Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 27,28)

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

سکندر ولا کے پورچ میں کار روکتا وہ تیزی میں نکلا تھا،اندر داخل ہوتے ہی مضبوط قدم گیسٹ روم کے جانب ہوئے،ماتھے پر ہزاروں بل لیے وہ لاک کھولتا اندر داخل ہوا سامنے ہی وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی،ہیثم کی آنکھوں میں تنفر ابھرا اس کے ساکت وجود کو دیکھ،

“اب یہ نیا ڈرامہ سٹارٹ کیا ہے۔۔”

برہمی سے کہتا وہ آگے بڑھا،مقابل کا وجود ہنوز ساکت تھا،

“میں یہاں کھڑا بکواس نہیں کررہا ہوں۔۔”

وہ جھک کر اس کا بازو جھنجھوڑا مگر بےسود،لب بھینچتا ہیثم سیدھا ہوا،نظر دوڑانے پر سائیڈ ٹیبل پر پانی سے بھرا گلاس دِکھا،وہ اٹھاتا ہیثم واپس اس کے سامنے آیا،پھر مطیبہ کا جھکا چہرہ اٹھا کر پانی پھینکا،لمحوں میں ہڑبڑاکر وہ اٹھی،ناک میں پانی جانے سے بری طرح کھانستی وہ ہلکان ہونے کو ہوئی اور تبھی ہیثم کی بھاری آواز پھر ابھری،

“سوسائیڈ کا ڈرامہ کرنے سے تمہارے گناہ کم نہیں ہوجائیں گے۔۔۔”

ابھی وہ سنبھلی تھی کہ مقابل کی تنفر بھری آواز پر آنکھوں میں ناسمجھی لیے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی،

ایک پل کو تو ہیثم چونکا،ملگجے کپڑے،بکھرے بال آنسو کے مٹے نشان لیے عارض زردی مائل رنگت آج پورے ایک مہینے بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا اور ہیثم کو کہیں سے بھی وہ مطیبہ نہ لگی جو پہلے لگتی،جھیل مانند آنکھیں خالی تھی اور ان کے گرد گہرے ہلقے،وہ بےساختہ نگاہ چرایا،

“جواب دینا پسند کروگی کہ یہ میں کیا سن رہا ہوں۔۔؟”

لہجے کو ازلی سخت بنائے وہ استفسار کیا،مطیبہ اب تک ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی،

“کیا۔۔”

اس کی آنکھوں کی حیرت ہیثم کو کسی کھٹکے کا احساس دلانے لگی،

“تم نے۔۔۔سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔”

اب کی بار لہجہ تحمل لیے تھا ہیثم کا،

“نہیں تو۔۔”

یہ سن کر ہیثم شدید حیران ہوا،

“جھوٹ مت بولو مطیبہ۔۔مجھے فرخندہ نے بتادیا ہے۔۔”

اس کے مکرنے پر وہ غصہ ہوا،

“کون فرخندہ۔۔؟”

اور مطیبہ کے اس سوال پر ہیثم کو جھٹکا لگا،

“اوہ تو اب تم فرخندہ کو بھی نہیں جانتی۔۔۔ٹہرو۔۔”

اس کا اجنبی لہجہ کچھ برا ہونے کا احساس دلا رہا تھا مگر اپنی سوچ کی نفی کرتا ہیثم تپ کر بولا ساتھ ہی فرخندہ کو آواز دیا،کچھ ہی دیر میں وہ گیسٹ روم میں آئی،

“بولو اب۔۔کیا نہیں جانتی تم اسے۔۔”

فرخندہ کو اجنبیت بھری نظروں سے دیکھتی مطیبہ کو وہ بازو سے پکڑے پوچھا،

“نہیں۔۔”

اس کا جواب ہیثم کے ساتھ ساتھ فرخندہ کو بھی بےیقین کرگیا،

“بی بی۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔”

“مطیبہ کیا پروبلم ہے۔۔۔کیوں ایسے بی ہیوو کررہی ہو۔۔”

فرخندہ کو پہچاننے سے مسلسل انکاری پر وہ دھیمے لہجے میں دانت پیستے کہا ساتھ ہی اس کے بازو پر گرفت سخت کیا،

“آہ۔۔۔آپ ممہ۔۔میرا۔۔ہاتھ۔۔کی۔۔کیوں دبا۔۔رہے ہیں۔۔”

بازو میں اٹھتی تکلیف پر وہ حیران پریشان سی پوچھی،

“ساری باتیں چھوڑو۔۔یہ بتاؤ کہ تم کچھ دیر پہلے کیا کرنے لگی تھی۔۔۔”

“کچھ بھی نہیں۔۔”

لہجہ ازلی انجان تھا،ہیثم ٹھٹھک کر رہ گیا،

“بی بی آپ نے ہی تو کچھ دیر پہلے خود کو مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔”

فرخندہ کو حیرت کے ساتھ ساتھ شدید افسوس ہوا اس کی حالت پر،

“مہ۔۔میں نے۔۔نہیں مارا۔۔خود کو نہی۔۔نہیں مارا۔۔کس۔۔کسی کو۔۔نہی۔۔نہیں مارا۔۔ممہ۔۔میں نہ۔۔نے کچھ۔۔نہیں کیا۔۔نہی۔۔نہیں مارا کسی کو۔۔”

فرخندہ کے کہنے پر وہ آگے سے بڑبڑانے لگی،

“بی بی۔۔!”

“تم جاؤ۔۔”

وہ جو مطیبہ کی عجیب انداز میں کی گئی باتوں پر آگے بڑھ رہی تھی ہیثم کے حکم پر سر ہلاتی باہر نکلی،

“میں نے۔۔کسی۔۔کو نہیں۔۔ما۔۔مارا۔۔نہیں مارا کسی۔۔کو۔۔”

اس کے ہنوز بڑبڑانے پر ہیثم یکدم مطیبہ کے دونوں بازوؤں کو تھام کر جھنجھوڑا،

“کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔کیوں ایسا بی ہیوو کررہی ہو۔۔”

خود سے قریب ہیثم کے وجیہہ چہرے پر پتھریلے تاثرات کو وہ خاموش نظروں سے تکی گئی،

“وہ۔۔وہ کہہ رہی۔۔۔ہے۔۔می۔۔میں نے۔۔مارا۔۔ہے۔۔ہی۔۔ہیثم۔ میں۔۔نے۔۔نہی۔۔نہیں مار۔۔مارا۔۔ناذ۔۔ناذلی کو بھی۔۔نہیں مارا۔۔کچھ۔۔نہیں کیا۔۔میں نے۔۔”

اس کا ٹوٹے لہجے میں کچھ عجیب سا تاثر تھا کہ ہیثم کی گرفت بےساختہ ڈھیلی ہوئی،بےیقین نظروں سے مطیبہ کی عجیب باتوں اور حالت کو دیکھتا وہ پیچھے ہوکر اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتا لب دبایا،

“پاگل ہونے کا ناٹک کر کے اگر تم ہمدردیاں بٹورنے کا سوچ رہی ہو تو بہت غلط سوچ رہی ہو”

غصے میں بلند آواز میں کہہ کر وہ نکلا روم سے،ادھر اندر کھڑی مطیبہ خالی آنکھوں سے اس ستمگر کو جاتا دیکھ خاموشی سے نیچے بیٹھی،ماؤف ہوتا دماغ قاصر تھا مقابل کا رویہ سمجھنے سے،چھوٹے قدم اٹھاتی وہ کمرے کی قدآور کھڑکی پر جاکھڑی ہوئی پھر خشک آنکھوں سمیت باہر لان کو دیکھنے لگی،

“اکھڑی نیندیں،سیاہ ہلقے اور چند طعنے ہی آئے،

محبت میں سکون کدھر میسر آتے ہیں۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے ایک مہینے سے شیڈیول تھوڑا بزی رہا کچھ عفان سے وہ ہناد پر نظر بھی رکھوارہا تھا اور آج وہ عنادیہ کو لے کر سکندر ولا آیا تھا،اتنے عرصے میں وہ جان تو چکا تھا کہ اس کی محبوب بیوی بول سکتی ہے مگر وہ کیوں اس کے سامنے یہ ڈرامہ کررہی تھی یہ سوچ سلسبیل کی سمجھ سے بالاتر تھی،وہ خاموش تھا کہ عنادیہ سے زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا کسی بھی بات میں،وہ چاہ رہا تھا کہ عنادیہ بھروسہ کرے اس پر اتنا کہ خود بتائے اسے کہ آخر کون ہے وہ جس سے وہ اتنا ڈری ہوئی ہے،دوسری جانب سلسبیل کے نرم رویے اور انداز پر وہ جو پہلے ہی اس کی دیوانی تھی اب جو بدگمانی کا بیج دل میں اگا تھا وہ بھی مٹنے لگا،اس کا خوبصورت رویہ عنادیہ کو اکثر بہت خوش کردیتا پر ڈرتی کہ اگر اسے معلوم ہوگیا عنادیہ کی قوتِ گویائی کا تو بات سکندر ولا میں بھی جائے گی اور پھر اگر فلذہ کو یہ معلوم ہوا تو۔۔۔،یہ سوچ اکثر عنادیہ کو جھرجھری لینے پر مجبور کردیتی،اپنی بہن کی بھیانک شکل دیکھ جو چکی تھی،

