42.1K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ملک حمید ولا میں رات کا ڈنر سب ساتھ میں کررہے تھے.. عبیرہ روم میں ہی تھی اسکا کھانا اسکے کمرے میں ہی پہنچا دیا گیا تھا..
شزا اور رانیہ ساتھ میں بیٹھی تھی.. انکے سامنے زین بیٹھا تھا.. زین شزا کو کب سے تنگ کئے جا رہا تھا.. آفس سے آنے کے بعد سے اب تک شزا زین کی نظروں کے حصار میں ہی تھی اور ابھی بھی وہ یہی کام سر انجام دے رہا تھا..
وہ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا.. وہ اسکی نظروں سے نروس ہو رہی تھی..
شزا یہ پلیٹ دینا زین نے اسکے سامنے پڑی پلیٹ مانگی.. تو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے..
شزا زین کو پلیٹ دو.. اسکی امی بولی تو اس اپنے ہاتھوں کی لغزش پہ قابو پاتے پلیٹ اٹھا کر اسکی طرف بڑھائی..
زین نے پلیٹ کو پکڑنے کے ساتھ ہی اسکا ہاتھ بھی پکڑ لیا تو اس نے فوراً نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا.. اسکا ننھا سا دل ڈوب کر ابھرا تھا..
کھانا کھانے کے بعد حمیرا نے ملک فیض کے گھر جانے کا ارادہ بنایا..
چلو بچوں فیض تایا کے گھر سے ہو آئیں سویر کا ٹائم ہی نہیں لگا.. “
وہ چادر درست کرتی ملک فیض کے پورشن کی طرف بڑھی اسکے پیچھے شزا بھی چل دی..
جبکہ رانیہ نہیں گئی..
ملک فیض اس وقت حال میں بیٹھے حقہ کش لگا رہے تھے.. جب وہ دونوں آئیں..
ماشاللہ آؤ بچے” ملک صاحب خوش ہوتے بولے وہ انکے پاس آگئی..
اس وقت حال میں سب بڑے جمع تھے.. ملک عمر اور ملک امین انکی دونوں اہلیہ بھی ملیحہ نے ان سب کو چائے لا کر دی اور پھر ملیحہ اور شزا دنوں کچن میں ی گئی..
نغمہ تمہیں یاد ہے نا تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ” حمیرا بیگم اسے پرانی بات یاد کرواتے بولی..
ہاں.. حمیرا آپا مینو سب یاد ہے” آپ فکر نا کریں رانیہ میری نو(بہو) بنے گی..
تو سب ہنس دیے..
یہ تو بہت اچھی بات ہے ” ملک فیض بولے..
میرا بڑا دل ہے کہ میں اپنے پتر شجاع کے لئے اپنے گاؤں کی کوئی لڑکی لاؤں رانیہ سے زیادہ سوہنی کڑی نہیں ملنی مجھے” نغمہ بیگم. مسکراتی بولی..
کچن کھڑی ملیحہ اور شزا نے انکی سب باتیں سن لی تھیں..
رانیہ آپی میری بھابھی بنے گی ملیحہ خوش ہوتے بولی..
اچھا میں رانیہ کے پاس جا رہی ہوں ” شزا بہت ایکسائیٹڈ ہو رہی تھی رانیہ کو بتانے کے لئے.. اس لیے وہاں سے دوڑ لگا دی..
ابھی وہ لان سے ہوتی گھر کے دروازے پہ پہنچی تھی کہ اسکی کلائی کسے کے ہاتھ میں آگئی..
زین نے اسے بڑے سے پلر کے ساتھ لگاتے اسکے سامنے آیا..
آپ” وہ گھبرائی سی بولی..
ہاں ” میں ۔۔ شام سے اگنور کئے جا رہی اب ہاتھ لگی ہو..
وہ اسکے بے حد قریب تھا.. اسکے موٹے نین میں جھانک رہا تھا.. پیلے رنگ کا گول دامن قمیض پہنے ساتھ گھیر والی شلوار دوپٹہ گلے میں ڈالے لمبے سے بالوں کی چوٹی بنائے موٹی آنکھیں گول چہرہ ناک میں جچتی ایک نگ والی لانگ اسے بہت ہی منفرد بنا رہی تھی..
وہ اسے بہت فہرست سے تک رہا تھا..
طہٰ دروازے سے دندناتا ہوا اندر آ رہا تھا اسکے پیچھے اشعر بھی تھا..
جب چوڑیاں کی کھنک نے اسکے کان کھڑے کئے.. لان کے اس پار آواز تھی..
اشعر گھر کے اندر جاتا رک گیا.. طہٰ کو دیکھا جو لان کے دروازے سے آہستگی سے دوسرے گھر داخل ہو رہا تھا..
اشعر بھی اسکے پیچھے چل نکلا..
پلر کی اوٹ سے آوازیں آ رہی تھی پھر پیلے رنگ کا لہراتا دوپٹہ نظر آیا..
طہٰ مزید دبے پاؤں آگے ہوا اور ہلکی سی زین کی جھلک دکھی.. اور پھر اسے شرارت سوجھی.. پیچھے آتے اشعر کو منہ پہ انگلی رکھے چپ رہنے کا اشارہ کیا..
اور ایک دم سے انکے سامنے کود پڑا.. چاااہ..
زین شزا کا ہاتھ پکڑے اسکے نقش میں کھویا ہوا تھا.. جسے وہ چھڑانے میں اسکی چوڑیاں خاموش ماحول میں ارتعاش پیدا کررہی تھی..
دونوں ایک دم سے چونک کر الگ ہوئے تھے.. شزا ایک منٹ بھی ضائع کئے بغیر گھر کے اندر بھاگی..
اور طہٰ اور اشعر کا ہنس ہنس کر برا حال تھا..
زین بچارہ خجل سا ہوگیا..
واہ یہ نیا عاشق پیدا ہوگیا میرے علاوہ اس گھر میں” مجھے یہ بڑے بڑے لیکچر دینے والے خود مریض عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں.. طہٰ کے ہاتھ تو جیسے موقع آگیا..
پلیز یار گھر میں کسی کو مت بتانا ابھی.. وہ بیچارگی سے انکی منتیں کرتے بولا..
پیار کیا تو ڈرنا کیا” عشق تو وہی ہوتا جسکا سر عام اعلان کیا جائے.. ” طہٰ کے اندر تو شاعر والی روح آگئی..
ابے یار بخش دے اسے ” بڑا آیا وصی شاہ.. اشعر اسکے کاندھے پہ چت لگاتا بولا..
نا ..ںا ..میں تو جا رہا ہوں سب کو اکٹھا کرنے آج ان گناہ گار آںکھوں نے کیا سین دیکھا ہے..وہ شرارتی انداز میں ہنستا بولا..
طہٰ میرے چھوٹے بھائی کیا لے گا منہ بند کرنے کا.. زین کو اسکا منہ کروانا تھا..
اس وقت جیب میں جتنے بھی پیسے ہیں سب میری ہتھیلی پہ رکھو.. وہ ہتھیلی اسکے آگے پھیلاتا بولا..
تو زین نے غصہ سے پانچ کا سکا نکال کر اسکے ہاتھ پہ رکھ دیا..
دادا جی” طہٰ نے آواز لگائی کے زین نے والٹ نکال لیا دے رہا ہوں مگر صرف ہزار ” وہ والٹ سے پیسے نکال کر گننے لگا کے طہٰ نے جھپٹا مار کر بھاگا تھا..
“اب سین واپس سے اوون کر سکتے ہو” طہٰ بھاگتے ہوئے بولا
رومانس کے لئے جگہ تو ڈھنگ کی ڈھونڈ لیتے” اشعر طعنہ مارتے وہاں سے گول ہوا..
اور زین نے سر پکڑ لیا ” لڑکی بھی گئی اور پیسے بھی گئے “
🥀🥀🥀
شزا ہانپتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھی سانس بھی پھول رہا تھا..
عبیرہ اور مرحا کے مشترکہ کمرے میں رانیہ بھی موجود تھی تینوں اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے..
کیا ہوا شزا تم اتنی گھبرائی سی کیوں ہو شزا دروازے کے پاس کھڑی تھی اور وہ تینوں بیڈ پہ بیٹھی تھیں..
وہ.. وہ.. میں.. بھاگ کر آئی ما اسلیے سانس پھول رہا ہے.. شزا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کہے اور نیچے کی بھی فکر تھی کے کیا ہورہا ہوگا.. اب تک تو طہٰ نے شور ڈال دیا ہوگا.. آج اسکی عزت کا جنازہ نکل جائے..
