Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 11)

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

آج تقریباً ساتھ مہینے بعد اس کے آنکھوں پر سے پٹی ہٹی تھی،پر گزرے مہینوں میں اسے اپنے لیے زرا بھی خوشی نہ ہوئی،وہ ان دنوں بھی نا خوش رہتا وجہ عندلیب کا اسکے پاس نہ ہونا،دریہ بیگم نے اسے ان مہینوں میں یہ بتایا تھا کہ وہ کچھ مصروفیات کی بنا پر نہیں آپارہی،

“اتنے سالوں بعد واپس دنیا کی رنگینیوں کو دیکھ کر اب کیسا لگ رہا ہے تمہیں۔۔۔؟”

وہ خاموش بیٹھا تھا تبھی وارڈ میں داخل ہوتیں دریہ بیگم آسودگی سے مسکراکر پوچھیں،

“دنیا کی ان رنگینیوں سے ہی تو خوف آتا ہے۔۔۔جو ہر دن کے ساتھ اپنا ساتھ بدلتی ہے۔۔۔”

سنجیدہ تاثرات سمیت کہتا وہ انہیں بہت پریشان لگ رہا تھا،

“کوئی بات ہے تو بتاؤ۔۔۔”

اس کے پاس بیٹھتی سلسبیل کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتیں وہ نرمی سے پوچھیں،

“گرینی کب تک مجھ سے جھوٹ بولیں گی۔۔۔صاف صاف بتا کیوں نہیں رہی ہیں آپ کہ عندلیب میرے پاس کیوں نہیں آرہی۔۔”

اس کے اچانک پوچھے گئے سوال پر دریہ بیگم کچھ پل کی خاموشی کے بعد بولیں،

“تمہیں بتایا تو ہے وہ کچھ مصروف۔۔۔”

“مصروفیات چند دنوں کی ہوتی ہے۔۔۔نا کہ اتنے مہینوں کی۔۔۔گرینی بتائیں پلیز۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔کیوں وہ نہیں آرہی۔۔۔”

اس بار سلسبیل کے لہجے میں بےقراری گھلی تھی،کتنا انتظار تھا اسے عندلیب کے چہرے کو دیکھنے کا،وہ اکثر سوچتا کہ جس لڑکی کا دل اس قدر خوبصورت ہے وہ خود کتنی پیاری ہوگی،مگر اب اس کا سامنے نہ آنا سلسبیل کو تکلیف میں مبتلا کرنے لگا تھا،

“جاننا چاہتے ہو کیوں نہیں آتی وہ۔۔۔”

کافی دیر تک چپ رہنے کے بعد دریہ بیگم نے اپنے اوپر ضبط کرتے سلسبیل سے پوچھا جس پر وہ فوراً اثبات میں سر ہلایا،

“وہ آتی تب۔۔۔جب زندہ ہوتی۔۔”

سلسبیل کے وجیہہ چہرے پر لگی اس دیوانی کی کانچ مانند آنکھوں کو دیکھ دریہ بیگم بھیگے لہجے میں بولیں،ان کی بات بغور سنتا سلسبیل جیسے کچھ پل کے لیے عالمِ سکتے میں چلاگیا تھا،یہ وہ کیا کہہ رہی تھیں،

“گرینی۔۔۔کیا بول۔۔”

“ہاں وہ نہیں رہی۔۔۔وہ جاچکی ہے ہم سے بہت دور اس جگہ جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔۔۔اور جانتے ہو یہ سب کیسے ہوا۔۔۔کیونکہ اس نے تمہیں اپنی آنکھیں ڈونیٹ کی تھیں۔۔”

بھرائی آواز میں کہتی دریہ بیگم چپ ہوئی ساتھ ہی روتے ہوئے سسلبیل کو دیکھیں جس کی کانچ مانند آنکھیں پل میں سرخ ہوئی تھیں،دل میں درد کی ٹیسیں اٹھیں،اسے اپنا پورا وجود پل میں بےمعنٰی لگا تھا جس کے لیے وہ نازک لڑکی اتنی بڑی قربانی دے چکی تھی،ہاں اس نے کبھی کہا نہیں تھا پر اپنے عمل سے اس پر ہر دن یہ ظاہر کرتی کہ وہ اس کے لیے ایک خوبصورت جذبہ رکھتی ہے اپنے دل میں،ہاں وہ جانتا تھا کہ عندلیب اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی تھی مگر کیا اس قدر آگے بڑھ چکی تھی وہ اپنی محبت میں،کیا اس نے محبت کی سیڑھیاں پار کر کے عشق کی اس سیڑھی پر قدم رکھ کیا تھا جہاں پر انسان اپنے بارے کچھ نہیں سوچتا،اسے صرف اپنے محبوب کی خوشی چاہیے ہوتی ہے،سکتہ ٹوٹا تھا اور کئی آنسو یک بیک سلسبیل مراد کی آنکھوں سے رواں ہوئے،وہ تڑپ کر رہ گیا،کیا وہ لڑکی اس سے عشق کرنے لگی تھی،آج اپنا آپ اسے عندلیب کے آگے بہت چھوٹا لگا،اپنی قربانی سے وہ اس پر واضح کرچکی تھی کہ اس کے عشق کے آگے سلسبیل مراد کی محبت کم پڑگئی،

