42.1K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

یونی سے گھر پہنچے تو گھر میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی..
پتا چلا کہ پھپھو حمیرا آئی ہیں اپنی دونوں صاحبزادیوں کے ساتھ ..
عبیرہ اور مرحا لان کے دروازے سے اپنے گھر داخل ہوئی اور زاویار سامنے اپنے گھر میں انٹر ہوا..
اسلام علیکم پھپھو.. ” دونوں ایک ساتھ سلام کرتی پھپھو کے گلے لگی .
پھر ساتھ کھڑی انکی بیٹی رانیہ اور شزا سے ملی.. ..
جاؤ بچیوں جلدی نال چینج کرکے آؤ کچن میں میرے ساتھ ہیلپ کراؤ.. رخشی بیگم جلدی سے بولی.. وہ دوپہر کے کھانے کا اہتمام کررہی تھی..
وہ انکی بات مانتی فوراً کمرے کی جانب بڑھ..
🥀🥀🥀
دیکھا کیسے تیرے بھائی پہ لڑکیاں لائن مارتی ہے..
طہٰ فرضی کالر جھاڑتا ہوا بڑے شان سے کہہ رہا تھا اسکے پیچھے چلتے اشعر اور عطا نے اسکی بھڑکیوں پہ کوئی دھیان نا دیا تینوں کاندھے پہ بیگ ڈالے یونیورسٹی سے آ رہے تھے..
اور سامنے دروازے پہ زاویار سے ٹکراؤ ہوا..
تم لوگ پڑھائی کرنے جاتے ہو یا دوسروں کی لڑکیاں تاڑنے دونوں ہاتھ باندھے وہ زرا سخت لہجہ میں کہہ رہا.. براؤن ٹی شرٹ کیساتھ بلو جینس پہنے ہوئے.. زاویار نے انکی کلاس لینے کے ارادے سے کھڑا تھا..
چاچو ہم تو معصوم بچے ہیں بس پڑھنے ہی جاتے یہ طاہا ہے جو لڑکیوں کے پیچھے بھاگتا ہے.. عطا نے معصوم بنتے کہا..
میں نہیں لڑکیاں میرے پیچھے بھاگتی ہیں جس سے بات کرلو پہلے نمبر دیتی ہیں.. طہٰ نے شان بے نیازی سے کہا..
شکل تو تمہاری عارف لوہار کے چمٹے جیسی ہے.. اور لڑکیاں تمہیں نمبر دیتی ہے.. “زاویار نے اسکی خوب کی..
عطا اور اشعر کی دبی دبی سی ہنسی نکلی..
یونیورسٹی کا سب سے ڈیشنگ بندا مانا جاتا ہوں” اپنی بے عزتی کو بالائے طاق رکھتے دونوں ہاتھوں کو پھیلاتے اپنی بڑائی بیان کرتے سیڑھیاں چڑھ گیا..
اب منہ نیوے کرتے وہ دونوں بھی وہاں سے نکل گئے..
یہ پڑھائی کے نام پہ جو تینوں کر نے جاتے ہو پٹو گے مجھ سے”.. انکے پیچھے سے آواز لگائی زاویار نے
چاچو خود تو سنگل ہے ہی ساتھ ہمیں بھی سنگل ہی رکھے گے.. ” طہٰ نے کمرے میں آتے اپنا بیگ اچھال کر پھینکا تھا بیڈ پہ.. اور شوز کے اسٹریپس کھولتے ایک ادھر دوسرا ادھر..
پیچھے عطا اور اشعر بھی روم میں انٹر ہوئے..
یہ کیا پورے کمرے میں گند کردیا.. عطا نے آتے اسے لتاڑا..
ہاں باہر کیسے بتیسی نکل رہی تھی تم لوگوں کی.. ” اس سے گندے تم لوگ لگے مجھے یار بندہ کوئی ساتھ ہی دے دیتا ہے مگر نہیں کھسک کر چاچو کی پارٹی میں چلے جاتے مجھ ہینڈسم سے غریب کو اکیلا چھوڑ کر..
تو تو باز آجا.. شکر ہے چاچو کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن نہیں لیا.. ” عطا بیڈ پہ بیٹھتا بولا..
اگر لے لیتے تو تم لوگوں کی عیاشیاں کہاں ہونی تھی.. اشعر بھی انکے ساتھ بیٹھتا بولا..
یہ پڑھائی وڑائی میرے بس سے باہر ہے اپن نے تو انجوائے کرنا بسس.. طہٰ نے ہاتھ کھڑے کرتے کہا
اس بار اگر تم دونوں کے مارکس کم آئے نا پہلے آمنہ چاچی نے تم دونوں کا پھینٹا لگانا ہے پھر آپکے ابا حضور چاچو عمر نے اور پھر زاویار چاچو تو ہے ہی.. ” اشعر نے ان جوڑوں کو ڈرانا چاہا..
ہاں تو ہے پڑھاکو پڑھنے کیلئے ” ہمیں تو دادا جی ہے ہی بچانے کے لیے” طہٰ نے عطا کے کاندھے پہ سر رکھتے کہا..
اشعر کھڑا ہوگیا.. ” دادا جی کی شہ پہ بچے ہوئے ہو اس بار نہی بچنا” اشعر نے کہتے انکے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا..
🥀🥀🥀
عبیرہ پتر جا کے نال سے اپنی تائی نغمہ سے برتن کا سیٹ تو لے آ..
عبیرہ سالاد کاٹ رہی تھی تب رخشی بیگم اسے پیار سے بولی..
جی خالہ ابھی لائی..
وہ کہتی چلی گئی..
سب ینگ پارٹی اس وقت ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھی ہوئی تھی جب آمنہ اور نغمہ بیگم ان کے ساتھ کھانا لگا رہی تھی..
تیکھے مرچی ماما کے ساتھ ہیلپ ہی کروا دیا کرو.. ” طہٰ بول رہا تھا جب زاویار کی انٹری ہوئی..
تمہارے ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں ” تم نہیں اٹھ سکتے ” وہ آتے اپنی کرسی سنبھالے بیٹھا..
بس بس ہوگیا تم لوگ شروع کرو.. آمنہ بیگم نے آتے اسے انہیں ٹوکا..
اسلام علیکم چچی.. ” عبیرہ نے آتے سلام کیا..
وعلیکم السلام ” کیسی یو عبیرہ.. آمنہ بیگم نے مسکراتے جواب دیا..
ٹھیک ہوں وہ رخشی خالہ نے بھیجا ہے ڈنر سیٹ لینے کیلئے “
اچھا میں نکالتی ہوں ” کہتے وہ کچن میں چلی گئی..
کم عبیرہ جوائن کرو ہمیں ” اشعر نے کہا..
نوتھینکس ہمارے گھر میں بہت اچھا کھانا پکا ہے.. ” عبیرہ نے ہنستے کہا..
کیا پکا ہے طہٰ بولا..
بریانی چکن کورمہ شامی کباب رائتہ.. کھیر ” عبیرہ سب چیزوں کی گنتی کروانے لگی
بس بس لڑکی تمہارے رشتہ والے آئے ہیں”.. عطا نے اسے مزید بولنے سے روکا اسکے منہ میں پانی آگیا تھا..
نہیں ” پھپھو حمیرا اور نجی بیٹیاں آئی ہیں .. ” عبیرہ نے نہیں پہ زور دیتے کہا..
عبیرہ بیٹے یہ سیٹ اٹھا لو میں نے نکال دیا دھیان سے لیکر جانا.. آمنہ بیگم نے کچن سے آواز لگائی.. بلیک سوٹ کے ساتھ بلیک شفون کا دوپٹہ گلے میں ڈالے زاویار کے پاس سے گزری کہ ہوا میں لہراتا دوپٹہ زاویار کے سر سے گزرا.. زاویار کو منہ کو جاتا نوالہ والا ہاتھ وہیں رکا..
کپڑا تو سنبھال لیا کرو اپنا ” اس نے چڑ کر کہا..
سوری زاویار چاچو ” جلدی سے دوپٹہ کے کنارے اپنی مٹھیوں میں بھینچے بولی..
زاویار ” اس میں غصہ کرنے والی کیا بات ہے ” جاؤ عبیرہ تم ” کچھ نہیں ہوتا ” اور ینگ پارٹی کی دبی سی ہنسی نکلی تھی..زاویار نے سب کو غصیلی نگاہ سے دیکھا تھا سب اپنی پلیٹ کی طرف جھکے ” نغمہ بیگم نے اسے ٹوکا.. عبیرہ فٹ سے وہاں سے نو دو گیارہ ہوئی..
اپنی تو جیسے تیسے کٹ جائے گی آپکا کیا ہوگا جناب عالی.. ” طہٰ نے گنگنایا.. زاویار جو پہلے سے جلا بیٹھا تھا..
تم چپ کرکے کھانا نہیں کھا سکتے ” زاویار نے دانت پیستے کہا..
کھا رہے ہیں آپ کے جذبات منتشر کردیے کالے دوپٹہ نے ویسے یہ دوپٹہ لال ہونا چاہیے تھا وہ بھی چاچی کا.. طہٰ اپنی ہوئی بے عزتی کا پورا بدلہ چکا رہا تھا..
ویسے یہ جمیلہ آنٹی کی شادی نہیں ہوئی ابھی تک تائی امی” طہٰ چاول کا چمچ بھر کر منہ میں ڈالا..
نہیں َ کہاں ویاہ ہونا ہے اسکا عمر نکال دی بس اچھے رشتہ کے چکر میں اب بیٹھی ہے منہ چک کے” نغمہ بیگم بولی..
تو پھر ہمارے چاچو کی بھی تو عمر آدھی تو نکل چکی ہے پھر کیا خیال ہے ” رب نے ملا دی جوڑی ” عطا نے بھی زاویار کو تنگ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا..
چپ کرو بدمعاش ..چاچو ہے تمہارا چھوٹا بھائی نہیں ہے کیسے لگے پڑے ہو” آمنہ نے انہیں ٹوکا..
بھابھی میری چھوڑیں اپنے لڑکوں کے لئے لڑکی ڈھونڈ لیں ” میں نے تو کاٹ لی آدھی زندگی اکیلے ” انکی تو سال بھی گزرتا دکھائی نہیں دے رہا.. زاویار اپنا کھانا ختم کرتا اٹھ تھا..
چاچو ہم نے قسم کھائی ہے آپکی شادی سے پہلے ہم شادی پر گز نہیں کریں گے.. اشعر نے جذباتی ہونے والے انداز میں کہا.. “
خود تو انہوں کنوارہ ہی رہنا ہے اور ساتھ ہمیں بھی کنوارہ ہی رکھے گے میں اپنی قسم واپس لیتا ہوں ” زاویار کے جاتے ہی طہٰ بول پڑا..
کھانا کھا لیا ہے اب جا کر کمرے میں تیاریاں کرو پیپر سر پہ ہے.. آمنہ بیگم غصہ کرتے بولی..
ماما”
چپ ” ایک لفظ نہیں سننا میں نے اور اٹھو ” اب وہ تھوڑا اونچا بولی..
تو وہ خاموشی سے اٹھ گئے “
ملی یہ کھانا کھانا ہے کب سے چمچ اوپر نیچے کئے جا رہی ہے” اب نغمہ بیگم ملیحہ پہ چڑ دوڑی
مجھے نہیں کھانا وہ کوفت سے بولی.. “
نہیں کھانا تو یہ سارے برتن اٹھا کر کچن میں رکھ کر آؤ”
کام کے نام پہ ملیحہ کی جان نکلی..
ماما کل میرا ٹیسٹ ہے “اس نے بہانا بنایا
نغمہ بیگم نے اسے گھور کے دیکھا.. بس کام کے نام پہ ٹیسٹ یاد آجائے ہیں چل دفع ہو” وہ غصہ سے برتن پٹک پٹک کر اٹھانے لگی..
بچی ہے بھابھی ابھی اس پہ بوجھ نا ڈالے سب سیکھ جائے گی” آمنہ بیگم بھی انکی مدد کرواتے بولی..
بس بچی کہہ کر ہی سر پہ چڑھایا اور دو سال ہیں اسکی شادی کی فکر لاحق ہوجانی ہے”
ابا جی سویر کے گئے ہوئے چاچے حمید کے گھر ابھی تک نہیں واپسی آئے اب پتہ نہیں کھانا یہاں کھانا ہے یا وہیں کھا لیں گے..آمنہ بیگم نے بات بدلتے کہا..
🥀🥀🥀
ماشاللہ کھانا تو بہت اچھا تھا.. پھپھو حمیرا نے تعریف کرتے رخشی بیگم سے کہا..
شکریہ آپا ” عبیرہ اور مرحا ٹیبل سے برتن اٹھا رہی تھی اور ساتھ میں رانیہ اور شزا بھی ہیلپ کروا رہی تھی..
ابا جی ” تسی پنڈ (گاؤں) آتے نہیں اب حمیرا شکوہ کرتے بولی..
او پتر جی اب کہاں بڑھی ہڈیوں میں دم ہوتا ہے سفر ہوتا نہیں ویسے تونے اچھا کیا آگئی اور بچیوں کو بھی نال لے آئی ماشاللہ جوان ہوگئی ہیں.. “
او پتر میرا بڑا دل چاہتا ہے میں اپنے ماں زمین اپنی پنڈ آؤں پر اب حمیدے کی گل بلکہ سہی ہے کہاں دم ہے بڑھی ہڈیوں میں ” ملک فیض بھی بولے..
تایا جی آپ لوگوں کو بڈھا کون کہتا آپ تو ماشاللہ سے ابھی بھی جوان ہی ہو آپ دونوں.. حمیرا نے تعریفی کلمات کہے ان کے لئے تو دونوں کی باچھیں کھل اٹھی تھی..
اسلام علیکم آپا ” زاویار بھی وہاں چلا آیا ان سے ملنے “
وعلیکم السلام ” میرا ویر کتنا سوہنا ہوگیا ہے ” حمیرا اٹھ کر ملی تھی زاویار سے “
کیوں پہلے کیا خراب دکھتا تھا” زاویار بیٹھتے ہنستے بولا..
نا میرا ویر شروع سے ہی اینا سوہنا ہے تو اب تو کجھ زیادہ ہی روب آگیا کہیں منگنی شنگنی کو نہیں کرا لی یا کوئی کڑی ہتھ آگئی.. ” پھپھو مزاحیہ انداز میں بولی تو سب ہنس پڑے سوائے زاویار کے
بس اب ایک آپ رہ گئی تھیں طعنہ مارنے والی” وہ خفگی سے بولا..
ہاہا میں مذاق کررہی سی” تو دل تے نا لے”
چائے” عبیرہ چائے لئے حاضر ہوئی سب کی جانب کپ بڑھایا..
زاویار کی طرف کپ بڑھایا.. زاویار نے سر سری نگاہ اسکے چہرے پہ ڈالی چائے پکڑنے لگا کے عبیرہ کے ہاتھ سے کپ چھوٹ گیا.
شٹ ” زاویار ایک دم سے گڑبڑا کر اٹھا چائے اس پہ تو نہیں گری تھی مگر اس پہ چھینٹے پڑے تھا.. اور عبیرہ کا ہاتھ جل گیا..
پاگل تو نہیں ہوگئی.. زاویار نے اسکا ہاتھ تھام کر آگے کیا.. سفید ہاتھ سرخ پڑ چکا تھا ضبط کی شدت سے چہرہ بھی لال ہوا تھا..
بچے خیال رکھا کرو ہاتھ جلا لیا.. ” ملک فیض نرمی سے بولے..
مرحا ” جلدی آؤ باہر.. زاویار نے کھڑے کھڑے آواز لگائی مرحا کو تو وہ فوراً بھاگی چلی آئی..
لیکر جاؤ اس سائیکو کو آئٹمنٹ وغیرہ لگاؤ..
ابھی بھی اسکا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا.. اسے مرحا کی جانب بڑھایا
پتر بچی کا ہاتھ جلا ہے اور تم کیسے بات کررہے تھے اس سے” ملک حمید بولے..
زاویار بچی ہے” حمیرا بیگم بھی بولی..
میں چینج کرنے جارہا ہوں.. اسے غصہ آ رہا تھا اس لئے وہاں جانا ہی بہتر سمجھا..
کچھ زیادہ نہیں غصہ آنے لگ گیا اسے ” اسکے جاتے ہی حمیرا بیگم بولی “
بس ایسے بچوں کو بھی ٹکنے نہیں دیتا ہر وقت کی روک ٹوک.. ” ملک فیض بولے..
ویاہ کرائیں اسکا غصہ ٹھنڈا ہو”
🥀🥀🥀
ہائے آبی کیسے اتنا ہاتھ جلا لیا تم نے.. مرحا اسکے آئنٹمنٹ لگا رہی تھی ..شزا رانیہ دیکھتی بولی..
زاویار چاچو کو چائے دے رہی تھی انہوں پکڑی نہیں سہی سے کہ میرے ہاتھ سے کپ چھوٹ گیا.. ایک غلطی بھی خود کی اور مجھے سائیکو بھی بول دیا ” عبیرہ کے بولتے ہوئے آنسو نکل رہے اسے بہت جلن ہو رہی تھی..
اب کیا میں پاگل دکھتی ہوں سب کو” وہ صدمہ سے بولی..
ارے نہیں پاگل چاچو کی دماغ خراب ہوگیا ہے” مرحا نے اسے گلے لگاتے بولا..
عابی تم اب آرام کرو مرحا اگر کوئی کام ہو ہمیں بلا لینا آؤ شزا ہم نانا فیض کے گھر چلتے ہیں .. رانیہ شزا کو لئے چل دی..
تم لیٹ جاؤ میں تمہارے جوس لاتی ہوں ” مرحا کہتے باہر چلی گئی.. اور عبیرہ تکیہ کے ساتھ ٹیگ لگائے بیٹھ گئی.. ” تم پاگل تو نہیں ہوگئی.. لے کر جاؤ اس سائیکو کو” زاویار کے الفاظ ابھی اسکے کانوں میں گونج رہے تھے.. خود ہیں سائیکو ” سہی کہتا ہے طہٰ شادی نا ہونے کی وجہ سے دماغ خراب ہوتا جا رہا ہے..
🥀🥀🥀
اسلام علیکم مامی جان ” دونوں نے ایک ساتھ سلام کیا..
آمنہ اور نغمہ بیگم کو..
وعلیکم السلام اب آرہی ہو ہمارے گھر صبح کی آئی ہوئی ہو.. نغمہ بیگم بولی..
بس مامی جی پہلے کچن میں رخشی مامی کی ہیلپ کر وائی پھر کھانا کھایا اور اب عبیرہ کے پاس سے آ رہے اسکا ہاتھ جل گیا” رانیہ نے اسے سارا احوال بتایا..
ہائے کیا ہوا عبیرہ کو کیسے جلا اسکا ہاتھ دوپہر میں تو چنگی بھلی تھی.. آمنہ بیگم اور نغمہ دونوں کو فکر ہوئی..
وہ چائے دے رہی تھی سب کو اور اسے ہاتھ سے کپ چھوٹ گیا.. اور زاویار مامو نے بھی اسے ڈانٹ دیا.. شزا بولی..
یہ زاویار بھی نا اچھا بھابھی میں جاتی ہوں عبیرہ کا پتہ کرنے آمنہ بیگم کہتی اٹھ گئی.
اچھا ٹھیک ہے جاؤ شجاع کے بھی آنے کا ٹائم ہوگیا ہے.. نغمہ بیگم بولی.. تو وہ چلی گئی..
بیٹا بیٹھو سہی میں چائے بناؤ تم لوگوں کے لئے.. “
نہیں آنٹی چائے تو ابھی ہی پی ہے بس ” رانیہ انکار کرتی بولی..
آنٹی باقی گھر کے افراد کہاں ہیں..
سب گھر ہی ہیں اپنے اپنے کمروں میں پڑھائیاں کررہے ہیں پیپر سر پہ ہیں “
ہم ملیحہ سے مل لیتے ہیں ” رانیہ اور شزا سیڑھیوں کی طرف بڑھی..
سیڑھیوں پہ انکا ٹکراؤ عطا اور طہٰ سے ہوا ..
ہائے لیڈیز ” انہیں دیکھ کر طہٰ بولا..
ہائے ” رانیہ نے جواب دیا.. دونوں بہنوں نے ایک جیسے کپڑے پہنے ہوئے گول دامن والی قیمض کیساتھ گھیر والی شلوار کے ساتھ گلے میں ڈالے ریشمی دوپٹہ.. لمبے بالوں کی چوٹی بنائی آگے کو کیے ہوئے
طہٰ اور عطا کون ہیں دونوں میں سے شزا دونوں کو دیکھ کنفیوز ہوئی دونوں کے فیس فیچرز تقریباً سیم تھے ایک نے بال لمبے رکھے ہوئے تھے اور دوسرے نے چھوٹے بالوں کی ہیئر کٹ کی ہوئ تھی..
مجھ کو پہچان لو میں ہوں کون” گیس کرلو طہٰ بولا..
تمہارا چمٹے جیسا منہ ہے تو تم طہٰ ہوئے طہٰ کے بال لمبے تھے..
اور یہ عطا ہے جو دکھنے میں انسان لگتے ہیں ” رانیہ نے پہلے طہٰ کو دیکھا پھر عطا کو دیکھتے کہا
عطا کا زور دار قہقہہ نکلا طہٰ کی بےعزتی پہ..
تو تم کیا ہو بل بتوڑی ناسا چوڑی ” طہٰ نے ناک چڑھاتے غصہ سے کہا اور نکل گیا..
رانیہ اور شزا ہنس رہی تھی..
ایکس کیوز می لیڈیز میرے بھائی کو ناراض کردیا.. ” عطا نکے پاس سے گزرتا باہر چلا گیا..
چلو ملیحہ کے کمرے میں..
ہائے ” دونوں ملیحہ کے کمرے میں گئی وہ اسے دیکھتے خوش ہوئی..
ہائے ” آپی کیسی ہو..
ہائے کی بچی ملنے نہیں آئی تم ہمیں ہم خود ہی آگئے
رانیہ اسکے سر پہ چت ماری بولی..
رانیہ کمرے سے باہر آگئی سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ.. شجاع تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے اوپر آریا تھا کاندھے پہ بیگ لٹکائے.. ایک دم سے رانیہ کو دیکھ بریک لگائی ورنہ ضرور ٹکر ہو جانی تھی..
اسلام علیکم .. رانیہ نے فٹ سے سلام ٹھوکا..
وعلیکم السلام تم کب ٹپک پڑی.. میرا مطلب کب آئی” شجاع وہیں کھڑا اس سے بولا..
بس آج ہی امی اور شزا بھی آئی ہیں.. ” رانیہ نے مسکراتے جواب دیا..
آپ ابھی آئیں ہیں جاب سے چائے لاؤں آپکے لیے” وہ جانے لگا پھر سے رانیہ بولی..
نو تھینکس ماما بنا رہی ہیں چائے آپ گیسٹ ہے ” وہ زبردستی مسکراتا بولا اور چلا گیا..
رانیہ سیڑھیاں اترتے سیدھے نغمہ بیگم کے پاس آئی..
شجاع بھائی آئے ہیں.. “
ہاں ابھی آیا ہے اسی کے لئے چائے بنائی ہے جاؤ دے آؤ”
مم.. میں “وہ چونک کر بولی..
ہاں یہاں تم ہی کھڑی تمہارا بھوت نہیں ” وہ چائے اسکی طرف بڑھاتی بولی..
مجھے عبیرہ بچی کا بھی پتہ کرنے جانا ہے اور یہ آمنہ ابھی تک نہیں واپس آئی.. باتوں پہ لگ گئی ہوگی..
رانیہ چائے لئے شجاع کے کمرے میں چل دی”
دروازے پہ ناک کیا اجازت ملنے پہ کمرے کے اندر داخل ہوئی.. شجاع شرٹ لیس تھا وہ سمجھا ماما ہوگی رانیہ کو دیکھ ٹھٹکا اور فورا سے بیڈ پہ پڑی شرٹ آٹھا کر پہننے لگا.. رانیہ نے اسے دیکھتے ہی سر جھکا لیا تھا..
میں نے تم سے منع کیا تھا.. ماما بنا رہی ہے چائے میں آ رہا تھا نیچے خود لینے.. دانت پیستے اس نے کہا تھا غصہ تو بے انتہا آیا اس پہ مگر ضبط کر گیا..
ایم سوری لیکن مامی جی نے خود بھیجا تھا.. قسم سے چائے انہوں نے ہی بنائی ہے ..وہ عبیرہ کا ہاتھ جل گیا نا تو وہ رخشی مامی کے گھر گئی ہیں.. ” وہ شرٹ پہن چکا تھا.. اسے دیکھتی بولی اور جلدی سے چائے ٹیبل پہ رکھتی باہر نکل آئی..
افف رانیہ کیا ضرورت تھی تمہیں اس ایڈیٹ کے کمرے میں جانے کی شکل کیسی سڑے ہوئے ٹماٹر کے جیسی بنائی ہوئی تھی اینا سوہنا وی نئی ہے جو اتنا اتراتا ہے.. خود سے بڑھ بناتے وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی جب پھر اسکا سامنہ طہٰ سے ہوا..
او چھپکلی تو ابھی تک ادھر ہی ہے.. “
چھپکلی کسے کہا اور اپنی شکل دیکھی ہے آئینہ میں چمٹا بجانے والے لگتا ہے.. ” کہتی وہ اسکے پاس سے تیزی سے سیڑھیاں پھلانگ گئی..
چال تو باندری جیسی ہے ” آخری سیڑھی پہ پہنچی تو اس نے پیچھے سے ہانک لگائی..
رانیہ نے مڑ کر اسے کڑے تیور سے دیکھا تھا..
چمٹا ” کہتے ہی بھاگی..
اشعر اور عطا بھی آ رہے تھے سامنے سے..
یہ کہاں سو کی سپیڈ سے بھاگ رہی ہے.. اشعر بولا..
وہ سامنے اپنا شہزادہ.. اوپر کی سیڑھی پر طہٰ کھڑا نظر آیا..عطا بولا
ابھی کچھ دیر پہلے بھی عزت افزائی ہوئی ہے اسکی رانیہ کے ہاتھوں.. دونوں ہنس کے آگے بڑھے..
اب نیا ڈرامہ لگنے والا ہے” جب بھی آئی سوکنوں کی طرح ہی لڑتے ہیں “
🥀🥀🥀
ہائے میری بچی اب احتیاط کری ہیں کوئی کام نہیں کرنا کل یونیورسٹی سے بھی چھٹی لے لی.. ” نغمہ بیگم پیار سے بول رہی تھی وہ سب بڑوں کے درمیان گھری ہوئی تھی.. شزا رانیہ اور ملیحہ بھی انکے ساتھ کھڑی تھی..
میرا بھی پچھلے دنوں ہاتھ جلا تھا.. اتنا تو میرا کسی نے نہیں پوچھا سب نے جتنا عبیرہ عبیرہ ہو رہی ہے.. ملیحہ منہ بڑبڑاتے اپنے پورشن کی طرف چل دیں..
سامنے زاویار حال میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا..
ملیحہ انکے پاس آکر بیٹھ گئی..
یہ بھابھی کہاں غائب ہے سب ” اور تم کہاں سے آرہی ہو.. ” زاویار نے پوچھا دھیان سارا ٹی وی پہ تھا..
سب عبیرہ کے پاس ہیں اسکا ہاتھ جو جلا ہے آپکی وجہ سے” ملیحہ اپنا چشمہ سیدھا کئے بولی..
یہ ٹھیک ہے محترمہ کا خود تو دھیان نہیں تھا اور ولن مجھے بنا دیا اس ڈرامہ کا” وہ ماتھے پہ تیوری چڑھا کے بولا.. تب ہی نغمہ اور آمنہ بیگم آئی..
ہوگئ تیمار داری تو گھر پہ بھی توجہ دے لیں شام ہونے کو آئی ہے اور آپکو کوئی فکر ہی نہیں کوئی کھانے پینے کی..
تمہیں کوئی احساس بھی ہے بچی کا ہاتھ جلا ہے بجائے اسکے مرحم پٹی کرنے کے تم اسے ڈانٹ کر چلے آئے ” آمنہ بیگم بولی..
ایک تو چائے بھی تیری وجہ سے گری اسکے ہاتھ پہ” نغمہ بیگم نے اسے دیکھتے کہا زاویار تو کھڑا ہی ہوگیا اپنی جگہ سے..
اتنا بھی ہاتھ نہیں جلا میڈم کا جائزہ لیا تھا میں نے بس لال ہی ہوا تھا وہ بھی صبح تک صحیح ہوجائے گا اب کیا ایمرجنسی لے جاتا اسے” اور میری وجہ سے خود کو دھیان کہاں تھا اسکا” زاویار کا تو پارہ ہائی ہوگیا..
کس بات پہ دیور بھابھی آج آمنے سامنے ہیں ” ملک امین صاحب نغمہ بیگم کے شوہر اور ملک عمر صاحب آمنہ بیگم کے شوہر دونوں ایک ساتھ گھر داخل ہوتے بولے تھے..
وہ عبیرہ آپی کا ہاتھ جل گیا ہے چاچو زاویار کی وجہ سے ” ملیحہ فٹ سے بولی..
زاویار نے اسے کڑے تیور سے گھورا تو وہ سر نیچے کئے کھسک گئی..
ملک زاویار یار کیا کرتے پھر رہے آج کل ” ملک امین صاحب اسے دیکھتے بولے تھے مگر وہ انکا جواب دیے بنا نکل گیا وہاں سے..
آپ اب اسکا جلدی سے کوئی بندو بست کردیں اب ” نغمہ بیگم بولی..
ابا جی سے کرتا ہوں بات ” وہ بیٹھتے بولے..
ملک عمر اپنے کمرے کی جانب بڑھے
یہ تمہارے سپوت نظر نہیں آرہے کرتے کہا پھر رہے ہیں آج کل پڑھ بھی رہیں ہیں یا پھر آوارہ گردی ہی کرتے رہتے ہیں” ملک عمر کمرے میں آتے آمنہ بیگم نے بولے
کیا آپ بھی میرے بیٹوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کرتے ہیں پڑھائی ” وہ خفگی سے بولی تھی..
اگر اس بار انکے نمبر کم ہوئے نا فیل ہوئے تو ان کی خیر نہیں خاص طور پہ تمہارے لاڈلے طہٰ کی اسکی حرکتیں مجھے ٹھیک نہیں لگتی” وہ تھوڑا سخت ہوئے تھے..
اچھا اچھا بس آپنو تے بس میرے بیٹے ہی نظر آتے ہیں ” وہ انکی طرفداری میں بولی..
امین بھائی صاب کے بیٹے بھی ہیں شجاع اور اشعر نمبروں سے پاس ہوتے آئیں ہیں شجاع کام پہ بھی لگ گیا ہے اپنے بیٹوں سے یہ امید نہیں لگتی “
وہ ابھی چھوٹے ہیں کرکے گے کام بھی ” آمنہ بیگم کو غصہ آیا تھا اپنے سپوتوں جن کی وجہ سے سے روز انہیں باتیں سننی پڑتی ہیں اپنے شوہر سے