مگر تم بھاگ کر کیوں آئی آرام سے بھی تو آ سکتی تھی.. “
خبر ہی ایسی تھی.. ” اس لئے جلدی کی آنے میں.. اس نے جلدی سے بات بدلی..
کیا” تینوں نے ایک ساتھ کہا..
رانیہ کا رشتہ پکا ہوگیا شجاع بھائی کیساتھ.. اس نے ایک دم انکے سر پہ بم گرایا..
کیا” تینوں حیران ہو گئی..
یہ تم کیا کہہ رہی کو” مرحا بولی..
سہی کہہ رہی ہوں بڑے بزرگو کی بیٹھک لگی ہوئی ہے وہ تو یہی بول رہے.. شزا بولی..
رانیہ کے چہرے پہ تو شرمیلی سی مسکان آئی..
اوہ میڈم بلش کررہی ہیں.. عبیرہ نے اسے چھیڑا تو سب ہنس دی..
نہیں مجھے اس کھڑوس سے شادی نہیں کرنی.. ” اپنی دل کی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کو قابو میں کرتے بولی..
ہاہا. ہاہا.. دل سے تو راضی ہی لگ رہی ہو بس ہمیں دکھا رہی ہو بن کے ..مجھے شادی نہیں کرنی.. ” شزا اسکی نقل اتارتے بولی..
اور ہاں یہ بھی کہہ رہے تھے اگر زاویار ماموں کے لئے کوئی لڑکی مل گئی تو جلد ہی تمہاری اور شجاع کی شادی بھی انکی شادی کیساتھ ہی کریں گے.. شزا نے انکے علم میں اضافہ کیا
پتا نہیں کس بیچاری کی قسمت پھوٹے گی.. عبیرہ بس سوچ سکی..
🥀🥀🥀
تمام بڑے کمروں میں تھے اور اس وقت ینگ پارٹی ہی ٹیوی لاؤنج میں بیٹھی تھی..
شجاع اشعر.. طہٰ عطا.. اور انکے ساتھ زاویار اور زین بھی شامل تھا..
ملیحہ نے انکے آرڈر پہ انہیں چائے پیش کی اور ساتھ ہی بریکنگ نیوز بھی سنائی..
آج میرے پاس ایک بہت بڑی نیوز ہے لیٹیسٹ نیوز ہے..
ملیحہ اپنا نظر والا چشمہ درست کرتی بولی..
سب انکی جانب متوجہ ہوئی..
تمہیں تو کسی نیوز چینل پہ نیوز کاسٹر ہونا چاہیے تھا.. جو ہر وقت تمہارے پاس لیٹیسٹ نیوز ہوتی ہے.. شجاع اسکی بار مذاق میں اڑاتے بولا.. اب خبر سناؤ.. سب کو تجسس میں ڈالا ہوا ہے..
آج شجاع بھائی کی بات پکی ہوگئی ہے.. ” ملیحہ خوشی سے بولی..
کیا مطلب کس بات کی بات کررہی ہو.. سب ہی چونک گئے تھے شجاع جلدی بولا..
آپکی اور رانیہ آپی کی شادی کی بات پکی ہو گئی..
واٹ ” شجاع کی تو آنکھیں ابل کر باہر آئی.. جبکہ سب نے ہوٹنگ کی تھی.. ااوو
یہ کیا بکواس کررہی ہو تم” وہ غصہ سے لال ہوتا بولا..
کاش کے حادثہ میرے ساتھ ہوتا ” طہٰ دل پہ ہاتھ رکھے ہارے ہوئے جواری کی طرح بولا..
آپ ماما سے پوچھ لیں انہوں نے ہی کیا ہے یہ سب.. ملیحہ ٹرے اٹھائے کچن میں چلی گئی..
چاچو جان شجاع آپ پہ بازی لے گیا.. ادھر نوکری ملی اور ادھر چھوکری بھی.. طہٰ کا رخ اب زاویار کی طرف تھا..
میں ایسے ہی ٹھیک ہوں.. زاویار چائے کا سیپ لیتا بولا..
شجاع غصہ سے بھرا بیٹھا تھا.. وہاں سے اٹھ کر چلا گیا..
شرما گیا لگتا ” طہٰ شرارتی انداز میں بولا..
اسے اچھا نہیں لگا اماں کے پاس گیا اور اب جوتے کھا کر نکلے گا.. اشعر کا اشارہ نغمہ بیگم کی کمرے کی طرف تھا جہاں سے ابھی وہ اندر گیا..
زاویار بھی اپنے کمرے میں چلا..گیا
میرے پیسے واپس کرو ” زین نے اسے گھور کر دیکھا اور پھر بولا..
کون سے پیسے ” طہٰ آرام سے بولا..
میرے پاس سے جو تم چھین کے بھاگے جو پانچ ہزار تھے..
میں نے نہیں دیکھا آپ کو کسی کا ہاتھ پکڑے.. گھر میں رومانس جھاڑتے ..ویسے میں نے جلدی کردی اگلا سین بھی انجوائے کر لیتا ” طہٰ بڑی ڈھٹائی سے بولا..
تو زین اٹھ گیا.. زکوۃ دی تجھے.. رکھ لے بھوکے انسان.. ” وہاں سے نکل گیا..
عطا کو انکی باتیں پلے نہیں پڑھ رہی تھیں..
اوئے میراثی اس میں میرا بھی حصہ ہے تیرے ساتھ میں بھی چشم دید گواہ ہوں.. اشعر اسکے ہاتھ جھپٹا مار کے پیسے لے لئے..
اوئے یہ میری محنت کی کمائی ہے” طہٰ پیسے چھینے جانے پہ بول اٹھا
یہ لے عیش کر بھکاری” اشعر نے پیسے گنتے ڈھائی ہزار اسے واپس کردیا..
کیا کوئی لاٹری نکلی ہے تم لوگوں کی” عطا انکی حرکتوں کو دیکھ بولا..
بس یہی سمجھ لو اشعر کہتا کمرے کی طرف چل دیا.. اور طہٰ بھی بنا جواب دیے منہ لٹکاتے اٹھ گیا..
اور کچھ دیر بعد شجاع بھی ماں کے ہاتھوں ذلیل۔ہوتا اپنے کمرے میں۔آیا۔۔
اماں یہ کیا چول مار دی آپ نے مجھے نہیں کرنی رانیہ سے شادی “
“کیوں ۔۔ آخر کمی کیا ہے اس بچی میں اینی سوہنی ہے میرے پنڈ کی ہے اپنی سگھڑ ہے “
یہی تو مسئلہ ہے گاوں کی ہے ۔۔” پینڈو ٹائپ سی لگتی ہے ” وہ زچ ہوتا بولا۔۔
تیری ماں بھی پینڈو ہے پھر تو تجھے ماں بھی اچھی نہیں لگتی ‘
اماں “
دفاع ہوجا نہیں چھتر چک لینا ہے میں نے ” تو وہ منہ لٹکاتا نکلا۔۔
🥀🥀🥀
اگلی صبح زاویار گاڑی میں بیٹھا.. عبیرہ اور مرحا کے انتظار کررہا تھا..
تھوڑی دیر میں وہ دونوں باہر آئی تھی.. عبیرہ ہمیشہ کی طرح پچھلی سیٹس پہ ہی بیٹھی اور مرحا آگے..
محترمہ آج چھٹی کر لیتی تمہارا ہاتھ جو جل گیا.. وہ گاڑی اسٹارٹ کرتا ہلکا سر پیچھے موڑ کر بولا..
اسکا ہاتھ سرخ دیکھ وہ بولا..
میں ٹھیک ہوں آج ٹیسٹ ہے آپ نے ہی لینا ہے.. ” وہ منہ بسورتی بولی
.
کچھ ہی دیر میں وہ یونیورسٹی پہنچے تو مرحا اپنی کلاس کی طرف بھاگی عبیرہ اپنا بیگ سنبھالے کچھ کتابوں کو ہاتھوں میں اٹھائے آگے چل دی..
لاؤ یہ بکس مجھے دو میں تمہیں کلاس میں دے دوں گا”
زاویار اسکے سامنے آتا بولا.. آف وائٹ شرٹ کے ساتھ نیوی بلو کوٹ پہنے بالوں کو سلیقہ سے سیٹ کئے ہوئے جاذب نظر آ رہا تھا..
اٹس اوکے میں اٹھا سکتی ہوں.. وہ کہتی آگے بڑھنے لگی..
کل سے مجھے ولن بنایا ہوا ہے اس حادثہ”کا تو تھوڑی تیمار داری کر کے ازالہ کرلوں” وہ اسکے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے بولا جو جلا تھا اسی ہاتھ سے وہ کتابیں تھامے تھی.. زاویار نے اسکے ہاتھ کتابیں لے لی اور آگے چل پڑا کلاس روم کی جانب
وہ بھی اسکی پیچھے چل پڑی..
دونوں آگے پیچھے روم میں داخل ہوئے..
گڈ مارننگ سر..
گڈمارننگ ” ہیو آ گڈ ڈے” وہ بھی شائستہ انداز میں جواب دیتے بولا عبیرہ بھی اسکے پیچھے کلاس میں انٹر ہوئی..
زاویار اسکی مخصوص چیئر کی جانب بڑھتے اسکی بکس رکھ کر واپس اپنے ڈیسک کی جانب آیا.. سب نے یہ بات نوٹس کی تھی خاص طور پہ لڑکیوں نے..
وہ اپنے ٹاپک کی جانب آیا اور لیکچر دینے لگا کلاس ختم ہوتے وہ چلا گیا..
کیا بات ہے سر نے آج تمہاری بکس اٹھائی ہوئی تھیں.. اسکے ساتھ بیٹھی ماڈرن ڈریس پہنے لڑکی نے کہا..
وہ میرا ہاتھ جل گیا تھا تو مجھ سے اٹھائی نہیں جا رہی تھی تو انہوں نے ہیلپ کی.. ” وہ اپنی بات سمجھاتے ہوئے بولی..
کل سے میں بھی اپنا ہاتھ جلا کر آؤں گی یونی میں کیا پتا میری بھی ہیلپ کردیں” اس لڑکی نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا..
میرا ہاتھ انکی وجہ سے ہی جلا تھا.. چائے سرو کررہی تھی انہیں اسی دوران میرے ہاتھوں پہ چائے گری” عبیرہ کو اسکی بات ناگوار گزری
ہاؤ سوئٹ سر زاویار کو چائے سرو کررہی تھی “” ایک لڑکی نے مذاق اڑاتے کہا تو عبیرہ اٹھ گئی وہاں سے..
°°
ملک حمید ہاؤس میں سب اپنے کام کاج پہ جا چکے تھے.. گھر میں بس حمیرا پھپھو اور رانیہ شزا تھیں اور وہ بھی ناشتہ کے بعد دوسرے گھر میں چلے گئے تھے.. ملک فیض ہاؤس میں”
رخشندہ کچن میں ملازمہ کیساتھ کام کروا رہی تھی اسکے گھر کا ٹیلی فون کی گھنٹی بجی..
اس وقت کون ہے ” کہتے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا..
ہیلو”
کیسی ہو رخشندہ بیگم “
ایک سیکنڈ لگا تھا انہیں آواز پہچاننے میں..
تم ” تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں کال کرنے کی ہمارا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے.. ” وہ غصہ سے بولی
تعلق ہے رخشندہ بیگم ہماری امانت ہے تمہارے پاس اگلا بندہ بڑی ڈھٹائی سے بولا..
کوئی امانت نہیں تمہاری ہمارے پاس” وہ اونچی آواز میں بولی..
میری بیٹی عبیرہ ہے ” اور میں بہت جلد ہی اپنی بیٹی کو واپس لینے کے لئے آؤں گا.. “
شٹ اپ” تم میری بچی کو نہیں لے جاسکتے کوئی حق نہیں ہے تمہارا اس پہ” میری بہن کے مرتے ہی تم اپنی بچی سے آنکھیں پھیر لی اسے سوتیلی ماں کے حوالے کردیا تھا ” کتنے ظلم سہے اس عورت کے میری عبیرہ نے ” آٹھ سال کی تھی وہ جب اسکی ما ں اس دنیا سے چلی گئی جب اسکو تمہاری زیادہ ضرورت تھی تب کہاں تھے..”
رخشندہ بیگم نے اسے خوب سنائی..
مجھے تمہاری کوئی بکواس نہیں سننی میں صرف تمہیں بتا رہا ہوں میں اپنی بیٹی کو لینے آ رہا ہوں.. ” عبیرہ کا باپ فیصل بولا..
نہیں چھہ مہینے میں ہی اسکا گلاب جیسا چہرہ مرجھا گیا اور میں بروقت پہنچ گئی اور تمہاری دوسری بیوی کے ظلم سے اسے بچا لائی کبھی تم نے پلٹ کر خبر لی تمہاری بیٹی ہے کہاں اور اب اچانک سے اپنی بیٹی کا خیال آگیا” رخشندہ چپ نہیں مزید اسے سنائی..
میں نے عبیرہ کا بہت ہی اچھے لڑکے سے اسکا رشتہ طے کردیا ہے ” عیش کرے گی ساری زندگی.. اور تم مجھے روک نہیں سکتی.. پندرہ دن اندر اندر میں عبیرہ کو لے جاؤں گا” فیصل نے کہتے ہی کال کاٹ دی..
رخشندہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئی..
کتنی چھوٹی سی تھی وہ جب وہ اسے اپنے گھر لے آئی تھی ماں کے انتقال کے دوسری مہینہ ہی اسکے باپ نے دوسری شادی کرنی اور عبیرہ کو اسکے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا..
وہ عبیرہ سے چھے مہینہ بعد ملنے گئی تو بہت ہی بری حالت میں پایا اسے.. وہ صحت مند ہوا کرتی تھی مگر اس عورت نے اس پہ ظلم ستم کے پہاڑ توڑ دیے تھے عبیرہ کا ہاتھ جلا ہوا تھا سر کے بال کاٹے ہوئے خوبصورت سفید چہرہ مرجھایا ہوا تھا رخشندہ کا تو دل ہی دہل گیا تھا وہ فوراً سے عبیرہ کو وہاں سے لے آئی تھی.. اسکے بعد سے اسکے باپ نے اسکی کبھی خبر تک نا لی.. سب نے یہاں عبیرہ کا بہت خیال رکھا حالات کی تلخیوں نے بہت سنجیدہ مزاج بنا دیا تھا ہنسنا تو وہ بھول گئی تھی سب ہی اسے ہنسانے میں لگے رہتے ہیں..
کل بھی اسکا ہاتھ جلا تو سب نے اسے سر پہ بٹھا لیا تھا.. اتنا سب نے اسکا بہت خیال رکھا مگر عبیرہ کو لگتا ہے سب اس سے ہمدردی جتاتے ہیں ترس کھاتے ہیں..
مجھے کچھ کرنا پڑے گا عبیرہ کے لئے اسے محفوظ کرنے کے لیے تاکہ اسکا باپ اسے لے جا نا سکے.. “
کیا ہوا رخشی بیگم تم پریشان ہو..
انکے شوہر ملک نعمان دکان پہ جانے کے لیے تیار ہوکر کمرے سے باہر آئے..
ملک صاحب بہت ٹینشن ہے.. ” وہ ٹینشن سے بولی..
کیسی ٹینشن ہے” وہ انکے پاس بیٹھ گئے اور انہوں ساری تفصیل سے آگاہ کیا انہیں..
اچھا ابا جی کہاں ہے ان سے بات کرتے ہیں دور اندیش بندے ہیں کوئی نا کوئی حل ضرور بتائیں گے..
وہ اس وقت لان میں ہوتے ہیں اپنے بھائی کے ساتھ “
ادھر اپنے والے لان میں ” ملک نعمان نے پوچھا
ہاں آج یہیں ہیں” رخشی پریشان سی بولی..
چلو پھر باہر چلتے انکے پاس بزرگ بندے کوئی اچھی ہی صلاح دیں گے.. وہ اسے لئے باہر لان میں آئے..
ملک فیض اپنے حقہ کے ساتھ مستفید ہو رہے اور ملک حمید ان سے گزری یادیں تازہ کررہے تھے اور زور دار قہقہہ لگاتے..
ابھی وہ کسی بات پہ زور و سے ہنس رہے تھے..
یار حمیدے وہ ویلے بہت چنگے تھے”
ابا جی ” ملک نعمان انکے سر پہ آئے..
ہاں پتر دونوں ہی انکی طرف متوجہ ہوئے
وہ دونوں انکے پاس بیٹھے اور پریشانی سے انہیں آگاہ کیا..
اس ساری پریشانی کا میرے پاس ایک حل ہے”کے پتر عبیرہ کیا نکاح تم ان دنوں میں جلدی سے کسی اچھے لڑکے کے ساتھ کردو اس طرح اسکے باپ کا کوئی حق نہیں رہے گا عبیرہ پتر پہ کیونکہ وہ اپنے شوہر کی ملکیت ہوگی.. ملک فیض نے اپنی ذہانت سے انہیں مشورہ دیا جو رخشی کو پسند بھی آیا.. اتنے میں پھپھو حمیرا بھی انکے سر پہ آگئی.. شزا اور رانیہ پاس گزرتی اندر گھر کی جانب بڑھی..
عبیرہ کا نکاح میں زین سے ہی کروا دیتی ہوں.. رخشندہ بیگم کو بس یہی سجھائی دیا.. شزا نے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی جب یہ آواز اسکے کانوں میں پڑی اسکا رنگ فق ہوگیا.. جبکہ رانیہ شزا کو دیکھ مسکرائی اسکی دلی کیفیت سے انجان..
شزا بھی بمشکل مسکراتے کمرے کی طرف بڑھی تھی وہاں جا کر دل کی بھڑاس نکال سکے..
🥀🥀🥀
چھٹی ٹائم مرحا نے عبیرہ کی بکس تھام لی عبیرہ بیک سیٹ پہ اور مرحا فرنٹ سیٹ بیٹھی مرحا نے عبیرہ کی بکس ڈیش بورڈ پہ رکھ دی..
کچھ ہی دیر میں وہ گھر پہنچے گئے.. اور دونوں جلدی گاڑی سے اترتی اپنے گھر میں داخل ہوئی
“جلدی پتا نہیں کس بات کی ہے انہیں ڈرائیور ہی سمجھ لیا اپنا “زاویار خود سے بڑبڑاتا اپنے گھر میں داخل ہوا..
🥀🥀🥀
شام کو زین گھر آیا تو پہلے سامنا اسکا شزا سے ہوا.. زین نے اسے دیکھ مسکراتے ایک آنکھ دبائی مگر شزا منہ نیچے کئے وہاں سے نکل گئی.. اور وہ سوچتا رہ گیا اسے کیا ہوا..
زین بھائی آپکو دادا جی اپنے کمرے میں بولا رہے ہیں.. مرحا اسکے لئے پیغام لیکر آئی..
اچھا میں آیا تم اچھی سی چائے بناؤ میرے لیے”
وہ اثبات میں سر ہلاتے چلی گئی
کچھ ہی دیر بعد زین بھی فریش ہو کر ملک حمید کے کمرے میں پہنچا جہاں اسکی پھپھو اسکی ماں اور اسکے والد ملک نعمان پہلے سے موجود تھے..
اللہ خیر کرے آج ” وہ دل میں کہتا انکے پاس آیا..
اسلام علیکم ” کیا بات ہے سب خیر ہے”
ہاں خیر ہے سب زین پتر تجھ سے بہت ضروری بات کرنی ہے” ہمیں یقین ہے تو ہمیں مایوس نہیں کرے گا..
ملک حمید نے بڑے تحمل سے بات کا آغاز کیا..
جی بولیں کوشش کروں گا اگر بات میرے وارے کی ہوئی تو”
بیٹا جی تیری ماں عبیرہ کے لئے بہت پریشان ہے آج اسکے باپ کا فون آیا تھا وہ عبیرہ کو لینے آنے والا ہے اور ہم اس بات پہ راضی نہیں ہیں وہ بچی ہماری ہے اسے تیری ماں نے پالا ہے.. ” زین انکی بات سمجھنے کی کوشش کررہا تھا اپنی جاری رکھتے ہو ئے ملک حمید صاحب بولے.
تو ہم نے یہ حساب لگایا کے عبیرہ کو مضبوط رشتہ میں باندھ دیا جائے تاکہ اسکا ابا کچھ نا کر سکے..
ہم سب کی رائے ہے تیرا نکاح عبیرہ کے ساتھ کردیں اسی ہفتہ کے اندر..
زین کو شاک لگا تھا یہ بات سن کر.. وہ صدمہ میں کھڑا تھا..