“وہ نہیں مرسکتی۔۔۔اس نے۔۔۔اس نے وعدہ کیا تھا۔۔۔”

بےاختیار اس کے دماغ میں عندلیب کا کیا وعدہ آیا تو یقین بےیقینی کی ملی جلی کیفیت میں بڑبڑایا،

“گرینی ا۔۔۔اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے ساتھ رہے گی۔۔۔اسے کہیں نا مجھے اس کی ضرورت ہے۔۔۔پلیز گرینی۔۔۔”

اچانک دریہ بیگم کا ہاتھ تھامتا وہ بضد لہجے میں بولا،

“کیسے کہوں اسے۔۔۔”

وہ تھکن زدہ لہجے میں استفسار کیں،بوڑھیں آنکھوں سے آنسو روانی سے نکلنے لگے تھے،

“اسے بُلادیں۔۔۔پلیز گرینی۔۔۔۔اس نے ایسا کیوں کیا۔۔۔کیوں وہ میری باتیں نہیں مانتی کیوں وہ اپنی من مانیاں کرتی ہے۔۔۔”

تڑپتے دل سے کہتا سلسبیل دریہ بیگم کو بہت ٹوٹا ہوا لگا تھا،بھیگی نظروں سے اسکی کانچ آنکھوں کو دیکھ وہ مترنم آواز میں بولیں،

“میرے بچے۔۔۔کہاں سے لاؤں اسے۔۔۔۔ڈاکٹرز نے جب واضح لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ سرجری کے دوران تکلیف نہ برداشت کرتے ہوئے اس کی موت واقع ہوگئی۔۔۔”

کس قدر مشکل سے انہوں نے یہ الفاظ ادا کیے تھے،اتنے عرصے میں جس قدر انہیں عندلیب عزیز ہوئی تھی یہ خبر سن کر انہیں کسی طور سکون نہیں ملا تھا جبکہ دریہ بیگم کی پوری بات مکمل کرنے پر گیٹ کے پاس کھڑے ڈاکٹر نے نگاہ چرائی تھی،

دوسری جانب اذیتوں میں گِھرا سلسبیل انکی جانب دیکھتا بےتحاشہ کرب لیے دھاڑا،

“تو نہیں کرتی ناں وہ یہ عنایت مجھ پر۔۔۔۔نہیں چاہیے تھا اس کا یہ احسان۔۔۔مجھے آنکھیں دے کر خود ہی زندگی گواں بیٹھی۔۔۔۔ایسی آنکھیں نہیں چاہیے مجھے۔۔۔”

بات کے آخر میں وہ تیزی سے ہاتھ مار کر سائیڈ میں رکھی مشینوں کو گرایا تھا،دریہ بیگم نے روتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ ڈاکٹر اس کے خطرناک تاثرات اور عمل سے گھبراتا روم سے نکلا،خون کی لکیریں ابھری تھیں سلسبیل کے بازو پر لیکن وہ تکلیف اسے زرا محسوس نہ ہوئی،

دل میں اٹھتے کرب ہی ناختم ہونے والے تھے،اور تڑپتا کیوں نہ وہ،اتنے مہینوں سے انتظار جو کررہا تھا اس لڑکی کو دیکھنے کے لیے جس سے بہت عرصے بعد جاکر محبت ہوئی تھی،پر کیا معلوم تھا کہ وہ دیوانی اپنی آنکھیں ہی قربان کردے گی اس پر،

“عندلیب۔۔۔”

وہ چیخا تھا بری طرح،لہجے میں ٹوٹے کانچ سی چبھن تھی،اگر کو اسے خبر ہوتی کہ وہ دیوانی سرجری کے بہانے اس قدر بڑا قدم اٹھائے گی تو مر کر بھی ہامی نہ بھرتا اس کی بات پر،

“ڈاکٹر سے کہیں ایک اور مرتبہ سرجری کریں۔۔۔اور میری یہ آنکھیں نکال دیں۔۔۔کیا فائدہ ہوا اس سب کا۔۔۔جب وہ ہی چھوڑ کر چلی گئی مجھے۔۔۔نہیں چاہیے یہ آنکھیں مجھے۔۔۔میں پہلے ہی ٹھیک تھا۔۔۔”

سرخ چہرے سمیت کہتا سلسبیل بےحد تڑپ لیے بولا

“سلسبیل۔۔۔میرا بچہ۔۔۔صبر کرو۔۔”

“کیسے کروں صبر گرینی۔۔۔مررہا ہوں۔۔جب میں اس سے کہتا تھا کہ چلی جاؤ تو جاتی نہیں تھی اور اب۔۔۔جب چاہتا تھا کہ ساتھ رہے تب یوں چلی گئی۔۔۔کیوں آئی تھی پھر وہ میری زندگی میں۔۔۔ٹھیک تھا نا جیسا بھی تھا۔۔۔”

اب اس نے دریہ بیگم سے استفسار کیا غصے میں جس پر وہ جواب نہ ہونے پر چپ چاپ آنسو بہاتی رہیں،

“وہ تم سے بہت محبت کرتی تھی میرے بچے۔۔۔اس کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دینا۔۔۔”

بہت دیر تک وارڈ میں خاموشی چھائی رہی پھر دریہ بیگم نے آہستگی سے کہہ کر ایک چھوٹا سا پیپر ساتھ لائے اپنے پرس سے نکال کر سلسبیل کے ہاتھ میں تھمایا،

“یہ اسماء نے دیا تھا مجھے۔۔۔تمہارے روم کی صفائی کے دوران تکیے کے نیچے پڑا تھا۔۔۔شاید عندلیب نے رکھا تھا۔۔۔”

اسے پیپر پکڑا کر وہ وارڈ سے نکل کر باہر بینچ پر بیٹھیں جہاں اسماء اور فرمان کھڑے تھے،اس رات گھر پر وہ آرام کر کے جب دوسرے دن آئیں تو ڈاکٹرز نے جو خبر انہیں دی تھی وہ ان کی جان نکال گئی،عندلیب کی قربانی پر اشک بہاں انہوں نے جب ڈاکٹرز سے اس کی ڈیڈ باڈی دیکھانے کا کہا تو ڈاکٹر ہارون نے بتایا کہ عندلیب کے والدین اس کی ڈیڈ باڈی کے کر گئیں ہیں اور اس کی موت پر بہت غضب زدہ تھے،یہ سن دریہ بیگم میں اور ہمت نہ تھی کچھ پوچھنے کی،بچا ہی کیا تھا وہ دیوانی جب محبت میں انکے پوتے کے لیے اپنی فیملی کو بھلائے اتنی بڑی قربانی دے چکی تھی تو وہ کس منہ سے اب اس کے گھر والوں کا پوچھ ان کے پاس جاکر دو بول دلاسے کے بولتیں،

دریہ بیگم کے جانے کے بعد اس نے فولڈ ہوئے پیپر کو ایک نظر دیکھا،سامنے بڑے لفظوں میں لکھا تھا “فروم عندلیب”،اپنی آنکھیں ہاتھ کی پشت سے صاف کرتا وہ فولڈ پیپر کھولا جس پر لکھا تھا،

“جب تم یہ پڑھو گے تو جانتی ہوں اس وقت تک میں اس حالت میں نہیں ہوں گی کہ کچھ دیکھ سکوں تبھی تمہارے چہرے پر بینائی واپس آنے کی خوشی نہیں دیکھ پاؤں گی۔۔۔لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ تم خوش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت غصہ بھی ہوگے مجھ سے میری اس حرکت پر۔۔۔لیکن کوئی نہیں مجھے تو عادت ہے تمہاری ڈانٹ سننے کی۔۔پر اس بار کی تمہاری ڈانٹ سن کر میں روں گی نہیں بلکہ خوش ہوں گی کہ تم مجھے میرے لیے ہی ڈانٹو گے۔۔۔آخر کو مجھے معلوم ہے۔۔۔کہیں نا کہیں تم بھی میرے لیے وہ جذبات رکھتے ہو پر اظہار کرنا نہیں آتا تمہیں۔۔۔یا شاید کرنا چاہتے نہیں۔۔۔خیر زیادہ کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔صرف تم سے یہ چاہتی ہوں کہ جن خوابوں کی تکمیل تم کئی سال پہلے اپنے اندر دفن کر کے تھے۔۔۔ان کو مکمل کرنا اور ایک بہت اچھے انسان بننا ویسے تم اچھے تو ہو پر تھوڑے رُوڈ ہو۔۔۔اور ہاں۔۔۔میری آنکھوں کی فکر نہ کرنا۔۔۔میں جیسے ہوں ویسی ہی ٹھیک رہوں گی۔۔۔ایک آخری بات۔۔۔میں نے تم سے محبت تو کی ہے بہت لیکن کبھی تمہیں پانے کا نا سوچا نا چاہا کیونکہ میں جانتی ہوں میں کبھی تمہیں پا نہیں سکتی۔۔۔اسی لیے تم بےفکر ہوکر اپنے خواب پورے کرنا اور خوش رہنا بہت،”

“عندلیب”

پورے خط کو پڑھ کر سلسبیل نے آخر میں عندلیب کی لکھی وہ لائنز پڑھیں،جسے پڑھتے ہی اس کی خشک آنکھیں پھر نم ہونے لگیں،

“تم جہاں بھی ہو جیسے ہو ویسے ہی رہنا،

تمہیں پانا ضروری نہیں تمہارا ہونا ضروری ہے۔”

آج اس لڑکی نے واقعی اس پر ظاہر کیا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں عشق کرتی تھی،اپنی نم ہوتی آنکھیں ایک مرتبہ پھر پونچھتا سلسبیل ایک نظر پیپر کے آخر میں عندلیب کے نام کو دیکھا پھر نہایت نرمی سے ان لفظوں کو چوم لیا،بےتحاشہ تڑپتے دل کو تھوڑی راحت ملی تھی اس دیوانی کی باتوں سے اور ایک نیا عزم کرتا وہ بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندا ساتھ ہی وہ لیٹر اپنے سینے پر رکھا تھا،

“جب کانچ اُٹھانے پڑجائیں،

تم ہاتھ ہمارے لے جانا،

جب سمجھو کہ ساتھ کوئی نہیں،

تم ساتھ ہمارا لے جانا،

جب دیکھو کہ تم تنہا ہو،

اور راستے ہیں دشوار بہت،

تب ہم کو اپنا کہہ دینا،

بےباک سہارا لے جانا،

جو بازی بھی تم جیتو گے،

جو منزل بھی تم پاؤ گے،

ہم پاس تمہارے ہو نہ ہوں،

احساس ہمارا لے جانا،

اگر یاد ہماری آجائے،

تم پاس ہمارے آجانا،

بس اِک مسکان ہمیں دینا،

پھر جان بھی چاہے لے جانا۔۔۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا علاج سکندر صاحب اپنے شہر کے مہنگے ترین ہاسپٹل میں کروانے لگے تھے،سرجری کو زیادہ وقت نہ ہونے کے باعث ابھی ڈاکٹر نے سکندر صاحب کو بتایا تھا کہ وہ فلحال کچھ مہینوں تک اسے دوسری آنکھیں لگانے کا رِسک نہیں لے سکتے،اسے ہوش آیا تو سکندر صاحب نے مہناز بیگم کی بات مانتے عندلیب سے کچھ زیادہ سوالات نہ پوچھے،ان دونوں کے لیے بس اتنا ہی بہت تھا کہ ڈاکٹرز نے امید دلائی تھی کہ کچھ مہینوں بعد جب سرجری کے باعث آنکھوں کے کناروں کی سوجن ختم ہوگی تو جلد وہ اسے دوسری آنکھیں لگادیں گے،جس ہاسپٹل میں عندلیب ایڈمٹ تھی وہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے پیشنٹس آتے جو حالتِ نزع میں اپنی آنکھیں کسی کو ڈونیٹ کرنے کی آخری خواہش ظاہر کرتے تبھی سکندر صاحب کو اس فکر سے آزادی ملی تھی کہ عندلیب کے لیے آنکھیں کون دے گا،دن پر لگاکر اڑنے لگے اور قریباً چھ مہینے بعد عندلیب کے پپوٹے اس قابل ہوئے کہ وہ ایک اور سرجری برداشت کرلیں پھر سکندر صاحب کے کہنے پر ڈاکٹرز نے بنا وقت ضائع کیے چند دنوں بعد اس کی سرجری کی،

سرجری تو کامیاب ٹہری پر اب کچھ مہینوں تک اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی رہنی تھی،مہناز بیگم کے لیے وہ دن نہایت خوشی کا دن تھا جب عندلیب کی آنکھوں لگی تھیں سرجری کے بنا پر،اسے تقریباً ایک سال ہوچکا تھا ہاسپٹل میں رہتے،اس عرصے میں فلذہ اور ہناد بھی ہاسپٹل میں اس کی خیر خبر کے لیے آتے رہتے،شروع میں ان لوگوں کو جب عندلیب کی حرکت کا علم ہوا تو وہ لوگ شدید جھٹکے میں آئے فلذہ کو جہاں اس خبر سے خوشی ہوئی تھی وہی ماند پڑی اس کی خوشی ایک سال بعد عندلیب کی آنکھوں پر سے پٹی ہٹتے دیکھ،مگر ایک چیز جو اس کے اندر یک گونہ سکون بخشی وہ یہ تھی کہ اب عندلیب کی آنکھیں کانچ مانند نہیں تھیں،ان خوبصورت کانچ مانند آنکھوں کی جگہ اب دو گہری کالی مگر سرخ ڈورے والی آنکھیں تھیں جو بلکل بےتاثر رہتیں،

پٹی ہٹنے کے کچھ دن بعد اسے گھر آنا تھا پر اچانک ایک دن اس وارڈ میں جس میں عندلیب تھی ڈیوٹی کرتی نرس کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی،جب عندلیب کے منہ سے اچانک خون نکلنے لگا،وہ خون اس قدر بہا تھا کہ عندلیب کے بیڈ تک میں پھیل گیا تھا،سکندر صاحب اس وقت مہناز بیگم کو سکندر ولا چھوڑ کر ہاسپٹل آئے تھے جہاں فلذہ عندلیب کے ساتھ تھی پر وہاں عندلیب کی نیم مردہ حالت دیکھ ان کے رونگٹے کھڑے ہوئے،ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ کانچ کے کچھ چھوٹے ٹکڑوں نے اس کے حلق کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن وہ کانچ کے ٹکڑے اس کے حلق میں گئے کیسے تھے یہ کوئی جان نہ پایا،

عندلیب کا فوری آپریشن ہوا تھا،ڈاکٹرز نے وہ ٹکڑے تو اس کی حلق سے نکال دیے مگر ان سب میں ایک بری خبر جو سکندر صاحب اور مہناز بیگم پر پہاڑ کی طرح ٹوٹی وہ یہ تھی کہ عندلیب اپنی قوتِ گویائی سے محروم ہوچکی تھی،اپنی بیٹی پر اس طرح مصیبتیں آتے دیکھ سکندر صاحب کی حالت خراب ہونے لگی تھی،وہ دن بدن کمزور ہونے لگے،مہناز بیگم بھی کم دُکھی نہ تھیں اس کی حالت پر،ہر دم ہنسنے خوش رہنے والی ان کی بیٹی اب ہر پل خاموش اور تنہا رہتی،بول تو وہ سکتی نہیں تھی اب،لیکن اپنے گھر والوں سے بھی کنارہ کشی کرتے زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں محدود رہ کر گزارتی،اس ایک سال میں کتنا کچھ بدلا تھا سکندر ولا میں سوائے عندلیب کے دل میں پہرہ دیتی یادوں کے،وہ اب تک اسے یاد کرتی،دل کلپتا کہ وہ ناجانے اب کیسا ہوگا کس حال میں ہوگا،اس نے تو وعدہ کیا تھا ہمیشہ ساتھ رہنے کا پھر کیسے وہ اسے اکیلا چھوڑ چکی تھی،بےتاثر آنکھیں اکثر راتیں جاگ کر گزارتی اپنے محبوب کی یاد پر،نادان دل تھا کہ ایک پل بھی باز نہ آتا اسے یاد کرنے سے،کتنی کوشش کی تھی وہ اسے بھلانے کی اور دعا کرتی کہ وہ انسان جہاں بھی ہو جیسا بھی ہو اپنی ہر خواب کو تکمیل تک پہنچائے،اپنی زندگی کھل کر جیئے،وہ جانتی تھی کہ اب ان دونوں کا ملنا ناممکنات میں شمار ہے تبھی اسے بھولنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتی مگر اس کی ہر کوشش اس وقت بےسود ہوتی جب سلسبیل مراد کا وجیہہ چہرہ ذہن کے پردے پر جھلکتا،

“بڑا دشوار ہوتا ہے______کسی کو یوں بھلادینا،

کہ جب وہ جذب ہوجائے رگوں میں خون کے مانند۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاسپٹل میں آپریشن تھیٹر کے باہر سُن بیٹھا وہ اپنی لُٹتی دنیا پر ماتم کناں تھا،سب کچھ جیسے پل میں ختم ہوا تھا اس وقت جب ڈاکٹرز نے اسے بتایا کہ یہاں آنے سے پہلے ہی اس کی مکینِ دل اپنا دم توڑ چکی تھی،کتنے ہی آنسو گرے تھے اس کی خاموش آنکھوں سے،بےتاثر آنکھیں زمین پر گڑیں ناجانے کیا تلاش رہی تھیں شاید وہ خوشی جو ناذلی جہانگیر کو دیکھ اکثر اسے ہوتی پر اب تو وہ کبھی خوش نہیں رہنے والا تھا آخر کو اس کی متاعِ جاں اسے تن تنہا چھوڑ کر جو چلی گئی تھی،

“ہیثم۔۔۔!!!”

اچانک آتی سکندر صاحب کی آواز پر وہ اپنا بھاری ہوتا سر اٹھایا،ضبط کے باعث حد سر زیادہ لال آنکھوں نے سامنے دیکھا جہاں سے سکندر صاحب اور مہناز بیگم سمیت ہناد فلذہ اور جہانگیر صاحب بھی ابھی ہڑبڑاہٹ

آئے تھے،

“ڈاکٹرز نے کیا کہا۔۔۔ناذلی ٹھیک تو ہے نا۔۔۔”

سکندر صاحب نے اس کے پاس آکر پوچھا،جہانگیر صاحب دل میں کنڈلی مارتے بےتحاشہ ڈر کی بدولت چپ کھڑے ہیثم کے بولنے کے منتظر تھے،البتہ ان کا گھبرایا چہرہ اندر کے خوف کی عکاسی ضرور کررہا تھا،اپنی بیٹی کو کھونے کا خوف،

“بولو بھی ہیثم۔۔۔کیسی ہے وہ ابھی۔۔۔زیادہ چوٹ تو نہیں آئی ناں۔۔۔”

اس کی خطرناک حد تک خاموشی پر سکندر صاحب نے پریشانی میں ہیثم کا کندھا ہلایا،

“با۔۔۔با۔۔۔میں برباد ہوگیا۔۔۔سب۔۔کچھ خت۔۔ختم۔۔ہوگیا۔۔۔”

بری طرح ہارا ہوا انداز تھا اس کا،ٹوٹے لہجے میں بولتا وہ آخر میں روہانسا ہوا،مہناز بیگم نے گھبراکر جہانگیر صاحب کو دیکھا پھر ان کے پیچھے آتی مطیبہ کو جس کا سفید چہرہ یوں لگ رہا تھا جیسے اس میں خون کی ایک بوند نہ ہو،لبوں پر بار بار زبان پھیرتی وہ اپنی بگڑتی حالت پر قابو پانے کی ناممکن کوشش کیے جہانگیر صاحب کے برابر میں کھڑی ہوئی تھی،

“ہوا کیا ہے۔۔۔”

اس کی باتیں خطرناک حد تک سمجھ آچکی تھی سکندر صاحب کو پھر بھی وہ پریشان ہوکر بلند آواز میں پھر پوچھے پر تبھی ہیثم کی نگاہ جہانگیر صاحب سے چپکے کھڑی مطیبہ پر گئی جو کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی،شدید غم و اشتعال اور نفرت کی ایک لہر دوڑی تھی اس کے وجود میں،بےبسی کی انتہا کو پہنچتا وہ سکندر صاحب کے برابر سے ہوتا مطیبہ کے پاس گیا پھر بنا کسی کا لحاظ کرتے زور دار تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا،وہ جو پہلے ہی خوفزدہ ہوئی تھی اس کے خود کو دیکھنے پر اب بھاری ہاتھ کا تھپڑ پڑتے ہی تڑپ کر چیخی،سب یکایک چونکے،

“ہیثم۔۔۔پاگل ہوگئے ہو کیا۔۔۔”

جہانگیر صاحب نے مطیبہ کو فوراً خود سے لگاکر غضب بھری آواز میں کہا،

“اس نے مار ڈالا میری ناذلی کو۔۔۔چاچو یہ قاتل ہے میری ناذلی کی۔۔۔وہ مرگئی اس کی نفرت سے۔۔۔مار ڈالا تم نے۔۔۔”

سکندر صاحب اور مہناز بیگم جو اس کی حرکت پر ہیثم کو ڈانٹنے لگے تھے ہیثم کے الفاظوں نے ان سب کو پتھر کر دیا،جہانگیر صاحب کا ہاتھ بےاختیار ہٹا تھا مطیبہ کے کندھے سے اور وہ لڑکھڑا کر جلدی سے دیوار کو تھامے،ناذلی کی اچانک موت انہیں شدید بےیقینی میں مبتلا کی تھی،فلذہ اور ہناد بھی بری طرح چونکے تھے اس کی بات پر،جبکہ مہناز بیگم اپنے بیٹے کی ٹوٹی حالت دیکھتے رہ گئیں،

“کیا غلطی تھی اس کی۔۔۔کیوں مارا تم نے اسے۔۔۔کیوں۔۔”

اچانک مطیبہ کو بری طرح جھنجھوڑتا ہیثم دھاڑا،ناذلی کی موت کا سن کر اپنا دماغ ماؤف محسوس کرتی مطیبہ اب باقاعدہ بلند آواز میں رونے لگی تھی،وہ چیخ رہا تھا اس پر لیکن وہاں کھڑے نفوس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اب اسے چھڑواسکے ہیثم کی گرفت سے،پھر خود پر قابو کرتی مہناز بیگم آگے بڑھیں اور مطیبہ کے بازوؤں کو زبردستی اس کی سخت گرفت سے آزاد کرتی مطیبہ کو خود میں بھینچی،

“ہیثم۔۔۔حالت دیکھو اس کی۔۔۔کس قدر ہلکان ہورہی ہے۔۔۔اور تم ہو کہ بےبنیاد الزامات لگارہے ہو۔۔۔صغریٰ نے بتایا تو ہے کہ ناذلی گری تھی چھت سے۔۔۔اس میں مطیبہ کا کیا قصور۔۔۔”

اپنے سے لگی مطیبہ کو بےتحاشہ روتے دیکھ مہناز بیگم نے اس کی پشت سہلاکر ہیثم سے کہا،

“آپ نہیں جانتی اسے۔۔۔ماما یہ وہ آستین کا سانپ ہے جو اپنی نفرت میں اندھا ہوکر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتا ہے۔۔۔اس کی نفرت نے کھالیا میری ناذلی کو۔۔۔وہ معصوم تو محبت کرتی تھی اپنی اس بہن سے پر یہ گھٹیا۔۔۔”

“ہیثم بس کرو۔۔۔ہوش میں بھی ہو کیسے لفظوں کا استعمال کررہے ہو”

اب کی بار سکندر صاحب اس کی بات کاٹ کر برسے تھے،

“وہ پاگل نہیں ہے جو اپنی ہی بہن کو مارے گی۔۔۔ناذلی کو صرف تم نے ہی نہیں کھویا ہے۔۔صرف تم اکلوتے ہی اس سے محبت نہیں کرتے تھے۔۔۔ہم سب دل گرفتہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ اس کی موت کا ذمہ دار کسی کو ٹہرا کر اس پر اپنا غصہ اتاریں۔۔۔اور جہاں تک

حقیقت دیکھی جائے تو تم سے زیادہ تکلیف مطیبہ اور جہانگیر کو ہے۔۔۔”

ان کی بات پر بےبسی بھرے غصے میں وہ مطیبہ کو گھورا تھا جو بری طرح لرزتے ہوئے مہناز بیگم کے سینے سے لگی رورہی تھی،وہ نہیں جانتی تھی کہ کبھی ایسا بھی ہوگا۔۔۔،جس کے لیے وہ اتنے عرصے سے دعائیں کرتی تھی آج وہ ہونے پر مطیبہ جہانگیر زرا خوش نہ تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناذلی کی ڈیتھ کو دیڑھ سال گزر چکے تھے،ان دیڑھ سالوں میں دونوں گھروں میں عجیب سوگ سا رہتا،اس کی ڈیتھ پر عندلیب آئی تھی،اس کے لیے بھی ناذلی کی یہ ناگہانی موت کسی صدمے سے کم نہ تھی،چند مہینوں بعد مس فاریہ کی کال پر مہناز بیگم نے اسے واپس بھیج دیا تھا،اس کی موت سے جہاں سبھی سوگوار کیفیت میں رہتے وہی ہیثم کی دنیا رک چکی تھی،سب کے سامنے اب زیادہ تر خاموش رہنے والا ہیثم اکثر راتوں کو اسے یاد کر کے بچوں کی طرح روتا،اس کے ساتھ گزارا ہر وہ معصوم خوبصورت لمحہ اس کے ذہن میں جھلک کر آنکھوں کو لال کر ڈالتا،ان دیڑھ سالوں میں اس نے جتنی شدت سے ناذلی جہانگیر کو یاد کیا تھا اتنی ہی شدید نفرت اس کے دل میں مطیبہ جہانگیر کے لیے بڑھی تھی،بےبسی اتنی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اس بےحس لڑکی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا،وجہ جہانگیر صاحب کی خراب ہوتی طبیعت،ناذلی کی موت سے جس بری طرح وہ متاثر ہوئے تھے اب ایک بیٹی کا انہیں سہارا تھا اور ہیثم اپنی نفرت میں ان کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا تبھی بےبسی میں خاموشی کا لبادہ اوڑھ چکا تھا،

دوسری جانب اس عرصے میں مطیبہ جتنا پچھتائی تھی اتنا کم تھا،ناذلی کی موت نے اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا،آنکھوں سے نفرت کا پردہ ہٹا تو احساس ہوا کہ اپنی جنونی محبت میں وہ کس قدر گناہگار ٹہرائی ہے،جو وہ چاہتی تھی وہی ہوا تھا،اس کے اور ہیثم کے بیچ اب ناذلی نہیں تھی مگر اس کے باوجود ایک پل کا سکون اب اسے میسر نہ تھا،کتنی راتیں وہ بےسکونی میں رو کر گزارتی،ضمیر تھا کہ اس پر ملامت کرتا جس سے منہ چھپانے کی کوشش کرتی وہ پھوٹ کر رونے لگتی،اس کے رونے میں کتنا پچھتاوا ہوتا مگر اب ان سب کا کوئی فائدہ نہیں تھا،وہ اکثر دعا کرتی کہ وقت پلٹ جائے اور ناذلی واپس آجائے مگر یہ دعا دعا ہی رہ گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا بکواس ہے۔۔۔!”

وہ جھٹکے سے کھڑا ہوتا دھاڑا،

آج سکندر صاحب نے اسے ایک ضروری بات کرنے کے لیے اپنے اِسٹڈی روم میں بلایا تھا،وہاں پر جب سے ان کی باتیں خاموشی سے سنتے ہیثم کے کانوں میں جب انکے یہ الفاظ گونجے کہ اگلے مہینے وہ اس کا نکاح مطیبہ سے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ بات ہیثم کے اندر حشر سا برپا کرگئی اور خود پر قابو نہ پاتا وہ بھڑک اٹھا،

“میری بات پہلے تحمل سے سُن لو ہیثم۔۔۔”

اس کے ضبط سے سرخ چہرے کو دیکھ انہوں نے آرام سے کہا،مقابل کی سرخ سوجی آنکھیں اور ان کے گرد ہلقے رت جگے کی غمازی کررہے تھے،اپنے بیٹے کی حالت دیکھ ان کو بہت دکھ ہوتا تھا،

“یہ بات تحمل سے سننے والی نہیں ہے بابا۔۔۔آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں ایسا۔۔۔ناذلی کی ڈیتھ کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔۔۔اور آپ کو میری دوسری شادی کی پڑ گئی۔۔۔”

ان کی سوچ پر ملامت سے کہتا ہیثم بےحد دکھی ہوا،

“جانتا ہوں۔۔۔دیڑھ سال ہونے کو ہیں۔۔۔”

پرسکون لہجے میں کہتے وہ چئیر سے ٹیک لگائے البتہ ان کی آنکھیں میں نمی جھلکی تھی مگر وہ یہ بات کرتے اس کے سامنے پرسکون رہنا چاہتے تھے،

“ہیثم۔۔۔دکھ ہمیں بھی بہت ہے۔۔۔مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ ہم اپنی زندگی ایک ہی جگہ روک دیں۔۔۔نا آگے بڑھیں نا پیچھے۔۔۔اور یہ نکاح میں شوق سے نہیں کروارہا ہوں۔۔۔جانتا ہوں تمہیں سنبھلنے میں ابھی وقت ہے اسی لیے صرف نکاح۔۔۔”

ڈیڈ میں نکاح کا سوچ بھی نہیں سکتا اور وہ بھی اُس۔۔۔

مطیبہ کا سوچتے ہی ہیثم کے اندر تک کڑواہٹ گھلی تبھی رک کر خاموش ہوا،

“سکندر صحیح کہہ رہے ہیں ہیثم۔۔۔اگلے مہینے صرف نکاح ہوگا۔۔۔رخصتی ابھی نہیں ہوگی۔۔۔”

اسٹڈی روم میں داخل ہوتیں مہناز بیگم نے بھی شوہر کی تائید کرتے سنجیدگی سے کہا،ہیثم نے حیرت سے انہیں دیکھا پھر دونوں کی جانب دیکھتا ملامت سے کہا،

“آپ سب بےحس ہیں۔۔۔کسی کو پرواہ نہیں میری ناذلی بےقصور اس بےحس لڑکی کی نفرت کا شکار بنی اور آپ لوگ ہیں کہ اس کی موت کو ابھی عرصہ نہیں ہوا اور مجھے اسی بےحس لڑکی سے نکاح کا کہہ رہے ہیں۔۔۔تف ہے آپ لوگوں کی سوچ پر۔۔۔”

غم و غصے کی کیفیت میں مبتلا وہ پہلی مرتبہ اپنے ماں باپ سے بدتمیزی کررہا تھا مہناز بیگم کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ان دونوں کو دیکھ ہیثم وہاں سے نکلنے لگا مگر تبھی سکندر صاحب کے الفاظوں پر رکا،

“جہانگیر چاہتا ہے یہ۔۔۔ورنہ مجھے شوق نہیں کہ تمہارے زخم چھیڑوں۔۔۔”

ہیثم پلٹ کر شدید حیرانی سے سکندر صاحب کو دیکھنے کے بعد مہناز بیگم کو دیکھا جو اثبات میں سر ہلاتی اس بات کی تصدیق کیں،

“جہانگیر بھائی کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی ہے۔۔۔ایک بیٹی کا نصیب اچھا تھا تو اس کی زندگی کم۔۔۔مگر اب وہ ڈرتے ہیں اپنی دوسری بیٹی کے نصیب سے۔۔۔۔ہم نے ہناد سے رشتے کا کہا پر وہ گھبراتے ہیں۔۔۔انہیں تم پر بھروسہ ہے۔۔۔۔تبھی انہوں نے تمہارا نام لیا۔۔۔وہ بہت پرامید ہیں تم سے کہ تم انہیں انکار نہیں کروگے۔۔۔۔باقی تمہاری مرضی۔۔۔۔اگر چاہو تو منع کردینا انہیں جاکر۔۔۔کیونکہ ہم میں اتنی ہمت نہیں کہ ایک مجبور باپ کو منہ پر نہ کر سکیں۔۔۔”

پوری بات کہہ کر مہناز بیگم سکندر صاحب کے برابر میں رکھیں چئیر پر بیٹھی تھیں،ہیثم کو اپنا کھڑا تک رہنا محال لگنے لگا تبھی وہاں سے تیزی میں نکلتا وہ باہر پورچ میں آیا،اپنی کار میں بیٹھ کر وہ اپنے سے دور بہت دور آیا تھا،کافی دیر کی ڈرائیونگ کے بعد اس نے جھٹکے سے کار روکی،دم گھٹنے پر کار سے نکل کر اس نے کھلی ہوا میں گہرے سانس بھرے تھے،اس وقت وہ آبادی سے کچھ دور ایک پُل پر کھڑا تھا،جہاں رات کے اس پہر کوئی بنی نوح انسان موجود نہ تھا،پل سے نیچے پانی دیکھتے اسے لگا کہ ایک موتی آنکھوں سے ٹوٹ کر دور نیچے پانی میں گُم ہوا تھا اور ہیثم کو جلد احساس ہوا کہ اس کے گال بھی بھیگے ہوئے ہیں،وہ پھر رورہا تھا،ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ اپنے آنسوؤں کو پونچھنے کی زحمت نہ کیا تھا،ناذلی کا معصوم چہرہ یکدم اسے پانی کی ہلکی لہروں میں مسکراتا دکھا تھا اور درد کی شدت سے جب دل پھٹنے کے قریب ہوا تو بےاختیار ہوکر وہ روتے ہوئے چیخا تھا،

“ناذلی۔۔۔!!

واپس آجاؤ یار۔۔۔”

آنسو روکنا وبالِ جاں بنا تو وہ بچوں کی طرح اسے پکارتا وہی بیٹھتا چلا گیا،اس کی سسکتی پکار شاید بادلوں کو بھی اداس کرگئی تھی،تبھی اگلے ہی پل بارش کی بوچھاڑ نے پل پر نیچے بیٹھ کر روتے ہوئے ہیثم سکندر کو بھگو کر رکھ دیا،رات کا ایک ایک پہر گزرنے لگا ساتھ ہی بارش بھی تیز ہوتی گئی مگر وہ ہر چیز سے بےبہرہ وہاں بیٹھے اپنی متاعِ جاں کو یاد کرتا روتا رہا،دل میں عجیب کلس تھی کہ بس ایک مرتبہ وہ سامنے آجائے تو اسے خود میں اس طرح چھپالے کہ کوئی اس کی ناذلی کو اس سے دور نہ کرسکے۔۔۔۔پر ناذلی ہوتی تو اس کے پاس آتی،صبح کی کرنیں نکلنے لگی تو بارش بھی کم ہونے لگی مگر پل پر روتے اس عاشق کا جیسے آج اپنے اشکوں پر قابو نہیں تھا،

“تمہیں معلوم ہے جاناں۔۔!!

محبت کس کو کہتے ہیں۔۔؟؟

تمہیں سوچنا۔۔!

پھر مسکرانا۔۔!

اور پھر آنسو بہاتے بہاتے سوجانا۔۔!!!”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *