Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz NovelR50599 Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 20,21)
Rate this Novel
Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 20,21)
Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz
سکندر ولا پہنچنے کے بعد پورچ میں کار روکتا وہ مطیبہ کی جانب متوجہ ہوا جو اب تک سر جھکائے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی،کار سے اتر کر وہ دوسری جانب آتا گیٹ کھولا،
“مہ۔۔می۔۔میں اتر۔۔جاؤں گی۔۔”
اسے اپنی طرف جھکتے دیکھ مطیبہ بوکھلا کر جلدی سے بولی،
“اچھا۔۔اترو پھر۔۔”
وہ جانتا تھا کہ مقابل بیٹھی وہ لڑکی اس سے حتیٰ الامکان گھبرائی ہوئی ہے،تبھی سیدھا ہوتا بولا،اس کے پیچھے ہٹنے پر مطیبہ ایک چور نظر اس پر ڈالتی کار سے قدم باہر رکھی،ابھی وہ کھڑی ہی ہونے لگی تھی جب ایڑھی پر لگے کٹ نے اسے لڑکھڑانے پر مجبور کیا اور اگلے ہی لمحے وہ ہیثم کی باہوں میں جھولی،
“اترگئی۔۔۔”
اسے گود میں اٹھائے وہ طنز کیا،حیا سے مطیبہ چہرہ چھپاگئی اس کے کشادہ سینے میں،اسے لیے اندر داخل ہوتا ہیثم اچانک لاؤنج میں رکا جب نظر مہناز بیگم پر پڑی،وہ پریشان سی لاؤنج میں چکر لگا رہی تھیں،
“کہاں تھ۔۔”
ان دونوں کو دیکھ وہ جو بولنے لگی تھیں یکدم چپ ہوئیں،ساتھ ہی خوشگوار حیرت سمیت مسکرائیں،
“وہ۔۔مط۔۔مطیبہ کے پیر میں چوٹ لگی ہے۔۔۔”
ان کے مسکرانے پر سبکی کا احساس ہوا تبھی وہ ہچکچاکر جواز پیش کیا،دوسری جانب مطیبہ جس کی پہلے ہی جان پر بنی تھی مقابل کی باہوں میں اب وہ مکمل سانس روکے یونہی چہرہ چھپائے رکھی،شرم سے اس کی آنکھیں میچی تھیں،
“ہمم۔۔یہ چوٹ تو پھر مطیبہ کے لیے اچھی ثابت ہوئی۔۔۔”
ان دونوں کی حالت پر وہ چھیڑیں تو مطیبہ کا ہیثم کی کالر کو تھاما ہاتھ مٹھی بنا تھا جس کے باعث ہیثم اپنی کالر اسے دبوچتے دیکھ لب بھینچتا مہناز بیگم کو دیکھا تو وہ ان دونوں کو اور پریشان کرنے کا ارادہ ختم کرتی کہنے لگیں،
“اچھا جاؤ تم لوگ۔۔۔اب یہ ہناد کہاں رہ گیا ہے کبھی جو وقت پر آئے۔۔۔ہمیں چھوڑ کر ناجانے کہاں چلاگیا تھا۔۔۔”
اسے بتاتیں مہناز بیگم پھر گیٹ کی طرف متوجہ ہوئیں جس پر اپنی جان بخشی ہوتے ہی ہیثم سیدھا اوپر گیا،کمرے میں لاکر وہ مطیبہ کو اپنے بیڈ کے بجائے اس کی جگہ یعنیٰ صوفے پر ہی بیٹھایا،اسے بیٹھنے کے باوجود اپنی شرٹ دبوچے دیکھ ہیثم نے مطیبہ کا چہرہ دیکھا جو اب تک دہک رہا تھا،
“میں یہاں تمہارے ساتھ سونے نہیں والا۔۔۔”
اس کی آواز پر مطیبہ نے بوکھلاکر جھٹکے سے ہیثم کا کالر چھوڑا،شرم سے لال ہوتے گال سمیت وہ چہرہ موڑ گئی،تبھی ہیثم کھڑا ہوا،اس کا رخ ڈریسنگ روم کی جانب تھا،کچھ دیر بعد چینج کر کے وہ بلو ٹی شرٹ اور گرے ٹراؤزر میں باہر نکلا تو دیکھا وہ جب سے اب تک یونہی بیٹھی ہے،ایڑھی پر خون کے سوکھے نشان کو دیکھ ہیثم فرسٹ ایڈ باکس لیتا اس کے پاس آیا،
“لو۔۔”
وہ مطیبہ کی طرف فرسٹ ایڈ باکس بڑھایا تو جھجھک کر اس نے باکس لیا،ہیثم کو دروازہ اور لائٹ بند کر کے بیڈ پر لیٹتا دیکھ وہ باکس کھولی ساتھ ہی کاٹن کی مدد سے دوائی ایڑھی پر لگانے کی کوشش کرنے لگی،چوٹ پر دوائی لگتے ہی جلن کے احساس سے وہ سسک کر رہ گئی پھر بمشکل اس پر پلاسٹ لگاتی اٹھی،چلنے سے درد تو بہت ہورہا تھا مگر اسے الجھن ہورہی تھی جیولری میں،ابھی وہ دو قدم ہی چلی تھی کہ لڑکھڑاکر نیچے گری،
بیڈ پر چت لیٹ کر چھت کو گھورتا ہیثم اپنی سوچوں سے نکلتا چونکا،
“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔دوائی لگاکر سوجاؤ۔۔۔اب کیا بار بار آکر تمہیں گود میں اٹھاؤں۔۔”
اسے نیچے گرے دیکھ وہ اچانک بھڑکا جس پر مطیبہ کی آنکھوں نے نم ہونے میں زرا دیر نہ لگائی،مقابل کی ڈانٹ پر وہ ہتک سے لب دانتوں تلے سختی سے دبائے صوفے پر ہاتھ رکھ کر اٹھی،پیروں میں درد کی جب بری ٹیسیں اٹھنے لگیں تب برداشت نہ ہونے پر وہ واپس صوفے پر بیٹھ گئی،اس ستمگر کی نظریں اب تک خود پر محسوس کیے مطیبہ جلدی جلدی جیولری اتاری پھر اسے کورنر ٹیبل پر رکھتی فوراً لیٹ گئی،اس کے لیٹتے ہی ہیثم ہاتھ بڑھا کر لیمپ کا سوئچ آف کیا،
ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا جب کمرے کی خاموشی میں مطیبہ کی ہچکیاں گونجنے لگیں،وہ رورہی تھی،اپنی سوچوں میں گم ہیثم سخت جھنجھلایا،کیوں وہ لڑکی بار بار اسے اپنے عمل سے پریشان کررہی تھی،تیزی میں بیڈ سے اٹھتا وہ صوفے کے پاس گیا جہاں وہ آنکھوں پر بازو رکھے اس کے سر پر کھڑے رہنے سے بےخبر اپنے رونے کا شغل جاری رکھی تھی،
“تمہارے ساتھ آخر پرابلم کیا ہے۔۔۔”
اچانک وہ برسا جس پر گھبراکر مطیبہ ہاتھ ہٹا کر اسے دیکھی،
“نہ خود سکون سورہی ہو نہ سونے دے رہی ہو۔۔۔”
اس کی خوفزدہ نظروں کو اگنور کرتے ہوئے وہ مزید بولا،
“اب بولو بھی۔۔کیوں رورہی ہو۔۔۔”
وہ جب اٹھ کر بیٹھی تب ہیثم کرختگی سے کہا،
“مجھے میری ڈائری بہت عزیز تھی۔۔۔”
ہلکی مگر بھرائی آواز کہ ہیثم دانت پر دانت جمائے ضبط کیا خود پر،
“ایک چھوٹی سی چیز کے لیے تم اتنے ٹسوے بہارہی ہو۔۔۔”
“وہ چھوٹی سی چیز نہیں تھی۔۔۔”
اس کے یوں بولنے پر مطیبہ تڑپ کر رہ گئی،
“پھر کیا تھا۔۔؟”
“بچپن سے لے کر اب تک وہ میرے ساتھ تھی۔۔۔میں اس میں اپنے جذبات لکھتی تھی۔۔۔”
“کس کے لیے۔۔؟”
“تمہار۔۔۔”
اور وہ جو مقابل کے سوالوں کا بےدھیانی میں جواب دے رہی تھی یکدم چپ سی ہوئی،ہیثم خاموش نظروں سمیت اسے دیکھتا بیٹھا تھا صوفے پر،مطیبہ کا دل دھڑکا تھا مقابل کو اپنے قریب بیٹھے دیکھ تبھی وہ فاصلہ قائم کرنے کے غرض سرکی،اس کی پشت پر ہاتھ رکھتا ہیثم اچانک اسے قریب کیا تھا خود کے،سرخ عارض پر سایہ فگن بھیگی گھنی پلکوں کو دیکھ وہ مطیبہ کی تھوڑی تھام کر اس کا چہرہ اوپر کیا،اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں اور مقابل کی گرم سانسوں سے گھبراتی مطیبہ کی پلکیں اٹھنے سے انکاری ہوئیں،
“سنو۔۔”
گھمبیر آواز پر بھی جب مطیبہ نے بھاری ہوتی پلکیں نہ اٹھائی تب پشت پر اس کے ہاتھ کا دباؤ بڑھا جس کے باعث ناچاہتے ہوئے بھی مطیبہ کو اپنے سے انتہائی نزدیک اس کا وجیہہ چہرہ دیکھنا پڑا،جھکی نظریں اٹھیں تو سیدھا اس ستمگر کی آنکھوں سے ٹکرائیں،نظروں کا ملنا تھا کہ سلسلہ تھوڑا طویل ہوا اور پھر ہیثم کی آواز ابھری،
“ڈائری پر پین سے لکھنے سے یا جلی ہوئی ڈائری کو بچانے کے چکر میں ہاتھوں کو جلانے سے ہیثم سکندر تمہارا نہیں ہوجائے گا۔۔۔وہ صرف ناذلی جہانگیر کا تھا اور اسی کا رہے گا۔۔۔چند ایک ہمدردانہ عمل سے یہ بلکل مت سمجھنا کہ میں تمہارے آنسوؤں سے پگھل جاؤں گا۔۔۔اسے صرف احسان سمجھ لیا کرو میرا۔۔۔”
بےتاثر لہجے میں مطیبہ کے دل میں امڈتی خوش فہمیوں پر پانی پھیر کر باور کرایا تھا اس نے،وہ جو آج پے در پے سامنے بیٹھے اس ستمگر کی عنایات پر سمجھنے لگی تھی کہ وہ ٹھیک ہورہا ہے اب اس کے اندر یکدم کرب بھرا،مقابل کے سفاک الفاظوں کے بدولت آنسوؤں نے زرا دیر نہ کی آنکھوں سے نکلنے میں،لب دانتوں سے دباکر اپنی سسکیاں روکتی وہ اس ستمگر کے سپاٹ چہرے کو دھندلائی نظروں سے دیکھتے رہ گئی تبھی اسے جھٹکے سے خود سے پرے کرتا ہیثم اٹھا اور سیدھا بیڈ پر جالیٹا،
“اب آواز نہ آئے تمہاری۔۔۔”
نیم اندھیرے میں اس کی سخت آواز کانوں میں پڑتے ہی مطیبہ لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے لگی مگر جب خود پر قابو نہ کرپائی تو چہرہ تکیے پر چھپائے شدت سے روپڑی،اسے لگا تھا کہ اب اس کی سزا ختم ہونے لگی ہے مگر ہیثم کی باتوں نے واضح کردیا تھا کہ اگر وہ ساری زندگی بھی تڑپے گی تب بھی سکون اسے نصیب نہیں ہوگا،اور ہوتا بھی کیسے بقول ہیثم کے وہ قاتل جو تھی،اب تو مطیبہ کو بھی یقین ہونے لگا تھا کہ وہ قاتل ہی ہے اپنی بہن کی تبھی اسے زندگی صرف چند پل کی خوشی دے کر ہمیشہ کے لیے تڑپنے چھوڑدیتی ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ سکندر ولا آیا تھا فلذہ کو شاپنگ کے غرض باہر لے جانے کے لیے،مہناز بیگم نے فلذہ کے ساتھ مطیبہ اور عنادیہ کو بھی جانے کا کہا تھا مگر مطیبہ نے سہولت سے انکار کردیا،عنادیہ بھی نہیں جانا چاہ رہی تھی لیکن اس معاملے میں مہناز بیگم نے اس کی ایک نہ سنی،ان کا کہنا تھا وہ باہر کے ماحول میں نکلے گی تبھی اس کی تنہائی میں رہنے والی عادت ختم ہوگی تبھی مجبوراً اسے سلسبیل اور فلذہ کے ساتھ جانا پڑا،اس طرح جو وہ چاہتا تھا آخر کو وہی ہوا،شاپنگ کے دوران فلذہ نے اپنی پسند کی کئی چیزوں کا انتخاب کیا مگر عنادیہ نے کچھ بھی لینے سے انکار کردیا،ان دونوں کو ایک شاپ پر چھوڑتا سلسبیل جیولری شاپ کی جانب آیا تھا وہاں پر ایک نفیس سا بریسلیٹ اسے بےحد بھایا تھا،اسے پیک کرواتا سلسبیل ابھی پاکٹ میں رکھ کر جیولری شاپ سے نکل ہی رہا تھا جب فلذہ اس کے سامنے آئی،
“کیا لے رہے ہو۔۔۔”
اسے پاکٹ میں بریسلیٹ کا باکس ڈالتے فلذہ نے نہیں دیکھا تھا تبھی پرجوش سی پوچھی،
“لے رہا ہوں نہیں۔۔۔تھا۔۔پر کچھ پسند نہیں آیا۔۔”
بےتاثر نظروں سے اسے دیکھتا سلسبیل بولا،فلذہ سمجھ رہی تھی مقابل کا اپنے ساتھ عجیب لب و لہجہ تبھی لبوں پر زبان پھیرتی نرم لہجے میں کہنے لگی،
