Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 05)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 05)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
منہا کیا تمہیں نعیم بھائی سے محبت تھی جو یوں خاموش رہنے لگی ہو۔ کشف نے منہا سے سوال کیا جو زیادہ تر اپنے کمرے میں رہا کرتی تھی۔
اصل محبت نکاح کے بعد ہوتی ہے جس میں پاکیزگی ہوتی ہے مانتی ہوں ہمارے خاندان میں منگنی کو نکاح کی حیثیت حاصل ہے پر در حقیقت میں ایسا نہیں ہے مجھے شاید محبت ہوجاتی نعیم سے پر اُس نے کبھی مجھے احساس نہیں کروایا اُس کا رویہ اُس کا انداز مجھے آگے بڑھنے سے روکتا تھا ویسے بھی آجکل کی محبتیں جو نکاح سے پہلے ہوتی ہیں ان کا مطلب ہے۔
م مزاق
ح حوس
ب بحث
ت تعلق ختم
منہا کشف کی بات پہ عجیب مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
ایسا نہیں ہے منہا محبت کا اصل مطلب ہے۔
م مراد
ح حسرت
ب بے انتہا
ت تاحیات
محبت کے لیے دل کا نیک ہونا ضروری ہے آپ کے جذبات سچے ہو آپ کا مخلص ہونا ضروری ہوتا ہے محبت میں حوس نہیں ہوتی جہاں حوس ہو وہاں محبت نہیں ہوتی کیونکہ یہ دونوں ساتھ نہیں ہوسکتی محبت ظاہری وجود کی محتاج نہیں ہوتی اُس کا بس احساس ہی کافی ہوتا ہے۔کشف منہا کی بات سے اختلاف کرتی بولی۔
بڑی سمجھداری والی باتیں کرنے لگی ہو کافی معلومات بھی ہے محبت کے بارے میں۔منہا پہلے حیرت سے کشف کا سنجیدہ انداز دیکھ رہی تھی پھر اُس کی ساری بات سننے کے بعد بولی۔
بس دیکھ لیں کبھی غرور نہیں کیا۔ کشف نے گردن اکڑ کر کہا تو منہا ہنس پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کشف منہا سے بات کرنے کے بعد اپنے کالج کا کام کررہی تھی جب سومل بیگم دروازہ نوک کرتی اندر آئی۔
کشف بات کرنی ہے تم سے۔ سومل بیگم نے سنجیدگی سے کہا
جی امی کہے میں سن رہی ہوں۔ کشف نے کہا
تمہارے ڈیڈ نے تمہارا رشتہ طے کرلیا ہے اپنے کسی دوست سے۔ سومل بیگم کی بات پہ کشف کو لگا جیسے پورے گھر کی چھت اُس پہ آگری ہو۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ کشف کو اپنی آواز دور سے آتی محسوس ہوئی۔
وہی جو سنا تم نے واحب نے کہا تمہیں بتادوں۔ سومل بیگم نے کہا۔
آپ بنا میری مرضی جانے ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔کشف چیخ کر بولی۔
کشف سنبھالوں خود کو ماں ہوں تمہاری۔سومل بیگم ناگواری سے بولی۔
میں شادی نہیں کروں گی آپ ڈیڈ کو بتادے یہ بات۔ کشف اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی بولی اُس کا دل گھبرانے لگا تھا موحد کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی اُس کے لیے سوہانِ روح تھا۔
زبان دے رکھی ہے تمہارے ڈیڈ نے اس کی عزت پہ داغ مت آنے دینا۔ سومل بیگم نے دو ٹوک انداز میں کہا پھر وہ روکی نہیں تھی ان کے جانے کے بعد کمرے میں کشف کی سسکیوں کی آوازیں گونجنے لگی جس کا سلسلہ ساری رات چلا۔






بھائی آپ پریشان نہ ہو منہا اور حیا کو میں نے اپنی بیٹیاں ہی سمجھا ہے میں پاکستان جلد آنے کی کوشش کروں گی پھر مل بیٹھ کر بات ہوگی۔ فاریہ مرزا نے تسلی آمیز لہجے میں کال پہ نور احمد صاحب سے کہا
کیا بات ہوگی؟ نور احمد صاحب نے پوچھا۔
منہا تو ولید سے کجھ بڑی ہے اِس لیے حیا کی طرف سے بے فکر ہوجاٶ میں حیا کا رشتہ ولید کے لیے مانگتی ہوں۔ فاریہ مرزا نے بتایا تو نور احمد نے شکر بھرا سانس خارج کیا۔
میری فکر دور کردی غیروں سے اچھا ہے آپ کے پاس آجائے۔نور احمد تشکرانہ لہجے میں کہا۔
بلکل مجھے تو حیا کو اپنی بہوں بنانے کا ارمان تھا پر بابا سائیں نے جو فیصلہ کیا تو خاموش رہی۔ فاریہ مرزا نے مسکراتے کہا۔
کبھی کبھی بڑوں کا فیصلہ غلط ثابت ہوجاتا ہے نور احمد صاحب نے کہا۔
یہ تو ہے پر ہمیں بھی چاہیے اپنی اولاد کے بالغ ہونے کا انتظار کریں پھر ان کی رضامندی جان کر بات کریں ورنہ بعد میں ان کے دماغ میں بھی نیگیٹویٹی آجاتی ہے فاریہ بیگم نے کہا۔
بات تو سہی کی بس تم جلدی کرو آنے کی میں اب کوئی تاخیر نہیں کرنا چاہتا بھائی صاحب کو بتانا چاہتا ہوں اگر ان سے رشتہ ختم ہوا تو دنیا میں باقی رشتوں پہ قال نہیں پڑی۔ نور احمد صاحب نے کہا تو فاریہ مرزا نے اپنے جلدی آنے کی تسلی دلاکر رابطہ ختم کیا۔




