Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz NovelR50599 Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 10)
Rate this Novel
Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 10)
Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz
“کہاں کی تیاری ہے مام۔۔۔؟”
فلذہ مہناز بیگم کے روم میں آئی تھی پر وہاں انہیں اپنے اور سکندر صاحب کے لیے ملازمہ سے ہینڈ کیری میں کپڑے رکھواتے دیکھ حیرت سے پوچھی،
“تمہاری بہن کے پاس جانے کی۔۔۔”
مڑ کر انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
“پر آپ نے تو پرسوں اسے بتایا تھا کہ اگلے ہفتے جائیں گی۔۔۔”
وہ شدید حیرت میں مبتلا ہوئی،
“ہاں۔۔۔پر میں نے سوچا اگلے ہفتے کے بجائے کیوں نہ اسی ہفتے جاکر سرپرائز دوں اسے۔۔۔ویسے بھی بہت مِس کررہی ہوں اپنی بچی کو۔۔”
عندلیب کے بارے میں سوچتے ہی وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولیں،فلذہ نے لب بھینچ لیے،تیکھے چتون سے انہیں گھورتی وہ بولی،
“کبھی اس بیٹی کو بھی دیکھ لیا کریں۔۔۔ہر وقت اسے ہی مس کرتی رہتی ہیں۔۔۔”
بہت چبھتا ہوا لہجہ تھا اس کا،مہناز بیگم چونکی پھر بولیں،
“تم تو ہر وقت نظروں کے سامنے ہوتی ہو میری جان جبکہ وہ اپنے شوق میں ہم سب سے دور۔۔۔”
اس کے گال پر ہاتھ پھیرتیں مہناز بیگم کے لہجے میں آخر میں اداسی گھلی،ایک انجانے خدشے سے نجانے کیوں ان کا دل بہت گھبرانے لگا تھا تبھی وہ اگلے ہفتے کی جگہ اس ہفتے جانے کا سوچی تھیں،
اپنی سوچوں سے نکل کر مہناز بیگم ہوش میں آئیں جب فلذہ ان کا ہاتھ جھٹک کر تیزی میں روم سے نکلی،اس کی حرکت پر نفی میں سر ہلاتی وہ مڑی اور ملازمہ کو دوسری ہدایات دینے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہفتہ تھا،سلسبیل کی سرجری کا دن،اس کے کہنے کے مطابق کل رات کو فرمان دریہ بیگم کے ساتھ سلسبیل کو ہاسپٹل لے گیا تھا،وہ ایڈمٹ تھا رات سے وہاں پر،اب عندلیب کو جلدی تھی ہاسپٹل جانے کی،تبھی سلسبیل کی تمام رپورٹس وہ سنبھال کر اپنے پرس میں رکھ رہی تھی،
“آج بھی کالج بنک کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟”
عندلیب کو کالج یونیفارم میں نہ دیکھ کر اس کی روم میٹ نے پوچھا جس پر عندلیب کا تیزی میں چلتا ہاتھ رکا،ایک اداس مسکراہٹ نے اس کے گلابی لبوں کا احاطہ کیا،اب شاید ہی وہ کبھی کالج جاتی،
“بتاؤ۔۔۔”
اس کی آواز پر عندلیب چونکی پھر سر جھٹک کر بولی،
“نہیں۔۔”
“عندلیب مِس فاریہ غصہ ہوں گی تم پر۔۔۔تمہیں پتا ہے نا وہ تمہاری ہر ایک رپورٹ تمہاری مام تک پہنچاتی ہیں۔۔۔اور آنے والے ہفتے کو تو تمہاری مام یہاں آئیں گی۔۔۔پھر کیا جواب دو گی انہیں۔۔۔”
رتبہ کی نان سٹاپ باتوں پر عندلیب نے کانچ نما آنکھوں کو گھومایا،
“فلحال تم میری مام مت بنو۔۔۔”
اسے بال بناتے دیکھ وہ بولی ساتھ ہی موبائل رنگ کرنے پر چونک کر ریسیو کی،
“جی گرینی میں بس آرہی ہوں۔۔۔”
دریہ بیگم کو بولتی وہ فون رکھی پھر جلدی سے پرس اٹھاتی روم سے نکلنے لگی،اسے خوشی تو بہت تھی پر ساتھ ہی ڈر بھی بےتحاشہ لگ رہا تھا،اور وہ ڈر عندلیب سکندر کو اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے محبوب کے لیے تھا وہ دعا گو تھی کہ جو فیصلہ وہ کرچکی ہے اس میں بھلے اسے کچھ ہوجائے پر سلسبیل کی بینائی لازمی واپس آجانی چاہیے۔۔،
“لڑکی جا کہاں رہی ہو۔۔۔؟”
اسے گیٹ سے نکلتے دیکھ رتبہ فوراً پوچھی،
“(۔۔۔۔۔) ہاسپٹل۔۔۔”
کئی سوچوں میں گھرے وہ بےدھیانی میں اسے بتاتی نکلی،
“ہیں۔۔۔پر ہاسپٹل کیوں جارہی ہو۔۔۔”
رتبہ کا سوال ہوا میں ہی اڑا،وہ جاچکی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سرجری بس پندرہ منٹ میں سٹارٹ ہوگی۔۔۔آپ پیشنٹ سے اگر ملنا چاہتی ہیں تو مِل لیں۔۔۔کیونکہ پھر وارڈ میں جانا ہے آپ نے۔۔۔”
اس کے آنے پر ڈاکٹر ہارون نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا،
“جی۔۔۔آ۔۔۔ڈاکٹر آپ نے پیشنٹ یا ان کے ساتھ آنے والی ریلیٹوو کو بتایا تو نہیں نا۔۔۔”
اپنے ڈر پر قابو پاتی وہ پوچھی،
“بےفکر رہیں انہیں کچھ نہیں معلوم۔۔۔لیکن ایک سوال پوچھنا چاہوں گا۔۔۔”
ڈاکٹر ہارون نے اسے مطمئن کر کے سنجیدگی سے کہا تو عندلیب نے سر اثبات میں ہلایا،
“آپ جو کررہی ہیں شیور ہیں اس کے لیے۔۔۔دیکھیں آپ کی عمر بھی جہاں تک لگتا ہے اتنی نہیں۔۔۔”
“20 سال کی ہوں ڈاکٹر اور اپنے فیصلے خود کرنے جانتی ہوں۔۔۔”
لہجے کو پُراعتماد بناتی وہ اپنی عمر ایک سال بڑھا کر بتائی تھی جس پر ڈاکٹر ہارون چپ ہوئے،پھر سر اثبات میں ہلاکر بولے،
“پیشنٹ سے مل لیں۔۔۔”
مختصر بات کہہ کر وہ گئے تھے،
عندلیب نے اس وارڈ کا رُخ کیا جہاں سلسبیل ایڈمٹ تھا،باہر فرمان کھڑا تھا اس نے بتایا دریہ بیگم اندر سلسبیل کے ساتھ ہیں،عندلیب نے ایک گہرا سانس بھر کر خود کو نارمل کیا لیکن بار بار آنکھیں نم ہورہی تھیں اس کی،
“اندر آسکتی ہوں۔۔۔”
گیٹ نیم وا کرتی وہ لہجے کو بلکل ہشاش بشاش بناکر بولی،
“تمہیں اجازت کی ضرورت ہے لڑکی۔۔۔”
سلسبیل کے ہاتھ کو تھامی دریہ بیگم نے مسکراکر کہا تو عندلیب ہلکا سا ہنس کر اندر داخل ہوئی،
“تو۔۔۔کیا بات ہورہی ہیں دادی پوتے کے درمیان۔۔۔”
ازلی پرسکون لہجہ تھا،البتہ کانچ مانند آنکھوں نے نظر بھر کر سلسبیل کو دیکھا،
“تم لوگ بات کرو۔۔۔میں آتی ہوں۔۔۔”
دریہ بیگم نرمی سے کہتی وارڈ سے نکلیں،
“کیسا لگ رہا ہے۔۔۔؟”
ان کے جانے کے بعد عندلیب نے سلسبیل سے پوچھا جس پر اس کے لب نہایت آہستگی سے مسکرائے،
“خوشی بھی ہے۔۔۔پر ڈر بھی۔۔۔”
وہ بولا تو عندلیب نے تسلی دینے کے غرض کہا ساتھ ہی نرمی سے اس کے مضبوط ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھی،
“کچھ نہیں ہوگا۔۔۔سرجری زیادہ بڑی نہیں ہے۔۔۔”
“مجھے اپنے لیے ڈر نہیں لگ رہا۔۔۔”
عندلیب کے دلاسہ دینے پر وہ کہا تھا
“پھر۔۔”
“تم وعدہ کرو۔۔۔سرجری کے فوراً بعد میرے پاس آؤ گی۔۔۔اور جب تک مجھے ہوش نہ آئے میرے ساتھ ہی رہو گی۔۔۔”
آج پہلی بار اسے عجیب سا ڈر لگ رہا تھا جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو،تبھی اپنے ہاتھ پر رکھے عندلیب کے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھ کر ہلکے سے دباتا پوچھا،
ادھر عندلیب کی حالت غیر ہوئی،آنسو بےساختہ نکلے تھے آنکھوں سے اور دل کانوں میں دھڑکنے لگا مقابل کے بھاری ہاتھوں میں مضبوطی سے مقید اپنا ہاتھ دیکھ،
“کرو وعدہ۔۔”
سلسبیل کی گھمبیر آواز پر وہ ہوش میں آتی بولی،
“میں تمہارے ساتھ تھی ہوں اور رہوں گی۔۔۔وعدہ ہے میرا۔۔۔”
کانپتے دل پر قابو پاکر اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا پر تبھی بےاختیار ہوکر سلسبیل جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اور عندلیب سیدھا اسکے سینے سے آلگی،اسکے گرد دونوں بازوؤں کو حائل کیے سلسبیل تقریباً بھینچا تھا اسے خود میں کہ عندلیب بےیقینی میں سسک کر رہ گئی،وہ اسے گلے لگایا تھا اپنے،جب تک اپنی بےیقینی سے نکل کر وہ ہوش کی دنیا میں آتی سلسبیل اسے نرمی سے دور کرچکا تھا،
“آئی لوو یُو۔۔۔”
اپنے جذبات کا اظہار اس نے انتہائی ہلکی سرگوشی میں کیا تھا پر عندلیب لبوں کی حرکت سمجھ چکی تھی مگر ابھی وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ سلسبیل کو کوئی جواب دیتی،دل ہی بری طرح دھڑک رہا تھا،ایک جگہ خوشی تھی کہ مقابل نے اس سے اظہار کیا تو دوسری جانب آنے والے وقت کا سوچ کر دکھی تھی،اصل دکھ یہی تھا کہ اب وہ کبھی اپنے محبوب کا نہ دیکھ پائے گی،ایک مرتبہ پھر وہ دل بھر کر اسے دیکھی پھر تیزی میں روم سے نکلی ورنہ تو اسے یقین تھا کہ اب وہ رو دے گی بری طرح،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ختم ہونے والی تھی رتبہ بیگ پیک کیے بیٹھی ہوئی تھی کہ تبھی کلاس روم میں عندلیب کی آنی اور مہناز بیگم داخل ہوئیں،
“ایکسکیوز می مِس۔۔۔”
مس فاریہ نے لیکچر دیتی ٹیچر کو کہا ساتھ ہی شدید پریشان کھڑی مہناز بیگم کے ساتھ رتبہ کے جانب آئیں،
“میم یہ ہیں عندلیب کی کلاس میٹ۔۔۔بیٹا یہ عندلیب کی مدر ہیں۔۔۔”
رتبہ کی طرف اشارہ کرتی وہ بولیں،
“ہیلو آنٹی۔۔۔”
مہناز بیگم کو دیکھ کر وہ بولی،
“مس ہمیں ان سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔”
ٹیچر کی پرمیشن لے کر وہ لوگ باہر آئیں رتبہ سمیت،
“بیٹا کیا آپ جانتی ہیں عندی کہاں ہے۔۔۔؟”
مہناز بیگم نے باہر آتے ہی رتبہ سے پوچھا،ان کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت بےحد ٹینشن میں ہیں،
“نو آنٹی۔۔”
“بچے صبح کالج کے لیے نکلنے سے پہلے عندلیب کی آپ سے کچھ بات ہوئی تھی۔۔۔”
اور مس فاریہ کی اس بات پر رتبہ کو عندلیب سے کی گئی بات یاد آئی،
“جی آنٹی۔۔۔”
“کیا بات ہوئی تھی۔۔؟”
“آنٹی زیادہ کچھ نہیں بس اس کا آج ارادہ نہیں تھا کالج آنے کا اور وہ کہیں جارہی تھی۔۔۔”
اپنی اور عندلیب کی بات یاد آنے پر وہ بولی،
“کہاں جارہی تھی۔۔؟”
مہناز بیگم کے لہجے میں دنیا جہاں کی بےچینی تھی،
“کہاں۔۔۔ہاں آنٹی وہ (۔۔۔۔۔۔) ہاسپٹل جارہی تھی۔۔۔”
رتبہ کے جواب پر مہناز بیگم سمیت مس فاریہ بھی انتہائی حیران کن نظروں سے اسے دیکھنے لگیں،
“پر وہ وہاں کیوں گئی۔۔۔”
اب کی بار مہناز بیگم کچھ گھبرائی تھیں،ذہن میں بےساختہ عندلیب کا فیس کے نام پر اتنی بڑی رقم مانگنا یاد آیا،
“پتہ نہیں آنٹی یہ تو اس نے نہیں بتایا۔۔۔”
اور مہناز بیگم نے اس جواب کے بعد جلدی سے پرنسپل آفس کا رخ کیا جہاں سکندر صاحب پریشانی سے چکر لگارہے تھے،
“سکندر وہ (۔۔۔۔۔) ہاسپٹل گئی ہے۔۔۔”
گھبراکر انہوں نے سکندر صاحب کو بتایا،
“پر عندی وہاں پر کیوں گئی ہے۔۔۔”
“مجھے نہیں معلوم۔۔۔سکندر چلیں ہم وہی چلتے ہیں شاید کچھ خبر ہو۔۔”
ان کی بات پر سکندر صاحب اثبات میں سر ہلاتے عندلیب کے کالج سے نکلے،وہ لوگ اسے سرپرائز دینے یہاں آئے تھے پر یہاں آکر خود سرپرائز تب ہوئے جب مِس فاریہ نے انہیں بتایا کہ عندلیب کا کچھ اتا پتا نہیں ہے یہاں تک کہ اس کا فون بھی بند جارہا ہے،اس وقت وہ لوگ بہت پریشان ہوئے مگر جب مس فاریہ نے عندلیب کی روم میٹ کے بارے میں انہیں بتایا تب ان لوگوں کا رخ عندلیب کی کالج کے جانب ہوا تھا،اور اب رتبہ سے یہ جان کر کہ عندلیب ہاسپٹل گئی ہے وہ لوگ مس فاریہ سمیت وہی پر جارہے تھے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرجری شروع ہونے سے ٹھیک چند منٹ پہلے دریہ بیگم کی پریشانی میں حالت بگڑی تھی،انہیں سلسبیل کو لے کر عجیب گھبراہٹ ہورہی تھی،عندلیب نے یہ دیکھ انہیں گھر جاکر آرام کرنے کا کہا،پہلے تو انہوں نے انکار کیا پر جب عندلیب نے اپنے وہاں ہونے کا یقین دلاکر انہیں مطمئن کیا تب وہ فرمان کے ساتھ گھر چلی گئیں،
سرجری کامیاب ٹہری تھی،سلسبیل ابھی دواؤں کے زیرِ اثر بےہوش تھا،اس کی آنکھوں میں پٹی بندھی تھی جو کچھ مہینوں بعد ہی اترنی تھی،ڈاکٹر ہارون ابھی کسی نرس کو ہدایات دے رہے تھے جب ہاسپٹل میں شور سا برپا ہوا،باہر آئے تو دیکھا ریسیپشن پر سکندر صاحب کسی بات پر ریسیپشنسٹ سے بحث کررہے تھے،
“کیا ہورہا ہے۔۔۔سر اینی پرابلم۔۔۔؟”
انہوں نے معاملے کی تہہ جاننے کے لیے سکندر صاحب کے پاس جاکر پیشہ ورانہ انداز میں پوچھا
“ڈاکٹر۔۔۔کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس لسٹ میں عندلیب سکندر کا نام کیوں لکھا ہے۔۔۔؟”
وہاں رکھے کمپیوٹر کی جانب اشارہ کرتے سکندر صاحب ضبط سے پوچھے،
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں یہ سوال۔۔۔”
ڈاکٹر ہارون نے الٹا سوال پوچھا،
“کیونکہ یہاں پر جس لڑکی کا نام لکھا ہے وہ میری بیٹی ہے۔۔۔اب بتائیں گے کہ کیوں لکھا ہے اس کا نام یہاں۔۔کیا وہ یہاں آئی تھی۔۔۔اور اگر آئی بھی تھی تو کیوں۔۔۔”
سکندر صاحب کے بتانے پر ڈاکٹر ہارون نے پہلے تو خاموشی سے انہیں دیکھا پھر کہا،
“ان کا نام یہاں اس لیے لکھا ہے کیونکہ آج ان کی سرجری تھی۔۔۔”
ڈاکٹر ہارون کی بات پر مہناز بیگم نے بےساختہ دل تھاما،
“سرجری۔۔۔کیسی سرجری۔۔۔؟”
سکندر صاحب کو خطرے کی گھنٹیاں اپنے اردگرد بجتی محسوس ہوئیں،
“انہوں نے اپنی آنکھیں ڈونیٹ کی ہیں۔۔۔”
اور سکندر صاحب کی جان نکلی ادھر مہناز بیگم کو لگا وہ کچھ غلط سن بیٹھی ہیں،
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔میری عندی آنکھیں ڈونیٹ۔۔۔کچھ بھی بول رہے ہیں۔۔۔”
جب سے چپ وہ اب بےقراری سے بولیں،
“ڈاکٹر صاحب۔۔۔آپ کیا بول رہے ہیں۔۔۔”
خود پر جبر کرتے سکندر صاحب بولے تو لگا جیسے ان کی آواز کھائی سے آرہی ہے،
“دیکھیں وہ لڑکی۔۔۔پچھلے دو دن سے اس سرجری کے لیے کہہ رہی تھی۔۔۔میں نے انہیں وارن بھی کیا تھا پر وہ بضد تھیں نہیں مانی اور پھر۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی سرجری ہوئی ہے۔۔۔”
“ارے پر کس کو ڈونیٹ کی ہیں اپنی آنکھیں۔۔۔”
اچانک سکندر صاحب بھڑکے،
“ایک لڑکے کو۔۔”
ان دونوں کو ایک نظر دیکھ ڈاکٹر ہارون نے بتایا،
“جھوٹ بول رہا ہے یہ ڈاکٹر۔۔۔میری عندی کبھی ایسا کر ہی نہیں سکتی۔۔۔وہ ابھی چھوٹی ہے اسے کہاں عقل ان سب کی۔۔۔میں جانتی ہوں۔۔میری بچی ایسا کر ہی نہیں سکتی۔۔۔ایک منٹ ڈاکٹر۔۔۔کہاں ہے میری بیٹی۔۔۔مجھے ابھی لے چلیں اس کے پاس۔۔۔”
مہناز بیگم اپنے حواس کھونے لگیں تھیں تبھی بڑبڑاکر اب بلند آواز میں ان سے پوچھنے لگیں،مس فاریہ انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتی خود بھی کافی پریشان تھیں آخر کو ان کی ذمہ داری تھی عندلیب،کیسے وہ اس سے اتنی لاپرواہ ہوچکی تھیں،
مہناز بیگم کے مسلسل بلند آواز میں بولنے سے وہاں پر لوگوں میں ہڑبڑ مچی تھی ہاسپٹل کا ماحول بگڑتے دیکھ ڈاکٹر ہارون ان لوگوں کو تھیٹر میں لے کر گئے تھے جہاں عندلیب ہوش و حواس سے بیگانہ لیٹی تھی،اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی،مہناز بیگم کا دماغ ماؤف ہونے لگا اپنی عزیز بیٹی کو اس حال میں دیکھ وہ بہت بری طرح برسی تھیں مس فاریہ پر کہ انہیں ذمہ داری سونپی تھی عندلیب کی،سکندر صاحب کو بھی کم جھٹکا نہ لگا تھا بیٹی کو ایسے دیکھ،ان لوگوں کو دیکھ ڈاکٹر ہارون نے باہر آکر انہیں عندلیب کا پچھلے دیڑھ سال سے سلسبیل کے ساتھ یہاں آنا اور اس کے ٹیسٹس کروانے کا بتایا،البتہ انہوں نے سلسبیل کا نام نہیں بتایا تھا ان لوگوں کو،
“ہم اپنی بیٹی کو ابھی یہاں سے لے کر جارہے ہیں۔۔۔”
پوری بات سننے کے بعد سکندر صاحب نے بھنچے جبڑوں سمیت کہا،
“پر ابھی وہ اس کنڈیشن میں نہیں ہیں۔۔۔دیکھیں سر آپ دو دن ویٹ کرلیں۔۔۔پھر وہ ڈسچارج ہوجائیں۔۔۔”
“ہمیں ابھی لے کر جانا ہے اپنی بیٹی کو یہاں سے۔۔۔ڈاکٹر ڈسچارج کے پیپرز ابھی تیار کریں۔۔۔”
اب کی بار سکندر صاحب سخت لہجے میں بولے،
“نہیں۔۔۔ہم ابھی نہیں جائیں گے۔۔۔ان سے کہیں کہ میری بیٹی کی آنکھیں واپس دیں اسے۔۔۔کوئی ڈونیٹ نہیں کرے گی وہ آنکھیں۔۔۔”
اپنے آپے میں نہ رہتی مہناز بیگم غصے میں بولیں،
“دیکھیں ایسے نہیں ہوسکتا۔۔۔ابھی ابھی سرجری ہوئی ہے۔۔۔یہ ناممکن ہے۔۔۔”
مہناز بیگم کو جواب دیتے ڈاکٹر ہارون اب پریشان ہوئے،
“پر یہاں سے ابھی اسے لےجانا تو ممکن ہے نا۔۔۔بھلے سٹریچر میں لیکن ہمیں ابھی لےجانا ہے اسے ڈاکٹر۔۔۔”
خود پر اب کافی حد تک قابو پاچکے تھے سکندر صاحب تبھی بولے،
“وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔لیکن ہم پھر ان لوگوں کو کیا جواب دیں گے جن کے ساتھ آپ کی بیٹی آئی تھیں۔۔۔”
“کہہ دینا کہ مرگئی وہ۔۔۔”
دل میں اٹھتے درد کی انتہا پر مہناز بیگم بےتحاشہ روتے ہوئے چیخی تھیں،
پھر ٹھیک دو گھنٹے بعد وہ لوگ بےہوش ہوئی عندلیب کو ایمبولینس میں ہی وہاں سے لے کر گئے تھے،سکندر صاحب نے اسے دوسرے ہاسپٹل میں شفٹ کروایا تھا،ان لوگوں نے اس انسان کو دیکھنا تک گوارا نہ کیا تھا جسے ان کی بیٹی نے اپنی آنکھیں دی تھیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سال ہوچکا تھا ان کے نکاح کو،درمیانی عرصے میں ہیثم کافی پریشان رہا تھا سلسبیل کے باعث،ہناد کی بات اور فلذہ کے الزام کے باوجود اسے یقین نہ تھا کہ سلسبیل کبھی ایسا کرسکتا ہے،اس کے جانے کے بعد ہیثم نے بہت کوششیں کیں کہ کسی طرح سلسبیل سے کونٹیکٹ ہوجائے مگر بےسود،دن اور پھر مہینے گزرے تو اس کا ذہن اس جانب سے ہٹتا گیا،اب ہیثم ہفتے میں ایک آدھ بار فیسبک پر سلسبیل کی آئی ڈی چیک کرتا تو کبھی اس کا نمبر ڈائل کرلیتا مگر وہ ہمیشہ کی طرح بند رہتا اور آئی ڈی پر آف لائن،
آج اتوار تھا وہ بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر اسائمنٹ تیار کررہا تھا جو کہ کل ہی سبمٹ کرنا تھا تبھی اس کا فون رنگ کیا،
“ہیلو۔۔”
بنا لیپ ٹاپ پر سے نظر ہٹائے وہ فون کان سے لگائے بولا،
“ہیثم آپ کو پتا ہے۔۔۔ارم کا جو منگیتر ہے نا وہ اسے کل ایک بہت خوبصورت ریسٹورنٹ میں لے کر گیا تھا،وہ ریسٹورنٹ سی سائیڈ پر ہے۔۔۔اور آپ یقین نہیں کریں گے ارم نے مجھے جب پک دکھائی تو مجھے وہ جگہ اتنی پسند آئی اتنی پسند آئی کہ۔۔۔”
“کہ اب تمہیں بھی وہاں جانے کا دل کررہا ہے۔۔۔”
وہ جو اس کے ہیلو بولتے ہی نان سٹاپ شروع ہوئی تھی ہیثم کی بات اچکنے پر جھینپ گئی،
“ہا۔۔۔ہاں جانا ہے۔۔۔کیا رات کو چلیں۔۔۔؟”
ازلی معصوم لہجہ کہ ہیثم بےاختیار مسکرایا،
“میں ضرور تمہیں لے چلتا جاناں۔۔۔پر آج اسائمنٹ بنارہا ہوں۔۔۔کل سبمٹ کروانا ہے۔۔۔تو ایسا کرتے ہیں ہم کل چلیں گے۔۔۔اوکے۔۔۔”
اسے اپنی مصروفیت بتاتا ہیثم آخری میں آئیڈیا دیتا تائید چاہا لیکن ناذلی کا چہرہ لٹکا،
“آپ اسائمنٹ جلدی بنالینا۔۔۔پھر رات کو چلیں گے۔۔۔”
اب کے لہجے میں آس تھی،ہیثم اس کی معصومیت پر ہنسے بنا نہ رہ سکا،
“جاناں نہیں جاسکتے آج۔۔۔”
مجبوراً وہ اسے پہلے مرتبہ کسی چیز کے لیے منع کررہا تھا،
“ارم کا جو منگیتر ہے نا۔۔۔وہ اس کی ہر بات مانتا ہے۔۔۔اور آپ۔۔۔میری ایک بات نہیں مان رہے۔۔۔”
لہجہ نروٹھا پن بنا تو ہیثم اپنی ہنسی دبائے بولا،
“اچھا تو بتانا پسند کریں گی آپ کہ میں نے کب کب آپ کی بات ماننے سے انکار کیا ہے۔۔۔”
اس کے اس سوال پر ناذلی کو چپ لگ گئی،یہ سچ تھا کہ وہ ہمیشہ اس کی ہر کہی فرمائش پوری کرتا۔۔۔کسی بات سے انکار نہ کرتا۔۔۔یہ پہلی مرتبہ تھا تبھی وہ ناراض ہورہی تھی،
“مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ سے۔۔۔بائے۔۔۔”
جب کچھ نہ سوجھا تو وہ جھٹ سے کہتی کال کٹ کردی ادھر ہیثم اسکے ناراض ہونے پر حیران ہوتا پھر ناذلی کا نمبر ڈائل کیا،دو تین مرتبہ یہ عمل دہرانے پر بھی جب وہ کال ریسیو نہ کی تو ہیثم نفی میں سرہلاتا لیپ ٹاپ اٹھایا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میم صاب۔۔۔میرا مرد بیمار ہے۔۔۔گاؤں میں ہے ساس مجھے بلارہی ہے۔۔۔تو اگر ایک مہینے کی چھٹی مل جاتی تو۔۔۔”
دھلے ہوئے کپڑے رسی پر ڈالتی صغریٰ لاچارگی سے بولی تو چھت پر رکھے جھولے پر بیٹھی مطیبہ اس کی جانب متوجہ ہوئی،
“اگر تم کسی میڈ کا انتظام کردو تو جاسکتی ہو۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولی تو صغریٰ کا منہ بنا،
“کیا میم صاب۔۔۔آج کل تو میرے جاننے میں بھی جتنی عورتیں ہیں وہ سب کہیں اور کام پر لگی ہیں۔۔۔اور میں کون سا ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں جو آپ میری جگہ کسی اور کو لگائیں گی۔۔۔”
وہ خفگی سے بولی تو مطیبہ نے ہوا سے لہلہاتے ریشمی بالوں کو چہرے پر سے ہٹاتے کہا،
“تو کیا ایک مہینے تک ہم بنا میڈ کے رہیں تمہارے انتظار میں۔۔۔گھر کا باقی کام کیسے ہوگا۔۔۔”
اس کے سوال پر صغری کو چپ لگی پھر کچھ سوچ کر کہنے لگی،
“تو شاہدہ ہے نا جب تک وہ کرلے گی۔۔۔”
“وہ کچن نا دیکھیں۔۔۔تمہارے ذمے کے کام کرے ٹھیک۔۔۔”
مطیبہ کے سنجیدگی سے استفسار کرنے پر صغری اپنا سا منہ لے کر رہ گئی،
“ارے ناذلی بی بی۔۔۔ریلینگ پر نہ چڑھیں گر جائیں گی۔۔۔”
صغریٰ کی نظر ناذلی پر پڑی تو وہ گھبراکر جلدی سے بولی جس پر مطیبہ نے بھی گردن موڑ کر ناذلی کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں کو فضا میں پھیلائے ریلینگ پر دونوں پیروں کو ٹکائے کھڑی تھی،
“نہیں گرتی میں۔۔۔بلکہ آپ بھی ادھر آئیں صغریٰ۔۔۔دیکھیں کتنا مزہ آرہا ہے۔۔۔”
چہرہ گھوما کر صغریٰ کی طرف دیکھ کر وہ پرجوش سی بولی،
“ناذلی۔۔۔اُتر جاؤ۔۔۔”
مطیبہ نے بھی ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈال کر کہا،
“آپی۔۔۔آپ دونوں تو ایسے مجھے اترنے کا بول رہی ہو جیسے میں نے نیچے گر کر مرجانا ہے۔۔۔”
اس کی بات پر ہنستی ناذلی بولی تو مطیبہ ایک تنفر بھری نظر اس پر ڈالے بڑبڑائی،
“مر ہی جاتی تو بہتر تھا۔۔۔”
وہ زیرِ لب بڑبڑاکر نظر واپس کپڑے ڈالتی صغریٰ پر کی تھی،لیکن اچانک ہی ناذلی کی چیخ پر اس کی طرف دیکھی،وہ اب وہاں ریلینگ پر نہیں تھی،مطیبہ کی آنکھیں پھٹی تھیں،دل بےساختہ کانپا اور وہ سفید چہرے سمیت جھولے پر سے اٹھ کر بھاگی،صغریٰ کے منہ سے بھی چیخ برآمد ہوئی تھی،آخر کو اپنی آنکھوں سے ناذلی کا پیر پھسلتے جو دیکھا تھا،وہ فوراً نیچے بھاگی تھی جہانگیر صاحب کو مطلع کرنے،
دوسری جانب ہیثم جو کسی بھی طرح جلدی سے اسائمنٹ رات کی جگہ شام تک کمپلیٹ کر کے ناذلی کو سرپرائز دینے کے غرض تازہ پھولوں کا گلدستہ لیے جہانگیر ہاؤس آیا تھا،ابھی کار سے اترا ہی تھا کہ اوپر سے کوئی وجود تیزی میں آتا ٹھیک اس کے پیروں سے چند قدم دور گِرا تھا،ہیثم بےساختہ ایک قدم پیچھے ہٹا،جس تیزی سے وہ وجود گرا تھا اسی تیزی میں اس میں سے خون نکلتا ارد گرد پھیلنے لگا اور ہیثم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں،ہاتھ میں تھاما گلدستہ گرا تھا،وہ اس وجود کو لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا،دیوانہ وار اس کے پاس بھاگتا ہیثم زمین پر بیٹھ کر اسے پلٹا تھا،
“ناذلی۔۔!!!!”
چھت پر کھڑی مطیبہ کا سکتہ ٹوٹا تو وہ حلق کے بل چلائی جس پر ہیثم پتھر ہوئی نظروں کو اوپر کیا،مطیبہ لٹھے کے مانند سفید چہرے سمیت کھڑی تھی اس کی لرزراہٹ بلکل واضح تھی جیسے بری طرح خوفزدہ ہو،ہیثم بےیقین رہ گیا دل دھک سے ہوا تھا،تو کیا اپنی نفرت میں وہ اس حد تک گر چکی تھی،اس پر سے نفرت و اشتعال سے نگاہ پھیرتا ہیثم ناذلی کو دیکھا،اس کا خونم خون ہوا چہرہ ہیثم کے دل کے ٹکڑے کرنے کے لیے کافی تھا،اپنے کلپتے دل کو بمشکل سنبھالتا وہ بنا اور وقت ضائع کیے ناذلی کے بےجان وجود کو بازوؤں میں بھرتا اپنی کار کی طرف بھاگا،ناذلی کو کار میں ڈال کر اب ہیثم کا رخ ہاسپٹل کے جانب تھا،وہ کار گئی تو تھی پر نیچے گرے ان خوبصورت گلابوں کو کچلتی جو وہ ناذلی جہانگیر کے لیے خاص لایا تھا۔
