرے دل کو سکون مل جائے گا سارے خدشات ختم ہوجائے گے تم میری ہو میں جانتا ہوں پر تب میرے ساتھ پرمینٹلی سرٹیفیکٹ ہوگا ہمارے نزدیک منگنی کی اہمیت بہت ہے نکاح کے برابر ہے پر اسلام میں نہیں میں مکمل طور پہ تمہیں اپنی دسترس میں لینا چاہتا ہوں۔ حمزہ کی بات پہ حیا بے یقین نظروں سے حمزہ کو دیکھا اُس کو ہرگز حمزہ سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی
Rate this Novel
Categories:
COUSIN BASE NOVELS Emotional / Love Story Forced Marriage Based funny novel Innocent heroin based novels Love Story Based Marriage Based REVENGE BASED NOVELS ROMANTIC NOVELS Romantic Urdu Novel Rude Hero Based Novels Social Issues BAsed
Tags:
Cousin Based Forced marriage Innocent Heroine Revenge Based Novels Romantic Urdu Novels Rude hero Social Issues Urdu Novels