“آؤ اندر۔۔”

کار سے اتر کر وہ ایک جگہ ہی ایستا وہ اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی،دل میں ڈر کنڈلی مارے بیٹھا تھا،تبھی سلسبیل کی بھاری آواز پر چونکی،خوبصورت چہرے پر گھبراہٹ کا انثر ظاہر ہوتا دیکھ سلسبیل اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر گویا ہوا،

“تمہارے ساتھ میں ہوں جانم۔۔۔”

نرم مسکراہٹ سمیت اس کے ہمت دلانے پر عنادیہ اثبات میں سر ہلاتی مدھم سا مسکرائی پھر اس کے ہم قدم چلنے لگی،

اندر داخل ہوتے ہی سامنے فرخندہ دکھی تھی،

“عندی بی بی۔۔آئیں نا اندر۔۔”

اسے دیکھ خوشی سے مسکراتی وہ ان دونوں کو صوفے پر بیٹھنے کا کہی مگر تبھی لان سے آتی مہناز بیگم کی نظر ان پر پڑی،اپنی ماں کی آنکھوں میں ناگواری اترتی دیکھ عنادیہ روہانسی ہوکر سلسبیل کا ہاتھ دبائی،اشارہ تھا واپس چلنے کا،

“توفیق ہو ہی گئی آنے کی۔۔”

روکھے لہجے میں کہتی وہ چند قدم اٹھا کر عنادیہ کے سامنے آئیں،

“اب یقیناً معافی مانگنے آئے ہوگے تم دونوں۔۔”

اب وہ سلسبیل سے مخاطب ہوئیں،

“معافی غلطیوں کی مانگی جاتی ہے اور سلسبیل مراد غلطیاں نہیں کرتا۔۔۔”

سرد لہجے میں کہتا وہ ایک ترچھی نظر ان پر ڈالا،

“تمہارے اندر بےحد اکڑ ہے۔۔”

اسے تاسف سے دیکھ انہوں نے کہا،

“جانتا ہوں۔۔”

“اتنا گھمنڈ اچھا نہیں ہوتا۔۔”

“یہ آپ مجھے بتارہی ہیں۔۔”

اور مہناز بیگم چند پل کے لیے چپ ہوئیں،سمجھ چکی تھی مقابل سے جیتنا آسان نہیں تبھی نفی میں سر ہلاتی اب عنادیہ کو دیکھیں،

“زیادہ کچھ کہہ کر میں دکھی نہیں کروں گی تمہیں۔۔۔آخر کو عزیز ہو تم مجھے مگر جو کیا صحیح نہیں کیا تم نے۔۔”

ان کی بات پر عنادیہ شرمندگی سے سر جھکاگئی،آنسو تیزی سے گال میں پھسلنے لگے،

“خیر ہونی کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔شاید یہ ہی تمہارا نصیب تھا پر میں خوش ہوں کہ چلو تم سے تو رویہ بہتر ہے “کسی کا”۔۔۔”

اسے بول کر انہوں نے آخر میں سلسبیل کو دیکھا جبکہ عنادیہ خوشی سے ان کے گلے لگی تھی،

“بیٹھو۔۔”

اسے چپ کراتیں وہ ان دونوں کو صوفے کی طرف اشارہ کر کے بولیں مگر سلسبیل کو وہاں کے ماحول میں کچھ عجیب محسوس ہوا،خاموش نظر ہر طرف ڈالتا وہ بیٹھا صوفے پر،

آج اتفاق اچھا تھا کہ فلذہ گھر پر نہیں تھی،اوپر اپنے کمرے سے پھر آفس کے لیے نکلتے ہیثم کی نظر سلسبیل پر پڑی تو وہ مسکراتا ہوا اس سے ملا،باتوں کے دوران عنادیہ کی متلاشی نظروں پر مہناز بیگم نے استفسار کیا،وہ مطیبہ کو ڈھونڈی تھی جس پر مہناز بیگم نے تھوڑا گھبراتے ہوئے اس کی طبیعت خرابی کا بہانہ بنادیا،کافی دیر تک وہاں بیٹھے رہنے کے بعد سلسبیل عنادیہ کو لیے نکلنے لگا،مہناز بیگم نے کھانے پر رکنے کا کہا پر وہ انکار کرگیا،باہر نکل کر سلسبیل عنادیہ کو کار میں بیٹھنے کا کہہ کر ہیثم کے ساتھ لان کی طرف آیا،

“خیریت بھائی۔۔”

وہاں پر آکر اس کے مسلسل خاموش رہنے پر ہیثم پوچھا،

“تم جب میرے گھر آئے تھے تب میں نے تم سے کچھ کہا تھا۔۔”

“کیا۔۔”

سلسبیل کی بات اسے حیران کرگئی تھی،اسکی ناسمجھی پر سلسبیل پیشانی پر ہلکی شکن لیے ایک غیر ارادی نظر ہر جانب دوڑایا اور کچھ دور ہی اسے گیسٹ روم کی کھڑکی دکھی جہاں اب تک مطیبہ کھڑی تھی،

“وہ بیوی ہے نا تمہاری۔۔؟”

اچانک سلسبیل اس سے پوچھا تو ہیثم نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کِیا،مطیبہ پر نظر پڑتے ہی وہ نگاہ چرایا،

“جی۔۔”

مختصر جواب تھا،

“حیرت ہے۔۔”

تاسف سے کہہ کر سلسبیل قدم اٹھایا دوسری جانب ہیثم کے ذہن میں یکدم سلسبیل کی مینشن میں کہی گئی بات یاد آئی اور وہ ٹھٹھکا،

“ایک منٹ بھائی۔۔”

سسلبیل کو روکتا وہ اس کے سامنے آیا،

“آپ کیوں اس طرح کی عجیب باتیں کرنے لگے ہیں جو میری سمجھ سے بلکل پرے ہوتی ہیں۔۔۔ڈائریکٹ کہیں کہ آخر کیا بات ہے۔۔”

کنفیوز ہوتا وہ پوچھا جس پر سلسبیل چند پل خاموش رہا پھر گویا ہوا،

“میں کسی کے نجی معاملے میں کچھ بولنا نہیں چاہتا مگر تمہیں بھائی مانتا ہوں۔۔۔تو صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ اپنی ذمہ داری سے اتنا بھی غافل نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا تمہارے ہاتھ لگے۔۔”

اس کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی،مقابل کا اشارہ سمجھتا ہیثم ایک نظر پھر مطیبہ پر ڈالا کچھ دور سے ہی اس کے چہرے پر چھائی پژمردگی واضح دکھائی دے رہی تھی،

“ایسا کچھ نہیں جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔۔”

سلسبیل سے مکمل نگاہ چرائے وہ آہستگی سے بولا،

“ایسا ہی ہے۔۔۔ہیثم۔۔تمہیں میں دوسروں کی طرح نہیں سمجھتا تبھی سمجھاتا ہوں سنبھل جاؤ کہ کہیں وقت نہ نکل جائے۔۔بعد کے پچھتاوے سے اب کا سنبھلنا بہتر ہے۔۔پانچ سال تک بینائی نہ ہونے کے باعث میری محسوس کرنے کی حِس حد درجہ بڑھی ہے اور سکندر ولا کی دیواریں مجھے کچھ بہت برا ہونے کا احساس دلارہی ہیں۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے جلد کچھ بےحد غلط ہونے والا ہے۔۔”

انتہائی گھمبیر لہجے میں اسے بتاتا سلسبیل جانے لگا،مقابل کی باتیں اسے حد درجہ پریشان کی تھیں،اپنے گھر کو دیکھ وہ پھر مطیبہ کو دیکھا،

“میری بہن کا خیال رکھیے گا وہ بہت معصوم ہے۔۔”

اس کو جاتا دیکھ ہیثم دھیمی آواز میں کہنے لگا،نظریں ہنوز مطیبہ پر تھیں،

“میں بنا تحقیق کسی بے گناہ کو سزا نہیں دیتا۔۔بھروسہ کرتا ہوں اپنی بیوی پر کہ وہ گناہگاروں میں سے نہیں۔۔”

