Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 35)

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

“صغریٰ چھوڑ دو میں کرلوں گی۔۔”

صبح لاؤنج میں بیٹھی وہ اپنے پیروں پر بام لگارہی تھی تبھی اس سے لے کر یہ کام صغریٰ کرنے لگی،اب اسے روکنے کے غرض مطیبہ منع کررہی تھی،

“نہ بی بی۔۔۔آپ نے میرے لیے اتنی آسانیاں کردی گاؤں سے میرے گھر والوں کو شہر میں شفٹ ہونے کے پیسے بھجوائے اب یہ سب تو میں آپ کے لیے کر ہی سکتی ہوں نا۔۔۔”

مشکور لہجے میں کہتی صغریٰ مسلسل اس کے پیروں پر اپنے ہاتھ چلارہی تھی،

“دیکھو کوئی آیا ہے۔۔”

ڈور بیل کی آواز پر مطیبہ نے کہا جس پر صغریٰ اٹھتی جاکر گیٹ کھولی،آنے والی ہستی کو دیکھ جھیل آنکھیں تنفر سے سکڑیں،اپنی طرف سے وہ مکمل کوشش تو کی تھی اسے تکلیف دہ الفاظ کہنے کی تو کیوں وہ اب پھر سے آیا تھا،

“صغریٰ یہیں پر رہو۔۔”

ہیثم کو لاونج میں آتے دیکھ صغری ہاتھ صاف کرتی کچن میں جانے لگی تبھی مطیبہ نے فوراً کہا،ڈر تھا کہ کہیں پچھلی مرتبہ کی طرح وہ پھر اسے چھونے کی کوشش نہ کرے،

“مجھے اکیلے میں بات کرنی ہے۔۔”

سنجیدگی سے کہتا وہ صغریٰ کو دیکھا تو اس نے سر ہلاکر پھر کچن کا رخ کیا،

“صغر۔۔”

“ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔”

وہ جو ہیثم کو گھورتی صغریٰ کو روکنے لگی تھی اس کے بولنے پر چپ ہوئی،ناگوار نظریں مقابل پر گئی تھیں،

“تو۔۔”

لہجہ ہنوز بےحسی لیے تھا اس کا،

“وہ تمہیں یاد کررہی ہیں۔۔”

مطیبہ کا لہجہ دکھی تو کیا تھا اسے تبھی ہلکی آواز میں بولا،

“تو۔۔”

پھر وہی مختصر سوال،ہیثم بےبس ہوا،

“مطیبہ گھر چلو پلیز۔۔”

“میں تمہیں اپنا فیصلہ سنا چکی ہوں۔۔”

مضبوط لہجے میں کہتی وہ پیر صوفے سے زمین پر رکھنے کی کوشش لگی،اس دوران پیر کے درد سے اٹھنے والی ٹیس کی تکلیف مطیبہ کے چہرے پر چھائی،ہیثم جھٹ سے آگے بڑھتا مدد کے غرض اس کا پیر پکڑا،مطیبہ کرنٹ کھاکر رہ گئی،خوبصورت چہرے پر وہی خوف کے سائے لہرائے جو اس ستمگر کے چھونے سے آتے تھے،

“ہ۔۔ہاتھ ہٹاؤ۔۔”

پل میں زرد ہوتے چہرے سمیت وہ چیختی وہ مکمل کوشش کی تھی لہجہ نہ ڈگمگانے کی،دوسدی جانب اسے آنکھیں پھیلائے دیکھ ہیثم فوراً سے پہلے دور ہوا،

“میں صرف مدد کررہا تھا۔۔”

مطیبہ کا چہرہ اب تک زرد پڑا ہوا تھا،ہاں وہ اب بھی اس ستمگر کے زرا سے لمس پر بھی گھبرا جاتی تھی،

“تمہیں کس نے حق دیا مجھے چھونے کا۔۔”

سکتے کی حالت سے نکلتی وہ اچانک غصے میں بھڑکی،ہیثم بےیقین ہوا تھا اس کا یہ انداز دیکھ،

“مطیبہ۔۔”

“سمجھ کیا رکھا ہے مجھے۔۔کھلونا ہوں تمہارے ہاتھ کا جب چاہا رکھا جب چاہا دھتکار دیا اور چھوا کس حق سے ہے تم نے مجھے۔۔”

اس کے غصیلے انداز کو دیکھ ہیثم سمجھ رہا تھا کہ وہ یقیناً بھڑاس نکال رہی ہے اپنی کیونکہ پیر چھونا کوئی بڑی بات نہ تھی،

“میں نے صرف۔۔”

“اوہ۔۔میں پوچھ بھی کس انسان سے رہی ہوں یہ بات ہیثم سکندر۔۔۔ہناد سکندر کا بھائی جنہیں ہر چیز بلکہ انسان اپنی ملکیت لگتا ہے اور انہیں چھونا وہ اپنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔۔”

بولتے ہوئے مطیبہ کے چہرے پر اذیتیں رقم ہونے لگیں،

“مجھے اس گھٹیا سے کمپئیر مت کرو مطیبہ۔۔۔میں اس جیسا بلکل نہیں ہوں۔۔”

ہناد کا نام اس کے منہ سے سنتے ہی ہیثم کا ضبط ٹوٹنے لگا تھا مگر پھر بھی تحمل سے کہا وہ،

“بلکل تم تو اس سے بھی گئے گزرے ہو۔۔”

“مطیبہ۔۔۔”

تڑپ ہی تو گیا تھا اس لڑکی کی یہ بات سن کر،

“ایسے مرد میری نظروں کی فہرست میں گئے گزرے ہی ہوتے ہیں جو بنا کسی تحقیق یا ثبوت کے غیر کی بات پر یقین کر کے اپنی بیوی کو بدکردار کہتے ہیں اور خوش ہوجاؤ ہیثم سکندر تم آج اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہو۔۔”

وہ جیسے قسم کھائی تھی اس شخص کو بھی انہیں لفظوں سے مارنے کی جو وہ اکثر اس پر آزمایا کرتا تھا،مطیبہ کے الفاظ اسے کسی طمانچے سے کم نہ لگے تھے،شرمندگی سے وہ نظریں اٹھانے کے قابل نہ رہا تھا،

“ٹھیک ہے میں ہوں گیا گزرا ایک گھٹیا مرد جو اپنی بیوی پر بدکردار کا ٹیگ لگایا تھا مگر مطیبہ تم خود سوچو ان الجھنوں میں گھرا میں کیسے یقین نہ کرتا آنکھوں دیکھے پر۔۔اور گواہ اگر غیر بھی ہوتا تو میں شاید نہ مانتا مگر وہ تو اپنے تھے۔۔۔”

بےبسی سے اسے اپنے تہیے میں سمجھانے کی کوشش کرتا وہ غیر ارادی طور پر پھر دل دکھایا تھا مطیبہ جہانگیر کا،تو کیا اسے اپنی بیوی پر یقین تھا ہی نہیں یا وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا،کیوں وہ شخص ہر جگہ صرف خود کو مظلوم تصور کرتا تھا،کیوں اس کے دل کے حالات نظرانداز کردیتا تھا،

“تو پھر آج اپنوں کو چھوڑ کر غیر کے پاس کیوں آئے ہو۔۔جاؤ تمہارے اپنوں کو ضرورت ہے تمہاری۔۔”

یکدم لہجہ بےرخی میں سموئے وہ بولی،

“نہیں کرو ایسا۔۔۔معاف کردو مجھے نہیں تو کم از کم ماما کو ہی۔۔”

“مجھ میں اب اور ظرف نہیں تم جیسے کم ظرف کو معاف کرنے کا اور بات جہاں تک تائی امی کی ہے تو ٹھیک ہے۔۔میں انہیں معاف کرتی ہوں۔۔اب جاؤ یہاں سے۔۔”

چہرہ موڑ کر وہ اپنا بھیگتا لہجہ بمشکل بےحسی میں بدلے آخر میں سخت انداز میں بولی،درد سے چور ہوا دل خون کے آنسو رورہا تھا،اس لیے نہیں کہ وہ شخص آج اس کے سامنے بےبس کھڑا تھا بلکہ اس لیے کہ اب اس شخص کے لیے اس کا بچپن سے دھڑکتا دل ساکت ہوچکا تھا،ہاں اسے اب فرق نہیں پڑتا تھا اس شخص کو اذیت میں مبتلا دیکھ،دکھ تو وہ اس بات پر کرتی کہ اپنی خالص اور نادان محبت کے لیے اس نے ایک غلط شخص کا انتخاب کیا تھا،

دوسری جانب اسے تکلیف میں گھرتا محسوس کرکے ہیثم میں ہمت نہ ہوئی کچھ اور کہنے کی،وہ معاف کرچکی تھی مہناز بیگم کو،اس کا یہ ظرف ہی ہیثم کے لیے کافی تھا،اب بس وہ اسے کسی طرح سکندر ولا لانا چاہ رہا تھا،جانتا تھا یہ مشکل ہے ہر ناممکن تو نہیں نا،تبھی پھر آنے کی امید لیتا وہ اپنے قدم پیچھے لیتا مڑا،

جب اسے لگا کہ وہ چلا گیا ہے تب رخ واپس اس گیٹ کے جانب کی جہاں سے وہ ستمگر ابھی نکلا تھا،اس کے جانے کے بعد جب سے کیا مطیبہ کا ضبط ٹوٹا،وہ نہیں رونا چاہتی تھی پر رو پڑی،مجبور تھی کہ اس شخص کو معاف کرنے کا ظرف ہی نہیں تھا اس میں اب،وہ وقت اسے بھولتا ہی نہیں تھا جب بےقصور ہوکر بھی وہ کبھی کسی کی حوس کا نشانہ بننے لگتی تو کبھی اس پر ہی سارے الزامات عائد کردیے جاتے اور تب۔۔۔،تب مقابل اس کا نام نہاد شوہر ہر ایک کی باتوں پر یقین کرتا اس کو قصوروار ٹہرا کر اپنی جانب سے تمام کوششیں کرتا اسے کرب میں مبتلا کرنے کی،اگر وہ اتنی ہی نفرت کا دعویدار تھا تو اب کیوں آتا تھا اسے منانے،گھر چلنے کا کہنے،کیوں روز اس کے بھرتے زخموں پر آکر پیر رکھ دیتا،وہ جتنا کوشش کررہی تھی سب کچھ بھلاکر اپنی زندگی شروع کرنے کا سوچے وہ شخص اتنا ہی رکاوٹ بن رہا تھا اس کے کام میں،

“چلے جاؤ تم بہت دور چلے جاؤ ہیثم سکندر مجھ سے۔۔۔نہیں کرسکتی میں تمہیں معاف کبھی بھی نہیں۔۔”

چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ زیرِ لب بڑبڑاتی بلک کر رورہی تھی،دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا اس کا سکندر ولا کے ہر مکین کی جانب سے،

مردہ قدموں سے باہر نکلتا وہ بھاری ہوتے دل سمیت عین چوکھٹ پر بیٹھا تھا،اپنے ہی ہاتھوں سے سب کچھ ضیائع کر کے اب خالی داماں ہی تو رہ چکا تھا،اس کا گھر گھر نہ رہا تھا،اس لڑکی کا دل بھی جس قدر دکھایا تھا وہ جانتا تھا کہ اب کبھی معافی نہیں ملنے والی اسے،اپنے گناہ کا کفارہ کرنا چاہتا تھا وہ پر شاید تقدیر اس معاملے میں اس کا ساتھ دینے سے گریزاں تھی،فلذہ کی گمشدگی،مہناز بیگم کی روز بروز بگڑتی طبیعت مطیبہ کی نفرت اور اپنے گناہ کے پچھتاوے کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ وہ تھکنے لگا تھا ان سب سے،چاروں طرف سے پریشانی میں گھرا وہ نیند کی کمی سے سرخ ہوتی ہلقہ آور آنکھوں کو مسلتا دُکھتا ہوا سر ہاتھ میں گراگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پہاڑی سے واپسی پر سلسبیل اسے لانگ ڈرائیو پر لے کر گیا تھا،اور اب دوپہر ہونے کے قریب وہ دونوں واپس گھر پر لوٹے تھے،اندر داخل ہوتے ہی سبھی طرف پھول بکھرے دیکھ ایک پل کو عنادیہ خوش ہوتی صوفے پر بیٹھی،

“اٹھو جانم۔۔۔پہلے صفائی کرلیتے ہیں پھر کھانا کھائیں گے۔۔”

اسے سکون سے صوفے پر آنکھیں موند کر ٹیک لگائے دیکھ سلسبیل نرمی سے بولا تو عنادیہ حیرت سے آنکھیں کھولتی اسے دیکھی پھر ہر جانب بکھرے پھولوں کو،

“صفائی کیوں کریں سلسبیل۔۔۔اتنا اچھا تو لگ رہا ہے یہ سب۔۔۔”

صوفے پر سے چند کلیاں اٹھاتی وہ سلسبیل سے کہی،

“ہاں مگر رات تک جب یہ سوکھ جائیں گے تو بہت برے بھی لگیں گے بہتر ہے ابھی صاف کرلیں۔۔اٹھو میں کار سے سامان لاتا ہوں۔۔”

اس کا گال تھپتھپاکر کہتا سلسبیل سیدھا ہوا تو عنادیہ بھی پھر بنا چوں چراں کے اٹھی،مینشن سے نکلنے سے پہلے وہ اسماء کو عنادیہ کے دو سوٹ اور چند ضرورت کے سامان پیک کرنے کی ہدایت دیا تھا اور فرمان سے اپنا اور عنادیہ کا سامان کار میں رکھوایا تھا،ہینڈ کیری کار سے لاتا وہ عنادیہ کے ساتھ مل کر صفائی کروایا تھا،آدھے گھنٹے بعد صفائی سے فارغ ہوکر عنادیہ نہانے کے غرض واشروم کا رخ کی تب تک سلسبیل کھانا اورڈر کرچکا تھا،جب تک وہ نہاکر نکلی کھانا آچکا تھا،اسے کھانا نکالنے کا کہتا سلسبیل خود بھی واشروم کا رخ کیا،

“ایک بات کہوں سلسبیل۔۔”

کھانے کے دوران عنادیہ مسلسل کچھ سوچتی سلسبیل کو مخاطب کی،

“کہو۔۔”

“ہم بسمہ کو ایڈوپٹ کرلیں۔۔”

سلسبیل کا ہاتھ رکا تھا اس کی بات پر،اسپون رکھتا وہ حیرانی سے عنادیہ کو دیکھا،

“میری بات تحمل سے سنیں سلسبیل۔۔ہماری شادی کو اتنا ٹائم ہوچکا ہے پر اب تک میں۔۔”

“تم ماں بننے سے محروم ہو اور تمہیں لگتا ہے کہ اولاد کی نعمت ہمیں کبھی نہیں ملے گی تبھی یہ خیال تمہارے ذہن میں آیا۔۔”

اسے سمجھانے کے غرض عنادیہ سلسبیل کے دونوں ہاتھ پکڑتی بولنے لگی تھی مگر اس کی بات کاٹ کر سلسبیل آگے سے کہا تو وہ چپ ہوئی تھی،

“عنادیہ ابھی شادی کو ٹائم ہی کتنا ہوا ہے ہماری جو تم یہ سب سوچنے لگی ہو۔۔یقین رکھو اللّٰہ پر وہ نوازے گا ضرور ہمیں اولاد سے۔۔”

سلسبیل کے پُریقین لہجے میں کہنے پر عنادیہ بےبسی سے اسے دیکھی،

“اور اگر ہماری اولاد کبھی نہ ہوئی تو۔۔۔”

اچانک بھیگتے لہجے میں وہ اپنے اندر امڈتے ڈر سمیت پوچھی،

“تو کیا ہم دونوں کافی نہیں ایک دوسرے کے لیے۔۔۔”

اس کا چہرہ تھام کر سلسبیل محبت سے پوچھا،

“سلسبیل۔۔!”

وہ ڈرتی تھی کہ مقابل بیٹھا وہ محبوب شخص جس طرح اسے ملا تھا اب ڈر ہی لگتا تھا کہ کبھی دور نہ ہو جائے اس وجہ کے تحت،

“ٹھیک ہے اگر تم بسمہ کو ایڈوپٹ کرنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی پرابلم نہیں پر شرط یہ ہے کہ آئندہ کبھی ہمارے درمیان اس طرح کے موضوع پر بات نہیں ہوگی۔۔۔جب مجھے یقین ہے اللّٰہ پر تو تمہیں کیوں نہیں۔۔”

سنجیدگی سے کہتے سلسبیل اس کی کالی نم زدہ آنکھوں میں دیکھا،عنادیہ حیران ہوئی تھی اس کے لہجے میں اس حد تک یقین محسوس کرکے،واقعی وہ دریہ بیگم کا ہی پوتا تھا خدا پر یقین رکھنے والا،

“اب اور کچھ۔۔”

اس کے خوبصورت چہرے پر خوشی کی دمک دیکھ سلسبیل مسکراتے ہوئے پوچھا،عنادیہ نے اثبات میں سرہلایا،

“کیا۔۔”

“ہم آج واپس چلیں۔۔”

عنادیہ کی بات نے اسے پھر حیرت میں مبتلا کیا،

“کیوں۔۔”

“پتا نہیں دل عجیب ہورہا ہے۔۔۔مام کی یاد آرہی ہے۔۔”

لاچارگی سے کہتی وہ سلسبیل کے کندھے پر ہاتھ رکھی،

“تو پہلے ہم اورفونیچ جائیں گے پھر واپس۔۔”

اس کے بال نرمی سے سہلاتا سلسبیل عنادیہ کے بالوں پر لب رکھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس سے لیٹ گھر پر آیا تھا وہ،مہناز بیگم کو کمرے میں سوتا دیکھ کر مطمئن ہوتا اب لاؤنج میں آکر صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا،صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے اس نے تھک کر آنکھیں موندلیں،اے سی کی ٹھنڈک نے بھی اندر کی گھٹن میں کسی کمی کا کام نہ کیا،

“مجھ میں اب اور ظرف نہیں تم جیسے کم ظرف کو معاف کرنے کا۔۔”

مطیبہ کی بات ذہن میں دیمک کے طرح چپک کر گردش کررہی تھی،وہ کس حد تک اپنا مقام گراچکا تھا اس لڑکی کی نظروں میں،کیوں وہ اس پر رحم نہ کھایا تھا کیوں اس پر یقین نہیں کیا تھا،اگر کو ایک بول ہی میٹھے وہ بول دیتا اسے تو شاید آج وہ اتنی بےحس نہ بنتی،

کچھ پلوں کے لیے ان سوچوں سے چھٹکارا پانے کے غرض وہ اپنا سر جھٹکتا کھڑا ہوا،رخ پھر باہر کی جانب تھا،کار میں بیٹھتا وہ کچھ دیر کے لیے ساحل سمندر پر جانا چاہتا تھا مگر منتشر ذہن اس قدر ہوا تھا کہ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد خود کو جہانگیر ہاؤس کے باہر پایا،وہ حیران ہوا تھا اپنے اس عمل پر،مطیبہ جہانگیر اس حد تک اس کے دماغ میں سوار ہوچکی تھی،بےیقینی کی کیفیت میں جہانگیر ہاؤس کو دیکھ وہ کار ریورس کرنا چاہا مگر پھر کچھ سوچتا نکل کر باہر آیا،قدم اندر کی جانب تھے،ڈور بیل پر ہاتھ رکھا تھا اس نے،سبکی بھی ہورہی تھی،اس وقت اسے وہاں دیکھ ناجانے کیسا رئیکٹ کرتی مطیبہ،

کافی دیر بعد گیٹ کھلا،صغریٰ کو سامنے حیران نظروں سے خود کو تکتا پاکر ہیثم اندر قدم رکھا،صغریٰ خود ہی برابر میں ہوئی،اندر آتا وہ الٹا خود شدید حیرت میں گھرا تھا مطیبہ کو اب تک صوفے پر بیٹھے دیکھ،

خود کو دیکھتے ہی مطیبہ کی نظروں میں ناگواری اترتے دیکھ ہیثم کو سخت پشیمانی ہوئی تھی،اسے دیکھ وہ کچھ پوچھ نہیں رہی تھی مگر ہنوز ناگوار نظریں اس پر گرائے صوفے پر ہاتھ رکھتی کھڑی ہوئی،کل کے مقابلے اب کافی بہتر لگا تھا اسے پیروں کا درد،

“تم۔۔نے ماما کو معاف کر ہی دیا ہے تو۔۔میں نے سوچا کہ۔۔”

“یہ کوئی وقت ہے کسی کے گھر پر یوں بلا اجازت آنے کا۔۔”

ہیثم کا ارادہ سمجھ چکی تھی وہ تبھی ایک نظر دیڑھ بجاتی گھڑی کو دیکھ فوراً سے پہلے اس کی بات کاٹی،جیسے سننا ہی نہ چاہ رہی ہو اس کے منہ سے وہ لفظ،کیوں کہ مقابل کو معاف کرنے کا ظرف اب نہیں تھا اس میں،

“جانتا ہوں ابھی جو تم سنوگی تو ضرور غصہ ظاہر کروگی۔۔۔کوئی حق بھی نہیں رکھتا میں یہ پوچھنے کا پر۔۔”

وہ خود اپنی حالت سے جیسے عاجز تھا،اس لڑکی کا دور رہنا گوارا ہی نہیں ہورہا تھا اور ہمت بھی نہیں تھی بولنے کی مگر پھر گہری سانس بھر کر ہیثم اس کی جانب بڑھا،

“جو بات ہے وہی کھڑے ہوکر کہو۔۔۔”

صبح مقابل کا لمس جس قدر خوفزدہ کیا تھا اسے اب وہ نہیں چاہ رہی تھی کہ ہیثم زرا قریب بھی آئے اس کے تبھی تیزی سے بولی،ہیثم کے قدم رکے،

“معافی کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔۔۔؟”

وہ جیسے آخری آس لیے پوچھا تھا،

“بلکل نہیں۔۔”

اٹل لہجہ تھا،

“مت کرو ایسا۔۔”

اذیت سے بولا تھا وہ،

“باہر کا راستہ وہاں پر ہے۔۔”

بنا اس پر کوئی نگاہِ غلط ڈالے وہ بےتاثر لہجے میں بولی،

“مطیبہ چلو یار گھر۔۔۔”

ہیثم ملتجی ہوا،

“میں “اپنے” گھر پر ہی ہوں۔”

مقابل لفظ اپنے پر زور دے کر مضبوط لہجے میں بولتی اسے کہیں سے بھی وہ مطیبہ نہ لگی جو اس کی ایک نظر پر بھی گھبرا سی جاتی تھی،

“پلیز۔۔”

“گیٹ بند کرتے جانا۔۔”

اب اس کا لہجہ کچھ یوں ہوا جیسے بیزار ہورہی ہو مقابل کی باتوں سے،آج پھر اس لڑکی سے ہار کر وہ اپنے قدم پیچھے لیتا مڑا،وجیہہ چہرے پر تکلیف کے آثار اندر کی اذیت ظاہر کررہے تھے،گیٹ کی طرف اس کے قدم تھے تبھی مطیبہ کی بےتاثر آواز پھر ابھری،

“طلاق نامہ بھجوادینا کل۔۔”

ہیثم تڑپ کر پلٹا تھا ساتھ اس لڑکی کو دیکھا،یہ الفاظ کہتے اس کے خوبصورت چہرے پر زرا بھی تکلیف دہ تاثر نہیں دکھا تھا،

“میں نہیں دوں گا تمہیں ڈیوارس۔۔”

وہ کرب بھرے لہجے میں بآواز بولا،اب کی بار مطیبہ اس کی جانب استہزیہ انداز میں دیکھتی دونوں آبرو اٹھائی،

“اچھا۔۔”

مذاق اڑانے والا انداز تھا اس کا،ایک پل کو ہیثم کو اس پر کسی پتھر کا گمان ہوا،

“ہر سزا قبول ہے مطیبہ پر ڈیوا۔۔”

“جاؤ یہاں سے۔۔۔”

وہ جو پھر اس کی جانب آتا بولنے لگا تھا مطیبہ کے یکدم تیز آواز میں کہنے پر اپنے قدم روکا،دل بےپناہ اذیتوں میں گھرا تھا،وہ بےبسی سے چند قدموں کی دوری پر کھڑی اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو کسی طور اس کے ساتھ رہنے یا اسے معاف کرنے کی متمنی نہ تھی،سر جھکا کر سختی سے آنکھیں میچتا وہ شدت سے اپنے کیے گئے سنگین گناہ پر پچھتایا،کیا ہوتا اگر کو وہ اس وقت صرف اعتبار کرلیتا مطیبہ پر،

“چلا جاتا ہوں لیکن میں پھر آؤں گا اور تب تک آؤں گا جب تک تم معاف نہیں کردیتی اب تم بھلے مرنے کے بعد ہی سہی پر کبھی تو معاف کروگی نا۔۔۔”

نم ہوتی پلکیں جھپک کر زرا سی امید کے تحت بول کر اس نے باہر کا رخ کیا،

“ہوسکے تو کبھی مت آنا کیونکہ مطیبہ جہانگیر تمہارے مرنے پر بھی تمہیں معاف نہیں کرنے والی۔۔”

مطیبہ کا لہجہ بےرحمی کی حدوں کو چھوا تھا،ہیثم لال بھبوکا ہوتا چہرہ لیے تیزی میں جہانگیر ہاؤس سے نکلتا چلا گیا،

مطیبہ آہستگی سے صوفے پر بیٹھی،ذہن میں خود کے ساتھ کی گئی اس ستمگر کی زیادتیاں آئی تو پتھر ہوئے دل میں اور نفرت سی ابھری،صبح وہ اپنی تکلیف پر روئی تھی مگر اب اس ستمگر کے چہرے پر بےپناہ اذیت و تکلیف دیکھ کر بھی اسے فرق نہیں پڑرہا تھا،کیا کرتی دل ہی پتھر ہوچکا تھا اس کی طرف سے،نہ اس کی موجودگی پر دھڑکتا نہ اس کی تکلیف پر تڑپتا،

جہانگیر ہاؤس سے تیزی میں نکلتا وہ کار میں بیٹھا،مطیبہ کے آخری جملے نے اس کا دماغ ماؤف کر کے رکھ دیا تھا،کیا سچ میں اس لڑکی کو ہیثم سکندر کی موت سے بھی فرق نہیں پڑنے والا تھا،اتنی بےحس ہوچکی تھی وہ،ہیثم کو شدت سے افسوس ہوا اپنی کی گئی زیادتیوں پر،ایک موم کی گڑیا کو کیا سے کیا کر کے رکھ دیا تھا اس کی نفرت و حقارت نے،

کار سٹارٹ کرتا روڈ پر ڈال کر وہ اسپیڈ تیز کرنے لگا،

تو کیا وہ سچ میں کبھی اسے معاف نہ کرتی،اس قدر نفرت کرتی تھی اس سے کہ اب ہیثم کے ساتھ تو دور کی بات اسے دیکھنا تک گوارا نہ کررہی تھی،

“تم نے اپنا ضیائع خود کیا ہے ہیثم سکندر۔۔اس ہی لائق ہو تم ہمیشہ اکیلے رہنے کے۔۔”

ضمیر سے آتی آواز نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا،یوں لگ رہا تھا جیسے جان جانے کو ہورہی ہو،آخر غم ہی اتنا بڑا تھا،کار کی سپیڈ بڑھاتا وہ شدید بےبسی کی کیفیت میں خود سے زد ہوئے گناہوں کا سوچ رہا تھا،اندر و باہر اذیت ہی اذیت تھی،اپنے اندھے پن میں سب کچھ تو کھو ہی چکا تھا وہ،اپنوں پر کِیا بھروسہ الگ ٹوٹا ساتھ اس معصوم کا گناہگار ٹہرا،ہاں اس پر ناحق اتنے ظلم کرتے وہ بہت بڑا گناہگار ٹہرا تھا،

“اپنی ذمہ داری سے اتنا بھی غافل نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا تمہارے ہاتھ لگے۔۔”

“سنبھل جاؤ کہ کہیں وقت نہ نکل جائے۔۔۔”

سلسبیل کی مسلسل دی گئی وارننگ پر بھی وہ اس کی بات نہ مانا اور اب،وہی ہوا تھا اس کے ہاتھ صرف پچھتاوا تھا،بےحد پچھتاوا اپنے کیے کا،ماؤف ہوتے دماغ میں صرف یہی بات گردش کررہی تھی کہ اگر وہ اسے نہ مِلی تو ہیثم سکندر خالی دامن رہ جائے گا،کرب اتنا تھا کہ سر پھٹنے کے قریب تھا،پیشانی کی رگیں پھولنے پر وہ شدت سے درد کرتے سر کو ایک ہاتھ سے جکڑتا آنکھیں میچا مگر اگلے ہی لمحے جب نظر اٹھ کر سامنے گئی تو چونک کر وہ اسٹیئرنگ پر واپس ہاتھ رکھا مگر تب تک دیر ہوچکی تھی،سامنے سے فراٹے بھر کر آتی گاڑی تیزی میں اس کی کار سے ٹکرائی،مقابل کار تو تیزی میں آگے بڑھی تھی مگر ادھر وہ اپنی کار سنبھالنے کی ناکام کوشش کیا،

“نو۔۔”

اس کے منہ سے نکلتی دلخراش چیخ فضا میں ارتعاش پیدا کی تھی ساتھ ہی تیزی سے بل کھاتی اس کی کار لمحوں میں الٹ گئی،ٹکڑے ہوتے کانچ اس کے وجیہہ چہرے سمیت گردن پر چبھے جبکہ پیروں کی حرکت محسوس نہیں ہوسکی،خونم خون وجود سمیت اندھیر ہوتی آنکھوں میں آخری چہرہ اس معصوم کا آیا جس سے معافی کا وہ طلبگار تھا مگر یہ موقع بھی شاید اسے نہیں ملنا تھا،اگلے ہی لمحے سنسان روڈ پر اس الٹی پڑی گاڑی میں ہیثم سکندر کا مضبوط وجود ساکت ہوا تھا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *