Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz NovelR50599 Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 38,39)
Rate this Novel
Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 38,39)
Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz
صبح جلدی اٹھتی وہ تیزی میں تیاری کررہی تھی آفس جانے کی،ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی وہ بالوں کی چوٹی باندھ کر آگے کی پھر دوپٹہ قرینے سے سر پر سیٹ کرتی پلٹی،
“بی بی ناشتہ کرلیں۔۔”
فرخندہ کی آواز نے اسے چونکا دیا،مطیبہ کی آنکھوں میں سرد سا تاثر ابھرا،
“نہیں میں لیٹ ہورہی ہوں آفس میں کرلوں گی۔۔”
پرس اٹھاکر کہتی وہ روم سے نکلی،سیڑھیاں عبور کر کے نیچے ہی اتری تھی کہ نظر کنارے میں رکھی ڈائیننگ ٹیبل پر پڑی،مہناز بیگم سامنے بیٹھی تھیں اور ان کے دائیں جانب وہیل چیئر پر وہ،اس کی پشت مطیبہ کی جانب تھی،
“مطیبہ۔۔”
وہ جو ان دونوں کو ایک نظر دیکھ خاموشی سے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی مہناز بیگم کی آواز پر رکی،دوسری جانب جوس کا گلاس تھاما ہیثم چونکا،گردن زرا ترچھی کی تھی اس نے پر مڑ کر اسے دیکھا نہیں،پشیمانی ایسی تھی کہ مقابل لڑکی سے نظریں ملانا نہیں چاہ رہا تھا وہ،
“ناشتہ نہیں کیا تم نے۔۔؟”
انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا اس سے مگر مطیبہ ایک بےتاثر نظر ڈالنے کے علاوہ کوئی جواب نہ دیتی وہاں سے نکلتی چلی گئی،مہناز بیگم کو اس کی یوں بےرخی دکھ پہنچائی تھی،شرمندہ ہوتیں وہ ہیثم کو دیکھیں جو اب جوس کا گلاس بنا جوس پیے واپس رکھ چکا تھا،مہناز بیگم کی بہت منت کے بعد وہ ناشتے کرنے پر راضی ہوا تھا اور اب جو تھوڑی بہت بھوک لگی تھی یکدم ختم ہوئی،
“تم تو کچھ کھالو بیٹا۔۔”
اسے پلیٹ کو گھورتے دیکھ انہوں نے افسوس سے کہا،
“مرگئی بھوک۔۔”
زیرِ لب کہہ کر ہیثم پیچھے کو ہوا،مہناز بیگم اچانک اٹھتی شدید گھبراہٹ کے عالم میں اپنا سر تھامی،
“یہ پچھتاوا میری جان لے لیگا۔۔”
ہیثم جھٹکے سے آگے ہوتا ایک ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا،
“کیوں کہہ رہی ہیں ایسا ماما۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔”
انہیں تسلی دینے کے غرض کہا تھا وہ مگر لہجہ خود کا بھی کھوکھلا ہوا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے آفس میں کام کرتا وہ ذہن میں عنادیہ کو ہی سوار رکھا تھا،صبح بھی ان دونوں میں کوئی بات نہ ہوئی تھی،عنادیہ اسے کچھ چپ چپ بھی لگی تھی مگر سلسبیل نے وجہ رات ہوئی بحث کو ہی سمجھا،دریہ بیگم نے نوٹ بھی کیا تھا دونوں کا ایک دوسرے سے ترک کلام رہنا مگر کچھ پوچھا نہیں انہوں نے،وہ جانتا تھا کل رات کچھ زیادہ ہی روڈ ہوگیا تھا عنادیہ سے لیکن سلسبیل کو گوارا نہ تھا کہ کسی اور کی وجہ سے عنادیہ اس سے بدتمیزی کرے،وہ شدید اشتعال میں آیا تھا جب اس کی ایک رائے دینے پر عنادیہ نے آواز اونچی کرنی شروع کردی تھی مگر وہ کتنی بری طرح ڈری تھی اس کے دہاڑنے پر،رات کو آفس سے نکلتے وقت بھی وہ یہی باتیں سوچ رہا تھا اور پھر آخر میں اپنے اصولوں کے خلاف وہ اپنے رویے پر عنادیہ سے معافی مانگنے کا فیصلہ کیا،ظاہر سی بات تھی وہ بےحد محبت کرتا تھا اس سے اور محبت میں کہیں نہ کہیں جھکنا پڑتا ہے تبھی سلسبیل مراد نے آج خود جھکنے کا فیصلہ کیا تھا،
مینشن میں کار روک کر اترتا وہ کچھ حیران ہوا جب گیٹ پر اسماء کو کھڑے پایا،فرمان کو کار پارک کرنے کا کہتا سلسبیل اندر کی جانب بڑھا،
“صاحب یہ بیگ مجھے دے دیں۔۔”
اس کے بیگ کی طرف اشارہ کرتی اسماء کے چہرے پر خوشی کی دمک تھی،
“کیوں۔۔؟”
بجائے اسے بیگ دینے کے وہ سنجیدگی سے پوچھا،اسماء کچھ بوکھلائی مقابل کے سیریس ایکسپریشن دیکھ کر،
“ارے صاحب وہ بڑی بیگم نے کہا تھا کہ آپ سے بیگ لے لوں اور وہ آپ کا گارڈن میں انتظار کررہی ہیں۔۔”
سلسبیل کچھ الجھا تھا اسماء کی بات پر،کانچ آنکھوں میں تھوڑی حیرت ابھری مگر اس سے بنا کچھ اور پوچھے سلسبیل نے بیگ اسماء کو دیا ساتھ اپنے مضبوط قدم گارڈن کی جانب بڑھائے،
جیسے جیسے وہ گارڈن میں داخل ہورہا تھا ویسے ہی حیرت آنکھوں میں نمایاں ہورہی تھی،ہر جانب جگ مگ کرتی لائٹس اور گارڈن کے بلکل بیچوں بیچ رکھی ٹیبل اور کے دونوں جانب چیئرز،
“گرینی۔۔؟”
چاروں جانب ہوئی ڈیکوریشن کو دیکھ وہ پکارا اور تبھی مینشن کے پچھلی جانب سے سہج سہج کر آتی عنادیہ دکھی تھی اسے،گولڈن کامدار قمیض پہنے لائٹ سے میک پر کانوں میں ائیرنگ ڈالے وہ سلسبیل کے ہوش اڑانے کی مکمل تیاری کر کے آئی تھی،ادھر اس کے پاک حسن کو بغور دیکھ سلسبیل کے عنابی لب پھیل کر سمٹے،یقیناً وہ اپنی بدتمیزی پر مداوے کے تحت اسے منانا چاہ رہی تھی،سلسبیل کی تراشی آبرو ستائشی انداز میں اٹھیں،کانچ آنکھوں میں تپش لیے دیکھتا وہ عنادیہ کو پزل کرگیا تھا،
اسے عین ٹیبل کے پاس کھڑے دیکھ سلسبیل مضبوط قدم اٹھاتا آگے آیا،آنکھیں مسکارہی تھیں مگر تاثرات ہنوز سنجیدگی لیے تھے،عنادیہ کے خوبصورت چہرے پر آج کچھ الگ ہی دمک دکھ رہی تھی اسے،
“گرینی کہاں ہیں۔۔؟”
وہ جو سلسبیل کی مسکاتی نظروں کو دیکھ شرمگیں مسکراہٹ گلابی لبوں پر سجائی تھی اچانک اس سوال پر چونکی،
“گرینی۔۔؟”
“ہاں اسماء نے کہا وہ بلارہی ہیں مجھے۔۔۔کہاں ہے۔۔”
چہرے پر سنجیدگی سجائے وہ روکھے لہجے میں عنادیہ سے پوچھا،مقابل کا خود سے ہنوز بےرخی برتنا عنادیہ کو بلکل اچھا نہیں لگا،دریہ بیگم کا بنایا گیا پلین اسے مکمل خراب ہوتا دکھا،
“گرینی اندر ہیں۔۔”
سر جھکائے وہ آہستگی سے بولی،
“وہ اندر ہیں تو مجھے یہاں کیوں بلایا۔۔”
لہجہ ہنوز بےتاثر تھا اس کا،عنادیہ کو سبکی محسوس ہوئی،
“آپ کو گرینی نے نہیں میں نے بلایا تھا۔۔”
سر جھکائے وہ یوں بولی جیسے اعترافِ جرم کررہی ہو،سلسبیل نے لبوں پر امڈتی مسکراہٹ کچلی،
“تم۔۔۔کیوں بلارہی تھی مجھے۔۔؟”
اب کی بار وہ تھوڑا سخت لہجے میں دریافت کیا اور عنادیہ کی آنکھوں میں نمی آئی،سر جھکائے ہی وہ سلسبیل کے قریب ہوکر اس کے دونوں ہاتھ تھامی،
“میں نے کل آپ سے بدتمیزی کی۔۔۔مجھے احساس ہوا کہ غلطی میری تھی۔۔آپ ٹاپک کلوز کرنا چاہ رہے تھے پر بات میں نے بڑھائی اور پھر۔۔۔”
ہلکی آواز میں شرمندگی سے کہتی وہ رکی پھر گویا ہوئی،
“سوری سلسبیل مجھے کل بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی آپ سے۔۔”
پشیماں سی کہتی وہ جب سر اٹھائی تو ٹھٹھکی،سلسبیل مسکراہٹ دبائے اسے نظروں میں لیا ہوا تھا،
“سلسبیل۔۔آ۔۔آپ ناراض نہیں مجھ سے۔۔”
عنادیہ حیران ہوتی پوچھی،
“میں۔۔ناراض۔۔تھا تم سے۔۔”
ٹہر کر بولتا وہ عنادیہ کے بازو تھاما،
“اور اب۔۔”
وہ بےچین ہوئی،
“اتنے خوبصورت انداز میں معافی مانگی جائے تو کون ہوگا جو نہ مانے۔۔”
اسے اور تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیے کہتا سلسبیل عنادیہ کی پیشانی عقیدت سے چوما،
“اور۔۔۔غلطی میری بھی تھی۔۔کل ہرٹ کرگیا تھا تمہیں میرا انداز۔۔۔سوری۔۔”
اس کے چہرے کو تھامتا وہ محبت سے کہا جس پر عنادیہ مسکرائی،
“سلسبیل۔۔”
کچھ دیر تک اس کی ٹائی کو چھوتی وہ جھجھک کر پکاری،مقابل جو بغور اس چاند چہرے کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا عنادیہ کی جانب متوجہ ہوا،
“مجھے بسمہ چائیے تھی نا۔۔”
“ہاں۔۔”
سلسبیل کے بولنے پر وہ بھاری ہوتی گھنیری پلکیں اٹھائی،شرمگیں مسکان ہنوز گلابی لبوں کا احاطہ کی ہوئی تھی،
“سمجھ لیں “ہماری” بسمہ جلد آنے والی ہے۔۔”
ہماری پر زور دے کر کہتی عنادیہ فوراً سر جھکائی،اس نے دریہ بیگم سے کہا تھا کہ وہ بتادیں مگر انہوں نے صاف حکم دیا عنادیہ کو یہ خبر خود سنانیں کا،
“کیوں تم نے کال کر کے بلوایا ہے اسے؟”
سلسبیل اس بار حیران ہوا کیونکہ بسمہ تو منع کرچکی تھی ان لوگوں کے ساتھ آنے سے پھر اچانک اس کا آنا،
“نہیں سلسبیل۔۔”
عنادیہ کے عارض دہکنے لگے،اسے سمجھ نہ آیا اور کیسے بتائے مقابل کو،
“تو پھر۔۔”
“سلسبیل میں نے “ہماری” بسمہ کہا ہے۔۔”
وہ پھر لفظوں پر زور دے کر بولی،
“ہماری بسمہ عنادیہ کیا کہہ۔۔”
کہتے ہوئے سلسبیل کے الفاظ گم ہوئے تھے،دماغ میں جھماکا سا ہوا عنادیہ کے گلنار ہوئے چہرے کو دیکھ اور یکدم اس کی بات سمجھتا سلسبیل خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوا،
“عنادیہ۔۔”
سلسبیل کو الفاظ نہ ملے اپنی خوشی بیان کرنے کو،اچانک عنادیہ کو خود میں بھینچا تھا وہ،
“بہت شکریہ اس خوشی کے لیے جانم۔۔”
کالی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھ وہ جھک کر انہیں لبوں سے چنتے ہوئے بولا،عنادیہ سمٹ کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھی،
“بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو۔۔”
دریہ بیگم کی آواز پر عنادیہ جھٹکے سے دور ہوئی اس سے،
“لڑکی سنبھل کر۔۔”
اس کے بوکھلائے سرخ چہرے کو دیکھ انہوں نے ہلکا سا ہنستے ہوئے کہا،
“آپ کو بھی گرینی۔۔”
زندگی سے بھرپور مسکان لبوں پر سجاتا وہ دریہ بیگم کی جانب بڑھا ساتھ ہی ان کے ہاتھ چوم کر دریہ بیگم کے گلے لگا،
“میں نے کہا تھا نا کہ اللّٰہ سے ناامید نہ ہونا۔۔”
سلسبیل کے دور ہونے پر انہوں نے پاس کھڑی عنادیہ کو دیکھ کر کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی نظریں جھکائی،
صبح سے اس کی طبیعت عجیب ہورہی تھی،دریہ بیگم نے اس کی ڈل ہوتی طبیعت کے زیرِ اثر شام کو لیڈی ڈاکٹر بلوائی تھی اور تبھی انہوں نے یہ خوشخبری دی،
“کھانا تیار ہے بڑی بیگم۔۔۔”
اسماء پلیٹیں گارڈن میں رکھی ٹیبل پر لگاتی انہیں مخاطب کی،
“چلو اب تم دونوں کھانا کھالو۔۔”
ان دونوں کے کندھے تھپتھپا کر کہتیں دریہ بیگم بولیں ساتھ وہاں سے جانے لگیں،
“گرینی آپ بھی بیٹھ جائیں۔۔”
دریہ بیگم کو روکتی عنادیہ فوراً بولی،
“نہیں بچہ۔۔آپ دونوں انجوائے کرو میں اندر ہی ہوں۔۔”
“آہاں گرینی۔۔۔آپ ہمارے ساتھ ہی کھانا کھائیں گی۔۔آج کی خوشیوں سے بھرپور رات ہم تینوں ساتھ منائیں گے۔۔”
دریہ بیگم کو چئیر پر بیٹھاتا سلسبیل خوشی سے بولا ساتھ عنادیہ کے لیے چئیر کھسکایا،گلاب ہوئے چہرے سمیت حیا سے مسکراتی وہ چئیر پر بیٹھی تھی،دونوں کے چہروں پر کل رات کی بدمزگی کا دور دور تک کوئی تاثر نہ تھا اور ہوتا بھی کیوں آخر خوشیوں نے ان کے آشیانے پر ہمیشہ کے لیے دستک جو دی تھی،
کھانے کے بعد دیر رات تک وہ لوگ وہی پر بیٹھے خوش گپیوں میں محو تھے،دورانِ گفتگو دریہ بیگم عنادیہ کو کئی طرح کی احتیاطی تجاویز اور ہدایات دے رہی تھیں مگر عنادیہ سے زیادہ توجہ سے سلسبیل ان کی ہدایات سننے میں مصروف تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن بہت تیزی سے گزرنے لگے تھے،جہاں سلسبیل اور عنادیہ کی زندگی نے ایک نہایت خوشگوار موڑ لیا تھا وہی سکندر ولا ہر وحشتوں کا ڈیرا وسیع ہوتا گیا،مہینے دنوں اور دن گھنٹوں کے حساب سے گزر رہے تھے،سات مہینے کیسے گزرے پتہ نہ چلا،ہیثم جہاں مکمل صحتیاب ہوا تھا وہی مہناز بیگم کی طبیعت روزبروز بگڑتی جارہی تھی،ہیثم کا اب مکمل دھیان آفس سے آنے کے بعد مہناز بیگم پر لگا تھا،وہ باقاعدگی سے ان کا علاج کروارہا تھا مگر ڈاکٹرز نے ان کی بگڑتی حالت کی وجہ کسی چیز کا گہرا صدمہ اور حد درجہ ٹینشن بتائی تھی،مہینوں میں ایک آدھ چکر عنادیہ بھی لگاتی تھی سکندر ولا کا،مہناز بیگم کی طبیعت نے اسے بھی بےحد فکرمند کیا تھا،اس نے سلسبیل سے وہاں رکنے کا مطالبہ کیا مگر پہلی بار سلسبیل نے عنادیہ کی کوئی خواہش رد کی تھی،کوئی اور وقت ہوتا تو شاید وہ مان جاتا مگر عنادیہ کی خود کی طبیعت ایسی تھی اور سلسبیل حد درجہ حساس ہوگیا تھا اسے لے کر،اس تمام عرصے میں ہیثم نے مطیبہ سے بات کرنے کی بھی بہت کوشش کی مگر اس کا رویہ ہیثم سے ہنوز بےرخی لیے تھا،وہ ہیثم سے بات تو دور اسے دیکھ کر ہی اپنا راستہ بدل لیتی،اور یہی پر ہیثم اس کی جانب اپنے بڑھتے قدم روک لیتا،مطیبہ کی روٹین جیسے بس دو جگہوں پر مشتمل ہوچکی تھی،آفس سے سکندر ولا آکر اپنے روم میں بند ہونا پھر دوسرے دن سیدھا آفس،کھانا وہ بہت کم سکندر ولا میں کھاتی اور وہ بھی جب ہیثم ولا میں نہ ہوتا تو خود بنا کر،ان اوقات میں اکثر مطیبہ مہناز بیگم کے کمرے کا چکر بھی لگاتی،فرخندہ کے عوض اسے مہناز بیگم کی بگڑتی حالت کا علم ہوا تھا تبھی ان سے طبیعت پوچھنے ضرور جاتی مگر وہاں جانے پر مہناز بیگم جب اس سے ہیثم کو معاف کرنے کی درخواست کرتیں تب بنا کچھ اور کہے مطیبہ اٹھ کر واپس اپنے روم میں چلی آتی،ان کی کہی یہ بات مطیبہ کے بس میں نہ تھی،ہاں اس کے بس میں نہیں تھا ہیثم سکندر کو معاف کرنا،
آج رات وہ جلدی لوٹا تھا آفس سے،سکندر ولا میں داخل ہوتے ہی رخ مہناز بیگم کے روم کی جانب ہوا،دروازہ ناک کرتا ہیثم اندر داخل ہوا،نظر بیڈ پر گئی تو مہناز بیگم کو اس نے آنکھیں موندے بیڈ سے ٹیک لگائے پایا،
“ماما۔۔”
انہیں دیکھ مطمئن ہوتا وہ مہناز بیگم کے پاس جا بیٹھا،
“آج کل کافی لاس ہورہا ہے مجھے بزنس میں۔۔محسوس ہوتا ہے کہ بابا کا یہ بزنس اب مجھ سے نہیں سنبھل پائے گا۔۔دل کا بوجھ بھی ہے کہ گھٹنے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔۔۔اگر یوں ہی چلتا رہا تو پاگل ہو جاؤں گا میں۔۔”
روز کی طرح وہ انہیں اپنی پریشانی بتاتا دل کا بوجھ تھوڑا ہلکا کرنا چاہا،الجھا ذہن حد سے زیادہ مصروفیات کے باعث تھکن سے چور ہوتا نیند کی وادیوں میں اترنے لگا تھا تبھی ہیثم جلدی سے سر جھٹکا،
“خیر چھوڑیں ان باتوں کو یہ بتائیں طبیعت کیسی ہے اب آپ کی۔۔”
سیدھا ہوکر ان کی جانب مکمل متوجہ ہوتا اب وہ پوچھا مگر دوسری جانب سے جواب اب تک ندار تھا،ہیثم کچھ ٹھٹھکا مہناز بیگم کو ہنوز ایک ہی پوزیشن میں دیکھ،کیا وہ سوچکی تھیں مگر اس نے کبھی اپنی آمد سے پہلے مہناز بیگم کو سوتا نہ پایا تھا،
“ماما۔۔”
اچانک گھبراہٹ سی اس کے پورے وجود میں دوڑی تبھی وہ انجانے سے خدشے کے تحت انہیں پھر پکارتا مہناز بیگم کا کندھا ہلایا مگر نتیجتاً مہناز بیگم کی گردن لڑھکی تھی اور وہ دائیں جانب بیڈ پر گریں،ہیثم جھٹکا کھا کر رہ گیا،بےیقینی سے پھٹی تھیں اس کی آنکھیں،دل کسی انہونی کا سوچ کانپ کر رہ گیا،اور اپنی بےتحاشہ خطرناک سوچوں کی نفی کرتا ہیثم جھکا تھا مہناز بیگم پر،
“ما۔۔ما اٹھیں۔۔”
خوف کے شدید احساس میں گھرا وہ یوں ہکلاتا کوئی بچہ لگا تھا جو اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے کے کھونے کا سوچ کر ہی بےحد ڈرا ہوا تھا،
“نہ کریں یار ایسا۔۔ماما۔۔اٹھ بھی جائیں۔۔”
ناجانے کیوں اس کا لہجہ بھاری ہوا،کچھ اور کہنا محال ہورہا تھا،دل بری طرح کانپنے لگا،وہ بےیقینی کی کیفیت میں گھرا روہانسا ہوتا اپنی ماں کو دیکھا،سمجھ نہ آیا کیسے انہیں اٹھائے،پتے کی مانند لرزتا دل شدت سے خواہش کیا تھا کہ وہ ابھی آنکھیں کھولیں،کپکپاتا ہاتھ بےساختہ ان کی ناک کی جانب گیا اور ہیثم سکندر کی بکھری ہوئی زندگی یکدم اندھیر ہوئی،حواس سلب جبکہ وہ خود ڈھیلا پڑا تھا،مہناز بیگم اس کی ماں،اس کا آخری سہارا سوچکی تھیں ہمیشہ کے لیے،
“یہ پچھتاوا میری جان لے لیگا۔۔”
ان کا کہا جملہ کہیں آس پاس گونجا،ہیثم کو اپنا سب کچھ ختم ہوتا دکھا،آخر ماں باپ کا جانا کسے برداشت ہوسکتا تھا،یہ واحد سوچ ایسی ہے جو ہر ایک کا دل کانپنے پر مجبور کردیتی ہے،
“ماما۔۔”
بےیقینی کے عالم میں تڑپ کر وہ چیخا تھا،کچن میں اپنے لیے پانی لیتی مطیبہ لرز کر رہ گئی اس وحشت ناک چیخ پر،
Episode 39
“سلسبیل کہیں اور چلتے ہیں۔۔؟”
رات کو آفس سے وہ جلدی آیا تھا وجہ عنادیہ کی آتی مسلسل کالز تھیں،اسے آئسکریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا تبھی اپنی مصروفیت کو برابر رکھتا سلسبیل اسے اب آئسکریم پارلر لے کر آیا تھا لیکن اب یہاں آکر عنادیہ کا یوں اچانک منع کرنا اسے چونکا گیا،
“لڑکی آئسکریم نہیں کھانی تمہیں۔۔؟”
سلسبیل حیرت میں گھرا اسے سے پوچھنے لگا جس کا خوشگوار موڈ ناجانے کیوں اب بدل گیا تھا،
“نہیں۔۔”
“پر کیوں۔۔؟”
“آپ کتنے سوال کرتے ہیں سلسبیل موڈ نہیں ہے کھانے کا تبھی منع کررہی ہوں نا۔۔”
اچانک عنادیہ کا یوں جھنجھلا کر بولنا سلسبیل کو ہنسنے پر مجبور کیا،ایک بھرپور نظر اس کے بھرے بھرے وجود پر ڈال سلسبیل مسکراکر عنادیہ کی جانب جھکا،
“تو کیا کھانا ہے جانم کو۔۔”
اس کے بالوں پر لب رکھتا سلسبیل محبت سے کہہ کر عنادیہ کے گرد چادر کو ٹھیک کیا،ان دنوں عنادیہ حد درجہ چڑچڑی سی ہوگئی تھی تبھی اس کے مزاج کو مدنظر رکھتا وہ نرمی برتا،
“کچھ کھانے کا موڈ نہیں۔۔ایسا کرتے ہیں مام سے مِل آتے ہیں۔۔”
کھڑکی سے باہر نظر ڈال کر وہ سلسبیل کو دیکھتی بولی،
“اس ٹائم۔۔”
سلسبیل ایک نظر رسٹ واچ کو دیکھا،رات کے گیارہ بج رہے تھے،
“ہاں تو۔۔زیادہ رات تھوڑی ہوئی ہے اور ویسے بھی مام اٹھی ہوئی ہوتی ہیں اس وقت۔۔چلیں نا سلسبیل۔۔”
اب کی بار وہ لہجے میں منت سموئے بولی تو نفی میں سر ہلاکر مسکراتا سلسبیل کار سکندر ولا جاتے رستے پر موڑنے لگا،فون رنگ کرنے پر عنادیہ دیکھی،مطیبہ کے نمبر سے کال تھی،
“ہیلو۔۔”
ریسیو کرتی وہ کان سے لگائی،
“آپی۔۔آپ۔۔رو کیوں رہی ہیں۔۔؟”
دوسری جانب سے مطیبہ کے رونے کی آواز پر عنادیہ حیران ہوکر پوچھی،مگر اگلے ہی لمحے جو خبر مطیبہ نے اسے سنائی عنادیہ کا دماغ بھک سے اڑا،کان سائیں سائیں کرنے لگے جبکہ خشک آنکھیں تیزی سے گیلی ہوئیں،
“عنادیہ۔۔”
اسکے سفید پڑتے بھیگے چہرے کو دیکھ سلسبیل فکرمند ہوا،
“مہ۔۔ما۔۔۔مام۔۔”
اس کا لہجہ بری طرح لڑکھڑایا تھا،سلسبیل کچھ غلط ہونے کے احساس پر عنادیہ کے ہاتھ سے فون لیتا کان سے لگایا،
“ہیلو مطیبہ۔۔”
کچھ دیر بعد روتی مطیبہ نے اسے بھی جب مہناز بیگم کی ڈیتھ کا بتایا تب لب بھینچتا سلسبیل کار کی سپیڈ کچھ تیز کرتا فون رکھا،نظریں عنادیہ پر گئیں جس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہنستا بستا گھر کیسے ویران سا ہوگیا۔۔”
کسی عورت کی آواز اس کے کان میں پڑی تو نم پلکیں اٹھاتی مطیبہ مہناز بیگم کی میت کو دیکھی،
“سالوں ہوئے اس گھر میں اب خوشیوں کا دور دور تک کوئی نشاں نہ رہا۔۔”
دوسری عورت نے اس عورت کو جواب میں کہا،ایک ٹیس سی اٹھی تھی مطیبہ کے دل میں،بھیگی نظریں زرا کی زرا اٹھیں تو سامنے ضبط سے سرخ ہوئے اس چہرے پر گئی جس کو دیکھ کر کوئی بھی بےپناہ درد کی پہچان لمحوں میں کرسکتا تھا،
کئی مرد اسے تسلی بخش الفاظ کہہ رہے تھے مگر وہ ان سب سے بےبہرہ بنا بس خالی نظروں سے اپنی کل کائنات کو پل میں لٹاتا خاموش کھڑا تھا،وہ جب اس کی چیخ پر مہناز بیگم کے کمرے میں گئی تب ہیثم کو اپنے بال جکڑ کر بےیقینی میں روتا دیکھ ساکت ہوئی،وہ بچوں کی طرح چیختے ہوئے ہوش میں بلکل نہ تھا اس ہیثم میں اور اب کے سامنے خاموش کھڑے ہیثم میں دو جہانوں کا فرق لگ رہا تھا،
سلسبیل گیسٹ روم سے نکل کر ہیثم کے پاس آیا،سکندر ولا آتے ہی مہناز بیگم کو دیکھ عنادیہ بےہوش ہوچکی تھی،ڈاکٹر نے سخت آرام کی تلقین کی تھی اسے،ابھی وہ نیم غنودگی میں تھی،کچھ دیر پہلے دریہ بیگم آئیں تھی فرمان کے ساتھ اور ابھی عنادیہ کے پاس سلسبیل انہیں ہی چھوڑ کر آیا تھا،
“میت کی تدفین کا وقت ہورہا ہے۔۔”
ایک عمر دراز شخص کی آواز پر سلسبیل ہیثم کے کندھے پر ہاتھ رکھا،لفظ میت پر اس کا دل ٹکڑوں میں بکھرا،گردن موڑ کر اپنی سلگتی آنکھیں جھپکتا وہ اثبات میں سر ہلایا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا کام تھا گزرنا اور وہ گزرتا رہا مہناز بیگم کی ڈیتھ کو دو مہینے ہونے کو آئے تھے اس عرصے میں اللّٰہ نے عنادیہ خوبصورت بیٹے سے نوازا،مہناز بیگم کی ڈیتھ پر جس قدر اس کی حالت خراب ہورہی تھی سلسبیل کافی حد تک گھبرایا تھا اس کی جانب سے،اس عرصے میں وہ کس طرح عنادیہ کو سنبھالا صرف وہی جانتا تھا،اپنی ماں کے جانے کے فوراً بعد اس خوشی کے ملنے پر عنادیہ روپڑی تھی،منتوں بعد ملی اولاد پر اسے وہ خوشی نہ ہوپائی جیسے وہ چاہتی تھی،ماں کے جانے کا غم ہی اتنا بڑا تھا کہ دل اکثر بھاری رہتا،اکثر و بیشتر انہیں یاد کر کے وہ بہت روتی مگر ان اوقات میں سلسبیل اور دریہ بیگم کی حد سے زیادہ کئیر اور محبت نے عنادیہ کو ٹوٹنے نہ دیا،
“سلسبیل۔۔”
ابھی وہ مینشن میں داخل ہی ہوا تھا کہ ہال میں اسے دریہ بیگم دکھیں،وہ گود میں اس کے بیٹے کو لیے بیٹھی تھیں،
“آپ سوئی نہیں ابھی تک۔۔”
وہ دیر سے لوٹا تھا اور انہیں اب تک جاگے دیکھ پوچھا،
“کچھ وقت اپنے پوتے کے ساتھ باتیں کررہی تھی بس۔۔”
مسکراتے ہوئے کہہ کر انہوں نے سبطین کے بھرے بھرے گال چومے تو وہ کسمساکر رونے لگا،
“عنادیہ کہاں ہے۔۔؟”
انہیں سبطین کو اپنی جانب بڑھاتے دیکھ سلسبیل اسے تھام کر پوچھا،باپ کی گود میں آتے ہی اس کا رونا بند ہوا تھا،
“کمرے میں ہے۔۔۔جب سے اسے پریشان کر رکھا تھا سبطین نے رو رو کر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میرے کہنے پر آرام کرنے گئی ہے۔۔”
ان کے بتانے پر سلسبیل سر اثبات میں ہلایا،
“کھانا نکلواؤں۔۔۔”
“نہیں گرینی بھوک نہیں۔۔”
انہیں نرمی سے جواب دیتا وہ اپنے روم کی جانب قدم بڑھایا،
“میری جانم کو پریشان کردیا گندے بچے نے۔۔”
کمرے میں داخل ہوتا وہ اپنی گود میں سوتے سبطین کو دیکھ بولا،بیڈ پر بیٹھی عنادیہ اس کی بات پر آسودگی سے مسکرائی،
“ہمارا بیٹا گندہ نہیں۔۔”
اسے سبطین کو بیڈ پر لیٹاتے دیکھ عنادیہ مسکراتے ہوئے بولی،
“جانتا ہوں۔۔۔اب یہ بتاؤ آج اتنی حسین مسکراہٹ لبوں پر سجانے کی کوئی خاص وجہ۔۔”
ان دنوں سلسبیل اسے زیادہ تر صرف اداس دیکھتا تھا پر آج عنادیہ کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوا،
“کتنی محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے سلسبیل۔۔؟”
اسے جواب دینے کے بجائے عنادیہ الٹا سوال کی تھی،
“وہ پیمانہ اب تک ایجاد نہیں ہوا جس سے سلسبیل مراد کی محبت ناپ لی جائے۔۔”
عنابی لب دلکشی سے مسکراتے ہلے تھے،عنادیہ خاموشی سے اس شخص کو دیکھے گئی،ذہن کے پردے پر دوپہر کا واقعہ گھوما جب سلسبیل والٹ گھر پر بھول گیا تھا تب اس کے والٹ کو وارڈروب میں رکھنے کے غرض عنادیہ اٹھائی لیکن اس ہی وقت ایک فولڈ ہوا پیپر گرا تھا والٹ میں سے،عنادیہ کا ارادہ اسے واپس والٹ میں ڈالنے کا تھا مگر وہ تھمی تھی اس فولڈ ہوئے پیپر کے وسط میں بڑے لفظوں میں “فرام عندلیب” لکھا دیکھ،عنادیہ نے تیزی میں کھولا تھا وہ پیپر اور اس کا ہاتھ بےساختہ لبوں پر گیا،کیسا شخص تھا وہ جسے اپنی محبت اس قدر قیمتی تھی کہ اس سے منسلک وہ خط تک اتنے سالوں بعد بھی اپنے پاس اتنی حفاظت سے رکھا تھا،عنادیہ کو بےاختیار اس شخص پر پیار آیا،
“کس سوچ میں گم ہو۔۔؟”
عنادیہ کے آگے چٹکی بجاتا سلسبیل پوچھا تو وہ چونکی پھر نفی میں سر ہلاکر آگے ہوتی سلسبیل کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی،سلسبیل کی جنونی محبت کے آگے کبھی کبھی وہ شرمندہ سی ہوجاتی،گزرے دنوں میں وہ کتنا پریشان کی تھی سلسبیل کو،مگر اب عنادیہ خود سے عہد کی تھی کہ چاہے اب کچھ بھی ہو وہ کسی اور کی وجہ سے سلسبیل سے کبھی بحث یا لڑائی نہیں کرے گی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو مہینے کے عرصے میں جہاں ہیثم کو گہری چپ لگی تھی وہی مطیبہ کی روٹین میں تھوڑا بدلاؤ آیا،زیادہ نہیں پر وہ غیر محسوس طریقے سے ہیثم کا تھوڑا بہت خیال رکھنے لگی تھی،وجہ اچانک ہیثم کی طبیعت کا دن بدن ڈل ہونا،وہ سامنا نہ کرتی اس کا مگر ہیثم کے صبح ٹیبل پر آنے سے پہلے ناشتہ تیار کر کے فرخندہ سے بھجوادیتی،یونہی شام کو کافی اور رات کے کھانے کی روٹین تھی،ہیثم سمجھ رہا تھا اس کا کئیر کرنے کا یہ انداز مگر ماں کے جانے کے بعد ایک آخری کلس جو اسے دیمک کی طرح روز ختم کرنے لگی تھی وہ مطیبہ کا اسے معاف نہ کرنا تھا،بےسکونی میں رہتا وہ بہت سوچنے کے بعد ایک فیصلہ کیا تھا جس پر عمل پچھلے دو ہفتوں سے کرتا آرہا تھا،
آج موسم ابر آلود تھا،کار سکندر ولا کی پورچ ہر روکے وہ سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے آنکھیں موند کر بیٹھا ہوا تھا،الجھا ذہن گزرے مہینوں کو سوچ رہا تھا،کیا کچھ نہیں کیا تھا وہ اس لڑکی کی معافی کے غرض مگر وہ جیسے اپنی نفرت سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی مگر اس سب میں مطیبہ کا بھی قصور نہ تھا،آخر کو یہ اس ہی کا تو کیا دھرا تھا ورنہ وہ لڑکی تو بچپن سے اس کے پیچھے پاگل تھی،بھائی بہن کی محبت میں اندھا وہ خود ہی تو اسے لاتعداد اذیتوں میں گھرا کر مطیبہ کے دل سے قطرہ قطرہ کر کے اپنی محبت نکالا تھا پھر اب کیسے امید کرلیتا کہ وہ لڑکی آسانی سے اسے معاف کردے،
بےتحاشہ تکالیف میں مبتلا وہ اپنی لہو ہوتی آنکھیں وا کیا،باہر اچانک برستی تیز بارش نے اس کی سوچوں کا ارتکاز توڑا،ایک کرب بھری مسکراہٹ نے اس کے باریک لبوں کا احاطہ کیا،برستے بادل اسے اپنے غموں کا ساتھ دیتے محسوس ہوئے تھے،کار کے شیشے کھولتا وہ آنکھیں پھر موندتا اندر آتی بارش کی ہلکی بوندوں کو محسوس کرنے لگا،اس سردی میں ٹھنڈی بوندیں بھی ہیثم سکندر کے اندر کی گھٹن کو کم کرنے میں ناکام رہیں،ٹائی تقریباً نوچنے کے انداز میں ڈھیلی کرتا وہ شرٹ کے اوپر دو بٹنز کھولا،عجیب بےکلی سی ہونے لگی تھی،سانسیں خود پر تنگ محسوس کر کے وہ گھٹن حد سے زیادہ بڑھنے پر کار سے نکلا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے روم کی کھڑکی پر کھڑی وہ باہر برستی بارش کو دیکھتے گزرے ماضی کا سوچ رہی تھی،کیا موڑ لیا تھا زندگی نے،جس شخص سے بلاجواز محبت کی اس نے اپنی نفرتوں بھری دھتکار اور اس کے کردار کو داغدار کہہ کر خود سے اسے نفرت کرنے پر مجبور کردیا اور پھر جب اس سے نفرت کرنے لگی تب وہ شخص اس قدر بکھر کر ٹوٹا کہ ناچاہتے ہوئے بھی وہ اس شخص کے لیے فکرمند ہونے لگی،ہاں یہ الگ بات تھی کہ دل اس شخص سے اب تک دُکھا ہوا تھا اور مہناز بیگم کی ڈیتھ کے اگلے مہینے ہی وہ سکندر ولا سے جانے کا سوچی تھی مگر ہیثم کی روز بروز بگڑتی طبیعت نے مطیبہ کو اپنی سوچ پر عمل کرنے سے روک دیا،
کئی سوچوں کے حصار میں قید جب مطیبہ کی نظر نیچے گئی تو وہ کچھ چونکی،پورچ میں اپنی کار سے ٹیک لگائے وہ تیز برستی بارش میں بڑھتی ٹھنڈ سے بےپرواہ بنا بھیگ رہا تھا،پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وجیہہ چہرہ نیچے جھکائے کوئی ہارا ہوا جواہری لگ رہا تھا،اسے یوں بھیگتے دیکھ مطیبہ کچھ بےچین ہوئی مگر جلد ہی سر جھٹک کر وہ روم سے نکلتی نیچے آئی،کچن میں آکر مطیبہ جلدی سے کافی بنانے لگی،
“فرخندہ۔۔”
کچھ دیر بعد کافی تیار ہونے کے بعد وہ فرخندہ کو پکاری مگر وہ کہیں بھی نہیں تھی،یقیناً وہ کسی کام سے سرونٹ کوارٹر گئی تھی،پہلے مطیبہ نے سوچا کہ اسے وہاں سے بلالے مگر تیز بارش میں اگر وہ سرونٹ کوارٹر تک جاتی تو مکمل بھیگ جاتی تبھی کچھ سوچ کر اس نے کافی کا مگ تھامتے ہوئے سیڑھیوں کا رخ کیا،
ہیثم کے روم کے دروازے پر پہنچ کر مطیبہ پلٹ کر ایک نظر نیچے دیکھی،وہ اب تک اندر داخل نہیں ہوا تھا،گہری سانس بھر کر مطیبہ نے آہستگی سے ناب گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا،دل میں دھڑکا لگا ہوا تھا،اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی وہ قدم روم میں رکھی تھی،لیمپ کی روشنی میں نیم تاریک کمرے کو دیکھ مطیبہ دھواں اڑاتی کافی کا مگ ڈریسنگ پر رکھی تھی،ارادہ مگ رکھ کر سیدھا روم سے جانے کا تھا مگر ایک انجانے احساس کے تحت اس کے قدم زنجیر ہوئے،اس کمرے میں وہ تقریباً دیڑھ سال بعد آئی تھی،مخصوص کلون کی خوشبو میں سیگریٹ کی مہک کا اضافہ ہوا تھا،اس کمرے کو دیکھ جھیل آنکھوں میں نمی اتری تھی،یہی تو جگہ تھی جہاں وہ ستمگر اس کی محبت کا مذاق بناتا ہر گزرتے دن تڑپاتا،اس کمرے سے صرف تکلیف بھری یادیں ہی منسلک تھی سوائے اس رات کہ جب وہ ستمگر اپنی توجہ کے چند پل اسے عنایت کیا تھا،
“میں۔۔نے۔۔کہا۔۔کھاؤ۔۔”
کس قدر چونکایا تھا یہ جملہ اسے جب مقابل اس کو کھانا کھانے کا کہا تھا،وہ ستمگر شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اس کی فکر کیا تھا،اس رات کا سوچ ایک دکھ بھری مسکان نے گداز لبوں کو چھوا اور اچانک مطیبہ کی سوچیں اڑن چھو ہوئی جب دھاڑ کی آواز سے دروازہ کھلا،
بری طرح بوکھلاتی وہ پلٹ کر عقب میں دیکھی جہاں ایستا وہ انگارہ ہوتی سرخ آنکھوں سمیت اسے دیکھ رہا تھا،اس عرصے میں پہلی مرتبہ ان دونوں کا باقاعدہ آمنا سامنا ہوا تھا،بھیگے کپڑے سرخ چہرہ اور بکھرے حلیے کے ساتھ ہیثم کی آنکھوں میں ہلکورے لیتے سرخ ڈوروں نے مطیبہ کو ایک پل میں جھرجھری لینے پر مجبور کیا،باہر برستی بارش کا شور،کمرے کا نیم تاریک ماحول اور سامنے دروازے پر دیو کی مانند ایستا وہ شخص،مطیبہ کو ہول اٹھنے لگے،دل گھبرایا تھا مگر جلد سنبھلنے کی کوشش میں اس کے برابر سے ہوتی وہ چہرہ بےتاثر بناتے باہر نکلنے لگی،
عین دروازے پر پہنچتے ہی ہیثم اس کے بازو کو پکڑ کر مطیبہ کو کھینچا تھا اندر ساتھ زور سے دروازہ بند کرتا اسے دروازے سے لگایا،اس کی پھرتی سے کی گئی کاروائی پر مطیبہ کے منہ سے ہلکی چیخ نکلی،دروازے پر لگتے ہی سر میں درد کی لہر دوڑی جبکہ سینے میں مدفون ہوا وہ پتھر دل آج جس زور سے دھڑکا اسے پسلیاں ٹوٹنے کا گمان ہونے لگا،وہ کانپ کر رہ گئی مقابل کی قربت پر،
“کیوں کرنے لگی ہو یہ سب۔۔”
وہ ڈریسنگ پر رکھے مگ کو دیکھ چکا تھا تبھی ان دنوں اس کے کئیر کرنے پر پوچھا تھا اب،
“کیا بےہودگی ہے۔۔۔ہاتھ چھوڑو میرا۔۔”
ہیثم کی جنونی گرفت واضح کررہی تھی کہ وہ ابھی ہوش میں نہیں،مطیبہ ڈری تو بہت تھی اس کے انداز پر لیکن لہجہ مضبوط بنائے سختی سے بولی،
“جواب دو کیوں کررہی ہو یہ سب۔۔۔”
اس بار وہ کچھ تیز آواز میں پوچھا کہ مطیبہ مکمل لرزی تھی،منہ سے اچانک چیخ نکلی،ایک مرتبہ پھر وہی خوف اس پر غالب آنے لگا جو اس ستمگر کی موجودگی میں پہلے ہوتا تھا،
“محبت کرتی ہو نا اب بھی مجھ سے۔۔”
کمرے میں بارش کے شور کے علاوہ مطیبہ کی تیز ہوتی سانسیں گونجنے لگی تھیں،اس پر ہیثم جذبات سے بوجھل لہجے میں کہتا جس نرمی سے اس کے گال جو چھوا تھا دل کی دھڑکنیں منتشر ہوتیں اس کے حواس معطل کرگئیں،
“ہیثم۔۔”
مطیبہ کے لب پھپھڑائے تھے،اسے دور کرنے پر مزاحمت کرتی وہ ہیثم کے بازو کی مضبوط گرفت اپنی کمر پر محسوس کرتی مچل کر رہ گئی،وہ کمزور نہیں پڑنا چاہ رہی تھی مگر مقابل کی گرفت ہی ایسی تھی کہ مطیبہ خود کو بےبس محسوس کرتی روہانسی ہوئی،