“دیکھو سابی۔۔۔”
“سلسبیل۔۔”
اس کے ٹوکنے پر فلذہ چند پل چپ ہوئی پھر کہا،
“سلسبیل۔۔دیکھو میں جانتی ہوں تم اب تک اس واقعے پر ناراض ہو۔۔۔مگر تم یقین کرو میں بہت شرمندہ ہوں۔۔میں مانتی ہوں غلطی میری تھی پر۔۔”
“نہیں۔۔غلطی میری تھی سراسر۔۔بہت بڑی غلطی کی تھی میں نے۔۔اور اسی غلطی کا ہی تو مداوا کرنے آیا ہوں میں۔۔۔”
سپاٹ تاثرات سمیت کہتے سلسبیل کا اشارہ فلذہ اور ہناد سے کی دوستی اور ان دونوں پر بھروسے کا تھا لیکن اس کے الفاظوں نے جہاں فلذہ کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا تھا وہی فلذہ کے پیچھے آتی عنادیہ کو بےیقینی کے گھڑوں میں گھرایا،وہ اسٹل ہوئی تھی۔۔۔،اسے فلذہ کی کہیں اس دن کی باتوں پر زرا یقین نہ تھا پر ابھی سلسبیل کی بات نے فلذہ کے کہے گئے کی جیسے تصدیق کی تھی،دیوار کا سہارا لے کر خود کو بمشکل کھڑا رکھے وہ سلسبیل کو ششدہ نظروں سے دیکھنے لگی،تو کیا وہ انسان سچ میں ایسا تھا،کیا اپنی محبت میں اندھی ہوتی وہ واقعی ایک غلط شخص کا انتخاب کی تھی،زخمی دل تڑپ کر چیخ پڑا،دماغ میں جو بات آئی تھی اس کی خلاف ورزی کرتا دل رویا تھا کہ ایک مرتبہ اس محبوب شخص سے یہ بات پوچھی جائے،مگر دماغ نے صاف انکار کیا تھا،جب وہ نفس کا غلام اپنی غلطی کا مداوا کرنے ہی آیا تھا تو وہ کون ہوتی تھی اس سے کچھ بھی پوچھنے والی،دل و دماغ کے درمیان جیسے جنگ چھڑی تھی اور پھر۔۔۔،دماغ جیت گیا اسے سمجھانے میں کہ وہ کبھی نہیں تھی اس شخص کی زندگی میں،وہ شخص تو صرف یہاں اس کی بہن سے اپنی غلطی کا مداوا کرنے آیا تھا،مترنم آنکھوں سے اپنی انگلی کو دیکھی تھی وہ،جس میں پہنائی گئی اس محبوب کی انگوٹھی چھپانے کے غرض اس نے چوٹ کا بہانہ کر کے پٹی لگائی تھی،شدتِ ضبط سے سرخ ہوتے چہرے سمیت وہ پٹی اتار کر رنگ نکالی تھی اپنی انگلی سے ساتھ ہی وہاں بنی ایک بینچ پر رکھ کر پلٹی،
“ارے عنادیہ۔۔۔تم آگئی۔۔بھئی میری شاپنگ تو ہوگئی۔۔۔اب مجھے بہت بھوک لگی ہے تو چلو کچھ کھاتے ہیں۔۔۔”
سلسبیل سے شادی کی خوشی اس قدر تھی کہ اب فلذہ کا رویہ عنادیہ سے بھی اچھا ہونے لگا تھا،تبھی خوشی سے کہہ کر وہ وہاں سے کیفیٹیریا کی طرف جانے لگی،اس ہی کے پیچھے عنادیہ بنا سلسبیل پر ایک نظر بھی ڈالے گئی وہاں سے تبھی قدم اٹھاتا سلسبیل اس بینچ کے پاس آیا جہاں اس کی تیز نظروں نے عنادیہ جو رنگ اتار کر رکھتے دیکھا تھا،وہ رنگ اٹھاتا سلسبیل جیب میں رکھا،اسے اچھا لگا تھا عنادیہ کا رنگ کو انگلی میں رکھنا مگر اب وہ کیوں اتاری تھی اسے،یہ سلسبیل کو سمجھ نہ آیا مگر اسے غصہ شدید دلاگئی عنادیہ کی یہ حرکت،ان دونوں کو لنچ کروانے کے بعد وہ سکندر ولا میں ڈراپ کرتا نکلا تھا،کار ڈرائیو کرتے ہوئے ذہین دماغ ہمیشہ کی طرح کئی سوچوں کے زد میں تھا،مگر سلسبیل مراد بھول گیا تھا کہ انجانے میں ایک مرتبہ پھر اپنے لفظوں سے وہ اس نادان لڑکی کا دل توڑ گیا ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگنی والی رات ہوئے واقعے کے بعد فلذہ کے کہنے پر مہناز بیگم نے نکاح کی تقریب سکندر ولا میں ہی رکھوائی تھی،سکندر ولا کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا،دونوں بھائیوں نے کوئی کمی نہ رہنے دی تھی،شام سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو رونقوں میں مزید اضافہ ہوا،چونکہ نکاح جلد رکھایا گیا تھا تبھی مہناز بیگم نے ہیثم کو پارلر بھیجا فلذہ اور مطیبہ کو لینے،ہناد کا آج موڈ کافی خراب تھا اسے اپنا پلین مکمل خراب ہوتا دکھا کیونکہ پیام آفس کے کام کے تحت دوسرے ملک گیا ہوا تھا تبھی اس کا واحد سہارا بھی ختم ہوچکا تھا سلسبیل کو مارنے کا،اور اب مہمانوں کو ویلکم کرتا وہ کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ اگر کو سلسبیل یہ سب بدلے کے لیے ہی کررہا ہے تو اس نے اب تک کوئی خاص اشارہ کیوں نہیں دیا تھا ان لوگوں کو،کیوں وہ اب تک خاموش تھا،باراتیوں کی آمد پر اس نے سلسبیل کو تلاشا مگر دریہ بیگم نے جب مہناز بیگم کو بتایا کہ وہ کچھ ضروری کام کی وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو جائے گا تب ہناد کو کچھ گڑبڑ ہونے کا احساس ہوا،اس نے جلدی سے ہیثم کا نمبر ڈائل کیا تھا تاکہ پوچھ سکے کہ فلذہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔،مگر ہیثم کو فلذہ اور مطیبہ سمیت اندر آتے دیکھ ہناد کا دماغ الجھ کر رہ گیا،گر کو فلذہ بھی ٹھیک تھی تو کیا ہوا تھا کہ وہ ابھی نہیں آرہا تھا،
اپنے کمرے میں وہ آج بھی بنا کسی میک اپ کے بس مہناز بیگم کا دیا ہوا خوبصورت سوٹ پہنی تھی،انہوں نے اسے فلذہ اور مطیبہ کے ساتھ بھیجنا چاہا مگر اس بار وہ صاف انکار کرگئی،ابھی ڈریسنگ مرر پر اپنے سوگوار روپ کو دیکھ وہ بالوں کو کیچر میں مقید کرتے اس محبوب کے بارے میں سوچ رہی تھی،آج وہ شخص جسے اس نے بلا کسی جواز بےتحاشہ چاہا تھا جس کی دیوانگی میں وہ اپنا آپ بھلا چکی تھی اس قدر کہ ہمیشہ اپنے سے پہلے اس کا سوچا آج وہی شخص اس کی بہن کا ہمیشہ کے لیے ہونے جارہا تھا،دل میں درد اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ چکا تھا مگر خوبصورت چہرہ بلکل سپاٹ رکھے وہ بڑی مہارت سے اندر چبھتے زخموں کو دبا کی تھی،گہرا سانس بھرتی وہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی لپسٹک کو دیکھی تو مہناز بیگم کی تاکید یاد آئی کہ کم از کم آج اسے تیار دیکھنا چاہتی ہیں وہ،تبھی گلابی لپسٹک اٹھاکر وہ پنکھڑی مانند ہونٹوں کے قدرتی گلابی پن پر لگائے اسے گہرا کی،ابھی وہ لپسٹک واپس رکھ رہی تھی جب کمرے میں عنادیہ کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا،پیچھے مڑ کر وہ چاروں طرف نظر دوڑائی مگر کسی کو نہ پاکر اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکتی لپسٹک رکھی،ایک آخری نظر خود پر ڈالنے کے غرض اس نے نگاہ اٹھائی تو بےساختہ بری طرح گھبرائی،بلیک ہڈی میں چہرہ چھپائے کوئی ٹھیک اس کے پیچھے کھڑا تھا،سہمائی نظروں سے اس لمبے چوڑے مگر پراسرار شخص کو دیکھ وہ پلٹنے کا ارادہ کررہی تھی مگر تبھی اس کی ستواں ناک پر رومال رکھا تھا وہ،عنادیہ تڑپ کر اپنے ہاتھوں سے اس کے رومال رکھے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر جلد ہی وہ ہوش کی دنیا سے کوسوں دور گہری نیند سوئی تھی،اس کے خوبصورت چہرے کے تیکھے نقوش بغور دیکھتا مقابل پراسراریت سے مسکرایا،
Episode 21
“ہیلو۔۔”
مہمانوں میں مصروف ہیثم مینیجر کی کال آنے پر کنارے پر آتا کال ریسیو کیا،
“سر کیا آپ ابھی آفس آسکتے ہیں۔۔۔”
مینیجر کچھ پریشان لگ رہا تھا،
“کیوں۔۔؟”
“سر کچھ پرابلم ہوگئی ہے۔۔۔(…..) میریج بیورو کی فائلز کھوگئیں ہیں۔۔”
اس بار پریشانی کی وجہ بتایا تھا وہ،
“تو ڈھونڈو کہاں ہے۔۔۔وہ فائلز ایمپورٹنٹ ہیں۔۔”
“بہت ڈھونڈی پر نہیں مل رہی۔۔۔آپ آجائیں سر ابھی پلیز۔۔”
مینیجر کے ریکویسٹ کرنے پر ہیثم بہت سوچ کر رضامندی ظاہر کیا،پھر ہناد کو انتظامات سنبھالنے کا کہہ کر نکلا آفس کے لیے،
مہناز بیگم مطیبہ کو اپنی کسی دوست سے ملوارہی تھیں،ان سے بات کرتی مطیبہ راحیلہ کے آکر بتانے کہ فلذہ اسے بلارہی ہے ان لوگوں سے ایکسکیوز کر کے گئی،ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ ہناد کے اچانک سامنے آنے پر بوکھلاکر دو قدم پیچھے ہوئی،
“لڑکی ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو۔۔۔زرا آرام سے چلا کرو۔۔۔ابھی اگر گرجاتی۔۔۔”
اس کے خوبصوت چہرے کو گہری نظروں میں لیے ہناد بولا،
“ویسے آج غضب تو اتنا ڈھارہی ہو کہ ڈر ہے میں ہی کہیں نہ گرجاؤں۔۔۔”
مطیبہ کی خاموشی پر وہ مزید بولتے کمینگی مسکراہٹ اچھالا تھا اس پر،لب سختی سے پیوست کیے مطیبہ نے تنفر سے اسے دیکھتے چند پل کی خاموشی کے بعد کہا،
“گرے ہوئے لوگ ڈرنا نہیں چاہیے اور گرنے سے۔۔۔”
یہ سب کی موجودگی کا ہی اثر تھا کہ وہ نڈر بنتی بولی،ہناد کی مسکراہٹ غائب ہوئی اس کی بات پر،
“ہمم۔۔۔یہ حاضر جوابی کہاں سے سیکھ لی۔۔”
مہمانوں کے ہجوم میں زبردستی مسکان سجائے وہ بولا،البتہ آنکھوں میں غصے کی جھلک اتری تھی،
“مجھے نہیں لگتا کہ میں آپ کے کسی بھی سوال کی جوابدہ ہوں۔۔”
سنجیدگی سے کہہ کر وہ ہناد کے برابر سے ہوکر فلذہ کی جانب گئی مگر اپنی پشت پر ہناد کی گھوری واضح محسوس ہوئی تھی اسے،
“کیا بول رہے تھے وہ۔۔؟”
مطیبہ کے قریب آنے پر فلذہ جو ان دونوں کو جب سے دیکھ رہی تھی سنجیدہ لہجے میں پوچھی،
“اپنی فطرت سے مجبور فضول گوئی کررہے تھے۔۔چھوڑو انہیں تم بتاؤ۔۔۔بلارہی تھی مجھے۔۔”
سر جھٹک کر بولتی وہ بیٹھی فلذہ کے پاس،
“میں جانتی ہوں وہ اپنی فطرت سے باز نہیں آئیں گے۔۔۔تبھی اس ٹاپک پر جلد ہی ماما سے بات کروں گی۔۔۔تم بس کوشش کیا کرو ان سے سامنا نہ ہو تمہارا۔۔”
“میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتی ہوں فلذہ پر وہ۔۔۔”
فلذہ کے یاسیت سے کہنے پر مطیبہ کی آنکھیں نم ہوئی تبھی مترنم آواز ہونے پر بولتے ہوئے یکدم چپ ہوئی،
“سوری مطیبہ۔۔۔مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ میرے بھائی ہیں۔۔”
وہ اسے لاچارگی سے دیکھتی مطیبہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسے ہوش آیا تھا،تب سے وہ اس انجان مگر وسیع خوبصورت کمرے کو گھبرائی نظروں سے دیکھ رہی تھی،وہ تو تیار ہورہی تھی پھر اچانک کیا ہوا کہ۔۔۔،اور پھر اس کے الجھے ذہن میں وہ پراسرا شخص آیا جس نے بڑی آسانی سے اس کی ناک پر وہ رومال لگاکر اسے بےہوش کیا تھا،کون تھا وہ شخص اسے اس بات سے کوئی لینا دینا تھا،اصل جان تو اس کی خود کو ایک انجان کمرے میں دیکھ کر جارہی تھی،ہوش میں آتے اس نے خود کو ایک جہازی سائز بیڈ پر لیٹا پایا تھا اور اب دروازے کے پاس کھڑی وہ ہر تھوڑی دیر بعد زور زور سے دروازہ بجارہی تھی۔۔،اندر امڈتا ایک خیال سا آیا تھا اسے مگر اس کی نفی کرتے عنادیہ اب باقاعدہ روہانسی ہوکر دروازہ بجانے لگی،جب ہاتھ دکھنے لگے تب وہ بیڈ پر واپس آکر بیٹھی،عجیب سی گھٹن ہورہی تھی اس جگہ پر،دل چاہا تھا کہ بس کیسے بھی کر کے گھر پہنچ جائے،کچھ سوچ کر وہ اٹھی تھی بیڈ سے،اب کے رخ کمرے کے کنارے بنی قدآور کھڑکی پر تھا،وہاں سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتی عنادیہ کلک کی آواز کے ساتھ ہی دروازہ کھلنے پر چونکتے ہوئے مڑی اور پھر۔۔۔،وہی ہوا جس خیال کی نفی وہ کرنے لگی تھی،
سامنے کھڑا وہ مسکراتے ہوئے عنادیہ کی جانب دیکھ رہا تھا مگر عنادیہ۔۔۔،اس کی بےیقین نظریں مقابل کھڑے شخص کی مسکراہٹ پر تھی،ایک سرد سی سنسنی مسکراہٹ عنادیہ کو ڈھائی سال پیچھے لے گئی،وہ اسی طرح تو مسکراتا تھا پہلے،ایسی مسکراہٹ جو دل دھڑکانے کے ساتھ ایک عجیب سا خوف دلادیتی،
“بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہو جانم۔۔؟”
مسکراہٹ کے برعکس لہجہ کچھ نرم تھا چند قدموں کا فاصلہ طے کر کے وہ ٹھیک اس کے سامنے آکھڑا ہوا،عنادیہ کا ذہن بری طرح الجھنے لگا تھا وہ شخص آج اس کی بہن کو اپنے نکاح میں لینے والا تھا پھر اب کیوں اسے یہاں لایا تھا،
“تمہیں بھاگنے کی بلکل ضرورت نہیں۔۔۔میں خود تمہیں لے چلوں گا سکندر ولا لیکن۔۔”
“لیکن اس سے پہلے ایک نہایت ضروری کام جو تمہیں کرنا ہے۔۔۔”
عنادیہ کو اس کی بات کچھ سمجھ نہ آئی تبھی یونہی اسے دیکھے گئی،
“کچھ دیر بعد ہمارا نکاح ہے۔۔۔ذہن نشین پہلے ہی کرلو تاکہ بعد میں کوئی ڈرامہ کرئیٹ نہ ہو۔۔۔”
یہ بات عنادیہ کے سر پر کسی بم کی طرح گری تھی،پھٹی آنکھوں سے سلسبیل کو دیکھتی وہ شبہ میں تھی کہ شاید کچھ غلط سنا ہو،وہ جب پلٹنے لگا تبھی اس کے سامنے آتی عنادیہ بےیقین نظروں سے اسے دیکھنے لگی،
“دیکھو تم جیسی ہو ویسی ہی اچھی ہو اب کوئی شادی کا جوڑا اس وقت لانے سے تو رہا میں۔۔۔تو یونہی سر پر دوپٹہ رکھ کر آجانا۔۔۔”
اس کی نظروں میں چھائے سوالوں کو خوب سمجھا تھا وہ مگر تب بھی انجان بنتا مذاقاً بولا،
عنادیہ کی سمجھ سے بلکل بالاتر تھا کہ آخر وہ شخص کیا کرنا چاہ رہا تھا اور ان سب کا کیا مطلب تھا۔۔۔،کل تک تو وہ فلذہ سے نکاح کا خواہشمند تھا پھر اب اچانک اس سے نکاح کیوں کررہا تھا،کہیں وہ کوئی گیم تو نہیں کھیل رہا،اور اگر ایسا ہے تو عنادیہ بلکل نہیں چاہتی تھی اس شخص سے نکاح کرنا،فلذہ اس کے انتظار میں سکندر ولا پر ہوگی اور وہ یہاں پر اپنے نکاح کی تیاری کرنے کا سوچ رہا تھا،اپنی سوچ سے نکلتی وہ تب چونکی جب دروازے کے باہر بھاری آواز ابھری،
“اوئے۔۔۔سب ریڈی ہے آجا۔۔”
سلسبیل اس آواز پر مسکراتا عنادیہ کو اشارہ کرتا باہر جانے لگا مگر اگلے ہی قدم پر رکا اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ،تبھی یکدم عنادیہ کے سر پر دوپٹہ رکھتا وہ اس کا ہاتھ پکڑتا باہر کی طرف قدم بڑھایا،
سلسبیل کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتی عنادیہ تب رکی جب باہر تین انجان مردوں سمیت ایک مولوی کو دیکھی،یکدم گھبراکر وہ سلسبیل پر نظر ڈالی،
“بھروسہ ہے مجھ پر۔۔”
اس کی گھبرائی نظروں کا مفہوم سمجھ کر سلسبیل سنجیدگی سے پوچھا جس پر عنادیہ کے ذہن میں مال والا واقعہ گھوما،فوراً سے پہلے وہ سر نفی میں ہلائی،
“اچھی بات ہے۔۔”
زیرِ لب بڑبڑاتا سلسبیل اسے لیے صوفے پر بیٹھا،عنادیہ کا دل کیا بھاگ جائے وہاں سے،پریشان سی وہ ہمت تک نہ کرپائی سامنے تک دیکھنے کی تبھی نگاہ جھکائے بیٹھے رہی،اس کی خراب ہوتی حالت سے واقف سلسبیل نے مولوی صاحب کو جلد نکاح پڑھانے کا کہا تھا،اعجاب و قبول کے مراحل سلسبیل کے بعد جب عنادیہ کی جانب آئے تب وہ نم ہوتی آنکھوں سمیت شدید غصے میں اسے دیکھ رہی تھی،
“مولوی صاحب کچھ کہہ رہے ہیں۔۔۔”
اس کے کسی طرح کا اشارہ نہ کرنے پر سلسبیل دھیمی آواز میں بولا مگر بےسود رہا،
“گر تم میری عندلیب ہو تو اس نکاح سے انکار نہیں کرو گی۔۔”
نہایت ہلکی سرگوشی کہ عنادیہ سنتے ہی جھٹکے سے کھڑی ہوئی،وہ نہیں جانتی تھی کہ اچانک اتنی ہمت کہاں سے آئی مگر وہ اب اور یہاں نہیں رہ سکتی تھی تبھی رخ گیٹ کی جانب کیا،سلسبیل سنجیدہ نظروں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا،گیٹ تک پہنچ کر وہ ناب پر ہاتھ رکھنے ہی لگی تھی پر تبھی ٹھاہ کی تیز آواز سمیت اس کے بلکل برابر گیٹ میں سوراخ سا ہوا،سہم کر تیزی سے اپنے قدم پیچھے لیتی عندلیب خوفزدہ نظروں سے سلسبیل کو دیکھی جو ہاتھ میں ریوالور تھامے سرد نظریں اس پر گڑائے تھا،
“بیٹا۔۔۔لڑکی سے زبردستی نہ کریں۔۔اگر وہ راضی نہیں تو یہ گناہ کے زمرے میں آئے گا۔۔”
اس کے گولی چلانے پر مولوی صاحب نے سمجھانے والے انداز میں کہا،
“او تیرا جو کام ہے صرف وہ کر۔۔۔زیادہ پٹر پٹر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔”
جب سے خاموش کھڑا وہ زیادہ دیر منہ بند نہ ہونے پر مولوی صاحب کو دیکھتا ازلی بدلحاظ لہجے میں کہا جس پر سلسبیل ایک نظر اپنے اس دوست کو دیکھا،
“مولوی صاحب ہیں تمیز سے بات کر۔۔۔”
اس شخص کا دوست دمہوکا جڑتا دبی آواز میں اسے کہا ساتھ ہی مولوی صاحب سے معذرت کرنے لگا،
دوسری جانب کھڑی عنادیہ جو اب تک خوف سے سلسبیل کو دیکھ رہی تھی اس کے ریوالور گھوما کر اشارہ کرنے پر اپنے من من ہوتے قدموں پر چلتی واپس اس کے برابر میں آکر بیٹھی،اس بار بنا کسی رکاوٹ کے وہ سر ہلاکر رضامندی ظاہر کی،سگنیچر کرتے ہوئے کتنے ہی آنسو آنکھوں سے لڑھکے،وہ چاہتی تھی اس شخص کو بےتحاشہ مگر جب سے مال میں اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا تب سے عنادیہ کا دل بلکل خراب ہوچکا تھا اس کی طرف سے،وہ نہیں کرنا چاہتی تھی اس شخص سے نکاح،ادھر سلسبیل کو شدید خوشگوار حیرت ہوئی اپنی آنکھیں نم ہوتی محسوس کیے،اس بات کا احساس تو اسے آج ہوا تھا کہ جب مقابل بیٹھی تکلیف میں ہوتی تب اس کی آنکھیں یقیناً ہلکی سی نم ہونے لگتیں،تو کیا سچ میں وہ عندلیب ہی تھی،ٹشو سے آنکھیں صاف کرتا وہ اٹھا جب عنادیہ نکاح کے فوراً بعد کمرے کی طرف گئی،
“آہا۔۔نکاح کی خوشی میں آنکھیں بھر آئیں نہ تیری۔۔۔”
سلسبیل کی آنکھوں میں نمی کی جھلکی دیکھ مقابل مصنوعی افسوس ظاہر کیا،
“بس۔۔۔ہوگیا نا پھر شروع۔۔”
اس کی فطرت سے واقف سلسبیل مسکرایا،
“ایک بات تو بتا۔۔۔”
مبارک باد دیتے ہوئے اس نے بولا،
“کیا۔۔”
“کمرے میں اتنی دیر بند رہنے کے بعد بھی تیری بیوی نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔”
وہ یوں پوچھا جیسے کوئی نہایت ہی سنجیدہ سوال ہو،
“میں نے پہلے ہی تمام راستے مسدود کر رکھے تھے۔۔”
اسے سوچتا سلسبیل رسانیت سے بتایا،
“اچھا۔۔میری والی تو بھاگ گئی تھی۔۔”
سلسبیل کے جواب پر وہ حیرت کے زد میں اپنی کی گئی کڈنیپنگ کا سوچتا زیرِ لب بڑبڑایا،
“کیا۔۔تیری بیوی بھاگ گئی۔۔”
مقابل کا دوست ابھی مولوی صاحب کو باہر چھوڑ کر آیا تھا،تبھی اس کی بڑبڑاہٹ سننے پر حیران ہوا،
“ابے گدھے۔۔۔بھاگے تیری بیوی۔۔۔بات کچھ اور ہو یہ بناتے کچھ اور ہیں۔۔۔”
اسے کوسنے سناکر چہرہ بگاڑتا وہ اب سلسبیل کی طرف متوجہ ہوا مگر وہاں سلسبیل تھا ہی نہیں،
“گیا بیوی کے پاس۔۔”
“اب ہم بھی چلیں۔۔”
مقابل کے بولنے پر اس کا دوست مزید بولا تو سر اثبات میں ہلاتا وہ نکلا اپنے دوستوں کو لے کر وہاں سے،
کمرے کے سامنے آتے ہی سلسبیل نے ناب گھمایا مگر اس کی سوچ کے مطابق دروازہ اندر سے لاک کرلیا گیا تھا،تبھی لبوں کو دانتوں میں دباتا وہ جیب سے کی نکالا،کچھ ہی دیر بعد وہ دروازہ کھولے اندر داخل ہوا جہاں اسے دیکھتے ہی عنادیہ بیڈ سے اٹھی،بھیگے گال ظاہر کررہے تھے کہ وہ رورہی ہے،
“گھر نہیں چلنا۔۔”
بلا کی سنجیدگی سمیت وہ پوچھا جس پر عنادیہ پہلے تو بےبسی سے اسے گھوری پھر منہ پھیر کر قدم بڑھاتی اس کے برابر سے باہر نکلنے لگی،کمرے سے باہر قدم رکھنے سے پہلے ہی سلسبیل نے اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنے سامنے کیا،عنادیہ کا دل گھبرایا تھا،سہم کر مقابل کے سپاٹ تاثرات دیکھتی وہ بازو چھڑوانے لگی،سلسبیل نے بھی زیادہ پریشان نہ کیا اور اسکے بازو کو چھوڑ کر اب عنادیہ کا ہاتھ پکڑا،جیب میں رکھی وہی ڈائمنڈ کی رنگ نکالتا وہ ایک مرتبہ پھر عنادیہ کی انگلی میں پہنانے لگا،
“کوشش کرنا کہ اب یہ تمہاری انگلی سے اترے ورنہ اس خوبصورت ہاتھ کو بازو سے علیحدہ ہونے میں زرا دیر نہ لگے گی۔۔”
اس کا سنسنی خیز لہجہ عنادیہ کے اوسان خطا کرگیا،گھبراکر وہ اپنا ہاتھ مقابل کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی،اس بات سلسبیل کی کشادہ پیشانی پر شکنیں پڑیں،
“تمہیں کاٹ رہا ہوں جو اتنا تڑپ رہی ہو۔۔”
اس کے مسلسل ہاتھ چھڑانے کی کوشش پر وہ چوٹ کیا لیکن عنادیہ کی مزاحمت میں زرا فرق نہ پڑتے دیکھ وہ اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کیا اچانک کھینچا اسے،حملے کے لیے نہ تیار وہ سیدھا مقابل کے چوڑے سینے سے آلگی،
سہمائی نظروں سے سلسبیل کو دیکھتی وہ جلدی سے اس سے دور ہونے لگی،دھڑکنوں نے یکدم شور برپا کیا جبکہ سانسیں تیز ہوئیں،
“آنکھوں پر اجنبیت کا خول چڑھالینے سے وہ محبت نہیں چھپ جائے گی جو چیخ چیخ کر تمہارے اندر کا حال آشکار کردیتی ہے۔۔سلسبیل مراد کی محبت اتنی کمزور نہیں کہ تمہارے انکار پر مان جائے کہ تم وہ نہیں جو میں سمجھتا۔۔۔میں تمہیں محسوس کرسکتا ہوں عندلیب۔۔”
گہری نظروں سمیت اس کا گلابی پڑتا چہرہ دیکھ سلسبیل اسے باور کرایا تھا،
سلگ کر بےبسی سے سلسبیل کو دیکھتی وہ چہرہ موڑ کر اپنا غصہ ظاہر کی اور پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی سلسبیل کی نظروں کا محور صراحی دار گردن پر بنے وہ دو تل ہوئے جو اسے اکثر بےچین کردیتے،لمحوں میں سلسبیل کی آنکھوں میں خمار اترا تھا اور اس کی سفید گردن پر جُھکتا وہ نرمی سے ان تلوں پر عنابی لب رکھ گیا،عنادیہ کو جھٹکا کھا کر رہ گئی،پورے وجود میں جیسے کرنٹ سا دوڑا تھا،سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں تو وہ گھبراہٹ کے مارے سلسبیل کا بازو سختی سے دبوچ کر اس سے فاصلہ قائم کرنے لگی،مقابل کی قربت سے زیادہ اس کا سلگتا لمس جان لیوا ثابت ہوا تھا،اپنی گردن جلتی محسوس کیے وہ رونے کو ہوئی اور تبھی وہ لب گردن سے ہٹاتا اس سے تھوڑا فاصلے پر کھڑا ہوا،
عنادیہ کا تنفس بگڑا،سینے ہر ہاتھ رکھتی وہ خود کے زندہ ہونے کا یقین کرتی مقابل کو گھور تک نہ سکی،شرم سے عارض دہک اٹھے تھے،بھاری ہوتی لامبی پلکوں کو جھکائے وہ بمشکل خود کو سنبھالی،اس کی خراب ہوتی حالت پر مسکراتا سلسبیل سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے بولا،
“چلیں۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بات ہوئی سلسبیل سے۔۔”
یہ کوئی چوتھی بار مہناز بیگم پوچھ رہی تھیں دریہ بیگم سے جس پر مایوسی سے نفی میں سر ہلاتی وہ ہر بار دہرائی بات بولیں،
“کال ریسیو نہیں کررہا ہے وہ۔۔”
مہناز بیگم کو شدید پریشانی نے آلیا،
“مولوی صاحب کب سے بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔مہمان انتظار کررہے ہیں نکاح کا۔۔آخر کہاں ہے وہ۔۔”
دریہ بیگم کو پریشانی سے بتاتیں وہ آخر میں بڑبڑائیں پر تبھی ان کی نظر گیٹ پر پڑی،مہناز بیگم کی نظروں میں یک بیک حیرتیں ابھریں سامنے کھڑے سلسبیل اور اس کے برابر میں عنادیہ کو دیکھ،اسے تو وہ بھول ہی گئیں تھیں۔۔۔،
اور پھر مہناز بیگم کے ساتھ جس جس کی نظر گیٹ پر پڑی سبھی انتہائی حیرت کے عالم میں ان دونوں کو دیکھنے لگے،سلسبیل ان سب میں خاص طور پر ہناد کی نظروں کو بھرپور انجوائے کرتا یونہی مضبوطی سے عنادیہ کا ہاتھ تھامے رکھا،
“سلسبیل۔۔یہ کیا۔۔”
سب سے پہلے دریہ بیگم کا ارتکاز ٹوٹا تھا،
“زیادہ نہیں گرینی۔۔۔بس آپ کی بہو لے کر آیا ہوں۔۔۔بلکل ویسی جیسی آپ چاہتی تھیں۔۔”
ان سب پر ایک نظر ڈالتا وہ پرسکون سا دریہ بیگم کو بتایا،اس کے یوں بولنے پر عنادیہ کا سر اٹھنے سے انکاری ہوا،
“کیا مطلب بہو۔۔۔”
فلذہ جو بےیقینی کے عالم میں مجسمہ بنی تھی یکدم سلسبیل کے الفاظوں نے اسے کئی خدشات میں گھرایا،تبھی وہ چٹخ کر بولتی اپنی جگہ سے اٹھی،
عنادیہ کا ہاتھ مسلسل اس کے بھاری ہاتھ میں مقید دیکھ ہناد کو طیش آیا تھا،
“میری بہن کا ہاتھ چھوڑ۔۔”
اس کے سامنے آتا وہ باقاعدہ سلسبیل کے ہاتھ سے عنادیہ کا ہاتھ چھڑوانے کے ارادے میں تھا مگر عنادیہ کو پھرتی سے اپنے پیچھے کرتا سلسبیل بآسانی اس کی کوشش ناکام بناگیا،
“خبردار جو میری بیوی کو ہاتھ لگایا۔۔”
جس استحقاق سے وہ یہ الفاظ ادا کیا تھا وہاں کھڑے سبھی نفوس کو یکایک سانپ سونگھ گیا،
“بیوی۔۔”
مہناز بیگم ششدہ سی بڑبڑائیں،
“جی آنٹی۔۔آ۔۔آئی مین امی۔۔”
انہیں کہتا سلسبیل دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر سجاتا ہناد کو دیکھا جس کا چہرہ اس بات پر پل میں انگارہ ہوا،
“کیا بکواس ہے یہ۔۔”
چیخ کر کہتی فلذہ اس کے سامنے آئی،
“یہ۔۔یہ۔۔تمہاری بیوی۔۔نہیں ہے۔۔تم۔۔تمہارا نکاح مجھ سے ہونا ہے۔۔ابھی۔۔چلو جلدی۔۔”
اس کا دماغ یہ سب قبول کرنے سے انکاری ہورہا تھا تبھی سلسبیل کو کہہ کر وہ اسکا ہاتھ پکڑنے لگی،یکدم اس کا ہاتھ جھٹکتا سلسبیل تنفر سے اسے دیکھا،
“سلسبیل کیا تم سیدھے لفظوں میں سمجھا سکتے ہو کہ معاملہ کیا ہے۔۔۔”
جب سے سنجیدہ کھڑی دریہ بیگم نے پوچھا،
“گرینی سیدھے لفظوں میں ہی بتایا ہے کہ بیوی ہے یہ میری۔۔نکاح کیا ہے کچھ ہی دیر پہلے ہم نے۔۔”
سلسبیل کی بات پر جہاں اس کی پشت پر کھڑی عنادیہ نے غصے میں اسے گھورا وہی ہناد یکدم دھاڑتے ہوئے اس کا کالر پکڑنے لگا،
“کمینے تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے ساتھ ایسا کرنے کی۔۔۔”
“اپنی بہن پر آیا تو مرچی لگ گئی۔۔۔میں نے تو پھر بھی نکاح کیا ہے۔۔کم از کم تیری طرح اپنے بھائی کی ہی عزت پر بنا رشتے کا لحاظ کیے نظریں تو نہیں ڈالیں۔۔۔”
کالر تک آتے اس کے ہاتھ وہ سختی سے دبوچ کر سلسبیل انتہائی دھیمی آواز میں بولا ساتھ ہی اسے جھٹکا دے کر پیچھے کیا،ہناد کا سارا دبدبہ و غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا،مقابل کو کیسے معلوم ہوئی تھی اس کی مطیبہ پر ٹہری نظریں،سلسبیل کے آنکھوں میں واضح وارننگ دیکھ وہ بےبسی سے لب بھینچا،اسے سب کے سامنے زیادہ اپنی عزت عزیز تھی،آخر کو اتنا نامور بزنس مین جو ٹہرا تھا،
“تم ایک نمبر کے دھوکے باز انسان ہو۔۔۔یہاں تم آئے ہی فلذہ سے بدلے کے مقصد سے تھے۔۔۔بیٹی کی خوشی دیکھ کم عقل ہوئی تھی میں جو ہناد کے آگاہ کرنے پر بھی کان نہ دھرے۔۔۔بہت گھٹیا انسان ہو تم سلسبیل مراد۔۔۔”
فلذہ کو دکھ سے دیکھتی مہناز بیگم تکلیف بھرے لہجے میں بولیں جس پر سلسبیل خاموش رہا،
“اور تم۔۔۔اپنی زندگی سنوارنے سے پہلے بہن کا خیال نہ آیا تمہیں۔۔۔یقین نہیں آتا کہ تم میری بیٹی ہو۔۔۔”
عنادیہ احساسِ تذلیل سے زمین پر گڑھنے کو ہوئی،اس کا جی چاہا تھا کہ اپنی ماں کی ملامت بھری نظروں سے بچنے کے لیے وہ کوسوں دور چلی جائے،
“سابی۔۔تم۔۔تم مذاق کررہے ہو نا۔۔۔پلیز کہو نا یہ سب پرینک کیا ہے تم نے میرے ساتھ۔۔۔بولو۔۔۔”
جب سے ششدہ کھڑی فلذہ اب بھیگی آنکھوں سمیت اس سے عاجزانہ انداز میں بولی لیکن سلسبیل کی پھر بھی سنجیدہ نظروں نے اس بھیانک حقیقت سے تصدیق کی،
“تم ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔سابی۔۔میں جان لے لوں گی تمہاری۔۔”
بےاختیار حلق کے بل چلاتی وہ پاگل سی لگنے لگی،
“می۔۔میں تمہیں مار ڈالوں گی۔۔تم نے مجھے دھوکہ دیا فلذہ سکندر کو۔۔سابی تم بہت پچھتاؤگے اور تمہارے ساتھ وہ بھی۔۔بہن ہو کر پیٹ پر چھرا گھونپا ہے تم نے۔۔۔بےشرم لڑکی۔۔”
“اپنی فضولیات اتنی ہی رکھو جتنا بعد میں خمیازہ بھگت سکو اس کا۔۔چلیں گرینی۔۔”
اسے کرخت لہجے میں کہتا سلسبیل دریہ بیگم کو بول کر عنادیہ کو ساتھ لے جانے لگا،
“یہی حرکات ہیں۔۔۔جن سے تمہاری تربیت دکھتی ہے۔۔۔”
جاتے جاتے وہ رکا تھا مہناز بیگم کے کاری ضرب لگانے پر،پیشانی اور گردن کی رگیں اشتعال پر قابو پانے کے چکر میں پھولیں تھیں،دانت پر دانت جمائے وہ پلٹ کر تمسخر سے ہنسا،
“میری تربیت پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے دو بچوں پر نظرِ ثانی کرلیں تو معلوم ہوجائے گا خراب تربیت کہتے کِسے ہیں۔۔۔”
انہیں جواب دیتا وہ مڑا،دریہ بیگم خاموش تھیں کہ انہیں بھروسہ تھا اپنے پوتے پر،وہ جانتی تھیں سلسبیل بلا کسی جواز کے کچھ غلط نہیں کرسکتا۔۔۔،اور اُس کے اِس انتہائی عمل کے پیچھے بھی ضرور کوئی وجہ ہوگی،
“ماما اسے روکیں۔۔وہ ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔سابی تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکتے۔۔”
یکدم دہشت بھرے انداز میں چیختی فلذہ سلسبیل کو وہاں سے عنادیہ سمیت جاتا دیکھ اس کے پیچھے جانے لگی مگر مطیبہ نے فوراً اسے سنبھالنے کے غرض پکڑا،اپنی دوست کی یہ حالت دیکھ اسے شدید دکھ نے آلیا،مہناز بیگم نے بھی عنادیہ کو نہ روکا،وہ بےحد بدگمان ہوئی تھیں اپنی لاڈلی بیٹی سے،دل میں تکلیف ہوئی تھی اس کے عمل سے تبھی اسے جانے دیا،ان لوگوں کے جانے کے بعد وہ مہمانوں سے معذرت کرتیں فلذہ کی طرف بڑھیں جس کا وحشت سے چیخنا پتا دے رہا تھا کہ وہ آپے میں نہیں ہے،دوسری جانب خاموش تماشائی بنا ہناد اس بار عہد کیا تھا سلسبیل مراد کو انتہائی دردناک موت مارنے کا،
