No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
زین کو شاک لگا تھا یہ بات سن کر.. وہ صدمہ میں کھڑا تھا..
پھر ہمت کرتے بول پڑا..
ماما ابا جی.. میں عبیرہ سے نکاح نہیں کرسکتا یہ ٹھیک نہیں ہے زیادتی ہے عبیرہ کے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی میں اسے اپنی چھوٹی بہن مانتا ہوں اور وہ مجھے اس سے بڑھ کر ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا یہ ہمارے رشتہ ہی توہین ہے” سب ہی زین کی باتیں سنتے ہکا بکا رہ گئے..
بیٹے مجھے تم سے بہت امید تھی تم ہماری عزت رکھو گے ” اسکی ماں صدمہ سے بولی..
ماما آپ خود سوچیں بچپن سے آج تک ہم میں بہن بھائی والی محبت رہی ہے.. اور اسلام میں بہن بھائی کا نکاح جائز نہیں.. اور پلیز مجھ مجبور مت کیجئے گا ورنہ میں گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا.. غصہ سے کہتا یہ جا وہ جا..
رخشی تو رونے لگ گئی ” میری ہی اپنی اولاد نے مجھے شرمندہ کردیا میں کیا منہ دکھاؤں گی اپنی بہن کو”
رخشی پتر دل نا چھوٹا کر ہمارے گھر لڑکوں کی کمی ہے.. ” ملک حمید اسے دلاسہ دیتے بولے..
یہ کیا کہہ رہے ہیں ابا جی’ ملک نعمان بولے سب کی نظریں ابّا جی کی طرف تھی..
ہم وڈے پاجی فیض کی طرف چلتے ہیں دو پتر امین کے ہیں دو پتر عمر کے ہیں کوئی تو ہمیں ایک آد لڑکے کا رشتہ مل ہی جائے گا اس میں ٹینشن لینے کیا ضرورت ہے..
ابا جی بالکل ٹھیک کہہ رہے نے چلو اٹھو ابھی چل کے گل کرتے ہیں تایا فیض نال ” حمیرا ملک حمید کی تائید میں بولی..
🥀🥀🥀
مرحا میری بکس کہاں رکھی ہیں ” عبیرہ نے پورا کمرہ چھان مارا مگر اسے اپنی کتابیں نہی ملی..
تمہاری بکس” وہ سوچتے ہوئے بولی اسے یاد آیا اسنے تو بکس زاویار چاچو کی گاڑی میں اس نے ڈیش بورڈ پہ رکھی تھی..
او ہاں وہ تو بکس چاچو کی گاڑی میں ہی رہ گئی مجھے یاد نہیں رہا اٹھانا.. ” وہ بچارہ سا منہ بناتی بولی..
جاؤ ابھی کے ابھی بکس لا کر دو میری ٹیسٹ ہے کل میرا ایک تو یہ زاویار چاچو بھی روز ہی ٹیسٹ دے دیتے ہیں.. وہ غصہ سے بولی..
میں نہیں جا رہی اسائنمنٹ بنارہی ہوں پہلے ہی دماغ کی کھچڑی پکی ہوئی.. اسنے جانے سے صاف انکار کردیا..
🥀🥀🥀
زین غصہ سے کمرے سے باہر نکلا تھا سامنے شزا آنکھوں میں آنسو لئے کھڑی تھی..
زین کو اب سمجھ آیا اسکا انگور کرنا.. شزا کو ہاتھ پکڑے سائیڈ پہ آیا..
“تم کیسے سوچ سکتی ہو کہ تمہیں چھوڑ کر کسی اور کو اپنا لوں گا.. تم محبت ہو میری سب سے ٹکرا جاؤ گا تمہارے لیے ” صاف انکار کردیا ہے میں نے..
شزا کی جسم میں جیسے جان آئی تھی آنکھوں میں چمک آئ تھی.. ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے..
ڈیٹس لائک آ گڈ گرل وہ اسکی تھوڑی سے پکڑتا بولا..
عبیرہ سیڑھیاں اتر رہی تھی جب اسے زین اور شزا نظر آئے.. یہ یہاں کیا نئ رام لیلہ چل رہی تھی.. ” وہ انکے سامنے آتی بولی..
تو وہ گھبرا کر سے الگ ہوئے.. عبیرہ کی ہنسی چھوٹی تھی.. اور وہ بکس لینے کے ارادے سے وہاں سے چلی گئی
🥀🥀🥀
اور کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ملک فیض ہاؤس میں بیٹھے تھے..
اور آج کی بیتی ساری کہانی سنائی.. یہ تو بہت غلط ہے ساری زندگی اپنی بیٹی کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور اب اچانک سے “نغمہ بیگم افسوس سے بولی..
اس وقت وہ لوگ حال میں رکھے گئے صوفوں پہ تشریف فرما تھے.. ملک امین اور ملک عمر بھی اپنی بیگمات کے ساتھ مجود تھے
دونوں بھائی ملک فیض اور ملک حمید ایک ساتھ صوفہ پہ بیٹھے سارے حالات کا جائزہ لے رہے تھے..
ملیحہ کچن میں موجود تھی اسے چائے بنانے کا آرڈر دیا گیا تھا.. اور باقی کی ساری ینگ پارٹی گھر سے باہر تھی.. زاویار اپنے کمرے موجود تھا..
اسلام علیکم” زاویار چاچو گھر پہ ہے مجھے اپنی بکس لینی تھی ان سے”
سب بڑوں کو ایک ساتھ اکٹھا دیکھ وہ بولی..
ہاں وہ اپنے کمرے میں پیپرز چیک کررہا تھا کہہ رہا تھا مجھے کوئی ڈسٹرب نا کرے.. جاؤ پھر تم ” آمنہ بیگم بولی..
تو وہ سیڑھیاں چڑھتی اسکے کمرے میں چلی گئی..
بات یہ ہے کہ.. اب زین کے انکار کے بعد ہماری امیدیں آپ لوگوں سے وابستہ ہیں ” ملک حمید بولے..
کیا عبیرہ کو یہ بات پتا ہے.. آمنہ بیگم بولی..
نہیں پتا مگر ہم صحیح نتیجہ تک پہنچتے اسے بتا دیں گے آخر اسکے بہترین مستقبل کیلئے ہی ہم اکٹھے ہوئے ہیں.. ملک نعمان بولے..
آ دیکھیں نا جی عبیرہ بے شک بہت اچھی بچی ہے.. مگر میں نے شجاع کی بات رانیہ سے پکی کردی ہے اور اشعر ابھی پڑھ رہا ہے عمر بھی کم ہے ابھی اتنی ذمہ داری اٹھانے کے لائق ہوا نہیں بائیس سال کا تو ہے ابھی.. نغمہ بیگم نے گھما پھرا کر صاف انکار ہی کردیا اور وہ ملک امین بھی خاموش ہی رہے.. ملک فیض کو مایوسی ہوئی مگر چپ رہے.
اب انکی نظریں آمنہ بیگم اور ملک عمر پہ جا ٹکی..
دیکھیں میرے بیٹے تو ابھی اس قابل نہیں ہیں.. پڑھائی میں تو دھیان لگاتے نہیں اور ابھی انکا تو کوئی مستقبل بھی نہیں.. ” آمنہ بیگم بھی بڑے پیارے انداز میں معذرت کرگئی. میرے بیٹے تو نکمے ہیں عبیرہ جیسی سلجھی ہوئی لڑکی کی لائف نہیں میں خراب کرسکتا..ملک عمر صاحب بولے جو عزت انکی آمنہ بیگم بنانے کی کوشش کرتی ہیں اسے وہ ملیا میٹ کر دیتے ہیں..
اب ہر طرف مایوسی کا سامنا تھا..
…
عبیرہ جب زاویار کے کمرے میں آئی تو کمرہ خالی تھا.. واشروم سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھی..
تو وہ اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔ کمرے کا جائزہ لینے لگی بغیر کسی کام کے وہ کبھی نہیں آئی یہاں.. کمرہ کافی کشادہ اور کھلا تھا اور دیواروں پہ وائٹ پینٹ بڑا سا جہازی سائز بیڈ وال پہ لگی زاویار کی بڑی سی تصویر وائٹ شرٹ پہنے ماتھے پہ بال بکھرے وہ مسکراتا ہوا دلکش لگ رہا تھا..اس پہ نظریں ہٹا کر سامنے میز اور کرسی رکھی ہوئی تھی جس پہ زاویار پیپر چیک کررہا تھا.. پیپر بھی بکھرے ہوئے تھے میز پہ تھوڑا آگے بڑھ کر پیپرز کا جائزہ لیا کہیں اسکا اپنا نام چمکتا نظر آیا عبیرہ.. ہاتھ بڑھا کر پیپر اٹھایا تو وہ اسی کا تھا..
ابھی جائزہ لے ہی رہی تھی کہ زاویار نےا اس کے پاس آتے پیپر جھپٹ لیا.. عبیرہ ایک دم سے گھبرائی..
نو لٹل گرل.. ویری بیڈ .. میری پرمیشن کے بغیر تم نے پیپرز کیسے اٹھایا.. وہ۔تھوڑا سا سخت انداز میں۔بولا
وہ ویسے ہی میں.. مجھے اپنی بکس چاہیے.. ” وہ گھبرائی سی بولی
کون سی بکس ” وہ دونوں ہاتھ باندھے اسے دیکھتا بولا..
وہی آج کی بکس جو مرحا کے پاس تھی وہ شاید آپکی گاڑی میں بھول گئی پلیز مجھے دے دیں میں نے ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے.. ” ایک تو آپ بھی روز ہی ٹیسٹ اٹھا کر دے دیتے ہیں” وہ ایک ہی سانس میں اپنی بات کہہ گئی تاکہ جان چھوٹ سکے جلدی…
اچھا چلو گاڑی میں ہی ہوگی” اتنا ٹائم ضائع کردیا میرا اتنے میں دو پیپر چیک کر لینے تھے.. وہ گاڑی کی چابیاں میز سے اٹھاتا کمرے سے باہر نکلا عبیرہ اسکے آگے تھے..
حال میں دونوں طرف انکار سے مایوسی چھائی تھی سب چپ ہی بیٹھے تھے.. اتنے سیڑھیاں اترتے عبیرہ اور زاویار پہ ملک فیض اور ملک حمید دونوں کی نظریں اٹھی تھیں..
لڑکی موڈ ٹھیک کرو اپنا اگر اس سوکھے ہوئے موڈ کے ساتھ تمہیں سب نے دیکھا تو پھر مجھ پہ بات آئے گی میں نے ہی کچھ کہا ہوگا.. ” عبیرہ ابھی گھبرائی سی تھی.. ایک دم سے مڑی اسکی طرف وہ ابھی پہلی سیڑھی دو تین سیڑھیوں پر تھی زاویار اس سے ایک سیڑھی پیچھے تھا..
تو ۔۔ سچ ہی ہے آپ نے مجھے ڈرایا ہے.. ” وہ ناک چڑھا کر بولی.. آف وائٹ فراک پہنے ساتھ بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے.. وہ اسکی طرف دیکھتی بولی اور پھر ایک دم سے مڑی کے بیلنس برقرار نا رکھ سکی ابھی نیچے کی طرف گرتی کے زاویار نے پھرتی دکھاتے اسے کمر سے تھام لیا ایک ہاتھ گرل کو مضبوطی سے پکڑے دوسرا ہاتھ کمر میں ڈال کر اپنی جانب کھینچا تھا.. وہ اسکے چوڑے سینے کے ساتھ جا ٹکرائی.. اپنا توازن سنبھالتے وہ جلدی سے اس سے الگ ہوئی..
سنبھل کر یار کیا ہوگیا گر جاتی تو تمہارے قتل کا الزام بھی میرے سر آجانا تھا ..مرتے مرتے بھی مجھ بے قصور بندے کو پھنسا دیتی.. “
کہتے وہ سیڑھیاں اترنے لگا..
اب یہی رکو بکس لے کر آیا.. نیچے آتے ہی اسے وہیں رکنے کہا اور خود باہر پورچ میں چلا گیا..
یار حمیدے تو بھی وہی دیکھ رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں..
ملک فیض ملک حمید کے نزدیک ہوکر بولے.. دونوں بزرگوں کی نظریں آن پہ ٹکی ہوئی تھی..
ہاں پاجی.. میں بھی ” وہ بھی ان پہ نظریں جمائے بولے.. زاویار نے دو منٹ میں عبیرہ کی بکس لاکر اسے تھمائی.. یہ لو بکس ” اب کوئی مجھے ڈسٹرب نا کرے وہ کہتا سیڑھیاں چڑھ گیا باقی سب نے بس سرسری سی نظر ان پہ ڈالی تھی..
یار حمیدے تو بھی وہی سوچ رہا ہے جو میں سوچ رہا ہوں.. ملک فیض پھر انکی طرف جھکتے بولے ..
ہاں پاجی ” قسمیں سورج چاند کی جوڑی ہے.. نیک کام میں دیر نا کریں جلدی جلدی بات کریں ” ملک حمید بولے..
ملک فیض نے ہنکار بھر کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا..
رخشی بیٹی اب عبیرہ بچی کی فکر کی کوئی ضرورت نہیں اب عبیرہ بچی میری ہوئی.. ” سب نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا اور پریشان بھی ہوئے اگر انکار باوجود ابا جی نے انکے کسی ایک بیٹے کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا تو وہ اب انکار نہیں کرسکے..
اور تم لوک گبراؤ نہیں تمہارے بیٹے اس لائق نہیں ہے.. میں اپنے پتر زاویار کے لئے بات کررہا ہوں.. ” ملک فیض کی بات پہ سب نے حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر انکی طرف متوجہ ہوئے..
ابا جی تسی کہنا کی چاہ رہے ہو” ملک امین بولے..
میں عبیرہ کے لئے زاویار کو رشتہ مانگ رہا ہوں کیا تمہیں کوئی اعتراض” وہ روب اور دبدبے سے بولے..
مگر تایا جی زاویار ” رخشی بیگم پریشان سی بولی..
میرا پتر گھبرو جوان مضبوط بندہ ہے اپنے پیروں پہ کھڑا ہے بنتا ٹھنتا بھی اچھا ہے.. ماشا اللہ سوہنا وی ہے.. اپنی عبیرہ کے لئے بہت بہتر رہے گا مضبوط سایہ کی ضرورت ہے اس وقت اس بچی کو” اب آگے تم لوگوں کی مرضی.. اور ان کے نکمے لونڈوں سے تو بہت درجہ بہتر ہے آخر میں اپنے بیٹوں کو لتاڑا تو انکی بیگمات منہ بسورتی رہ گئی..
ابا جی آپ کا کیا خیال ہے ” ملک نعمان اور رخشندہ بیگم ملک حمید کی طرف متوجہ ہے..
میرا بھی وہی خیال ہے جو پا جی کا ہے ” باقی اگے تم لوگو کی مرضی “
بس تو پھر سمجھیں بات پکی مینو تے کوئی اعتراض نہیں اگر اور کسی کو ہے تو بول دے ملک نعمان اور رخشندہ بیگم اپنا فیصلہ سنایا۔۔
ملیحہ نے کچن بزرگوں کی تمام گفتگو کان لگا کر سنی۔۔
مگر زاویار راضی ہوگا اس رشتہ کیلئے آمنہ بیگم پریشان ہوتی بولی۔۔
اس بات کی ٹینشن نا لو یہ کام ما بدولت ہم خود کریں گے بس کوئی اسکیم سوچنی پڑے گی۔۔ ملک فیض سوچتے بولے۔۔
عبیرہ کی کوئی ٹینشن نہیں بس اس سے پوچھ لیں گے بچی کے بہترین مستقبل کے لیے ہی آخر بات ہو رہی ہے”
ملک نعمان بولے
ملی پتر چاہ لے آ جلدی سے
ساتھ پھر کچھ میٹھا بھی ہوجائے اس خوشی میں۔۔ نغمہ بیگم بولی تو سب ہنس دیے۔۔
°°°°
عبیرہ نے کمرے میں آتے غصہ سے کتابیں پٹخی تھی اپنی پتا نہیں سمجھتے کیا ہیں خود کو “
اب کیا ہوا ” مرحا بولی
وہ تمہارے چاچو زکوٹا جن کہیں کا” وہ دانت پیستے بولی۔۔
ایسا تو نا کہو اتنے ہینڈسم چاچو ہیں ہمارے تم اینوی ان کے پیچھے پڑی رہتی ہو” مرحا نے اسے جواب دیا۔۔
آتنے بھی ہینڈسم نہیں ۔۔”ہنہہ” وہ منہ بنا کر بولی۔۔
ہاں جی تب ہی یونی کی لڑکیوں میں ہنڈسم پروفیسر سے مشہور ہیں ساری لڑکیاں آہیں بھرتی ہے کہ بات کرلے ایک بار بس۔۔” مرحا نے تو زویار کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کردیے۔۔
وہ بنا اسکی بات پہ دھیان دیے بکس کھول کر بیٹھ گئی۔۔
°°°°°
ملیجہ کا۔تو پیٹ پھول کر اوپر آیا ہوا تھا اتنی بڑی بات ہضم کیے بیٹھی تھی۔۔
گھر کے دروازے کے باہر وہ چکر کاٹ رہی تھی۔۔
جب بڑے داخلی دروازے سے شجاع اشعر طہٰ اور عطا مٹر گشت کرکے گھر آرہے تھے وہ کرکٹ میچ کھیل کر آ رہے تھے ان کے ہاتھوں میں کرکٹ کا۔سامان موجود تھا۔۔
وہ لان سے شور مچاتے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے جب ملیحہ کو سامنے کھڑے پایا۔۔
اوہ تیکھی مرچی آج بھی کوئی تازہ خبر” طہٰ نے تکا لگایا تھا۔۔
میرے پاس تو لیٹیسٹ نیوز ہے ‘ ملیحہ پرجوش انداز میں بولی۔۔
ملی خدا کا واسطہ آج نا کسی کا رشتہ کروادی اشعر نے ہاتھ جوڑتے کہا۔۔
ہاں جی ۔۔ ملیجہ منہ پہ ہاتھ رکھتے کھڑ کھڑ کرکے ہنسی تھی۔۔
اللہ خیر کرے کہیں میرے ساتھ نا ایسا کوئی حادثہ پیش آجائے۔۔طہٰ نے دل پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
او چوچے پہلے انڈے سے تو باہر آجا اشعر نے ٹوکا۔۔
آب بول بھی دے یار ۔۔عطا سے انتظار نا ہوا۔۔
آج چاچو زاویار کا رشتہ پکا ہوگیا” ملی نے زاور دار آواز میں پرجوش ہوتے کہا۔۔
لان کے اس پار بیٹھی مرحا اور اور رانیہ شزا کے کانوں تک بھی آواز پہنچی وہ بنا دیرکیے دروازہ پار کے اس تک آئی۔۔
آب ملیحہ سب کے سامنے کھڑی تھی وہ اونچی کھڑی تھی گھر کے دروازے کے سامنے ۔۔
اور سب نیچے رش لگائے کھڑے تھے زاویار اس وقت گھر نہیں تھا۔۔
یہ کیا کہا تم نے ملی۔۔ مرحا کو اپنے کانوں پہ یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔۔
زاویار چاچو کا رشتہ پکا ہوگیا ہے” مرحا نے اپنا چشمہ درست کرتے بات کی تصدیق کی۔۔
مگررشتہ ہوا کس کے ساتھ ہے ” شجاع دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے بولا ۔۔تو رانیہ نے اسکی جانب دیکھا تھا مسکرا کر ۔۔ اور شرم سے نظریں جھکی تھیں مگر اسنے ایک نگاہ بھی اسے دیکھنا گوارہ نا کیا۔۔
اگر بتا دیا نا تو آپ لوگ اپنی جگہ سے اچھل پڑو گے”
تیکھی مرچی بتا بھی دو کیوں سسپینس کریٹ کررہی ہو” طہٰ اکتا کربولا۔۔
چلو بھئی ٹھکانے لگو اپنے اس نے نہیں بتانا ۔۔” اب کے اشعر بولا تو سب آگے بڑھے۔۔
اچھا اچھا بتارہی ہوں ۔۔عبیرہ آپی کے ساتھ رشتہ پکا ہوا ہے۔۔” جاتا دیکھ ملیحہ نے فٹ سے زبان کھولی اپنی اور واقعی میں یہ بات سن سب اپنی جگہ اچھلے ضرور تھے۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو تم”مرحا بولی
” تم نے ضرور الٹا سنا ہوگا ” شزا بولی۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں آج شام کو ہی بڑے بزرگوں کی بیٹھک لگی تھی ۔۔ ” رخشی چاچی عبیرہ کے لیے پریشان تھی کیوںکہ عبیرہ کے والد اسے اپنے ساتھ لیکر جانے کے لیے آ رہے ہیں اسلیے۔۔۔ مرحہ نے ساری کہانی سنا ڈالی۔۔
ماما نے بھی انکار کردیا اور چاچی نے بھی اور پھر دادا جی نے زاویار چاچو کا پوچھ لیا اور بس پھر بات پکی ہوگئی مگر زاویار چاچو کو اور عبیرہ آپی کو اس بات کا علم نہیں ہے۔۔ ملیحہ نے ساری تفصیل سے انہیں آگاہ گیا۔ ۔
مگر چاچو راضی نہیں ہوں گے مرحا خدشہ کے تحت بولی ۔۔
اب یی بات تو دادا جی ہی بتائیں گے جنہوں نے یہ کھچ ماری ہے” اشعر بولا اسکے ساتھ کھڑی مرحا بولی
” پتا نہیں اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔۔” مرحا سوچ میں ڈوبی بولی۔۔
اس کا تو پتہ۔نہیں مگر یہ اونٹ میری کروٹ ضرور بیٹھے گا وہ مرحا کی ناک دباتا بولا۔۔مرحا نے فٹ سے اسکا ہاتھ جھٹکا اپنی حد میں رہو۔۔ “اپنی حد میں ہی ہوں مگر زیادہ دیر نہیں رہ پاوں گا ۔۔” وہ اسکی طرف جھک کر بولا۔۔تو وہ غصہ اسے آنکھیں دکھاتے چلی گئی وہاں سے
ویسے ناٹ بیڈ یہ جوڑی اچھی ہے” اور چاچو کو بھی لگام ڈالنے کی بہت ضرورت ہے ” بغل میں بچی اورہم شہر میں ڈھنڈور رہے ہیں” طہٰ نے اپنی رائے دی تو سب ہی۔متفق ہوئے سوائے مرحا کے۔۔
یہ صحیح نہیں ہے ” مرحا نے کہا اور اپنی پورشن کی طرف بڑھ گئی ۔۔ اور باقی سب گھر داخل ہو رہی رانیہ اور شزا مرحا کے پیچھے چل دی۔۔
شجاع اپنے ہی دھیان میں آگے بڑھ رہا تھا جب رانیہ کے کاندھے کے ساتھ اسکا کاندھا ٹکرایا ۔۔
شجاع نے اسے اگنورکیے آگے بڑھ گیا ۔۔ رانیہ کو اسکا رویہ عجیب سا لگا۔۔
°°°°
وہ تینوں کمرے میں آئی تو عبیرہ اپنے ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف تھی۔۔
اب تمہیں اتنی محنت کی ضرورت نہیں پروفیسر کی بیوی جو بننے لگی ہو ۔۔وہ آہستہ آواز میں بڑ بڑائی تھی۔۔ جو عبیرہ کو سمجھ نہیں لگی۔مگر رانیہ اور شزا مسکرا رہی تھی۔
“کیا کہہ رہی ہو بھئی زرا اونچی آواز میں بولو ” عبیرہ مصروف سے انداز میں بولی
پتہ چل جائے گا پہلے کھانا کھا لو سکون سے۔۔
°°°°
کھانا کھانے کے بعد ساری ینگ پارٹی اب دادا جی کے کمرے میں انہیں گھیرے بیٹھی تھی۔۔
دادا جی کیا سوچ کر یہ کھچ ماری ہے اب اگلا لائحہ عمل کیا ہے آپکا “
ملک۔فیض بیڈ پہ براجمان بیٹھے تھے ۔۔ اس وقت انکے کمرے میں شجاع اشعر اور طہٰ عطا اور مرحا موجود تھے ۔۔
او یار بس اس وقت جوش میں آگیا تھا اب خود پریشان بیٹھا ہوں “زبان تو دے دی اب اگر زاویار نے انکار کردیا تو” کیسے منانا ہے کجھ پلے نہیں پڑھ رہا ۔۔وہ اپنا حقہ پھونکتے بولے ,۔
دادا جی ایک۔آئیڈیا ہے میرے پاس اور یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں ایموشنل بلیک میل کر کے” طہٰ انکے پاس بیڈ پہ۔بیٹھتا بولا۔۔
وہ کیا” دادا جی فٹ بولے
بس آپ زرا بیمار ہونے کی ایکٹنگ کریں اور انکو ایسا شو کرائے کے آپ کے دن کم ہے اور اپنی زندگی میں انکی شادی دیکھنا چاہتے ہیں” طہٰ نے فٹ سے اپنی شیطانی دماغ لڑاتے انہیں مشورہ دیا تو دادا جی ساییڈ پہ رکھی اپنی لاٹھی اٹھا کر طہٰ کے کاندھے پہ۔دے ماری۔۔
سسس ” دادا جی۔مارا کیوں وہ۔کانداھے پہ ہاتھ رکھے بولا۔۔
اوئے تو مینوں مارنا چاہتا ہے” گندی اولاد ۔۔
دادا جی میں ایکٹنگ کرنے کی بات کررہا ہوں میری دعا ہے آپ ہمیشہ زندہ رہیں اور اشعر اور عطا کی۔زندگی بھی آپ کو لگ جائے ۔۔ وہ اپنا کاندھا مسلتے بولا۔۔
اشعر اور عطا نے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔۔
اوہ تہ ایسے بولنا تھا۔۔ دادا جی سمجھتے بولے۔۔
بس اب آپ نا بیمار ہونے ایکٹنگ کریں زاویار چاچو کے سامنے۔۔” باقی کا۔کام ہمارا۔۔ طہٰ بڑے فخریہ انداز میں بولا ۔۔
اچھا جی پھر نکلو سب یہاں سے اور بھیجو میرے پُتر زاویار کو اب اس توپ کا سامنا تے کرنا پڑے گا ” اور ہاں ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ‘
واہ دادا پرفیکٹ ” شجاع نے تھنب دکھایا اور سب کمرے سے باہر چل دیے۔۔
چل تیکھی مرچی اب آگے تمہارا کام ہے جاوٴ چاچو کمرے
میں انہیں کہو دادا جی کی طبیعت ٹھیک نہیں آپ کو یاد کررہے ہیں۔۔” طہٰ نے اسے سمجھا کر زاویار کے کمرے کی طرف روانہ کیا۔۔
چاچو ۔۔ دادا جی آپکو بلا رہے ہیں اپنے کمرے میں ہیں اور کہہ رہے انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔ آپ آ کر بات سن لیں۔۔
زاویار اپنے پیپرز چیک کررہا تھا اور کھانا بھی اپنے کمرے ہی کھایا۔۔
ابا جی کو کیا ہوگیا ” وہ پریشانی سے اٹھا ۔۔
زاویار کو نیچے آتا دیکھ سب ادھر ادھر ہوگئے۔۔
آبا جی کیا ہوا آپکو” سر پہ۔بازو رکھے لیٹے تھے۔۔ وہ۔فکر مندی سے بولا
مینو کی ہونا ہے۔۔ تیری فکر کھائے جا رہی ہے “بہت چاہ ہے تیرے ویاہ کی مرنے سے پہلے تیرے سر پہ سہرا سجا ہوا دیکھ لوں۔۔ ایموشنل ہوتے بولے اور پھر کھاسنے لگے۔۔
آبا جی کن۔فضول باتوں کی ٹینشن لے لی ہے آپ نے ” زاویار نے پانی کا گلاس اٹھا کر انکے منہ کے ساتھ لگایا ایک۔دو گھونٹ پینے پینے کے بعد انہوں۔نے گلاس پرے کردیا۔۔
بیٹا جی میں تیرا رشتہ پکا کردیا ہے آج۔۔ بس اب تو ہاں بول دے ۔۔
ان کے بیڈ کے سامنے کرسی کھسکا۔کر بیٹھ گیا۔۔
اب جب آپ سارے معاملات طے کر چکے ہیں تو مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں کریں اپنی مرضی جو آپکا دل کرتا ہے۔۔ بظاہر وہ۔انکا۔دل رکھنے کے لیے کہہ رہا تھا۔
لیکن پتر ” اب ملک۔فیض کو کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عبیرہ کی بات کیسے کرے۔۔
“اب لیکن کیا” ابا جی زاویار نے استفسار کیا۔۔
مگر ملک فیض کی اگلی بات پہ وہ ٹھٹک کر رہ گیا۔۔
” ابا جی” اسکے منہ اور لفظ نکل ہی نا سکا
