Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 12)

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

“امید ہے پھر ملاقات ہوگی۔۔۔”

معاذ کے بال سہلاتا وہ نرم مسکراہٹ سمیت بولا،

ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوئے آج اسے ایک ہفتہ ہوچکا تھا،عندلیب کے کہے کے مطابق اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے وہ دریہ بیگم کے ساتھ اس شہر سے دور جارہا تھا،تبھی پہلی اور آخری مرتبہ عندلیب کی یاد میں اورفونیچ کا چکر لگانے کا سوچا،یہاں آکر اس نے جب بچوں سے باتیں کیں تو ان کی معصومانہ باتوں سے زخمی دل تھوڑا بہت پرسکون ہوا تھا،بہت اچھا وقت گزرا تھا اس کا بچوں کے ساتھ،اب وہاں سے جانے کا ارادہ کرتا وہ اٹھا تھا،

“آپی اب کبھی نہیں آئیں گی یہاں پر۔۔۔”

افسردہ لہجے میں کہنے والی یہ نائفہ تھی،سلسبیل کے مسکراتے لب سمٹے،نفی میں سرہلاتا وہ نائفہ کے اندر اٹھتی تھوڑی بہت امید پر بھی اوس ڈال گیا،

“آپی صحیح کہتی تھی۔۔۔آپ بلکل برے نہیں ہو۔۔۔”

سلسبیل چونکا تھا معصومیت سے کہتی بسمہ کی بات پر پھر آہستگی سے مسکراتا جھک کر خود کو جب سے مہویت سے تکتی بسمہ کا ماتھا چوما تھا ساتھ ہی کھڑا ہوا،

ان سب سے مل کر وہ نکلا تھا اورفونیچ سے،

“سلسبیل صاحب ٹیکسی آگئی ہے۔۔۔”

گھر میں داخل ہوتا سلسبیل فرمان کے کہنے پر اثبات میں سر ہلاتا بولا،

“سامان رکھ دیا۔۔۔”

“جی صاحب۔۔۔”

“ہمم۔۔”

اسکے جواب پر ہنکارا بھرتا سلسبیل اپنے کچھ ضروری سامان لیتا وہاں سے نکلا،گیٹ بند کرنے سے پہلے اس نے جیب میں ایک مرتبہ عندلیب کے لکھے گئے اس لیٹر کے ہونے کی تصدیق کی،پھر مین گیٹ کی چابی فرمان کو دیتا وہ باہر آیا جہاں دریہ بیگم ٹیکسی میں بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھیں،اندر بیٹھ کر وہ ایک خاموش نظر دریہ بیگم پر ڈالی جس پر ایک آسودہ مسکراہٹ سمیت اسے دیکھتیں وہ ایک آخری نظر گھر پر ڈالی تھیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیڈ پر بھاری ہوتے سر کے ساتھ بیٹھی وہ کچھ ہی دیر پہلے بےتحاشہ رو کر اب تھوڑا سنبھلی تھی،یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا دم گھٹ جائے گا اور وہ مرجائے گی،اور دم کیوں نہ گھٹتا اس کا،یہ کمرہ اس کا تھوڑی تھا،یہ کمرہ تو اس شخص کا تھا جو اس سے بےپناہ نفرت کا دعویدار تھا،جو اسے کتنی مرتبہ یہ دھمکی دے چکا تھا کہ اس کی متاعِ جاں کو وہ اگر زرا بھی نقصان پہنچائے گی تو وہ شخص اس کی جان لے لیگا مگر اب۔۔۔،

اب اس ہی کے کمرے میں اس کی بیوی کی حیثیت سے بیٹھنا مطیبہ کے لیے وبالِ جاں سے کم نہ تھا،ہاں وہ خواہش مند تھی ہیثم سکندر کو پانے کی مگر اب جب وہ اس کا ہوا تھا تو مطیبہ جہانگیر کے اندر و باہر صرف ایک ہی جذبہ بھرا تھا اور وہ تھا خوف کا،جن حالات میں ان دونوں کا نکاح ہوا تھا اس میں تو مطیبہ کے اندر خوشی کی کوئی رمق نہ تھی،

اس رات کے بعد جب دوسرے دن ہیثم آفس میں جہانگیر صاحب کے پاس گیا تھا،بکھرے حلیے سمیت وہ انہیں بنا کسی لحاظ کے واضح لفظوں میں مطیبہ سے نکاح کے لیے انکار کرچکا تھا جس پر جہانگیر صاحب نے اس وقت کچھ نہیں کہا یا شاید شرم سے وہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ اس سے التجاء کرسکیں جو بھی تھا پر اگلے دو دن پرسکونی سے گزرنے کے بعد آفس میں ہی جہانگیر صاحب کی طبیعت اچانک بگڑی تھی،حالت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں فوری طور پر ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروایا گیا،ایک ہفتے تک ہاسپٹل میں رہنے کے باوجود جب ان کی طبیعت بد سے بدتر ہونے لگی تو انہوں نے نہایت ہی مجبوری میں ہیثم سے التجاء کی تھی مطیبہ سے نکاح کی،ہیثم جو اس وقت بھی انکار کا ارادہ رکھتا تھا ڈاکٹرز سے یہ سننے کے بعد کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں اس نے بےبسی میں اپنے لب سیے تھے،دوسری جانب مطیبہ جو بہن کے جانے کے بعد ایک پچھتاوے میں اب تک گھٹ رہی تھی باپ کی حالت پر وہ رو رو کر بےحال ہوئی تھی تضاد اس پر ہیثم سے نکاح کا سن کر اسے لگا کہ وہ لوگ اس کی موت کا پروانہ سنارہے ہیں اسے،باپ کی خراب ہوتی حالت کے پیشِ نظر وہ انکار کے لیے الفاظ کا چناؤ نہ کرپائی کہ وہ چاہتی تھی ہیثم سکندر اس کا ہو پر ایسے۔۔۔،کبھی بھی نہیں،ہیثم کی نفرت کا خوف ذہن میں اس قدر سوار تھا کہ اب وہ چاہ کر بھی کبھی اس کی زندگی میں داخل ہونے کی خواہش مند نہ تھی،

اور پھر آج رات ہی وہ دونوں اس ان چاہے رشتے میں بندھے تھے،جہانگیر صاحب نے اپنی طبیعت کو مدِنظر رکھ کر اس ہی وقت یونہی سادگی میں رخصتی کی درخواست کی تھی جس پر مہناز بیگم اور سکندر صاحب کو کوئی اعتراض نہیں تھا،ان دونوں نے بھی جہانگیر صاحب کی بات پر اتفاق کیا پھر رات زیادہ ہونے پر مہناز بیگم فلذہ سمیت مطیبہ کو ہاسپٹل سے اپنے ساتھ سکندر ولا لے آئیں،ہناد اور سکندر صاحب ہاسپٹل میں ہی ٹہرے تھے،ان سبھی کاروائی کے دوران ہیثم خطرناک حد تک خاموش تھا،اس کا سلگتا دماغ ناجانے کیا منصوبہ بندی کررہا تھا جو وہ نکاح کے فوراً بعد کسی کی پرواہ کیے بغیر ہوسپٹل سے نکلتا چلاگیا،

وہ مہناز بیگم کے ساتھ آج رات رہنا چاہ رہی تھی پر مہناز بیگم نے اسے سمجھا بجھا کر فلذہ کے ساتھ ہیثم کے کمرے میں بھیج دیا تھا،اب اس کے بیڈ پر بیٹھی مطیبہ جب سے خاموشی سے اپنی خالی ہتھیلی کو دیکھ رہی تھی،ذہن بری طرح منتشر ہورہا تھا آج ہوئے واقعے پر،اس نے نظریں اٹھاکر دیوار کی جانب دیکھا جہاں نسب ناذلی کی لاتعداد تصویریں اسے احساس دلارہی تھیں کہ وہ یہاں ہوکر بھی کہیں نہیں تھی جبکہ ناذلی جہانگیر یہاں نہ ہوکر بھی ہر طرف تھی،اپنا وجود اسے ان فِٹ لگا تھا اس کمرے میں،اس کا ضمیر چیخ چیخ کر اسے باور کرانے لگا کہ وہ ایک حاسد لڑکی ٹہری تھی جس نے اپنی خوشی کے لیے اپنی بہن کو موت کے گھاٹ اتروانے کی دعا کی،ندامت کے دو آنسو پلکوں سے گرے تھے،

“مطیبہ۔۔”

فلذہ کی آواز پر اس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں ملازمہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لیے کھڑی تھی اس ہی کے برابر میں ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ فلذہ اسے دیکھ رہی تھی،

“ماما نے بھجوایا ہے۔۔۔انہوں نے بتایا کہ تم نے صبح سے ہاسپٹل میں کچھ کھایا نہیں۔۔۔”

ملازمہ کو ٹرے رکھنے کا اشارہ کر کے وہ مطیبہ کے پاس آتے ہوئے بولی،

“بھوک نہیں۔۔۔”

بیڈ پر اپنے پاس بیٹھتی فلذہ کو دیکھ وہ آہستگی سے بولی،فلذہ نے ایک نظر اسے دیکھا جو بلیک سادہ سی قمیض شلوار پر شانوں پہ دوپٹہ پھیلائے سرخ آنکھوں کو پھیرے بیٹھی تھی شاید آنکھوں میں جھلکتی ندامت کو چھپانے کی اپنی سی کوشش کی تھی،

“انکل جلد ٹھیک ہو جائیں گے مطیبہ۔۔۔”

اس کے ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر فلذہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو مطیبہ تکلیف سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی،

“میں جانتی ہوں میرے بابا کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”

اس کے یوں کہنے پر فلذہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی،مطیبہ اس کی دوست تھی اچھے سے جانتی تھی کہ وہ کچھ کہنا چاہ رہی ہے اس سے،

“بولو پھر کیا بات ہے۔۔۔”

کچھ دیر تک خاموشی رہی تو فلذہ نے آخر سنجیدگی سے پوچھنا ہی ضروری سمجھا،

“میرا یقین کرو فلذہ۔۔۔میں نے نہیں مارا ناذلی کو۔۔۔می۔۔میں مانتی ہوں کہ میں غلط۔۔”

“اوہ گاڈ مطیبہ۔۔۔مجھے لگا کوئی بڑی بات ہے۔۔۔اب چھوڑ بھی دو اس ٹاپک کو۔۔۔ہم سب کو یقین ہے کہ تم نے نہیں مارا اسے۔۔۔اس کی زندگی اتنی ہی تھی جی لی۔۔۔اب کیا ہمیشہ ہی سوگ مناتے رہوگی تم اس کا۔۔۔”

مطیبہ کی بات کاٹ کر وہ بیزاری سے بولی،مطیبہ نے حیرت سے فلذہ کو دیکھا پھر نہایت تحیر سے بولی،

“فِلذہ۔۔۔بہن تھی وہ میری۔۔۔”

اس کے جملے پر فلذہ نے تو آنکھیں گھومائی تھیں پر مطیبہ کے اندر جیسے اس کا ضمیر ہنسا تھا اس پر،اب کیا فائدہ تھا یہ احساس کرنے کا وہ بہن تھی اس کی،

اپنے جملے پر بےساختہ خود ہی شرمندہ ہوتی وہ سر جھکائی تھی پر تبھی بری طرح گھبرا کر رہ گئی جب دھاڑ کی آواز کے ساتھ روم کا گیٹ کھلا تھا،فلذہ بھی چونک کر سامنے دیکھی جہاں ہیثم سرخ چہرہ لیے مطیبہ کو شعلہ بار نگاہوں سے گھوررہا تھا،اس کی نظروں کا خود پر پڑنا تھا کہ مطیبہ خوف سے تقریباً لرزی تھی،

“بھائی یہ میں کھانا۔۔۔”

“ٹرے اٹھاؤ اور جاؤ یہاں سے۔۔۔”

مطیبہ پر خون آلود نظریں گاڑے وہ فلذہ سے مخاطب ہوا تھا،

“پر بھائی اس نے ابھی کھانا نہیں کھایا۔۔۔”

فلذہ وہاں رکے رہنے کا جواز پیش کرنے لگی مگر ہیثم کی ایک سخت گھوری پر ہی اس کا منہ بند ہوا تبھی ایک چور نظر سفید پڑتی مطیبہ پر ڈال کر وہ ٹرے اٹھائے وہاں سے جانے لگی،

“فِل۔۔فِلذہ۔۔مجھے۔۔آ۔۔۔آنٹی سے کک۔۔کچھ بات کرنی۔۔ہے۔۔”

جلدی سے کھڑی ہوکر وہ فلذہ کا بازو دونوں ہاتھ سے پکڑے تقریباً التجائیاء لہجے میں بولی،جیسے مدد چاہ رہی ہو،

“ہا۔۔ہاں کیوں نہیں۔۔۔ضرور۔۔۔آؤ میں تمہیں ماما کے پاس لے چلتی ہوں۔۔پھر تمہیں جو بات کرنی ہو کرلینا۔۔۔”

ہیثم کے پتھریلے تاثرات دیکھ فِلذہ بھی مطیبہ کی تائید کرتے ہوئے بولی ساتھ ہی اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کی،

وہ جو بلکل فِلذہ سے چپک کر وہاں سے نکل رہی تھی گیٹ پر پہنچتے ہی ہیثم کی گرفت میں اپنا بازو محسوس کیے بوکھلائی،ادھر فِلذہ کمرے سے نکل کر اب مطیبہ کا بازو ہیثم کو جکڑے دیکھ بولی،

“بھائی مطیبہ کو۔۔”

اپنی بات روک کر وہ پھرتی سے پیچھے ہوئی جب ہیثم نے اس کے منہ پر زور سے دروازہ بند کیا،

“گاڈ۔۔ابھی مجھے لگ جاتی تو۔۔۔”

زیرِ لب بڑبڑاتے وہ سر جھٹک کر گئی تھی وہاں سے،

دروازہ بند کر کے وہ مطیبہ کو تقریباً جھٹک کر چھوڑا تھا،سہمی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ مطیبہ نے راہِ فرار نہ ملنے پر اپنے قدم پیچھے لیے تھے،

“تو۔۔۔کیسا لگ رہا ہے مطیبہ جہانگیر۔۔۔اپنی ہی بہن کے حق پر ڈاکہ ڈال کر۔۔۔”

دونوں بازوؤں کو فولڈ کر کے وہ اسے استہفامیہ نگاہوں سے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا،

“اسے۔۔۔مار کر بھی سکون نہیں ملا جو میرے نکاح میں آنے کے لیے زرا دیر نہ لگائی۔۔۔ویسے مجھے لگتا ہے تم منتظر ہی ہو گی۔۔۔کہ کب کچھ عرصہ گزرے “میری ناذلی” کی۔۔۔۔۔موت کو اور تم اپنا کام کرسکو۔۔۔”

انتہائی ضبط کیے کھڑا تھا وہ ورنہ بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی جان لینے میں زرا بھی دیر نہ کرے،دوسری جانب ہیثم کے زہریلے لفظوں کے زیرِ اثر وہ شرمسار سی سر جھکائے رونے لگی تھی،

“خیر۔۔۔پلیننگ تو بہت زبردست کی تھی تم نے۔۔۔اب دیکھو نا۔۔۔سب کچھ ویسا ہی ہوا۔۔۔جیسے تم نے چاہا۔۔۔ہے نا۔۔۔”

اپنی بات کے اختتام پر وہ اس سے یوں تائید چاہ رہا تھا جیسے کوئی نارمل بات ہو،

“میں نے نہیں مارا ناذلی۔۔۔”

“نام بھی مت لو اپنے منہ سے میری ناذلی کا۔۔۔”

اس کی وضاحت پر بھڑکتا وہ مطیبہ کا بازو جکڑ کر جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا،ادھر مطیبہ اپنا رونا بھولے سہمائی نظروں سے اپنے سے قریب مقابل کے وجیہہ چہرے پر سخت تاثرات دیکھی تھی،

“بہت کرلی اپنی من مانی تم نے مطیبہ جہانگیر۔۔۔اب میری من مانی دیکھنا چاہو گی۔۔۔”

اس کے خوف سے زرد پڑتے چہرے کو گھورتا وہ پوچھا ساتھ ہی مطیبہ کو جھٹکے سے چھوڑتا وارڈروب کی طرف گیا،

وہ جو ناسمجھی سے مقابل کی کاروائی دیکھ رہی تھی اب ہیثم کے ہاتھوں میں اپنی سیکریٹ ڈائری دیکھ اسے لگا کہ ابھی اس کی روح پرواز ہونے لگی ہے،وہ ڈائری اس کے پاس کیسے آئی تھی یہ مطیبہ کی سمجھ سے بالاتر تھا،جس رات ہیثم نے وہ ڈائری پڑھی تھی تب سے مطیبہ نے اس پر اپنے جذباتوں کو لکھنا چھوڑ دیا تھا مگر وہ اتنا ضرور جانتی تھی مقابل کے ہاتھ میں اس کی ڈائری مطیبہ جہانگیر کو اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی،آخر کو اس میں مقابل کے لیے اپنے دل میں پنپتے جذبات لکھے تھے،

مطیبہ کی بےیقین نظریں ڈائری پر جمے دیکھ ہیثم طنزیہ مسکراہٹ سمیت اپنی جیب سے لائٹر نکالا تھا،

“اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی تم نے اس بکواس چیز کو رکھا۔۔۔سو بیڈ۔۔۔اب میں تمہیں اسکی اصل جگہ اور اوقات دکھاتا ہوں۔۔۔”

تمسخر سے کہتا اچانک آخر میں وہ غرایا ساتھ ہی لائیٹر جلاتا ڈائیری کھول کر اس کے صفحے کو جلانے لگا،جب سے سکتے میں کھڑی مطیبہ ہوش میں آئی تھی پھر تیزی میں ہیثم کے ہاتھ سے ڈائری لینے کے لیے بڑھی مگر وہ اپنے ہاتھ پیچھے کرتا اس کی کوشش کو باآسانی ناکام بنایا تھا،

“ہیثم۔۔ہیثم۔۔پلیز ایسا مت کرو۔۔۔پلیز۔۔دیکھو تم مجھے مارلو۔۔۔مگر یہ ڈائری نہیں۔۔۔”

دو صفحات کو جلتے دیکھ ہی مطیبہ کی جان نکلنے لگی تھی تبھی روتے ہوئے اس سے عاجزانہ لہجے میں بولی،

“تم اس قابل نہیں کہ تم پر ہاتھ اٹھاکر میں اپنے ہاتھ گندے کروں۔۔۔ہاں پر اس بےکار چیز کو جلانے میں مجھے تھوڑا بہت سکون مل ہی جائے گا۔۔۔”

اور صفحات پر لائیٹر سے جلاتا وہ آدھی ڈائری جلنے پر اسے نیچے پھینکا تھا،مطیبہ جلدی سے ڈائری کو جلنے سے بچانے کے غرض اسے اٹھانے کے لیے جھکی مگر پیچھے سے اسے گرفت میں لیتا ہیثم اسے یہ کرنے سے بھی روک گیا،

“ہیثم نہیں کرو۔۔۔پلیز۔۔۔”

بلک کر روتے ہوئے وہ مسلسل نفی میں سر ہلاتی اپنی جلتی ڈائری کو اٹھانے کی کوشش میں تھی،مگر ہیثم کی گرفت اپنی کمر پر سخت ترین ہونے پر تڑپ کر بولی،

“فضول چیزیں جل کر خاکستر کرنے کے لیے ہی ہوتی ہیں مطیبہ جہانگیر۔۔۔۔”

اس کی نازک کمر پر بازو کی گرفت سخت کرتا ہیثم نفرت سے بولا تھا،کمرے میں دھواں اٹھنے لگا تھا،

“اور بلکل اس ہی تم۔۔۔”

یہ بات کہہ کر وہ جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا،

سوج کر درد کرتی آنکھوں سمیت مطیبہ ہیثم کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی،

“تمہاری اوقات بھی بلکل اس ہی طرح ہے۔۔۔تم جل کر خاکستر ہوجاؤ گی مطیبہ جہانگیر۔۔۔مگر ہیثم سکندر کی آنکھوں میں کبھی اپنے لیے ایک نرم جذبہ تک نہ دیکھ پاؤ گی۔۔۔کجا کہ محبت۔۔۔میرے دل پر صرف ناذلی ہی ملکیت کرتی تھی ہے اور رہے گی۔۔۔تم اس کی جگہ کبھی لے ہی نہیں سکتی۔۔۔اور لو گی بھی کیسے۔۔۔ایک معصوم کی جگہ کبھی ایک قاتل لے پاتا ہے۔۔۔”

اس کے چہرے کو ہاتھ میں جکڑتا وہ بول نہیں پھنکار رہا تھا،ایک طرف گرفت جس قدر سخت تھی مطیبہ کو لگا اس کا جبڑا ٹوٹ جائے گا دوسرا ہیثم کے الفاظ اسے لوہے کی گرم سلاخوں کی طرح اپنے کانوں میں ڈلتے محسوس ہوئے تو وہ اذیت سے آنکھیں میچ گئی،دل درد سے پھٹنے کے قریب ہوا تھا تبھی اس کو چھوڑتا وہ تیزی میں ڈریسنگ روم کی طرف گیا تھا،

مطیبہ جلدی سے جھکتی اپنی جل کر راکھ ہونے کے قریب ڈائری پر ہاتھ مار کر ہلکی ہوتی آگ کو بجھانے کی کوشش کرنے لگی،اس کوشش میں اس کی مخروطی انگلیاں جل رہی تھی مگر وہ جیسے درد سے بےپرواہ بس روتے ہوئے اپنی ڈائری کے تھوڑے بہت بچے صفحات کو جلنے سے روکنے میں مصروف تھی،

کچھ دیر بعد ڈریسنگ روم سے ہیثم نکلا تو اس کے ہاتھ میں ایک ہینڈ کیری تھی،مطیبہ اب کافی حد تک ان صفحات کو جلنے سے بچاچکی تھی تبھی چور نظر سے ڈرتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جو اب بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا،

نکاح کر کے خوش تو بہت ہورہی ہوگی تم کہ اب ہیثم سکندر کو پالیا۔۔۔مگر بےفکر رہو۔۔تم نے ہیثم سکندر کو نہیں صرف اس کے نام کو پایا ہے۔۔۔اور اب اسی نام کے ساتھ یہاں اپنی بچی کچی زندگی کاٹو۔۔۔کیونکہ ہیثم سکندر کو گوارا نہیں تمہارے ساتھ ایک پل بھی رہنا۔۔۔

استہزیہ انداز میں کہتا وہ آخر میں اس دن کی طرح پھر آدھی بچی ڈائری پر اپنے شوز رکھنے لگا تھا پر تبھی مطیبہ نے جلدی سے ڈائری کے اوپر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے،اہنے شوز کے نیچے اس کے ہاتھوں کو دیکھ ہیثم نفرت سے مطیبہ جہانگیر کے بھیگے کرب رقم چہرے پر ایک آخری نظر ڈالتا ہیثم کبھی واپس نہ آنے کا ارادہ کیے وہاں سے نکلتا چلا گیا،سکندر صاحب جب نکاح کی فوری تیاری کررہے تھے وہ اس ہی وقت اپنی پیرس کی فلائٹ بک کروایا تھا،اس نے سوچ لیا تھا کہ اپنی پڑھائی وہی پر مکمل کر کے وہ کوئی چھوٹا موٹا بزنس کرے گا مگر اب کبھی سکندر ولا کا راستہ بھولے سے بھی نہیں دیکھے گا،

اس کے جانے کے بات مطیبہ بری طرح ٹوٹ کر رونے لگی تھی،ہتھیلیاں جلنے پر بھی اسے وہ درد محسوس نہیں ہورہا تھا دل کے درد کے آگے،ایک طرف اپنی قسمت پر وہ ماتم کناں تھی تو دوسری جانب ناذلی کے مرنے کا پچھتاوا جو اس کا سانس لینا بھی دشوار کررہا تھا،

“آپی۔۔۔”

مانوس آواز پر مطیبہ سر اٹھاکر دیکھی مگر اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی دیوار کے ساتھ کھڑی ناذلی کو دیکھ،

“نن۔۔نا۔۔ناذ۔۔لی۔۔”

ڈر جس قدر سوار ہوا تھا اسکے حواس میں وہ بمشکل بولنے کے قابل ہوئی،

“اتنی نفرت کرتی تھیں آپ مجھ سے۔۔۔مار ہی ڈالا۔۔۔”

یہ ہیثم کے لفظوں کا حد سے زیادہ اثرانداز ہونا تھا کہ اسکے ذہن کی تصویر میں ناذلی کی تصویر بن کر اس سے یہ استفسار کررہی تھی،اور وہ اسے حقیقت سمجھتی خوف سے آنکھیں پھیلائے جلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی،

“نہ۔۔نہی۔۔۔نہیں نا۔۔ناذلی می۔۔میں نے ت۔۔تمہیں۔۔نہیں۔۔مم۔۔مارا۔۔”

ہکلا کر بولنے کی سعی کرتی وہ اسے یقین دلارہی تھی ابھی اگر کوئی اسے یونہی اپنے آپ سے بات کرتا دیکھ لیتا تو یقیناً پاگل ہی سمجھتا،

“آپ ہی ہو نا میری قاتل آپی۔۔۔”

“نہیں ہوں میں قاتل۔۔۔نہیں مارا میں نے تمہیں۔۔۔میں قسم کھاتی ہوں ناذلی۔۔۔میں نے نہیں مارا۔۔کسی کو نہیں مارا میں نے۔۔۔”

وہ اب باقاعدہ پاگلوں کی طرح سر نفی میں ہلاتی منہ گھٹنوں میں چھپائے بلند آواز میں بڑبڑاکر رونے لگی تھی،مگر وہاں اس کی سننے والا کوئی ہوتا تو سنتا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوپہر میں سوا نیزے کو پہنچے سورج کی کرنیں اس بڑے شاندار سے آفس کی گلاس وال پر پڑتی انہیں نمایاں کررہی تھیں،اندر بیٹھا وہ راکنگ چئیر کو گلاس وال کی جانب کیے وقفے وقفے سے گھماتا سورج کی کرنوں کو دیکھ رہا تھا،کانچ مانند مگر سرد آنکھوں میں گہری سوچ کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں،گزرے ڈھائی سال اسے یوں محسوس ہوئے تھے جیسے دو دن ہوں۔۔۔،ان ڈھائی سالوں میں وہ کس قدر محنت کیا تھا،رات دن ایک کرکے کام کرتا،انتہائی لگن اور ذہانت کی بدولت اس کا چھوٹا سا شروع کیا بزنس بہت جلد وسیع پیمانے پر گیا تھا،دریہ بیگم اس کو اکثر راتوں کو جاگ کر کام کرتے دیکھ آرام کی تلقین کرتیں پر وہ یہ بات انہیں نہیں بتا پاتا کہ اس دیوانی کی یاد سلسبیل مراد کو راتوں سونے نہیں دیتی،اسے لانا تو ناممکن تھا تبھی اپنا ذہن کام میں لگاکر وہ دل میں اٹھتی تکلیفوں کو کم کرنے کی کوشش کرتا،

اب اپنے آفس میں بیٹھا وہ پھر پوری دنیا بھلائے گزرے سالوں کو سوچ رہا تھا،یہ اس کے روز کا معمول تھا کہ کام میں دوپہر کو تھوڑا بریک لے کر پرانی یادوں کو تازہ کرنا،

موبائل کی رنگ پر سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تو وہ کال ریسیو کرتا موبائل کان سے لگایا،

“سر۔۔۔پولیس تفتیش کررہی ہے پر انہیں کوئی سراغ ہی نہیں مل پارہا۔۔۔”

دوسری جانب اس کا اسسٹنٹ عفان تھا،جو کل رات کی گئی اس کی کارروائی پر ستائشی لہجے میں بول رہا تھا،اس کی بات سنتے سلسبیل کے تراشے ہوئے لبوں پر پُراسرار مسکراہٹ نے احاطہ کیا،

“ویسے سر۔۔۔راتوں رات دوسرے شہر جاکر کسی بندے کا کام تمام کرنا کوئی آپ سے سیکھے۔۔۔آپس کی بات ہے سر۔۔۔اب بتابھی دیں۔۔۔دشمنی کیا تھی آپ کی۔۔۔”

اپنے باس کی خاموشی پر عفان نے رازدارانہ لہجے میں بتاکر آخر میں پوچھا،

“جاسوسی کرلی۔۔۔؟”

اچانک سلسبیل سرد لہجے میں پوچھا،

“جی بلکل سر۔۔۔”

عفان خوشی سے بولا،

“اب جاکر وہ کرو جس کے لیے بھیجا تھا۔۔۔”

سخت لہجے میں کہہ کر وہ کال کٹ کیا تھا،ادھر عفان جو خوشی سے اپنے لیے تعریف کے دو بول سننے کا منتظر تھا اس کے سخت لہجے میں کہہ کر کال کاٹنے پر منہ بسورا،

“کبھی جو سیدھے منہ بات کرلیں۔۔۔”

چہرہ بگاڑ کر زیرِ لب بڑڑاتا وہ کار میں بیٹھا،

عفان سے بات کر کے وہ فون رکھا ہی تھا کہ ڈور ناک ہوا،اجازت ملنے پر اندر آنے والا اس کا سیکرٹری تھا،

“سر ابھی اگلے ایک گھنٹے تک آپ فری ہوں گے تو عدیل صاحب کے ساتھ میٹینگ رکھوالوں۔۔۔”

پیپر پر اس کا شیڈول پڑھتا اس کا سیکرٹری بولا جس پر سلسبیل نے ایک نظر ہاتھ میں پہنی رسٹ واچ پر ٹائم دیکھا،آج اسے جلدی جانا تھا گھر،

“ٹھیک ہے۔۔۔”

اجازت ملنے پر وہ نکلا تھا تبھی سلسبیل کا فون پھر بجا،

“اپنا وعدہ یاد ہے نا۔۔۔”

دریہ بیگم کی آواز پر ہمیشہ کی طرح اس نے سکون سے آنکھیں موندی،

“جی کوشش ہے جلد آؤں۔۔۔”

چئیر سے ٹیک لگائے وہ بولا،

“کوشش نہیں لازمی آنا ہے۔۔۔پہلے تو اسماء اور عندلیب ہوتی تھی اب تو بلکل ہی بور ہوجاتی ہوں اکیلے۔۔۔”

بےدھیانی میں کہتی دریہ بیگم کی زبان سے پھر وہی جملہ پھسلا جو سلسبیل کو ہمیشہ کرب میں مبتلا کردیتا،احساس ہونے پر وہ چپ ہوئی تھیں،

“سلسبیل۔۔۔”

“شام کی چائے ساتھ پیے گے ہم۔۔۔”

ان کی بات کاٹتا وہ سنجیدگی سے کہا ساتھ ہی کال کٹ کرکے موبائل تقریباً ٹیبل پر پھینکا پھر پیشانی مسلتا ایک مرتبہ پھر پرانی یادوں میں گھرنے لگا،کس قدر خواہش مند تھا وہ اس محبوب لڑکی کے دیدار کا،اس کے دیدار میں وہ کتنے ہجر کے دن کاٹا تھا مگر اب،وہ جانتا تھا کہ اس کا ہجر ہجر ہی رہ گیا کیونکہ اس کی دل اسیر تو اس سے بہت دور جاچکی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھڑکی سے باہر دیکھتی وہ گزرے سالوں کو سوچ رہی تھی،جھیل آنکھوں کی ویرانی ناقابلِ بیاں تھی،پانچ سال ہونے کو تھے اس ستمگر کو گئے ہوئے اپنے کہے کے مطابق وہ واقعی نہیں آیا تھا واپس سوائے ایک مرتبہ کے جب دو سال پہلے عندلیب کی قوتِ گویائی سے محرومی نے سکندر صاحب کی تکلیف میں اضافہ کر کے انہیں موت کی گھاٹ اتارا تھا،ان کی موت کا سن کر وہ آیا تھا،دو ہفتے جو وہ سکندر ولا میں رکا تھا اس میں بھی مطیبہ جہانگیر اور اس کا کبھی آمنا سامنا نہ ہوپایا تھا،ہوتا بھی کیسے اسکے حکم پر دو ہفتوں تک مہناز بیگم نے مطیبہ کو کمرہ نشین جو کردیا تھا،ان دو ہفتوں میں وہ گیسٹ روم تک محدود رہ گئی تھی،ملازمہ آکر کھانا دے جاتی اکثر تو وہ بھوکے ہی رہتی اور پھر ٹھیک دو ہفتوں بعد وہ واپس چلاگیا،مہناز بیگم نے کس قدر رو رو کر اسے رکنے کی منت کی تھی مگر وہ جیسے پتھر دل ہوچکا تھا،

اس قدر کے ان کے نکاح کی رات جب وہ گیا تو دوسرے دن جہانگیر صاحب کی ڈیتھ پر بھی نہ آیا،اس دن مطیبہ جہانگیر بہت روئی تھی،اسے شدت سے احساس ہوا تھا کہ ایک حسد کی آگ میں خود کے ساتھ اپنی بہن کو بھی جلاکر وہ اب اس بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی،کیا ہوتا اگر وہ حسد نہ کرتی تو نہ ہی ناذلی مرتی نہ ہی جہانگیر صاحب کی طبیعت دن بدن ڈھلتی اور پھر آج وہ لوگ زندہ ہوتے،ان دونوں کی موت کی ذمہ دار خود کو سمجھتی مطیبہ ان دو سالوں میں کتنا پشیمان ہوئی تھی،

“مطیبہ بی بی۔۔”

ملازمہ کی پکار پر وہ ہوش میں آتی چونکی،

“بی بی بیگم صاحب کافی مانگ رہی ہیں۔۔”

“اوہ۔۔۔میں بھول گئی تھی۔۔۔آتی ہوں۔۔”

اس کی بات پر ملازمہ سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے گئی تو مطیبہ بھی کچھ دیر بعد روم سے نکلی،

سیڑھیوں سے بےدھیانی میں اترتی وہ اوپر آتے ہناد سے بری طرح ٹکرائی تھی،موقع پر ہناد نے اس کے دونوں بازو پکڑے نہیں تو وہ گرتی،

“سو۔۔۔سوری ہناد بھائی۔۔میں۔۔”

بوکھلاکر بولتے ہوئے وہ سیدھی ہونے لگی مگر مقابل نے جس مضبوطی سے اس کے بازو پکڑے تھے مطیبہ ہل بھی نہ پائی،دوسری جانب ہناد بغور اس کے بوکھلائے چہرے کو دیکھتا مسکرایا پھر بولا،

“کوئی بات نہیں لڑکی۔۔ہوجاتا ہے کبھی کبھی بےدھیانی میں۔۔”

مطیبہ کو اپنے بازو چھڑوانے کی کوشش میں دیکھ وہ گرفت ڈھیلی کرتا اسے چھوڑا،جس پر مطیبہ کتراکر وہاں سے جانے لگی مگر ایک سیڑھی اتر کر ہی وہ رکی جب ہناد نے اچانک اس کی کلائی پکڑی،وہ گھبراکر اسے دیکھنے لگی،

“لگی تو نہیں تمہیں۔۔”

لہجے کو فکرمندانہ بنائے وہ اپنی گرفت میں مقید اسکی کلائی پر دباؤ ڈالا،مطیبہ کو یکدم وہاں کی فضا خود پر تنگ لگی ہناد کی نظریں اسے اپنے آر پار محسوس ہوئیں، تبھی بوکھلاکر جلدی سے اثبات میں سر ہلاتی وہ اپنی کلائی کھینچنے لگی،ایک بھرپور نظر اسکے سراپے پر ڈالتا ہناد چھوڑا تھا مطیبہ کی کلائی،

وہ گھبرا کر پلٹتی تیز قدموں سمیت سیڑھیاں اتر کر کچن کی طرف گئی مگر وہاں تک جاتے ہوئے مطیبہ کو اپنی پشت پر اس کی نظریں محسوس ہوئی تھی،وہ بچی تو نہ تھی جو پچھلے کچھ مہینوں سے ہناد کی ایسی حرکتوں کو سمجھ نہ پارہی ہو،وہ پہلے تو ایسا نہ تھا پھر کیوں کچھ مہینوں سے اس طرح کی عجیب حرکتیں کررہا تھا،ہاں وہ پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ اب ہناد سے ڈرنے لگی تھی تبھی بہت کم کوشش کرتی اب اپنے کمرے سے نکلنے کی،

دوسری جانب ہناد جب تک مطیبہ کچن میں نہ چلی گئی اس کی پشت کو کمینگی سے گھورتا رہا،وہ نہیں تھا ایسا پر کچھ مہینوں پہلے چند ایسے دوستوں کی صحبت میں آیا تھا جو اسے ہر ہفتے دو ہفتے میں ریڈ لائٹ ایریا لےجاتے،شروع میں تو ہناد کو وہ سب عجیب لگتا تھا لیکن اتنے مہینوں میں وہ عادی ہوچکا تھا ان سب کا،اور اب گھر پر اکثر و بیشتر مطیبہ کو دیکھ ناجانے کب اس کی نظریں بدلی اسے احساس نہ ہوا،اس کے بعد وہ اپنے عمل سے اکثر مطیبہ پر اپنی نظروں کا بدلاؤ ظاہر کرتا جسے دیکھ وہ شروع میں تو اپنا وہم سمجھی تھی مگر اب کتراتی تھی ہناد کے سامنے آنے سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *