Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

عبیرہ کو ڈرانے کے بعد وہ۔کمرے میں۔ آیا تھا۔۔ آج تو سب کو ہی شاک دیا تھا اس نے اب تو اسے یقین ہوگیا تھا صبح تک سب اپنا فیصلہ بدل۔لیں گے۔۔
اور پرسکون ہوکر سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔
ادھر عبیرہ کمرے میں۔آتی رو دی تھی کتنا مشکل ہوگیا ہے اسکے لیے جینا ایک طرف وہ۔باپ جسکے ساتھ وہ جانا نہیں چاہتی اور دوسری زاویار۔۔
پتا نہیں۔اس نے انکار کیوں نہیں کیا ۔۔دل چاہ رہا تھا کہ۔یہاں سے کہیں گم۔ہوجائے۔۔
میں نہیں۔کروں گی ان سے نکاح سمجھتے کیا ہیں خود کو میں۔صبح ہوتے ہی۔انکار کردوں گی جو ہوتا ہے ہو جائے میری بلا۔سے۔۔
اپنے آپکو تسلی دیتی وہ آنکھیں بند کرلی۔۔
°°°
اگلی دن نکاح تھا سب ہی اپنی اپنی تیاریوں۔میں مصروف تھے۔۔
عبیرہ اداس سی بیٹھی سمجھ نہیں۔آ رہا تھا کہ۔کیا کرے وہ اپنا فیصلی۔بدل چکی تھی مگر گھر بات کیسے کرے۔۔
ادھر زاویار پریشان سا کچھ بھی نہیں بدلا ۔۔
وہ ایکسپیٹ کررہا تھا شاہد گھر والے یہ پروگرام ڈیلے یا کینسل کردیں گے مگر ایسا کچھ بھی نا ہوا۔۔
ہہم تو گھی اب ٹیڑھی انگلی سے نکالنا پڑے گا ۔۔پاکٹ سے موبائل نکال۔کر عبیرہ کو کال لگائی۔۔
عبیرہ بیڈ پہ بیٹھی سوچوں میں۔گم تھی ۔۔جب اسکا فون رنگ ہوا۔۔ موبائل اٹھا کر نمبر دیکھا تو آنکھیں باہر آئیں ۔۔زاویار چاچو نام جگمگا رہا تھا۔۔ اسکرین پہ۔۔ موبائل مسلسل بجتے بند ہوا ۔۔اور ایک بار پھر سے فون بج اٹھا ۔۔اور اب کی کا بار کال۔اٹھا لی گئی۔۔
کہاں غائب ہو کب سے کال۔کیے جا رہا ہوں”۔۔ غصہ سے بولا تھا۔۔
جج۔۔جی۔۔ عبیرہ کے حلق سے تو آواز ہی نہیں۔نکل رہی تھی۔۔
تم نے ابھی تک اپنا فیصلہ نہیں۔بدلہ۔۔انکار کردو اس نکاح سے بول دو تم۔نہیں کرنا چاہتی ۔۔وہ سیدھا اپنی بات پہ آیا
میں۔کیسے کروں انکار ۔۔”وہ۔پریشان سی بولی
نکاح کے وقت جب مولوی پوچھے نا قبول ہے تم۔نے تب انکار کردینا ہے۔۔” وہ بڑے آرام۔سے بول۔گیا۔۔
مگر میں کیوں آپ کیوں نہیں کر سکتے انکار۔۔
جتنا کہا ہے بس اتنا ہی کرو۔۔:”
میں۔نے انکار کردیا نا تو ابا جی نے مجھے گھر سے نکال دینا اور ساتھ جائیداد سے عاق کر دینا ۔۔تم۔چہیتی ہو سب کی تمہیں۔زیادہ نہیں۔کہیں گے۔۔کچھ نہی ہوگا” سرد سے لہجہ میں کہا۔۔
اور ہاں اگر تم۔نے ایسا نا کیا تو آئی سوئیر تم مجھ سے نہیں بچو گی۔۔ آخر میں۔تگڑی دھمکی بھی دے ڈالی۔اور کال۔کٹ کر دی۔۔
عبیرہ نے موبائل۔بیڈ پہ چلا۔کے پھینکا تھا اور سر گھٹنوں میں۔دے دیا تھا۔۔
کچھ دیر بعد اسکے نکاح کا جوڑا لیے رخشی بیگم آئیں ۔۔
عبیرہ بیٹے یہ۔تمہارے نکاح کا جوڑا ابھی ہی جا کر۔لے کر آئی ہوں ۔۔
بیٹا مجھے معاف کردو شاید مجھ سے زیادتی ہو رہی ہو مگر یقین کرو اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔۔ ہم کوشش کریں گے کے صرف نکاح ہی ہو اور رخصتی کچھ عرصہ کے لیے لیٹ ہو جائے۔۔
مرحا اور رانیہ کو بھیجتی ہوں۔۔ تمہیں۔تیار کردیں۔۔
وہ خاموش بیٹھی رہی انکی کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور چلی۔گئی۔۔
°°°°
سب اپنی تیاریوں میں لگے ہوئے ہوئے۔۔ آمنہ بیگم اور نغمہ بیگم تیار کھڑی تھیں اور ابا جی بھی تیار صوفہ پہ۔بیٹھے تھے سر پہ پگ پاندھے سفید کرتا شلوار پہنے امین صاحب اور عمر صاحب بھی تیار تھے۔۔سفید کاٹن کی قیمض شلوار پہنے۔۔
افف اللہ۔اگر لڑکیاں ہوتی نا یہ تو پتا نہیں کیا بنتا انکا
اب باہر بھی آجاؤ سب یاں ہم۔پھر جائیں۔۔نغمہ بیگم اکتا کر بولیں ۔۔
پہلے شجاع اور اشعر نیچے اترے دونوں بھائیوں نے سیم مہرون ویسکوٹ اور سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی ۔۔ دونوں ہی بہت ڈیشنگ لگ رہے تھے ۔۔
ُپھر طہٰ اور عطا دونوں بھائیوں نے بھی براؤن سیم ویسکوٹ اور ساتھ وائٹ قمیض شلوار پہنے خوب جچ رہے تھے آمنہ بیگم نے نیچے کھڑے ہی۔بلائیں لی۔۔
اب دولہا صاحب بھی تشریف لے آئیں۔۔ ملک فیض بولے۔۔
ملک زاویار احمد آج ٹور میں تھا ۔۔ کالی ویسکوٹ کے ساتھ وائٹ کلف لگا قمیض شلوار پہنے بالوں میں انگلیاں پھیرے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔۔ بہت ہی۔خوبرو اور پرکشش نظر آرہا تھا۔۔اور خاصا مطمئن بھی۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا نتیجہ اسکی مرضی سے آنے والا ہے۔۔
ماشاللہ بھئی میرے بیٹے پہ تو خوب رونق آئی ہے ملک فیض زاویار کو دیکھتے بولے اب جو ان کے برابر آن کھڑا ہوا۔۔
ہاں ماشاللہ کل تک تو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا ۔۔آج تو خوش ہی بہت لگ رہا ہے” آمنہ بیگم بولی۔۔
چلو چلو اب انکا دو بار فون۔آگیا ہے ملک امین بولے۔۔
اچھا بچو یہ سامان اٹھاتے لے آنا۔۔وہ۔دونوں بھی کہتی آگے نکل۔گئی۔۔
اب اتنی تیاری بس یہ۔سامان اٹھانے کیلیے کی تھی طہٰ برا سا منہ۔بناتے بولا
°°°
عبیرہ کو دونوں نے نے مل کر بہت ہی۔پیارا تیار کیا تھا ۔۔
آف وائٹ شراشرا پہ آف وائٹ شارٹ کامدار کرتی پہنے لال دوپٹہ کا گھونگٹ بنائے کوئی نازک سی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔۔
اس وقت کمرے میں ملیحہ اور شزا بھی موجود تھی تیار کھڑی تھیں۔۔ملیحہ نے لائٹ پنک ہلکے کام والا شرارا پہنا ہوا تھا۔۔ اور شزا اور رانیہ نے پیچ کلر کا سیم ہی شرارا پہنا تھا ۔۔اور مرحا نے مہرون کلر کی لانگ فراک پہن رکھی تھی ۔۔ اب بس انتظار تھا تو نیچے سے بلاوے کا ۔۔
°°°
زاویار سب کے درمیان۔میں بڑے ٹھاٹھ سے چلتا آرہا تھا۔۔نکاح گھر میں ہی سادگی سے رکھا گیا تھا بس گھر کے ہی تمام افراد موجود تھے اور کچھ مہمان خاص خاص بھی مدعو تھے۔۔
زاویار کا استقبال درازے پہ کھڑے زین نے ملک نعمان اور انکے ابا جی ملک۔حمید اور رخشندہ بیگم۔اور حمیرا بیگم۔نے کیا سب نے پھولوں کے ہار پہنائے اور آگے شزا ملیحہ اور مرحا بھی پھولوں کی پلیٹ لیے موجود تھیں جنہوں نے پھول نچھاور کیے۔۔
اشعر مرحا کے پاس سے گزرتا آنکھ دبا گیا کیونکہ دونوں کی ڈریس بھی میچ کر گئی میرون ویسکوٹ کے ساتھ مرحا کی میچ ہوتی میرون فراک ۔۔ اور مرحا نے اس پہ بھی پھول پھنکیں استقبالیہ طور پہ۔۔ مگر اسکی اس حرکت پہ آنکھیں سکیڑیں۔۔
زاویار سب سے خوش اخلاق سے ملا اور صوفہ پہ بیٹھ گیا اور پھر کچھ دیر بعد نکاح کا آغا ز ہوا سب پہلے لڑکی سے رضامندی پوچھنے سب بڑے مولوی صاحب کو لیے عبیرہ کے کمرے کی طرف بڑھے ۔۔
زاویار خوش ہو رہا تھا کیونکہ اس نے عبیرہ کو ڈرایا ہوا ہے اور اس کے مطابق وہ انکار کرنے والی ہے ۔۔
زاویار کی خوشی تو ینگ پارٹی کو ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔۔
یہ چاچو راتوں رات بدل گئے ۔۔ عطا سرگوشی سے بولا۔۔
یہ بات تو میں بھی نوٹس کررہا ہوں اشعر نے بھی حصہ ڈالا۔۔
لڑکی جو مل رہی ہے تو بندہ کیوں نا خوش ہو” طہٰ نے بھی اپنی رائے دی۔۔
یہ ہمارے بھی چاچو ہیں کوئی نا کوئی گیم تو دماغ میں ضرور چل رہی ہوگی۔۔ شجاع نے اپنے تئیں اندازہ لگایا۔۔
رائٹ ۔۔رائٹ ۔۔ سب نے ایگری کیا سب ایک ہی۔صوفہ پہ بیٹھے اپنی اپنی رائے پیش کررہے تھے ۔۔ سامنے صوفہ پہ زاویار ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے اپنے پلان کے پایہ تکمیل کا انتظار کررہا تھا۔۔
تمام بڑے بزرگ اس وقت عبیرہ کے کمرے میں موجود تھے ۔۔زین بھی عبیرہ کے قریب کھڑا تھا آج اسکا بھی دل۔اداس تھا۔۔ اتنا عرصہ وہ ساتھ بہن بھائی کی طرح پیار محبت سے رہے ۔۔
نکاح شروع ہوا ۔۔ عبیرہ بہت گھبرائی ہوئی تھی ایک طرف زاویار کی لگائی گئی دھمکی اور دوسری طرف بڑے بزرگوں کی عزت اور مان ۔۔ وہ کیا کرے اپنے آپ کو کسی اندھیرے کنویں میں ہی دھکیلتا ہوا پایا ۔۔ پتا ہی چلا کب ایجاب قبول ہوا ۔۔ اور اس نے کانپتے ہاتھوں سے بمشکل دستخط کئے۔۔
اور اپنے آنسو پہ۔قابو نا رکھ سکی اور رو دی تھی اور سب کی آنکھ اشکبار تھی ۔۔ ایموشنل سین کے بعد سب کا رخ سیڑھیوں سے نیچے تھا۔۔
سب ہی سیریس انداز میں اداسی سے سیڑھیاں اتر رہے تھے جب زاویار اور سب کی ساتھ ان پہ نظریں جمی انہیں اداس دیکھ زاویار کو اپنا پلان کامیاب ہوتا دکھا ۔۔
چلیں مولوی۔صاحب نکاح شروع کریں اور ۔۔ مبارک۔
ہو لڑکی نے ہاں بول دی ہے۔۔
زاویار کے۔مسکراتے ہونٹ سکڑے تھے ۔۔ ہاتھوں کی۔مٹھیاں۔زور سے بند کی۔تھی ۔۔ عبیرہ نے اسکی۔بات نہیں مانی اب اسکی خیر نہیں ۔۔” اسکی اچھی طرح سے خبر لینے کا ارادہ کر چکا تھا ۔۔
اور وہی ایجاب و قبول زاویار کے ساتھ ہوا اور ہر طرف مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوا۔۔
اور عبیرہ کو۔بھی نیچے لایا گیا مرحا اور رانیہ کے درمیان میں سہج سہج چلتی ہوئی لال دوپٹہ کا گھونگھٹ اوڑے عبیرہ خاصی ڈری بھی ہوئی تھی زاویار سے ۔۔ جو کہ اب اسکے شوہر کا روپ دھار چکا تھا۔۔
زاویار گھونگٹ اٹھاو عبیرہ کا ۔۔آمنہ۔بیگم بولی جب عبیرہ اسکے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔۔ چار و نا چار زاویار کو کھڑا ہونا پڑا اور عبیرہ کا گھونگٹ اٹھایا ۔۔ تو ایک پل کے لیے ساکت ہی رہ گیا اسکا سجا سنورا روپ دیکھ گھنی پلکوں کے جھالر گرائے معصومیت کی ہر حد پار کیے اسکا دل دھڑاکا گئی ۔۔ اگلے ہی پل اس سے نظریں چرائیں ۔۔ اور دونوں صوفہ پہ فاصلہ بنائے بیٹھے تھے ۔۔ سب آپس میں بیٹھے گپے شپے بھی لگا رہے تھے۔۔ اور پھر فوٹو سیشن کا نا رکنے والا دور شروع ہوا طہٰ فوٹو گرافر کا کام سر انجام دے رہا تھا گلے میں کیمرہ ڈالے سب نے باری باری ان دونوں کے ساتھ بیٹھ کر پک بنائی ۔۔ دونوں کے تاصرات سنجیدہ تھے۔۔ عبیرہ کا دل تھر تھر کانپ رہا تھا۔۔ آنے والے لمحات کا سوچ کر زاویار کا کیا ردعمل ہوگا۔۔
موقع پاتے ہی اشعر مرحا کا ہاتھ کھینچ کر سائیڈ پہ لے آیا
اور کوئی دیکھے نا دیکھے طہٰ تو دیکھے اور وہ بھی انکے پیچھے کھسک گیا کیمرہ لیے
اشعر نے مرحا کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا جسے چھڑانے کی تگ و دو میں تھی۔۔
اشعر بدتمیزی نہیں کرو ” وہ دبی دبی سی چیخی تھی ۔۔
ششش ۔۔ اسے دیوار کے ساتھ پن کیے ۔۔اسکے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر اسے چپ کروایا۔۔
وہ اسکے بے حد قریب کھڑا تھا چہروں میں بس انچ کا فاصلہ تھا۔۔
اور طہٰ نے موقع پاتے ہی انکا پوز کلک کیا ۔۔
زین بھائی نے دیکھ لیا نا تو تمہاری ہڈیاں توڑ دیں گے ۔۔وہ۔نازک سی جان اپنے تئیس بڑی دھمکی دیتی بولی اور اسے پرے دھکیلتے نکلی وہاں سے مگر اشعر نے اسکی کلائی تھام لی جتنی مرضی ہڈیاں توڑ دیں میری شوق سے مگر پھر بھی اس دل سے تمہارے لیے پیار کم نا ہوگا۔۔ اور ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔ اسکا برملا اظہار محبت مرحا کو ساکت کرگیا ۔۔ ایک نگاہ اس پی ڈالتے اندر کو بھاگی ۔۔ ہھر مڑ کر اسے مسکرا کر دیکھا اور آگے بڑھ گئی ۔۔ اسکی پیاری مسکان پہ اشعر کھل اٹھا اور بھر پور مسکراہٹ اسکے چہرے پہ کھلی۔۔
آاہہم آہہم۔۔ طہٰ کیمرہ ٹٹولتے سامنے آیا۔۔ ” یہ۔مجھے کیا دیکھنا پڑ رہا ہے ۔۔” یہ کیسی تصویر آئی ہے کیمرے میں میں۔۔” شرارتی انداز میں بولا
طہٰ ” تم میری جاسوسی کررہے تھے کونسی تصویر ہے تمہارے پاس ” اشعر طہٰ کی طرف لپکا مگر وہ۔ہاتھ نا آیا۔۔
اس تصویر کو تو فریم کروا کر ساری دنیا کو دکھاوں گا تمہارے کارنامہ ۔۔” وہ کیمرا لہراتے اسے دکھاتے بولا۔۔ ہاں رشوت ضرور چل سکتی منہ بند کرنے کیلیے ۔۔اب وہ سب کے سامنے تھے ۔۔تو اشعر اسے کچھ نا کہہ سکا۔۔
تمہیں تو میں دیکھ لوں گا مگر ایک پائی بھی نہیں دوں گا۔۔”
پائی نہیں دس ہزار ” طہٰ بتیسی دکھاتے بولا۔۔
دس ہزار ۔۔شکل دیکھی ہے اپنی کبھی زندگی میں بھی اتنے ہیسے دیکھے ہیں تونے بھکاری” اشعر نے اسے لتاڑا۔۔
دیکھے تو نہیں “اب دیکھ لوں۔گا” وہ بھی ڈھیٹ ہی ثابت یوا۔۔
رانیہ اداس سی صوفہ پہ ایک طرف بیٹھی تھی۔۔
شجاع نے اسکی طرف دیکھنا بھی گوارہ نا کیا تھا ۔۔ادھر شزا اور زین کی آنکھ مچولی جاری تھی ۔۔جہاں وہ جاتی وہیں زین موجود تھا ۔۔ اور مرحا کے پیچھے اشعر ۔۔
اور وہ تھی جو خود کو ادھورا اور نا مکمل تصور کررہی تھی ۔۔
شجاع سامنے صوفہ پہ بیٹھا سب سے بات چیت کررہا تھا ۔۔ چور نگاہوں سے رانیہ کی جانب دیکھا ۔۔ جو ااداس سی صوفہ پہ ایک طرف بیٹھی ہوئی لمبے بالوں کی چوٹی بنائے آگے کو کیے ہوئے چہرہ پہ جھولتی آوارہ لٹیں ایک پل تو انہیں چھونے کا جی کیا ۔۔ مگر اپنی سوچوں پہ لعنت بھیجتا منہ موڑ گیا ۔۔
خود پہ۔نظروں کی تپش محسوس کرتے رانیہ نے شجاع کی جانب دیکھا ۔۔جو اسکی طرف متوجہ تھا ہی نہیں۔۔ بے دلی سے اٹھ گئی۔۔
کافی دیر بعد بیٹھے رہنے کے بعد عبیرہ کی کمر میں درد ہونے لگا تھا اس سے تو اب بیٹھا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔ ہلکا سا منہ موڑ کر زاویار کی جانب دیکھا تھا تب ہی زاویار نے اسکی طرف دیکھا ۔۔ اور طہٰ نے یہ۔منظر اپنے کیمرے میں قید کیا۔۔
عبیرہ نے فوراً سے نظریں۔جھکالی۔۔اسکی خونخوار نگاہوں سے خائف ہوتے۔۔
پھر ایک ساتھ سب نے عبیرہ اور زاویار کے ساتھ فیملی پک بنائی بڑے کرسیوں پہ براجمان تھے اور چھوٹے پیچھے کھڑے تھے ۔۔
پھر عبیرہ نی مدد طلب نگاہوں سے رخشی بیگم کی طرف دیکھا کہ اسے کمرے میں جانا ہے۔۔
رخشی سمجھتی ۔۔ مرحا اور رانیہ سے اسے کمرے میں لیجانے کو کہا۔۔
عبیرہ کی۔جان بخشی ہوئی جو کب سے دشمن جان کے بغل میں بیٹھی تھی ۔۔
زاویار کو عبیرہ پہ بہت غصہ آ رہا تھا کب سے ضبط کیے بیٹھا تھا اسکے ساتھ ۔۔ سب کا لحاظ کیے وہ غصہ پئے بیٹھا تھا۔۔
آپ تو ٹھکانے لگ گئے ۔۔ اب تو ہماری بھی باری جلدی ہی آجائے گی ویسے کیسا فیل ہو رہا ہے نکاح کے بعد۔۔ طہٰ عادت سے مجبور باز نا آیا زاویار کو تنگ کرنے سے اور زاویار بھی غصہ کا بھرا بیٹھا ۔۔ طہٰ اسکے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔اسنے طہٰ کی گردن ہی دبوچ لی ۔۔
آاہ چاچو۔۔ طہٰ اس ہٹلر سے اپنی گرن چھڑانے کی تگ و دو میں تھا ۔۔
پلیز چاچو چھوڑ دیں بچے کی۔جان لیں گے کیا۔۔اسے اپنی گرن کی۔ہڈیاں چٹختی محسوس ہوئی۔۔ تو زاویار چھوڑ دیا۔۔
اب کیسا محسوس ہو رہا ہے۔۔ اب زاویار اسکے پاس ہوتا بولا طہٰ جو گردن پہ ہاتھ رکھے اپنی گھما کر دیکھ رہا تھا کہیں واقعی تو نہیں ٹوٹ گئی۔۔
بہت ظالم ہیں آپ ۔۔ نکاح کیا ہوگیا اب ہم چھڑوں کی کوئی اوقت ہی نہیں رہی ۔۔ وہ گردن ملتا اٹھ گیا۔۔
اب زاویار کا ارادہ عبیرہ کی خبر لینے کا تھا پہلے سوچا کہ پوچھ لے مگر پھر خیال آیا اب وہ اسکی بیوی ہے اسے ضرورت نہیں کسی کی اجازت کی۔۔ اس کے کمرے میں جانے کے اردے سے کھڑا ہوا۔۔
زاویار پتر ابھی بیٹھ جا ۔۔ ہم یہیں ہے ۔۔ ملک فیض اسے کھڑا ہوتے بولے وہ سمجھے شاید زاویار گھر جانے کے ارادہ سے کھڑا ہوا ہے۔۔
ابا جی میں یہیں ہوں ۔۔ مجھے عبیرہ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔
کیا بات کتنی دیر تو وہ تمہارے ساتھ بیٹھی رہی ہے۔۔رخشی بیگم کو ٹھیک نہیں لگا ۔۔
کیا میں جا سکتا ہوں “۔۔ وہ ملک فیض کو دیکھتا بولا۔۔
جاؤ تم ” ملک فیض نے اجازت دے دی تو وہ اسکے کمرے کی طرف سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔
رخشی بیگم عبیرہ کی طرف سے پریشان سی ہوئیں ۔۔
اتنے سال چھڑے رہیں اب بیگم سے دوری برداشت نہیں ہوتی۔۔ سب خاموش تھے جب طہٰ بولا تو ۔۔ تو سب نے اسے گھور کر دیکھا تو بتیسی دکھاتا کیمرہ ٹٹولنے لگ گیا۔۔
°°°°
یار عبیرہ پہلے سیلفی لینی ہے پھر تم آرام کرتی رہنا۔۔
تو وہ مسکرا دی اور وہ تینوں سیلفی لگی۔۔ عبیرہ درمیان میں اور مرحا اور رانیہ سائیڈ پہ کھڑی تھی ۔۔
ایک دم سے دروازہ کھلا ۔۔ اور زاویار کو دیکھ وہ تینوں ٹھٹکے۔۔
تو قدم قدم چلتا کمرے میں۔آیا ۔۔
چاچو آپ , مرحا حیرت سے بولی۔۔
ہاں جی ” میں اور تم۔دونوں غائب ہو یہاں سے کام ہے اپنی بیوی سے” انگلی سے باہر جانے کا اشارہ کرتے بولا
مرحا اور رانیہ نے ایک دوسرے کی۔طرف دیکھا اور پھر عبیرہ کی طرف جس کے ہوائیاں اڑی ہوئی تھی۔۔
تو وہ منہ۔نیچے کرکے نکل گئی ۔۔ زاویار نے انکے نکلتے دروازہ بند کردیا ۔۔
عبیرہ اپنی جگہ پہ ساکت کھڑی تھی ۔۔اسکی جان جا رہی تھی جب ایک ایک قدم بڑھاتا فاصلہ تہہ کرتا اس تک پہنچا ۔۔ وہ۔ہنوز نظریں جھکائی کھڑی تھی ہمت نہیں ہو رہی تھی سر اٹھا لے۔۔
زاویار اسکے بے حد قریب کھڑا اسکا بغور جائزہ لے رہا ۔۔
تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی تھی میں نے کیا کہا تھا تم سے ۔۔سرد سے لہجہ۔میں کہا۔۔
مگر وہ خاموش رہی ۔۔
زاویار کا اسکے چپ۔رہنے پہ اور پارا چڑھا اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگا گیا عبیرہ تو جی جان سے لرزی تھی اسکے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے فاصلہ رکھنا چاہا۔۔
زاویار کی نظریں اسکے چہرے کا طواف کررہی تھی ۔۔
میں نے کیا پوچھا ہے تم سے ۔۔دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھے اسے مزید خود میں بھینچا ۔۔
وہ مم۔۔ میں ۔۔ نہیں ۔۔ انکار ۔۔ کرسکی ایم سوری زاویار چاچو۔۔ وہ معصومیت آنسوں بہاتے بولے ۔۔ آخری بات پہ زاویار نے اسے ٹوکا۔۔
پاگل لڑکی شوہر ہوں تمہارا ۔۔ چاچو نہیں۔
سس۔۔سوری۔۔” سر “۔۔ وہی معصومانہ انداز ۔۔ زاویار جو غصہ کا بھرا تھا اسکی۔معصومانہ انداز پہ اسکا غصہ بھک سے اڑا تھا۔۔ اپنی ہنسی پہ کنٹرول کرتے ۔۔ اسے گہری نظروں سے دیکھا تھا۔۔
میں ابھی تمہارا شوہر ہوں ۔۔ یونی ورسٹی میں نہیں ہو جو تمہیں لیکچر دے رہا ہوں۔۔ وہ ابھی بھی اسکے حصار میں تھی ۔۔
میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں میری بات نا مان کر تم نے اچھا نہیں کیا اب اسکی سزا تو تمہیں ملے گی۔۔ اسکے ہونٹوں پہ فوکس کیے ایک بازو اسکی کمر کے گرد حائل تھا اور دوسرا ہاتھ سے اسکے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے اسکے نقش میں کھو سا گیا ۔۔ اسکے ماتھے پہ دھکتے لب رکھے وہ مزید فاصلہ تہہ کرتا کہ۔۔
عبیرہ اسکا حصار توڑتی پیچھے ہٹی تھی۔۔ تو وہ ہوش کی دنیا میں آیا تھا۔۔ اپنی بے خودی کا اندازہ ہی نا ہوا۔۔
تم اب مجھ سے بچ نہیں سکتی ۔۔ ایک ہفتہ کا ٹائم ہے تمہارے پاس اسکے بعد رخصتی ۔۔ پھر تیار رہنا ہر روز ملے گی سزا ” معنی خیزی سے کہتا دروازے کی۔جانب مڑا چہرے پہ شریر سی مسکراہٹ تھی ۔۔جیسے ہی دروازہ کھولا مرحا اور رانیہ دروازے کے ساتھ کان لگائے کھڑی تھی دروازہ کھلتے ہی اندر کی طرف گرتی بچی ۔۔
زاویار بنا کچھ بولے نفی میں سر ہلاتا چلا گیا۔۔
عبیرہ ۔۔ وہ دونوں بھاگ کر اندر آئی۔۔
پلیز مجھے ڈسٹرب مت کرو جاؤ یہاں سے وہ تڑخ کر بولی ۔۔غصہ میں بھری بیٹھی تھی۔۔
چلو رانیہ اسکےتو مزاج ہی نہیں مل رہے ۔۔ اور دونوں اسے ایک نظر دیکھتی باہر چلی گئی۔۔
زاویار آرام سے آکر اپنی نشست پہ دوبارہ آ کر بیٹھ گیا۔۔۔