Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

عبیرہ چینج کر کے لیٹ گئی ۔۔ وہ ابھی بھی اس واقعہ کے زیر اثر تھی ۔۔ ابھی بھی خود کو۔زاویار کے حصار میں۔محسوس کررہی تھی ۔۔ماتھے پہ۔اسکا دھکتا لمس محسوس کر پا رہی تھی ۔۔ بے ساختہ ماتھے پہ۔ہاتھ رکھ گئی ۔۔مرحا کمرے میں آئی تو سوتی بنی۔۔
°°°
زاویار اپنے کمرے کی۔بالکونی میں کافی کا مگ تھامے ٹہل رہا تھا۔۔ اسکی سوچوں کا مرکز عبیرہ ہی بنی ہوئی تھی۔۔
بار بار نظر ساتھ والے گھر کی بالکونی پہ جا رہی تھی جہاں اکثر عبیرہ کھڑی ہوتی تھی۔۔
ناجانے کیوں وہ لڑکی اسکا دل دھڑکا گئی۔۔ جو اسکی سوچوں سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔۔ کافی کا آخری سیپ لیتا وہ کمرے میں۔چلا گیا۔۔
°°°
اشعر سونے کے لیے لیٹا تھا جب اسکے موئل پہ وٹس ایپ ٹون بجی ۔۔ موبائل اٹھا کر دیکھا دیکھا تو طہٰ کا میسج تھا اوپن کیا تو ۔۔ اسکی اور مرحا کی کلوز تصویر تھی جو اس وقت طہٰ نے لی تھی اسے بلیک میل کرنے کیلئے ۔۔
اور تصویر کے نیچے لکھا تھا ۔۔ اس تصویر کی قیمت صرف دس ہزار روپے۔۔
تصویر تو لاکھوں کی ہے مگر میں تمہیں دس روپے بھی نا دوں “اشعر نے رپلائی دیا۔۔
میں کہتا ہوں سوووچ لو” دس ہزار یا پھر زین کو سینڈ کردوں ۔۔ اسے بھی تو پتا چلا تو اسکی بہن کے ساتھ چکر چلا رہا ہے’
سوچ لیا تونے جو کرنا ہے کر لے ” اشعر نے بھی ٹکا سا جواب دیا اور عطا کو میسج کیا۔۔
اوئے سوگیا۔۔ “
نہیں ‘ اسی ٹائم جواب آیا۔۔
کیا کررہا ہے “
سیٹنگ کر رہا ہوں ” عطا کا جواب آیا۔۔
تیری نہیں کہیں سیٹنگ ہونے والی ” پہلے میری سیٹنگ کر دے۔۔اشعر نے جواب دیا۔۔
تیری سیٹنگ تو ہوگئی ہے ۔۔ دیکھ لیا تھا مرحا کے ساتھ آنکھ مچولی تیری ۔۔ عطا کا رہلائی آہا
طہٰ بلیک میل کرہا ہے اسے سبق سکھانا ہے تو اس رات کچھ کہہ رہا تھا ۔۔اشعر نے رپلائی دیا۔
ہاں یاد ہے کل ہی سبق سکھائیں گے چاچو کے نکاح تھا ٹائم نہیں ملا ۔۔ کل ہی اسکی گرل فرینڈ نمرہ کو ایکسپوز کریں گے۔۔عطا کا رپلائی آیا۔۔
کیا مطلب ‘ اشعر نے پوچھا ٹائپ کر کے۔۔
پھر عطا نے اسے سارے پلین سے آگاہ کیا اسے۔۔
اور اشعر خوش ہوا ۔۔ اب تیری خیر نہیں طہٰ ۔۔ایسی تیری ہوگی نا دوبارہ نہیں تو بلیک میل کر سکے گا
تو نا سہی تیری یاد سہی” ۔۔ اشعر مرحا کی تصویر کو۔تکتا ہوا بولا ۔۔ اور آنکھیں بند کرلی۔۔
°°°
اگلے دن بھی بڑے بزرگ سر جوڑے بیٹھے تھے ۔۔
رمضان آنے والا ہے عید کے بعد ہی رخصتی رکھ لیتے ہیں عبیرہ کی اور ساتھ شجاع اور رانیہ کا نکاح۔۔ اگلے سال انکی بھی رخصتی کریں گے۔کیونکہ۔شجاع کی نوکری ابھی شروع ہے تو وہ ابھی محنت کرنا چاہتا ہے” ملک فیض اور ملک حمید نے اپنی رائے دی۔۔ میٹنگ اس وقت ملک فیض ولا میں رکھی گئی تھی۔۔
ابا جی ۔۔” زاویار سے پوچھ لیتے پہلے۔۔ نغمہ بیگم بولی ۔۔
میں ہوں نا فیصلہ سنانے کے لیے میں نے اسے پیدا کیا ہے اس نے مجھے نہیں۔۔ ابا جی روب سے بولے۔۔
ابا جی ” مگر اس بار فیصلہ میرا ہوگا ۔۔ نکاح آپکا فیصلہ تھا ۔۔اور رخصتی میری مرضی سے ہوگی ۔۔ زاویار انکے سر پہ آن۔کھڑا ہوا۔۔
زاویار بچی انکی ہے ۔۔ وہ جب بھی کہیں گے تب ہی۔رخصتی ہوگی۔۔ ملک فیض تھوڑا سخت ہوتے بولے۔۔
رخشی بیگم نے ملک نعمان کی۔طرف دیکھا۔۔ تو ملک نعمان نے اسے چپ رہنے کا ہی کہا۔۔
زاویار تم کمرے میں جاؤ۔۔ ملک امین زاویار کو۔منہ کھولتا دیکھ بول پڑے کہیں بات زیادہ نا بگڑ جائے۔۔
ابا جی میں جو کہہ چکا ہوں وہ ہی ہونا چاہیے ۔۔ صرف ایک ہفتہ ۔۔ ورنہ اسکے بعد کا انجام کے ذمہ دار میں نہیں۔ہوگا۔۔ وہ۔تڑی لگاتا اپنے کمرے کی۔طرف ہو لیا۔۔
پا جی۔۔ اب ہمیں ضد لگانے کا فائدہ نہیں ہے۔۔ آخر آپکا ہی بیٹا ہے ۔۔ ضد بھی آپ کی۔طرح ہی کرے گا۔۔ ملک حمید نے ملک فیض کو دیکھتے کہا۔۔
مجھے بھی یہی لگ رہا ہے آخر میری ہی اولاد ہے ۔۔ ” ملک فیض نے بھی ہتھیار ڈالے ۔۔
مگر ابا جی عبیرہ کے پیپر تو ہوجانے دیتے ۔۔ اب اتنی۔بھی کیا جلدی ہے زاویار کو۔۔ آج بھی لڑکی اسکی ہے اور کل بھی ۔۔ رخشی بیگم پریشانی سے بولی ۔۔
اب وہ ضد پہ۔آگیا ہے اور دونوں خاندانوں کے تعلقات خراب ہوں گے ایسے۔۔ ملک فیض بولے
°°°
زاویار کمرے میں آگیا غصہ سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ناجانے کیوں اسے غصہ آنے لگا تھا۔۔ وہ چھٹانگ بھر لڑکی۔اسکے حواسوں پہ سوار تھی۔۔ کل سے
پھر چھت پہ چلا گیا۔۔
شام ہو رہی تھی سورج ڈھل رہا تھا موسم بھی خوشگوار ہو رہا تھا۔۔ چھت پہ آتے کھلی فزا میں موڈ بحال۔ہوا۔۔
سامنے کھڑی دشمن جاں پہ نظر پڑی ۔۔ چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔ دونوں گھروں کی چھت ایک تھی بس بیچ میں چھوٹی سی دیوار حائل تھی جسے با آسانی پھلانگا جا سکتا تھا۔۔
وہ اسکے ساتھ جا کھڑا ہوا ۔۔ مگر وہ اتنی گم سم۔سی کھڑی تھی نظریں غروب ہوتے سورج پہ ٹکائی ہوئی تھی۔۔ اسے زاویار کی آمد کا اندازہ ہی نا کہ کب وہ اسکے ساتھ کھڑا ہوا ۔۔ دونوں اپنے اپنے گھر کی ہی چھتوں پہ موجود تھے۔۔اور بیچ میں سے چھوٹی سی دیوار گزر رہی تھی۔۔
کیا کوئی نیا سیارہ کھوج لیا ہے ۔۔ جسکا جائزہ لیا جا رہا ہے یا مجھے یاد کیا جا رہا ہے۔۔ وہ۔سیدھا کھڑا سامنے دیکھتا بولا۔۔
عبیرہ اسکی۔آواز سنتی ہی چونک کر منہ موڑ کر اسے دیکھا تھا۔۔
زاویار نے بھی اسکی طرف دیکھا۔۔ اسکی جھیل سی آنکھوں میں۔اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا جو نم تھی شاید وہ رو رہی تھی۔۔
ایسا کچھ نہیں وہ کہتی مڑی وہاں سے جانے کے لیے کہ۔زاویار نے اسکا تھام لیا ۔۔
