Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 04)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 04)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
ماہر میری جان مجھے تم سے بات کرنی ہے اگر ٹائم ہے تو سن لوں۔ عانیہ مزرا اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی ماہر کے کمرے میں آتی بولی جو لیپ ٹاپ پہ بزی تھا۔
یس موم آیم فری پلیز کم۔ ماہر لیپ ٹاپ سے نظریں اُٹھاکر ان کو دیکھ کر بولا۔
ماہر دراصل بات یہ ہے کے میں تمہاری شادی کروانی چاہتی ہوں لڑکی میں نے دیکھ لی ہے بس تم ایک دفع اُس سے مل لوں۔ عانیہ بیگم نے سیدھا مدعے کی بات کی۔
بٹ موم فلحال میرا شادی کرنے کا کوئی موڈ نہیں۔ماہر سنجیدہ انداز میں بولا۔
کیا مطلب موڈ نہیں شادی کیا موڈ دیکھ کر ہوتی ہے۔ عانیہ مرزا کو ماہر کی بات پسند نہیں آئی۔
فلحال میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔ ماہر نے پھر کہا۔
ایک دفع روبی سے ملو شادی کا موڈ خوبخود بن جائے گا۔ عانیہ مرزا نے کہا۔
موم پلیز یہ شادی کا معاملہ زندگی بھر کا ہے آپ مجھے فورس مت کریں۔ ماہر دو ٹوک انداز اپنا کر بولا۔
کیا تم کسی کو پسند کرتے ہو؟عانیہ مرزا کا انداز جانچنے والا تھا ان کے سوال پہ ماہر کی آنکھوں میں چھن سے منہا کا عکس آیا۔
موم مجھے شادی کرنی ہوگی تو آپ کو بتادوں گا۔ ماہر ان کا سوال گول کرتا بولا۔
جلدی سے اپنا مائینڈ بنالوں بہوں تو میری روبی بنے گی۔ عانیہ مرزا اٹل انداز میں بولی ماہر کا رویہ ان کو سوچنے پہ مجبور کرگیا تھا جبھی وہ اس کو باور کروانا نہیں بھولی۔





یار حیا ہم جب کسی سے محبت کرتے ہیں تو اُس میں رکاوٹیں کیوں ہوتی ہیں؟ کشف نے بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ لیٹی حیا سے کہا۔
اگر محبت میں رکاوٹیں نہ ہو محبت جلد مل جائے تو آپ کو اُس کی اتنی قدر نہیں ہوگی جتنی بڑی مشکلوں سے محبت پانے کے بعد ہوگی کیونکہ تب آپ کو لگے گا اللہ نے بہت رکاوٹوں کے بعد نوازا ہے تو آپ اُس کی قدر کریں گے اللہ کا شکر ادا کریں گے جو چیز آسانی سے مل جائے چاہے پھر کتنی ہی عزیز پیاری خوبصورت کیوں نہ ہمارے نزدیک آہستہ آہستہ اُس کی قدر کم ہوجاتی ہے۔ حیا نے ایک سانس میں بتایا۔
ہممم بات تو تمہاری درست ہے۔ کشف اس کی بات سے اتفاق کرتی بولی۔
تم کیوں پوچھ رہی تھی ویسے؟ حیا نے پوچھا
موحد کا دل میری طرف سے موم نہیں ہوتا۔ کشف حیا کی طرف کروٹ لیکر بولی اُس کی محبت کی واحد ہمراز حیا ہی تھی۔
دفع کرو پھر جس انسان کو آپ کی قدر نہ ہو اُس کے سامنے بار بار اپنے جذبات کی توہین کرنے سے اچھا ہے کے انسان خاموشی اختیار کرلیں اُس کو تم سے محبت ہوتی تو تمہارے اظہار پہ بے رخی نہ دیکھاتا تمہارا بڑھا ہوا ہاتھ نہ جھٹکتا تمہارے ساتھ چلنے پہ راستہ نہ بدلتا
لاحاصل کے تقاضوں سے بہتر ہے
جو بے زار ہو ان کو چھوڑ دیا جائے۔
حیا نے بھی کشف کی طرف کروٹ لیکر سمجھانے کی خاطر بات شروع کی۔
یہ سب کہنا سننا آسان ہے مگر اس کے برعکس عمل کرنا بہت کٹھن مرحلہ ہے آپ کو جس سے محبت ہو اُس کو نہ تو آپ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے لاپرواہ ہوسکتے ہیں میں یہ نہیں کہتی میں اُس سے محبت کرتی ہوں تو وہ بھی کریں میں بس اتنا چاہتی ہوں وہ میرا ہاتھ تھام کر مجھ کو اپنی زندگی میں شمار کرلیں اُس کا ساتھ ہونا ہی میرے لیے بڑی بات ہے۔ کشف نے کسی بچے کے انداز میں کہا۔
مجھے یہ تو نہیں پتا تم نے دل سہی جگہ پہ لگایا ہے یہ غلط پر اتنا ضرور چاہوں گی اللہ تمہیں وہ عطا کریں جس کی تم چاہت کررہی ہو۔ حیا نے کہا تو کشف مسکرادی۔





منہا کمرے کی صفائی کرتی باہر آئی تو اپنی ماں کو خاموش دیکھ کر اُس کے پاس بیٹھ گئ۔
کیا ہوا امی پریشان لگ رہی ہیں؟ منہا نے پوچھا
پریشان نہیں سوچ رہی ہوں کجھ۔ رخشندہ بیگم نے جواب دیا۔
اچھا کیا سوچ رہی ہیں؟ منہا نے جاننا چاہا۔
تمہارے چچا کا فون آیا تھا تمہارے والد صاحب کے پاس انہوں بتایا کے نعیم پاکستان لینڈ کررہا ہے۔ رخشندہ بیگم نے بتایا تو منہا کا دل عجیب انداز میں دھڑکا۔
اچھی بات ہے بہت سالوں بعد انہوں نے آنے کا سوچا۔ منہا نے آہستہ آواز میں کہا۔
وہ بھی تب جب نور نے بات کی سنجیدگی سے ورنہ کہاں ان کو خیال تھا کے نعیم کو اب واپس آنا چاہیے۔ رخشندہ بیگم نے کہا۔
بابا نے ان سے کیا بات کی؟ منہا نے ناسمجھی سے پوچھا
یہی کے بچپن سے بات طے ہے شادی ہوجانی چاہیے بچوں کی۔ رخشندہ بیگم نے بتایا تو منہا خاموش رہی۔





ایکزامز ختم ہونے کے بعد وہ سب اپنے گھر میں تھے کشف موحد سے نہ ملنے پہ اُداس تھی منہا نے بوتیک جوائن کرلیا تھا اُس کو کپڑوں کی ڈیزائننگ کا شوق تھا جب کی حیا رخشندہ بیگم سے اپنی دوست کا کہہ کر حمزہ کے ساتھ اُس کے فام ہاؤس میں موجود تھی۔
ہیپی برتھ ڈیئر ہبی۔ حیا نے حمزہ کے گال پہ لب رکھ کر وش کیا۔
شکریہ میری جان اب اپنے ہاتھوں سے مجھے کیک کھالاو۔ حمزہ مسکراتا حیا کو اپنے ساتھ لگائے کیک ٹیبل کے پاس لیں آیا۔
واے نوٹ آج تمہارا دن ہے برتھ بوائے۔حیا نے ہنس کر کہا۔
اب تم گانا گاٶں گے۔ کیک کٹ کرنے کے بعد حیا نے کہا۔
گانا کیوں؟ حمزہ نے کہا
کیا مطلب کیوں میں نے اتنا کہا تمہارا مانا ہے اب تمہارا فرض ہے میرا فیورٹ گانا گانے کا۔ حیا نے اِتراکر کہا۔
گٹار لیکر آتا ہوں۔ حمزہ مسکراکر بولا۔
فار می۔ حیا نے مسکراکر پوچھا۔
یس اونلی فار یو مائے لو۔ حمزہ نے آنکھ ونک کرتے کہا۔
گٹار لیے آنے کے بعد حمزہ صوفے پہ بیٹھ گیا تو حیا بھی خوشی ہوتی پاس بیٹھ گئ۔
Music
……………
Mai wird e_mohabat hi
karta rahun karta rahun
Zaban pe tera naam ho
Sub_shaam tujh ko
Nazar mai rakhun
Mera bas yahi kaam ho
Na chaand aur suraj
Ki hai aarzu
Mai taron say karlo
Teri guftugu
Aaa re aa re aa re
dil k saharay
Aaa re aa re aa re
dil k saharay
Aa ja Ray aaa ja ray
Aaa bhi jaa….
Music
….
حمزہ نے رک کر حیا کو دیکھا جو اُس کو دیکھنے میں مگن تھی حمزہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ حیا کا ایسا انداز دیکھ کر۔
Mai sham_o_sehar
Teri yaadon mai gum tha
Nahi koi duja mujhe
Gum tha……
Mujhe dekh kar
Tera nazren churaana
Mohabbat me thoda
Tera sitam tha..
Teray pyaar ke mai
Kaseede parhun mera
Bas ye anjaam ho.
Na chaand aur suraj
Ki hai aarzu
Mai taron say karlo
Teri guftugu
Aaa re aa re aa re
dil k saharay
Aaa re aa re aa re
dil k saharay
Aa ja Ray aaa ja ray
Aaa bhi jaa….
حمزہ آدھا سونگ گاتا گٹار سائیڈ پہ کرتا حیا کے سامنے چٹکی بجائی تو حیا نے مسکراکر سرجھٹکا۔
تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے حمزہ۔ حیا ابھی بھی کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی۔
تمہارا مجھے دیکھنے کا انداز بھی بہت خوبصورت تھا۔ حمزہ نے شرارت سے کہا۔
ایسا بھی کجھ نہیں۔ حیا مکرکر بولی تو حمزہ نے مسکراکر سر کو نفی میں جنبش دی۔
بھائی آئے گے جلد ہی پھر ہماری شادی ہوجائے گی تو یوں بہانے سے ملنا نہیں پڑے گا۔ حمزہ حیا کو اپنے قریب کرتا بولا۔
اگر نعیم بھائی آنے والے تھے تو تم نے نکاح کیوں کیا بعد میں بھی تو ہونا تھا؟ حیا نے اُلجھ کر پوچھا۔
میرا دل کیا ویسے بھی جو کام بعد ہونا تھا میں نے پہلے کرلیا۔ حمزہ حیا کے چہرے پہ آتی لٹ کو کان کے پیچھے کرتا بولا۔
کتنا مزہ آئے گا نہ ان دونوں کی جب شادی ہیں گی ہم اپنی بعد میں کرلیں گے ورنہ میں انجوائے نہیں کر پاوٴں گی۔ حیا نے لاڈ سے کہا۔
بعد میں دیکھے گے۔حمزہ حیا کو اپنے حصار میں لیتا بولا۔
حمزہ اب مجھے جانا چاہیے رات کے دس بج رہے ہیں۔ حیا حمزہ سے فاصلہ بناکر بولی۔
صبح کو چلی جانا ابھی میرا کوئی موڈ نہیں تم سے دوری اختیار کرنے کا۔ حمزہ حیا کے بالوں میں چہرہ چھپائے بولا حیا کو گھبراہٹ کے مارے پسینے آنے لگے۔
حمز
ششش
حیا کے کجھ بولنے سے پہلے حمزہ اُس کو بانہوں میں بھرتا کمرے کی طرف بڑھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حیا کی آنکھ کُھلی تو خود کو بیڈ پہ اکیلا پایا کجھ دیر تک چھت کو گھورنے کے بعد وہ بیڈ سے اُٹھ کر اپنا حلیہ درست کرتی باہر آئی جہاں کچن کی طرف اُس کو کھٹ پٹ کی آواز آئی حیا کچن میں آئی تو حمزہ ناشتے بنانے میں مصروف تھا حمزہ کو اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا تو چہرہ موڑ کر دیکھا تو حیا کو کھڑا پایا جن کی آنکھوں میں شکوہ سا تھا
اچھا ہوا اٹھ گئ میں بھی تمہیں جگانے والا تھا ناشتہ تیار ہے۔حمزہ مسکراکر اس کے پاس آکر بولا حیا نے اپنا رخ موڑ لیا۔
کیا ہوا حیا؟ حمزہ انجان بن کر بولا۔
تم نے اچھا نہیں کیا۔ حیا نے بس اتنا کہا۔
میں کجھ غلط بھی نہیں کیا۔ حمزہ اس کو پیچھے سے اپنا حصار میں لیکر بولا۔
سہی نہ تھا وہ۔ حیا نے روندھی آواز میں کہا۔
ہے حیا ڈونٹ بی کرائے کجھ غلط نہیں تھا۔ حمزہ حیا کا چہرہ اپنی طرف کرتا نرمی سے بولا۔
مجھے تم یقین تھا۔ حیا نے آنسو بہاتے کہا۔
میں نے تمہارا یقین توڑا بھی نہیں اِس لیے کجھ فضولات مت سوچو۔ حمزہ سنجیدہ ہوکر بولا۔
میں نے پہلی غلطی بنا گھروالوں کو بتائے تم سے نکاح کیا دوسری غلطی یوں اکیلے تم سے ملنے چلی آئی۔ حیا کی بات پہ حمزہ نے جبڑے بھینچ لیے۔
بات کرتے سوچ لیا کرو کہ کیا بات کررہی ہو۔ حمزہ نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر سخت انداز میں کہا۔
آآآآہ۔ درد سے حیا کی منہ سے سسکی نکلی۔
میں تمہارے پیار میں جنونی ہوں حیا میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا تم ایسا کہو۔ حمزہ اپنی گرفت ڈھیلی کرتا بولا۔
بہت برے ہو تم۔حیا اپنے قدم پیچھے لیتی بولی۔
جیسا بھی ہوں تمہارا ہوں برداشت کرنا پڑے گا۔ حمزہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔
آج سے پہلے تم مجھے اتنے برے نہیں لگے۔ حیا نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
ناشتہ تیار ہے۔ حمزہ اُس کے ماتھے پہ پُر حدت لمس چھوڑتا بولا۔
حمزہ۔
جی جانِ حمزہ۔ حمزہ محبت سے چور لہجے میں بولا۔
کسی کو پتا لگ گیا تو۔ حیا نے ڈرتے ہوئے کہا
تو لگنے دو ہم نے کجھ غلط نہیں کیا۔ حمزہ اس کو اپنے سینے سے لگاتا لاپرواہ انداز میں بولا۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ حیا نے کہا
میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں صرف ہمارے گُزرے ہوئے خوبصورت لمحات کو سوچا کرو۔ حمزہ نے آرام سے کہا۔
میں آج کے بعد تم سے نہیں ملوں گی۔ حیا نے ناراض لہجے میں کہا۔
یہ ظلم مت کرنا۔ حمزہ مسکراہت دبائے بولا۔
بدتمیز۔ حیا نے اس کے سینے پہ مُکہ جڑکر کہا تو حمزہ کا قہقہقہ نکل گیا حیا بھی شرماکر اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپالیا۔






کشف گھر کی طرف جارہی تھی جب اُس کی کار بیچ میں خراب ہوگئ آج اُس کا اکیلے باہر جانے کا موڈ تھا تبھی ڈرائیور کے بنا آگئ تھی مگر اب کار کے خراب ہونے پہ بُری طرح جھنجھلا گئ تھی۔
ہیلو مسٹر کیا آپ بتاسکتے ہیں ورکشاپ یہاں سے کتنی دور ہے۔ کشف کار سے باہر آتی پاس سے گُزرتے لڑکے سے بولی۔
یہاں سے سیدھا جاکر رائت لیں گی تو آپ کو ورکشاپ نظر آئے گا جو کی دس منٹ کی دوری پہ ہے۔ لڑکا بتاکر چلاگیا تو کشف شکرادا کرتی کار سے اپنا کلچ اور موبائل نکال کر لڑکے کے بتائی ہوئی جگہ پہ جانے کے لیے آگے بڑھنے لگی۔
موحد تم یہاں۔ کشف ورکشاپ پہ جیسے آئی اُس کی نظر موحد پہ پڑی جو کسی گاڑی کے بونٹ پہ جھکا ہوا تھا بال بکھرے ہوئے تھے کپڑے بھی کافی میلے اور ہاتھوں میں کالے رنگ کا نشان تھا کشف کو موحد کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی اُس کو زرہ بھی موحد کا حُلیہ بُرا نہیں لگا۔
تم یہاں کیا کررہی ہو۔ موحد نے جانی پہچانی آواز سن کر چہرہ اُٹھایا تو کشف کو دیکھا جو مسکراتی اس کو دیکھ رہی تھی۔
میری گاڑی خراب ہوگئ تھی تبھی میں یہاں آئی کیا تم یہاں کام کرتے ہو؟ کشف نے بتاکر آخر میں پوچھا۔
ہممم۔ موحد نے بس اتنا کہا اُس نے ایک چور نظر کشف پہ ڈالی جس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی کہیں بھی ناگواری کے تاثرات نہیں تھے۔ اندر جاوٴ کوئی لڑکا چلے گا ساتھ اُس کو اپنی گاڑی دیکھانا وہ ٹھیک کردیں گا۔ موحد نے اس کو ایک جگہ کھڑا پایا تو کہا
تم دیکھو نہ چل کر یہاں سے دن منٹ کی مساوت پہ ہے۔ کشف نے کہا
مجھے اور بھی کام ہے۔ موحد نے سنجیدگی سے کہا۔
موحد انسانیت کی خاطر ہی مدد کردو۔ کشف نے خفگی سے کہا تو موحد نے سرد سانس خارج کی دوسرے لڑکے کو وہ کام کا بتاتا کشف کو چلنے کا اِشارہ کیا کشف خوشی سے مگن ہوتی موحد کے ہمہ قدم ہوئی۔
ٹائر پینچر ہے۔ موحد کی نظر کار کے ٹائر پہ پڑی تو کہا۔
اووہ میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ کشف سر پہ ہاتھ مار کر بولی۔
دوسرا ٹائر ہے؟ موحد نے پوچھا
پتا نہیں شاید ہو۔ کشف نے کندھے اُچکاکر کہا تو موحد کار کی بونٹ کھول کر دیکھا تو ٹائر موجود تھا موحد نے اپنی مطلوبہ چیزیں نکال کر کام پہ لگ گیا۔ کشف دلچسپ نظروں سے موحد کو دیکھ رہی تھی موحد جب کی اُس کی نظروں سے اُلجھن کا شکار ہورہا تھا۔
تم ویسے پیارے لگتے ہو ہر حال میں۔کشف نے بات کا آغاز کیا۔
شکل سب کجھ نہیں ہوتی جس سے انسان ایمپریس ہوجائے۔موحد کشف کی بات کو اپنا رنگ دے کر بولا۔
حُسن کہاں حسین ہوتا ہے اے بشرِ بددماغ۔!!
جن سے عشق ہوجائے وہ دلکش لگتے ہیں۔!!
کشف نے مسکراکر شعر ادا کیا موحد کان دھرے بنا کام سے فارغ ہوتا ہاتھ جہاڑ کر کھڑا ہوا۔
ہوگیا کام اب تم جاسکتی ہو۔ موحد نے سنجیدگی سے کہاں اُس کو یہاں کشف کا اکیلا ہونا اچھا نہیں لگ رہا تھا ایک تو یہ علائقہ قدرے سنسان سا تھا دوسرا کشف لڑکی ذات ہوکر ایسے آنا موحد کو ٹھیک نہیں لگا تبھی فورن سے جانے کا کہا۔
فیس کتنی ہوئی۔ کشف نے پوچھا۔
سامان سارا تمہارا تھا میں نے بس مدد کی مدد کی فیس نہیں ہوتی۔ موحد نے سنجیدہ سا جواب دیا
کاش تم یہ میری محبت میں کرتے۔ کشف نے حسرت سے کہا۔
محبت کے علاوہ بھی کجھ سوچ لیا کرو۔ موحد نے ٹوکا۔
تم سے ملنے کے بعد میرا دل دماغ بس ایک یہی بات سوچتا ہے۔ کشف نے آرام سے کہا۔
میں تمہاری طرح فارغ نہیں۔موحد اپنی بات کہتا واپسی کے لیے جانے لگا کشف نے تب تک اُس کی پیٹھ دیکھی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا پھر وہ اپنے راستے کی طرف گامزن ہوئی۔





نعیم پاکستان آگیا تھا اب وہ سعید مرزا اور ہما بیگم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جب حمزہ بھی ان کے ساتھ بیٹھا۔
سوری یار میں تمہیں سالگرہ وش نہ کرسکا تھا۔ نعیم نے حمزہ کو دیکھ کر کہا۔
کوئی بات نہیں مجھے اندازہ ہے آپ کی مصروفیات کا۔ حمزہ نے سادہ انداز میں کہا۔
تم ریسٹ کرو اس کے بعد پھر مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔ سعید مرزا نے روعبدار آواز میں کہا۔
میں بھی یہاں ڈیڈ اِس لیے آیا ہوں تاکہ آپ سے ساری بات کلیئر کرسکوں۔ نعیم کی بات پہ سعید مرزا نے بھنوئیں اُچکائی۔
ڈیڈ کینیڈا میں اپنے لیے میں لڑکی پسند کرلی ہے میں اُس سے شادی کروں گا منہا مجھے پہلے بھی پسند نہیں تھی اب تو میرے پاس وجہ بھی ہے۔ نعیم کی بات پہ سعید مرزا کی رگ غصے اُبھر پڑی۔
ہوش میں تو ہو تم۔ سعید مرزا بھڑک اُٹھے۔ حمزہ خود پریشان سا ہوگیا تھا۔
میں ہوش میں ہوں آپ لوگوں کو ہمارا رشتہ بچپن میں طے نہیں کرنا چاہیے تھا حمزہ بھلے خوش ہو آپ اُس کا کروائے پر میں اپنی زندگی ان چاہی ہمسفر کے ساتھ ہرگز نہیں گُزاروں گا۔ نعیم سنجیدگی سے بولا۔
شادی تو تمہاری منہا سے ہوگی جو بچپن سے تمہارے ساتھ منسوب ہے۔سعید مرزا تیز آواز میں بولا۔
میں بالغ مرد ہوں ڈیڈ اپنے فیصلے کرسکتا ہوں۔نعیم کوفت بھرے لہجے میں بولا۔
نعیم بیہیو ہوئر سیلف۔ ہما بیگم نے ٹوکا۔
آپ لوگ پھر میری بات مان لیں چچا کی فیملی سے انکار کردیں۔ نعیم ہاتھ کھڑے کرتا بولا۔
یہ ہماری عزت کا سوال ہے دیکھتا ہوں تم کیسے انکار کرتے ہو۔ سعید مرزا بگڑے تیوروں سے بولے
سوری ڈیڈ آپ مجھے بلیک میل نہیں کرسکتے اور نہ ہاں کرنے کے لیے پریشررائز کیونکہ میں خود چچا نور سے بات کرلوں گا۔ نعیم لاپرواہ انداز میں بولا۔
اگر ایسا کجھ کیا تو میں تمہیں عاق کرلوں گا۔ سعید مرزا نے دھمکی دے کر کہا۔
آپ ایسا نہیں کرسکتے مجھ سے میرا حق ایک چھوٹی بات کی وجہ سے چھین نہیں سکتے۔ نعیم فورن سے احتجاج کرتا بولا۔
جب باپ کی کسی بات کی اہمیت تمہاری نظر میں نہیں تو جائداد میں بھی تمہارا حق نہیں۔سعید مرزا طنزیہ ہوکر بولے۔
ایسا تو پھر ایسا سہی پر میں شادی منہا سے قطعاً نہیں کروں گا میری پوری زندگی کا معاملہ ہے پئسو کا کیا ہے وہ تو آنی جانی چیز ہے۔ نعیم اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا بولا۔
ایک دن مزدوری کروگے نہ تو ساری اکڑ ختم ہوجائے گی پئسو کی اہمیت تب بتانا پئسا آنے جانے کی چیز ہے یا بس جانے کی۔ سعید مرزا نے ٹوکتے ہوئے کہا۔ نعیم بنا جواب دیا اندر کی طرف بڑھا۔
بھائی راضی نہیں ہوتا تو آپ چچا سے میری اور حیا کی بات کریں میں چاہتا ہوں ہماری شادی جلد ہو بھائی کا انکار ہمارے درمیاں خلش پیدا نہ کریں۔ حمزہ نے سنجیدگی سے اپنے باپ سے کہا
بھول جاوٴ نعیم کے انکار کے بعد تمہیں حیا کا رشتہ ملے گا۔ ہما بیگم نے فورن سے کہا۔
حیا بچپن کی منگ ہے میری دیکھتا ہوں کون بیچ میں آتا ہے ہمارے۔حمزہ رلیکس ہوکر بولا اُس کو اب کسی کی کوئی پرواہ نہیں تھی حیا کو اُس نے پوری طرح اپنے نام کرلیا تھا جس سے وہ اب پرسکون تھا۔







نعیم بھائی آگئے بڑا افسوس ہورہا ہے مجھے ماہر بھائی پہ۔ کشف نے سرسری انداز میں کہا۔
افسوس کیوں؟منہا نے انجان بن کر پوچھا
تمہیں چاہتے ہیں وہ اگر آپ کو کسی اور ہوتا دیکھے گے تو کتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑے گی ان کے دل میں۔ کشف نے افسوس سے کہا
تمہیں ضرورت نہیں ان سے ہمدردی کرنے کی۔ منہا نے ٹوک کر کہا
آپ نہیں کریں گی تو کوئی اور تو کریں گا نہ۔ کشف نے آرام سے کہا۔
حیا کہاں ہیں؟ منہا نے بات بدل کر پوچھا۔
کمرے میں ہے آجکل چہرے پہ جانے کونسا مساج کرتی ہے بہت گلو کرگیا ہے۔ کشف نے جواب دیا۔
وہ پہلے ہی خوبصورت ہے۔ منہا نے آنکھیں دیکھا کر کہا۔
تو میں نے کب کہا نہیں ہے۔ کشف نے کہا۔
کہنا بھی مت۔ منہا نے وارن کیا۔
ویسے ماہر بھائی کو پتا لگ گیا ہوگا اب تو نعیم بھائی کی آمد کا۔ کشف کی سوئی گھوم پِھر کر ماہر پہ اٹکی۔
تمہیں اگر یہی باتیں کرنی ہے تو میرے کمرے سے چلی جاؤ۔منہا نے زچ ہوکر کہا۔
جاتی ہوں کام ہے مجھے۔کشف منہ بناکر کہتی باہر چلی گئ اُس کے جانے کے بعد منہا نے ہوا میں سانس خارج کی۔





نعیم سے ملاقات ہوئی تمہاری؟عانیہ مرزا نے ڈنر کے وقت ماہر سے پوچھا۔
نہیں۔ماہر نے سنجیدگی سے یک لفظی جواب دیا
کیوں اتنے دن ہوئے ہیں اُس کو آئے ہوئے تمہیں ملنے جانا چاہیے تھا۔ عانیہ بیگم نے کہا
جی۔ ماہر نے پھر اتنا کہا۔
کیا بات ہے ماہر آجکل بہت خاموش خاموش نظر آتے ہو۔ عانیہ بیگم فکرمندی سے بولی۔
کجھ نہیں بس ایک شوٹ تھا اُس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ماہر نے بہانہ تلاشا جس سے عانیہ مرزا بلکل مطمئن نہیں ہوئی۔
کل میں نے تمہیں اور روبی کو ملوانا ہے بُکنگ ہوگئ ہے جاکر مل لینا تاکہ میں بات کو آگے کروں۔ عانیہ بیگم کجھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی پر ماہر نے کوئی جواب نہیں دیا۔





منہا سونے کے لیے لیٹنے والی تھی جب اُس کا فون رنگ کرنے لگا۔
یہ کس کا نمبر ہے؟منہا نے اسکرین پہ انون نمبر دیکھا تو خود سے سوال کیا پھر سرجھٹک کر کال اٹینڈ کرلی۔
کون؟ منہا نے سیدھا یہی سوال کیا۔
نعیم بات کررہا ہوں۔ دوسری طرف سنجیدہ آواز نے اُس کو کھڑا ہونے پہ مجبور کیا۔
اسلام علیکم!!!منہا نے جلدی سے سلام کیا۔
ملنا ہے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔ نعیم نے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
گھر آجائے بات ہوجائے گی۔ منہا نے کہا
گھر آنا ہوتا تو اِس وقت کال نہ کرتا میں جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ گھر پہ نہیں ہوسکتی۔ نعیم نےطنزیہ بھرے لہجے میں کہا۔
پھر کہاں ملنا ہے آپ کو اگر بات ضروری ہے تو کال پہ کرلیں ایسے ملنا مناسب نہیں لگتا۔ منہا نے جھجھک کر کہا۔
شوق سے نہیں ملنے کا کہہ رہا ہے اور نہ ڈیٹ کی آفر کررہا ہوں جو مناسب نامناسب کا درس دے رہی ہو کام کی بات ہے تبھی کہا۔ نعیم نے سخت انداز میں کہی بات پہ منہا شرمندگی محسوس کرنے لگی۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ منہا نے بنا تاخیر کیے کہا
جو بھی تھا مجھے دلچسپی نہیں میں نے لوکیشن سینڈ کی ہے کل وقت پہ آجانا۔ نعیم اپنی بات کہے بنا اس کی کجھ سنے کال کٹ کرگیا منہا فون کو بس دیکھتی رہی بس سرجھٹک کر میسج دیکھا جہاں ریسٹورنٹ کی لوکیشن تھی۔





واحب ایک بات کرنا تھی تم سے۔ واحب صاحب کو اپنے آفس میں بیٹھے کجھ ہی وقت گُزرا تھا جب ان کا جگری دوست مسٹر اسحاق ظفر آتے ہوئے بولے۔
ضرور کیا بات ہے؟ واحب صاحب خوشدلی سے بولے۔
شیراز سے تو تم ملے چُکے ہو۔ اسحاق ظفر نے اپنے بیٹے کا نام لیتے ہوئے کہا۔
ہاں بہت بار۔ واحب صاحب نے کہا۔
بُرا مت ماننا پر میں اور میری بیگم چاہتی ہیں ہم شیراز کی شادی تمہاری بیٹی کشف سے کریں ماشااللہ بہت پیاری بچی ہے جہاں جائے گی رونق لگائے گی اِس لیے ہم چاہتے ہیں وہ چراغ ہمارے گھر کو روشن کریں۔ اسحاق ظفر نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا جس کو سن کر واحب صاحب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ واحب صاحب یقین کرنے سے قاصر تھے۔
بلکل میں کیا یہاں تم سے مذاق کرنے آیا ہوں۔ اسحاق ظفر ان کی حیرانی پہ مسکراکر بولے۔
نہیں یہ تو اچھا ہوگا اگر ہماری دوستی رشتیداری میں بدل جائے گی تو۔ واحب صاحب نے کہا۔
ٹھیک ہے تو تم بات کرو گھر میں پھر ہم طے کرلیتے ہیں سارے معاملات۔اسحاق ظفر خوش ہوتے ہوئے بولے تو واحب صاحب نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔





کشف کی چھٹیاں ختم ہوگئ تھی آج وہ کالج جلد آگئ تھی جس کا اندازہ اُس کو تب ہوا جب موحد کہیں نظر نہیں آیا۔
بور دن ہے آج کا لگتا ہے۔ کشف نے اُداس شکل بنائے کہا۔
اتنا خوشگوار موسم ہے تو بور کیسا۔ طاہرہ اس کی بات سے متفق نہیں ہوئی۔
موحد نہیں آیا نہ ابھی۔ کشف نے وجہ بتائی
ایک تو تم موحد موحد کہتی رہتی ہو اُس کو تو زرہ پرواہ نہیں تمہاری پھر بھی۔ طاہرہ منہ بناکر بولی۔
پرواہ بھی ہوجائے گی ایک دن ویسے بھی
ضروری تو نہیں کہ وہ سب کجھ کہہ دے
دل میں جو کجھ بھی ہو آنکھوں سے نظر آتا ہے۔ کشف نے اُمید سے کہا پھر بات کا احتتام شعر سے کیا۔
اُس کے ساتھ رہ کر تم نے اپنی زندگی اسپوئل کردینی ہے۔طاہرہ نے کہا۔
بکواس نہیں کرو۔ کشف نے گھور کر کہا۔
میں نے جسٹ ایک بات کی کہاں تم مشہور بزنس ٹائیکون واحب احمد کی بیٹی اور کہاں موحد دونوں کا کوئی جوڑ نہیں۔طاہرہ نے سنجیدگی سے کہا۔
ہم دونوں کا جوڑ ہے اور وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اِس لیے کسی کے بارے میں بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو ایسا نہ ہو وہ وقت خود پہ آجائے۔کشف سخت لہجے میں کہتی وہاں سے اٹھ گئ
میں تمہارا انتظار کررہی تھی۔ کشف جو واپس جانے کا سوچ رہی تھی موحد کو آتا دیکھا تو مسکراکر بولی
کیوں؟ موحد سپاٹ انداز میں بولا
کبھی تو مسکراکر بات کرلیا کرو۔ کشف نے زاویئے بگاڑ کر کہا۔
کام کی بات ہے تو کرو ورنہ مجھے پریشان مت کرو۔ موحد نے کہا۔
موحد آے لو یو۔ کشف نے سامنے آکر کہا تو موحد نے ایک ناگوار نظر اُس پہ ڈالی آس پاس کھڑے اسٹوڈنٹس ان کی طرف دیکھنے لگے تھے
مس کشف مرزا آپ کا تو پتا نہیں پر مجھے میری عزت بہت عزیز سے تو بڑائے مہربانی دوبارہ مجھ سے ایسی بات مت کیجئے گا۔ موحد چبا چبا کر لفظ ادا کرتا اُس کے دل کو کئ ٹکڑوں میں بکھیرا۔
موحد۔
اناف۔ کشف نے کجھ کہنا چاہا پر موحد سختی سے ٹوکتا اپنے اپارٹمنٹ کی طرف چلاگیا خود پہ سب کی نظریں محسوس کرتی کشف کو آج پہلی بار موحد کا تلخ رویہ بُرا لگا تھا۔
بہت دیر سے ہی لیکن یہ سمجھ تو آیا کہ
محبت اگر قیمتی ہوتی ہے تو
عزت انمول ہوتی ہے۔








منہا پچھلے دس منٹ سے نعیم کا انتظار کررہی تھی اب وہ جانے کا سوچ رہی تھی جب نعیم اُس کو آتا دیکھا منہا نے اُس کو دیکھا جو گرے کلر کی شرٹ اور وائٹ پینٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے اچھا لگ رہا تھا۔
منہا؟ نعیم سامنے آتا تصدیق کرنے لگا منہا کو نعیم کا اِس طرح پوچھنا لگا اب وہ اتنی بدل بھی تو نہیں گئ تھی جو وہ ایسے سوال کرتا۔
جی منہا نور احمد۔ منہا نے سنجیدگی سے جواب دیا نعیم نے بغور اس کو دیکھا جو لائٹ براوٴن چادر میں چھپی ہوئی تھی۔
میں جو بات کروں اس کو غور سے سننا۔ نعیم نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
آپ کو جو بات کرنی ہے پلیز جلدی کریں پہلے ہی بہت دیر ہوگئ ہے۔ منہا نے کہا اُس کو عجیب سا محسوس ہورہا تھا۔
میں یہاں نہیں آنا چاہتا تھا موم ڈیڈ نے بہت پریشر ڈالا مجھ پہ جس وجہ سے مجھے آنا پڑا۔ نعیم کو منہا کی بات پہ غصہ تو بہت آیا مگر تحمل کا مظاہرہ کرکے آرام سے بولا۔
میں تم سے شادی نہیں کرسکتا۔ نعیم کی بات پہ اُس کا دل زور سے دھڑکا اُس کو اپنی سماعت پہ یقین نہیں آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر عانیہ مرزا کے بار بار اصرار کرنے پہ اُن کی بتائی ہوئی جگہ پہ آیا تھا جب سامنے سے ہاتھ ہلاتی روبی پہ نظر پڑی تو وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اُس کی طرف آیا۔
ہیلو۔ ماہر نے مروتً کہا۔
ہیلو کیسے ہو؟ روبی نے بال ایک طرف کرکے ایک ادا سے پوچھا ماہر نے بے زاریت سے اُس کی طرف دیکھا۔
میں ٹھیک تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔ ماہر نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
ہممم کافی سنا تھا پر اس سے زیادہ ہینڈسم ہو۔ روبی ایمپریس ہوکر بولی۔
میں یہاں موم کی وجہ سے آیا ہوں جو وہ سب چاہتی ہیں میں ایسا کجھ نہیں چاہتا۔ ماہر بنا فضول بات کیے اصل بات پہ آیا۔
کیا مطلب ہوا اِس بات کا؟ روبی نے پوچھا
مطلب یہ میں تم سے شادی نہیں کرسکتا بکوز ابھی میرا کوئی اِرادہ نہیں شادی کرنے کا دوسری بات کے میرے مائینڈ میں جیسی میں ہمسفر چاہتا ہوں وہ تم نہیں۔ماہر نے بنا لحاظ کیا کہا روبی کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہوگیا۔
تو تم یہاں میری انسلٹ کرنے آئے ہو۔ روبی ضبط کرتی بولی۔
میں صرف بات کرنے آیا ہوں۔ ماہر کندھے اُچکاکر بولا۔
میں کونسا تم سے شادی کے لیے مرے
روبی کی بات ماہر کی فون پہ آتی کال کی وجہ سے بیچ میں رہ گئ۔
ایسکیوز می۔ ماہر اسکرین کی طرف دیکھ کر سائیڈ پہ آیا تاکہ آرام سے بات ہوسکے۔
ماہر بات کرکے مڑا تو نظر کجھ فاصلے پہ بیٹھی منہا پہ پڑی منہا کو دیکھ کر اُس کو تعجب ہوا وہ جانتا تھا منہا کہیں اکیلی نہیں آتی جاتی نعیم کی اُس کی طرف پیٹھ تھی جس وجہ سے وہ جان نہ پایا تبھی دوسری طرف آیا تاکہ دیکھ سکے مگر نعیم پہ نظر پڑتے ہی اس نے زور سے مٹھیاں بھینچ لی تھی۔
منہا اِس کے ساتھ کیوں آئی ہے۔ ماہر اضطراب کی حالت میں بڑبڑایا۔
ایک دن نہیں دیکھ سکتا پوری زندگی نعیم کے ساتھ کیسے برداشت کروں گا۔ ماہر بے بسی سے کہتا ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا اُس کا موڈ بُری طرح خراب ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا رشتہ بڑوں نے طے کیا تھا بہتر تھا یہ بات آپ ان سے کہتے۔ منہا کافی دیر بعد بس یہی بول پائی۔
میں نے ہر کوشش کی ہے پر کوئی میری بات نہیں سن رہا اِس لیے تم سے کہہ رہا ہوں رشتے سے انکار کردو ورنہ ساری زندگی خوشیوں سے ترس جاوٴں گی۔ نعیم نے وارن کرنے والے انداز میں کہا۔
میرے کندھوں پہ بندوق چلانے سے اچھا ہے آپ چچا سے بات کریں یا میرے بابا سے پر میں ایسا کجھ نہیں کہوں گی جس سے میرے والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ منہا نے صاف انکار کرتے کہا۔
سوچ لوں بدنامی ہوگی تمہاری۔نعیم ضبط کرتا بولا
عزت اور زلت اللہ کے ہاتھ میں ہے آپ آرام سے پورے خاندان میں اعلان کردے کے آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی۔ منہا آرا سے بولی چاہے اُس کو نعیم کی باتوں سے تکلیف ہورہی تھی پر وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ٹھیک ہے پھر۔ نعیم کھڑا ہوتا بولا منہا نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔




سوچ سوچ کر اُس کا سردرد کررہا تھا ابھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ہاتھ کی انگلیوں سے ماتھا سہلا رہا تھا جب عانیہ بیگم کڑے تیور لیے کمرے میں داخل ہوئی۔
ماہر آج کی حرکت کی وجہ جان سکتی ہوں؟ عانیہ مرزا سخت لہجے میں استفسار کرنے لگی۔
موم میرے سر میں درد ہے کل بات ہوگی۔ ماہر نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
بات تو ابھی ہوگی تم جانتے ہو نہ روبی میری بیسٹ فرینڈ کی بیٹی ہے پھر بھی تم نے اُس کی انسلٹ کی پھر بنا بتائے چلے گئے۔ عانیہ بیگم غصے سے بولی۔
میں بچہ نہیں ہوں موم دوسری بات میں نے کوئی اُس کی انسلٹ نہیں کی۔ ماہر زچ ہوتا بولا
دیکھو ماہر روبی مجھے پسند ہے میں اُس کو تمہارے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں اِس لیے اپنا بیہیویر چینج کرو۔ عانیہ مرزا اٹل انداز میں بولی۔
شادی زندگی ساتھ بھر کا ساتھ ہے میں جیسی آئیڈیل لائیف پارٹنر چاہتا ہو اُس معیار پہ روبی نہیں ہوتی اور موم پلیز آج کے لیے اتنی بحث کافی ہے۔ ماہر بات ختم کرنے والے انداز میں بولا عانیہ مرزا کجھ پل اُس کو گھورنے کے بعد کمرے سے چلی گئ ان کے جانے کے بعد ماہر افسوس بھری سانس خارج کرتا سونے کی کوشش کرنے لگا۔





گھر واپس آنے کے بعد کتنے ہی آنسو اُس کی آنکھوں سے نکل کر بے مول ہوئے وہ نہیں جانتی تھی وہ کیوں رو رہی تھی وہ یہ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی سالوں پُرانہ رشتہ نعیم ایسے کیسے توڑ سکتا تھا۔
امی بابا کو کتنی تکلیف ہوگی اور حیا ایسے تو اس کا حمزہ کے ساتھ جوڑے رشتے پہ بھی اثرانداز ہوگا کیا ہوگا اب۔ منہا روتے ہوئے خود سے باتیں کرنے لگی۔
میرے خُدایا میری مدد فرما ہمارے رشتے پہ حیا اور حمزہ کا رشتہ متاثر نہ ہو نعیم کا دل بدل دے۔ منہا دعائیہ انداز میں بولی۔





میں واپس کینیڈا جارہا ہوں۔ نعیم لاوٴنج میں آتا سب سے بولا سعید مرزا آفس جانے کے لیے تیار تھے نعیم کی بات سن کر انہوں نے تیز نظروں سے اس کو گھورا۔
شادی کرلو بعد میں جہاں جانا ہے چلے جانا اپنی بیوی کے ساتھ۔ سعید مرزا بیوی پہ زور دیتے بولے۔
منہا سے میں شادی نہیں کرسکتا آپ مجھے عاق کرسکتے ہیں مگر میں جائداد کی لالچ میں کسی کی زندگی خراب نہیں کرسکتا۔ نعیم سنجیدہ آواز میں بولا۔
بھائی منہا بہت اچھی لڑکی ہیں آپ کا انکار ویسے بھی ان کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتا ہے بچپن سے آپ کے ساتھ منسوب ہے پورے خاندان کو یہ بات پتا ہے۔ حمزہ نے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا۔
میں جانتا ہوں تم یہ کیوں بول رہے ہو پر میں نہیں کرسکتا اُس سے شادی میں کسی اور کو چاہتا ہوں۔ نعیم کا لہجہ طنزیہ بھرا تھا۔
آپ کی وجہ سے بول رہا تھا میرا اپنا کوئی فائدہ نہیں۔حمزہ سنجیدگی سے کہتا کورٹ ہاتھ میں لیے باہر نکل گیا۔
سامان پیک کرو آج کے بعد میں تمہیں گھر میں نہ دیکھوں۔ سعید مرزا کڑخت لہجے میں بولے ہما بیگم نے دُھل کر سینے پہ ہاتھ رکھا نعیم کو فرق نہیں پڑا۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہما بیگم پریشان سی بولی۔
تم بیچ میں مت بولوں خاندان والے سارے رشتے ختم کردے گے اگر یہ بات ان کو پتا لگ گئ تو دو کوڑی کی عزت نہیں رہے گی کیا کہے گے وہ ہمیں اپنی زبان کا پاس نہیں۔سعید مرزا تیز آواز میں بولے۔ نعیم اندر کی طرف چلاگیا ہما بیگم کی ہمت نہیں ہوئی کجھ اور کہنے کی۔




اسحاق نے اپنے بیٹے کا رشتہ مانگا ہے کشف کا۔ واحب صاحب نے پاس بیٹھی سومل بیگم سے کہا۔
وہ تو ابھی کالج میں پڑھتی ہے بیس سال کی بھی نہیں ہوئی۔ سومل بیگم حیران ہوئی۔
اسحاق میرا دوست ہے کشف اب اتنی چھوٹی بھی نہیں شادی کے بعد پڑھائی پوری کرسکتی ہے پر یہ رشتہ بہت اچھا ہے ہاتھ سے جانا نہیں چاہیے۔ واحب صاحب نے کہا
جیسا آپ کو مناسب لگے پر ایک بار کشف سے اُس کی مرضی جان لیجئے گا۔ سومل بیگم نے کہا
کشف کو کیا اعتراض ہوگا بھائی صاحب نے بھی تو اپنی بیٹیوں کا رشتہ بچپن میں طے کرلیا تھا میں بھی کروں گا اپنی بیٹی کے لیے فیصلہ باپ ہوں اُس کا کوئی غلط فیصلہ تو نہیں لوں گا نہ۔ واحب صاحب سنجیدگی سے گویا ہوئے۔
بات سہی غلط فیصلے کی نہیں رسول ﷺ کا فرمان ہے جب آپ اپنی بیٹی کا رشتہ کریں تو ان کی رضامندی جان لیں۔ سومل بیگم نے رسانیت سے کہا۔
تم بتادینا اُس کو میری عزت کا معاملہ ہے۔ واحب صاحب بس اتنا بولے۔





