Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 24)

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

بھاری ہاتھ کا تیز تھپڑ لگتے ہی مطیبہ کا دماغ سُن ہوکر رہ گیا،روئی جیسے نرم گال پر ایک کٹ کا نشان پڑا تھا جس پر سے خون کی ہلکی لکیر ابھری،سلب ہوتے حواس سمیت وہ پتھرائی نظروں سے ہیثم کو دیکھے گئی جو غضب بھرے تاثرات سمیت اسے گھور رہا تھا،سرخ آنکھوں کا قہر گواہی دے رہا تھا کہ وہ شخص ابھی شدت سے خواہش رکھتا ہے اسے مار ڈالنے کی،

“ہیثم۔۔”

مطیبہ کے لب پھڑپھڑائے تھے اور تبھی اسے بازو سے جکڑ کر وہ تقریباً کھینچتا ہوا وہاں سے لے کر گیا،

اب فلذہ ہناد کی جانب متوجہ ہوئی،جو ہیثم کی موجودگی میں معصوم صورت بنائے خاموش کھڑا تھا پر اب اس کے لبوں پر ایک خباثت بھری مسکراہٹ تھی،

“آج بچالیا۔۔۔ہمیشہ نہیں بچاؤں گی۔۔”

اسے دیکھتی فلذہ سنجیدگی سے کہی،

“ہنہہ آج بچایا بھی تم نے اپنے مطلب سے ہی ہے۔۔۔اب بتاؤ کیا کام کروانا چاہ رہی ہو۔۔۔”

اسے حذف اٹھاتی نظروں سے دیکھ ہناد پوچھا ساتھ ہی وارڈروب سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا،

“سابی سے بدلہ۔۔۔”

اس کے الفاظ پر ہناد جو روئی پر دوائی لگاتا چوٹ صاف کرنے لگا تھا رک کر اس پر نظر ڈالی،

“وہ تمہیں کہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔اس انسان سے میرے کچھ حساب نکلتے ہیں۔۔۔جب تک موت کی نیند نہ سلادوں اسے چین نہیں آئے گا۔۔”

سلسبیل کے بارے میں آتی سوچیں اس کا خون کھولانے کے لیے کافی تھیں،

“اوہ۔۔۔پھر تو اسے میرا احسان سمجھ لینا۔۔”

طنزیہ مسکراہٹ سمیت کہہ کر فلذہ مڑی،

“میں نہیں مانتا کہ تم نے مجھ پر کوئی احسان کیا آج۔۔۔بلکہ یوں کہنا ٹھیک رہے گا کہ میرے 7 سال پہلے تم پر کیے احسان کا بدلہ چکایا ہے۔۔۔”

وہ بڑی آسانی سے خود غرض بنتا اسے بار والے واقعے کا یاد دلایا،

“اتنا تو میں بھی جانتی ہوں بھائی کہ وہ آپ نے مجھ پر احسان نہیں کیا تھا بلکہ اپنی جیلسی میں کیا تھا سلسبیل کے ساتھ وہ سب۔۔۔آپ حسد کرتے تھے اس کی ذہانت اور قابلیت سے۔۔۔”

وہ بھی اس ہی کی بہن تھی،پلٹ کر بآسانی اسے آئینہ دکھاگئی،

“اور آپ کو تو ڈرنا بھی چاہیے مجھ سے کہ کبھی بھی میرا منہ کھل سکتا ہے پھر کیسے بچیں گے ہیثم بھائی سے۔۔۔”

تمسخر سے ہنس کر وہ ہناد کو تپانا چاہی مگر فلذہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی جب ہناد بجائے تپنے کے الٹا ہلکا سا قہقہہ لگایا،

اگر ایسا ہے تو ڈرنا پھر تمہیں بھی چاہیے مجھ سے کیونکہ جب میرا منہ کھلے گا تو تم بھی کہیں کی نہیں رہو گی۔۔

“کیا مطلب۔۔”

اس کے یوں بولنے پر فلذہ کو ناگواری محسوس ہوئی،

“مطلب صاف میری بہن۔۔۔دیکھو نا میں نے صرف اپنے دوست سے دھوکہ دہی کی پر تم۔۔۔تم تو دوست کے ساتھ ساتھ اپنی بہن کی بھی نہیں ہوئی۔۔۔تمہیں کیا لگا کہ میں نہیں سمجھ پاؤں گا کہ عندی کیوں محروم ہوئی قوتِ گویائی سے۔۔۔”

