Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain NovelR50575 Dil Muntazir Mera (Episode 08)
Rate this Novel
Dil Muntazir Mera (Episode 08)
Dil Muntazir Mera by Rimsha Hussain
حیا نے کشف کی لکھی ساری کہانی پڑھ لی تھی جو اُس کو بہت پسند آئی تھی وہ جان گئ تھی کے یہ اسٹوری سوائے اینڈنگ کے کشف کی زندگی پہ تھی ساری کہانی پڑھ کر حیا نے سوچ لیا تھا وہ یہ فیس بُک پہ ضرور شیئر کرے گی۔
میرا رقیب کہاں ہیں؟حمزہ حیا کے پاس آتا بولا
حنزہ باہر لان میں کِھیل رہا ہے۔حیا نے تاسف سے اُس کی جانب دیکھ کر کہا۔
شکر کبھی تو تمہیں اکیلا چھوڑا۔حمزہ خوش ہوتا اُس کو اپنے ساتھ لگاتا بولا۔
پر اُس کا باپ کبھی نہیں چھوڑتا۔حیا نے منہ بسور کر کہا
وہ کبھی چھوڑے گا بھی نہیں بہت چاہتا جو ہے۔حمزہ نے مزے سے کہا۔
ہمم میں چاہتی بھی نہیں کے مجھے چھوڑے۔حیا اُس کے چہرے پہ بیئرڈ کو چھوتی ہوئی بولی۔
تم چاہو بھی تو مجھ سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتی۔حمزہ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
ریئلی؟حیا نے آئبرو اچکاکر پوچھا۔
یس مائے لو۔حمزہ اُس کی پیشانی چوم کر بولا
میں نے نیا آفیشل اکاؤنٹ بنایا ہے۔حیا نے بتایا
کوئی نئ بات کرو۔حمزہ نے مسکراہٹ دباکر کہا
بہت مین ہو تم۔حیا نے بُرا مان کر کہا
تمہارا ہوں کبھی تعریف کرلیا کرو۔حمزہ نے معصوم شکل بناکر کہا
تعریف والا کام بھی کرلیا کرو کوئی۔حیا نے کہا
چھ سال ہوگئے ہیں ہماری شادی کو۔حمزہ نے جانے کیا یاد کروانا چاہا۔
اچھا چھوڑو بہت پیارے ہوتم۔حیا اس کا گال چومتی بولی جس پہ حمزہ مُسکراتا اُس کے گال کھینچ لیے۔




ایم کے کو کیا ضرورت ہمارے ساتھ پارٹنرشپ کرنے کی ہمیں بینک سے لون لینا ہوگا۔واحب صاحب نے ساگر کی ساری بات سن کر کہا
بینک ہمیں لون نہیں دے گی ہم پہ پہلے ہی پچاس کروڑ کا قرض ہے۔ساگر نے پریشان لہجے میں بتایا۔
بھائی صاحب سے بات کرتا ہوں۔واحب صاحب نے دوسرا حل بتایا۔
چھوٹے چچا نے پہلے ہی بہت مدد کی ہے سعید چچا تو ابھی پیرس میں ہیں۔ساگر نے بتایا۔
اچھا پھر تم ایم کے کے ساتھ میٹنگ ارینج کرو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔واحب صاحب سرد سانس کھینچ کر بولے۔
میں بات کرتا ہوں انشااللہ بہتر ہوگا۔ساگر پرجوش ہوتا بولا۔





ایم کے اپنے کمرے میں بیٹھا سگریٹ سُلگا رہا تھا نظریں سامنے دیوار پہ لگے اسکیچ پہ تھی جہاں کسی کا مُسکراتا عکس تھا جس کو دیکھ کر اُس کو سکون محسوس ہوتا تھا وہ جانتا یہ غلط ہے پر وہ یہ غلطی بار بار کرتا تھا دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایم کے سگریٹ ایش ٹرے پہ رکھتا دیوار کے سامنے کھڑا ہوا۔
میری بے رونق زندگی میں تم بہار تھی
میرے بے حس دل میں تمہاری سلطنت تھی
تمہارے آنے سے یوں لگا مجھے جیسے
تمہارا ساتھ عمر بھر کا ہو
(رمشا حسین)
ایم کے اسکیچ پہ ہاتھ پھیرتا خوبصورت آواز میں شعر پڑھنے لگا۔
یو ناٹ مائین بٹ آیم یوئرز۔ایم کے اُداس بھری مسکراہٹ سے بڑبڑایا۔