سلسبیل کی بات اسے تھپڑ کے مانند محسوس ہوئی خود پر،بےیقین سا ہوتا وہ مڑا مگر تب تک سلسبیل مراد جاچکا تھا وہاں سے،اپنے سر پر ہاتھ پھیرتا وہ مڑ کر پھر مطیبہ کو دیکھنے لگا،کہیں وہ سچ میں گناہگار تو نہیں ٹہرا تھا،

“نہیں۔۔میں غلط نہیں ہوسکتا۔۔کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوا ہے۔۔۔اور مطیبہ کو تو دونوں گناہ کرتے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔”

دماغ نے اسے یقین دہانی کروائی تو سر جھٹک کر وہ آفس کے لیے نکلا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روڈ پر سنجیدہ نظریں جمائے وہ کار ڈرائیو کررہا تھا،سپاٹ چہرہ گہری سوچ کی عکاسی کررہا تھا،پیشانی پر ہلکی شکن لیے وہ بقیہ دنوں کے مقابلے عنادیہ کو کچھ خاموش لگا،چونکہ وہ آج بےحد خوش تھی مہناز بیگم کے نرم رویے پر تو اسے سلسبیل کا چپ رہنا کھلا وہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی کہ آج مقابل کی طرف سے وہ اس کے دل میں آئی ہلکی سی کدورت بھی ختم ہوچکی تھی،کچھ سوچتی وہ گہرا سانس بھری پھر ہمت کر کے ایک نظر سلسبیل پر ڈالی،

“سلسبیل۔۔!!!”

انتہائی گہری سوچ سے نکلتا وہ جھٹکے سے کار روکا،تین سال پرانی وہی مانوس آواز سلسبیل کو لگا جیسے وقت تھما ہو،شدید حیرت کے عالم میں گردن موڑتا وہ اپنی مکینِ دل کو دیکھا جو اسے پکار کر اب مسکرارہی تھی،کالی آنکھوں میں خوشی کی دمک دیکھ اسے لگا دنیا جہاں کی خوشیاں یک بیک اس کے قدموں میں لاکر رکھ دی ہوں۔۔۔،

وہ بول رہی تھی۔۔،مقابل بیٹھی اس کی محبوب بیوی بول رہی تھی،اسے پکاری تھی،بےتحاشہ خوشی میں گھرے سلسبیل زندگی سے بھرپور مسکرایا،

“تھینک یُو۔۔”

وہ نم آواز میں مسکراکر بولی،

“پھر بولو۔۔”

مقابل جیسے اب تک حیران تھا کہ وہ لڑکی اس پر بھروسہ کرنے لگی ہے،

“تھینک۔۔۔”

“نہیں میرا نام بولو۔۔”

اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے وہ سرگوشی کیا،

“سلسبیل۔۔!!”

“عندلیب۔۔!”

بےتحاشہ خوشی میں نیہال ہوتا وہ اس کو گلے لگاگیا،اس کی پشت پر ہاتھ رکھتی عنادیہ آنکھیں موندی تھی سکون سے،

“تمہاری آواز نے آج مجھے جس قدر مسرور کیا وہ قابلِ بیان ہے۔۔”

پرسکون لہجے میں کہہ کر وہ اس سے دور ہوا،

“تم سے بہت سی شکایات ہیں۔۔۔کافی وجوہات پوچھنی ہے مگر ابھی نہیں۔۔۔فلحال آج کی شام میری محبت کے نام۔۔۔”

اسے اپنی نرم نگاہوں میں لیتا وہ محبت سے چُور لہجے میں کہا ساتھ ہی کار سٹارٹ کیا،ادھر وجوہات کا سوچ کر عنادیہ کچھ پل کو اسے دیکھے گئی پھر سر جھٹک کر مسکرائی،وہ کم از کم آج پرسکون رہنا چاہ رہی تھی،کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ایک خوبصورت ریسٹورنٹ کے باہر تھے،سلسبیل کو مسکراکر دیکھتی وہ کار سے ابھی اترنے ہی لگی تھی کہ سلسبیل کا فون رنگ کیا،

“ایک منٹ۔۔”

انجان نمبر دیکھ وہ عنادیہ سے کہا ساتھ ہی کال ریسیو کی،

“ہیل۔۔ہیلو۔۔۔سلس۔۔سلسبیل مراد۔۔”

بھیگی نسوانی آواز پر سسلبیل کچھ ٹھٹھکا،

“کون۔۔؟”

“ممہ۔۔میں سنابِل۔۔”

دوسری جانب سے حد درجہ سہمی آواز آئی اور سلسبیل کے ذہن میں بےساختہ ایک مہینے پہلے ملی گئی وہ لڑکی آئی،

“خیریت۔۔؟”

اس کے ڈرے ہوئے لہجے پر خدشے کا احساس ہوا تبھی وہ تشویش سے پوچھا،برابر میں بیٹھی عنادیہ ناسمجھی سے سلسبیل کو دیکھ رہی تھی،

“تم۔۔پلیز یہاں آجاؤ۔۔۔۔۔ان لوگوں نے۔۔انہوں نے میرا گھر جلادیا۔۔وہ۔۔لوگ۔۔میرے پیچھے پڑے ہیں۔۔پلیز مجھے بچالو۔۔”

بولتے ہوئے وہ مسلسل رورہی تھی،ہناد کا سنتے ہی سلسبیل سختی سے لب بھینچا،آنکھوں میں خون اترنے لگا،

“کن لوگوں نے۔۔؟”

اس نے حیران ہوتے پوچھا،

“مجھے نہیں پتا۔۔۔تم۔۔تم پلیز مجھے بچالو۔۔وہ لوگ مجھے مار ڈالیں گے۔۔۔”

“اوکے۔۔۔تم پہلے ریلیکس ہو اور مجھے بتاؤ کہاں پر ہو ابھی۔۔”

اس کے مسلسل رونے پر سلسبیل نے کہا ساتھ ہی ایڈریس پوچھا،سلسبیل کے سوال پر وہ جلدی سے ایڈریس بتائی،کچھ دیر بعد فون رکھ کر اس نے عنادیہ کو دیکھا،

“کیا ہوا۔۔؟”

وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی پوچھی،

“جانم کل کا مکمل دن تمہارے نام۔۔ابھی کچھ ضروری کام ہے۔۔”

“کوئی بات نہیں۔۔”

نرمی سے کہہ کر وہ مسکرائی،دل تھوڑا بجھا تھا مگر جانتی تھی سلسبیل کی مجبوری ہی ہوگی،

“میری جانم۔۔”

آگے ہوکر اس کی پیشانی چومتا وہ محبت سے کہا ساتھ ہی کار سٹارٹ کرتا وہ عنادیہ کو مینشن میں چھوڑا،اس کے بعد سلسبیل کی کار کا رخ سنابل کے بتائے گئے ایڈریس پر گیا،کچھ دیر بعد ہی وہ اس جگہ پہنچا،یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا،وہاں کھڑے ہوکر سلسبیل نے اس ہی نمبر پر کال کیا،ریسیو کرنے پر سنابل کی آواز سنائی دی،وہ اسے اپنے آنے سے مطلع کیا جس پر کچھ ہی دیر میں سامنے بنے گھر کا گیٹ کھلا،کال رکھتا سلسبیل سامنے دیکھا،خود کو چادر سے کوور کیے وہ بھیگے چہرے سمیت اسے دیکھ رہی تھی،آنکھیں حد سے زیادہ رونے کے باعث بہت زیادہ سرخ ہورہی تھیں،

“تم ٹھیک ہو۔۔؟”

اس کے پیچھے گیٹ پر کھڑی بوڑھی عورت کو ایک نظر دیکھ سلسبیل پوچھا تو سنابِل نے نفی میں سر ہلایا،

“مجھ۔۔مجھے پلیز۔۔یہاں سے کہیں چلو۔۔ورنہ وہ لوگ یہاں بھی آجائیں گے۔۔۔”

اس کا انداز بتارہا تھا کہ وہ بہت ڈری ہوئی ہے،سلسبیل اسے کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر مڑتی وہ پہلے اس بوڑھی عورت کا شکریہ ادا کی پھر کار میں آ بیٹھی،

“اب بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔”

کار کو روڈ پر ڈالتا سلسبیل سنجیدگی سے پوچھا،

“صبح تک سب ٹھیک تھا لیکن شام کو میں جب کام سے اپنے گھر لوٹی تب دیکھا کہ میرا۔۔۔میرا پورا گھر بھڑکتے انگاروں کے زد میں تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم کیا ہوا مگر ہر طرف کھڑے لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔میرے گھر کے ٹھیک باہر چار آدمی کھڑے تھے۔۔۔میرے چیخ کر رونے پر وہ لوگ میری طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ان میں سے ایک نے کسی سے کال پر بات کی۔۔۔اور۔۔۔اور پھر وہ لوگ میرے پیچھے بھاگے۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہ آیا سوائے اس کے کہ مجھے بھاگنا ہے اور میں بھاگی۔۔۔میرا پیچھا کرتے وہ لوگ مسلسل مجھے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔۔۔کسی طرح میں وہاں سے بچ کر نکلی پھر اس گھر میں پناہ لی کچھ دیر کے لیے۔۔۔تمہارا دیا کارڈ میرے پرس میں تھا۔۔تو مجھے تمہارا خیال آیا اور میں نے۔۔۔”

بولتے ہوئے وہ رک کر پھر رونے لگی،اسے ایک نظر دیکھ سلسبیل ڈیش بورڈ سے ٹشو باکس اٹھاتا اس کی جانب بڑھایا،وہ اپنا رونا بھولے اس مہربان شخص کو دیکھے گئی جس کی زیرک نظریں ہنوز روڈ پر تھیں پھر اس سے ٹشو باکس لے کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی،

“تمہارے گھر میں اور کوئی تھا۔۔؟”

کچھ دیر بعد وہ ازلی سنجیدگی سے پوچھا،

“نہیں صرف میری بہن اور امی تھیں مگر اب وہ دونوں۔۔”

پھر ہچکیاں شروع ہوئیں اب کی بار سلسبیل خاموش ہوگیا،

“یہ سب اس ہی نے کروایا ہوگا۔۔۔”

کافی دیر بعد چپ ہوتی وہ بولی،

“کس نے۔۔”

“ہناد سکندر۔۔”

اس بار سنابل کا لہجہ نفرت لیے تھا،سلسبیل کچھ چونکا،

“یعنی تم خاموش نہیں بیٹھی۔۔”

سنابل حیران ہوئی تھی مقابل کے حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے یہ سوال کرنے پر،

“مطلب۔۔”

“مطلب صاف ہے۔۔یقیناً تم نے پھر پولیس اسٹیشن کا رُخ کیا ہوگا۔۔۔”

وہ استہفامیہ نگاہوں سے اسے گھور کر پوچھا جس پر سنابل نظریں جھکائی،

“ہاں تو۔۔تم نے کہا تھا کہ اسے عبرتناک موت ملے گی مگر ایک مہینہ ہوچکا تھا اور وہ آزاد گھوم رہا تھا۔۔۔تبھی میں کل۔۔۔”

“کل تم نے اپنی بہادری کا ثبوت دے کر پولیس اسٹیشن کا رُخ کیا۔۔۔رائیٹ۔۔۔”

اس کی بات کاٹتا وہ بولا،لہجہ سخت تھا،سنابِل کا چہرہ جھکا،

“تم بہت بےصبری ہو۔۔”

نفی میں سر ہلاکر وہ بڑبڑایا ساتھ ہی کار روکا،

“یہ کہاں لائے ہو۔۔”

سامنے بنے خوبصورت مینشن کو دیکھ وہ پوچھی،اس کا مشکوک لہجہ سلسبیل کو لب بھینچنے پر مجبور کیا،

“اتنی جلدی یہی ایک محفوظ جگہ ہے تمہارے لیے۔۔بعد میں کچھ انتظام کردوں گا۔۔”

“میں تمہیں زیادہ زحمت نہیں دوں گی۔۔جلد خود کے رہنے کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈ لوں گی۔۔”

ہلکی آواز میں کہہ کر وہ کار سے اتری،فرمان کو کار کی چابی پکڑاتا وہ سنابل کو ساتھ آنے کا اشارہ کیے آگے بڑھا،اندر داخل ہونے پر ہی ہال میں نظر عنادیہ اور دریہ بیگم پر پڑی،وہ دونوں کسی بات پر مسکرارہی تھیں لیکن سامنے کھڑے سلسبیل کے ساتھ اس انجان لڑکی کو دیکھ عنادیہ کی مسکراہٹ سمٹی تھی،

Episode 28

“گرینی یہ۔۔سنابِل ہے۔۔میں زیادہ تو اس کے بارے میں نہیں جانتا بس اتنا معلوم ہے کہ یہ لڑکی بےسہارا ہے۔۔۔اور۔۔۔”

عنادیہ کے ناسمجھ تاثرات دیکھ وہ سنجیدگی سے سنابِل سے ملنے سے لے کر اب تک کی ساری بات دریہ بیگم اور اسے بتایا سوائے اس کے کہ سنابِل کے پیچھے لگا وہ شخص کوئی اور نہیں ہناد ہے،

“اتنی جلدی کوئی گھر تو کیا فلیٹ بھی نہیں مِل سکتا تبھی میں نے سوچا کہ چند دن تک اسے یہی پر رکھوں پھر جیسے ہی اس کے رہنے کا انتظام ہوتا ہے یہ چلی جائے گی۔۔”

سلسبیل کی بات پر عنادیہ نے ایک نظر پھر کچھ فاصلے پر کھڑی سنابِل کو دیکھا،سر نیچے جھکائے وہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی،اس کے پاس آتی عنادیہ نرمی سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھی،

“آپ کی امی اور بہن کا سُن کر بےحد دکھ ہوا۔۔۔یقیناً کسی بھی لڑکی کے لیے ایسی سچویشن میں سروایوو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے تو پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا اور ویسے بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں آپ کے یہاں رہنے سے۔۔۔ہے نا گرینی۔۔”

خوش دلی سے کہہ کر وہ دریہ بیگم کو دیکھی جو اس کی بات پر نرمی سے مسکرائیں،سنابِل مشکور نظروں سے عنادیہ کو دیکھی تھی،دوسری جانب سلسبیل اپنی متاعِ جاں کی بات پر پرسکون ہوا،

“آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ۔۔میں آپ لوگوں کو زیادہ پریشان نہیں کروں گی۔۔۔بہت جلد چلی جاؤں گی یہاں سے۔۔”

وہ بھیگی مگر مشکور لہجے میں کہی،

“کوئی بات نہیں بچہ۔۔۔عنادیہ اسے گیسٹ روم میں لے جاؤ اور بیٹا آپ آرام کرلو تھوڑا۔۔۔”

دریہ بیگم نے شفقت بھرے لہجے میں کہا تو عنادیہ مسکراتی سنابِل کو لیے جانے لگی،

“آپ کا بھی شکریہ۔۔”

سنابِل رک کر سلسبیل سے مخاطب ہوئی جس کی نظریں عنادیہ کے خوبصورت چہرے پر مسکرانے سے پڑتے ڈمپل پر اٹکی تھی،وہ چونکا،

“شکریہ میرا نہیں میری بیوی کا کرو۔۔۔اگر وہ نہیں چاہتی تو میں تمہیں اس گھر میں کوئی جگہ نہیں دے سکتا تھا۔۔”

تھوڑا مذاقاً کہتا سلسبیل پھر عنادیہ کو دیکھا جو اسے گھور سے نوازی،ادھر سنابِل کے لب جیسے پیوست ہوکر رہ گئے ایک دوسرے سے،دل دھک سے ہوا اور وہ بجھے چہرے سمیت عنادیہ کو دیکھی،تو مقابل کھڑی وہ پیاری سی لڑکی اس شخص کی بیوی تھی،اندر کچھ ٹوٹا،

“چلیں۔۔”

عنادیہ کی آواز پر وہ چونک گئی پھر سر ہلاکر اس کے ساتھ چلی،

سنابِل کو گیسٹ روم میں چھوڑ کر وہ دریہ بیگم کے کہنے پر اس کا کھانا وہاں لے گئی تھی،عنادیہ کی کافی کوششوں کے بعد وہ تھوڑا بہت کھائی اس کے بعد عنادیہ اپنے چند کپڑے اسماء سے کہہ کر گیسٹ روم میں بھجوائی،کھانا سلسبیل،دریہ بیگم اور اس نے ساتھ کھایا پھر دریہ بیگم سے چند باتیں کرنے کے بعد جب وہ سوگئیں تب عنادیہ اپنے روم میں گئی،کمرہ خالی تھا،ڈریسنگ روم سے چینج کر کے جب وہ نکلی تو سلسبیل کمرے کا دروازہ بند کررہا تھا،عنادیہ کو دیکھتے ہی وہ اس کے جانب بڑھا،

“جانم۔۔”

محبت سے کہتا وہ عنادیہ کے گرد بازو حائل کیا،

“جھوٹی لڑکی۔۔”

وہ جو مسکراکر خود سے قریب اس محبوب کے وجیہہ چہرے کو دیکھ رہی تھی یکدم چونک گئی،

“جھوٹی۔۔!”

اس نے حیرت سے دہرایا،

“بلکل۔۔بول سکتی تھی مگر اتنے دن تک مجھ سے چھپایا۔۔”

“ویسے چھپایا کیوں تھا۔۔۔بتانا پسند کرو گی۔۔”

سلسبیل کے سوال پر عنادیہ کی مسکراہٹ دم توڑی،خوبصورت چہرے پر گھبراہٹ کا انثر دکھا،

“میں ضد نہیں کرتا۔۔جب تمہیں صحیح لگے تب بتادینا۔۔فلحال یہ بتاؤ کہ تمہارا نام عندلیب ہے یا عنادیہ۔۔؟”

اب وہ ذہن میں جب سے امڈتا سوال کیا جس پر عنادیہ پرسکون ہوتی ایک بار پھر مسکرائی،

“دونوں ہی میرے نام ہیں۔۔”

“اچھا۔۔کس نے رکھے تھے یہ دو نام۔۔؟”

“مام نے عندلیب رکھا تھا جبکہ ڈیڈ نے عنادیہ۔۔۔دونوں کی اکثر میرے نام پر بحث ہوتی اور آخر میں نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ لوگ مجھے عنادیہ کے نام سے جاننے لگے تو کچھ عندلیب۔۔”

وہ مسکراتے ہوئے اسے تفصیل سے بتانے لگی جبکہ سلسبیل کی نظریں بار بار اس کے گال پر پڑتے ڈمپل پر الجھ رہی تھیں،

“مجھے عندلیب نام پسند ہے۔۔”

پیار بھرے ہوئے میں کہتا وہ اس کی ستواں ناک سے اپنی ناک مِس کیا،

“پر مجھے عنادیہ۔۔”

مقابل کی محبت بھرے سحر میں گرفتار وہ آہستگی سے بولی،

“جو نام میری محبت کو پسند وہی مجھے قبول۔۔”

سرگوشیانہ لہجے میں کہتا وہ عنادیہ کے گال پر لب رکھا،

“تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہو نا۔۔”

لب ہٹاکر وہ عنادیہ کے کان کے قریب ہوکر پوچھا،مقابل کی گرم سانسوں سے بوکھلا کر اس نے اثبات میں سر ہلایا،تبھی سلسبیل اس کی تھوڑی نرمی سے تھام کر عنادیہ کا چہرہ اوپر کیا،

“سنو جانم۔۔۔یہ بھروسہ ہمیشہ قائم رکھنا مجھ پر کہ سلسبیل مراد صرف اور صرف تمہارا ہے۔۔۔”

دھیمے مگر مضبوط لہجے میں بول کر وہ عنادیہ کو لیے بیڈ پر آیا،اسے بیٹھاکر سلسبیل لائیٹس آف کرنے گیا،بیڈ پر بیٹھی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اسے لائٹس آف کرتے دیکھ عنادیہ اپنی مخروطی انگلیوں کو چٹخانے لگی،عارض سرخ پڑنے لگے تھے اس خود کے قریب آتے دیکھ،

“میں تمہارا احسان مند ہمیشہ رہوں گا کہ تمہاری وجہ سے آج میں ایک قابل اور کامیاب انسان بنا ہوں۔۔”

بیڈ پر اس کے قریب ہوتا وہ نرمی سے کہا،لیمپ کی روشنی میں مقابل کا وجیہہ چہرہ دیکھتی عنادیہ نفی میں سر ہلائی،

“آپ ابتداء سے قابل تھے اور میں نے جو کیا اپنی محبت میں بےبس ہوکر کیا تو اس بلندی میں پہنچنے میں پورا ہاتھ آپ کا ہے کیونکہ میں گرفتار آپ کی محبت میں ہوئی تھی تبھی وہ قدم اٹھایا۔۔۔”

وہ کتنی آسانی سے اپنے احسان کو اس کی محبت کا نام دے گئی تھی،بغور اس کی حسین آنکھوں کو دیکھتا سلسبیل آہستگی سے اس کے پنکھڑی مانند گلابی لبوں پر جھکتا چلاگیا،

“جب ڈاکٹرز نے کہا کہ تم نہیں رہی تب مجھے کسی طور یقین نہیں آیا۔۔۔”

کچھ دیر بعد لبوں کو آزاد کرتا وہ سرگوشی میں کہا ساتھ ہی عنادیہ کی صراحی دار گردن پر بنے ان دو تلوں کو اپنے عنابی ہونٹوں سے چھوا،مقابل کا نرم گرم لمس اپنی سفید گردن پر محسوس کرتی عنادیہ آنکھیں موند گئی،دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا،خوبصورت چہرہ اناری ہونے کو ہوا جب سلسبیل اس کا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا،

“ایک پل کو لگا کہ سب کچھ ختم ہوچکا ہو۔۔۔دل چاہا کہ وقت پلٹے اور تم لوٹ آؤ بھلے میری بینائی نہ ہو مگر تم ساتھ ہو میرے۔۔۔”

خوبصورت چہرے کے ہر نقش پر جا بجا اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا وہ انتہائی نرم لہجے میں سرگوشی کررہا تھا،

“دل کہتا کہ دنیا جھوٹ کہتی ہے۔۔۔میری عندلیب زندہ ہے اور تم جانتی ہو میں نے دلی معاملات میں ہمیشہ دل کی سنی ہے۔۔۔اور پھر اس ضدی دل نے تمہارے دیدار کا ہجر کاٹنا شروع کردیا۔۔۔”

مقابل کے کہے ہر لفظ نے اسے معتبر کیا تھا،خوشی اس کے اندر تک اتری تھی کہ وہ محبوب شخص اس قدر چاہتا ہے اسے،

“تمہارے ہجر نے بہت تڑپایا مجھے عندلیب سکندر۔۔۔”

اس کے کان میں سرگوشی کرتا سلسبیل عنادیہ کے کان پر لب رکھا،

“اپنے محبوب کے ہجر میں عندلیب سکندر بھی بہت تڑپی مگر اس کے پاس آنسو نہیں تھے کہ بہا کر دل ہلکا کر سکے۔۔میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں سلسبیل۔۔اب کبھی آپ کی جدائی برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔”

سلسبیل کے وجیہہ چہرے پر اپنا نازک ہاتھ پھیرتی وہ مترنم آواز میں بولی جس پر سلسبیل نے نرمی سے اس کی بھیگتی آنکھوں کو چوم لیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرخندہ کی زبانی یہ بات مہناز بیگم کو اور پھر دو دنوں میں سکندر ولا میں پھیلی،ان سبھی کو بےیقین کرگیا تھا مطیبہ کی دماغی حالت کا خراب ہونا،فلذہ نے اسے ڈرامے کا نام دے کر معاملہ سنبھالنا چاہا مگر مہناز بیگم نے اس عرصے میں پہلی بار مطیبہ کی حمایت میں کہہ کر ہیثم کو ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ لینے کا کہا،وہ کچھ گھبرائی تھیں اس کے عجیب رویوں سے،کبھی وہ انہیں پہچانتی تو کبھی بہکی بہکی سی باتیں کرتی کہ اس نے ناذلی کو نہیں مارا،ان سب میں جو بہت پرسکون تھا وہ ہناد تھا،پہلے سے ہی اس سے ملنے کے موقع کا متلاشی اب یہ خبر اس کے لیے کسی خوشی کی نوید سے کم نہ تھی،مہناز بیگم کے کہنے پر ہیثم ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ لیا تھا مگر آج رات ہی آفس کے کام کے سلسلے میں اسے دوسرے شہر جانا تھا،جانے والا پہلے ہناد تھا لیکن دوپہر تک اس نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا کہ کچھ ضروری کام کے باعث نا جا پائے گا اور نتیجتاً اب ہیثم اپنا سامان پیک کررہا تھا،اسے تین دنوں کے لیے جانا تھا،رات کو مہناز بیگم سے مل کر وہ سکندر ولا سے نکلنے لگا مگر کسی عجیب احساس کے تحت قدم باہر رکھنے کے بجائے گیسٹ روم کی جانب گئے،دروازہ کھول کر اس نے ایک نظر اندر دیکھا جہاں بیڈ پر لیٹی دنیا سے بے خبر وہ نیند کی وادیوں میں تھی،سر جھٹک کر ہیثم واپس دروازے بند کر کے سکندر ولا سے نکلا،ادھر وہ نکلا تو دوسری جانب ہناد کمینگی مسکراہٹ لیے سیڑھیاں عبور کرتا نیچے آیا،باہر پورچ پر تسلی کے غرض اس نے نظر ڈالی،ہیثم جاچکا تھا۔۔۔،

“میرا پیارا بھائی کتنا بھروسہ کرتا ہے نا مجھ پر۔۔۔”

طنزیہ لہجے میں کہہ کر وہ خباثت سے ہنسا،ساتھ ہی پلٹا،سامنے فرخندہ کھڑی تھی،

“اس وقت تک تم لوگ کوارٹر میں ہوتے ہو۔۔۔”

اسے دیکھ ہناد کچھ گھبرایا تھا کہ اس کی بڑبڑاہٹ نہ سن لی ہو فرخندہ نے تبھی تھوڑا غصے میں پوچھا،

“جہ۔۔جی صاحب۔۔میں تو بس۔۔مطیبہ بی بی کو دوائی دینے جارہی تھی۔۔۔ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا۔۔”

فرخندہ نے بمشکل اپنے گھبراہٹ بھرے تاثرات چھپاتے کہا،

“دوائی اور چابی رکھو یہی پر اور جاؤ کوارٹر پر۔۔”

“صاحب ہیثم صاحب نے منع کیا ہے۔۔۔کسی کو بھی۔۔چہ۔۔چابی دینے سے۔۔”

گیسٹ روم کی چابی سختی سے مٹھی میں دبوچتی وہ گھبراتے ہوئے بولی،اپنے اس مالک کی نیت کا تقریباً اندازہ تو ہونے ہی لگا تھا اسے تبھی مطیبہ کے خیال کے غرض وہ نہیں دینا چاہ رہی تھی چابی،

“جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔”

“صاحب دوائی رکھ دیتی ہوں۔۔چابی۔۔ہیثم صاحب غصہ ہوں۔۔”

“کہا نا چابی بھی رکھو یہی پر۔۔۔”

اب کی بار ہناد کی آواز بلند ہوئی تو سر جلدی سے ہلاتی وہ گیسٹ روم کی چابی اور دوائی ٹیبل پر رکھ کر تیزی میں گئی وہاں سے،جانتی تھی ہناد کا غصہ،فرخندہ کے جانے کے بعد ہناد ایک نظر ہر طرف دوڑایا،چونکہ رات دیڑھ بج رہے تھے تو اس وقت تک مہناز بیگم اور فلذہ اپنے کمروں میں سوچکی تھیں،لبوں پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہ گیسٹ روم کا رُخ کیا،

کمرے میں داخل ہوتا وہ گہری نظروں سے مطیبہ کے وجود کو گھورا،قدم بڑھا کر اس کے قریب آکر ہناد تھوڑا جھکا،

“مطیبہ۔۔”

اس کے گداز بازو پر ہاتھ رکھتا وہ پکارا ساتھ ہی اسے ہلکا سا ہلایا،مطیبہ تھوڑا چونک کر آنکھیں وا کی تھی،خود پر جھکے چہرے کو ناسمجھی سے دیکھتی وہ اٹھ کر بیٹھی،

“آپ۔۔”

“میں ہناد۔۔”

اس کے لہجے میں اجنبیت محسوس کیے ہناد کو یک گونہ سکون ہوا،

“میرے ساتھ چلو۔۔”

وہ کافی دیر تک ہناد کو ناسمجھی سے دیکھی تھی جیسے پہچاننے کی کوشش کررہی کو تب ہناد ہلکی آواز میں بولا،

“کہاں۔۔؟”

“چلو بتاتا ہوں۔۔”

اس کے نازک ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتا وہ لہجے کو نہایت میٹھا بناتے بولا تو ایک پل کو حیرت میں گھری مطیبہ بیڈ سے اٹھی،گیسٹ روم سے نکل کر ہناد اسے لیے سیڑھیوں کی جانب آیا،اپنا ہاتھ مقابل کی گرفت میں دیکھتی وہ مفلوج ہوئے ذہن کے ساتھ اس کے ہمقدم چل رہی تھی،اپنے کمرے کے باہر آکر ہناد مرتبہ پھر چاروں طرف نظر ڈالا پھر کسی کے نہ ہونے پر تسلی کر کے مطیبہ کو کمرے میں اندر لے آیا،اسے بیڈ پر بیٹھا کر وہ دروازے کے پاس گیا،

“سب کہاں ہیں۔۔۔؟”

اس کو گیٹ آہستگی سے لاک کرتے دیکھ وہ ناسمجھی سے معصومانہ سوال کی تھی جس پر ہناد اب مڑ کر فرصت سے اسکے نازک سراپے کو گھورنے لگا،اگر کو مطیبہ اپنے ہوش میں ہوتی تو سامنے کھڑے ہناد کی آنکھوں میں اپنے لئے حوس دیکھ کانپ کر رہ جاتی پر وہ ہوش میں ہوتی تب ناں،

اس ستمگر نے جن اذیتوں میں اسے گِھرا کر رکھا تھا،وہ نازک اندام لڑکی اب نیم پاگل سی ہوچکی تھی،سرخ و سفید رنگت میں گھلی ہلکی زردی،آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے اندر کی توڑ پھوڑ کی اکثر عکاسی کرتے پر جیسے اب وہ خود کو ان سب کا عادی بناچکی تھی،

“سب ابھی سورہے ہیں اپنے کمرے میں۔۔۔”

اس کے سوال کا جواب دیتا وہ بیڈ پر اس کے قریب ہوکر بیٹھا تھا،بہت دنوں سے اس موقع کا تلاشی وہ اب کیسے چھوڑ سکتا تھا اسے یونہی،

“ا۔۔او۔۔اور۔۔۔وہ۔۔؟”

مقابل کے گھٹیا ارادوں سے بلکل بےخبر وہ اس ستمگر کے بارے میں استفسار کرنے لگی،

“وہ گھر پر نہیں ہے سوئیٹ ہارٹ۔۔۔”

آہستگی سے مطیبہ کے چہرے پر آئی ریشمی بال کی لٹوں کو پیچھے کرتا وہ بولا ساتھ ہی اس کے تھوڑا اور نزدیک ہوا،

“آ۔۔۔آپ۔۔۔د۔۔دور رہیں۔۔۔مجھ۔۔مجھے اچھا نہیں لگ۔۔۔رہا۔۔۔”

اسکے حد سے زیادہ قریب ہونے پر وہ اٹک اٹک کر بولتے تھوڑا پیچھے ہوئی،کافی وقت سے مفلوج ہوا دماغ جیسے سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے لگا ہے،

ادھر مطیبہ کے ٹوکنے پر مقابل بیٹھا ہناد تمسخر اڑاتی ہنسی ہنسا پھر کہا،

“سوئیٹ ہارٹ میں تو تمہارے قریب اس لیے ہورہا ہوں تاکہ تم سے پوچھ سکوں کہ وہ تمہیں کتنا پریشان کرتا ہے۔۔۔بہت برا ہے ناں تمہارا شوہر۔۔۔”

اپنے سامنے بیٹھی مطیبہ کی خالی آنکھوں کو دیکھ وہ بھرپور چالاکی سے کام لیتا مصنوعی ہمدردی سمیت اسکی دکھتی رگ پر جیسے پیر رکھا تھا جبکہ مطیبہ تو مقابل کی بات پر دھیان بٹتے ہی جلدی سے بولنے لگی،

“و۔۔وہ برا۔۔۔ن۔۔نہیں ہے۔۔۔ب۔۔بس۔۔غصہ۔۔۔ہے مجھ۔۔۔مجھ سے۔۔۔حا۔۔حالانکہ۔۔می۔۔میں نے اسے بتایا کہ۔۔۔ج۔۔جو بھ۔۔بھی ہوا۔۔۔اس۔۔می۔۔میں میرا کوئی قصور ن۔۔۔نہیں پر۔۔۔پر وہ۔۔۔مانتا ہی ن۔نہیں۔۔۔”

پوری بات رک رک کر بمشکل کہتے آخر میں وہ سسکی جس پر مقابل بیٹھا ہناد کوفت سے آنکھیں بند کیا تھا پھر مطیبہ کی تھوڑی کو اپنے بھاری ہاتھ کی گرفت میں لیتا چہرہ اپنی جانب کیا،

“ایسا شوہر برا ہی ہوتا ہے جان۔۔۔جو اپنی بیوی پر بھروسہ نہیں کرتا۔۔۔مجھے دیکھو میں کتنا پیار کرتا ہوں تم سے ہے ناں۔۔۔”

مطیبہ کا سوگوار چہرہ اور نیم وا نشیلی آنکھیں دیکھ وہ پاگل ہونے لگا تھا،آنکھوں میں نفس کی خواہش پورا کرنے کا جنون لیے وہ انسان یہ تک بھول چکا تھا کہ مقابل بیٹھی لڑکی سے کیا رشتہ تھا اس کا،

“آ۔۔۔آپ مجھ سے۔۔۔پی۔۔پیار کرتے ہیں۔۔۔تو می۔۔میری۔۔ای۔۔ایک ب۔۔بات مان۔۔مانیں گے۔۔۔”

مقابل کی معنیٰ خیز باتیں کھوکھلے دماغ کی سمجھ سے کافی پرے تھی اس کی انگلیاں اپنی نازک کمر پر رینگتی محسوس ہوئیں تو وہ ایک عجیب سے احساس کے تحت تھوڑا پیچھے کھسک کر پوچھی تھی،

“ہاں جان۔۔۔تم جو بولو گی وہ کروں گا پر بدلے میں تمہیں بھی وہ کرنا ہوگا جو میں بولوں گا۔۔۔”

اسے پیچھے کھسکتے دیکھ وہ اب اس کی کمر کو اپنی گرفت میں لیے خباثت سے بولا،

“ممہ۔۔۔مجھے۔۔۔میر۔۔میری بہ۔۔بہن۔۔کے پپا۔۔پاس جانا ہے۔۔۔”

یہ بات کہتے اس کی آواز بھرائی تھی جس پر ہناد حذ اُٹھاتی نظروں سے اسے دیکھا،

“بلکل۔۔۔بس ایک مرتبہ میرا کام ہو جائے پھر میں ضرور تمہیں تمہاری بہن کے پاس پہنچا دوں گا۔۔۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا تمہیں بھی میری بات ماننی پڑے گی۔۔۔”

مطیبہ کے خوبصورت نقوش پر اپنے ہاتھ پھیرتا وہ بولا تو مقابل کی حرکت پر گھبراتی وہ ناسمجھی سے پوچھی،

“ک۔۔کونسی بات۔۔مم۔۔ماننی ہے۔۔۔”

“زیادہ کچھ نہیں جان۔۔۔بس یہاں پر جو ہوگا۔۔۔وہ تم کسی کو بتانا نہیں ٹھیک ہے۔۔۔”

اپنی بات رازدارانہ لہجے میں کہتا وہ آخر میں اس سے تائید چاہا تو مطیبہ نے پہلے تو اپنے ہلکے ہوتے دماغ پر زور ڈال کر مقابل کی بات سمجھنے کی سعی کی پھر کچھ سمجھ نہ آنے پر یونہی سر اثبات میں ہلادیا،

تبھی وہ آہستگی سے مطیبہ کے چہرے پر سے ریشمی مگر بکھرے اُلجھے سے بالوں کو پیچھے کرتا اسکے نرم گال پر اپنے لب رکھا تھا،پہلے ہی اس کے معصوم لہجے پر بہکا ہوا وہ اب اپنی نفس کی بھوک پر قابو نہ کرپایا،ادھر مطیبہ کو انجانا جھلساتا لمس گال پر محسوس ہوا تو بےساختہ ماؤف دماغ کے کونے میں ایک وجیہہ تصویر ابھری،اس ستمگر کی تصویر۔۔۔،جس کی تمام اذیتیں سہنے کے باوجود وہ اس قدر پاگل تھی اسکے آگے،وہ تو بےحد محبت کرتی تھی اس ستمگر سے،

دل بری طرح دھڑکا تھا یہ بات ہلکے ذہن کے پردے پر آتے ہی اور وہ پل میں ڈری تھی اس عجیب لمس سے تبھی گھبراکر پیچھے ہونے لگی،مگر تب تک دیر ہوچکی تھی،وہ وحشی اب آپے میں نہیں رہا تھا،آخر کو موقع غنیمت ملا تھا اسے،

گال سے گردن تک کا سفر کرتا وہ مکمل مدہوش ہوچکا تھا اور مطیبہ گردن پر ہوتی تکلیف سے بےاختیار چیخی ساتھ ہی کمرے کا دروازہ زور دار آواز کے ساتھ کھلا،یکدم ہوش میں آتا ہناد بوکھلا کر پیچھے ہوا،دروازے کی جانب نظر پڑتے ہی شدید گھبراہٹ میں اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سکندر ولا سے زیادہ دور نہ آیا تھا کہ اچانک عجیب سی گھٹن ہونے پر کار روکا،ناجانے کیوں شام سے اس کا دل عجیب ہورہا تھا،سلسبیل کی باتیں بار بار ذہن میں گھومتی اسے بہت بےچین کررہی تھیں،لاتعداد سوچوں کو جھٹک کر وہ کار سٹارٹ کرنے لگا مگر ہمت نہیں ہورہی تھی جیسے جانے کی،چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا احساس دلارہی تھی اور تبھی اس کا فون رنگ کرنے لگا،ہیثم نے جھٹ سے کال ریسیو کی دوسری جانب فرخندہ تھی،وہ اسے جلد سے جلد سکندر ولا آنے کا کہہ رہی تھی،پہلے تو ہیثم حیران ہوا مگر جب وہ گھبرائی ہوئی آواز میں اسے مطیبہ کے لیے آنے کا کہی تب ہیثم کے ذہن میں مطیبہ کی پہلے کی گئی خودکشی کی کوشش یاد آئی اور وہ فون رکھتا کار واپسی کے رستے پر موڑا،پندرہ منٹ کا راستہ پانچ منٹ میں طے کرتا وہ سکندر ولا پہنچا،لاؤنج میں ہی اسے بےتحاشہ گھبرائی ہوئی فرخندہ دکھی اس کے ہاتھ میں چابی تھی،وہ وجہ پوچھا تھا اسے یوں بلوانے کی جس پر فرخندہ اسے ہناد کے کمرے کی ڈیوپلیکیٹ چابی(جو کہ کی باکس میں سبھی کمروں کی چابیوں کے ساتھ رکھی تھی)پکڑائی،فرخندہ کا حد درجہ ڈرا چہرہ اسے کچھ غلط ہونے کا بتارہا تھا تبھی بنا اس سے کوئی سوال کیے ہیثم گیسٹ روم کی جانب گیا،وہ خالی تھا،بری طرح گھبراتے دل سمیت وہ بنا کچھ سوچے سمجھے سیڑھیوں کی طرف بھاگا،سیڑھیاں عبور کرتے ہیثم کے پیر لڑکھڑائے تھے،اگر کو جو انتہائی خطرناک حد تک برا خیال اس کے ذہن میں آیا تھا وہ سچ ہوا تو یقیناً اس کا دل بند ہوجانا تھا،بمشکل ضبط کیے وہ عین ہناد کے کمرے کے باہر کھڑا ہوا پھر تیزی میں لاک کھولتا وہ زور سے دروازہ وا کیے اندر داخل ہوا،

اور اسکی سوچ کے عین مطابق سامنے کا منظر وہی تھا،اسے لگا وہ شرم سے مرجائے گا،ہناد مطیبہ سے دور ہوتا اسے گھبرائے تاثرات سمیت دیکھ رہا تھا جس کی بےانتہا سرخ آنکھیں بیڈ پر بیٹھی روتی ہوئی مطیبہ پر تھیں،گردن پر ہاتھ رکھے وہ آنکھیں سختی سے میچ کر بےتحاشہ رورہی تھی،

“ہیث۔۔ہیثم یہ۔۔یہ خود میرے کمرے۔۔می۔۔”

“کمینے۔۔”

وہ جو اس کے لال بھبھوکا ہوئے چہرے کو دیکھ وضاحت دینے کی کوشش کررہا تھا اچانک اپنے چہرے پر ہیثم کے پڑتے پنچ پر چند قدم پیچھے ہوا،

“حرامی انسان۔۔۔”

اسے بنا رکے مارتا وہ حلق کے بل چِلایا،کچھ ہی دیر میں ادھ موا ہوتے ہناد کو وہ کالر سے کھینچتا نیچے لایا،اس کے مسلسل چیخنے پر شور ہوتے ہی مہناز بیگم اپنے کمرے سے نکلیں،فلذہ بھی مندمل آنکھیں ملتی حیران ہوئی نیچے کا منظر دیکھے جہاں ہیثم گھسیٹتے ہوئے ہناد کو گھر کے باہر پھینکا تھا،

“ہیثم کیا کررہے ہو۔۔؟”

مہناز بیگم غصے سے کہتیں ہناد کے پاس جانے لگیں،

“اس گھٹیا انسان کو چھوڑوں گا نہیں میں۔۔۔”

طیش میں کہتا وہ پھر اس پر ٹوٹ پڑا،درد سے پھٹتے سر میں بار بار مطیبہ کا بھیگا چہرہ آرہا تھا،کتنا روئی تھی اپنے حق پر بولی تھی،کس قدر یقین دلانے کی کوشش کی تھی اسے کہ وہ بےقصور ہے،

“وہ مرجائے گا ہیثم چھوڑو اسے۔۔”

ہناد سے اسے دور کرتی مہناز بیگم انتہائی غصے میں ہیثم جو گھرکیں،

“ہاں تو مرنے دیجیے۔۔۔یہ نیچ انسان اوپر مطیبہ کے ساتھ۔۔۔”

اشتعال میں چیختا وہ رکا ساتھ ہی پھر آگے بڑھا اس بار مہناز بیگم نے اسے تھام کر بلکل دور کیا ہناد سے،

ہیثم کی ادھوری بات کافی حد تک سمجھ چکی تھیں وہ تبھی بےیقینی میں ہناد کو دیکھیں،دوسری جانب فلذہ بھی گھبرائی تھی اس بات پر،

“کتنا نیچ انسان ہے یہ۔۔”

“تُو خود کتنا اچھا ہے۔۔؟”

اپنے گال سہلاتا ہناد لبوں سے نکلتے خون کو صاف کیے الٹا اس ہی پر بھڑکا،

“اپنی بیوی پر خود کو بھروسہ نہیں تھا اور آیا بڑا مجھے بتانے کہ میں نیچ انسان ہوں۔۔”

ہناد کی بات پر وہ مزید طیش میں آگے ہوا جس پر مہناز بیگم بھڑکیں،

“ہناد منہ بند رکھو۔۔ہیثم رکو تم۔۔”

“ماما میں اس کی جان لے لوں گا۔۔”

“ابے جا۔۔پہلے خود کو صحیح کر پھر ہناد سکندر کو مارنے کی بات کرنا۔۔۔”

اپنے چہرے کو سوجتا محسوس کر کے وہ تپا تھا تبھی اس پر طنز کرتا شدید غصے میں نکلا تھا سکندر ولا سے،ادھر مہناز بیگم کی قسم پر ہیثم بےبسی بھرے غصے میں انہیں دیکھا اور تبھی ذہن کے پردے پر اس کا خیال آیا جو بےگناہ اس کی دی سزائیں کاٹتی اب کس حال کو پہنچ چکی تھی،اپنے بازوؤں پر سے مہناز بیگم کا ہاتھ ہٹاتا ہیثم بھاگا تھا اوپر کی جانب،ہناد کے کمرے میں داخل ہوتا وہ بیڈ پر اسے نہ پاکر بوکھلایا،کمرے سے باہر ہر جانب متلاشی نظریں دوڑائیں تو وہ اسے چھت پر جاتی سیڑھیوں پر دکھی،

“مہ۔۔مطیبہ۔۔”

اسے پکارتا ہیثم اس کے پیچھے گیا مگر وہ ان سنا کرتی سیڑھیاں عبور کرتی چھت پر جاپہنچی،

“مطیبہ رکو۔۔”

اسے عین ریلینگ کے سامنے کھڑے دیکھ ہیثم گھبراکر رکا،یہ سوچ ہی اس کے حواس سلب کرنے کے لیے کافی تھی کہ مقابل کھڑی لڑکی کا اگلا قدم کیا ہونا تھا،

ایک مرتبہ پھر اس ستمگر کی پکار پر وہ مڑی تھی،

٫مطیبہ۔۔”

“آگے نہیں بڑھیں۔۔”

اسے اپنے پاس آتا دیکھ وہ اذیت سے چیخی اور ہیثم کے قدم تھمے،

“مہ۔۔میری بات سنو مطیبہ۔۔ادھر آؤ۔۔”

اس کے بلانے پر بھرائی آنکھوں سمیت وہ نفی میں سر ہلائی،

“بہت ہوا۔۔اب اور نہیں۔۔۔اور سکت نہیں ہے آپ لوگوں کی نفرت سہنے کی۔۔۔”

اس کے لہجے میں کرب ہی کرب تھا،شرمسار سا ہیثم تکلیف سے اسے دیکھا،

“سوری۔۔”

وہ ہلکی آواز میں بولا تھا جس پر مطیبہ بےتحاشہ تکلیف میں گھری ہنسی،

“بہت چھوٹا لفظ ہے اُس تہمت کے مداوے کے لیے۔۔۔”

مطیبہ کی بات سنتا وہ بےحد پشیمان ہوا مگر جلد ہی وہ ایک قدم آگے بڑھا مطیبہ کو ریلینگ پر پیر رکھتے دیکھ،

“نہ۔۔نہی۔۔نہیں۔۔رکو میں کہہ رہا ہوں مطیبہ ادھر آؤ۔۔”

بری طرح گھبراتے وہ لہجے کو سخت بنانے کی بھرپور کوشش کیا مگر ناکام رہا،اس کی آواز بہت کھوکھلی ہورہی تھی،

“کہا تھا نا آپ نے کہ موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کردیں گے۔۔اب دیکھیں مطیبہ جہانگیر سچ میں اپنی موت کی بھیک مانگتی ہے۔۔۔نہیں رہنا چاہتی اس سفاک دنیا میں۔۔۔مجھ۔۔مجھے تو نفرت ہوتی ہے خود سے کہ میں نے آپ سے محبت کی۔۔۔لعنت ہے ایسی محبت پر جس نے سوائے اذیت کہ مجھے کچھ نہ دیا مگر اب۔۔۔اب مطیبہ جہانگیر آزاد ہوجائے گی ہر اذیت،ہر تکلیف اور ہیثم سکندر کی بھیک میں دی گئی محبت سے۔۔۔”

اس کے الفاظ جس قدر شرمندہ کررہے تھے ہیثم کو اس کا دل چاہا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سماجائے،اذیت و شرمندگی کی اتھا گہرائیوں میں گِرا وہ مطیبہ کی گردن پر دانت کے نشان دیکھ سختی سے اپنی جلتی آنکھیں میچ گیا مگر اگلے ہی لمحے دھپ کی آواز کے ساتھ ہیثم جھٹکے سے آنکھیں کھولا،سامنے کسی کو ناپاکر اسے لمحوں میں اپنی زندگی خالی ہوتی دکھی،خوف سے سفید ہوتے چہرے سمیت وہ لڑکھڑاتے قدموں سمیت ریلینگ کے پاس آیا پھر لرزتے ہاتھوں کو ریلینگ پر رکھ کر نیچے دیکھا،اسے خود میں زرا دم محسوس نہ ہوا،سامنے جا منظر زیادہ بدلا نہ تھا بس اب وہاں ناذلی کی جگہ مطیبہ تھی،پیروں سے جان نکلنے کو ہورہی تھی نیچے پڑے مطیبہ جہانگیر کے وجود کو دیکھ،معطل ہوئے حواس سنبھالتا وہ لڑکھڑاتے ہوئے نیچے بھاگا،سب کچھ تو ختم ہونے کو تھا،دل کرب کی جس انتہا کو تھا اس سے بھاگنا محال ہورہا تھا،خود کے اور مطیبہ کے درمیان کا فاصلہ صدیوں کی مانند لگا تھا اسے،

نیچے پڑی وہ بمشکل سانس لیتی کھلے آسمان کو نیم وا دھندلی آنکھوں سے دیکھی تھی،اندھیر ہوتے ذہن میں اس ستمگر کا وجیہہ چہرہ آیا اور وہ تکلیف کی حدوں کو چھوتی اذیت سے مسکرائی ساتھ ہی مطیبہ کا وجود بےدم ہوا،

“یاد رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دورِ حیات ہم کو،

کیا خوب ترسے تھے ایک شخص کے خاطر،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کمینہ کہیں کا۔۔پورا چہرہ خراب کر ڈالا۔۔”

غصے میں بیک وییو مرر پر اپنا چہرہ دیکھتا وہ فل سپیڈ میں کار چلا رہا تھا،غصہ جس قدر شدید تھا اسے سمجھ نہ آیا کس رستے پر جارہا ہے،

“خود میں خامیاں ہے اور آیا مجھے۔۔ہناد سکندر کو نیچ کہنے۔۔ذلیل انسان۔۔”

تپ کر جو منہ میں آیا کہتا گیا وہ مگر اگلے ہی لمحے جھٹکے سے کار روکا،حیران نظریں روڈ کے عین بیچ میں کھڑی بلیک کار پر تھیں،

“اب اتنے سنسان رستے پر کس کو شوق چڑھا ہے کار بیچوں بیچ روکنے کا۔۔۔”

پہلے ہی وہ چہرہ خراب ہونے پر تپا ہوا تھا اوپر سے ہارن بجانے پر بھی جب کوئی نہ آیا تب وہ غصے میں کار سے نکلتا چیخا،

“مجھے۔۔”

کار کے پیچھے سے آتا گرے ہڈی میں وہ پراسرا شخص طنزیہ مسکراہٹ سمیت کہا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *