Dheere Dheere Se Meri Zindagi Mein Aaana By Ayesha Noor Readelle50259 Last updated: 23 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dheere Dheere Se Meri Zindagi Mein Aaana
By Ayesha Noor
… عبیرہ جب زاویار کے کمرے میں آئی تو کمرہ خالی تھا.. واشروم سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھی.. تو وہ اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔ کمرے کا جائزہ لینے لگی بغیر کسی کام کے وہ کبھی نہیں آئی یہاں.. کمرہ کافی کشادہ اور کھلا تھا اور دیواروں پہ وائٹ پینٹ بڑا سا جہازی سائز بیڈ وال پہ لگی زاویار کی بڑی سی تصویر وائٹ شرٹ پہنے ماتھے پہ بال بکھرے وہ مسکراتا ہوا دلکش لگ رہا تھا..اس پہ نظریں ہٹا کر سامنے میز اور کرسی رکھی ہوئی تھی جس پہ زاویار پیپر چیک کررہا تھا.. پیپر بھی بکھرے ہوئے تھے میز پہ تھوڑا آگے بڑھ کر پیپرز کا جائزہ لیا کہیں اسکا اپنا نام چمکتا نظر آیا عبیرہ.. ہاتھ بڑھا کر پیپر اٹھایا تو وہ اسی کا تھا.. ابھی جائزہ لے ہی رہی تھی کہ زاویار نےا اس کے پاس آتے پیپر جھپٹ لیا.. عبیرہ ایک دم سے گھبرائی.. نو لٹل گرل.. ویری بیڈ .. میری پرمیشن کے بغیر تم نے پیپرز کیسے اٹھایا.. وہ۔تھوڑا سا سخت انداز میں۔بولا وہ ویسے ہی میں.. مجھے اپنی بکس چاہیے.. " وہ گھبرائی سی بولی کون سی بکس " وہ دونوں ہاتھ باندھے اسے دیکھتا بولا.. وہی آج کی بکس جو مرحا کے پاس تھی وہ شاید آپکی گاڑی میں بھول گئی پلیز مجھے دے دیں میں نے ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے.. " ایک تو آپ بھی روز ہی ٹیسٹ اٹھا کر دے دیتے ہیں" وہ ایک ہی سانس میں اپنی بات کہہ گئی تاکہ جان چھوٹ سکے جلدی… اچھا چلو گاڑی میں ہی ہوگی" اتنا ٹائم ضائع کردیا میرا اتنے میں دو پیپر چیک کر لینے تھے.. وہ گاڑی کی چابیاں میز سے اٹھاتا کمرے سے باہر نکلا عبیرہ اسکے آگے تھے.. حال میں دونوں طرف انکار سے مایوسی چھائی تھی سب چپ ہی بیٹھے تھے.. اتنے سیڑھیاں اترتے عبیرہ اور زاویار پہ ملک فیض اور ملک حمید دونوں کی نظریں اٹھی تھیں.. لڑکی موڈ ٹھیک کرو اپنا اگر اس سوکھے ہوئے موڈ کے ساتھ تمہیں سب نے دیکھا تو پھر مجھ پہ بات آئے گی میں نے ہی کچھ کہا ہوگا.. " عبیرہ ابھی گھبرائی سی تھی.. ایک دم سے مڑی اسکی طرف وہ ابھی پہلی سیڑھی دو تین سیڑھیوں پر تھی زاویار اس سے ایک سیڑھی پیچھے تھا.. تو ۔۔ سچ ہی ہے آپ نے مجھے ڈرایا ہے.. " وہ ناک چڑھا کر بولی.. آف وائٹ فراک پہنے ساتھ بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے.. وہ اسکی طرف دیکھتی بولی اور پھر ایک دم سے مڑی کے بیلنس برقرار نا رکھ سکی ابھی نیچے کی طرف گرتی کے زاویار نے پھرتی دکھاتے اسے کمر سے تھام لیا ایک ہاتھ گرل کو مضبوطی سے پکڑے دوسرا ہاتھ کمر میں ڈال کر اپنی جانب کھینچا تھا.. وہ اسکے چوڑے سینے کے ساتھ جا ٹکرائی.. اپنا توازن سنبھالتے وہ جلدی سے اس سے الگ ہوئی.. سنبھل کر یار کیا ہوگیا گر جاتی تو تمہارے قتل کا الزام بھی میرے سر آجانا تھا ..مرتے مرتے بھی مجھ بے قصور بندے کو پھنسا دیتی.. " کہتے وہ سیڑھیاں اترنے لگا.. اب یہی رکو بکس لے کر آیا.. نیچے آتے ہی اسے وہیں رکنے کہا اور خود باہر پورچ میں چلا گیا.. یار حمیدے تو بھی وہی دیکھ رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں.. ملک فیض ملک حمید کے نزدیک ہوکر بولے.. دونوں بزرگوں کی نظریں آن پہ ٹکی ہوئی تھی.. ہاں پاجی.. میں بھی " وہ بھی ان پہ نظریں جمائے بولے.. زاویار نے دو منٹ میں عبیرہ کی بکس لاکر اسے تھمائی.. یہ لو بکس " اب کوئی مجھے ڈسٹرب نا کرے وہ کہتا سیڑھیاں چڑھ گیا باقی سب نے بس سرسری سی نظر ان پہ ڈالی تھی.. یار حمیدے تو بھی وہی سوچ رہا ہے جو میں سوچ رہا ہوں.. ملک فیض پھر انکی طرف جھکتے بولے .. ہاں پاجی " قسمیں سورج چاند کی جوڑی ہے.. نیک کام میں دیر نا کریں جلدی جلدی بات کریں " ملک حمید بولے.. ملک فیض نے ہنکار بھر کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا.. رخشی بیٹی اب عبیرہ بچی کی فکر کی کوئی ضرورت نہیں اب عبیرہ بچی میری ہوئی.. " سب نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا اور پریشان بھی ہوئے اگر انکار باوجود ابا جی نے انکے کسی ایک بیٹے کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا تو وہ اب انکار نہیں کرسکے.. اور تم لوک گبراؤ نہیں تمہارے بیٹے اس لائق نہیں ہے.. میں اپنے پتر زاویار کے لئے بات کررہا ہوں.. " ملک فیض کی بات پہ سب نے حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر انکی طرف متوجہ ہوئے.. ابا جی تسی کہنا کی چاہ رہے ہو" ملک امین بولے.. میں عبیرہ کے لئے زاویار کو رشتہ مانگ رہا ہوں کیا تمہیں کوئی اعتراض" وہ روب اور دبدبے سے بولے.. مگر تایا جی زاویار " رخشی بیگم پریشان سی بولی.. میرا پتر گھبرو جوان مضبوط بندہ ہے اپنے پیروں پہ کھڑا ہے بنتا ٹھنتا بھی اچھا ہے.. ماشا اللہ سوہنا وی ہے.. اپنی عبیرہ کے لئے بہت بہتر رہے گا مضبوط سایہ کی ضرورت ہے اس وقت اس بچی کو" اب آگے تم لوگوں کی مرضی.. اور ان کے نکمے لونڈوں سے تو بہت درجہ بہتر ہے آخر میں اپنے بیٹوں کو لتاڑا تو انکی بیگمات منہ بسورتی رہ گئی.. ابا جی آپ کا کیا خیال ہے " ملک نعمان اور رخشندہ بیگم ملک حمید کی طرف متوجہ ہے.. میرا بھی وہی خیال ہے جو پا جی کا ہے " باقی اگے تم لوگو کی مرضی " بس تو پھر سمجھیں بات پکی مینو تے کوئی اعتراض نہیں اگر اور کسی کو ہے تو بول دے ملک نعمان اور رخشندہ بیگم اپنا فیصلہ سنایا۔۔ ملیحہ نے کچن بزرگوں کی تمام گفتگو کان لگا کر سنی۔۔ مگر زاویار راضی ہوگا اس رشتہ کیلئے آمنہ بیگم پریشان ہوتی بولی۔۔ اس بات کی ٹینشن نا لو یہ کام ما بدولت ہم خود کریں گے بس کوئی اسکیم سوچنی پڑے گی۔۔ ملک فیض سوچتے بولے۔۔ عبیرہ کی کوئی ٹینشن نہیں بس اس سے پوچھ لیں گے بچی کے بہترین مستقبل کے لیے ہی آخر بات ہو رہی ہے" ملک نعمان بولے ملی پتر چاہ لے آ جلدی سے ساتھ پھر کچھ میٹھا بھی ہوجائے اس خوشی میں۔۔ نغمہ بیگم بولی تو سب ہنس دیے۔۔ °°°°