ساری رات رونے کے بعد وہ بنا ناشتے کیے کالج آگئ تھی ایک دو سے موحد کا پوچھا جو شاید کلاس فیلو کے ساتھ اسائیمنٹ بنارہا تھا۔
بات کرنی ہے تم سے۔کشف بنا کسی پہ توجہ دیئے موحد پہ سر پہ کھڑی ہوکر بولی موحد انکار کرنے والا تھا مگر حد سے زیادہ سرخ آنکھیں چہرے کے سنجیدہ تاثرات نے اُس کی بات سننے پہ مجبور کیا تبھی کھڑا ہوگیا کشف موحد کا ہاتھ تھامتی کالج کی بیک سائیڈ لیں آئی۔
موحد اپنے گھروالوں کو میرے رشتے کے لیے بھیجو۔ کشف کی بات پہ موحد نے ایسے دیکھا جیسے اُس کا دماغ چل گیا ہو۔
رشتہ کیوں؟ موحد سپاٹ لہجے میں بولا
موحد محبت کرتی ہوں میں تم سے ڈیڈ نے میرا رشتہ کسی اور سے طے کیا ہے پلیز تم رشت ۔ بھیجو میں تتمہارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ کشف اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑتی بولی۔
میں تم سے پیار نہیں کرتا اور تمہیں بھی کہا ہے میرے بارے میں ایسے خیالات سوچنا بند کردوں۔ موحد سفاکی سے بولا۔
موحد پلیز ایسے نہیں کرو تم بس میرا ساتھ دو محبت کا کیا ہے وہ بھی ہوجائے گی۔ کشف موحد کا چہرہ ہاتھ کے پیالے میں بھرتی دیوانہ وار بولی۔
اسٹے اوے۔ موحد قدم پیچھے لیکر بولا کشف پتھرائی نظروں سے موحد کو دیکھنے لگی۔
موحد۔ کشف کے لب پھڑپھڑائے۔
میں نہ کل تمہارے بارے میں سوچتا تھا اور آج ایسا سوچتا ہوں میرے دل میری زندگی میں تمہارے گنجائش نہیں یہ بات جتنی جلدی سمجھ جاؤ تمہارے لیے بہتر ہے۔موحد بنا کشف کے آنسوؤ کی پرواہ کرتا بول کر چلی گئ کشف کے اندر چھناک سے کجھ ٹوٹا تھا اپنے بکھرے وجود کے ساتھ وہ نیچے بیٹھتی چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آنے کے بعد اُس کو پیغام ملا کے واحب صاحب اسٹڈی روم میں اُس کا انتظار کررہے ہیں کشف کجھ کہنے سننے کی حالت میں تو نہیں تھی پر پھر بھی اسٹڈی روم میں آئی۔
بیٹھو۔ واحب صاحب نے اس کو دیکھ کر بیٹھنے کا اِشارہ کیا۔
اپنی ماں سے کیا کہاں ہے تم نے؟ واحب صاحب نے روعبدار لہجے میں پوچھا۔
انہوں نے بتایا ہے تو میرے سے پوچھنے کا مطلب۔کشف تلخ انداز میں بولی۔
انکار کی وجہ شیراز اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے پئسا دولت طاقت حسن ہر نعمت سے مالا مال ہے اور کیا چاہیے تمہیں۔واحب صاحب نے پوچھا۔
میں کسی اور کو چاہتی ہوں ڈیڈ۔ کشف سرجھکا کر مجرمانہ انداز میں بولی۔
کون ہے وہ؟ واحب صاحب نے جاننا چاہا۔
کالج میں پڑھتا ہے میرے موحد نام ہے اُس کا آپ ایک دفع اس سے مل لیں آپ کو پسند آجائے گا۔ کشف نے ایک اُمید سے کہا۔
پورا نام کیا ہے اُس کا کونسا بزنس ہے اُس کا؟ واحب صاحب نے ایک ساتھ سوال پوچھے۔
موحد یوسف پورا نام ہے بزنس نہیں ہے کوئی پڑھائی کے ساتھ جاب کرتا ہے والد کی وفات کجھ عرصہ پہلے ہوچکی ہے جس سے اب اپنی تین بہنوں اور ماں کا خیال وہی رکھتا ہے۔ کشف نے بتایا۔
تم کروڑوں روپے کی مالک ہو تمہیں کیا لگتا ہے ہم تمہارا رشتہ میڈل کلاس لڑکے سے کریں گے۔ واحب صاحب حقارت سے بولے۔
ڈیڈ وہ بہت اچھا اور ذمیدار انسان ہے آپ کو اس کا اسٹیٹس دیکھنے کے بجائے میری خوشی دیکھنی چاہیے۔ کشف نے تڑپ کر کہا۔
بس بہت ہوگیا کشف میں نے اپنے دوست سے بات کی ہے ان کو آنے کا وقت بھی دیا ہے میڈل کلاس لڑکے بس امیر لڑکیوں کو جال میں پھنسا کر ان کی سار ۔ دولت حاصل کرلیتے ہیں۔ واحب صاحب سنگدلی سے بولے۔
موحد ایسا نہیں ہے آپ ایک دفع مل تو لیں۔ کشف نے کہا۔
میں کہہ دیا نہ اب جاؤ یہاں سے اُمید ہے ایسا کوئی کام نہیں کروں گی جس سے میرا سر شرم سے جھک جائے۔واحب صاحب دو ٹوک انداز میں بولے کشف اپنے آنسو پیتی اسٹڈی روم سے نکل گئ۔





عانیہ مرزا عمران مٙلک کے ساتھ مُردہ دل لیے منہا کا ہاتھ مانگنے آئی تھی پر انہوں نے سوچ لیا تھا زیادہ دیر منہا کو اپنے گھر ٹکنے نہیں دے گی۔
ہم یہاں ایک خاص مقصد کے لیے آئے ہیں۔ عمران صاحب نے بات شروع کی۔
جی کہے۔ نور احمد صاحب نے خوش اسلوبی سے کہا۔
ہماری دلی خواہش ہے کے ماہر اور منہا کا رشتہ جوڑ دیا جائے پہلے جو کجھ ہوا وہ قسمت کی بات تھی۔ عمران صاحب نے کہا نور احمد نے رخشندہ بیگم کی طرف دیکھا جن کے چہرے پہ رونق آگئ تھی۔
ہم سوچ کر جواب دے گے۔ نور احمد صاحب نے کہا۔
سوچنا کیا ہے ہم کونسا غیر ہیں۔عانیہ مرزا نے کہا۔
پہلے جنہوں نے توڑا وہ بھی غیر نہیں تھے۔ رخشندہ بیگم نے جواب دیا۔
نعیم کو اگر منہا پسند نہیں تھی تو زبردستی تو اس کے گلے کا ہار نہیں بنایا جا سکتا تھا نہ۔ عانیہ مرزا نے سرجھٹک کر کہا اُن کی بات کسی کو پسند نہیں آئی پر سب خاموش رہے۔
فاریہ بھی آرہی ہے پاکستان کشف کا بھی رشتہ ہم نے طے کرلیا ہے ہم چاہتے ہیں تینوں کی ایک ساتھ شادی ہو۔ نور احمد صاحب نے بتایا۔
جیسا آپ کو مناسب لگے۔ عانیہ مرزا نے کہا۔
میں میٹھائی لیکر آتی ہوں۔ سومل بیگم مسکراکر کچن کی طرف چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبارک ہو میری بہن ماہر سے آپ کا رشتہ پکا ہوگیا۔ حیا نے خوشی سے منہا کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا۔
کیا سچ میں ایسا ہوگیا ڈیڈ مان گئے۔منہا تعجب سے بولی اُس کو سب خواب سا لگ رہا تھا
سو فیصد سچ۔ حیا نے چہک کر بتایا۔
اتنی جلدی کیا تھی سب کو۔ منہا نے افسوس سے کہا
جلدی کہاں ہیں یہ تو خوشی کی بات ہے۔ حیا نے مسکراکر کہا۔
بلکل اچھا ہوا فاریہ نے ولید کے لیے تمہارا ہاتھ مانگ لیا۔رخشندہ بیگم کمرے میں آتی بولی تو حیا کی مسکراہٹ فورن سے سمٹ گئ۔
کیا مطلب میرا رشتہ حمزہ سے طے ہے ولید کہاں سے بیچ میں آگیا۔ حیا اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاکر بولی۔
شرم کرو تمہیں لگتا ہے منہا کے بعد ہمیں تمہیں اُس گھر بھیجے گے ہرگز نہیں ہمارا ان سے اب کوئی تعلق نہیں۔ رخشندہ بیگم نفرت سے بولی
پر اِس میں ہمارا کیا قصور۔ حیا نے کہا۔
بحث نہیں کرو اور خبردار جو کوئی آواز کی یا انکار کا سوچا بھی تو۔ رخشندہ بیگم نے بُری طرح ڈپٹ کر کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا فورن سے کمرے میں آتی حمزہ کو کال کرنے لگی پر اُس کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا حیا کو ٹیشن ہونے لگی پورے گھنٹے لگاتار وہ کال کرتی رہی پر نمبر بند جارہا تھا تھک ہار کر اپنا سر پکڑ کر وہ بیڈ پہ بیٹھ گئ۔
میرے خدایا اب کیا ہوگا میں تو حمزہ کے نکاح میں ہوں اور گھر والے کسی اور سے نکاح کروانے کا سوچ رہے ہیں۔ حیا پریشانی سے اللہ کو مخاطب ہوئی۔
حمزہ کا فون کیوں بند ہے۔ حیا کشن زمین پہ پھینک کر بولی۔
کل بات ہوگی تو بتادوں گی۔ حیا خود کو تسلی دینے لگی پر دل کو ایک پل سکون میسر نہیں ہورہا تھا۔




آج مسٹر اسحاق ظفر اور ان کی بیوی راحیلہ کشف کو انگھوٹی پہنانے آئے تھے۔
ماشااللہ بہت پیاری بچی ہے آپ کی راحیلہ بیگم نے کشف کو دیکھ کر کہا جو روبوٹ کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔
جی بس اللہ نصیب اچھا کریں۔ سومل بیگم نے مسکراکر کہا۔
ایسکیوز پلیز۔ کشف سنجیدگی سے کہتی وہاں سے اُٹھ گئ۔
لگتا ہے شرماگئ۔ راحیلہ بیگم نے اندازہ لگایا جس پہ سومل بیگم زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر سرہلایا۔





صبح سے حیا کو اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی حمزہ کے آفس جاکر اُس کو پتا لگا کہ وہ کجھ دِنوں سے آوٴٹ آف کنٹری یہ بات حیا کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا حمزہ بنا بتائے کہیں گیا تھا اب جب اُس کو زیادہ حمزہ کی ضرورت تھی وہ موجود نہیں تھا وہ جو پہلے ہی پریشان تھی طبیعت خراب ہونے پہ کلینک آگئ تھی جہاں ایک اور نئ خبر اُس کی منتظر تھی جو اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔
کانگریس آپ ایکسیپٹ کررہی ہیں۔ ڈاکٹر نجمہ نے کہا تو وہ گنگ سی ان کا چہرہ تکنے لگی چہرے کے رنگ لٹھے مانند سفید ہوگیا تھا۔
آپ کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ حیا نے ماتھے سے ننہی بوندیں صاف کرتے ہوئے کہا۔
پچیس سال کا تجربہ ہے میں ڈاکٹر ہوں رپورٹ آجائے گی تو آپ کو بھی یقین ہوجائے گا۔ ڈاکٹر نجمہ نے مسکراکر کہا۔
گھر آکر حیا نے حمزہ سے رابطہ کیا مگر سب نے سود ای میل پہ اُس بے ایک سب کجھ بتادیا پر سکون کی گھڑیاں جیسے چھین لی گئ تھی فاریہ مرزا کی آمد میں بھی چند دن رہ گئے تھے





امی آپ ڈیڈ سے بات کریں مجھے نہیں کرنی شادی۔ کشف نے التجایہ انداز میں سومل بیگم سے کہا۔
کشف فضول کی ضد مت کرو جس کے لیے تم ماں باپ کے فیصلے پہ اختلاف کررہی ہو اُس کے ساتھ رُل جانے کے علاوہ تمہیں کجھ حاصل نہیں ہوگا۔ سومل بیگم نے سخت لہجے میں کہا
آپ لوگ ایک دفع مل تو لیں۔ کشف نے بے بسی سے کہا۔
وہ بھی تمہیں چاہتا ہے؟ سومل بیگم نے جاننا چاہا جس پہ کشف کا سر نفی میں ہلا۔
تو ہم کیا کریں گے اُس سے مل کر۔سومل بیگم نے طنزیہ کہا۔
آپ راضی ہوجائے موحد میں راضی کرنا میرا کام ہے۔ کشف نے سنجیدگی سے کہا۔
کشف ہمیں سختی کرنے پہ مجبور مت کرو جو ہورہا ہے اُس کو ہونے دو بھول جاؤ دوسرے لڑکے کو۔سومل بیگم اس کی بات سنے بنا بولی۔





کسی ہیں؟ ماہر نے مسکراکر منہا سے پوچھا جو یونی کے گیٹ پہ کھڑی ساگر کا انتظار کررہی تھی۔
آپ یہاں؟ منہا حیران ہوکر بولی۔
جی میں آپ کے ساتھ لنچ کا پروگرام بنایا ساگر کو بتادیا ہے وہ نہیں آئے گا آپ کو لینے دوسرا یہ کے میں ماموں جاں سے اجازت لیں چُکا ہوں۔ ماہر نے مسکراکر ایک سانس میں سب بتادیا جب سے منہا اُس کے ساتھ منسوب ہوگئ تھی اُس کو سب کجھ خوبصورت لگنے لگا تھا سرشار سی کیفیت ہر وقت اپنے اندر محسوس ہوتی تھی۔
ٹھیک ہے۔ منہا نے بس اتنا کہا۔
چلیں پھر۔ ماہر نے کہا پھر وہ اُس کے ساتھ گاڑی کی طرف آئی۔
بابا نے اجازت دے دی؟ منہا نے سوال کیا کیونکہ ان کے یہاں منگنی ہونے کے بعد جب تک شادی نہ ہوجائے لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے سے ملنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔
جی بلکل میں نے کہا اِس انداز سے کے وہ انکار نہیں کرپائے۔ ماہر نے جواب دیا۔
لنچ کا پروگرام کیوں بنایا آپ نے؟ منہا نے دوسرا سوال داغا۔
پوچھنا چاہتا تھا آپ رشتے سے خوش ہیں یا نہیں کیونکہ میں تو بہت خوش ہوں۔ماہر نے مسکراکر جواب دیا اُس کو منہا کا سوال کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
اچھا۔ منہا اتنا کہہ کر خاموش ہوگئ۔
جی تو بتائے آپ خوش ہیں؟ ماہر نے ڈرائیونگ کرتے سوال پوچھا۔
جی میں خوش ہوں۔ منہا نے جواب دیا۔
خوش ہوئی جان کر۔
ایک سوال پوچھو؟ منہا نے اجازت چاہی۔
جی پوچھے۔
میں آپ سے دو سال چھوٹی ہوں پھر آپ مجھے آپ؛ کیوں کہتے ہیں؟ منہا نے جاننا چاہا اُس کو یاد آیا نعیم بار بار اُس کو تم؛ کہہ کر مخاطب کررہا تھا جب کی ماہر ہمیشہ آپ؛ کہہ کر احترام سے بات کرتا تھا۔
کیوں کی آپ ان کو کہتے ہیں جن کی آپ عزت کرتے ہیں اور یہ کہاں لِکھا ہے جو آپ سے عمر میں بڑا ہو بس ان کو آپ کہہ کر مخاطب کیا جائے دل میں اگر کسی کی عزت ہو تو چاہے آپ سے کوئی چھوٹا ہی کیوں نہ ہو منہ سے ان کے لیے آپ ہی نکلتا ہے۔ ماہر نے آرام سے بتایا تو منہا مُسکرادی۔
باتیں اچھی کرلیتے ہیں آپ باتوں سے لوگوں کو آرام سے اپنی طرف راغب کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ منہا نے کہا
تو کیا میرا یہ ہنر آپ پہ بھی کام آگیا؟ ماہر نے شرارت سے اس کی جانب دیکھ کر کہا جس پہ منہا مسکراکر دوسرے طرف دیکھنے لگی پر ماہر کو اپنا جواب مل گیا تھا ریسٹورنٹ پہنچ کر ماہر نے گاڑی روک کر منہا کی طرف آیا پھر دونوں اندر کی طرف بڑھے۔





محبت کا کتنا عجیب
رشتا ہے
دل تکلیف میں ہے
اور
تکلیف/
دینے والا دل میں
کشف نے آج موحد کو کال کی تھی جو پانچ چھ کالز کے بعد موحد نے ریسیو کرلی تھی تبھی کشف نے شعر پڑھا۔
کیوں بار بار کال کررہی ہو؟ موحد نے بے زاریت سے پوچھا۔
تمہیں پتا ہے موحد میں نے ہمیشہ اپنے ہاتھ کی انگلی پہ تمہارے نام کی انگھوٹی پہننے کا سوچا تھا پر دیکھو میرے ہاتھ کی انگلی میں کسی اور کے نام کی انگھوٹی ہے۔ کشف نے ہاتھ میں پہنی انگھوٹی کو دیکھ کر اُداس مسکراہٹ سے بتایا۔
اچھی بات ہے۔ موحد بس اتنا بول پایا۔
تمہارے لیے اچھی بات ہوگی تم نے سوچا ہوگا جان چھوٹی پر موحد ایک بات بتادوں میں ہمیشہ تمہیں چاہوں گی میرا دل ہمیشہ تمہارا منتظر رہے گا۔ کشف نے کہا۔
زندگی میں آگے بڑھ جانا بھول جاؤ تمہاری زندگی میں کوئی موحد بھی تھا۔موحد نے گہری سانس بھر کر کہا۔
تم میری زندگی میں کہاں تھے موحد وہ تو میں پاگل تھی جو تمہیں اپنی زندگی سمجھ بیٹھی۔کشف کے جواب پہ موحد کجھ بولنے کے قابل نہ رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا ماؤف دماغ کے ساتھ ہاتھ میں رپورٹ تھامتی گھر میں داخل ہوئی تھی آج اُس کو ہوسپٹل سے کال آئی تھی کے آکر اپنی رپورٹس لیں جائے جی کی اُس کی پریگنسی کی تھی اور پوزیٹو آئی تھی یہ بات جان کر وہ سچ میں ماں بننے والی ہے اُس کا خون خشک ہوگیا تھا گھر میں کسی کو پتا چل گیا تو کیا کہے کیا سوچے گے کیا ہوگا یہ باتیں سوچ سوچ کر اُس کا دل گھبراہٹ کا شکار ہوگیا تھا رپورٹس کو چھپاتی وہ سیدھا کشف کے کمرے میں آئی جو کال پہ بات کررہی تھی وہ اِس کنڈیشن میں نہیں تھی کجھ سمجھ پاتی پر بے دھیانی میں کشف کے الفاظوں نے اس کی باتیں سننے پہ مجبور کردیا۔
زندگی میں نہ ہمیں ہر چیز ملتی ہے پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ کوئی جان سے زیادہ پیارا ہوجاتا ہے پھر اللہ وہ ہم سے چھین لیتا ہے یا دور کردیتا ہے پھر ہماری ساری زندگی ایک اس لاحاصل کی حسرت میں گُزر جاتی ہے تم میری ہر دعاؤں میں شامل ہوتے ہو مجھے لگتا تھا تمہیں میری محبت نظر ضرور آئے گی پر تم نے مجھے موقف تک نہیں دیا میں خود کو ایسے بنالیتی جیسا تم چاہتے ہو میں کبھی کوئی فرمائش نہ کرتی فاقے کی زندگی بھی تمہارے ساتھ ہنسی خوشی گُزار لیتی پر تم نے مجھے موقع نہیں دیا ایک بار بھی نہیں۔کشف روتے ہونے بولتی کال کاٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی حیا اپنا غم تکلیف بھولاتی کشف کی طرف بڑھی۔
کشف سنبھالوں خود کو۔ حیا اس کو اپنے ساتھ لگاتی بولی
حیا میں بہت چاہتی ہوں اُس کو پلیز اُس کو کہو میری محبت قبول کردے۔ کشف حیا کے ہاتھ تھامتی اُمید سے بولی۔
وہ تمہیں نہیں چاہتا اگر چاہتا تو کبھی تمہیں کسی اور کا ہوتا نہ دیکھتا۔ حیا نے سمجھانے کی خاطر کہا کشف خالی خالی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
حضرت علی رضہ
مولا علی رضہ فرماتے ہیں تم کسی کو چاہوں اور وہ تمہیں ٹھکرادے تو یہ اُس کی بدنصیبی ہے اُس کے بعد بھی اگر تم اُس کو زبردستی اپنانا چاہوں تو یہ تمہارے نفس کی زلت ہے۔
حیا اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی۔
میں کیا کروں اُس کو بھولنا میرے بس میں نہیں۔کشف بے بسی سے بولی
صبر کرلوں اگر وہ تمہاری قسمت میں نہیں تو سمجھ لوں اللہ نے کجھ اور بہتر لِکھا ہے اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ حیا نے نرمی سے کہا تو پہلی دفع کشف کا دھیان اُس کے زرد چہرے اور سوجھی آنکھوں کی طرف گیا۔
تمہیں کیا ہوا ہے چہرے کا رنگ پیلا کیوں ہورہا ہے آنکھیں بھی لال ہورہی ہیں۔ کشف نے فکرمندی سے پوچھا جس پہ حیا زخمی مسکرادی اور اُٹھ کر بنا کجھ کہے رپورٹس اُٹھاکر کشف کی طرف بڑھائی کشف ناسمجھی سے اس کو دیکھ کر رپورٹس پاتھ میں لیکر کھول کر دیکھنے لگی جیسے جیسے دیکھتی گئ اُس کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھل گئ۔
یہ کیا حماقت کرڈالی تم نے۔ کشف نے غصے سے رپورٹس اُس کی طرف پھینک کر کہا۔




Episode 3
حمزہ کا ایک ہفتے سے موبائل سوئچ آف ہے نعیم بھائی کے انکار پہ ڈیڈ نے میرا رشتہ دینے سے بھی انکار کیا یہ بات حمزہ کو پتا بھی ہے یا نہیں میں نہیں جانتی ہر طریقے سے حمزہ سے رابطہ کرنا چاہا پر کوئی فائدہ نہیں ہوا ڈیڈ نے میرا رشتہ ولید سے طے کرلیا ہے کل پڑسو وہ آرہے ہیں ہم تینوں کی شادی ایک ساتھ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے مجھے کجھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں۔ حیا نے روتے ہوئے سارا کجھ بتادیا۔
دماغ درست ہے اب کیا نکاح کے اُپر نکاح کروگی اور یہ بچہ جو تمہارے پیٹ میں ہے کون یقین کرے گا جائز ہے یہ گھر میں اگر کسی کو پتا لگ گیا تو سوچا ہے کیا قیامت آجائے گی تمہیں ضرورت کیا تھی خوفیہ نکاح کرنے کی ایک تو گھروالوں سے چھپ کر حمزہ سے روز ملا کرتی تھی اب یہ اففف اللہ۔ کشف ایک سانس میں کہتی اُس کو دیکھنے لگی جو رونے مصروف تھی۔
حیا تم پریشان نہیں ہو رپورٹس میں اپنے پاس رکھتی ہوں ابھی کسی کو نہیں بتانا آج نہیں تو کل حمزہ خود رابطہ کرلیں گا کہیں بزی ہوگا اُس کو جب سب پتا لگے گا تو خود ہینڈل کرلیں گا۔ کشف نے ابھی کی تسلی آمیز لہجے میں کہا جس پہ حیا مطمئن نہیں ہوئی اُس کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑک رہا تھا۔




موحد کیا بات ہے آجکل پریشان رہتے ہو؟ صائمہ باہر صحن میں چارپائی پہ موحد کو خاموش بیٹھا دیکھا تو کہا۔
کجھ نہیں آپا بس ایسے ہی۔ موحد نے مسکراکر ٹالنے کی کوشش کی۔
بڑی بہن ہوں اگر کوئی بات ہے تو مجھے بتاسکتے ہو۔ صائمہ نے کُریدہ۔
ایسی تو کوئی بات نہیں بس اسکالر شپ کے لیے کجھ پریشان ہوں۔ موحد نے بہانا بنایا۔
اسکالر شپ کے لیے کیوں پریشان ہو اگر سلیکشن نہ بھی ہوئی تمہاری تو خیر ہے ہمارا اچھا گُزر بسر تو ہورہا ہے نہ جو تم پارٹ ٹائم جاب کرتے ہو کالج کی فیس بھی تو ہوجاتی ہے۔ صائمہ نے مسکراکر اُس کو رلیکس کرنا چاہا۔
آپا ساری زندگی ایسا تو نہیں چلتا رہے گا نہ امی آپ کی اور آپا حمائمہ کی شادی کے لیے پریشان رہتی ہیں اگر میں اسکالر شپ پہ جرمنی میں پڑھائی کروں گا تو اچھی جاب کے چانسز ہیں اور اب تو عروسہ کا بھی کالج میں داخلہ ہونا ہے۔ موحد نے گہری سانس بھر کر کہا
خود کو ہماری وجہ سے ہلکان مت کرو اپنے لیے بھی سوچا کرو زندگی تو تم بس ہمارے لیے جی رہے ہو کبھی کبھی مجھے شرمناک ہوتی ہے کے چھوٹی سی عمر میں تم پہ اتنی زمیداریاں آگئ ہے۔ صائمہ نے دُکھ سے کہا۔
ایسا نہیں آپ ایسا سوچے بھی نہیں شرمندگی کسی اِس گھر میں مرد میں ہوں مجھے ہی سب دیکھنا ہے آپ لوگوں کا خیال کرنا میرا فرض اور آپ لوگوں کا مجھے پہ حق ہے میں کوئی انوکھا کام نہیں کررہا ویسے بھی آپ اور آپا امی بھی تو جاب کرتی ہیں نہ۔ موحد نے رسانیت سے کہا
دیکھنا اللہ تم اٙجر ضرور دے گا جو تم کررہے ہو اُتنا کوئی نہیں کرتا۔ صائمہ نے اس کے بالوں میں پاتھ پھیر کر کہا جس پہ موحد نے بس مسکرانے پہ اکتفا کیا۔






فاریہ مرزا پاکستان آگئ تھی ولید کے ساتھ شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی کشف نے کسی بھی کام میں ہاتھ نہیں بٹایا تھا خود کو بس کمرے کی حدتک محدود کرلیا تھا حیا کا بھی یہی حال تھا کسی کو اُس کی حالت پہ شک نہ ہو اِس لیے وہ باہر نہیں جاتی تھی منہا جب کی ہرکام میں حصہ لیں رہی تھی کاموں میں وہ اِس طرح اُلجھی ہوئی تھی کے اُس کو کشف اور حیا کی اُداسی کو محسوس کرنے کا بھی وقت نہیں ملا تھا۔
دنیا کی اور بات ہے دنیا تو غیر ہے
ہوتی ہے اپنے آپ سے وحشت کبھی کبھی
حیا کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کی طرف نگاہ ٙٹکائے بیٹھی تھی آج بہت دن ہوگئے تھے حمزہ سے رابطہ نہیں ہوا تھا ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
کہاں ہوتم حمزہ مجھے ضرورت ہے تمہاری۔حیا تحلیل میں آنکھیں میچ کر حمزہ سے مخاطب ہوئی۔
حیا۔رخشندہ بیگم کمرے میں آکر آواز دی تو حیا نے فورن سے اپنی آنکھیں صاف کی۔
جی امی۔حیا نے پوچھا
ولید کے ساتھ شاپنگ پہ جانا ہے تیار ہوجاو۔رخشندہ بیگم نے کہا
سب کجھ طے کرلیا ہے تو یہ شاپنگ بھی خود کرلیں مجھے اِن سب میں دلچسپی نہیں۔حیا نے بے رخی سے کہا
ٹون ٹھیک کرو اپنی ماں ہوں تمہاری۔رخشندہ بیگم کو حیا کا انداز نہیں بھایا۔
آپ لوگوں نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ساری زندگی مجھے حمزہ کے خواب دیکھائے اور اب ایسا کررہے ہیں اگر یہی کرنا تھا تو بچپن میں ہمارا رشتہ طے کیوں کیا۔حیا پھٹ پڑی۔
کجھ غلط نہیں کیا جن لوگوں نے تمہاری بہن کو ٹھکرایا اب بھی تم کہہ رہی ہو رشتہ کیوں توڑا بہن سے زیادہ حمزہ ضروری ہوگیا تمہیں۔رخشندہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا۔
مجھے کہیں نہیں جانا اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔حیا نے اپنا رخ دوسری طرف کرکے کہا رخشندہ بیگم اس کو دیکھتی باہر چلی گئ۔






دو دن بعد حیا کی مہندی ہے حمزہ کا پتا کیوں نہیں لگواتے اگر حیا کی شادی ہوگئ تو حمزہ پوری دنیا کو آگ لگادے گا۔ہما بیگم نے پریشان لہجے میں سعید مرزا سے کہا۔
خود لاپرواہ ہوگیا ہے اپنے بھائی کی طرح تو میں کیا کرسکتا ہوں گیا ہوگا اپنی آفس کی کسی میٹنگ میں فون اُس کا بند ہے دوستوں میں کسی کو پتا نہیں میں اب کیا کروں پھر۔سعید مرزا نے جواب دیا۔
آپ کو اپنے بھائی سے بات کرنی چاہیے تھی حیا کا رشتہ کیسے توڑ سکتے تھے وہ حمزہ سے۔ہما بیگم نے کہا۔
ویسے ہی جیسے تمہارے بیٹے نے توڑا۔سعید مرزا نے طنزیہ کہا۔
حمزہ کی بات الگ ہے وہ بہت چاہتا ہے حیا کو۔ہما بیگم فکرمندی سی بولی۔
کوشش کرتا ہوں کہاں گیا ہوا ہے خبر ملے گی تو خود چلا آئے گا بس حیا کا نام کسی اور سے جوڑا گیا ہے یہ بات اُس کو پتا چلیں۔سعید مرزا نے پُرسوچ انداز میں کہا حیا کے لیے حمزہ کی دیوانگی سے وہ بچپن سے واقف تھے۔






منہا کو آج ماہر کے ساتھ مال جانا تھا وہ تیار ہوتی خود کو آئینہ میں دیکھا گلابی کلر کے پرنٹڈ سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا چہرے جب کی میک اپ سے پاک تھا منہا مسکراتی بیڈ کی طرف آئی بیڈ سے اپنی چادر اُٹھاتی اچھے سے پہن کر باہر آئی جہاں ماہر پہلے سے موجود اُس کا انتظار کررہا تھا۔
ٹھیک ہے مامی جان اب ہم چلتے ہیں۔ماہر نے مسکراتی نظر منہا پہ ڈال کر رخشندہ بیگم سے کہا۔
خیر سے جاو بیٹا۔رخشندہ بیگم نے مسکراکر کہا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ماہر نے باہر آکر مسکراکر کہا۔
شکریہ۔منہا نے چہرہ جُھکاکر کہا۔
آج تو ہم سارا دن ایک ساتھ ہوگے۔ماہر نے گاڑی کا ڈور اوپن کرکے مزے سے بتایا۔
بس شاپنگ اُس سے زیادہ نہیں۔منہا نے اُس کے ارمانوں پہ پانی پھیرا۔
جی نہیں پہلے شاپنگ اُس کے بعد دیر ہوجائے گی تو ہم ڈنر کریں گے پھر آئسکریم اُس کے بعد واپسی کا سوچا جاسکتا ہے۔ماہر نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے کہا۔
اُس کے بعد بھی سوچا جاسکتا ہے۔منہا حیرت سے بولی۔
یس۔ماہر نے تابیداری سے سرہلایا تو منہا بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔






کشف نے موحد کو کال کرنا چاہا جیسے ہی اُس نے کال ملائی تو پتا لگا اُس کا نمبر بلاک کیا گیا تھا کشف کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آگئ تھی آج اُس نے اپنی زندگی پہ ایک کہانی لِکھنے کا سوچا تھا کل اُس کی مہندی کا دن تھا اس کے لاکھ احتجاج کے باوجود کسی نے اُس کی نہیں سنی تھی تو اُس نے بھی منہ پہ قفل ڈال دیا تھا۔
دل منتظر میرا
کشف نے ٹائٹل لِکھا پھر موحد سے پہلی ملاقات سے لیکر جتنا ہوسکتا تھا اُتنا لِکھا اِس بات سے انجان کے مستقبل میں یہ کہانی ایک مشہور ناول کا خطاب حاصل کرنے والی تھی۔






حیا نے آج دوائی نہیں کھائی تھی مہندی کی تیاریان زور شور سے شروع تھی سارا وقت لڑکیاں اُس کے ارد گرد تھی جس سے اُس کو دوائی کھانے کا وقت نہیں ملا تھا اب اس کو اپنی طبعیت میں بوجھل پن محسوس ہورہا تھا وہ آرام کرنا چاہتی تھی مگر رخشندہ بیگم اور سومل بیگم کجھ عورتوں کو ساتھ آکر ان تینوں کو باہر لے جانے لگی مہندی کا فنکش گھر کے بڑے سے لان میں کیا گیا تھا۔
پہلے منہا کی رسم ہونی تھی اُس کے بعد حیا پھر کشف منہا کو ماہر کے ساتھ بیٹھایا گیا سر پہ بڑا سا ڈوپٹہ تھا جس سے اُس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔
پردہ کیوں لگایا ہوا ہے مجھے دیکھنا تھا آپ کو۔ماہر نے سرگوشی نما آواز میں منہا سے کہا منہا کے ہاتھوں میں پسینا آگیا تھا اُس کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے سب کی موجودگی میں اِس لیے خاموش رہنے میں عافیت جانی۔
حیا خاموش سی ولید کے پہلوں میں بیٹھی تھی ولید کافی خوش نظر آرہا تھا اُس کے برعکس تیسری طرف جہاں کشف مورت کی مانند بیٹھی ہوئی تھی شیراز کو بھی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے زبردستی بیٹھایا ہوا تھا۔حیا کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی سر پہ اتنا بڑا ڈوپٹہ ہونے کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہورہی تھی چہرہ پورا پسینے سے نہایا ہوا تھا منہا کے بعد جب حیا کی طرف سب آئے تو حیا کا دم گھٹنے لگا فاریہ مرزا نے موتی چور کا لڈو اس کے منہ میں ڈالا تو حیا کو وومیٹنگ ہونے لگی بڑی مشکل سے اس نے ہضم کیا تھا۔
مجھے کمرے میں جانا ہے۔کشف کی رسم ہورہی تھی جب حیا نے گہرے سانس بھرتے رخشندہ بیگم سے کہا ان کو بھی حیا کی حالت سہی نہیں لگی تو اندر لے جانے لگی مگر حیا جیسے ہی کھڑی ہوئی اُس کا سر بُری طرح چکرایا جس سے وہ زمین بوس ہوئی۔
سب مہمانوں میں ہلچل مچ گئ تھی رخشندہ بیگم پریشان سی حیا کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی نور احمد صاحب کو پتا لگا تو وہ حیا کو اٹھاتے گھر کی طرف آئے۔
ڈاکٹر کو فون کرو۔نور احمد صاحب نے پاس کھڑے ساگر سے کہا تو وہ سرہلانے لگا۔
مہمانوں سے معذرت کرلوں فنکشن ختم ہوگیا۔نور احمد صاحب نے پریشان کھڑی رخشندہ بیگم سے کہا جس پہ وہ لان کی طرف بڑھ گئ۔
پریشان نہیں ہو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے کمزوری ہوئی ہوگی۔فاریہ مرزا نے رخشندہ بیگم کو تسلی کروانی چاہی۔
موم ڈیڈ کی کال ہے ولید نے فاریہ مرزا سے کہا بزنس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کی شادی پہ بھی نہیں آسکے تھے۔
میں آتی ہوں۔فاریہ مرزا ان سے معذرت کرتی اپنے کمرے میں گئ ولید بھی ان کے ساتھ گیا ڈاکٹر بھی آگئ تھی اب سومل بیگم رخشندہ بیگم منہا سب ڈاکٹر کے ساتھ کمرے میں تھیں کشف نے خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا جب کی نور احمد صاحب واحب صاحب باہر کھڑے تھے ساگر کسی کام سے نکل گیا تھا۔
ٹیشن کی کوئی بات نہیں پریگنسی میں ایسا ہوتا رہتا ہے پر یہ بہت ویک ہیں ان کا بہت سارا خیال رکھنا ہے ورنہ بچے کو نقصان ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر نے چیک اپ کرنے کے بعد کہا ان کی بات پہ ان تینوں کے چہرے کے رنگ پل بھر میں اُڑا تھا۔
پریگننٹ؟رخشندہ بیگم کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔
جی میں کجھ سیمپلز لِکھ کے دے رہی ہو اور پلیز اِن کا منتھلی چیک اپ کروانے ہوسپٹل آیا کریں ان کے شوہر سے کہیے گا کیونکہ اس کنڈیشن میں ان کو اپنی بیوی کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ڈاکٹر کی یہ بات باہر کھڑے نور احمد صاحب اور واحب صاحب پہ بھی بجلی بن کر گِری تھی دروازے آدھا کھلا ہونے کی وجہ سے وہ باآسانی سے سب کجھ جان گئے تھے۔
رخشندہ بیگم نے دیوار کا سہارا لیا منہا نے فورن سے ان کو کندھوں سے تھاما۔
آدھے گھنٹے بعد حیا کو ہوش آیا تھا وہ تینوں ابھی تک ویسے ہی اسٹل بن کر کھڑے تھے ان کے چہروں کو دیکھ کر حیا کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔رخشندہ بیگم نے اُس کو ہوش میں آتا دیکھا تو آگے بھر کر ایک زوردار تھپڑ اُس کے نازک گال پہ جڑدیا منہا نے بے ساختہ اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا جب کی حیا کو پتا لگ گیا کے وہ سب جان گئے ہیں۔
رخشندہ بیگم نے تھپڑوں سے حیا کا چہرہ لال کردیا تھا سب لوگ خاموش تماشائی بن کر بس ان کو دیکھ رہے تھے۔
یہ دیکھانے کو پیدا ہوئی تھی تم مر کیوں نہیں جاتی حیا زرہ خیال نہیں آیا اتنا بڑا گناہ کرتے وقت بتاٶ مجھے کس کا ناجائز خون ہے یہ۔ رخشندہ بیگم غصے اور غم سے ہانپتی ہوئی بولی حیا جو خاموشی سے ان کی مار کھارہی تھی ناجائز خون پہ تڑپ کر اپنا سر اُٹھایا تھا۔
ناجائز نہیں ہے جائزہ ہے۔ حیا روتے ہوئے بولی
چٹاخ
چٹاخ۔
رخشندہ نے ایک بار نہیں بار بار اس کے چہرے پہ تھپڑ مارے۔
شرم نہیں آتی ابھی بھی جھوٹ بول رہی ہو۔ رخشندہ بیگم پاگل ہونے کے در پہ تھی منہا ایک سائیڈ پہ کھڑی رونے میں مصروف تھی سومل بیگم کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے رخشندہ بیگم کو روکے جو حیا کی حالت کا سوچے بنا اُس کو مارے جارہی تھی نور احمد صاحب اور واحب صاحب شرمندگی سے اپنا سر جھکا کر باہر چلے گئے تھے جب کی کشف کو خود کا ہوش تک نہیں تھا۔
جھوٹ نہیں سچ ہے یہ میرا اور حمزہ کا بچہ ہے۔ حیا اتنا بتاتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی سب کو جیسے حیا کی بات پہ سانپ سونگھ گیا تھا
کیا بکواس ہے یہ؟ رخشندہ بیگم چلا کر بولی۔
میں نے حمزہ کے کہنے پہ اُس سے خوفیہ نکاح کیا تھا ہمیں کیا پتا تھا ہمارے نام ایک ساتھ منسوب کرکے آپ لوگ ایک بات کو اپنی انا کا مسئلا بناکر ہمارا بچپن سے جوڑا رشتہ ختم کردے گے۔ حیا ہذیاتی انداز میں چیختی بولی۔
منہا اپنی لال ہوتی آنکھوں سے اس کو دیکھ کر باہر نکل گئ سومل بیگم دونوں کو اکیلا چھوڑتی باہر نکل گئ۔
کیسے مان لوں تم سچ بول رہی ہو یہ بچہ ناجائز نہیں بلکہ جائز ہے۔ رخشندہ بیگم سرد لہجے میں بولی حیا کے چہرے پہ اپنی ماں کی بات پہ زخمی مسکراہٹ آگئ۔
مجھ پہ نا سمہی اپنی تربیت پہ بھروسہ کیا ہوتا آپ کو میرے پہ یقین نہیں تو کشف سے پوچھ لیں حمزہ اور میرے سوا وہ جانتی ہیں۔ حیا بہتے آنسوٶ کے درمیان بولی۔
ہماری تربیت یہ بھی نہیں تھی کے خوفیہ نکاح کرو اتنی آگ لگی تھی دونوں میں تو ہم سے کہا ہوتا کردیتے شادی دونوں کی۔ رخشندہ بیگم زہر خند لہجے میں بولی حیا نے اپنا سر جھکادیا اُس کو جوڑ جوڑ میں درد محسوس ہورہا تھا چہرہ الگ سے جل رہا تھا اُن سب کے علاوہ ستمگر کی دوری نہ اس کے رہے سہے اوسان خطا کردیئے تھے جو جانے کہاں غائب تھے حمزہ کا خیال آتے ہی حیا کو اپنے سینے پہ تکلیف محسوس ہونے لگی۔ رخشندہ بیگم ایک غصیلے نظر اُس پہ ڈال کر چلی گئ تھی۔






سب لوگ لاوٴنج میں سر جھکاکر بیٹھے تھے رخشندہ بیگم نے ان کو ساری بات بتادی تھی فاریہ مرزا ولید بھی یہ بات جان گئے تھے مگر خاموش تھے جب کی عانیہ مرزا کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
کشف کو لیکر آوٴ۔نور احمد صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
میں بات کرتی ہوں اُس سے آپ کا بات کرنا ٹھیک نہیں۔رخشندہ بیگم سپاٹ انداز میں کہتی کشف کے کمرے میں گئ۔
بات کرنی ہے تم سے کیا تمہیں پتا تھا حیا کے نکاح کا؟رخشندہ بیگم کمرے میں آتی سپاٹ انداز میں سیدھا سوال کیا کشف جو اپنے خیالوں میں تھی رخشندہ بیگم کی آواز پہ چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
نکاح کا پتا تھا تمہیں۔رخشندہ بیگم نے دوبارہ سے اپنی بات پہ زور دے کر کہا کشف نے غور سے ان کی طرف دیکھا حیا کا بے ہوش ہونا یاد آیا تو وارڈروب کی طرف آکر ان میں سے نکاح کی کاپی اور پریگنسی کی رپورٹس رخشندہ بیگم کی طرف بڑھائی۔
اچھا نہیں کیا تمہیں ہمیں بتانا چاہیے تھا کم از کم آج جو ہماری بدنامی ہوئی ہے اُس سے تو بچ جاتے۔رخشندہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا۔
اگر فیصلہ کرتے وقت اپنی اولاد کی خوشیوں کا بھی سوچ لیں تو ان کے ارمان بھی چکنا چور ہونے سے بچ جاتے۔کشف نے جواب دیا تو رخشندہ بیگم باہر نکل گئ کشف نے سرد سانس بھر کر بیڈ پہ بیٹھ گئ۔
میں بہت شرمندہ ہوں آپ سے۔نور احمد صاحب نے سرجھکاکر ندامت سے کہا۔
شرمندہ مت ہو بھائی ہمیں حیا سے پوچھ لینا چاہیے تھا۔فاریہ مرزا نے کہا
اگر دونوں کا نکاح ہوگیا ہے تو حمزہ نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا اُس نے بتایا کیوں نہیں حیا سے وہ پہلے نکاح کرچُکا ہے۔ولید نے غصے سے کہا۔
یہی تو میں بھی سوچ رہی ہوں حمزہ تو اپنی چیزوں کے لیے بہت پوزیسیو رہنے والا انسان ہے تو اب بات تو اپنی منکوحہ کی تھی تو کیسے خاموش رہا۔سومل بیگم نے اُلجھ کر کہا۔
حمزہ تو ایک ماہ سے یہاں نہیں ہے چچا جان خود اُس کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ساگر نے سنجیدگی سے بتایا۔
اب حمزہ کو بلاکر بیٹی کی رخصتی کردو یا ابھی بھیج دو اُس کو جو کارنامہ سرانجام دیا ہے ان دونوں نے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔عانیہ مرزا نے زہر خند لہجے میں کہا۔
موم۔ماہر نے تنبیہہ کی۔جس پہ عانیہ مرزا نے منہ کے زاویے بگاڑے۔





حمزہ کہاں ہے؟نور احمد صاحب سعید مرزا کے گھر آکر سنجیدگی سے بولے۔
حمزہ کسی کام سے باہر ہے تم اندر بیٹھو۔سعید مرزا نے آرام سے جواب دیا۔
جہاں بھی ہے اُس کو کہو اپنی منکوحہ کو لیکر جہاں دفع ہونا ہے ہوجائے تمہارے دونوں بیٹوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔نور احمد صاحب تیز آواز میں بولے۔
کیا بات کررہے ہو مجھے کجھ سمجھ نہیں آرہا۔سعید مرزا واقع میں نہیں سمجھے۔
حمزہ کو بتادے سب جانتا اور سمجھتا ہے۔نور احمد نے طنزیہ کہا




فاریہ مرزا ولید کے ساتھ واپس چلی گئ تھی منہا اور کشف کی شادی سادگی میں اب طے پائی تھی جس کا فرق دونوں کو نہیں پڑا منہا کجھ ڈیلے کرنا چاہتی تھی شادی کو پر کسی نے نہیں سنی اُس کی بات آج دونوں کا نکاح تھا تقریب میں بس کجھ جاننے والوں کو بُلایا گیا تھا۔
پہلے منہا کا نکاح ہوا اُس کے بعد کشف کا نکاح کے پیپرز میں سائن کرتے وقت کتنے ہی آنسو اُس کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے آج وہ پوری طرح سے کسی اور کی ہوچکی تھی موحد کو پانے کی جو ایک اُمنگ تھی تھی وہ بھی دٙم توڑگئ تھی۔
وہ کوئی عام شخص تو نہیں ہوسکتا
جس کو ہم اپنا کہیں،عشق کرین،روپڑیں
رخصتی کا وقت ہوا تو کشف بنا واحب صاحب سے ملے گاڑی میں بیٹھ گئ تھی واحب صاحب کو بہت دُکھ ہوا سومل بیگم نے کوشش کی بات کرنے کی پر کشف نے جواب نہیں دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے گھر میں سب کو پتا لگ گیا تھا حیا کمرے سے باہر نہیں نکلتی تھی اور نہ کوئی اس کو کہتا تھا ملازم کھانا وقت پہ اُس کو دے جایا کرتی تھی جو وہ کبھی کبھی اپنے بچے کا سوچ کر کھالیا کرتی تھی آج پورے دو ماہ ہوگئے تھے پر حمزہ کا کجھ اتا پتا نہیں تھا۔
میں معاف نہیں کروں گی تمہیں حمزہ کبھی بھی نہیں۔حیا بیدردی سے اپنے آنسو صاف کرتی بڑبڑائی۔