“وہ۔۔وہ کانچ کے ٹکڑے غلطی سے اس کے حلق میں چلے گئے تھے۔۔”

وہ اس کے ماضی کا کِیا گناہ بخوبی کھول رہا تھا جس پر فلذہ نگاہ چراتی جواز پیش کی،

“غلطی سے گئے تھے یا پھر جوس میں ملا کر پلائے گئے تھے۔۔”

انتہائی کڑوا طنز کہ فلذہ کا چہرہ سفید پڑا،

“آپ کیسے اتنے یقین سے کہہ سکتے ہیں۔۔”

“ڈاکٹرز نے بتایا تھا اس کی طبیعت بگڑنے سے چند منٹ پہلے ہی تم نے عندی کو جوس دیا تھا۔۔۔اس وقت میں نے پیسے دے کر ڈاکٹر کو پولیس کیس بنوانے سے انکار کروایا تھا مگر ہر بار ایسا نہیں ہوگا۔۔۔تو آئندہ خیال رکھنا۔۔۔”

سخت لہجے میں اسے باور کرواتا ہناد اب روئی کی مدد سے خون صاف کرنے لگا،چند پل تو فلذہ اسے گھورتی رہی پھر پیر پٹخ کر روم سے نکلی،اس کی پشت کو دیکھ ہناد تنفر سے سر جھٹکا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہیثم میری بات سنیں۔۔۔مہ۔۔فلذہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔”

بری طرح روتی ہوئی وہ ہیثم کے ساتھ بمشکل قدم ملاتی بول رہی تھی،کمرے میں لاکر وہ جھٹک کر اسے چھوڑا تھا کہ اوندھے منہ بیڈ پر گرتی وہ بھبھک کر رونے لگی،

“آج اپنی ایک اور بھیانک شکل دکھائی ہے تم نے۔۔”

دھاڑ کی آواز سمیت گیٹ بند کرتا وہ مڑ کر بیڈ کے قریب آتا بولا،مطیبہ جلدی سے بیڈ سے اترتی اس کے سامنے آئی،

“آپ قسم لے لیں مجھ سے وہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔۔۔میں غلط نہیں ہوں ہیثم ہناد بھائی۔۔۔”

“ہناد نے جھوٹ کہا فلذہ نے جھوٹ کہا۔۔۔سب جھوٹے ہیں صرف ایک تم سچی ہو ہے نا۔۔”

اس کی بات کاٹتا ہیثم مطیبہ کے دونوں بازوؤں کو گرفت میں لیتا جھٹکے سے اسے خود سے قریب کیے غرایا،

“میرا یقین کریں ہیثم۔۔۔وہ بہت پہلے سے مجھے پریشان کرتے آرہے ہیں۔۔۔”

کرب سے ہیثم کا چہرہ تھامتی وہ تڑپ کر روتے ہوئے بولی،

“اگر تم صحیح ہو۔۔۔تو پہلے ہی کیوں نہیں بتایا یہ سب۔۔بولو۔۔”

چہرے پر سے اس کا ہاتھ زور سے جھٹکتا ہیثم دھاڑتے ہوئے اسے جھنجھوڑا تھا،

“کیونکہ میں ڈرتی تھی۔۔۔ڈرتی تھی کہ کوئی یقین نہیں کرے گا میری بات کا۔۔۔یہ بات صرف فلذہ کو معلوم تھی اور اب وہ بھی۔۔۔”

مطیبہ کو سمجھ نہ آیا کیسے اسے یقین دلائے،آخر کار بےبسی سے وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بآواز روپڑی،

“یہ ڈرامے میرے سامنے نہیں چلیں گے مطیبہ جہانگیر۔۔۔تمہاری اصلیت سے پہلے ہی واقف ہوں۔۔۔پہلے اپنی جھوٹی محبت کے نام پر بہن کو مار ڈالا اور اب اس محبت سے دل بھرا تو چلی ایک اور جھوٹی محبت کی کہانی بنانے۔۔۔”

“ہیثم بس کریں۔۔۔”

اذیت بڑھی تو وہ چیختے ہوئے زمین پر بیٹھتی چلی گئی،اپنی محبت کی اس قدر تذلیل پر مطیبہ کو لگا ابھی اس کا دل درد سے پھٹ جائے گا،وہ سب برداشت کرسکتی تھی مگر اپنے پاک کردار کو خراب ہوتا نہیں،اور ابھی سامنے اس کا محبوب وہ شخص کتنے زہریلے لفظوں کا استعمال کررہا تھا اس کی پاک محبت کو بدنام کرنے کے لیے،

“اگر سچ جاننا نہیں چاہتے تو جھوٹے کو سچ مان کر میری محبت کی تذلیل نہ کریں۔۔۔پلیز۔۔”

اپنے بالوں کو جکڑ کر سر جھکائے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے اس سے فریاد کی تھی،باوجود کوشش ہیثم کی آنکھوں میں ٹہری نمی چھلکنے کو ہوئی،کیوں تھی وہ لڑکی ایسی جو اس قدر بری ہونے کے باوجود اپنے آنسوؤں سے مقابل کو رحم کھانے پر مجبور کردیتی۔۔۔،کیوں اس سے اتنا بدگمان ہونے کے بعد بھی ہیثم کا دل امید کررہا تھا کہ شاید۔۔۔،شاید وہ صحیح کہہ رہی ہو،پر دماغ،

دماغ نے جیسے صاف انکار کر ڈالا،آخر کو کبھی آنکھوں دیکھا جھوٹ ہوا ہے،ضرور وہ ایسی ہی تھی اور پھر فلذہ،وہ تو اس کی بیسٹ فرینڈ ہے،اس سے زیادہ کون جان سکتا تھا مطیبہ کو،جب وہ ہی بتارہی ہے کہ غلط مطیبہ تھی تو پھر اور کسی امید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا،رونے سے اس کا نازک وجود ہچکولوں کے زد میں تھا،وہ اب تک سر جھکائے اپنے بالوں کو جکڑی بآواز رورہی تھی،لب بھینچتا ہیثم جھکا پھر آہستگی سے مطیبہ کی تھوڑی تھام کر اس کا چہرہ اوپر کیا،

سرخ مترنم جھیل آنکھوں میں ہلکی سی امید ابھری کہ مقابل کو شاید یقین آیا ہو اس کی بے گناہی کا،نیم وا روئی روئی آنکھوں سے مقابل کی سرخ آنکھ دیکھتی وہ بھرائی آواز میں بولی،

“ہیثم۔۔۔صرف ایک مرتبہ مجھ پر یقین کرلیں۔۔”

ٹوٹے لہجے میں وہ تھک کر بولی تھی،

“کرلیتا اگر۔۔۔اگر تم بدکردار نہ ہوتی۔۔۔”

اذیت سے کہتا وہ مطیبہ کو پتھر کرگیا،سبھی الزامات ایک طرف مگر بدکردار کا لفظ اسے کسی طمانچے کی طرح لگا تھا اپنے منہ،پل میں خشک ہوتی بنجر آنکھوں سے وہ ہیثم سکندر کو دیکھتی رہ گئی،ناذلی کے معاملے میں وہ مانتی تھی کہ قصوروار وہ بھی تھی مگر اب،نہ کچھ پوچھا نہ اس کی سنی بس سیدھا بدکردار کا ٹیگ لگادیا گیا،اصل قصوروار ہر گناہ سے بری الزمہ تھا اور یہاں وہ ایک ناکردہ گناہ کی بدولت بدکردار کہلائی تھی،اس لفظ سے بہتر اسے ہیثم کا خود کو مار ڈالنا بہتر لگا،وہ اٹھا پھر روم سے نکل کر گیٹ بند کرتا چلاگیا مگر مطیبہ جہانگیر کو منوں مٹی تلے دو کوڑی کا کر ڈالا اپنے لفظ بدکردار سے،یکدم خالی ہوتے دماغ سمیت وہ اس بند دروازے کو گھورتی رہی جہاں سے وہ ستمگر ابھی نکلا تھا،صدمہ اس قدر گہرا لگا تھا کہ تڑپتا سسکتا دل ساکت ہوا اور لمحے کے ہزارویں حصّے میں مطیبہ کی آنکھوں میں اندھیرا چھایا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا کھانا خاموش ماحول میں کھایا گیا تھا،آج وہ گرینی سے بھی زیادہ بات نہیں کیا اور اب بیڈ پر لیٹا جب سے سامنے اون ایل ای ڈی پر نظریں مرکوز کیے سوچ میں گُم تھا،تھوڑی ہی دیر میں عنادیہ روم میں داخل ہوئی تو اسے سوچ میں گم دیکھ ڈریسنگ روم کا رخ کی،چینج کر کے جب باہر آئی تو دیکھا ایل ای ڈی پر میچ لگا تھا پر مقابل کا دھیان کسی طور وہاں نہیں تھا بلکہ اب تک وہ ناجانے کس سوچ میں ڈوبا تھا کہ عنادیہ کے آنے تک کو نوٹس نہ کیا،

صبح کا سوچ کر عنادیہ کے گال ہلکے گلابی پڑے پر جلد ہی اپنی سوچ جھٹکتی وہ ہمت کر کے بیڈ پر جا بیٹھی،کمفرٹر خود پر ڈالے اس نے کل کی طرح کونے میں اپنی جگہ بنائی سونے کی،خود کو کمفرٹر میں چھپائے وہ ابھی آنکھیں بند کی مگر اسے سخت الجھن ہوئی میچ کی تیز آواز کانوں میں پڑنے سے،مڑ کر وہ تپتے ہوئے سلسبیل کو گھوری جو خود تو سب سے بیگانہ اپنی سوچ میں محو تھا مگر اس کی نیند خراب پرسکون انداز میں کررہا تھا،

سلسبیل کو گھوری سے نوازتی وہ اس کے برابر سے ریموٹ اٹھاکر ایل ای ڈی بند کی اور تبھی سلسبیل چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا،ریموٹ واپس جگہ پر رکھے وہ دوسری کروٹ لیے سونے لگی مگر اگلے لمحے ہی پھر میچ کی تیز آواز نے نیند میں خلل پیدا کی تو وہ مڑ کر حیرت سے سلسبیل کو دیکھی جس کے تراشے لبوں دل جلاتی مسکان سجی تھی،وہ اس ہی کی طرف نظریں مرکوز کیا ہوا تھا،غصے میں اٹھتی عنادیہ پھر ریموٹ اٹھائی اور ایل ای ڈی بند کی ابھی وہ لیٹ ہی رہی تھی کہ سلسبیل نے بھی واپس اون کردیا،

عنادیہ گھوری تھی اسے ساتھ ریموٹ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھائی مگر اس سے پہلے ہی سلسبیل ریموٹ اٹھاکر اپنا ہاتھ پیچھے کیا،لبوں پر ہنوز تپادینے والی مسکراہٹ پھیلی تھی،عنادیہ جان گئی وہ پھر اسے تنگ کرنے کے موڈ میں ہے اس ہی لیے اب تحمل سے وہ ریموٹ کی جانب اشارہ کر کے مانگی ساتھ خوبصورت چہرے پر معصوم تاثرات لائے،ایک تو پہلے ہی بلا کا معصوم چہرہ اس پر سے مقابل کا یوں معصوم بننا،سلسبیل فوراً سے پہلے ایل ای ڈی بند کیا،اور وہ جو اب اس کے عمل پر پرسکون سی دوسری کروٹ پر لیٹی تھی یکدم خود پر بوجھ محسوس کرکے حیرانی میں گھری گردن موڑی،مقابل بلکل اس کے قریب برابر میں ہوکر اب آرام سے اس کے گرد بازو حائل کیا ہوا تھا،عنادیہ بوکھلاکر اٹھنے لگی مگر اس کا راستہ مسدود کیے سلسبیل گہری نظروں سے عنادیہ کے گالوں میں حیا کے رنگ بکھرتے دیکھنے لگا،

“جانم۔۔۔کیا غلطی ہوئی ہے مجھ سے جو یوں روٹھ گئی ہو۔۔۔”

اس کی تھوڑی پکڑ کر انگوٹھے سے عنادیہ کے لبوں کو سہلاتا وہ نرم لہجے میں پوچھا،اشارہ واضح عنادیہ کا اس سے بیگانہ رویہ برتنے پر تھا،

ادھر عنادیہ کی حالت غیر ہونے لگی مقابل کے انگوٹھے کو اپنے لبوں پر پھیرتے دیکھ،گھبراہٹ سے پلکیں لرزنے لگیں تھیں،

“مجھے دیکھو۔۔”

وہ سرگوشی کیا تھا جس پر بوجھل ہوتی پلکوں کو اٹھائے عنادیہ خود پر جھکے اس کے وجیہہ چہرے کو دیکھی،کمرے کا سحر انگیز ماحول اس پر مقابل کی پُرتپش نظریں،عنادیہ کے دل کی دھڑکنیں سوا تھیں،

“تم۔۔۔ڈری ہوئی ہو۔۔”

بغور اس کی کالی آنکھوں کو دیکھ وہ جیسے راز جاننے کی کوشش کیا تھا ان کے اندر کا اور عنادیہ نے گھنیری پلکوں کی جھالریں گرائیں اس ڈر سے کہ کہیں سبھی راز افشاء نہ ہو جائے،وہ بےیقین تھی کہ مقابل اس قدر جانتا تھا اسے کہ آنکھوں سے اس کا درد پڑھنے کا قائل تھا پھر کیوں وہ وجہ نہیں جان پارہا تھا اس کے درد کی،

“اس انسان کی آنکھیں نوچ لے گا سلسبیل مراد جس سے اس کی بیوی ڈرتی ہے۔۔۔بتاؤ جانم کون ہے وہ۔۔کس سے ڈری ہوئی ہو تم۔۔۔”

مقابل کے لہجے میں جنون دیکھ ایک پل کو عنادیہ کو بےتحاشہ حیرت ہوئی،کیا وہ اتنا جنونی تھا اس کے لیے،مگر وہ اسے کیا بتاتی کہ کسی اپنے کا ڈر ہی ہے جو اس کے حواسوں میں چھایا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ اتنے مہینوں سے اپنے گھر میں رہتے ہوئے بھی ڈری رہتی،

“تمہیں یاد ہے۔۔۔”

سلسبیل کی بھاری آواز پر وہ چونک کر اسے دیکھی،

“جب تم پہلے بہت زیادہ بولتی تھی تب میں تمہیں ڈانٹ کر چپ کروادیتا۔۔اس وقت میں بےحد چڑتا تھا تمہاری آواز سے مگر اب۔۔۔سلسبیل مراد ترس چکا ہے تمہاری آواز سننے کے لیے۔۔۔پلیز کچھ تو بول دو عندلیب۔۔۔”

عنادیہ کے لاکھ انکار پر بھی وہ اسے یوں ٹریٹ کررہا تھا جیسے عندلیب ہی ہو،اور اب کرب سے کہتا وہ عنادیہ کی پیشانی سے اپنی پیشانی لگاگیا،اس کا دل تڑپ کر رہ گیا تھا اپنے محبوب کو یوں کرب میں دیکھ،

“کیا تم بدگمان ہو مجھ سے۔۔۔اگر ایسا ہے تو کلئیر کرو آخر کیا ہوا ہے جو تم ایسا اجنبی رویہ رکھی ہوئی ہو مجھ سے۔۔۔”

آہستگی سے آنکھیں موندتا وہ ہلکی آواز میں پوچھا،عنادیہ کا دل درد سے کرلایا تھا،

“میں خدا کو حاضر و ناظر رکھتے ہوئے اعتراف کرتا ہوں کہ سلسبیل مراد نے اپنی زندگی میں اپنے ماں باپ اور گرینی کے بعد صرف تم سے بےپناہ محبت کی ہے۔۔”

عقیدت بھرے لہجے میں کہتا وہ عنادیہ کو رونے پر مجبور کیا لیکن اسے شدت سے غصہ آیا جب کالی آنکھیں ایک مرتبہ پھر خشک رہیں،وہ رونا چاہتی تھی بےتحاشہ رونا چاہتی تھی کہ ایک طرف مقابل کا یقین سے پُر لہجہ تھا تو دوسری جانب وہ مال میں ہوا واقعہ،کس پر یقین کرتی وہ،

“کیا تمہیں بھروسہ ہے میری باتوں پر۔۔۔”

اگلے ہی پل وہ آس لیے پوچھا تھا جس پر الجھنوں میں گھری عنادیہ بےساختہ نفی میں سر ہلائی اور سلسبیل کی امید ٹوٹی،اپنے لفظوں پر عنادیہ خود ہی تڑپ محسوس کی،دوسری جانب سلسبیل کی آنکھوں سے ایک بوند نکلتی عنادیہ کے عارض پر گری،وہ مضبوط انسان بےانتہا اذیتوں میں تھا مگر وہ اتنی جلدی رونے والوں میں سے ہرگز نہ تھا،اور تبھی اسے یقین ہوا کہ اس کی محبت یقیناً تڑپ میں ہے اسی وجہ سے اس کی آنکھیں نم ہوئیں،

“تمہاری آنکھ کے آنسو ہماری آنکھ سے نکلے،

تمہیں پھر بھی شکایت ہے محبت ہم نہیں کرتے۔”

یہ شعر بےاختیار سلسبیل کے لبوں سے سرگوشیانہ انداز میں نکلا تھا اور عنادیہ اپنی دل و دماغ کی لڑائی سے بےبس ہوتی اس محبوب کے سینے میں منہ چھپائے رو دی،سلسبیل نے آہستگی سے اس کے گرد دونوں بازوؤں کا حصار بنایا پھر اس کی پشت نرمی سے سہلاتا آنکھیں موند گیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ خبر مہناز بیگم تک بھی پہنچی تھی وہ جو پہلے ہی اپنے بچوں پر حد درجہ اعتماد اور محبت کرتی تھیں اب فلذہ کی زبانی سب سن کر پہلے تو انہیں یقین نہیں آیا تھا مگر جب ہناد نے بھی ہیثم کے مارے جانے کی بات اور اپنا نیل پڑا چہرہ انہیں دکھایا تب وہ بےحد بدگمان ہوئیں مطیبہ سے،انہوں نے اس ٹاپک پر اس سے بات تک کرنا گوارا نہیں کی تھی،مہناز بیگم کا شروع سے کہنا یہ تھا کہ دنیا غلط ہوسکتی ہے مگر ان کے بچے نہیں اس ہی بدولت وہ اب مطیبہ سے سخت خفا تھیں،ہیثم بھی رات کا گیا صبح بکھرے حلیے میں گھر میں داخل ہوا تھا،مہناز بیگم کو اس کی حالت پر دکھ ہوا مگر وہ جانتی تھی فلحال وہ کسی سے بات کرنا نہیں چاہتا،روم میں آکر جب اس کی نظر مطیبہ کے بےہوش وجود پر پڑی تو نفرت سے سر جھٹکتا وہ واشروم کا رخ کیا،آج آفس بند تھا تو فریش ہوکر وہ تیار ہوتا باہر گیا تھا تازہ ہوا کھانے،

دوپہر کو اسے ہوش آیا تھا،اپنے بھاری ہوتے سر کو پکڑتی بیڈ کا سہارا لے کر وہ اٹھی،گلے میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے تو وہ پانی کے لیے نظریں دوڑائی،سائیڈ ٹیبل پر رکھا جگ خالی دیکھ وہ روہانسی ہوئی،ہمت نہیں تھی باہر جانے کی مگر پیاس بھی بہت لگ رہی تھی،خود میں ہمت پیدا کرتی وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی،کل رات ہوئے واقعے نے اسے مکمل جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا،یوں لگا جیسے زندگی کچھ اور تنگ ہوچکی ہے اس پر،اس ستمگر کے زہریلے لفظوں کو یاد کر کے وہ اذیت سے آنکھیں میچ کر وا کی پھر بمشکل سر پکڑتی دوپٹہ سلیقے سے لے کر روم سے نکلی،سامنے کوئی ملازمہ بھی نہ دکھی جس سے پانی مانگ سکے،آخر خود سیڑھیاں عبور کرتی نیچے آئی،سامنے صوفے پر مہناز بیگم کسی سے محو گفتگو تھیں،مطیبہ جو انہیں دیکھتی قدم ان کی جانب بڑھانے لگی تھی اچانک رکی،ان کی نظروں میں اپنے لیے تنفر دیکھ،سر جھٹک کر اٹھتی وہ فون کان سے لگائے اپنے کمرے کا رخ کیں،مطیبہ کو الگ طرح سے اذیت ہوئی،تو کیا وہ بھی اس کی طرف سے بدگمان ہوچکی تھیں،گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹکا تھا جسے بمشکل گھونٹ کر وہ کچن کا رخ کی،دو گلاس پانی پینے کے بعد گلاس وہی سلیپ پر رکھتی وہ بھوک لگنے پر نظر دوڑائی،کل رات سے اب دوپہر ہونے کو تھی اسے بھوکے رہے،

“بہت افسوس ہوا۔۔۔”

عقب سے آتی آواز پر وہ مڑی تھی جہاں مقابل کمینگی مسکراہٹ اس پر اچھالے سلیپ پر مطیبہ کا رکھا گلاس اٹھایا،اسے دیکھتے ہی مطیبہ کے اندر و باہر نفرت کی ایک لہر دوڑی،گلاس میں پانی ڈالتا وہ گلاس لبوں سے لگایا،

“پانی کچھ میٹھا نہیں۔۔”

ایک مرتبہ پھر وہی خباثت بھرا لہجہ،مقابل کا ہر انداز بتارہا تھا کہ وہ اس کی بےبسی کا مذاق اڑارہا ہے کہ دیکھو تم غلط ٹہری سب کی نظروں میں اور میں گناہگار ہوتے ہوئے بھی بے گناہ بن گیا،شدید غصے میں مطیبہ کا چہرہ سرخ ہوا،ہاتھ بےساختہ سامنے سٹینڈ پر ہینگ چھری اٹھائے تھے اور ہناد جو ابھی حیران ہی تھا اسے چھری تھامتے دیکھ یکدم چیخ پڑا جب اچانک غصے میں پھینکی گئی مطیبہ کی چھری اپنے بچاؤ کے غرض آگے کرتے اس کے ہاتھ پر لگی،

“کیا ہورہا ہے۔۔”

ہناد کی چیخ پر مہناز بیگم گھبراتی ہوئی وہاں آئی مگر اندر کا منظر ان کی آنکھیں ابلنے کو مجبور کیا،چھری کے بعد مطیبہ نفرت سے اسے دیکھتی وہ گلاس ماری تھی جس ہناد کے سیدھا سر پر لگا،

“لڑکی رکو۔۔۔پاگل ہوئی ہو کیا۔۔۔”

اپنے بیٹے کو درد سے کراہتے دیکھ وہ بیچ میں آتی چیخی،

“اس انسان سے کہیں دور رہے مجھ سے۔۔۔اب بھی سکون نہیں ملا اسے۔۔۔اتنا تو برباد کردیا اب کیوں پیچھے پڑا ہے میرے۔۔۔”

اتنے دنوں کی بھڑاس نکالتے وہ یکدم حلق کے بل چلائی،ذہن جیسے کام ہی نہیں کررہا تھا،دل بس چاہ رہا تھا کہ اس انسان کو کسی بھی طرح مار ڈالے،

“بس کرو مطیبہ۔۔ہوش میں بھی ہو کیا بول رہی ہو۔۔۔اپنا گناہ میرے بیٹے پر ڈال کر تم برالزمہ نہیں ہوسکتی۔۔۔”

مہناز بیگم کا لہجہ بلکل اجنبی ہوا تھا اس سے،نخوست سے کہتیں وہ ہناد کی جانب متوجہ ہوئیں،جو سر پکڑے بری طرح کراہ رہا تھا،مطیبہ انہیں تکلیف سے دیکھی جو تائی ہونے کے باوجود اس سے ماؤں جیسی محبت کرتی تھیں مگر ابھی ان کا یہ رویہ اسے مکمل توڑ گیا،

“تم۔۔۔تم مروگے ہناد سکندر۔۔۔۔بہت بری موت مروگے۔۔۔خدا کا قہر برسے تم پر۔۔۔”

بےبسی میں اپنا آپا کھوتی وہ مسلسل چیخ رہی تھی،ادھر سکندر ولا میں داخل ہوتا ہیثم شور کی آواز پر کچن کی جانب آیا وہاں مطیبہ کو یوں چیختے اس نے ابھی دیکھا ہی تھا کہ مہناز بیگم نے جلدی سے اسے پکارا،

“ہیثم۔۔۔۔اس لڑکی کو یہاں سے لےکر جاؤ۔۔۔پاگل ہوچکی ہے یہ۔۔”

ہناد کا زخمی ہاتھ پکڑے وہ مطیبہ کی جانب اشارہ کرتی بولیں جو اب ہیثم کو دیکھ کر اس کی طرف بھاگی تھی،

“ہیثم۔۔۔یہ آدمی ابھی خود ہی یہاں آیا تھا اور مجھے جان بوجھ کر پریشان کررہا تھا۔۔۔میرا مذاق اڑارہا تھا۔۔۔یقین کریں میرا۔۔”

کل رات اس ستمگر کے سبھی الفاظ کو پرے کرتی وہ اپنا محافظ سمجھتی اسے جلدی جلدی بتارہی تھی،

“جھوٹ مت بولو مطیبہ۔۔۔میں نے خود دیکھا ہے کیسے تم چیزیں چلا کر ہناد کو ماررہی تھی۔۔۔دماغ جگہ پر ہے بھی یا نہیں تمہارا۔۔۔اپنا کردار سب کے سامنے کھلا تو میرے بیٹے کو نقصان پہنچانے لگی ہو۔۔۔”

مہناز بیگم اسے گھور کر تیز آواز میں بولیں جس پر ہیثم ایک نظر اپنا سر پکڑے مظلوم چہرہ بنائے ہناد کو دیکھا پھر مطیبہ کو جو مسلسل نفی میں سر ہلارہی تھی،اپنی ماں کا کہا آخر کیسے جھٹلا سکتا تھا وہ،

“تائی امی۔۔۔غلط میں نہیں یہ انسان ہے۔۔۔کردار اس کا خراب۔۔”

“بس کرو۔۔”

وہ جو بھیگے مگر بلند لہجے میں بول رہی تھی ہیثم کے اچانک جھڑکنے پر چپ ہوئی،اچانک اسے بازو سے پکڑ کر وہ کچن سے نکلتا باہر گیا،اس بار رخ اپنے کمرے کے بجائے گیسٹ روم کی طرف تھا،وہاں لے جاکر وہ جھٹکے سے مطیبہ کو اندر کیا،

“ہیثم۔۔”

“چپ۔۔بہت تماشہ دیکھ لیا تمہارا۔۔۔یہی پر رہو اب۔۔”

اس کو اپنی طرف آتا دیکھ ہیثم آنکھیں دکھاتا سختی سے بولا ساتھ ہی دروازہ بند کرتا باہر سے لاک کیا،

“سنو۔۔”

فرخندہ جو صفائی کے دوران چور نظروں سے اسے دروازہ لاک کرتے دیکھ رہی تھی ہیثم کے بلانے پر جلدی سے آئی،

“جی صاحب۔۔”

“کھانے کے اوقات کے علاوہ یہ دروازہ خبردار جو کھولا۔۔چابی رکھو اور اگر وہ لڑکی یہاں سے نکلی تو فارغ کردوں گا تمہیں یہاں سے۔۔۔”

فرخندہ کی نظروں میں مطیبہ کے لیے ترحم دیکھ وہ کرخت لہجے میں کہہ کر اسے چابی دیا ساتھ ہی سیڑھیوں کی جانب گیا،

“دروازہ کھولیں۔۔۔ہیثم پلیز یہ دروازہ کھولیں میں غلط نہیں ہوں۔۔۔یقین کریں میرا۔۔”

زوروں سے دروازہ پیٹتی مطیبہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہی پر بیٹھی تھی،بےبسی اتنی تھی کہ سانس لینا مشکل ہورہا تھا،کیوں سب اسے ہی غلط سمجھ رہے تھے،کیوں وہ ہی قصوروار دکھ رہی تھی سب کو،

“بابا۔۔۔”

تڑپ کر وہ چیخی تھی،اسے بےتحاشہ ضرورت تھی ایسے مشکل وقت میں اپنے باپ کی،اس باپ کی جو ہمیشہ اپنی شفقت کے سائے میں اپنی بیٹیوں کو رکھتا،باہر کھڑی فرخندہ افسوس سے گیسٹ روم کے بند دروازے کو دیکھ نفی میں سر ہلاتی کام میں لگی،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *