No Download Link
Rate this Novel
Episode 8 Part 1
عبیرہ کو ہوش آنے لگا ۔۔ہلکیں۔سی آنکھیں کھولی ۔۔ وہ۔کسی کے حصار میں تھی پوری طرح سر چکرا رہا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کہ۔کہاں ہے ۔۔ سراٹھا کر سامنے دیکھا تو زاویار کو دیکھ وہ۔ٹھٹک گئی ۔۔ وہ اسکے سینے کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی اور زاویار نے اسے کمر میں ہاتھ ڈالے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔۔اور وہ اس قت شرٹ لیس تھا ۔۔
اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔۔ جسم میں بھی درد تھا ۔۔ ہلکا ہلکا بخار بھی تھا ۔۔ کسی انہونی کا۔احساس ہونے لگا ۔۔ ٹھیک۔سے یاد کرنے لگی ۔۔ وہ۔کیسے آئی یہاں ۔۔ وہ تو رات کو باہر تھی اور بارش ہورہی تھی اس کے بعد کچھ یاد نا۔آیا ۔۔ زاویار نے اسکی بے ہوشی کا فائدہ اٹھایا ہے۔۔ خود سے ہی تانے بانے بنتے اسنے اپنے مطلب کے معنی اخذ کر لیے۔۔ زاویار گہری نیند میں تھا ۔۔ جب عبیرہ اسکا حصار توڑتی بیڈ سے اتری ۔۔زاویار کی۔آنکھ کھلی ۔۔
آپ۔۔ کیسے لائے مجھے یہاں۔۔ ” زاویار کو دیکھتی وہ۔چلائی۔۔ جبکہ زاویار بڑے سکون میں تھا۔۔ وہ سیدھا ہوکر لیٹا اور سر کے نیچے اپنا بازو دے دیا اور بڑے سکون سے بولا۔۔ “
بارش میں مررہی تھی بچایا ہے تمہیں اور آواز نیچی رکھو ۔۔”
ہاں تو مر جانے دیتے کیوں چھوا مجھے ۔۔ہاتھ بھی کیسے لگایا مجھے آپ نے ۔۔” کوئی حق نہیں ہے آپکا مجھے چھونے کس حق سے لائے مجھے یہاں۔۔ آنکھیں سرخی مائل۔ہوئی تھی کوئی بپھر گئی تھی اسکے سکون سے ۔۔
شوہر ہونے کے حق سے لایا ہوں۔۔ وہ کمبل کو پرے پھینکتا جلدی سے اسکے برابر آیا۔۔ عبیرہ کا دھیان زاویار کے پہنی ہوئی ٹی شرٹ کی طرف گیا۔۔ وہ اسکی اسی کی شرٹ میں۔موجود تھی۔۔
ِیہ کیا میرے کپڑے کس نے چینج کیے” وہ پریشان سی بولی۔۔
میں نے ۔۔” وہ۔سینے پہ۔ہاتھ باندھے سکون سے بولا۔۔
آپ کو شرم۔نہیں ہے کتنے گھٹیا انسان ہیں آپ ۔۔ کیا کیا آپ نے میرے ساتھ ۔۔ عبیرہ کا تو میٹر گھوم گیا ۔۔ اور زاویار کا بھی میٹر گھوما گئی۔۔
میں تمہارا شوہر ہوں سمجھی ۔۔کسی غیر ارادی طور پہ۔تمہیں نہیں چھوا اپنا جائز حق وصولنے کے لیے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ۔۔ اور ملک زاویار اتنا گرا ہوا نہیں جو تمہاری بے ہوشی کا فائدہ اٹھائے ۔۔ تم مکمل بھیگی ہوئی تھی۔۔ اس لیے چینج کروانے پڑے۔۔ زاویار اسکا بازو دوبوچے سخت لہجہ میں بولا.
عبیرہ نظریں جھکا گئی ۔۔ وہ۔بہت سنگین الفاظ استعمال کرگئی تھی۔۔
مجھے اپنے روم میں۔جانا ہے۔۔ نکالیں یہاں سے مجھے اور پلیز پہلے مجھے میرے کپڑے چاہیے ۔۔
وہ ان کپڑوں کو دیکھتی بولی جو اس نے پہن رکھے تھے۔۔ تم اپنے ہی کمرے میں کھڑی ہو۔۔ ہلکی سی اسمائل۔کئے وہ بولا۔۔ عبیرہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔پہلے کتنا ایمبیلنس فیل کررہی تھی ٹی شرٹ میں اسکے سامنے اب وہ زچ کررہا تھا۔۔
ٹائم کی طرف نگاہ دوڑائی جو ابھی صبح کے ساڑے چھ بجا رہی تھی۔۔
ابھی اپنے کمرے سے کوئی نہیں نکلا ہوگا ۔۔ مرحا کو بلاتاہوں۔۔کہتے مرحا کو کال لگائی۔۔
مرحا جو گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔۔ مسلسل فون بجنے پہ اسکی آنکھ کھلی آنکھیں ملتے فون دیکھا۔۔
زاویار چاچو اس وقت۔۔
ہیلو۔۔
ہیلو کی بچی کہاں گھوڑے بیچ کر سو رہی ہو ۔۔ جلدی سے عبیرہ کے کپڑے لے کر میرے کمرے میں آؤ۔۔
واٹ ” مرحا کی پوری آنکھیں کھولی تھی ۔۔فٹ سے اٹھ بیٹھی ۔۔ عبیرہ کے بستر پہ نظر ڈالی جو خالی تھا۔۔
مگر عبیرہ۔وہاں کیسے ۔۔” وہ۔پریشان ہوتی بولی۔۔
سوال۔جواب کا ٹائم۔نہیں ہے جلدی آوٴ ” زاویار نے کہتے کال کٹ کی۔۔
وہ عبیرہ۔کی۔جانب پلٹا تھا جو سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔
وہ گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں مرحا سب کی نظروں سے بچتے بچاتے زاویار کے کمرے تک پہنچی صبح صبح سب اپنےہی کمروں میں موجود تھے اس لیے وہ۔کسی کی۔نظروں میں آنے سے بچ گئی ۔۔
دروازہ ناک ہوا ۔۔ زاویار نے فٹ سے دروازہ کھولا۔۔
عبیرہ بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔ ” مرحا نے اسے سر تا پیر غور سے دیکھا وہ اس وقت زاویار کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنے ہوئی تھی۔۔ عبیرہ اسکی نظروں سے شرمندہ سی ہوئی تھی۔۔
مرحا اسکی جانب اسکے کپڑے بڑھائے اور وہ جلدی سے کپڑے لیتی واش روم میں بند ہوئی تھی ۔۔ مرحا کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کچھ بھی ۔۔
زاویار چاچو کیا ہے یہ سب” آخر اس سے چپ نا رہا گیا۔۔
تو زاویار نے رات کی ساری کہانی سنا ڈالی ۔۔ سوائے عبیرہ کے کپڑے چینج کرنے والی کہانی کے۔۔
تمہیں پتہ نہیں چلا۔وہ۔سائیکو کمرے میں نہیں ہے”
اتنے میں عبیرہ بھی چینج کیے باہر آئی۔۔ عبیرہ کو پھر لفظ سائیکو پہ تپ چڑھی۔۔
پتہ نہیں میں۔نے اسے کمرے سے باہر جاتے تو دیکھا مگرمیں سوگئی ۔۔ مگر مجھے پتا نہیں تھا یہ’ یہ ڈرامہ۔کرے گی۔۔ ” مرحا بولی۔۔
چلو مرحا ۔۔” عبیرہ مرحا کا ہاتھ پکڑتے بولی ۔۔ زاویار نے عبیرہ کا ہاتھ پکڑ لیا اسے جانے سے روکنے کے لیے۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا ‘ وہ دانت پیستے بولی
مرحا پہلے باہر چیک کرو کوئی ہے تو نہیں ۔۔ اور سائیکو خود بھی مرو گی اور مجھے پھنسا دو گی۔۔” زاویار نے اسکا ہاتھ چھوڑا نہیں تھا۔۔
رائٹ۔۔’ مرحا باہر نکلی ۔۔ ایک دو سیڑھیاں اتری تھی کہ آمنہ بیگم۔نے اسے دیکھ لیا۔۔
مرحا ‘ تم صبح صبح یہاں ۔۔”
وہ میں۔چاچی ایکچولی ہاں زاویار چاچو سے کام تھا۔۔ اس لیے آئی ۔۔ ” مرحا کو سمجھ نا آیا پکڑے جانے پہ کیا بولے۔۔
کیا کام ۔۔ ” آمنہ بیگم بولی
وہ مجھے آج نہیں جانا یہی کہنا تھا۔۔ اور وہ۔فٹ سے نکلی انکے برابر سے۔۔
اب کیا کروں ۔۔ نیچے اتری تو ابا جی سامنے موجود تھے۔۔ نغمہ بیگم انہیں چائے پکڑا رہی تھی
” اب کیا کروں یہاں تو پہرے لگ گئے۔۔” مرحا پریشان ہوئی
بچے صبح صبح خیر ہے نا ۔۔ ملک فیض سامنے کھڑی مرحا کو دیکھ بولے۔۔
جی دادا خیر ہے کام۔تھا مجھے چاچو سے ۔۔ ” وہ کہتے ہی تیزی سے نکلی۔۔
یہ مرحا کیوں نہیں آ رہی۔۔ عبیرہ کوفت سے بولی تھی ۔۔ سات بج گئے تھے۔۔
تو ۔۔ ” زاویار نے آرام۔سے کندھے اچکاتے کہا۔۔
تو کیا اگر سب کو۔پتا چل۔گیا میں۔یہاں ہوں تو سب کیا۔سوچیں۔گے میرے بارے میں ۔۔ تپ کر۔بولی تھی وہ۔۔
وہ جس کی۔آواز نہیں نکلی تھی کبھی اسکے سامنے آج شیر بنی ہوئی تھی اسکے سامنے ۔۔
” شوہر بن گیا تو کیا میرے سر پہ چڑھ جاؤ گی” آرام سے بات نہیں۔کرسکتی ۔۔ وہ اسے آنکھیں دکھاتا بولا۔ مگر مقابل کو فکر ہی کہاں تھی۔۔
°°°°
تم کہاں سے آ رہی ہو ۔۔ مرحا اب گھر میں چھپ چھپا۔کر داخل ہوئی تو رخشی بیگم نظروں میں آگئی جو اسکے پیچھے ہی کھڑی تھی۔۔
باہر لان میں تھی سوچا واک کرلوں صبح کی۔تازہ ہوا بہت اچھی لگتی ہے’
آج سے پہلے تو کبھی اچھی نہیں لگی نا واک نا ہوا۔۔رخشی بیگم اسے مشکوک نظروں سے دیکھتی بولی۔۔
نہیں اچھی لگتی تھی پہلے بھی بس آنکھ نہیں کھلتی جلدی ۔ آج۔اٹھ گئی تو سوچا۔۔ آج ہوجائے کچھ واک۔۔ مرحا نے مزید جھوٹ کا۔سہارا لیا۔۔
اچھا ٹھیک۔عبیرہ نہیں۔اٹھی ابھی تک ۔۔ورنہ وہ۔تو اس وقت آجاتی تھی ناشتہ بنانے۔۔”
“ہوگی تو آئے گی نا” وہ۔منہ میں بڑبڑاتی اندر بڑھی۔۔
کمرے میں آتے زاویار کو میسیج کیا ۔۔
چاچو اب پکڑے گئے آپ ۔۔ ” اب اپنا بندو بست کرلیں سب جاگ گئے ہیں۔۔
°°°
ملی زاویار کو۔تو بلاؤ ۔۔ جانا نہیں آج کیا ۔۔ ساڑھے سات ہوگئے پہلے تو سات بجے ہی۔کرسی پہ تیار بیٹھا ہوتا تھا۔۔آمنہ۔بیگم ملیحہ سے بولی تو وہ سر ہلاتی چل دی۔۔
زاویار کو مرحا کا۔میسیج مل۔چکا تھا ۔۔ عبیرہ الگ ضد پہ اڑی تھی اسے باہر جانا ہے۔۔
ملیحہ ۔۔ زاویار کے کمرے تک پہنچی تھی۔کہ۔دروازہ ہلکا سا کھلا تھا اور اندر سے آوازیں آ رہی تھی ۔۔تجسس کے مارے ملیحہ نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا ۔۔ تو عبیرہ اور زاویار آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔اور کسی بات پہ آپس میں جرح کررہے تھے۔۔
باہر سب موجود ہیں میں کیسے تمہیں۔۔” زاویار کی۔اچانک نظر دروازہ پہ کھڑی ملیحہ پہ گئی۔۔
او شٹ ۔۔ مرچی۔۔” زاویار دروازہ کی۔جانب بڑھا کہ ملیحہ فٹ سے وہاں سے بھاگی ۔۔ زاویار کمرے سے باہر نکلا تو مرحا سیڑھیوں تک پہنچ چکی تھی۔۔ اب آواز دینے کا بھی فائدہ نہیں رہا۔۔ اور وہ سر پکڑتا کمرے میں آ گیا۔۔
اب کیا ہوگا ملی نیچے جا کر سب کو۔بتا دے گی ۔۔” عبیرہ رونی صورت بناتی بولی۔۔
تمہیں تو سکون آجائے گا نا ۔۔ کہہ رہا تھا صبر کر لو مگر نہیں ” اب آ جا کر سارا قصور میرا نکلے گا” عبیرہ پہ بھڑکتا صوفہ پہ بیٹھ گیا۔۔
عبیرہ کو تو ٹینشن لگ گئی,
°°°
ماما۔۔ ملیحہ۔بھاگتے ہانپتی نغمہ بیگم کو پاس پہنچی جو ملک امین کو چائے دے رہی تھی۔۔
کیا ہوا ۔۔اتنا کیوں سانس چڑھا ہوا ہے آرام سے سیڑھیاں اتر لیتی۔۔”
ماما وہ۔چاچو۔۔ ” کمرے میں ۔ ملیحہ ہانپتے ہوئے بولی۔۔
کیا ہوا زاویار کو ۔۔'” ملک فیض کو ٹینشن ہوئی۔۔
انہیں کچھ نہیں ہوا۔ ” زاویار چاچو کے کمرے میں عبیرہ آپی ہیں۔۔” ملیحہ۔نے جلدی سے اپنی بات پوری کی ۔۔ سب اپنی اپنی جگہ ساکت ہوگئے۔۔ ینگ پارٹی بھی ساری ناشتہ کے ٹیبل پہ۔موجود ناشتہ کررہی تھی انکے بھی چلتے ہاتھ رکے۔۔
سب بڑے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔۔ رخشی بیگم بھی کسی۔کام۔سے آئی تھی وہاں دروازہ پہ کھڑی اسکی سماعت سے بھی آواز ٹکرائی تھی۔۔ سب کی نظر انکی طرف اٹھی اور وہ بنا کچھ بولے چلی گئی وہاں سے ۔۔
یہ زاویار بھی نا صبر نام۔کی چیز ہی نہیں اس میں جب اسکی بات مانی جا چکی ہے تو پھر ایک دن بھی نہیں رک سکتا۔۔ ملک فیض کو غصہ آیا تھا زاویار پہ۔۔
ادھر رخشی بیگم نے گھر پہنچتے واویلا مچا دیا۔۔ مرحا ۔۔
باہر آو۔۔
وہ ڈرتے آئی ۔۔
کہاں عبیرہ میں نے کہا تھا عبیرہ کو بلا ؤ آئی کیوں۔نہیں وہ۔ابھی تک ۔۔ رخشی بیگم چلا۔کر بولی۔۔
مرحا جواباً خاموش رہی ۔۔
کیا ہوا رخشی بیگم ” ملک نعمان بولے ۔۔ ملک حمید بھی وہیں بیٹھے تھے۔۔
عبیرہ یہاں نہیں ہے ملک صاحب ۔۔ “
یہاں نہیں ہے کیا مطلب ہے تمہارا ” ملک حمید بولے ۔۔ رخشی بیگم کی آواز سن کر حمیرا پھپھو اور رانیہ۔شزا بھی آئیں۔۔
مرحا بتاؤ عبیرہ کہاں ہیں ۔۔ ” رخشی بیگم۔کی۔آواز قدرے اونچی تھی۔۔
زاویار چاچو کے پاس” انکے ساتھ ہے۔۔ مرحا سر جھکائے ہولے سے بولی۔۔
چلیں جی ۔۔ لے کر آئیں میری عبیرہ کو وہاں سے ابھی۔۔ یہ۔کیا طریقہ ہے ۔۔ جب زاویار کی مانی جا چکی تھی تو پھر کیوں۔کیا اس نے یہ سب۔۔
°°
اب سب ملک فیض ولا میں موجود تھے۔۔ تمام دونوں گھروں کے افراد موجود تھے وہاں ۔۔ بڑے صوفوں پہ براجمان تھے اور چھوٹے کھڑے ہوئے تھے۔۔
تایا جی بلائیں زاویار کو ، ملک نعمان بولے تھے۔۔
رخشی بیگم۔غصہ سے بھری بیٹھی تھی۔۔
زاویار ۔۔ اگر کارنامہ سر انجام دے ہی دیا ہے تو دیدار بھی کروا دو اپنا۔۔ اور بچی کو ساتھ لیتے آنا۔۔
ملک فیض وہیں بیٹھے گرج دار آواز میں بولے۔۔
زاویار کے پاس اب کوئی چارہ نا رہا سوائے باہر آنے کا ۔۔ عبیرہ کے تو پسینے چھوٹے ہوئے تھے ۔۔ سب کا سامنا کیسے کرے گی وہ۔۔
زاویار عبیرہ کا ہاتھ پکڑے نیچے اتر آیا ۔۔
سب کی نظریں ان دونوں پہ مرکوز تھیں۔۔ عبیرہ تو ایسے تھی جیسے کوئی مجرم ہو جبکہ۔زاویار کے ایکسپریشن نارمل تھے
کیا ہے یہ سب زاویار۔۔” ملک۔امین دانت پیستے بولے۔۔
جب تمہارا مطالبہ۔مان لیا تھا تو پھر کیوں کیا یہ۔سب ۔۔”
تم کیوں ہمارا ہمارا سر جھکانے پہ تلے ہوئے ہو زاویار ۔۔ ” ملک فیض بڑھک کر بولے۔۔
زاویار تو حیرت سے دیکھ رہا تھا سب ۔۔کیسے سب اسے سنا رہے تھے۔۔
آپ لوگ کیوں۔ایسا بول رہے ہیں میں نے کچھ غلط نہیں کیا ۔۔ اور عبیرہ میری بیوی ہے میرے نکاح میں ۔۔ ” زاویار افسوس سے بولا تھا۔۔
ہاں ٹھیک ہے ول تمہارے نکاح میں مگر تمہیں چھپ چھپا کر اسے اپنے کمرے میں لانے کی۔کیا ضرورت تھی نکاح والے دن ہی بول دیتے تب رخصت کردیتے اسے تمہارے ساتھ۔۔ رخشی بیگم بولی۔۔
مجھے شوق نہیں۔تھا یہ۔نکاح کرنے کا آپ لوگوں نے دباوٴ ڈالا تھا ” زاویار سے چپ نا رہا گیا خود پہ۔سنگین لزام لگتا دیکھ۔۔
میری بیٹی کو۔میرے حوالے کردیا جائے ” یہ مردانہ آواز تو کسی اور سمت سے آئی تھی۔۔ سب نے دروازے کی۔جانب دیکھا۔۔
عبیرہ کا۔باپ فیصل کھڑا تھا۔۔ سب اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔۔
رخشی کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا انکے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔
عبیرہ تو کانپنے لگی تھی ۔۔ وہ زاویار کے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔
میں۔اپنی بیٹی عبیرہ فیصل کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آیا ہوں ۔۔ فیصل اپنے ساتھ ایک اور شخص کو بھی لایا تھا یقیناً وہ کالے کوٹ میں ملبوس وکیل تھا۔۔
آپ عبیرہ کو نہیں لے جا سکتے کیونکہ۔میں۔ایسا ہونے نہیں۔دوں گا ۔۔ زاویار سیریس انداز میں بولا۔۔
میں۔لے جا سکتا ہوں کیونکہ میں عبیرہ۔فیصل کا باپ ہوں ۔۔” وہ بڑے اطمینان سے بولا ۔۔ اور میرے پاس پورا اختیار ہے اسے لے جانے کا۔۔”اور تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے
آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں ” کیونکہ میں عبیرہ زاویار کا شوہر ہوں اور میری اجازت کے بغیر آپ اس سے مل۔بھی نہیں سکتے ۔۔ وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔۔
فیصل کا حیرت سے برا حال ہوا۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔ میری مرضی کے بغیر میری بیٹی کی۔شادی کیسے کی تم لوگوں نے ۔۔یقیناً تم لوگوں نے اسے ورغلایا ہوگا یا پھر زبردستی کی ہوگی” رخشندہ بیگم تمہیں۔میں چھوڑوں گا نہیں۔میں اپنی بیٹی لے کر جاؤ گا آج ہی۔۔
نکلو تم یہاں سے کوئی حق نہیں تمہارا عبیرہ پہ وہ۔ہماری بہو ہے۔۔ ملک۔امین بولے۔۔
میں کیس کروں گا تم۔لوگوں پہ ۔۔” وہ چلا کر بولے
جو کرنا ہے کرنا ہے کر لینا ۔۔ ابھی نکلو یہاں۔سے” زاویار بھی طیش میں بولا۔۔
عبیرہ۔میرے بچے مکں۔باپ ہوں تمہارا ۔۔ مل۔لو۔مجھ سے بیٹی۔۔ اب کے وہ۔پینترا بدلتے بولے تو عبیرہ مزید زاویار کے پیچھے چھپی ۔۔
زاویار تمسخر اڑاتا ہنسا اگر اتنا پیار ہوتا تو اب تک آپ سے یہ کب کی۔لپٹ چکی ہوتی۔۔
” میں دیکھ لوں گا ” کیس کروں گا تم۔لوگو پہ۔وہ۔آگ بگولہ۔ہوتے نکل پڑا ۔۔
عبیرہ میری بیوی ہے اور یہ۔اختیار آپ۔لوگوں نے ہی مجھے دیا ہے جب چاہے مرضی کہیں اسے میں اپنے ساتھ رکھ سکتا ہوں ۔۔ میں یہ گھر چھوڑ رہا ہوں ابھی اسی وقت اور میرے ساتھ میری بیوی بھی جائے گی۔۔وہ عبیرہ کا ہاتھ پکڑے نکلتا چلا گیا وہاں سے۔۔ اسے گاڑی میں بٹھائے خود ڈرائیونگ سیٹ سبھالی ۔۔ عبیرہ کو بھی زاویار کے لیے اچھا نہیں۔لگ رہا تھا سب نے اسکی وجہ سے اسے باتیں سنائیں ۔۔ وہ سیریس انداز میں۔گاڑی بھگا رہا تھا۔۔
آپ نے روکا نہیں زاویار کو۔۔ ایک تو غلطی بھی خود کی اور ہمیں ہی اکڑ کر دکھا رہا ہے۔۔رخشندہ بیگم بولی ‘
چاچو نے کچھ غلط نہیں کیا ۔۔ وہ تو رات کو عبیرہ پتا نہیں کب اٹھ کر کمرے سے باہر لان میں چلی گئی اور تیز بارش میں بھیگتے سردی سے بے ہوش ہوگئی ۔۔ وہ اچانک چاچو کی اوپر سے نظر پڑ گئی تھی اور وہ عبیرہ کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آئے ۔۔اور عبیرہ کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی انہیں فوراً ٹریٹمنت کیا اور صبح جا کر عبیرہ ہوش میں آئی۔۔ مرحا نے ساری کہانی سنائی سب نے زاویار کو غلط سمجھا۔۔
آپ خود سوچیں زاویار چاچو نے اتنے سالوں میں ایسی کوئی حرکت نہیں کی مجھے نہیں یاد کے چاچو نے کبھی کسی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا ہو” سب چھوٹے بھی زاویار کی۔حمایت میں بول۔پڑے۔۔
اب گھر چھوڑ گیا نا بچہ رخشی تم بھی بنا بات کے اس بیچارے کے پیچھے پڑ گئی کھا نہیں گیا تھا وہ عبیرہ کو ۔۔ ” نغمہ بیگم کو موقع مل گیا رخشی بیگم کو سنانے کا۔۔
چلو اب عبیرہ بلکل محفوظ ہے لگو سب اپنے اپنے ٹھکانے۔۔ ملک فیض بیٹھتے بولے۔۔
جس جس نے بھی اسے سنائی سب شرمندہ سے تھے۔۔
°°°
زاویار عبیرہ کو۔لیے اپنے فلیٹ پہ آیا تھا ۔۔ پورے راستہ اس نے عبیرہ کی جانب دیکھا تک نا تھا ۔۔ اپنے کمرے میں آیا وہاں۔اسکا۔پہلے سے سب سامان موجود تھا ۔۔
وہ اپنے کپڑے نکالتا واشروم میں بند ہوا تھا ۔۔ فریش سا باہر آیا ۔۔ عبیرہ پورے فلیٹ کا جائزہ لے رہی تھی وہ حال میں تھی اسے اگنور کرتا باہر نکل گیا اور دروازہ باہر سے لاک کرگیا۔۔
عبیرہ کو خالی۔سے فلیٹ میں اکیلے بورنگ ہونے لگی ۔۔ وہ بہت اچھا اور لگژری فلیٹ تھا اور وہ بھی صاف ستھرا جیسے ابھی صاف کیا ہوا۔۔ زاویار ہر ہفتہ چکر لگاتا رہتا تھا ۔۔ وہ کل ہی ہوکر گیا تھا یہاں سے اور ساری سفائی ستھرائی بھی کروا کر گیا تھا کیونکہ وہ عبیرہ کے ساتھ یہاں رمضان گزارنے والا۔تھا ۔۔ اس نے بہت کچھ پلان کر لیا تھا مگر ایسا کچھ ہوگا اسکے ساتھ وہ۔سوچ نا۔سکا ۔۔
عبیرہ اپنے باپ کو دیکھ ڈر گئی تھی مگر جس طرح زاویار نے اسکا۔دفاع کیا وہ سوچ میں پڑ گئی شاید اسکے دل۔میں بھی نرم گوشہ بیدار ہوچکا تھا۔۔ وہ آج سارا دن بس زاویار کو ہی سوچتی رہی ۔۔
زاویار فلیٹ سے نکل کر۔سیدھا یونی ورسٹی پہنچا تھا ۔۔ آج جو ہوا اسے بہت غصہ آ رہا تھا اپنوں پہ۔ وہ۔ کس۔ قدر سنگین نوعیت کا۔ الزام لگا رہے تھے آج جس طرح اس پہ عدالت لگائی گئی اسے یقین نہیں آ رہا تھا وہ اسکے اپنے ہیں۔ ۔
سارا دن وہ۔ بے ضرر سا باہر پھرتا رہا گھر بھی گیا نا عبیرہ کے پاس۔ ۔
اب تو رات ہونے کو آئی تھی ۔۔ اور زاویار اب تک۔نا گھر لوٹا ۔۔ عبیرہ کو تو اب نیند نے آن گھیرا تھا ۔۔ جس کمرے سے زاویار تیار ہوکر نکلا وہ اسی کمرے میں آگئی تھی۔۔ کمرہ۔کافی اچھا ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا۔۔
اب تو ڈر لگنے لگا تھا رات کے اندھیرے سے لائٹ اون ہی رکھے بیڈ پہ لیٹی سونے کی کوشش کرنے لگی کافی دیر بعد جا۔کر آنکھ لگی۔۔
رات گیارا بج رہے تھے جب زاویار گھر آیا پورا فلیٹ خالی تھا۔ عبیرہ کا اچانک سے خیال آ گیا ۔۔ وہ اسے یہاں تنہا چھوڑ گیا بیچاری سارہ دن اکیلی رہی اور اب رات بھی کافی ہوگئی ۔۔ وہ تو ڈرتی بھی بہت ہے اندھیرے سے ۔۔ اپنے کمرے آیا تو دوسری سائیڈ کروٹ لیے لیٹی تھی اسکے وجود کو دیکھ چہرے پہ مسکراہٹ آئی سارے دن کی جیسے تھکان۔اتر گئی ہو۔۔
ُپہلے واشروم گیا فریش ہوکر باہر آیا اور اسکے برابر میں لیٹ گیا۔۔ عبیرہ کو نیند میں محسوس ہوا جیسے اسکے برابر میں کوئی ہے اسنے فٹ سے آنکھیں کھول۔لی وہ۔تو اکیلی ہے ۔۔ اسے خوف آنے لگا ۔۔ جب زاویار نے اسکی کمر میں ہاتھ اسے ساتھ لگانے کے لیے تو وہ۔چلا اٹھی ۔۔ زاویار نے فٹ سے اسے اپنی طرف کرتے اسکی۔چیخوں کا۔گلا گھونٹا ۔۔
سائیکو ہو کیا ” چلا کیوں۔رہی ہو۔۔ زاویار جو اچھے موڈ میں تھا سخت بیزار ہوا۔۔ عبیرہ نے اسکے سینہ پہ سر اسکے ساتھ لپٹ گئی وہ۔ہلکا ہلکا سا کانپ رہی تھی ۔۔
” کہاں تھے سارا دن بہت ڈر لگ رہا تھا” انتہائی معصوماہ انداز میں۔کہتے اسکا دل دھڑکا۔گئی۔
زاویار نے اسے تکیہ کے ساتھ پن کرتے اسکے اوہر آیا اسکا ایک ایک۔نقش چومنے لگا
عبیرہ کو تو ڈھیروں شرم نے آن گھیرا تھا ۔۔مگر ہمت کرتے اسکا حصار توڑ گئی اور واش روم میں جا گھسی ۔۔زاویار کا زوردار قہقہہ اسکے کانوں۔میں گونجا تھا۔۔
عبیرہ کو سمجھ نہیں۔آ رہا تھا کہ۔اسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے اپنے دل۔کی تیز ہوتہ دھڑکنوں کو کنٹرول کرنے لگی ۔۔ کافی دہر بعد بھی وہ باہر نا آئی تو زاویار نے واش روم سے باہر کھڑے آواز لگائی ۔۔ عبیرہ باہر آجاؤ واش روم میں سونا ہے کیا۔۔ وہ نا بولی ۔۔ پھر بول۔ہڑا ۔۔ اوکے کچھ نہیں کرتا باہر آجاؤ۔۔ پکا پرامس ۔۔ وہ بچوں کی۔طرح اسے پچکار رہا تھا تو وہ باہر نکلی۔۔ زاویار منہ۔دوسری سائیڈ کیے لیٹا ہوا تھا ۔۔ وہ۔صوفہ۔پہ۔جانے لگی تو زاویار آنکھین بند کیے ہی بول۔پڑا۔۔
“تمہارا کیا خیال ہے میں۔صوفہ پہ۔نہیں۔آ سکتا کیا۔۔ “
اسکے صوفہ۔کی طرف بڑھتے قدم۔تھمے۔۔
آجاؤ ” شاباش ادھر ہی ۔۔ اب وہ۔اسکی طرف منہ۔کیے بولا۔۔
عبیرہ اسکی جانب آہستہ آہستہ بیڈ تک پہنچی اور۔پہلے درمیان میں تکیہ۔رکھا اور پھر بیڈ پہ دوسری سائیڈ کروٹ کیے لیٹ گئی۔۔
تمہارا کیا خیال ہے میں یہ تکیہ نہیں ہٹا سکتا” وہ۔جب سوگئی۔تو درمیان سے تکیہ۔ہٹا کر۔اسکے مزید قریب تر ہوکر لیٹ گیا۔۔
°°°
اس مرچی کا۔سارا قصور ہے اس نے اگر دیکھ لیا تھا تو چپ کر جاتی ۔۔ پورے گھر میں اعلان کردیا ۔۔ سب ملیحہ کو ہی کل سے لتاڑ رہے تھے۔۔
تو میں نے جو دیکھا ہے وہی کہا۔ہے” ملیحہ بھی ڈھیٹ تھی۔۔
تو چاچو بھی تو نکل گئے نا گھر سے ۔۔ اچھا ہی۔نہیں کگ رہا کچھ بھی عطا اسے گھورتے بولا۔۔
میں تو خوش ہوں مجھے تو آزادی ملی۔۔” اس دن کی ٹھکائی بھول گئی ۔۔ اشعر۔اسکے سر پہ۔چت لگاتا بولا۔۔
ہائے کیا فلمی سین تھا نا۔رات کا وقت بارش میں بھیگتی محبوبہ ۔۔ اسے بانہوں میں بھر کر کمرے لے جانا۔۔طہٰ اپنے دھن میں بولے جا رہا تھا ۔۔ جب پیچھے سے شجاع نے اسکے سر پہ تھپڑ مارا تو وہ۔گرتے بچا۔۔
آس پاس بھی دیکھ لیا کر ” اسکا اشارہ ملیحہ اور مرحا پہ۔تھا۔۔
اور وہ چاچو۔کی۔محبونہ نہیں بیوی تھی یہ۔نکاح کی ایٹریکشن ہے جو چاچو کو۔عبیرہ۔اچھی لگنے لگی۔۔
مرحا بول۔رہی تھی جب سامنے سے رانیہ چائے کی ٹرے لیے حاضر ہوئی۔۔
سب نے تھینکس کہتے چائے لی ۔۔ شجاع رانیہ۔کو۔گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔ پنک کلر کا۔سوٹ پہنے ساتھ وائٹ دوپٹہ گلے میں ڈالے ۔۔لمبے سنہری بالوں کو کھلا۔چھوڑے۔۔ وہ اسکے دل۔میں اتر رہی تھی۔۔
رانیہ نے شجاع کے سامنے ٹرے کی۔۔ “اب پتہ نہیں۔عید کب آئے گی ہماری تو ابھی سے اٹریکشن تیز ہونے لگی ہے۔۔” شجاع نے کپ۔اٹھاتے بے باکی سے کہا تو ۔۔ سب نے اووو ایک ساتھ کہا تو رانیہ شرماتی نکل گئی ۔۔شجاع کے چہرے پہ بھی بھرپور مسکراہٹ آئی۔۔
