Dheere Dheere Se Meri Zindagi Mein Aaana By Ayesha Noor Readelle50259 Episode 8 Part 2 ( last episode )
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8 Part 2 ( last episode )
رمضان شروع ہوچکے تھے۔۔ عبیرہ روز ٹائم سے اٹھ کر سحری کا۔اہتمام کرتی ۔۔ آج بھی سحری بناکر زاویار کو اٹھانے چل۔دی جو بہت مشکل کام۔تھا۔۔
آج تو اسکے دماغ میں شرارت سوجھی۔۔ گھڑی کا ٹائم۔فجر کی اذان کے بعد کا۔کردیا۔۔
زاویار اٹھیں ۔۔ نماز کا ٹائم ہوگیا ہے نماز پڑھ لیں ۔۔ کافی دیر بعد آوازیں دینے کے بعد زاویار کے کان نماز کی آواز گونجی تو فٹ سے اٹھ کر پہلے ٹائم۔دیکھا۔۔
اتنی دیر سے اٹھایا تم نے مجھے ٹائم دیکھ لو زرا تم ۔ زاویار کا تو پارا چڑھ گیا۔۔ عبیرہ نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔۔
اچھا اب نماز تو پڑھ لیں ۔۔کتنی بار اٹھایا ہے آپکو ۔۔ نہیں اٹھے تو میرا کیا قصور۔۔ منہ بناتی وہ باہر چلی گئی۔۔
کیا مصیبت گلے پڑ گئی ۔۔ اتنی بھی گہری نیند نہیں سوتا کہ ۔۔ مجھے پتا نا چلا ہو۔۔ بڑبڑاتے وضو کیا سر پہ ٹوپی لیتے مسجد جانے کے لیے کمرے سے باہر نکلا تو عبیرہ ٹیبل پہ کھانا رکھے بیٹھی تھی اور اسے دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔ زاویار کو حیرت ہوئی۔۔ پھر حال کی گھڑی کی طرف دیکھا جو ابھی ساڑے تین بجا رہی تھی۔۔
ہہم مطلب میری بیوی پرینک کر رہی تھی میرے ساتھ۔۔ سارا غصہ ہوا ہوا تھا ۔۔ اسکے برابر میں بیٹھتا بولا۔۔
جی جلدی نہیں اٹھتے اس لیے کرنا پڑا ۔۔
ہہم رمضان نا ہوتا تو بتاتا تمہیں ۔۔ چاند رات کو سارا حساب برابر کروں گا تب تک کے لیے چھوٹ ہے ۔۔پراٹھے کا نوالہ منہ ڈالتا اسے شوخ سے لہجہ میں۔بولا تو وہ۔سر جھکا گئی۔۔
°°°
ابا جی بلالیں نا زاویار کو ۔۔ ” افطار کا وقت گھر کے تمام لوگ اس وقت دسترخوان پہ موجود تھے۔۔ آج ستائسواں روزہ تھا دونوں گھروں کے افراد اس وقت ملک فیض ولا۔موجود تھے۔۔
عید کے تیسرے دن نکاح ہے شجاع اور رانیہ کا نکاح ہے ۔۔ عبیرہ جب سے گئی ہے زاویار کی ہی ہو کر رہ گئی ملنا تو دور بات تک نہیں کی اس نے فون پہ۔۔ ” رخشی بیگم اداس ہوتی بولی۔۔
یونی ورسٹی بھی بس چاچو آتے ہیں ۔۔ عبیرہ آتی نہیں۔۔ مرحا بولی۔۔
اسے آنا ہوگا نا تو آ جائے گا نہیں تا نا سہی ” کوئی نہیں منتیں کرے گا اسکی ۔۔بس کارڈ بھیج دینا اسکے فلیٹ پہ۔۔ملک فیض روب دار آواز میں بولے۔۔ انہیں بہت غصہ تھا زاویار پہ۔۔
ْ°°°
عبیرہ افطار کے بعد چھت پہ تھی ۔۔ چاند دیکھنے کے لیے۔۔ اسے بہت اچھا لگتا تھا چاند دیکھنا۔۔ زاویار اسکے پیچھے کھڑا تھا ۔۔وہ تو بس اپنا ہی چاند دیکھے جا رہا تھا۔۔
چاند نظر آگیا ۔۔ عبیرہ سامنے دیکھتی خوش ہوتی بولی ۔۔ پھر اسکی طرف مڑی ۔۔ چاند نظر آ گیا ۔۔ آپ نے دیکھا۔
ہاں میں تو کب سے اپنا ہی چاند دیکھے جا رہا ہوں۔۔ وہ اسے نظروں کے حصار میں لیتے بولا
شرم سے نظریں جھکا گئی۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اسکے پاس چلتا آیا۔۔ اسکے ماتھے پہ اپنی محبت کی مہر ثبت کی تھی۔۔
“چاند مبارک ” اب میری عید مبارک بھی کردو عنایت ہوگی آپکی” دونوں کاندھوں سے تھامے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ۔۔ عبیرہ کا ننھا سا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا۔۔
عید مبارک” بامشکل الفاظ ادا ہوئے تھے۔۔
زاویار نے. اسے رضا مندی سمجھتے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔
مگر پہلے میری ایک شرط ہے ۔۔ وہ اس سے الگ ہوتی بولی
کوئی شرط نہیں آج۔۔ کل تک کے لیے ملتوی ساری شرطیں”
وہ۔اسے لیے نیچے آیا تھا۔۔
مگر” مجھے گھر جانا ہے ” وہ روہانسی ہوئی۔۔
کونسا گھر وہ گھر جہاں مجھے بے عزت کیا گیا” وہ سیریس انداز میں بولا۔۔
ایسا نہیں ہے آپ کو مس انڈراسٹینگ”
اب وہ۔دونوں روم میں تھے۔۔
بس ‘ اسے کہنے سے زاویار نے روکا۔۔
پلیز ” اسنے سر اٹھائے ملتجی لہجہ۔میں بولا۔۔
تو بل آخر زاویار کو ہار ماننی پڑی۔۔
چلو۔۔”
°°°
صبح سب مرد حضرات عید کی نماز کے لیے تیار تھے۔۔
مجھے نہیں لیکر جائیں گے ساتھ ۔۔ “سب باہر کی حانب بڑھتے کہ سیڑھیوں سے اترتے سب کی۔نظریں زاویار اور عبیرہ پہ تھیں۔۔
سب کا۔حیرت سے منہ کھلا ۔۔
وہ دونوں سب کے برابر جا کھڑے ہوئے۔۔ سب سے گلے ملے سب ہی بہت خوش تھے ۔۔ عبیرہ نغمہ بیگم اور آمنہ بیگم۔کے ساتھ جا کھڑی ہوئی ۔۔
سب چلے گئے عید کی نماز پڑھنے ۔۔
آمنہ بیگم اور نغمہ بیگم نے اسے پیار سے دیکھا ۔۔ وہ اورنج کا کلر کا کام والا سوٹ پہنے نکھری نکھری سی زاویار کے رنگ میں رنگی لگ رہی تھی۔۔ زاویار اس پہ اپنا رنگ چڑھا چکا تھا۔۔ اسکا شرمایا سا روپ ۔۔ ہلکی سی چہرے پہ مسکراہٹ ۔۔دیکھ وہ۔دونوں اندازہ لگا چکی تھی ۔۔
ہہم ہمارے دیور نے اسے اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے ۔۔ آمنہ بیگم اسے چھیڑتے نغمہ بیگم سے بولی ۔۔
ماشاللہ سے بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔نغمہ اسے تھوڑی سے پکڑتے بولی ۔۔تو وہ شرم سے اور سر جھکا گئی۔۔
رات کو جب وہ دونوں گھر پہنچے تو سب اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے ۔۔ زاویار نے ملیحہ کو کال۔کر کے اٹھایا ۔۔ اس نے چپکہ سے آ کر گیٹ کھولا۔۔
اٹھا دو سب گھر والوں کو کے میں آ چکا ہوں ۔۔زاویار ملیحہ سے بولا ۔۔
سوری چاچو غلطی ہوگئی مجھ سے مجھے چپ رہنا چاہیے تھا۔۔ ملیحہ اپنا چشمہ درست کرتی شرمندگی سے بولی،
صبح سب کو سرپرائز ملے گا ۔۔ ابھی آپ۔جاؤ روم۔میں کسی کو نہیں بتاؤں گی،۔ پکا والا پرامس۔۔ملیحہ بولی جس کے لیے چپ رہنا مشکل تھا۔۔
عبیرہ کو لیے اپنے روم میں آیا۔۔
اب مان لی تمہاری خوش۔۔ ” عبیرہ سر جھکاتی ہاں میں۔میں۔سر ہلایا۔۔
مگر میں تو خوش نہیں ہوا ابھی تک ۔۔معنی خیز سے اسکے کان قریب سرگوشی کی۔۔ عبیرہ کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔وہ اسے اپنے حصار میں لے گیا۔۔
اسکے وجود پہ اپنے چھاپ لگا چکا تھا۔۔
اسکی رات کی سرگوشیاں بے تابیاں وہ سارا منظر یاد آیا ۔۔ چہرے پہ۔شرمیلی سی مسکراہٹ آئی ۔۔
“آمنہ ہماری دیوارنی کو تنگ نہیں کرو۔۔ اور عبیرہ تم بیٹھو کسی کام کو ہاتھ مت لگانا۔۔
سب عید کی۔نماز پڑھ کر گھر آئے ۔۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔۔ زاویار نے عبیرہ کو عید مبارک کہا شریر سی اسمائل پاس کی۔۔ جواباً عبیرہ نے بھی مسکراتے خیر مبارک کہا۔۔
دوسرے گھر سے بھی ملک حمید کی۔فیملی کا آمد کا سلسلہ جاری ہوا۔۔ سب عبیرہ کو دیکھ حیران ہوئے ۔۔ رخشی بیگم نے عبیرہ کو ڈھیر سارا پیار دیا اور مرحا ۔رانیہ۔ شزا تو عبیرہ سے لپٹ گئیں۔۔
سب نے عید کا تہوار اکٹھے منایا۔۔
°°°
تیسرے دن شجاع کا نکاح تھا اور نکاح کا فنکشن حال میں رکھا گیا۔۔
رانیہ اور شجاع کا نکاح ہو چکا تھا ۔۔ اب دونوں کو اکٹھے بٹھایا گیا۔۔
رانیہ نے اوف وائٹ لہنگا کے ساتھ لال دوپٹہ اوڑھے ۔۔ نفیس سا میک کپ کیے بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔۔ شجاع وائٹ شلوار قیمض پہنے ساتھ بلیک ویسکوٹ پہنے سلیقہ سے بال سیٹ کیے ۔۔ بہت وجیح نظر آرہا تھا دونوں کی۔جوڑی کمال لگ رہی تھی۔۔
میں تو کہتا ہوں آج ہی کروا لیتے ہیں۔۔ ایک سال اتنا لمبا۔عرصہ ہوتا ہے میں ایک پل نہیں رہ سکتا تمہارے بن۔۔ شجاع کی سرگوشیوں سے رانیہ گلنار ہوئی بیٹھی تھی۔۔
