No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ملک فیض حقہ لئے لان میں بیٹھے ہیں اور ساتھ ہی انکا چھوٹا بھائی ملک حمید دونوں لان میں بیٹھے ہوئے اپنی زندگی کے آخری حصہ کو انجوائے کرتے ہوئے چیز کھیل رہے ہیں..
بھائی صاحب یہ بے ایمانی ہے.. آپ نے غلط ملکہ اٹھائی ہے..ملک حمید برا سا منہ بناتے بولے..
ہا ہا ہا برخوردار جب ہارنے لگتے ہو تو ایسے ہی کہتے ہو..
ملک فیض اور ملک حمید دو بھائی.. دونوں کی اولادوں کی بھی اولادیں جوان ہیں.. دونوں کے گھر بھی ساتھ ساتھ ہیں.. سارا دن انکا ایک ساتھ گزرتا ہے جیسے دونوں بھائیوں میں پیار ہے ویسے ہی انکی اولادوں میں پیار ہے..
فیض ملک کے تین بیٹے ہیں.. ملک امین احمد اور ملک عمر احمد اور سب سے چھوٹا بیٹا ملک زاویار احمد پروفیسر جو سب ہی سے چھوٹے ہیں مطلب غیر شادی شدہ اور تیس کے قریب اور باقی بڑے بھائیوں کی تو اولادیں بھی جوان ہیں..
اور ملک فیض کے چھوٹے بھائی ملک حمید انکے بھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے.. بیٹا ملک نعمان اور انکی بیٹی حمیرا ملک انکی بھی اولاد جوان ہیں..
یہ دیکھ ان بابیوں کی کھیڈا(کھیل) ہی نہیں مک دیا..ساری دیہاڑی ننگ جاتی ہے..
کچن میں ملک فیض کی دونوں بہوئیں کھڑی کچن کی کھڑکی سے انہیں دیکھ کر آپس میں بڑبڑا رہی تھیں انکی فرمائش پہ پکوڑے تل رہی تھیں..
چل باجی کچھ نہیں ہوتا بوڑھے ہیں کام دھندا ہے نہیں تو یہی کام کرنا ہے دونوں پرا (بھائی) آپس اچ لگے رہتے ہیں تو نا اوکھی ہو.. آمنہ نے کڑاھی سے پکوڑے نکالتے اپنی جٹھانی نغمہ سے کہا..
میں کون سا کچھ کہہ رہی ہوں لگے رہیں..
وہ رخشی کے پاس نہیں جاتے ادھر ہی رہتے ہیں اور سارا دن فرمائشیں کدی(کبھی) چاہ کدی روٹی تے کدی پکوڑے
وہ رخشندہ (ملک حمید کی بہو) کا ذکر کرتی حل بھن کر بولی..
چلیں باجی چھوڑیں اب کیوں اپنا اس رخشی کے مگر پڑ کر اپنا بی پی ہائی کررہی ہیں..
بچے آج دیر سے آئیں گے اور کھانا پینا بھی باہر کریں گے بس اپنے لیے ہی کھانا پکانا ہے.. آمنہ بیگم بولی
ہم کیوں ہم دونوں کے خاوند ہیں یہ دونوں بابے ہیں.. نغمہ بیگم تڑخ کر بولی..
اتنے میں رخشی بیگم بھی آ دھمکی ان میں وہ زیادہ پڑھی لکھی تھی.. اس لیے روب بھی زیادہ جھاڑ تی تھی..
کیا حال ہے لیڈیز ” شوخ سے کپڑے پہنے چنچل سی چال چلتی انکے پاس آئی..
ملک حمید کی بہو ملک نعمان کی بیگم رخشندہ نعمان ملک..
لو آگئی پھپھے کٹنی نغمہ بیگم برا سا منہ بناتے بڑبڑائی..
کیسی ہیں آپا آپ آمنہ بیگم رشتہ میں چھوٹی ہونے کی وجہ سے انہیں آپا کہتی تو چڑ کھا جاتی..
بھئی یہ آپا کیا ہوتا ہے رخشی بولا کرو.. رشتہ میں بڑی سہی ہوں تو تم سے دو سال چھوٹی.. وہ برا سا منہ بناتی بولی..
رخشی آج آپ یہاں کوئی کام تھا ..آمنہ بیگم بولی..
نہیں فری تھی بچے تو ہیں نہیں گھر سوچا آپ لوگوں کے پاس ہی چلی جاتی ہوں گھر کے بزرگ بھی یہیں ہیں.. رخشی نے اتراتے ہوئے کہا اپنے آپ کو ان دونوں سے چھٹے شو کروانے کی اسکی ہوری کوشش ہوتی ہے..
ہاہا.. بچے تو آج اپنے چاچو کو گھیر کر باہر لے گئے ہیں.. آمنہ بیگم ہنستی بولی..
ویسے اپنے دیور کا کہیں رشتہ ہی دیکھ لو.. یا گھر بٹھا کر بڑھا کرنا ہے.. رخشی بولی..
لاکھوں میں ایک ہے ہمارا زاویار ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ ہے اسکےلیے پروفیسر ہے یہاں کی بڑی یونیورسٹی کا مگر وہ شادی کرنے پہ راضی نہیں نغمہ بیگم تڑخ کر جواب دیا..
اچھا اچھا زاویار ہم سب کا اکلوتا دیور ہے ہم سب نے مل کر ڈھونڈنی ہے اسکے لئے کڑی (لڑکی) ..آمنہ بیگم انکو بھڑتا دیکھ بیچ میں آئیں..
ملک فیض ہاؤس اور ملک حمید ہاؤس میں بس ایک دیوار کا فاصلہ ہے دونوں کے لان یکساں ہے بس بیچ میں ایک دیوار حائل ہے.. اسلیے وہ آپس میں ایک فیملی کی طرح بس عورتوں میں یہ کھٹ پٹ معمول ہے..
ملک فیض کے بڑے بیٹے امین اور انکی اہلیہ نغمہ بیگم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے.. بڑا بیٹا چوبیس سالہ شجاع امین دوسرا بائیس سالہ اشعر امین اور سولہ سالہ بیٹی تیکھی مرچی ملیحہ امین..
ملک فیض کے دوسرے بیٹے ملک عمر احمد کے دو جڑواں بیٹے ہیں.. عطا عمر اور طاہا عمر
اور ملک فیض کے تیسرا بیٹا ملک زاویار احمد چھڑے ہیں..
ملک حمید کے بڑے بیٹے ملک نعمان اور انکی اہلیہ رخشندہ نعمان انکے دو بچے ہیں بڑا بیٹا جو زین نعمان اور بیس سالہ چھوٹی بیٹی مرحا نعمان اور انکے ساتھ انکی کزن یعنی خالہ جی بیٹی عبیرا فیصل رخشندہ کی بہن کی بیٹی انکی بہن عبیرا کے آٹھ سال کے ہوتے ہی چل بسی تھی اور باپ نے دوسری شادی کرلی یوں پھر عبیرہ کو بھی رخشی نے ہی پالا اکیس سالہ عبیرہ بہت خاموش مزاج لڑکی تھی.. مگر سب کزن اسکا دل لگائے رکھتے تھے.. اسے پرایا محسوس ہونے نہی. دیتے تھے.. مگر اسے لگتا شاید سب اسکے ساتھ ہمدردی کررہے ہیں
یہ تھے دو ملک ہاؤس اور انکے رہائشی ..
اب آتے ہیں بچا پارٹی کی طرف
شام کا سائے رات میں ڈھل رہے تھے سورج کو غروب ہوتے عبیرہ نے بڑی ددلچسپی سے دیکھا.. سب جھیل کنارے ہلا گلا کررہے تھے مگر وہ ہی تھی بس خاموشی سے کنارے لگی بیٹھی تھی.. سب سے الگ تھلک رہنے والی..
وہ لوگ فٹ بال سے کھیل رہے تھے.. دو ٹیمیں بنائ ہوئی تھی انہوں نے.. شجاع. عطا. اور ملیحہ ایک ٹیم میں تھے دوسری سائیڈ زین. طاہا اور اشعر اور مرحا تھے..
خوب ہلا گلا کررہے تھے..
زاویار امپائر کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا.. اور اپنی مرضی کے فیصلہ دے رہا تھا..
چاچو یار کہاں دھیان ہے آپکا اسکا گول نہیں ہوا.. شجاع بولا تھا..
بس کردو چلو کھانا کھائیں..
نہی ہم نے کھیلنا ہے.. ملیحہ جو سب میں چھوٹی تھی بولی..
مرچی صبح سکول بھی جانا ہے.. زاویار نے اسکے کان کھینچنے..
چلتا ہوا عبیرہ کے پاس جا بیٹھا..
ہیلو میڈم تم کیا یہاں پتھر بنی بیٹھی ہو.. زاویار اسکے پاس بیٹھا تو گھبرا کر بولی..
حج.. جی..
کیا ڈر کیوں رہی ہو” زاویار اسے دیکھتا بولا..
نن..نہیں.. تو ڈری نہیں بس چونک گئی..
یار چاچو آپ جیسے جلاد کو دیکھ کر کوئی بھی لڑکی ڈر جائے وہ تو پھر بچاری معصوم سی ہے.. عطا انکے پاس آتا شرارتی لہجہ میں بولا..
زاویار لمبا چوڑا کسرتی جسامت کا مالک تھا.. ہلکی بڑھی ہوئی بئیرڈ تیکھے نین نقش.. ماتھے پہ بکھرے سیاہ بال وہ بہت پرکشش شخصیت کا مالک تھا..
اچھا اور تو چلغوزے کے چھلکے خود کیا ہے..
چاچو بھوک لگی ہے ملیحہ نے آواز دی چلو پھر سامنے ہوٹل پہ سب زاویار نے پتھر سے چھلانگ مار کر اتر گیا.. اور سب ہی ہوٹل کی جانب بڑھنے لگے.. مگر عبیرہ ابھی بھی اس بڑے سے پتھر پہ بیٹھی تھی جیسے تیسے کر کے وہ چڑھ گئی تھی مگر اب اترنا محال تھا اسکے لئے.. ڈر رہی تھی ایک طرف پانی ہے تو دوسری طرف پتھر وہ کیا ڈر کے مارے اس سے بولا بھی نا گیا کہ اترنا ہے.. سب آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہر طرف تاریکی چھا رہی تھی ہمت کرتی چھلانگ لگائی کہ پانی میں جا گرتی اگر زاویار بروقت اسکا ہاتھ نا تھام لیتا.. زوردار چیخ مارتے اس نے زور سے آنکھیں بند کرلیں تھی.. مگر اپنا ہاتھ کسی کی گرفت میں آتے بچ جانے کی امید در آئی.. سامنے اپنے بچانے والے محسن کو آنکھ کھول کر دیکھنا چاہا جو شاید یہیں تھا اور اسے پوری قوت سے اونچائی کی جانب کھینچ رہا تھا.. اس نے بھی ہمت کرتے اوپر آنے کی کوشش کی اور زاویار اسے کھینچنے میں کامیاب ہوا تھا..
عبیرہ زمین پہ آتے ہی زاویار کے سینے سے لگی تھی.. ہلکا ہلکا سا کانپ رہی تھی..
عبیرہ تم ٹھیک ہو اسے خود سے نرمی سے الگ کرتے نرمی سے اسکے چہرے کو دیکھتے پوچھا..
حج.. جی زاویار چاچو تھینکس آپ نے بچا لیا اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو” انتہائی معصومانہ انداز تھا..ییلو لانگ فراک پہنے ہم رنگ شفون کا دوپٹہ لئے بالوں کو کھلا چھوڑے موٹی جھیل سی آنکھیں باریک ستواں ناک گلابی ہونٹ ..چہرے پہ بے انتہا معصومیت سجائے ہوئے..
زاویار مسکرایا..
چلو اسکا ہاتھ تھامے وہ آگے بڑھا..
ہوٹل پہ پہنچتے ہی سب اپنی نشست سنبھالے بیٹھے تھے انتظار تھا تو بس ان دونوں کا..
وہ بھی اسکے پیچھے چل دی..
زاویار سب کے ساتھ ہوٹل کی جانب بڑھ رہا تھا ..
وہ دونوں بھی وہاں پہنچے.. زاویار کے ساتھ چلتے ہوئے اسکا رنگ فق تھا چہرے پہ گھبراہٹ..
اسے کیا ہوا” مرحا بولی..
زاویار نے کرسی کھینچنے اسے بٹھایا..
تمہاری کزن کو تیرنے کا شوق ہے پانی میں کودنے والی تھی.. زاویار مسکراتا اسکی برابر والی نشست سنبھالی..
تیرنے لگی تھی یا خود کشی کرنے والی تھی”.. ملیحہ اپنا چشمہ درست کرتی بولی..
محترمہ گرنے والی تھی.. ” زاویار بولا..
عبیرہ یار کیا کرتی ہو تمہیں کچھ ہوجاتا نا تو ماما نے مجھے نہیں چھوڑنا تھا.. شجاع بولا..
وہ بس خاموشی سے سر جھکائی بیٹھی رہی..
تھوڑی دیر بعد ویٹر نے کھانا لگانا شروع کردیا..
اتنا سارا کھانا یہ بل کون بھرے گا.. طرح طرح کے کھانے ٹیبل پہ دیکھ زاویار تو بول اٹھا..
چاچو..
چاچو..
چاچو..
سب نے یک زبان ہوکر سدا لگائ..
دیکھو یہ بہت زیادہ ہے ہاں. ” زاویار سیریس انداز میں بولا..
پروفیسر چاچو.. چھڑے چھانٹ ہو آپکا کونسا خرچہ ہے اتنی زیادہ تنخواہ ہے آپکی ہم پہ خرچ نہیں کریں گے تو اور کس پہ کریں گی.. طہٰ نے سب کو دیکھتے کہا..
کونسا گھر والی آئی ہے ابھی تب تک تو ہم پہ نوازش کردیں ..شجاع بریانی کا چمچ منہ ڈالتا ہوا بولا..
زاویار تو بس انکی باتیں منہ کھولے سنے جا رہا تھا..
تمہاری عمر بھی تو شادی کی ہے جو مجھے باتیں سنا رہے ہو.. شجاع کی بات کا جواب دیتے زاویار بولا..
ابھی میری عمر ہی کیا ہے بھلا.. زین کو شوق ہے شادی کا.. زین چپ چاپ بریانی کے ساتھ انصاف کررہا تھا جب شجاع نے اسکا ذکر کیا تو وہ بھی بول اٹھا..
“پہلے زاویار برو کی شادی ہوگی پھر میری ان سے پہلے شادی نہی. کروں گا میں.. “
گائز یہ کیا فضول سا ٹاپک لیکر بیٹھ گئے ہو تم لوگ چپ چاپ کھانا کھاؤ.. پھر گھر.. ” زاویار نے آواز لگاتے سب کو خاموش کروایا..
آئسکریم کے بعد گھر ” ملیحہ جلدی سے بولی..
مرچی چپ نہی. رہ سکتی تم” زاویار نے اسے آنکھیں دکھائی.. تو اسنے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے دانتوں کی نمائش کی..
کھانے کے بعد سب کو آئسکریم کھلانی پڑی زاویار کو اور پھر سب گھر کو چل دیے..
زاویار کی گاڑی میں ملیحہ مرحا اور عبیرہ بیٹھی تھیں باقی لڑکے اپنی بائیک پہ تھا طاہا اور عطا اپنی بائیک پہ دوسری شجاع اور اشعر اور انکے ساتھ زین الگ بائیک پہ فل سپیڈ پہ وہ بائیک کو اڑاتے لے جا رہے تھے..
ابے آہستہ چلاؤ گر جاؤ گے.. ” زاویار گاڑی میں بیٹھا چلاکر بولا تھا مگر وہ کہاں سننے والے انکی گاڑی کے آگے پیچھے فل سپیڈ میں بائیک دوڑاتے جا رہے اور باقاعدہ ساتھ ہوٹنگ بھی کررہے تھے.. نون سینس زاویار غصہ سے بولا تب ہی نظر سامنے بیک ویو مرر پہ اٹھی جہاں عبیرہ کا چہرہ دکھائی دیا جو بہت ہی گم سی کھڑکی کیساتھ لگی بیٹھی باہر کے خوبصورت پہاڑوں کے نظارے دیکھ رہی تھی..
جبکہ ملیحہ اور مرحا آپس میں کٹر پٹر لگی ہوئی تھی..
گھر میں وہ سب ایک ساتھ انٹر ہوئے تھے..
زاویار تیزی سے غصہ سے باہر نکلا ان کو سبق سکھائے اس سے پہلے کو وہ ان تک پہنچتا وہ پانچوں اندر کی طرف بھاگے..
اندر ملک فیض اپنی کرسی پہ براجمان بیٹھے تھے..حقہ کا کش لے رہے تھے..
دادا جی دادا جی..
او کی ہوگیا پتر ..دادا جی اپنی بھاری آواز میں بولے
انکی آواز پہ آمنہ اور نغمہ بیگم باہر آئی..
آئے ہائے میرے بچے ” نغمہ بیگم بولتی ہوئی آئی..
تم لوگ مجھ سے بچ کر دکھاؤ زاویار مکا بناتا انکی طرف بڑھا..
زین اپنے دادا کی طرف بڑھا اور شجاع اور اشعر اپنی ماں نغمہ کے پیچھے چھپے.. اور طہٰ اور عطا اپنی ماں آمنہ کی پیچھے پناہ لی..
اماں جی بچا لے آخری بار.. شجاع اور اشعر بولے..
ماما لاسٹ ہے نیکسٹ نہیں ہوگا.. طہٰ اور عطا بولے.. اپنی کا دیکھتے بولے..
ملیحہ عبیرہ اور مرحا بھی اندر آئی..
کیا ہوگیا ہے زاویار کیوں ہوگیا ہے کیوں بچوں پہ غصہ کررہے ہو.. امین صاحب بھی وہاں آئے..
ابا جی بھائی جان یہ لوگ اتنی تیز بائیک چلا کر آئے ہیں اتنے خطرناک راستہ ہیں یہاں اتنی تیز بائیک نہیں چلاتے
اور ساتھ آوارہ لڑکوں کی طرح شور اور سیٹیاں بجا رہے تھے..
یہ کوئی بات نا ہوئی بچوں تم لوگ ایسی حرکتیں کرو.. ” امین صاحب ابا جی کے پاس بیٹھتے بولے..
او کوئی گل نئی چڑ دی جوانی ہے جوش تو آئے گا.. ابا جی ہمیشہ کی طرح پوتوں کی سائیڈ لے گئے..
ابا جی سہی کہہ رہے ہیں نغمہ اپنے بیٹوں کر پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے بولی..
مگر آپا زاویار ٹھیک کہہ رہا ہے.. آمنہ اپنے بچوں کو غصہ سے گھورتی بولی..
چلو تم سب لوگ جاؤ اپنے کمروں میں.. آمین صاحب بولے.. عبیرہ نے سب بڑوں سے پیار لیا..
وہ پھر سے شور کرتے کمروں میں بھاگے
ماشاللہ بہت ہی نیک بچی ہے.. ابا جی بولے تھے امین صاحب مسکرائے.. زاویار کی نظر عبیرہ پہ گئی جو آمنہ اور نغمہ کے درمیان کھڑی مسکرا رہی تھی..
زاویار ایک نگاہ ڈالتا ابا جی کے ساتھ بیٹھ گیا..
زین بچے جاؤ شاباش آئندہ ایسی غلطی نا کرنا.. زین کو کہا جو ابا جی کے پہلو میں بیٹھا تھا.. دادا جی میری غلطی نہیں اشعر ہی تیز چلا رہا تھا بائیک.. زین معصوم بنتے بولا..
چلو عبی اور مرحہ چلو گھر.. زین نے آواز دی تو عبیرہ اسکے پیچھے ہولی اور وہ تینوں لان سے اپنے گھر میں انٹر ہوئے..
ابا جی خوامخواہ انہیں اتنا سر نا چڑھائے اتنی بڑے گدھے ہوگئے اور ڈنگروں جیسی حرکتیں ہیں انکی..
او پتر مکھن بیٹا تو بھی بڑا ہی اپنے ویاہ دا سوچ تو ..ابا جی بولے..
امین صاحب ہنسے..
نغمہ بیگم اور آمنہ بیگم بھی آگے آئیں..
ایک تو آپ لوگوں کو پتا نہیں کیوں میرے ویاہ دی فکر ہر ویلے پڑی رہتی ہے.. میں تنگ آ گیا ہوں.. خوش ہوں میں اپنی زندگی میں.. وہ کہتا وہاں سے کچن میں چلا گیا اپنے لیے کافی بنانے..
تو سب کو ہنسی آئی پیچھے سے..
او تو شادی کرالے گا تے تینوں کافی بنا کے دینے والی آجائے گی کلا چمچے کھڑکاتا پھرتا ہے.. آمین صاحب نے آواز لگائی.. پیچھے سے جو زاویار کے کانو میں پڑی..
میں کلا ای کافی آ” وہ بھی اسی وقت بول پڑا..
نا تنگ کریں بچے کو رات بہت ہوگئی سوئے آپ لوگ بھی..
نغمہ اور آمنہ بیگم چل دی..
زاویار اپنے لیے کافی بنا کر کمرے میں آیا تھا کافی کا تھامے وہ بالکنی میں آیا تھا.. باہر چلتی ٹھنڈی ہوا بہت اچھی لگ رہی تھی چاند آب و تاب سے چمک رہا تھا کافی کا سیپ لیتا وہ مڑا تو برابر والے گھر کی بالکنی میں عبیرہ کھڑی تھی.. وہ ہاتھ میں مگ تھامے چاند کو دیکھ رہی تھی چاندنی روشنی میں اسکا چہرہ دمکتا ہوا دکھائی دیا ایک پل کیلئے وہ مہبت سا ہوگیا اگلے ہی سر جھٹکتے سامنے دیکھ نے لگا کچھ پل بعد پھر سر گھمایا تو بالکنی خالی تھی..
عبیرہ کی نظر زاویار پہ پڑی تو جلدی سے کمرے میں گئی..
مرحا تو بستر پہ لیٹ چکی تھی سونے کے لئے..
عبی یار سوجاؤ صبح پروفیسر صاحب سر پہ کھڑے ہوں گے یونی بھی نہیں لے کر جائیں گے اگر تیار نا ہوئے تو..
اچھا بس میں یہ چائے ختم کرو.. عبیرہ اپنے بستر پہ آکر بیٹھ گئی..
عابی جلدی جلدی کرو چاچو ویٹ کررہے ہیں باہر..
زاویار ہارن ہارن دیے جا رہا تھا..
مرحا عبیرہ سے بولی جو جلدی جلدی بکس اٹھا رہی تھی..
پتا نہیں انہیں جلدی کس بات کی ہوتی ہے.. عبیرہ منہ میں بڑبڑاتے باہر نکلیں..
مرحا فرنٹ سیٹ پہ اسکے ساتھ بیٹھی اور عبیرہ پیچھے..
کتنا بار کہا ہے ٹائم پہ تیار ہوا کر و.. تم لوگوں کی وجہ سے لیٹ ہوجاتا ہوں.. غصہ میں کہتے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی
” ایم سوری چاچو.. یہ عبیرہ ہی دیر کروا دیتی ہے”.. مرحا نے سارا الزام عبیرہ کے سر ڈال دیا..
میں کب کے تم نہیں اٹھتی ہو جلدی” عبیرہ نے صدمہ سے کہا تھا..
بس .. کل اگر ایک منٹ بھی دیر کی نا تو چھوڑ کر چلا جاؤں گا.. انگلی سے اشارہ کرتے انہیں وارن کیا..
تو دونوں چپ ہوگئی..
عبیرہ نے ونڈو کی طرف منہ موڑ لیا مرحا کی اچھی طرح خبر لینے کا ارادہ کیا..
زاویار کی نظر بیک ویو مرر سے عبیرہ پہ گئی ..جو باہر کے نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی..
سائیکو پتہ نہیں کیا سوچتی رہتی ہے” اسے باہر کھویا ہوا دیکھ وہ منہ میں بڑبڑایا..
کچھ ہی دیر میں وہ یونیورسٹی پہنچ گئے..
مرحا اپنی کلاس کی طرف بھاگی..
جبکہ عبیرہ اور زاویار کو ایک ہی کلاس میں جانا تھا..
یہ بکس لے کر جاؤ کلاس میں گاڑی لاک کرکے آیا..
اپنی بکس عبیرہ کے حوالے کردی..
وہ کلاس کی طرف چل پڑی..
وہ گاڑی لاک کرکے لمبے لمبے ڈگ بھرتا عبیرہ کے برابر پہنچ گیا اور دونوں ایک ساتھ کلاس میں انٹر ہوئے..
سب اسٹوڈنٹس کلاس میں موجود تھے..
گڈ مارننگ سر..
زاویار کو دیکھتے سب نے کہا .
عبیرہ نے زاویار کی بکس اسکے ڈیسک پہ رکھی اور سامنے والی چیئر پہ بیٹھ گئی جو اسکی. مخصوص تھی..
گڈمارننگ.. ہیو آ سیٹ..
وائٹ شرٹ بلیک ویسکوٹ پہنے اور ساتھ بلیک ہی پینٹ پہنے چھہ فٹ سے نکلتا قد.. چوڑی جسامت تیکھے نین نقش.. چھوٹی آنکھیں.. سیاہ گھنے بالوں کو طریقہ سے سیٹ کئے..اپنی تمام تر مردانہ وجاہت لئے وہ بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا..
لڑکیاں تو اسے دیکھتے ہی مر مٹ جاتی تھی مگر وہ کسی کا گھاس نا ڈالتا..
تیس سالہ ملک زاویار احمد اس یونیورسٹی کا خوبصورت پروفیسر مانا جاتا تھا..
ہئے عبیرہ ہاؤ لکی تم انکے ساتھ رہتی ہو.. ہی از سو ہینڈسم مین” اسکے ساتھ بیٹھی اسکے کلاس فیلو نے کہا..
جی نہیں میں اپنے گھر میں رہتی ہوں.. ” انکا برابر والا گھر ہے.. ” عبیرہ نے چڑ کر کہا پتا نہیں اب ایسا بھی کیا ہے ان میں جو مری ہوئی ہیں ” آخری بات اس نے بس وہ سوچ سکی..
تو ایک ہی بات ہوئی نا” دوسری لڑکی نے کہا تو سب لڑکیاں ہنس دی..
تمہارے پاس نمبر تو ہوگا سر زاویار کا پلیز مجھے چاہئے.. ” ایک اور لڑکی نے سدا لگائ جو حلیہ سے کافی ماڈرن تھی..
آئی تھنک وہ ہمارے استاد ہیں اور انکا احترام کرنا فرض ہے ہم پر.. یہ چیپ حرکتوں کو وہ بلکل بھی پسند نہیں کرتے.. ” عبیرہ نے کتابیں سمیٹ کر بیگ میں ڈالی اور چلتی بنی..
عبیرہ کو باہر نکلتے ہی مرحا نظر آئی..
دو منٹ میں اسکے سر پہنچی..
مرحا کی بچی..” اسکی کمر پہ ہاتھ میں پکڑی بکس جڑ دی..
ہائے ظالم کمر توڑ دی.. ” مرحا نے کمر پہ ہاتھ رکھتے دہائی دی..
تو تمہارے کرتوت ہی ایسے ہیں.. کیوں جھوٹ بولا سر سے تم نے” عبیرہ غصہ سے بولی..
ارے بھئی میں چاچو کے ساتھ بیٹھی تھی اور تم انکی پہنچ سے دور تھی اس لئے خود کو بچانے کے لئے کہا.. “
ہاں مجھے نکما ثابت کرو گی.. وہ موڈ بناتی بیٹھ گئی اسکے ساتھ..