حیا نے بنا کشف کو بتائے فیس بُک پہ ناول بنا کر پوسٹ کردیا تھا پر اُس نے آخری قسط اپلوڈ نہیں کی تھی حیا حیران تھی کے ایک دن میں اتنے ریویوز آگئے تھے کمنٹس لائیکس کمینٹس میں کوئی تعریف کررہا تھا تو کوئی کمپلیٹ ناول کا لنک مانگ رہا تھا جو حیا مزے سے ریڈ کررہی تھی کیونکہ اُس کا کوئی اِرادہ نہیں تھا آخری قسط پوسٹ کرنے کا کشف نے آخری قسط جو لِکھی تھی وہ حیا کو ٹھیک نہیں لگی اُس کے حِساب سے کہانی کا احتتام ہیپی ہونا چاہیے تھا جو کی کشف نے نہیں کیا تھا۔





سر یہ اسٹوری دیکھے دو دن میں دس ہزار شیئر تیس ہزار سے زیادہ لائیس اور کمنٹس ہے۔عافیہ نے ایم کے کی طرف لیپ ٹاپ بڑھا کر کہا۔
مجھے ای میل کرئیے گا وقت ملا تو دیکھ لوں گا۔ایم کے نے سپاٹ انداز میں کہا
سر یہ بہت یونیک اسٹوری ہے آپ کو پسند آئے گی اگر ہم اِس پہ ڈرامہ بنائے تو اور بہتر ہوگا آپ دیکھ لیجئے اگر آپ کو پسند آئی تو میں اِس کا آخری اپیسوڈ حاصل کرنے کی کوشش کروں گی۔عافیہ نے کہا
رائٹر کا نام؟ایم کے سنجیدگی سے پوچھا
کے ایم۔عافیہ نے فورن سے جواب دیا ایم کے نے نظریں اُٹھا کر اُس کو دیکھا تو عافیہ گڑبڑاگئ۔
یہی نام تھا سر رائٹر کا ناول کا نام جب کی دل منتظر میرا ہے۔عافیہ نے وضاحت دیتے کہا
ٹھیک ہے تم جاوٴ اب۔ایم کے سرد سپاٹ لہجے میں بولا اُس کے جانے کے بعد ایم کے نے لیپ ٹاپ اپنی طرف کیا جو عافیہ لے جانا بھول گئ تھی ایم کے اُس پہ سرسری سا پڑھ رہا تھا مگر جوں کہانی شروع ہوئی ایم کے کی آنکھیں تحیر سے پھیل گئ تھی گلے میں کانٹے چُبھتے محسوس ہوئے تھے۔





منہا کی طبعیت صبح سے خراب تھی ماہر اُس کو ہوسپٹل لیکر آیا تھا جہاں اُن کو پانچ سال بعد خوشخبری ملی تھی جس کو سن کر دونوں کے پاوٴں زمین پہ ٹِک نہیں رہے تھے۔
منہا ایم سو ہیپی۔ماہر منہا کو زور سے گلے لگاتا بولا۔
ماہر ہم ہوسپٹل میں ہیں۔منہا سرخ چہرے کے ساتھ ماہر کو دور کرتی بولی۔
تو کیا ہوا میری جان۔ماہر لاپرواہی سے کہتا دوبارہ اُس کو اپنے گلے لگالیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو آپ خوش ہیں نہ؟ماہر عانیہ مرزا سے بولا جو حیران تاثر لیے ان کی بات سن رہی تھی ان کو لگا تھا منہا کبھی ماں نہیں بن پائے گی پر قدرت نے ان کی سوچ کو غلط ثابت کرلیا تھا۔
ہممم۔عانیہ مرزا بس اتنا بول پائی منہا کو وہ خوش نہیں لگی۔
میں آتا ہوں۔ماہر موبائل جیب سے نکالتا بولا
پھوپھو میں نہیں جانتی آپ کو مجھ سے کیا شکایت ہے پر اتنا ضرور کہوں گی آپ ہمارے بچے کو قبول کیجیے گا مجھے تو شاید آپ نے قبول نہیں کیا۔منہا ماہر کے جانے بعد عانیہ مرزا سے بولی جو اُس کی بات پہ شرمندہ نظر آرہی تھی۔
میں جان گئ ہوں آپ روبی کو بہو بنانا چاہتی تھی پر یہ قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں ہم انسان بس سوچ سکتے ہیں ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے اور جو اللہ چاہتا ہے وہ بہتر سے بہترین ہوتا ہے میں ماہر کو بہت چاہتی ہوں ماہر بھی مجھے مجھ سے زیادہ چاہتا ہے آپ بھلے مجھے قبول مت کریں پر ماہر کو میرے خلاف کرنے کی کوشش مت کرئیے گا۔منہا نے آہستہ آواز میں کہا جو ماہر نے بخوبی سن لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اتنی اچھی کیوں ہیں۔منہا کمرے میں آئی تو ماہر اُس کو اپنے حصار میں لیتا بولا۔
کیوں کی میں ماہر کی بیوی ہوں۔منہا اس کے گلے میں بازوں حمائل کرتی بولی
اے لائیک یوئر کانفڈنس۔ماہر اس کی ناک چومتا شرارت سے بولا۔
آپ کی عنایت ہے اگر آپ مجھے نہ ملتے تو شاید میں اتنا خوش نہ ہوتی مجھے لگتا تھا میں نعیم کی ہوں جب آپ اپنی محبت کا اِظہار کرتے تھے تو مجھے عجیب لگتا تھا میں نہیں جانتی آپ میرے ہیں میں آپ کی ہوں اور اب ہماری زندگی میں ننہا سا مہمان آرہا ہے۔منہا نے مسکراکر کہا
آپ میری تھی میری رہے گی کسی اور کا نام آپ دوبارہ مت لیجئے گا۔ماہر سنجیدگی سے بولا
کبھی نہیں لوں گی بس آپ ناراض مت ہوا کریں۔منہا لاڈ سے بولی ماہر مُسکراتا اپنے لب اُس کی پیشانی پہ رکھے۔





دو ماہ بعد!
کجھ پتا چلا۔ایم کے سپاٹ لہجے میں پاس کھڑے آدمی سے بولا۔
سر وہ ایف بی اکاؤنٹ بند ہوگیا ہے جو ناول اُس پہ پوسٹ ہوا تو اب تو بہت لوگوں نے کیا ہے پر سہی سے پتا نہیں لگا پہلے کس نے کیا تھا۔آدمی ڈرتے ڈرتے ہوئے بولا۔
باہر نکلو۔ایم کے جلالی لہجے میں بول کر پاس پڑی کرسی کو ٹھوکر ماری۔
میں کیوں تلاش کررہا ہوں تمہیں تم میری نہیں۔ایم کے ہذیاتی انداز میں چیخ کے بولا






تم میرا لکھا ہوا لیک کیسے کرسکتی ہو حیا۔کشف نے بہت بار کیا ہوا جملا بولا
تم نے اچھا نہیں کیا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کروا کر۔حیا اُس کی بات سن کر نظرانداز کرتی بولی کتنی مشہور ہوگئ تھی وہ پر کشف کو جیسے پتا لگا تھا اُس نے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا جس کا صدمہ حیا کو ابھی تک تھا۔
بکواس نہیں کرو۔کشف نے گھور کر کہا۔
تمہیں پتا ہے اسلام آباد کا مشہور بزنس میں ایم کے تمہاری ناول کو کتابی شکل دے رہا ہے حیا نے پرجوش آواز میں کہا
وہ ہوتا کون ہے بنا میری اجازت کے میری کتاب کو پبلش کرنے والا۔کشف آگ بگولا ہوتی بولی
شکر مانوں اتنا نام مل رہا ہے تمہیں میری مانوں ایک دو اور لِکھوں عنقریب مشہور ناول رائٹر بن جاوٴن گی۔حیا نے مشورہ دیتے کہا
اُس کے ایم کے سے تو میں نپٹوں گی اتنا بڑا بزنس مین بن کر ایسی حرکتیں کررہا ہے اُس کو شرم آنی چاہیے۔کشف سخت لہجے میں بولی حیا نے اُس کی بات پہ مسکراہٹ ضبط کی کیونکہ اُس نے جھوٹ بولا تھا۔بھلا وہ اسٹوری کونسا اُس نے پوری پوسٹ کی تھی جو پبلش ہوتی کتابی شکل میں







ایم کے ساتھ کل بارہ بجے میٹنگ ہے۔ساگر نے واحب صاحب کو بتایا۔
بہت مغرور بندہ لگتا ہے دو ماہ بعد تمہیں ملنے کا وقت دیا ہے۔واحب صاحب نے کہا
مغرور نہیں مصروف بندہ ہے کام بس کام ہی کرتا ہے اسلام آباد میں تین آفسز ہیں اُس کے اور وہ دن میں تینوں کا وزٹ کرتا ہے۔ساگر نے بتایا۔
ہمم تم جانا اُس سے بات کرنا کوشش کرنا ڈیل فائنل ہو اگر نہ ہوئی تو ہم لاہوار والا پلاٹ بیچ دے گے۔واحب صاحب نے کہا
پر ڈیڈ وہ تو کشف کے نام نہیں۔ساگر نے تصدیق چاہی
ہے پر کیا کریں وقت ایسا آگیا ہے۔واحب صاحب نے افسوس کرتے کہا۔






تیری تصویر دیکھی تو مچل اُٹھا دل
لگتا تھا مجھے تجھ سے محبت نہیں رہی۔
کشف ساکت سی لیپ ٹاپ پہ ایم کے کی معلومات دیکھ رہی تھی ایم کے کی لاتعداد تصویریں دیکھ کر اُس کو اپنی بینائی پہ شک گُزرا۔
ایم کے دا بزنس ٹائیکون جس نے حال میں اپنا بزنس اسلام آباد میں سیٹ اپ کیا اُس سے پہلے وہ جرمنی میں رہتا تھا کم عرصے میں اُس نے بزنس کی دُنیا میں بہت نام کمایا تھا ایم کے کا کہنا ہے بزنس کے لیے کجھ ہو یا نہ ہو دماغ کا ہونا ضروری ہوتا ہے ساری بات دماغ کی ہوتی ہے ورنہ ہاتھ میں موجود پئسا بھی کسی کام کا نہیں ایم کے کا اصل نام موحد یوسف ہے پر دُنیا اُس کو ایم کے کے نام سے جانتی ہے۔
ساری تحریر پڑھ کر کشف کا گلا خشک ہوا تھا وہ اب تک بے یقین سی تھی اُس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے سوچ سوچ کر پاگل ہوجائے گی۔
تم کروڑوں روپے کی مالک ہو تمہیں کیا لگتا ہے ہم تمہارا رشتہ میڈل کلاس لڑکے سے کریں گے۔
ایم کے کمپنی بہت عروج پہ پہنچ گئ ہے اگر ہماری اُس کے ساتھ اگر پارٹنرشپ ہوجائے تو ہماری لیے فائدیمند ہوگا۔
اُس کے کانوں میں کبھی واحب صاحب کا حقارت بھرا جُملا گونج رہا تھا تو کبھی ساگر کی بات یاد آرہی تھی جو اُس نے کہا تھا
یااللہ ایسا بھی ہوتا ہے آپ نے کیوں دوبارہ یاد کروایا جب کی میں اُس کو مکمل طور پہ بھولنا چاہتی تھی۔کشف کانوں پہ ہاتھ رکھتی شکوہ کرنے لگی۔
یااللہ وہ کبھی میرے سامنے نہ آئے پلیز۔کشف خُدا سے التجا کرنے لگی جب کی دل زور زور سے دھڑک رہا تھا جس وہ نظرانداز کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
حسابِ عمر کا اتنا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کر دیکھا تو سب خسارہ ہے





کہاں سے لاوٴں وہ نصیب
جو تجھے میرا کردے
ایم کے (موحد) ٹیرس پہ سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھا جب اُس کی بہن عروسہ اُس کے پاس آئی ایم کے نے اپنی بہن کو دیکھ کر سگریٹ پیروں کو نیچے مسل دی۔
بھائی آپا سے بات ہوئی تھی کجھ دنوں میں یہاں آرہی ہیں۔عروسہ نے پرجوش آواز میں بتایا
یہ تو بہت اچھی بات ہے صائمہ آپا کے بچوں کے ساتھ وقت گُزارے گی تو کجھ دن آپ کو اکیلے پن کا احساس بھی نہیں ہے ہوگا۔ایم کے نے مسکراکر کہا۔
آپ مستقل کوئی بندوبست کریں نہ۔عروسہ نے درخواست کی۔
وہ کیسے۔موحد کو سمجھ نہیں آیا۔
شادی کرلیں بھائی آپ کی بیگم ہوگی پھر بچے کتنا مزا آئے گا پھر۔عروسہ نے چہکتے کہا موحد کے چہرے کے تاثرات سپاٹ ہوئے تھے۔
رات بہت ہوگئ ہے آپ جاکر سوجائے۔موحد اُس کی بات سرے سے نظرانداز کرتا بولا
ہمیشہ شادی کی بات کو یوں اگنور مت کیا کریں۔عروسہ نے شکوہ کیا۔
میری زندگی میں شادی کی گنجائش نہیں۔موحد سپاٹ لہجے میں بولا
کیوں نہیں بھائی سب کجھ تو پالیا آپ نے پھر شادی کیوں نہیں آپ خوش کیوں نہیں رہتے ہم جب چھوٹے گھر میں رہا کرتے تھے تب بھی آپ پرسکون ہوتے تھے پھر ایسا کیا ہوا ہے جو آپ کے لہجے میں عجیب درشتی آگئ ہے کہاں آپ نرم گُفتار تھے اور اب بات بات پہ غصہ کرنا آپ کی تربیت کا خاصہ بن گیا ہے۔عروسہ نے سوال پہ سوال کیا۔
عروسہ اندر جائے۔موحد نے دو ٹوک کہا
نا بتائے مجھے آپا آئے گی تو وہ خود آپ سے پوچھے گی میرے سوال تو نظرانداز کرلیتے ہیں ان کے نہیں کرپائے گے۔عروسہ ناراض لہجے میں کہتی وہاں سے چلی گئ جب کی موحد آسمان پہ موجود ستاروں کے جھرمٹ کو دیکھنے لگا جو کالی رات میں چمکدار خوبصورتی کا منظر پیش کررہے تھے۔
درد بھی خود ہوں دوا بھی خود ہوں
اپنے ہر سوال کا میں جواب بھی خود ہوں





آج ایم کے (موحد) کے ساتھ ساگر کو میٹنگ اٹینڈ کرنی تھی پر کسی مسئلے کی وجہ سے ایم کے کو کراچی جانا پڑا تھا یہ بات ساگر کو پتا چلی تو اُس کو غصہ آیا تھا اُس کو وقت دے کر کہیں اور اُس کا جانا ساگر کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی مگر بات ایسی تھی کے اُس کو صبر کرنا پڑا۔
ایسا کرتے ہیں جب وہ آئے تو اُس کا پرسنل نمبر لو پھر ہم اُس کو گھر پہ دعوت دے گے گھر میں ڈسکشن ہو تو ٹھیک ہے کیا پتا اگلی بار بھی ایسا نہ کریں۔ساگر نے واپس آکر واحب صاحب کو ساری بات بتائی تو انہوں نے کہا
پرسنل نمبر میں اس کے اسسٹنٹ سے حاصل کرلوں گا بس وہ ہماری دعوت قبول کریں۔ساگر پُرسوچ انداز میں بولا۔
کرلیں گا ہم نے جو اِس بار کنٹریکٹ بنایا ہے اُس میں بہت پئسا لگایا ہے۔واحب صاحب نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تو ساگر بھی کجھ پرسکون ہوا۔





آپ اپنا مقصد بھول گئ ہیں کیا؟روبی نے تنک کر عانیہ مرزا سے کہا
بھولنے کی کوشش میں ہوں ماہر بہت خوش ہے منہا کے ساتھ مجھے اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے ناکہ کے اپنی مرضی اُس پہ مسلط کروں جس میں وہ زرہ بھی خوش نہ ہو۔عانیہ مرزا نے آرام سے جواب دیا۔
اتنے سالوں سے آپ نے مجھے ماہر کے خواب دیکھائے اور اب ایسا کہہ رہی ہیں۔روبی مٹھیاں بھینچ کر بولی۔
اتنے سالوں میں تمہیں ماہر سے ملا ہی کیا لاکھ کوششیں کی پر ماہر کو ایمپریس نہ کرپائی۔عانیہ مرزا کا لہجہ مزاق اُڑانے جیسا تھا
آپ کا کوئی حق نہیں میری انسلٹ کرنے کا۔روبی تلملا کر بولی۔
دیکھو روبی میں چاہتی تھی تمہاری شادی ماہر سے ہو پر اب منہا ماں بننے والی ہے ماہر خوش ہے بہت اِس لیے تم اب کسی اور سے شادی کرلوں میں اپنے بیٹے کی خوشیوں کے درمیان نہیں آوٴں گی ویسے بھی میں بہت زیادتی کرچُکی ہوں منہا کے ساتھ یہ جان کر بھی کے کی وہ میری بھتیجی ہے۔عانیہ مرزا نے سنجیدگی سے کہا۔
یہ اچھا ہونے والا ڈرامہ آپ پہ بلکل سوٹ نہیں کررہا۔روبی جھلا کر کہتی واک آوٴٹ کرگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کام سے جلدی آگئے آپ۔منہا ماہر سے کہا جو اُس کے بیٹھا تھا۔
دل نہیں لگ رہا تھا وہاں سوچا بیگم کے پاس آجاؤں۔ماہر نے مسکراکر کہا
آپ کے دل کا تو کیا ہی کہنا۔منہا نے نفی میں سر کو جنبش دی۔
میرا بے بی کیسا ہے؟ماہر نے اُس کے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
ٹھیک ہے بہت۔منہا نے بتایا
مجھے اب انتظار نہیں ہورہا۔ماہر بے صبری سے بولا
ابھی تو دو ماہ ہوئے ہیں جہاں آپ نے اتنے سال انتظار کیا وہی کجھ مہینے اور صبر کرے۔منہا نے مسکراکر کہا
وہ تو کررہا ہوں۔ماہر نے منہ بناکر کہا
آپ کو کجھ چاہیے میرے ذہین سے نکل گیا پوچھنا۔منہا نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا
آپ کی توجہ کے طلبگار ہیں۔ماہر نے آنکھ ونک کرتے کہا
کافی پیتے ہیں نہ اِس وقت اُس کا پوچھ رہی تھی۔منہا نے گھور کر کہا
کمرے میں رہے آپ کچن میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ماہر حکیمہ لہجے میں بولا۔
آپ تو ابھی سے اتنے سینسٹو ہورہے ہیں۔منہا نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا
آپ کے معاملے میں ابھی سے نہیں شروع سے سینسٹو پوزیسیو ہوں۔ماہر نے اُس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر کہا۔
اندازہ ہورہا ہے آہستہ آہستہ۔منہا اُس کے کندھے پہ سر رکھ کر بولی تو ماہر نے اُس کے گرد بازوں حمائل کیے۔




بھائی آجکل لیٹ آتے ہیں نہ گھر۔کشف نے لیلا سے کہا
ہمم بزنس میں لوسٹ جو ہورہا ہے ساگر تو پریشان رہتا ہے بہت دعا کرو ایم کے ان کی دعوت قبول کرلیں۔لیلا نے کہا ایم کے نام پر کشف کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
دعوت کیسی؟کشف نے سرسری انداز اپناتے پوچھا۔
گھر پہ اپائیمنٹ تھی ساگر کی اُس کے ساتھ پر کسی وجہ سے اُس کو آوٴٹ کا سٹی جانا پڑا تو میٹنگ گھر پہ رکھی گئ ہے۔لیلا نے بتایا
بزنس کی باتیں اب گھر میں ہوگی۔کشف ناگواری سے بولی
کیا کہہ سکتے ہیں ساگر نے تو مجھ سے کہا تھا جب وہ آئے تو بہت اچھا سا احتمام کیا جائے۔لیلا نے ہاتھ میں پکڑی میگزین ٹیبل پہ رکھ کر کہا۔
کسی فائیو اسٹار ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں بھی تو میٹنگ ہوسکتی تھی نہ۔کشف نے پھر کہا
تمہیں کیا مسئلا ہے وہ سب تو ڈرائینگ روم میں ہوگے۔لیلا نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا۔
مجھے کیا مسئلا ہونا ہے بس ایک بات کی۔کشف نے کندھے اُچکاکر خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا




موحد تمہیں اب شادی کرنی چاہیے۔صائمہ نے چائے کا کپ اُس کی طرف بڑھا کر کہا
شادی کرنے سے کیا ہوگا۔موحد نے تلخ سوال کیا
جس لاحاصل کو سوچ کر خود کو تکلیف دیتے ہو اُس تکلیف میں شاید کوئی کمی آجائے۔صائمہ نے سنجیدگی سے کہا افعان کی زبانی ساری بات اُس کو پتا چل چکی تھی۔
آپا کیا ہم کوئی اور بات نہیں کرسکتے۔موحد نے چڑ کر کہا
ضرور کرسکتے ہیں سوچ رہوں اِس بار تمہاری بات پکی کرلوں کسی لڑکی کے ساتھ۔صائمہ نے مزے سے کہا
پلیز آپا۔موحد بے زار ہوا۔
زندگی اکیلے نہیں گُزاری جاسکتی سمجھنے کی کوشش کرو۔صائمہ نے سمجھانا چاہا
گُزر جاتی ہے ابھی بھی گُزر رہی ہے بعد میں بھی گُزر جائے گی۔موحد لاپرواہی سے بولا
زندگی گُزارنے سے بہتر نہیں اُس کو کُھل کر جیا جائے۔صائمہ نے آس سے اُس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
شادی کا میرا فلحال کوئی اِرادہ نہیں سو پلیز آپ شادی کرنے کا نہ کہے۔موحد نے کہا
موحد سے ایم کے بن کر کافی روڈ ہوگئے ہو کہاں موحد ہر بات مانتا تھا پر اب ماں کے جانے کے بعد ایم کے بہنوں سے لاپرواہ ہوگیا ہے۔صائمہ افسوس سے کہتی چلی گئ جب کی اُس کی بات موحد کے دل پہ کسی خنجر کی طرح لگی تھی۔




لیلا اور کشف یہ ساتھ بیٹھ کر باتیں کررہی تھی جب سومل بیگم نے ایک تصویر کشف کے سامنے کی۔
کیا ہے یہ۔کشف نے انجان بن کر سوال کیا
لڑکا ہے آمریکا میں جاب کرتا ہے ماں باپ میں کوئی ہے نہیں بہت اچھا لڑکا ہے تم ایک بار مل کر ڈن کرو تو ہم شادی کی بات کریں۔سومل بیگم نے سنجیدگی سے کہا
میرا یہاں رہنا آپ سب کو کٹ رہا ہے تو بتادے میں چلی جاؤں مگر خدا کے واسطے یہ ٹھرڈ کلاس کے رشتے میرے سامنے نہ کیا کریں۔کشف ہاتھ جوڑ کر بولی۔
ہر بات کو غلط رنگ مت دیا کرو کشف۔سومل بیگم نے ٹوک کر کہا
میں کجھ نہیں جانتی اب اگر آپ نے مجھ سے شادی کی بات کی تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاوٴں گی ڈھونڈتے رہیے گا پھر۔کشف تیز آواز میں کہتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئ
کیا ہوگا اِس لڑکی کا۔سومل بیگم سر پکڑ کر بولی۔
آپ پریشان نہ ہو ٹھیک ہوجائے گی خود ہی۔لیلا نے ان کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر تسلی کروائی۔





ایم کے (موحد) آفس میں بیٹھا راکنگ چیئر پہ جھول رہا تھا جب اس کے کیبن کا دروازہ نوک ہوا۔
کم اِن۔ایم کے نے سنجیدگی سے کہا
سر ساگر مرزا آپ کا پرسنل نمبر چاہتے ہیں اُن کی آپ کے ساتھ میٹنگ بھی جو کینسل کردی تھی آپ نے۔آنے والا اُس کا اسسٹنٹ تھا جس نے ساری بات اُس کے گوش گُزار کی۔
ساگر مرزا سن آف واحب مرزا؟ایم کے (موحد) فورن اپنی جگہ سیدھا ہوکر بولا۔
یس سر وہ آپ سے کجھ بات کرنا چاہتے ہیں شاید ہماری کمپنی کے ساتھ پاٹنرشپ کرنا چاہتے ہیں۔اسسٹنٹ نے مزید بتایا
پارٹنرشپ؟ایم کے (موحد) حیران ہوا۔
جی لگتا کجھ ایسا ہی ہے ان کا بزنس آج کل گھاٹے میں ہے پہلے ورنہ ان کا بزنس سب سے اُپر ہوا کرتا تھا بہت سارے اوارڈز بھی مل چکے ہیں ان کو بیسٹ بزنس مین اور سال میں سب زیادہ کمانے والی کمپنی اُن کی ہی ہوا کرتی تھی پر شاید اب ان کے عروج کا زوال آیا ہے۔اسسٹنٹ نے بڑے افسوس سے بتایا۔
میرا نمبر دو ان کو اور کل اُن کے ساتھ میٹنگ فِکس کرو۔ایم کے (موحد) نے فورن سے کہا
جیسا آپ کہے سر۔اسسٹنٹ نے تابعداری سے کہا
ہممم۔ایم کے نے بس اتنا کہا۔





تیار رہنا شام میں ڈنر پہ چلیں گے سب۔ساگر نے لنچ ٹائم سب سے کہا۔
کیوں کیا ہوا بہت خوش لگ رہے ہو؟سومل بیگم نے پوچھا باقی سب بھی اُس کو دیکھنے لگے کشف کا جب کی سارا دھیان کھانے پہ تھا۔
ہمارا ایم کے گروپ آف کمپنی سے رابطہ ہوگیا ہے میٹنگ ہوگی تو انشااللہ ڈیل فائنل ہوگی تو ہمارا بزنس میں ڈوبا ہوا نام پھر سے روشن ہوجائے گا۔ساگر خوشی سے بولا اُس کی بات پہ کشف کا نوالہ گلے میں اٹک سا گیا تھا
اللہ کریں ایسا ہو۔نور احمد صاحب نے کہا
میں بات کروں گا اُس سے نمبر ہے اُس کا میرے پاس اب تو کل اُس نے میٹنگ رکھی ہے تو میں کہوں گا وہ میٹنگ یہاں گھر پہ ہو۔ساگر نے مسکراکر بتایا۔
اچھا کیا اب آگے اللہ جانے۔واحب صاحب نے کہا کشف کا دل ہرچیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُمید ہے آپ کل ہمارے گھر ضرور آئے گے۔ساگر نے کال پہ ایم کے سے کہا
آپ اصرار کررہے ہیں تو ضرور۔ایم کے نے جواب دیا۔
اوکے تو کل آپ کا انتظار رہے گا۔ساگر شکر کا سانس ادا کرتا بولا۔
میں وقت پہ پہنچ جاوٴں گا اِس لیے آپ کو انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ایم کے نے سنجیدگی سے کہا
اچھی بات ہے پھر۔ساگر سرہلاتا بولا