تو ایک سال ہے گزر جائے گا ابھی سے کیا ہو جائے گا۔۔ ” رانیہ بولی
کرکٹ کھیلنی ہے تمہارے ساتھ۔۔اسکے کان قریب ہوتا بولا۔۔
آؤٹ ہوجاؤ گے رہنے دو’ رانیہ جواباً کہا۔۔
آؤٹ تو ہوچکا ہوں کب کا۔۔” دل کی وکٹ اڑائی ہے تم نے۔۔
اسکی سرگوشی پہ شرما کے رہ گئی۔۔
عبیرہ نے سلور کامدار لہنگا پہن۔رکھا تھا ۔۔اور زاویار نے بلیک تھری پیس سوٹ دونوں ہی ایک۔دوسرے کے ساتھ مکمل نظر آرہے تھے۔۔ وہ دونوں اسٹیج پہ ایک ساتھ پک بنوا رہے تھے۔۔ طہٰ فوٹو گرافر بنا ہوا تھا آج بھی۔۔
زاویار نے عبیرہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور سامنے دیکھا مسکرا رہا تھا ۔۔ عبیرہ شرمائی سی مسکرا رہی تھی۔۔
پک لیتے طہٰ بولا ۔۔ چاچو بس کردیں ہم بچوں کا خیال۔کرلیں ۔۔
تم چپ کر کے تصویریں لو ۔۔ زاویار نے اسے ٹوکتا بولا۔۔
شجاع کے ساتھ وہ سب کی فیملی فوٹو بنا رہا تھا سب باری باری پکس بنوا رہے تھے۔۔ وہ اسٹیج سے اترتا پیچھے پیچھے ہو رہا تھا۔۔ جب وہ کسی کے ساتھ جا ٹکرایا۔۔
سنبھل کر ۔۔ طہٰ نے اسکا ہاتھ تھامتے سنبھلتے اس سے بولا ۔۔ وہ اس حسینہ کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔۔
اسکی سماعتوں میں جیسے گانے بجنے لگے تھے۔۔ تجھے دیکھا تو یہ۔جانا صنم۔۔ وہ پاس سے گزرنے لگی تو طہٰ ہلکا سا گنگنایا تو اس نے مسکرا کر اسے دیکھا اور آگے نکل گئی۔۔
آئے ہائے ہنسی تو پھنسی۔۔ طہٰ دل پہ ہاتھ رکھتا بولا۔۔
سامنے عطا اور اشعر کی اس پہ ہی۔نظر تھی۔۔ یہ نہیں سدھرنے والا۔۔
°°°
اسٹیج پہ ایک طرف رانیہ اور شجاع بیٹھے تھے۔۔ اور دوسری سائیڈ زاویار اور عبیرہ ۔۔
اور اشعر گلے میں گٹار ڈالے سامنے مائیک کے کھڑا ہوا اور خوبصورت دھن بجانے لگا جس سے سب مسمرائز ہوئے۔۔
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا ۔۔
دھیرے دھیرے سے دل۔کو چرانا۔۔
تم سے پیار ہمیں ہے کتنا جانے جاناں ۔۔
تم سے مل کر تم کو ہے بتانا۔۔
مرحا اور اشعر آمنے سامنے تھے ۔۔وہ اسے دیکھ مسکرا کر گا رہا تھا جبکہ۔یہ گانا تو کتنے کے دلوں کو دھڑکا رہا تھا۔۔ شجاع رانیہ کو۔پیار سے دیکھ ریا تھا اور زاویار عبیرہ کو اپنی نظروں کے حصار میں۔لیے ہوئے تھا۔۔ زین کی نظر شزا پہ تھی جو اسے دیکھ شرما۔رہی تھی۔۔
اشعر گٹار کی خوبصورت دھن بجا رہا تھا۔۔ اور سب ہی جھوم رہے تھے۔۔
تو نے بھی اکثر مجھکو جگایا راتوں میں ۔۔
اور نیند چرائی میٹھی میٹھی باتوں نے۔۔
تونے بھی بے مجھکو کتنا تڑپایا۔۔
پھر بھی تیری ہر ایک ادا پہ پیار آیا۔۔
آجا آجا اب کیسا ہے شرمانا
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں۔آنا ۔۔
دھیرے دھیرے سے دل۔جو۔چرانا۔۔
تم پیار ہمیں ہے کتنا جانے جاناں ۔۔
تم سے مل کر تم کو ہے بتانا ۔۔
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا
دھیرے دھیرے سے دل۔کو چرانا ۔۔
اور سارا حال۔تالیوں سے گونج اٹھا۔۔
°°°
ایک سال بعد رانیہ کی رخصتی کا دن بھی آن پہنچا
رانیہ اور شجاع کی رخصتی کے ساتھ ساتھ شزا اور زین کی بھی شادی تھی ۔۔
آج ولیمہ تھا دونوں کا شجاع اور زین کا ۔۔ دونوں جوڑے تیار اسٹیج پہ۔بیٹھے۔۔
عبیرہ اپنے چھوٹے سپوت کے ساتھ الجھ رہی تھی جو ابھی صرف دو ماہ کا تھا ۔۔
اسے بہت غصہ آ رہا تھا زاویار پہ جو پتا نہیں کہاں غائب تھا ۔۔اپنے چھوٹے سے ننھے سپوت کو سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھی وہ نا کسی کے پاس جاتا تھا سوائے زاویار کے ۔۔ اور رو رو کر حال سر پہ اٹھایا ہوا تھا ۔۔ کہیں جا کر وہ سویا تو اسے کچھ سکون ملا ۔۔
رخشی بیگم نے اسے چھوٹے ملک آریان زاویار کو اپنی گود میں لے لیا تو ۔۔
میری بچی ہلکان ہو جاتی ہے اسے سنبھالنے میں۔۔ رخشی بیگم اسے دیکھتی بولی جو اب تھوڑا سکون میں آئی۔۔
تب ہی زاویار آیا۔۔ ” سو گیا میرا شیر”
ہاں سو گیا ہے آپ جائیں اپنا کام۔کریں جا کر آپکو کیا فکر ہماری” وہ چڑ کر بولی۔۔
عبیرہ بری بات ” رخشی بیگم نے اسے ٹوکا۔۔
بھابھی آپ کے سامنے ہی ہے دو دو شادیاں ہیں سارا میجمنٹ کا کام میرے سر پہ ہے۔۔ ” زاویار اپنی صفائی پیش کرتا بولا۔۔
زاویار اور عبیرہ جاؤ اسٹیج پہ آریان سو رہا ہے اب تم۔لوگ اب تھوڑا ٹائم اکٹھا گزارو ۔۔ رخشی بیگم بولی تو منہ بناتی اٹھ گئی۔۔
زاویار اسکا ہاتھ پکڑے اسٹیج پہ آیا۔۔ عبیرہ نے بلیک نیٹ کا ہلکے کام والی فراک پہن رکھی تھی اور زاویار نے بھی بلیک ہی شلوار قمیض پہن رکھی تھی دونوں ساتھ چلتے بہت اچھے لگ رہے تھے۔۔
اور اسٹیج پہ جوڑوں کے ساتھ بیٹھے پک بنوانے لگے
اشعر کی۔بھی مرحا کے ساتھ بات پکی ہوچکی تھی بڑی جدوجہد کے بعد ۔۔
اب عبیرہ اور ساتھ زاویار ایک ساتھ کھڑے تھے ۔۔ایک سائیڈ ۔۔زین اور شزا۔۔ اور دوسری سائیڈ شجاع اور رانیہ۔۔ وہ دونوں بیچ میں تھے اور طہٰ نے تصویر کلک۔۔
انشاللہ اگلے سال میری باری ہوگی۔۔ طہٰ بڑا خوش ہوتا تھمنب دکھاتے بولا تو سب ہنس دیے۔۔
ختم شد۔۔
See translation