نعیم کینیڈا واپس چلاگیا تھا رشتے سے انکار والی بات پورے خاندان میں پھیل گئ تھی نور احمد صاحب حد سے زیادہ غصے میں تھے رخشندہ بیگم کو جس بات کا ڈر تھا آخر کو وہ ہوگیا منہا اپنے کمرے میں مُقید ہوکر رہ گئ تھی حیا کو جتنا دُکھ منہا کا ہورہا تھا اُتنی پریشان اور فکر اپنے اور حمزہ کے لیے بھی ہورہی تھی وہ جانتی تھی اب اس کا اور حمزہ کا رشتہ بھی مُتاثر ہوگا جس سے اس کی جان سینے پہ اٹک گئ تھی کشف نے کالج جانا بند کرلیا تھا گھر میں ٹینشن والا ماحول چھاگیا تھا ماہر کو بھی یہ بات پتا چل گئ تھی پر اُس کو دکھ افسوس ہونے کے بجائے کمینی سی خوشی محسوس ہورہی تھی وہ اپنی محبت میں انا پرست بن گیا تھا جس کو بس اپنی پرواہ تھی۔
حمزہ اب کیا ہوگا ڈیڈ تو ہماری شادی بھی نہیں ہونے دے گے۔ حیا نے پریشان لہجے میں حمزہ سے کہا وہ دونوں اِس وقت پارک میں موجود تھے۔
ہمارا نکاح تو ہوگیا ہے اب کوئی جواز نہیں بنتا اگر ایسا کجھ ہوا تو تم بس میرے پاس آجانا۔ حمزہ نے آرام سے کہا
حمزہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ہمیں ایسے خوفیہ نکاح نہیں کرنا چاہیے تھا۔ حیا کو حمزہ کا اِس طرح رلیکس ہونا پسند نہیں آیا۔
حیا رلیکس یار دیکھتے کیا کرنا ہے تم فکر نہیں کرو۔ حمزہ نے مسکراکر کہا
تمہارے بھائی نے اچھا نہیں کیا میرے بہن کے ساتھ۔حیا افسوس سے کہا۔
جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں بھائی اور منہا کا کوئی جوڑ نہیں تھا اِس لیے ٹوٹ گیا اللہ نے چاہا تو منہا کے لیے کوئی اچھا سا پیار کرنے والا ہمسفر کا ساتھ لکھے گا۔ حمزہ نے گہری سانس لیکر کہا حمزہ کی اِس بات پہ حیا کے سامنے ماہر کا عکس لہرایا۔




اب کیا کرنے کا اِرادہ ہے آپ کا؟ واحب صاحب نے نور احمد سے پوچھا۔
میں بھائی صاحب سے حیا اور حمزہ کا بھی رشتہ ختم کردوں گا جہاں میری پہلی بیٹی کو ٹھکرایا گیا ہو وہاں میں اپنی دوسری بیٹی نہیں دوں گا۔ نور احمد صاحب نے کہا
خاندان والے باتیں بنائے گے۔ واحب صاف فکرمند سے بولے
وہ تو ابھی بھی بنارہے ہیں۔ نور احمد صاحب طنزیہ بولے۔
جیسے آپ کو مناسب لگے آپ دونوں کے لیے رشتہ تلاش کریں کشف کے لیے بھی اچھا سا رشتہ آیا ہے نعیم والے واقع کے بعد میں بتانا بھول گیا تھا۔ واحب صاحب نے کہا۔
اللہ کشف کے نصیب اچھے کریں منہا اور حیا کے بارے میں بھی سوچتا ہوں باہر سے تو بہت سارے رشتے آئے تھے پر ہم نے انکار کیا ہمیں کیا پتا تھا سالوں سے جوڑا گیا رشتہ عین موقعے پہ توڑا جائے گا۔ نور احمد افسوس سے بولے۔
اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے آپ بس پہلے جنہوں نے رشتے کی بات کی تھی ان سے رابطہ کریں اچھا ہے گھر میں تینوں بیٹیاں ایک ساتھ رخصت ہو۔ واحب صاحب نے کہا۔
دیکھتا ہوں یہ معاملہ بھی دیر نہیں کروں گا۔ نور احمد صاحب پُرسوچ انداز میں بولے۔





موم میں چاہتا ہوں آپ ماموں جان سے میرے اور منہا کے رشتے کی بات کریں۔ عانیہ مرزا اور عمران ملک آپس میں باتوں میں مصروف تھے جب ماہر ان کے پاس آکر سنجیدہ ہوکر بولا۔
دماغ سیٹ ہے تمہارا کل تک شادی کا کوئی موڈ نہیں تھا اب منہا سے شادی کرنا چاہتے ہو جس کا رشتہ پہلے ہی ٹوٹ گیا ابھی بس ایک مہینہ ہوا ہے بس۔ عانیہ مرزا منہ بگاڑ کر بولی۔
میں منہا سے بے انتہا محبت کرتا ہوں آپ میرے رشتے کی بات کریں اِس سے پہلے دیر ہوجائے۔ماہر کا انداز ہنوز سنجیدہ تھا۔
میں نے تمہارے لیے روبی کا سوچا ہے اِس لیے منہا کا سوچنا چھوڑ دو۔ عانیہ مرزا نے آرام سے کہا
روبی کے لیے میں انکار کرچُکا ہوں اور آپ کیا اپنی بھتیجی سے زیادہ دوست کی بیٹی کو فوقیت دے گی۔ ماہر کو یقین نہ آیا۔
جو سمجھو پر مجھے روبی پسند ہے تمہارا اور اُس کا پرفیکٹ جوڑ ہے منہا بلکل تمہارے ساتھ نہیں جچے گی۔ عانیہ مرزا نے کہا۔
میں منہا سے محبت کرتا ہوں صرف اور صرف منہا کو چاہتا ہوں میری زندگی میں اگر کسی لڑکی کی گنجائش ہے تو وہ ہے منہا اگر وہ نہیں تو کوئی اور بھی نہیں اگر آپ رشتہ لیکر نہیں گئ تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلا جاوٴں گا کبھی نہ آنے کے لیے۔ ماہر سنجیدگی سے دونوں کی طرف دیکھ کر کمرے کی طرف بڑھا۔
دیکھا آپ نے کیسا باغی انداز تھا ماہر کا آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا منہا ابھی گھر میں آئی نہیں ماہر کے تیور بدلے بدلے سے ہیں جب آجائے گی تو ہمارا وجود تو نظر ہی نہیں آئے گا۔عانیہ مرزا بدگمان ہوکر بولی۔
تم رشتے کی بات کرو اپنے بھائی سے ماہر کی بات پوری ہوگی تو ٹھیک ہوجائے گا۔ عمران صاحب نے کہا
مجھے روبی پسند ہے میں نے بس ماہر کے ساتھ روبی کا سوچا ہے۔ عانیہ مرزا نے کہا
زندگی ماہر نے گُزارنی ہے بہتر ہے ہم اُس کی پسند کو ترجیح دے منہا اپنے گھر کی بچی ہے تمہاری اپنی بھتیجی بھی اِس لیے ضد چھوڑ دو۔ عمران صاحب نے سمجھانے والے انداز میں کہا جس پہ عانیہ مرزا نے نفرت سے سرجھٹکا۔
