No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
ابا جی آپکو پتہ بھی آپ کیا کہہ رہے ہیں پوری دنیا میں آ جا کر آپ کو وہی ایک لڑکی ملی تھی میرے لیے۔۔
غالباً وہ چلا ہی۔اٹھا تھا۔۔
اوئے چھوٹے ملک تمہارا گھر بس جائے گا اب اس میں میرا تو کوِئی فائدہ نہیں سب تمہارے لیے ہی کیا ہے یہ سب میں نے” اور ویسے بھی اس بچی کا۔۔
ابا گھر میں۔اتنے اور لڑکے بھی موجود ہیں جو اسکے ہم۔عمر بھی آپ۔فیصلہ سناتے میں۔دیکھتا کون۔کرتا مخالفت۔۔
تو فیصلہ۔کر تو دیا آپ بھی تو کرتے۔ہو۔مخالفت ۔۔
بس ابا جی ” میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گا،، آپ کو اپنا فیصلہ واپس۔لینا ہوگا ۔۔ “
وہ۔تن فن۔کرتا وہاں سے نکل گیا اور باہر جا کر لان میں کرسی پہ۔بیٹھ گیا ٹانگ۔ٹانگ چڑھائے ایک پیر کو ہلا رہا تھا ۔۔ غصہ ابھی بھی سوا نیزے پہ تھا ۔۔ بہت مشکل۔سے کنٹرول کیے بیٹھا تھا۔۔
یہ کیا تماشہ لگایا ہوا ہے تم لوگوں نے نغمہ شجاع سے بولی جو کچن میں آیا تھا ۔۔وہ۔کب سے ان سب کی حرکتیں۔دیکھ رہی تھی۔۔
آپ لوگوں نے تماشہ لگایا ہے پہلے میرا پھر چاچو کا” انکا جواب انہیں ہی واپس لوٹا دیا۔۔
کیا مطلب ہے تیرا کونسا تماشہ ہاں۔۔وہ شجاع کے سامنے آتے بولی۔۔
میں رانیہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔اگر آج عبیرہ کی بات چل۔رہی تھی تو آپ رانیہ کے بجائے عبیرہ کے لیے ہاں کردیتی ۔۔”
شجاع تمہاری پہلے سے بات پکی تھی۔۔ وہ۔غصہ۔سے بولی۔۔اور پھر کہا۔۔ کیا کمی ہے رانیہ میں۔۔جو عبیرہ کے لیے ہاں کردیتی ۔۔
دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے کہاں وہ گاوٴں کی جاہل لڑکی اور کہاں یہ پڑھی لکھی عبیرہ۔۔” شجاع اپنی ماں کو طیش دلا گیا۔۔
وہ تو پھر بارہویں پاس ہے پھر تو تیری ماں بھی جاہل جو ان پڑھ ہے ” کھسماں نو کھانا انہوں نے تو جوتی اتار لی ۔۔شجاع تو اپنی جان بچا کر باہر بھاگا۔۔
کہاں گئے ” زاویار کو تن فن کرتے باہر جاتے دیکھ شجاع بولا ۔۔
اب آگے کیا کرنا ہے عطا بولا طہٰ اور شجاع سے” اشعر گلے میں گٹار ڈالے سیڑھیوں سے اترتا انکے پاس آیا ۔۔
ابے میراثی اسے کیوں اٹھا لایا۔۔” طہٰ گٹار کو دیکھ بولا۔۔
میں نے سوچا کیوں نا چاچو کے دل کے تار چھیڑے جائیں گٹار کی تاروں کو چھڑتا ہوا اشعر بولا۔۔
ہہم گڈ آئیڈیا ” وہ باہر لان میں ہی گئے ہیں چلو پھر ۔۔” عطا بولا اور وہ۔چاروں باہر کی جانب چل دیے۔۔
زاویار لان میں ہی بیٹھا ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ۔۔ براوٴن کلر ٹی شرٹ پہنے ساتھ ٹراوزر پہنے ۔۔ہاتھوں کی مٹھی بنانے سے ہاف سلیو ٹی شرٹ سے نظر آتے بازو کے مسلز مزید پھولے ہوئے لگ رہے تھے۔۔ کوئی فلمی ہیرو ہی۔لگ رہا تھا۔۔
تینوں نے زاویار کی کرسی گھیرا۔۔ اشعر سامنے آیا اور گٹار سے بہت ہی خوبصورت دھن بجانے لگا۔۔ اشعر ماہر تھا گٹار بجانے میں اور ساتھ سنگنگ کا بھی شوق تھا۔۔
لان کے اس پار بیٹھی مرحا اور رانیہ شزا عبیرہ گٹار کی سنتے ہی مسمرائز ہوئیں ۔۔
یہ اشعر ہے” چلو چلتے ہیں ” عبیرہ بولی تو تینوں بھی ہاں کہتی چل پڑی لان کا دروازہ پار کرتی ہوِیئ انکے سامنے آئیں۔۔
اشعر نے گانا شروع کیا۔۔ گٹار کی دھن بجاتا گانے کے الفاظ دھیرے سے اسٹارٹ کیے۔۔
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا ۔۔
دھیرے دھیرے سے دل کو چرانا۔۔
وہ چاروں سامنے کھڑی تھی انکے درمیان میں کھڑی عبیرہ پہ سب کی نظریں جمی ۔۔ جو اشعر کے ساتھ ہی ہلکی آواز میں گنگنائی۔۔ اشعر پھر سے گٹار کی دھن بجاتے گانے لگا مگر اسکی نظر کا مرکز مرحا تھی۔۔ ییلو فراک پہنے گول کتابی مسکراتا چہرہ جھیل سی آنکھوں میں وہ کھویا سا خوبصورت سر بکھیرنے لگا۔۔
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا ۔۔
دھیرے دھیرے سے دل کو چرانا
۔۔ زاویار کی نظریں سامنے کھڑی عبیرہ پہ جا ٹھہری آج سے پہلے کبھی بھی اسنے اسکا جائزہ نہیں لیا تھا ۔۔ اوف وائٹ فراک پہنے سیاہ سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے مسکراتے ہلتے لب کاجل سے بھرے نین باریک ستواں ناک اس میں چمکتی ایک نگ والی نوز پن چہرے پہ۔انتہا کی۔معصومیت۔۔ ایک منٹ میں ہی سر تا پیر اسکا جائزہ لے گیا پھر نظرین سامنے جما لی ۔۔
تم سے پیار ہمیں ہے کتنا جان جاناں ۔۔
تم سے مل۔کر تم کو ہے بتانا۔۔
شجاع اشعر کے سروں میں مستفید ہو رہا تھا جب رانیہ پہ۔نظریں جا ٹھہری۔۔ بلیک کلر گول دامن قمیض پہنے ساتھ گھیر والی شلوار ہم شفون دوپٹہ گلے میں ڈالے ۔۔براؤن لمبے گھنے بالوں کو کھلا چھوڑے آدھے آگے اور باقی سارے پیچھے ۔۔ بارک ناک میں ڈالی تار والی چھوٹی سی نتھلی سے اسکا صاف شفاف فیس بہت جچ رہا تھا۔۔رانیہ کی نظر اس پہ اٹھی تو اسنے فٹ سے نظریں چراِلی۔۔
جب سے تجھے دیکھا دل کو کہیں آرام نہیں۔۔
میرے ہاتھوں پہ اک۔تیرا سوا کوئی نام نہیں۔۔
اپنا بھی حال۔تمہارے جیسا ہے ساجن۔۔
بس یاد تجھے کرتے ہیں اور کام نہیں ۔۔
بن گیا ہوں تیرا دیوانہ ۔۔
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا۔۔
اشعر نے گٹار کی خوبصورت دھن بہت دلکش آواز گانا گا رہا تھا سب ہی مسمرائز ہوئے تھے ۔۔ خاص کر عبیرہ اسکا فیورٹ سانگ تھا۔۔
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا ۔۔
دھیرے دھیرے سے دل۔کو چرانا۔۔
اشعر کے گانا ختم کرتے سب نے تالیاں بجا کر اسکو داد دی۔۔
واہ بھائی صاب کمال کردیا ۔۔ واقعی دل کے تار چھیڑ دیے پر افسوس کے ہم سنگل ہیں یہ بات اس نے مصنوعی آنسوں صاف کرتے کی۔۔مگر جسے موقع مل رہا ہے ۔۔ اسکے تو نخرے ہی آسمان پہ ہے۔۔ آخری بات زاویار کے کاندھے پہ رکھتے کی۔۔
زاویار طہٰ کا ہاتھ جھٹکتا کرسی سے اٹھا تھا ۔۔عبیرہ کے پاس سے گزرتے وہ تیزی سے اندر چلا گیا۔۔
بہت خوب اشعر ۔۔مجھے سکھنا ہے گٹار ۔۔ رانیہ اشعر کے پاس آتی بولی۔۔
جی بھابھی شور ویسے آپکے وہ بھی بجا لیتے گٹار ۔۔
بہتر ہیں آپ ان۔سے سیکھے ۔میں اپنی والی کو سکھاؤں گا مرحا کو نظر کے حصار میں لیتے کہا تو ۔۔ وہ ایک منٹ بھی رکے بنا گھر کی طرف چل دی۔۔
اشعر نے ایک نظر شجاع کو دیکھا پھر رانیہ کو دیکھ مسکراتے بولا تو وہ۔جھینپ گئی اپنے لمبے بالوں کو کان کے پیچھے کیے۔۔
شجاع دیکھ تو ادھر ادھر رہا تھا مگر کان ان پہ ہی دھرے تھے۔۔ ایک تنقیدی نگاہ رانیہ پہ ڈالتا گھر کی طرف بڑھ گیا
عبیرہ اپنے گھر کی۔جانب بڑھنے لگی تو طہٰ نے پیچھے سے آواز دی۔۔
عبیرہ چاچی۔۔
عبیرہ۔فوراً مڑی کیا کہا۔۔
ّوہ عبیرہ چاچی تمہیں بلا رہی ہیں شاید ۔۔ وہ دانتوں۔کی۔نماِش کرتا بولا۔۔
اس وقت۔۔ وہ۔سوِئی نہیں۔۔”
تم جاؤعبیرہ تنگ کررہا ہے تمہیں ۔۔عطا اسکے کاندھے پہ۔ہاتھ رکھتا بولا
اب طہٰ اور عطا اور اشعر ہی۔لان میں تھے۔۔
تیری چونچ بند نہیں۔رہ۔سکتی کیا۔۔عطا نے اسے لتاڑا۔۔
ِیار میں بس ویسے دیکھ رہا تھا کہ چاچی کہنے میں کیا فیلنگز آتی ہیں ۔۔آخر ہم۔اب انکا نام تو نہیں لے سکتے نا چاچو برا مان جائیں گے۔۔
چاچو تو مانیں پہلے ” اشعر اسکے سر پہ چت لگاتا بولا۔۔
کوِئی مانے نا مانے نمرہ تو مانے گی” طہٰ دونوں ہاتھ کھڑے کرتے انگڑائی لیتے بولا۔۔
اب یہ نمرہ کون ہے” عطا اور اشعر ایک ساتھ بولے۔۔
ہماری نئی پڑوسن” وہ بتیسی دکھاتا بولا۔۔
اوئے عاشقی ٹو کے ہیرو سدھر جا ” اگر تیرے پاپا کو پتا لگ گیا نا تو تیری خیر نہیں۔۔اشعر نے اسے وارن کرنا چاہا۔۔
اتنا سیدھا نہیں ہے تو یہ گانا تو نے چاچو کے لیے نہیں مرحا کے لیے گایا۔ دیکھ رہا تھا میں کیسے اسے تاڑ رہا تھا گاتے ہوئے۔” اسکے گٹار کی۔تاریں چھیڑتا بولا۔۔
ہاں تو اچھی لگنے لگی ہے “محبت ہونے لگی ہے اس سے ” تیری طرح نہیں کے ہر پندرہ دن نئی محبت ہوجاتی ہے۔۔اسی کا جواب اسے لوٹایا
اس بار تو سچی محبت ہوِئی ہے ۔۔”
یار پھر کب مل وا رہا ہے بھابھی جی کو۔ہم سے۔۔” عطا کےو شرارت سوجھی ۔۔
ہہم کل ہی شام کو کوچنگ سے گھر آتی ہے روز میں گیٹ کے باہر کھڑا ہوتا ہوں اور مجھے دیکھتے ہی شرما کر گھر میں گھس جاتی ہے۔۔ طہٰ خوشی سے چہکتا بولا جیسے کوئی میدان مار لیا ہو۔۔
چل پھر کل۔دیکھیں گے۔۔عطا کھڑے ہوتا بولا۔۔
کیا کرنے ہے والا ہے تو اشعر عطا کے قریب ہوتے بولا۔۔
“کل دیکھ لی” عطا اشعر سے بولا۔۔ اور وہ کمرے کی جانب چل۔دیے۔۔
°°°°
اگلے دن گھر میں سب لوگ ایک جگہ موجود تھے عبیرہ کو بلوایا گیا۔۔
حال میں گھر کے تمام لوگ ہی موجود تھے ۔۔ ملک حمید ۔۔ملک نعمان انکی اہلیہ رخشندہ بیگم زین مرحا ۔۔ساتھ حمیرا پھپھو اور رانیہ اور شزا بھی موجود تھی۔۔
عبیرہ ملک حمید کے سامنے بیٹھی تھی پنک پرنٹڈ سوٹ پہنتے ساتھ شفون کا دوپٹہ سر پہ ٹکائے۔۔
عبیرہ بیٹا تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔ملک حمید نے بات کا آغاز کیا۔۔
جی دادا جی ” بولیں ۔۔
بیٹا تمہاری خالہ دو دن سے پریشان ہے ۔۔ تمہیں لیکر ۔کیونکہ تمہارے والد تمہیں لینے کے لیے آ رہے ہیں ۔۔
کیا مگر دادا جی کیوں۔۔ اب کیوں انہیں میرا خیال آ گیا ۔۔میں کسی صورت نہیں جاوں گی ان کے ساتھ ۔۔وہ کرب سے بولی تھی پرانی یادیں تازہ ہونے لگی تھی۔۔
ہم جانتے ہیں بیٹا جی اس لیے تمہیں ہم مضبوط رشتہ میں باندھ کر انکا اختیار ختم کر دینا چاہتے ہیں ۔۔ملک نعمان تحمل سے بولے تھے۔۔
جی؟؟ اسے سمجھ نہیں آئی تھی۔۔
مطلب یہ کہ تمہارا رشتہ پکا کردیا گیا ہے اور ایک دو دن میں نکاح کردیں گے تمہارا ۔۔ اگر تم رضا مندی ہو تو ۔۔
بیٹا سب کچھ تمہاری مرضی سے ہوگا تم۔چاہو تو انکار کر سکتی ۔۔حمیرا پھپھو نے نہایت نرمی ست سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
کل زاویار کے ساتھ تمہارے رشتہ کی بات پکی ہوگئ ہے یہ سب بڑوں کا فیصلہ تھا باقی اور بھی لڑکے تھے گھر کے مگر ابھی وہ یہ ذمہ داری نبھانے کے قابل نہیں ہوئے اور تمہارے لیے مضبوط سہارا چاہیے جو ملک زاویار بن سکتا ہے۔۔
عبیرہ سکتے میں سن سی بیٹھی تھی جسیے اسکے سر پہ ہتھوڑا ما ردیا ہو سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔
بیٹا تمہاری مرضی بہت ضروری ہے اگر تمہیں زاویار سے اعتراض ہے میں تمہارا نکاح زین سے بھی کرنے کیلئے تیار ہوں۔۔رخشی بیگم بولی۔۔ ورنہ تمہارا باپ تمہیں یہاں سے لیجانے میں کامیاب ہوجائے گا۔۔
اب شاک لگنے کی باری زین اور شزا کی تھی۔۔دونوں کے رنگ اڑے تھے۔۔
عبیرہ پہلے سے ہی دونوں کے آپس کے تعلق کو جانتی تھی اس لیے دونوں کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔
دونوں کے رنگ فق ہوچکے تھے۔۔
نہیں ۔۔ خالہ ۔۔ زین بھائی بلکل میرے بھائی جیسے ہیں میں نے کبھی انکے بارے میں ایسا تصور نہیں کیا ۔۔آپ لوگوں نے جو میرے لیے فیصلہ کیا ہے وہ میرے بھلے کے لیے ہی ہوگا ۔۔مجھے کوِئی اعتراض نہیں ۔۔بس مجھے نہیں جانا ۔۔ وہ ضبط کی انتہا پہ تھی بمشکل اس نے لفظ ادا کیے تھے۔۔ اور سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آئی۔۔
ماشاللہ جیتی رہو ۔۔ملک حمید خوش ہوتے بولے اور عبیرہ کا مزید وہاں بیٹھنا محال تھا اس کیے فوراً اٹھ کر کمرے میں آگئی اور پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔
اس شخص کے ساتھ ایسا تعلق رکھنا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ اسے بس عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی ۔۔اسے بڑووں کی صف میں شامل سمجھتی تھی۔۔آج لگا جیسے اس پہ کیے گئے احسان کی قیمت مانگی ہے وہ بھی اس سے سود سمیت چکانی پڑرہی ہے۔۔ اس شخص کے نام اپنی زندگی اپنا سب کچھ نام کرنے جا رہی ہے جسکا وہم و گماں بھی نا تھا ۔۔
بھئی ماشاللہ عبیرہ نے بہت فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا ہے بہت خوش رکھے اللہ اس کو۔۔
زین اور شزا کی جان میں جان آئی تھی ۔۔مگر ملیحہ کو اچھا نہیں لگا عبیرہ کے لیے ۔۔اس لیے اٹھ کر اسکے کمرے کی طرف چل دی۔۔
°°°
لڑکی نے تو ہاں کردی ہے اب یہ میرا سپوت کیا کرے گا سویر کا نہیں۔دکھا مجھے ۔۔ ملک حمید نے فون کرکے بتا دیا تھا کہ عبیرہ کی طرف سے ہاں ہوگئی ہے۔۔
ملک امین انکے پاس بیٹھے تھے۔۔اب ابا جی آپکے لاڈلے کا کیا کہنا سر پہ خود ہی چڑھایا ہے آپ نے۔۔
اوئے بچوں تم لوگ ہی کرو کچھ رات والا پلان تو فیل ہوگیا۔۔
طہٰ اور عطا سیڑھیاں اترتے آ رہے تھے جب ابا جی نے انہیں بلایا۔۔
اتنےمیں زاویار بھی باہر سے آتا ہوا دکھائی دیا۔۔
دادا جی کیا ہوگیا آپ کو دادا جی آنکھیں کھولیں ۔۔ طہٰ زاویار کو دیکھتے ہی ابا جی کی طرف لپکا ۔۔
یار مشورہ مانگا تھا جان نہیں کی ہوگیا ہے” اسکی عجیب حرکت دیکھ ابا جی بولے۔۔
زاویار چاچو آ رہے ہیں دادا جی ڈرامہ شروع کریں ۔۔ طہٰ نے آہستگی سے کہا۔۔ سب شور کی آواز سن کر دادا جی طرف لپکے تھے۔۔
ملک فیض بھی اسکی بات سمجھتے لمبے لمبے سانس لینے لگے۔۔
ابا جی کیا ہوگیا آپکو ۔۔ زاویار تیزی سے انکے پاس آتا انہیں تھامتا بولا۔۔
ہائے۔۔ہائے۔۔ میں مر گیا۔۔” ملک فیض بھرپور ڈرامہ کرتے بولے۔۔
ابا جی ابھی تو ٹھیک بیٹھے اچانک کیسے ” نغمہ بیگم اور آمنہ بیگم بھی اوپر آتے فکر مندی سے بولیں۔۔
ابھی ابا جی کو کمرے میں لے چلتے ہیں۔۔تم۔لوگ جاؤ ڈاکٹر کو لے کر آؤ۔۔ زاویار گھبرا گیا تھا۔۔پورے گھر میں ہلچل سی مچ گئی۔۔
طہٰ اور عطا گھر سے باہر تو آگئے اب سوچ میں پڑ گئے۔۔
طہٰ یار اب اس ڈرامہ کا ڈروپ۔سین نا ہوجائے اگر اصلی ڈاکٹر لے گئے ۔چھتر پڑیں گے ۔۔ عطا بولا۔۔
یار گھبراتا کیوں ہے تیرا بھائی ہے نا چل اصلی ہی۔ڈاکٹر لیکر جائیں ۔۔ طہٰ عطا کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا۔۔
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر لیکر وہ۔گھر پہنچے تھے۔۔
ڈاکٹر نے ملک۔فیض صاحب کا بی پی چیک کیا اور انجیکشن بھرنے لگا سرنج میں ۔۔
ملک صاحب تو وہ واقعی میں گھبرا گئے اصلی۔ڈاکٹر اور اصلی ٹیکا دیکھ کر۔۔
اس وقت روم میں زاویار موجود تھا باقی سب باہر تھے۔۔
ملک صاحب پریشانی سے دیکھ رہے تھے ڈاکٹر کو کہیں وہ سچ میں نا لگا دے۔۔ صحت مند ہوتے ہوئے بھی بیمار پڑ جائیں ۔۔
ڈاکٹر صاحب بھی ڈرامہ باز نکلے تھے ملک۔صاحب کو دیکھتے آنکھ دبادی۔۔ ملک۔صاحب نے اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا۔۔
اور ایسے شو کروایا کے انہیں انجیکشن لگا دیا ہے۔۔
بلال یار سب ٹھیک ہے نا۔۔” زاویار پریشانی سے ڈاکٹر سے بولا۔۔ جو کہ۔اسکا۔دوست بھی ہے۔۔
نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے اتنی زیادہ ٹینشن اتنا۔سٹریس انکو ہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے.
کیسی ٹینشن میں۔نے تو انہیں کچھ نہیں کہا ۔۔ زاویار پریشانی سے بولا۔۔۔
“یہ اب مجھے نہیں پتا انکی جو بھی خواہش ہے جو یہ۔چاہتے ہیں بس وہی کر ۔۔ ورنہ اگر پھر سے ٹینشن لی نا نیکسٹ میں نہیں بچا سکتا ۔۔ وہ اسکے کاندھے پہ۔ہاتھ رکھتا باہر نکل۔گیا۔۔
ڈاکٹر کیسے ہیں۔ابا جی ۔۔امین۔صاحب باہر کھڑے تھے پریشانی سے بولے۔۔
اب بہتر ہیں پہلے سے وہ۔مسکراتے بولے ۔۔
بچوں ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑ آّؤ۔۔امین صاحب نے کہا تو وہ پیچھے چل دیے۔۔
تھینکس ڈاکٹر بلال آپکا ۔۔ طہٰ اور عطا انکے ساتھ چلتے بولے۔۔
اپنے دوست کے لیے جھوٹ بولا ہے” آج ہی بات بن جائے گی ایسا ڈرایا ہے زاویار اپنے والد سے بہت پیار کرتا ہے ۔۔
ابا جی کیوں خامخواہ کی ٹینشن لے لی ہے آپ نے۔۔زاویار بولا
اس وقت کمرے میں ملک فیض کے تینوں بیٹے موجود تھے ۔۔
یہ خامخواہ کی ٹینشن ہے ادھر اس لے پالک بچی نے بس ایک بار پوچھنے پہ ہی رضامندی دے دی اور یہ میری نکمی اولاد میرے سامنے ہی اکڑ رہی کیا کچھ نہیں کیا میں نے اس کے لیے اور یہ۔مجھے آج یہ دن دکھا رہا یے۔۔ملک صاحب تو جذباتی ہی ہوگئے۔۔
ابا جی کیا کرہے ہیں طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپکی۔۔ ملک امین اور ملک عمر نے انہیں سنبھالا ۔۔
او چھڈ دو مینوں سارے چلے جاؤ یہاں سے ” وہ سب کو جھڑکتے بولے
عبیرہ نے ہاں کردی زاویار کی سوئی تو اس بات پہ ہی اٹک گئی۔۔
ابا جی وہ بہت چھوٹی ہے میں نے اسے ہمیشہ ملیحہ اور مرحا کی طرح ہی سمجھا ہے یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ ہے میری سب کو پتا لگے گا تو کیا سوچے گے۔۔ وہ اپنی پریشانی بیان کرتے بولا.
پتر جی گھر کی فکر کرو باہر کی نہیں اس بچی نے بھی تو ہاں کردی ہے نا پھر تیری سوِئی کیوں اٹکی ہوئی یے اور اسکا تیرے ساتھ ملیحہ مرحا جیسا کوئی رشتہ نہیں بنتا ۔۔ نکاح جائز ہے تمہارا ۔۔ ابا جی بھی کہاں پیچھے ہٹنے والے۔۔
اس عبیرہ نے تو تابوت میں آخری کیل والا کام کیا ہے۔۔ اب دیکھتا ہوں اسے میں ۔۔ بچے گی نہیں میرے ہاتھوں سے ۔۔ نکاح کے ساتھ رخصتی کا بھی مطالبہ کروں گا ایسا ہے تو ایسا ہی سہی ۔۔وہ سوچوں میں غرق تھا جب ابا جی پھر سے بول پڑے۔۔
چھوٹے ملک ۔۔ “کیا خیال ہے پھر ۔۔
ابا جی پھر میرا بھی مطالبہ ہے ۔۔”
بولو”
نکاح کے ساتھ رخصتی بھی چاہیے مجھے ” وہ۔دونوں ہاتھ باندھے تینوں کو حیرت میں ڈال گیا۔۔
ابا جی ۔۔ ملک امین نے ابا جی کو دیکھتے بولے۔۔جو ہکا بکا بیٹھے تھے۔۔ملک عمر تو خاموش ہی رہے۔۔
او چھوٹے ملک رخصتی بھی کرلیں گے مگر پہلے نکاح ضروری ہے۔۔ ابا جی بولے۔۔
ٹھیک ہے نکاح کب کرنا ہے۔۔” زاویار بولا۔۔
کک۔۔کل۔۔ہی کا سوچا ہوا تھا۔۔” ملک فیض لڑکھڑا کر بولے۔۔
ہہم بس پھر ایک۔ہفتہ بعد رخصتی چاہیے بس اس سے زیادہ ٹائم نہیں دوں گا ورنہ خود ہی لڑکی لے آؤں گا ” یہ کہتا رکا نہیں تینوں کو حیران و پریشان چھوڑتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
شاطرانہ مسکراہٹ تھی اسکے چہرے پہ جب وہ باہر نکلا ۔۔
ساری ینگ پارٹی دوازے کے ساتھ کان لگائی کھڑی تھی جب وہ باہر نکلا تو ادھر ادھر دیکھنے لگ گئے زاویار کو مسکراتا دیکھ ٹھٹھک گئے ۔۔
اور جلدی سے کمرے میں داخل ہوئے۔۔
دادا جی کیا بنا چاچو کافی خوش لگ رہے ہیں” اور انکے چہروں کے رنگ اڑے ہوئے تھے۔۔
انکے پیچھے نغمہ بیگم اور آمنہ بیگم بھی داخل ہوئی
زاویار نے ہاں کردی ہے ۔۔ملک صاحب تھوڑا خوش اور تھوڑے پریشان لگے۔۔
زبردست دیکھا دادا جی پھر میرا کمال ۔۔طہٰ دونوں ہاتھ پھیلاتے بولا ۔۔سب ہی خوش ہوئے تھے۔۔
ہاں” ۔۔تمہارا کمال ” دادا جی طنزیا انداز میں بولے۔۔
اور پھر وہ بھی تمہارا چاچا ہی نکلا ۔۔” شرط رکھ دی نکاح کے لیے” ۔۔
کیسی شرط ابا جی ” نغمہ بیگم بولیں۔۔
صاحب زادے نکاح کے ساتھ رخصتی بھی چاہتے ہیں
وہ دانت پیستے بولے۔۔
سب خاموش ہوئے تھے ۔۔
ہاں صرف نکاح والے لولی پاپ دینے سے تھوڑی نا مانتے ساتھ لڑکی بھی دینی پڑے گی ” طہٰ کھسیانہ سا ہنسا تو سب نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔ تو وہ منہ نیوا کر کے چلتا اور سب اس کے پیچھے باہر آئے ۔۔کمرے میں صرف اب بڑے ہی موجود تھے ۔۔جو سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔
دوسرے گھر بھی جب ملک حمید کو اطلاع موصول ہوئی کہ ملک فیض کی طبیعت ٹھیک نہیں تب وہ بھی پوری فیملی کے ساتھ آن پہنچے۔۔
°°°°
کیا مگر ابھی تو صرف نکاح کا ہی ارادہ ہے رخصتی کا توفلحال کوئی ارادہ نہیں ۔۔ رخشی بیگم نے جب یہ بات سنی تو بول اٹھی ۔۔
اب یہ بات زاویار اس لیے کر رہا ہے کہ ہم اپنی بات سے پیچھے ہٹ جائیں ۔۔ اور جب رخصتی ہونی ہے تو دیر سویر کا کیا ۔۔” ملک حمید
اور پھر سب نے اسی بات پہ اکتفا کرلیا کہ نکاح ہوجائے پھر زاویار کو سمجھا لیں گے۔۔
°°°
عبیرہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے جس میں سوپ کا باؤل رکھا تھا دھیان سے چلتی ملک فیض ولا میں داخل ہورہی تھی اور ابھی گھر کے دروازے سے اندر آرہی تھی کہ سامنے سے زاویار چلتا آ رہا تھا باہر کی جانب دونوں کا آمنا سامنا ہوا ۔۔
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے زاویار بڑی سنجیدگی سے گھور رہا تھا عبیرہ نے نظریں جھکا لی اسکی نظروں سے خائف ہوتے۔۔ زاویار نے دو قدم مزید آگے بڑھائے اور عبیرہ نے دو قدم پیچھے لیے تاکہ فاصلہ رکھ سکے اور وہ پھر سے مزید آگے ہوا اور وہ پیچھے ہوئی اور یہاں تک کہ دیوار کے ساتھ جا لگی۔۔
اب ان دونوں میں بس ٹرے ہی دیوار بنی تھی۔۔
بہت جلدی ہے سسرال جانے کی” سپاٹ چہرہ لیے سرد سے لہجہ میں کہا زاویار نے۔۔
وہ میں دادا جی۔۔ کے لیے۔۔ یہ سوپ لائی تھی۔۔” عبیرہ سے تو مارے گھبراہٹ کے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔
اچھا ابھی سے سسر کی خدمتیں شروع ہوگئی۔۔” طنزیہ بولا۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے” زاویار کیوں بچی کو تنگ کررہے ہو” آمنہ بیگم اوپر آتی بولیں,۔
میں اپنی ہونے والی بیوی سے مخاطب ہوں ” وہ پیچھے ہوتا انہیں دیکھتا بولا۔۔
عبیرہ تو ابھی بھی دیوار کے ساتھ چپکی کھڑی تھی۔۔سرسری سی نگاہ عبیرہ پہ ڈالتا باہر چلا گیا۔۔
عبیرہ نے ٹرے آمنہ بیگ کو تھمائی ۔۔
یہ فیض دادا جی کو دے دیجئے گا” وہ کہتی چلی گئی واپس اور آمنہ بیگم کو افسوس ہوا تھا۔۔ اس پہ
