Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz NovelR50599 Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 06)
Rate this Novel
Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 06)
Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz
“اور تمہیں پتا ہے وہ مجھے دیکھ کر جب مسکرایا۔۔۔میں سمجھ گئی یار کہ یقیناً میرے حسن کا ہی جادو ہے جو اس جیسے شاندار شخص کو بھی گھائل کرگیا۔۔۔”
فون کان سے لگائے کھڑکی کے سامنے کھڑی وہ جب سے کال پر فِلذہ کی باتیں بےدلی سے سن رہی تھی،
“ہے۔۔۔مطیبہ۔۔۔تم سن رہی ہو ناں۔۔۔”
یکدم فِلذہ بولی جس پر چونکتی وہ گویا ہوئی،
“ہاں بولو۔۔۔سن رہی ہوں۔۔۔”
اسے تسلی دے کر ایک مرتبہ پھر مطیبہ گم ہوئی تھی ہیثم کے خیالوں میں،اس وقت اسے فِلذہ اپنے مقابلے میں بہت خوش نصیب لگی کہ اگر کو وہ کسی شخص کو پسند کرنے لگی ہے تو بیچ میں اسکی چھوٹی بہن نہ تھی کہ اسکا محبوب چھوٹی بہن کی جانب راغب ہو اور ادھر ایک وہ تھی کہ جسے چاہنے لگی اس انسان نے اسکے بدلے اسکی چھوٹی بہن کو چُنا اپنے لیے،بےساختہ ناذلی کے لیے اس کے دل میں ایک مرتبہ پھر نفرت نے انگڑائی لی تھی،
“میں بعد میں بات کرتی ہوں فِلذہ۔۔۔”
اچانک کہہ کر کال کٹ کرتی وہ فِلذہ کو حیران چھوڑ کر کچھ سوچی تھی پھر اپنی سوچ پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ کرتی روم سے نکلی،کچن میں جاکر اس نے جلدی سے ناذلی کے لیے روز کی طرح ایک گلاس دودھ نیم گرم کیا تھا،پھر ذہن میں آتی شیطانی ترکیب کو ایک مرتبہ پھر سوچتے ہی اسکے لبوں پر تمسخر پھیلا،ہاتھ میں تھامی انسیکٹ کِلر کی شیشی جو آتے ہوئے مطیبہ نے اسٹور میں سے لی تھی اس شیشی میں سے چند سفوف دودھ میں ڈال کر چمچ سے ملانے کے بعد گلاس تھامی،
اندر ہی کہیں اس کا ضمیر دہائی دیا تھا کہ مقابل اسکی چھوٹی بہن ہے مگر اپنی جنونی محبت کے آگے اندھی ہوتی وہ کچھ ہی دیر میں ناذلی کے روم میں پہنچی،گیٹ ناک کرتے ہوئے اچانک ڈر نے اس کے پورے وجود کو گھیرا تھا،پل میں خوف اس قدر ہوا کہ گیٹ ناک کرتا ہاتھ کانپ کر رہ گیا،بمشکل اندر امڈتے ڈر پر قابو پاتی وہ دو بار ناک کے بعد گیٹ کھولتی اندر داخل ہوئی،
“آپی آئیں ناں۔۔۔”
دوپہر کی بدمزگی کے بعد بھی اپنی بڑی بہن کو یوں اپنا خیال کرکے دودھ کا گلاس لاتے دیکھ ناذلی چہکی تھی،اسے تسلی ہوئی کہ اس کی عزیز بہن کا اچانک خراب ہوتا موڈ ٹھیک تو ہوا،
“یہ۔۔۔یہ۔۔۔پی لو۔۔۔”
لبوں پر زبان پھیرتی وہ لڑکھڑائے لہجے میں بولی جس پر ناذلی نے مسکراتے ہوئے دودھ کا گلاس تھاما،
“یہ بہن ہے میری۔۔!!”