میں نے تم سے۔کہا۔جانے کو ۔۔ عبیرہ نے حیرت سے اسے پھر اسکے ہاتھوں میں پکڑا اپنا ہاتھ ۔۔ اسکا دل۔ڈوب کر ابھرا تھا۔۔
زاویار فہرست سے دیکھ رہا تھا اسے ۔۔جب نیچے سے سیٹیاں بجنے کی آواز آئی دونوں ایک ساتھ نیچے دیکھا ۔۔ زاویار نے فٹ سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
نیچے لان طہٰ عطا اور دوسری سائیڈ مرحا اور رانیہ موجود تھے۔۔
طہٰ دونوں انگلیاں منہ ڈالے سیٹیاں بجا رہا تھا۔۔اور پھر بولا سب ہی ہنس رہے تھے۔۔
اوو۔۔ ہوو۔۔ دن دھاڑے رومینس۔۔ چاچو کچھ تو خیال کرلیں اس گھر میں بچے بھی ہیں۔۔ طہٰ شرارت سے بولا۔۔
عبیرہ تو ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر بھاگی وہاں سے۔۔
زاویار کو ان پہ تپ چڑھی تھی۔۔ مگر بولا کچھ نہیں ۔۔انہیں خونخوار نظروں سے گھورتا اندر چلا۔گیا۔۔
کیا مسئلہ ہے تم دونوں کے ساتھ ۔۔اب جا کر ان میں کوئی بات شروع ہونے لگی تھی اور تم دونوں نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔۔ رانیہ کو طہٰ کی حرکت پہ سخت تپ چڑھی تھی انکو سنانے کے ارادے سے انکے پاس آتی انہیں سنانے لگی۔۔
رانیہ یہ ہے ہی ایسا ۔۔یہ پیدا ہی اسی دن کے لیے ہوا تھا ۔۔ قاتل ہے یہ دسروں کی خوشیوں کا خود کو جو کوئی گھاس نہیں ڈالتی دوسروں کی۔بھی دال۔نہیں گلنے دیتا۔۔ عطا نے اسے لتاڑتا بولا۔۔
خود کا منہ تو چمٹے جیسا ہے اسے کون گھاس ڈالے گی۔۔
رانیہ بھی دوبدو بولی۔۔
او باندری تیرا والا کون سا تجھے گھاس ڈالتا ۔۔ اس لیے تو کود رہی ہے۔۔ طہٰ بھی اپنا۔حساب برابر کیا۔۔
وہ ہوتا کون۔ہے جو مجھے گھاس نا ڈالے ۔۔ میں کہا اور وہ کہاں ۔۔ رانیہ اترا کر بولتی مڑی کے پیچھے شجاع کو دیکھ گڑ بڑائی۔۔طہٰ اور عطا کو ہنسی آئی۔۔ اسکی بولتی کو بریک لگی تیزی سے سر جھکاتی اس سے پاس سے گزرتی ۔۔کہ شجاع نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
ٹھیک کہا تم نے ۔۔ تم کہاں اور میں کہاں۔۔ “کہاں تم۔گاؤں کی گوار اور کہاں میں شہر کا۔شہزادہ۔۔ شجاع نے بڑے اکڑ اور غرور سے کہا۔۔ رانیہ نے سر اٹھا کر اس مغرور شخص کو دیکھا۔۔ اسک موٹی موٹی آنکھوں میں آنسوں تیرنے لگے تھے۔۔
شجاع کے ہاتھ میں ابھی بھی اسکی کلائی تھی۔۔ اسکی بھیگی آنکھوں میں اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔۔ اسکا ہاتھ آزاد کردیا۔۔ اور بھاگنے کے انداز سے نکلی تھی۔۔ اپنی تذلیل پے بہت رونا آرہا تھا۔۔ اس لیے ویران جگہ کا انتخاب کیا رونے کے لیے۔۔
وہ۔سسک۔رہی تھی ۔۔ اپنی محبت کے ہاتھوں ہوئی تذلیل پہ۔۔
“کیا فائدہ ایسی مردہ محبت کا جہاں عزت کا جنازہ ہی نکل جائے۔۔’ اپنے آنسوں کو رگڑ کر صاف کرتے خود کو رونے سے روکا تھا۔۔
رانیہ کے جانے بعد عطا نے شجاع کی خوب کی۔۔
شرم آنی چاہیے تمہیں کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جس سے انسانیت ہی ختم ہوجائے نہیں پسند نا سہی مگر عزت سے تو بات کرسکتا تھا نا۔۔ کسی کا دکھانا اسکی۔تذلیل کرنا کہاں درست ہے۔۔
یار یہ ہم دونوں کا آپس کا مذاق تھا وہ تو ایسے ہی بول رہی تھی طہٰ کو بھی برا لگا تھا۔۔ شجاع بھی شرمندہ ہوا کہ وہ کیا بول گیا ہے اس لیے انکو کوئی جواب نا دے سکا۔۔
°°°
عبیرہ کمرے میں آتی یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی شاید اسکے دل کے حالات بھی بدل رہے تھے۔۔
مرحا روم میں آتی اسے ٹوکا ۔۔ لڑکی رک جاو کیا۔ہوگیا ہے ۔۔ تھک جاؤ گی۔۔
تھک تو گئی ہوں ۔۔ وہ مجھے زچ کر رہے ہیں ‘ عبیرہ تنک کر بولی۔۔
وہ کون ‘ مرحا دونوں یاتھ باندھتی جان بوجھ کر بولی۔۔
وہ’ تمہارے چاچو۔۔ عبیرہ دانت ہیستے بولی۔۔
اتنے اچھے تو ہیں چاچو۔۔ بس تم ہی نخرے دکھا رہی ہو انہیں اب ہسبنڈ ہیں تمہارے اتنا سا تو حق بنتا ہے نا انکا ۔۔ مرحا اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتی بولی۔۔.
مجبوری کے ہسبنڈ ہیں وہ ۔۔ فری ہی ہوئے جا رہے ہیں۔۔ وہ منہ کے زاویہ بگاڑتی بیڈ پہ بیٹھتی بولی۔۔
ایک ویک تک کے لیے رخصتی کی ڈیمانڈ کر ڈالی ہے انہوں نے بڑوں نے تو عید کے بعد کا مہورت نکالا تھا مگر آپ کے ہسبنڈ جی نہیں مانے اور سب کو گھٹنے ٹیکنے پہ۔مجبور کردیا۔۔ مرحا بھی بیڈ پہ اسکے قریب بیٹھ کر آرام سے بولی۔۔
عبیرہ نے اسکی طرف تکیہ اچھال کر پھینکا اور واش روم میں بند ہوئی۔۔ اور مرحا نے پیچھے سے زور دار قہقہ لگایا تھا۔۔
°°°
اشعر اور عطا گھر کے دروازے کے باہر تھوڑا آگے کھڑے تھے ۔۔ طہٰ کو عطا نے میسج کر کے بلایا تھا۔۔
وہ بھی انکے پیچھے آن کھڑا ہوا۔۔
لگتا ہے پیسوں کا کا بندوبست ہو گیا ہے ۔۔ ” وہ دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالے بتیسی دکھا رہا تھا
ہاں ۔۔ ہوگیا تیرا بندو بست ۔۔ اشعر شریر سا مسکرایا۔۔
لاؤ پھر طہٰ ہاتھ بڑھاتے بولا۔۔
وہ سامنے دیکھ ‘عطا بولا۔۔
ارے واہ ‘ مائے سویٹ ہارٹ۔۔ نمو۔۔، نمرہ اپنے کوچنگ سے گھر آ رہی تھی پیدل چلتے ہوئے ۔۔ ہاتھوں میں بکس تھامے کاندھے پہ۔بیگ لٹکائے ۔۔بالوں۔کو کھلا چھوڑے ۔۔دبلی پتلی سی مسکراتی چلتی آ رہی تھی۔۔
طہٰ فلمی ہیرو کی طرح گلی کے درمیان ہاتھ پھیلائے شوخا بنتا گانے لگا ۔۔نمرہ اسکے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔۔
“میرے محبوب قیامت ہوگی آج رسوا میری گلیوں سے محبت ہوگی۔۔” اپنی بے سری آواز کے سر بکھیرنے لگا ۔۔ اچانک پیچھے سے اسکی کسی نے گردن دبوچ لی۔۔
ابے چھوڑ”
وہ بے دھیانی میں گردن چھڑاتے بولا توجہ ساری نمرہ پہ تھی اور وہ پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ گھبرائی۔۔اور طہٰ کو آنکھوں سے پیچھے دیکھنے کا اشارہ کیا۔۔
طہٰ نے ہلکا سا سر موڑ کر دیکھا تو اسکی چیخ نکل گئی۔۔
پاپا’
پاپا کے بچے یہاں تو ہماری عزت رسوا کررہا یے بیچ گلی۔میں۔۔ ملک عمر طیش میں بولے تھے جبکہ۔اسکی گردن ابھی بھی انکے شکنجہ میں تھی۔۔
نمرہ تو ہولے سے کھسک گئی وہاں سے۔۔ دیوار کے پیچھے چھپے اشعر اور عطا کی ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی۔۔
اور طہٰ کی دھلائی کرتے گھر میں لے گئے ملک عمر۔۔
یہ کسر رہ گئی تھی بس یہ۔نکمی اولاد ہماری عزت کا۔جنازہ نکال رہی تھی ۔۔ اس محلہ میں رہتے اتنے سال ہوگئے ۔۔ آج تک کبھی ہمارے گھر میں سے کسی فرد نے محلہ کی۔بہن بیٹی کو آنکھ اٹھا کر دیکھا۔۔
اور یہ صاحب گلی میں عشق فرما رہے تھے۔۔ ملک عمر نے خوب چڑھائی کی تھی آمنہ بیگم کی۔اور طہٰ کی بھی۔۔
°°°
ہاائے ظالم سماج ۔۔ ہائے۔۔ طہٰ اپنی سوجھی ہوئی۔گال۔پہ ہاتھ رکھتے بولا ۔۔
اسکے پاس بیٹھے شجاع اور اشعر عطا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے تھے۔۔
ظالموں ایسا کون کرتا ہے۔۔ کیا بگاڑا تھا بھلا میں نے تم لوگوں کا وہ کراہتے ہوئے دہائیاں دے رہا تھا۔۔
تو کس نے کہا تھا شاہ رخ خان بننے کو ۔۔ وہ چاچو عمر اتفاق سے آرہے تھے۔۔ اشعر اپنی ہنسی کنٹرول کرتا بولا
یہ۔سب تم لوگوں کا کیا دھرا ہے۔۔ وہ انہیں دانگلی دکھاتا بولا۔۔
عطا میرا موبائل تو دو کہیں بچارہ شہادت تو نہیں۔پا گیا ابا کے ہاتھوں۔۔طہٰ بچارگی سے بولا
فکر مت کرو ۔۔ بھائی تیرا موبائل میرے پاس صحیح سلامت اور سارا ڈیٹا ڈیلیٹ ہے۔۔”تیری محبوبہ نے تو تجھے پہچاننے سے انکار کردیا ہے ۔۔ اور تجھ پہ الزام ۔لگادیا کہ تو تنگ کر رہا ہے ۔۔” پاپا ہو کر آ رہے ہیں انکے گھر سے بھی’ عطا نے اسکے دکھوں پہ۔مزید نمک چھڑکا۔۔
میرا موبائل دے” وہ منہ لٹکائے دکھی سا بیٹھا بولا۔۔
یہ لے اسٹیٹس لگا دیا میں نے ۔۔ عطا اسکی طرف موبائل بڑھاتا بولا۔۔ تھینکس دکھی سا دل۔توڑ دے نے والا۔ لگانا تھا ساری دنیا کو پتا چلے ۔۔ طہٰ برباد ہوگیا۔۔ آج ہی پانچ سو کا لوڈ کروا کر دیا تھا اس بے وفا کو۔۔’ وہ دہائی دیتے بولا ۔۔ سب نے قہقہ لگایا تھا۔۔
°°°
بس کر جائیں اب غصہ۔ٹھنڈا کریں بچے کو۔مار بھی لیا ہے مگر پھر بھی ۔۔” آمنہ بیگم ملک۔عمر کے لیے جوس لاتی بولیں۔۔
ایسی منحوس اولاد ہے میری اس لڑکی۔کے گھر سے بھی باتیں ہی سن کر آیا ہوں ۔۔ بھئی ہماری لڑکی۔شریف ہی۔بہت ہے ” اور یہ۔ہماری نمکی اولاد کسر نہیں۔چھوڑی اس نے “
او بس کر جا تو وڈا شریف” اس باتوں پہ۔تونے بھی مجھ سے چھتر کھائے ہوئے ہیں۔۔ ملک۔فیض۔نے انہیں لتاڑا۔ تو وہ خاموش ہوئے ۔۔ آمنہ بیگم۔نے انہیں۔گھور کر دیکھا۔
ابا جی” ایسا کچھ نہیں ہے وہ کچے سے ہوئے۔۔
°°°
تین دن۔گزر چکے تھے ۔۔ بوریت سے ہو رہی تھی اس لیے کرکٹ میچ رکھا لان۔میں اور دو ٹیمیں بنائی گئی۔۔
ایک
پہلی ٹیم میں اشعر اور شجاع اور طہٰ عطا۔۔ ملیحہ
دوسری ٹیم میں زین کے ساتھ مرحا اور عبیرہ اور رانیہ شزا ۔۔
اور ایمپائر کے طور پہ زاویار کو کھڑا کیا گیا تھا۔۔ جو سب کھینچ کر لائے تھے اسے باہر اس نے پیپر چیک کرنے تھے آج چھٹی تھی وہ اپنا کام جلدی نمٹا دینا چاہتا تھا ۔۔اتنے دنوں سے عبیرہ بھی گھر تھی یونی گئی نہیں نکاح کے بعد ۔۔ آج سامنا ہوا تھا زاویار سے اسکا۔۔ ‘
شجاع کی فرسٹ بیٹنگ تھی بیٹر کی طرح میدان۔میں اترا تھا اور بولر کے طور رانیہ سامنے آئی اس دن کی بےعزتی کے بعد سے رانیہ نے اسکا۔سامنا ہی نہیں کیا فل۔اگنور پہ رکھا۔۔
اس چیونٹی کو تو ایسے ہی مسل دوں گا۔۔ ہے کیا میرے سامنے شجاع نے رانیہ کو دیکھتے بڑے دھڑلے سے کہا۔۔ رانیہ نے کوڑ کر اسے دیکھا اور بال۔کروانے کے لیے ۔۔ تھوڑا پیچھے کھڑی ہوئی بال کو بالر والی۔مہارت سے پکڑے تیزی سے بھاگتے بال دے ماری ۔۔ شجاع نے بلا ہوا میں گھمایا مگر یہ کیا بال بلے کو ٹچ کرتی سیدھا وکٹیں اڑا گئی , بلا ابھی بھی شجاع کا۔ہوا میں تھا وہ شاک سے دیکھ رہا۔تھا وکٹیں زمین بوس ہوئی وی تھی۔۔ اور زاویار نے ایمپائر کی۔ڈیوٹی سر انجام دیتے انگلی کھڑی کی۔۔
رانیہ نے بڑے فخریہ انداز میں شجاع کو دیکھا جو منہ لٹکائے جا رہا تھا۔۔ شاید وہ جانتا نہیں تھا کہ وہ بھی کرکٹ کی۔شوقین ہے اور باؤلنگ اسکا شوق ہے۔۔
مخالف ٹیم کو بھی تالیاں مار کر داد دینی پڑی تھی ۔۔ کیونکہ شجاع بہت اچھا بیٹر ہے ۔۔ جو ایک چھوئی موئی کے آگے ڈھیر ہوگیا۔۔
زین نے رانیہ کو شاباشی دی ۔۔ وہ۔کیپٹین تھا اور اسکی پہلی کامیابی تھی۔۔
رانیہ کو اوور ختم ہوا ۔۔ اشعر بیٹنگ کررہا تھا ۔۔ بیس رنز کی شاندار اننگ کے ساتھ
اب باری عبیرہ کی۔تھی ۔۔ اسے تو بالنگ آتی بھی نہیں تھی اشعر نے اس سے ہی۔تو اسکور بنانے تھے سوچتے اسنے بلا سنبھالا ۔۔
عبیرہ نے اسکی طرف بال پھینکی بال تھی جو بلے کے ساتھ ٹکرانے کے بجائے اسکے ٹانگوں پہ۔چڑھائے پیڈ کے ساتھ جا لگی۔۔ زین نے آؤٹ کا شور مچایا ۔۔
آؤوٹ۔۔
اور زاویار نے انگلی۔کھڑی کردی۔۔ عبیرہ خوشی سے اچھل پڑی تھی۔۔ ییس۔۔
نہیں۔۔ نہیں ۔۔ یہ۔بے ایمانی ہے ۔۔ ہم نہیں مانتے سب نے شور ڈال دیا ۔۔ مخالف ٹیم نے تو شور ڈال۔دیا۔۔
مگر زاویار اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوا اور نا ہی۔کوئی ری ایکشن دیا۔۔
طہٰ عبیرہ کو اپنی ٹیم میں کیوں نہی لیا شجاع غصہ سے دانت پیستے بولا۔۔
اسے کونسا کھیلنا آتا ہے میں نے سوچا ہروا دے گی۔۔ طہٰ بولا۔۔
ہاں ہرا تو ویسے بھی رہی ہے۔۔ ” اشعر بولا سر کھجاتا بولا۔۔
اور یوں عبیرہ کے ہاتھوں مزید دو آؤٹ ناجائز ہوئے ۔۔ اور شجاع کی ٹیم چالیس سکور ہی کر سکی۔۔
چاچو ، چاچی نا خوش کریں فئیر ڈیسیژن دیں ۔۔ ابھی زاویار کی نظروں میں عبیرہ ہی تھی۔۔ جب طہٰ اسکے قریب ہوکر بولا۔۔
تو زاویار نے اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا تو بتیسی نکالتا کھسک گیا۔۔
اب زین اور عبیرہ بیٹنگ کے طور پہ آئے ۔۔ زین نے بھی عبیرہ سے خوب فائدہ اٹھایا اسے جان بوجھ کر پہلے نمبر پہ لایا۔۔
عبیرہ کو طہٰ نے بال کروائی اور پہلی بال۔پہ۔آؤٹ ہوگئی ۔۔ مگر زاویار نے کوئی ری ایکش نا دیا ۔۔ آؤ ٹ دیا ہی نہیں۔۔ وہ چلاتے رہ گِے طہٰ نے تو اپنے بال۔ ہی نوچ لیے تھے۔ ۔ یوں زین نے چالیس کا حدف باآسانی چیز کرلیا اور ۔۔
اور انکے تو میٹر ہی شارٹ کردیے ۔۔
چاچو چاچو نہیں۔رہے اب ہمارے ‘ ہارنے کے بعد طہٰ زور سے چلا۔کر بولا۔۔ جبکہ جیتنے والی ٹیم۔خوشیاں۔منا رہی تھی۔۔
بے ایمانی سے جیتے ہو تم لوگ کھلم کھلا چیٹنگ ۔۔” طہٰ کو کہاں ہار ہضم۔ہو رہی تھی۔۔
شجاع کی نظریں تو رانیہ پہ۔بار بار اٹھ رہی تھیں ۔۔ اس دن کا کافی گلٹ تھا وہ اسے اتنا سنا گیا ۔۔ مگر یہ گلٹ تو اور ہی فیلنگ میں کنورٹ ہو رہا تھا۔۔ اسکی۔چہرے پہ لہراتی زلفوں اسکا دل بھٹک رہا تھا۔۔ پیلے سوٹ میں وہ کھلی۔سی لگ رہی تھی ۔۔اس نے ایک بار بھی شجاع کی جانب دیکھنا گوارا نا کیا۔۔
اور اشعر مرحا کو دیکھ ٹھنڈی آہیں بھر رہا تھا ۔۔ جو چور نظروں سے اسے بھی دیکھ لیتی تھی۔۔
انکی۔تو سیٹنگ ہوئی وی ہے ۔۔ رہ گئے ہم دو بیچارے ۔۔ ” عطا بھی غصہ سے بولتا اندر کی۔جانب بڑھا۔۔
زاویار عبیرہ کی۔ٹیم کو جتوانے کے بعد اپنے کمرے میں چلا آیا تھا ۔۔ نا جانے کیوں وہ اسکے چہرے پہ خوشیاں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ اس لیے صحیح اور غلط کا فرق ہی بھول گیا اسکے سامنے ۔۔ وہ۔بالکونی میں اسے خوشیاں۔مناتے دیکھ رہا تھا ۔۔ ایک مسکراہٹ اسکے چہرے پہ بھی کھلی اسے مسکراتا کھلکھلاتا دیکھ۔۔
بس دو دن ہیں ۔۔ نجانے کیوں تمہیں اپنے ساتھ اپنے پاس دیکھنے کو۔جی چاہتا ہے پتا نہیں کیوں ضروری ہوگئی ہو زندہ رہنے کے لیے۔۔
°°°
بیٹا اگر تمہاری کوئی خواہش ہو تو بتا دو ۔۔، دو دن بعد تم نے رخصت ہوجانا ہے۔۔ ” رخشی عبیرہ سے پیار سے بولی۔۔
مجھے ابھی رخصتی نہیں۔کروانی پلیز۔۔” وہ التجا کررہی تھی۔۔
بیٹا یہ زاویار نےنکاح سے پہلے شرط رکھی تھی ۔۔ اور مجبوراً ہمیں سر خم کرنا پڑا ۔۔ ہم نے سمجھانے کی کوشش کی۔مگر وہ۔نا۔مانا۔۔ اب بات بڑھے گی اس لیے ۔۔
وہ مجبور سی بولی . تو عبیرہ بھی خاموش ہوگئی۔۔
“سزا تو تمہیں ملے گی روز ملے گی” زاویار کی باتیں اسکے دماغ میں۔گردش کرنے لگی۔۔
°°°
باہر بارش ہورہی تھی زاویار بالکونی میں آیا تھا خوشگوار موسم کا لطف اٹھانے ۔۔ مگر عبیرہ کو اکیلے لان میں بارش میں بھیگتا ہوا دیکھ وہ ٹھٹکا۔۔ وہ۔کرسی پہ بیٹھی تھی۔۔ منہ دوسری ساِئیڈ کیے ہوئے تھی۔۔
عبیرہ کو۔بارش میں بھیگنے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔اسے اپنا آپ بوجھ لگ رہا تھا جو کوئی۔اسے بے کار سامان کی طرح ادھر اٹھا کر پھینکتا دوسرا ادھر ۔۔
بارش تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔ عبیرہ کا۔جسم۔سن ہوتا جا رہا تھا ۔۔ سردی سے اس میں ہمت ہی نہیں۔ہو۔پارہی تھی ہلنے کی۔۔
زاویار اسے ایک نظر دیکھنے بعد کمرے میں آ چکا تھا۔۔
مگر عبیرہ کا خیال بار بار آ رہا تھا وہ گھر چلی گئی ہا وہیں بیٹھی ہوگی۔۔ اٹھ کر پھر سے بالکونی میں آگیا۔۔
پاگل۔لڑکی۔۔” وہ۔کرسی سے بے ہوش ہوکر زمین پہ۔گر چکی تھی ۔۔
بارش بھی زور پکڑ چکی تھی۔۔
وہ۔کمرے سے بڑی سی چادر اٹھا کر نیچے دوڑا ۔۔
عبیرہ ۔۔ کاندھے سے پکڑ کر اسے اٹھایا ۔۔ وہ۔بے سدھ سی پڑی اسے کاندھے پہ ڈالا اور گھر کے دروازے کے پاس لے آیا ۔۔ سمجھ نہیں آرہا۔تھا کیا کرے وہ۔مکمل بھیگی ہوئی تھی ۔۔ سردی سے ہونٹ نیلے ۔۔ پڑے ہوئے تھے۔۔ پھر اسے اپنے ساتھ لائی چادر سے ڈھانپا اور اسے اپنی بانہوں میں بھرے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔
بیڈ پہ لاکر اسے لٹایا ۔۔ اسکی۔ہتھیلیاں رگڑنے لگا ۔۔ مگر بے سدھ تھا۔۔ وہ رسپونس نہیں کررہی تھی۔ اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔۔
اسکو چینج کروانا پڑے گا ۔۔ الماری سے اپنی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر نکال لایا۔۔
اب وہ کیسے چینج کروائے ۔۔ آدھی رات کس کو اٹھائے۔۔
وہ اسکا شوہر ہے” پھر لائٹ اوف کردی ۔۔
اسے چینج کروانے کے بعد اب خود چینج کرنے کا ارادہ تھا۔۔ اپنی شرٹ اتار دی۔۔ صرف ٹراؤزر ہی چینج کیا ۔۔ عبیرہ کو ہوش پھر بھی نہیں آ رہا تھا ۔۔ وہ۔ابھی برف کی طرح ٹھنڈی تھی۔۔
پھر کچھ سوچتے اسکے ساتھ لیٹتے اسے خود میں بھینچ لیا تھا اور اسے گرمائش دینی ضروری تھی۔۔ کافی دیر بعد جا کر وہ گرم ہونا شروع ہوئی ۔۔ سانس جو بہت سلو آ رہی تھی وہ بھی نارمل آ رہی تھی ۔۔ زاویار نے شکر کیا تھا وہ۔نارمل ہو رہی تھی۔۔
سائیکو لڑکی پتہ نہیں کیا سوچتی رہتی ہے ۔۔ اب کل۔پتہ نہیں۔کیا ہوگیا ۔۔ جب سب کو پتہ چلے گا عبیرہ رات کو میرے پاس تھی۔۔ اتنی جلدی تھی اسے رخصتی کروانے کی۔۔ ایک دن اور رک جاتی ۔۔ اسے خود میں بھینچے وہ۔اسے دیکھتا ہی سوچ رہا تھا ۔۔ پھر اسکے ماتھے تشنہ لب رکھے ۔۔ اب نظریں بھٹک کر اسکی پنکھڑیوں سے عنابی لبوں پہ جا ٹھہری ۔۔ پھر دل کو ملامت کیا تھا ۔۔ وہ اس کے بے ہوشی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔۔ پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ۔۔ گستاخی کر ہی ڈالی نرمی سے اسکے ہونٹوں پہ۔جھک کر فوراً ہی پیچھے ہوا۔۔ مجھے پاگل کررہی ہے ۔۔’ اپنے منہ زاور جذباتوں کو سلاتا خود بھی سوتا بنا۔۔
°°