اندرونی مگر دلسوز تڑپتی آواز تھی کہ مطیبہ کا شیطانی دماغی سلب ہوا،سینے میں دھڑکتا دل خفا ہوا تھا دماغ کی چال پر،ضمیر بری طرح للکارا تھا کہ خود سے ڈرتی گھبراتی مطیبہ نے خوفزدہ ہوکر ناذلی کو لبوں کے قریب گلاس کرتے دیکھا تبھی جھٹکے سے اس نے وہ گلاس چھینا تھا ناذلی کے ہاتھ سے کے دودھ کے چند چھینٹے مطیبہ کی قمیض پر پڑے،
“آپی کیا ہوا۔۔۔؟”
ناذلی پل میں گھبراتی اسے دیکھ کر دریافت کرنا چاہی جو سختی سے اپنے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھامے اسے خوفزدہ نظروں سے اب تک تکے جارہی تھی،
“آپی۔۔؟”
اس نے تھوڑا بلند آواز میں پکارا کہ مطیبہ بوکھلاکر ناذلی کے جانب متوجہ ہوئی،
“ہاں۔۔۔”
وہ جیسے اب تک اپنی کی گئی کاروائی پر بےیقین تھی،
“وہ۔۔۔وہ۔۔۔یہ دودھ۔۔میں۔۔۔مجھے یاد آیا۔۔۔ہاں۔۔۔وہ یہ ناں۔۔۔خراب تھا۔۔۔میں بھول گئی تھی۔۔۔میں تمہارے لیے دوسرا گلاس لے کر آتی ہوں۔۔۔”
خوبصورت چہرے پر آیا پسینہ اسکے خوف کی عکاسی کررہا تھا پھر بھی خود کو بمشکل کمپوز کرتی وہ ہکلاتے ہوئے ناذلی کو بتانے لگی ساتھ ہی پلٹی،
“آپی رکیں۔۔۔”
وہ جو یہاں سے فلحال کہیں بہت دور چلی جانا چاہتی تھی ناذلی کے پکار پر آنکھیں میچی پھر چہرے کے تاثرات نارمل کیے اسکی طرف دیکھی،
“دودھ چھوڑ دیں۔۔۔بس آپ آج یہیں سوجائیں۔۔۔میرے پاس۔۔۔”
ناذلی کے یوں یاسیت زدہ لہجے میں کہنے پر مطیبہ نے گہرا سانس بھرا پھر اثبات میں سر ہلاتی گویا ہوئی،
“تم لیٹو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں۔۔۔”
اپنی بات پر ناذلی کا معصوم چہرہ کِھلتے دیکھ وہ بمشکل مسکراتے ہوئے پلٹی،
سِنک میں دودھ پھینک کر وہ سیدھا روم میں آئی،خود کو آئینے میں بےیقینی سے دیکھے وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ آخر کس حد تک پاگل ہوچکی ہے وہ محبت میں،کیوں ایک لاحاصل شخص کے لیے اپنی بہن کو مارنے پر تُلی ہے،اس بہن کو جسے اس کے جذباتوں کی خبر تک نہیں،
“تم اتنی بےحس نہیں ہو مطیبہ۔۔۔”
خود کو کہتی وہ گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھی تبھی ذہن میں ناذلی کی بات آئی جسے سوچ کر وہ بیڈ سے اٹھی اور وارڈروب سے اپنی سیکریٹ ڈائری نکالتی ناذلی کے روم کی طرف چل دی،
اندر داخل ہونے پر اس نے دیکھا کہ ناذلی آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹی ہے،یقیناً وہ اب جلد سونے والی تھی،مطیبہ بیڈ پر اس کے برابر میں جاکر بیٹھ گئی پھر ہاتھ میں تھامی ڈائری کو یاسیت سے دیکھ کر کھولی،ایک نظر ناذلی پر ڈال کر جب وہ مطمئن ہوئی تب صفحات کے بیچ میں رکھا پین ہاتھ میں لے کر ایک مرتبہ پھر اپنی زندگی کے اذیت بھرے لمحات کے ساتھ جب جب اس نے ناذلی کو مارنے کی کوشش کی ان سبھی پلوں کو سطروں کی شکل میں لکھنے لگی،اپنی یکطرفہ محبت کی اذیت لکھتے ہمیشہ کی طرح آنسو ٹوٹ کر پلکوں کی باڑ توڑتے صفحہ پر گرنے لگے تھے پر تبھی لینڈ لائن فون کی آواز پر وہ ہوش میں آتی چونکی،ایک بار پھر وہ ناذلی کو دیکھی جو کہ اب گہری نیند میں سورہی تھی اس کے بعد دیوار پر نسب گھڑی پر وقت،اسے آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا لکھتے ہوئے،اپنے آنسو صاف کرتی وہ ڈائری سائیڈ ٹیبل پر رکھتی بیڈ سے اٹھی کیونکہ فون مسلسل بج رہا تھا،
“ارے بھئی کون ہے۔۔۔شاہدہ کہاں ہو۔۔۔؟”
سیڑھیوں سے نیچے اترتی مطیبہ کو جہانگیر صاحب کی جھنجھلاہٹ بھری آواز سنائی دی تو وہ جلدی سے آگے بڑھتی گویا ہوئی،
“میں دیکھتی ہوں بابا۔۔۔”
اسکے یوں بولنے پر جہانگیر صاحب جو اب باقاعدہ اپنے روم سے نکلنے لگے تھے اثبات میں سر ہلاتے واپس اندر چلے گئے،
“ہیلو۔۔۔”
فون کان سے لگاتے ہی وہ بولی جس پر کچھ دیر تو دوسری جانب سے خاموشی رہی پھر کہا گیا،
“لڑکی تمہارے نمبر پر جب سے کال کررہا ہوں۔۔۔فون کدھر ہے تمہارا۔۔۔”
مقابل کی سحر زدہ آواز پر مطیبہ کا دل یکدم دھڑکا،اداس دل میں خوشگواری پیدا ہوئی جبکہ لب بےساختہ مسکرائے،
“می۔۔میرا فون روم میں ہے اور میں دراصل ناذلی کے روم میں تھی۔۔۔”
مسکراتے لہجے میں وہ ہیثم کو جواب دی تھی،
“اچھا تو پھر ایسا کرو میری ناذلی سے جلدی بات کروادو۔۔۔جب سے پاگل ہورہا ہوں کال کر کر کے۔۔۔”
ہمیشہ کی طرح پرسکون لہجہ سمیت وہ بولا تو مطیبہ کی خوشی پر اوس سی پڑی،لب پر سے مسکراہٹ سمٹی اور بےترتیبی میں دھڑکتا دل اچانک سست رفتار ہوا تھا،
“ناذلی سورہی ہے۔۔۔”
اس نے سپاٹ لہجے میں کہا،
“ہیں۔۔۔اتنی جلدی۔۔۔اچھا ایسا کرو اسے اٹھادو تھوڑی سی بات کرنی ہے صرف۔۔۔”
وہ شاید جلدی میں لگ رہا تھا تبھی مطیبہ کا اچانک بدلہ لہجہ سمجھ نہ پایا،
“کہا ناں وہ سورہی ہے۔۔۔میں نہیں اٹھاؤں گی اسے۔۔۔”
ہر جواب کے ساتھ مطیبہ کا لہجہ سخت ہورہا تھا،
“ظالم لڑکی۔۔۔اٹھادو یار ضروری بات ہے۔۔۔”
دوسری جانب ہیثم کا موڈ کافی اچھا تھا جس کے باعث وہ اسکی سختی کو خاطر میں لائے بنا بولا،
“دماغ خراب مت کرو۔۔۔وہ سورہی ہے اور میں کسی طور اسے نہیں اٹھانے والی۔۔۔اب پھر کال مت کرنا۔۔۔”
اچانک غصے میں تڑخ کر کہتی وہ فون پٹخنے کے انداز میں رکھتے ہوئے ہیثم کو شدید حیران کرگئی،
“ہاؤ رُوڈ۔۔۔؟”
اپنے فون کو حیرت سے دیکھتا وہ زیرِ لب بڑبڑایا پھر جہانگیر ہاؤس کے بیرونی حصّے کو بغور دیکھا،ناذلی نے اس سے کل چاکلیٹس لانے کا کہا تھا پر وہ صدا کا دیوانہ ابھی ہی چاکلیٹس لے کر یہاں پہنچا تھا اب اس کا پلین ناذلی کو کال کر کے سرپرائز دینے کا تھا پر مطیبہ کے فون کٹ کردینے پر وہ کچھ سوچتا بیرونی دیوار پر چڑھا تھا،
فون کٹ کردینے کے بعد وہ وہی پر صوفے پر بیٹھی ایک بار پھر دنیا جہاں سے غافل اس ستمگر کی ستم ظریفی کا سوچنے لگی،اسے ڈانٹتے ہوئے مطیبہ کو تکلیف ہوئی تھی پر دل کا کیا کرتی جو کبھی ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے کا متمنی نہ تھا،ناذلی کے لیے پنپتی اپنے دل میں نفرت پر وہ بمشکل قابو پارہی تھی اس پر تضاد اس ستمگر کا ناذلی کی کئیر کرنا،ایسی بہت سی سوچوں کے زیرِ اثر وہ صوفے سے سر ٹکاکر اپنی جلتی گرم آنکھوں کو موند گئی،
دیوار سے چاکلیٹس کے پیکٹ سے کودتا وہ پچھلے باغیچے میں اترا تھا،آس پاس نظر ڈال کر اس نے پہلے کھڑے ہوکر اندازہ کیا،اتنے سالوں سے آتا جاتا رہتا اتنا تو معلوم ہی تھا کہ ناذلی کا روم کونسا ہے تبھی اسکے کمرے کی کھڑکی پر نظر رکھتا وہ اس جانب سے نکلے ایک موٹے سے پائپ پر چڑھا تھا،وہ پار کرتا ہیثم سیدھا ناذلی کی کھڑکی پر رکا،شکر تھا کہ کھڑکی کے پٹ وا تھے تبھی ان پر مضبوط قدم جماکر وہ کمرے میں کودا،لیمپ کی دھیمی روشنی پر نظر دوڑاتے ہوئے اسکی آنکھیں مبہوت ہوئی تھیں،بیڈ پر وہ پری وش دنیاِ فانی سے بےخبر میٹھی نیند کے مزے لُوٹ رہی تھی،ہیثم کے باریک لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ پھیلی تھی اسے دیکھ کر،دھیمے قدم اٹھاتا وہ اس کی طرف آیا پھر سائیڈ ٹیبل پر چاکلیٹس کے پیکٹ رکھتا سوئی ہوئی ناذلی کے برابر میں بیٹھا،
گھنیری پلکوں کی جھالروں کو بھرے بھرے گالوں پر بکھرے دیکھ اس کا دل مچلا تھا انہیں چھونے کو مگر اپنی محبت کا احترام کرتے وہ یہ گستاخی چاہ کر بھی نہ کرپایا،چھوٹے گلابی لبوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ وہ نگاہ پھیرتا اپنے گستاخ دل کی سرزنش کرنے لگا پھر مسکراکر سرگوشی کیا،
“جاناں جلدی سے تم بڑی ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں جلد از جلد ناذلی جہانگیر سے ناذلی ہیثم سکندر بنالوں۔۔۔دل پر تو تمہارا نام تین سال پہلے ہی لکھ چکا تھا اب اپنی تقدیر میں بھی تمہارے قدموں کا منتظر ہوں۔۔۔۔میں تو کافی پہلے سے تمہارا تھا بس اب تمہیں جلد اپنا بنانے کی جستجو ہے۔۔۔”
کس قدر عقیدت اور محبت تھی اسکے لہجے میں،پوری بات مکمل کرتا وہ اس نیند میں غافل پری پیکر کی سایہ فگن گھنی جھالروں پر ایک بھرپور نظر ڈالتا اٹھا پھر پلٹ کر کھڑکی کی طرف جانے لگا لیکن اچانک ہی ہیثم ٹھٹھک کر رکا،
کسی احساس کے تحت وہ گردن موڑ کر ناذلی کے بلکل برابر میں دیکھا تھا جہاں پر ایک ڈائری الٹی رکھی ہوئی تھی جبکہ اس ہی کے ساتھ ایک پین رکھا تھا،پہلے تو ہیثم نے اگنور کر کے روم سے جانا بہتر سمجھا پر ناجانے کیوں اس ڈائری میں ایسی کیا کشش تھی کہ پہلی مرتبہ ایک تجسس سا اُبھرا تھا ہیثم کے اندر جس پر قابو نا پاتا وہ دو قدم بڑھا کر وہ ڈائری آہستگی سے اٹھایا تھا،
پہلا صفحہ کھلنے پر وہ چونکا تھا جہاں واضح لفظوں میں اس فرد کا نام لکھا تھا جس کی ملکیت یہ ڈائری تھی،
“مطیبہ جہانگیر۔۔۔”
زیرِ لب بڑبڑاتا وہ صفحہ پلٹنے لگا،اسے لگا تھا یہ ڈائری ناذلی کی ہوگی پر مطیبہ کا نام دیکھ اسے تھوڑی حیرت ہوئی تھی پر ہیثم کی یہ حیرت ہر صفحہ پلٹنے کے ساتھ ساتھ بےیقینی اور کئی جھٹکوں میں بدلی،شدید سکتے کے عالم میں ہر ایک صفحہ پڑھتے وہ ایک بےیقین نظر ناذلی پر ڈالا تھا،حرف بہ حرف اس میں مطیبہ کی اس کے لیے جنونی محبت کے ساتھ ساتھ دل میں شروع سے پنپتی ناذلی کے لیے نفرت کے بارے میں لکھا تھا،کئی صفحے پڑھتے وقت کا پتا نہ چلا تھا پر ہیثم سکندر کو جیسے اب دنیا جہاں کی پرواہ نہیں تھی،کافی صفحوں کو پلٹ کر وہ ہر وہ لائن بغور پڑھ رہا تھا جہاں جہاں مطیبہ نے اپنے دل میں ناذلی کے لیے نفرت کا بیان کیا تھا،ہیثم کو زرا دلچسپی نہ تھی اس لڑکی کی فضول سی محبت کے بارے میں پڑھنے کی کیونکہ ایسی محبت کی ہیثم سکندر کے دل میں کوئی جگہ نہ تھی جو کسی دوسرے کو نقصان دینے کا سبب بنے،اصل میں تو ہیثم کی آنکھیں ہر اُن الفاظوں پر پتھرارہی تھیں جن میں ناذلی کو مارنے کی کوششیں اور اسکی مرنے کی دعائیں لکھی تھی مطیبہ نے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیثم کے بارے میں سوچتے کئی گرم سیال اسکی خوبصورت آنکھوں سے نکلتے سُرخ عارض پر پھسلے تھے پر ان سوچوں میں کب اس کی آنکھ لگی پتا ہی نہ چلا،
اور اب یکدم وہ جھٹکے سے آنکھیں کھولتی سیدھی ہوئی تھی،اچانک ہی سینے میں معمول کی رفتار سے دھڑکتے دل میں تڑپ گھلی تھی جیسے کچھ بہت برا ہوچکا ہے۔۔۔جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوچکا ہے پر کیا۔۔۔!
یہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا لیکن تبھی ذہن کے یک گونہ میں جھماکا سا ہوا اور مطیبہ جھٹکے سے بیڈ سے اٹھتی ہوئی سیڑھیوں کی جانب بھاگی،
سیڑھیاں عبور کرتے سینے میں رکھا دل بہت عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا،اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے اس نے ناذلی کے کمرے کا رُخ کیا مگر اندر داخل ہوتے ہی مطیبہ کے قدم زنجیر ہوئے تھے،ناذلی کے بیڈ کے برابر میں وہ مکینِ دل کھڑا تھا،مطیبہ کی آنکھیں بےیقینی میں پھیلی تھیں اسے یہاں پر دیکھ کر،ہیثم کو ایک جگہ ہی ایستادہ دیکھ کر وہ شدید حیرت میں غوطہ زن کچھ بولنے ہی لگی تھی پر تبھی مطیبہ کی نظریں بےیقینی سے تبدیل ہوکر خوف سے پھیلیں،مقابل کے ہاتھ میں وہی چیز دیکھ کر جس کے ڈر سے وہ بھاگ کر روم میں آئی تھی،مطیبہ کی ڈائری۔۔۔۔!
دوسری جانب ہیثم بھی شاید اس کی موجودگی محسوس کرچکا تھا تبھی ڈائری کے صفحات پر سے نظریں ہٹائے سر اٹھاتا مقابل کھڑی مطیبہ کی جانب دیکھا،اس کی سرخ ہوتی آنکھوں میں کیا کچھ نہیں تھا،حقارت،غضب کا غصہ،شدید نفرت،پیشانی پر شکنوں کے جال اور تنے جبڑوں کو دیکھتے ہی مطیبہ خوفزدہ آنکھیں پھیلائے بےساختہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی،نظروں میں سکت نہیں تھی کہ مقابل کی نفرت بھری آنکھوں میں اور دیکھ سکے تبھی بھیگی آنکھوں کو جھکاکر اس کے مضبوط ہاتھ میں دبوچی اپنی ڈائری پر مرکوز کی تھیں،
اسے خونخوار نظروں سمیت گھورتا ہیثم اچانک ہی مطیبہ کی ڈائری اس زور سے نیچے پھینکا کہ وہ سیدھا مطیبہ کے قدموں کے قریب آگری،بےآواز روتی مطیبہ سسک کر رہ گئی،یوں محسوس ہوا جیسے وہ بنا چھوئے اسے بہت تذلیل بھرا طمانچہ مارا تھا،ہتک کے احساس سے مطیبہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا،بمشکل اپنی سسکیوں پر ضبط کیے وہ نگاہ جھکائے ڈائری کو دیکھ رہی تھی،پر تبھی مطیبہ کا دل پھٹنے کے قریب ہوا جب قدم بڑھاتا ہیثم اس کی ڈائری پر اپنے بُوٹ رکھا تھا،اپنی محبت کی اس قدر تذلیل پر وہ کرب سے آنکھیں میچ گئی،
اسکے سرخ جھکے چہرے کو نفرت سے دیکھتا ہیثم اسکے برابر سے گزرتا روم سے نکلتا چلا گیا،
کافی دیر بعد مطیبہ کو جب احساس ہوا کہ وہ اب نہیں ہے وہاں تب وہ اپنی سُوجی آنکھوں کو آہستگی سے وا کی تھی،وہ بولا کچھ نہیں تھا پر اپنے عمل سے ہی اس کو باور کراگیا تھا کہ کیا حیثیت ہے ہیثم سکندر کی نظر میں اس کی محبت کی،دل زخم سے چور ہوا تو خود کے قدموں میں جان محسوس نہ کرتی وہ لڑکھڑاتے ہوئے نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھی،ڈائری کے کُھلے صفحے پر اس ستمگر کے بُوٹ کے نشانات دیکھتی مطیبہ ڈائری بند کر کے اسے سختی سے اپنے سینے میں بھینچ گئی،روتی ہوئی وہ اپنی آواز بمشکل دبائے اٹھ کر تیزی سے اپنے روم میں بھاگی،
بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیٹتے ہی وہ بھبھک کر روئی،درد اب برداشت سے باہر ہونے لگا تھا،یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اب وہ مرجائے گی،جس محبت کو وہ اتنا چھپا کر رکھتی تھی آج اس ستمگر پر آشکار بھی ہوئی تو مطیبہ جہانگیر کو شرمندہ کراگئی،اس کی کرب بھری سسکیاں رات کی خاموشی میں ایک اذیت بھری کہانی رقم کرنے لگی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“گھر کب آؤ گی۔۔۔؟”
وہ صبح ہوسٹل سے نکلنے کے لیے تیار ہورہی تھی تبھی فلذہ کی کال آئی تھی،بات کرنے کے دوران وہ عندلیب سے پوچھنے لگی،
“شاید نیکسٹ منتھ۔۔!”
بیڈ پر دونوں پیروں کو سیدھا کیے وہ سوچتے ہوئے بولی،
“ہمم۔۔۔صحیح۔۔۔اور بتاؤ۔۔۔اورفونیچ کے بچے ٹھیک ہیں۔۔۔؟”
گہری سانس بھرتی فلذہ یونہی پوچھی جبکہ ادھر یتیم خانے کا سنتے ہی عندلیب کے ذہن میں سلسبیل کا خیال آیا۔۔۔لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجی تھی اسکے،
“بچے تو ٹھیک ہیں آپی پر وہ لڑکا جس کے بارے میں آپ کو میں نے بتایا تھا۔۔۔آپی دعا کرو کہ اس کی بینائی واپس آجائے۔۔۔”
اس کے خیال میں عندلیب بولنے لگی تو اپنے دل کی بات بولتی ہی چلی گئی،
“کیوں اس کی آنکھیں اب تک ٹھیک نہیں ہوئیں۔۔۔”
“نہیں ناں۔۔”
عندلیب اداسی میں جواب دی پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد پھر بولی،
“کوئی یونہی کیسے کسی کی زندگی برباد کرسکتا ہے۔۔۔
مطلب آپی وہ ایک اچھا خاصا لڑکا جو کہ باتوں سے کافی ذہین بھی لگتا ہے۔۔۔۔بینائی نہ ہونے کے باعث بےچارہ کچھ نہیں کرپارہا اب۔۔۔گرینی دُریہ نے بتایا وہ پچھلے پانچ سالوں سے انکے ساتھ رہ رہا ہے۔۔۔اس سے پہلے انکے بیٹے کے کسی دوست کے گھر پر رہتا تھا دوسرے شہر میں۔۔۔۔پڑھائی کی وجہ سے مجبوری تھی۔۔۔پھر وہی پر اس کے ساتھ یہ حادثہ ہوا۔۔۔گرینی کبھی کبھی بہت دُکھی ہوتی ہیں اپنے پوتے کو دیکھ کر۔۔۔”
عندلیب اور بھی کچھ بول رہی تھی پر دوسری جانب فِلذہ کے ذہن میں یکدم ماضی کا پردہ لہرایا،
“میں نے ایسا کبھی سوچا ہی نہیں تھا تمہارے بارے میں۔۔۔یار تم تو بہن جیسی ہو میرے لیے۔۔۔”
سابی اسے آرام سے سمجھایا تھا،
“پر میں تمہیں بھائی نہیں سمجھتی۔۔۔پلیز سابی میری محبت کو یوں مت دھتکارو۔۔۔”
وہ گڑگڑانے لگی تھی اسکے آگے،ہاتھ بےساختہ جڑے جنہیں دیکھ کر سابی جھٹکے سے کھڑا ہوا،
“انف۔۔۔فِلذہ۔۔۔کچھ بھی بول رہی ہو۔۔۔دیکھو ہماری دوستی کو غلط وے میں تم لے کر گئی تھی نہ کہ میں۔۔۔اور پیار محبت ان سب کے بارے میں تو میں نے ابھی سوچا بھی نہیں۔۔۔مجھے پڑھنا ہے ابھی اپنا کریئر سیٹ کرنا ہے۔۔۔پلیز آئندہ مجھ سے اس طرح کی بات نہ کرنا ورنہ تو میں خود ہی چلا جاؤں گا انکل کے گھر سے۔۔۔”
اسکے روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے پر سابی سخت لہجے میں کہتا مڑ کر نکلا تھا وہاں سے،ادھر فِلذہ کے چہرے پر اگلے ہی لمحے غم و غصے کی لکیریں اُبھری،آخر اپنی محبت کا ٹھکرانا کہاں برداشت ہوا تھا اُسے،
“میری تذلیل کی تم نے سابی۔۔اپنے کرئیر کی وجہ سے۔۔۔کرئیر۔۔۔ہنہہ۔۔۔اب میں تمہارا کرئیر بناؤں گی۔۔۔وہ بھی ایسا جو تم کبھی نہیں بھول پاؤگے۔۔۔”
نفرت سے کہتی وہ بےبسی میں ٹیبل پر رکھا گلاس اٹھا کر نیچے پھینکی تھی،
“آپی۔۔۔”
عندلیب کی آواز پر وہ ماضی سے نکل کر چونکی بری طرح،
“کیا۔۔؟”
“آپی میں کب سے آپ کو بول رہی ہوں کہ کچھ ایسا بتاؤ کہ میں اُس کھڑوس کو یقین دلاسکوں کہ ہر محبت سے بات کرنے والا انسان برا نہیں ہوتا۔۔۔وہ تو اپنی گرینی کے علاوہ کسی سے نرم لہجے میں بات تک کرنا گوارا نہیں کرتا۔۔۔کبھی کبھی تو انہیں بھی سنادیتا ہے۔۔۔”
افسردہ ہوکر کہتی وہ ایک بار پھر سلسبیل کے بارے میں سوچنے لگی تھی،
“تمہیں ہوسٹل ماما نے پڑھنے بھیجا تھا یا یہ سب کرنے۔۔۔۔تم نے تو کہا تھا کہ یتیم خانے میں تم بچوں کے ساتھ دل بہلانے جاتی ہو پھر یہ کون ہے جس کے چکر میں پڑگئی۔۔۔عندی۔۔۔اپنی پڑھائی پر دھیان دو ورنہ میں ماما کو بتادوں گی سب۔۔۔”
دماغ میں ماضی بار بار اپنی جھلکیاں دکھانے لگا جس سے گھبراکر وہ ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتی کال پر عندلیب کو ڈپٹی،ماضی کی کتاب میں وہ اس صفحے کو تو عرصہ ہوا بھول چکی تھی پر اب ساتھ ہی دل سے دُعا گو تھی کہ وہ صفحہ کبھی نہ واپس پلٹے،
“گاڈ۔۔۔آپی آپ تو سنڈریلا کی سٹیپ سسٹرز جیسا بی ہیو کررہی ہو۔۔۔وہ تو میں صرف گرینی سے ملنے جاتی ہوں تو اس سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔۔۔اب اگر میں گرینی سے نہ مِلوں تو انہیں دکھ ہوگا کہ یتیم خانے کے قریب ہی انکا گھر ہے پھر یہی کہیں گی وہ کہ عندلیب گھمنڈی ہوچکی ہے۔۔۔”
دانتوں تلے زبان دبائے وہ فِلذہ کی ڈانٹ سنی تھی پھر جلدی سے بوکھلاکر اسے بونگے سے جواز پیش کرنے لگی،
“ایسے کسی انسان کو امپریس کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔اور بند کرو اس گرینی کے گھر جانا۔۔۔کیا پتا انکا وہ پوتا کافی خطرناک ہو۔۔۔”
اب وہ خود کو کافی حد تک سنبھال چکی تھی تبھی سنجیدگی سے بولی جس پر دوسری طرف عندلیب نے اچھنبے سے کان سے ہٹا کر اپنے موبائل کو دیکھا پھر کہا،
“آپ تو یوں کہہ رہی ہو جیسے میں اسکی کوئی بھولی بھٹکی دشمن ٹہری جو وہ مجھے نقصان پہنچائے گا۔۔۔اوہ میری پیاری بہنا میں اچھے سے جانتی ہوں اس سے مجھے کبھی کوئی خطرہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔”
یہ بات کہتے عندلیب کے لہجے میں جس قدر یقین تھا دوسری جانب فِلذہ چونکی پھر لب بھینچتی بولی،
“تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔اس سے دور رہو۔۔۔اور پڑھائی پر دھیان دو۔۔۔نہیں تو ماما سے کہہ کر تمہیں گھر بلوالوں گی”
عندلیب کو جھڑکنے کے بعد وہ کال کٹ کردی تھی جبکہ ادھر عندلیب کا خوبصورت چہرہ پل بھر کے لیے مرجھایا
