Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 33,34)

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

“فرخندہ۔۔۔!”

صبح مہناز بیگم پھر فرخندہ کے ساتھ آئیں تھیں،رات بھر وہ ہاسپٹل میں رکا تھا اور اب وہ لوگ کافی دیر سے وہی پر بیٹھے ہوئے تھے تبھی آخر کار بےچین ہوتا ہیثم فرخندہ کو پکارا،

“جی صاحب۔۔”

“جاؤ تم اندر۔۔”

اس کی بات پر جہاں مہناز بیگم حیران ہوئیں وہی فرخندہ خوشی سے سر اثبات میں ہلائی،

“پر ہیثم منع کیا ہے اس نے۔۔”

“ماما پلیز۔۔۔اس کا غصہ ہم پر ہے فرخندہ پر نہیں۔۔۔”

بےچینی سے اپنی گردن مسلتا ہیثم دیوار سے ٹیک لگایا،مہناز بیگم چپ ہوئیں تھیں،تبھی فرخندہ ان دونوں کو خاموش دیکھ وارڈ کے اندر داخل ہوئی،سامنے ہی لیٹی وہ سپاٹ تاثرات سمیت چھت کو گھوررہی تھی،خوبصورت چہرہ زردی مائل ہوچکا تھا جبکہ ایک دوسرے میں لب یوں پیوست تھے جیسے صدیوں تک نہ بولنے کی قسم کھائی ہو،آنکھوں کی سکڑی پتلیاں اور بےتاثر چہرہ کسی گہری سوچ کی عکاسی کیا تھا،

“بی بی۔۔”

فرخندہ پکارتی آگے بڑھی مگر دوسری جانب وہ ہنوز چھت کو گھورتی رہی،اس کے سپاٹ تاثرات اور سرمئی آنکھوں میں برف کا تاثر دیکھ ایک پل کو فرخندہ کو یقین ہی نہ آیا کہ وہ مطیبہ ہی ہے،

“بی بی کیسی ہیں۔۔؟”

اس نے پھر پکار کر پوچھا جس پر چھت کو گھورتی مطیبہ نے سپاٹ نظریں اس کی جانب کیں،فرخندہ کی ترحم نظروں کو دیکھ سپاٹ تاثرات اذیت میں بدلے،بےساختہ ہاتھ پیٹ پر گیا اور آنکھ سے چپکے سے نکلتا ایک موتی تکیے پر جذب ہوا،اس کی اذیت سے واقف فرخندہ شدید پشیمان ہوئی،

“میری غلطی بھی کم نہیں تھی بی بی۔۔۔کاش کہ اس دن میں آپ کو ہناد صاحب کے کمرے میں نہ بھیجتی۔۔”

سر جھکا کر کہتی وہ بہت پچھتائی تھی،اس کی بات سنتی مطیبہ کے لبوں پر تمسخر پھیلا،

“قصور تمہارا نہیں تھا فرخندہ۔۔میری تقدیر میں لکھی تھی وہ سزا جو ایک غلط انسان کی محبت میں گرفتار ہونے سے ملتی ہے اور میں خوش ہوں کہ مجھے وہ سزا مل گئی۔۔۔اب سزا ختم تو محبت بھی ختم۔۔”

بےحسی کی انتہا کو پہنچتی وہ دھیمی آواز میں بولی،

“میرا ایک کام کرو گی۔۔”

کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ پوچھی،فرخندہ فوراً آگے بڑھی،

“جی کہیں نا بی بی۔۔۔”

اس کے جلدی سے کہنے پر مطیبہ نے کچھ دیر چپ رہنے کے بعد جو کہا وہ سن کر فرخندہ کا چہرہ بجھا مگر چونکہ وہ حامی بھری تھی تو انکار ناممکن تھا تبھی اثبات میں سر ہلاتی وارڈ سے نکلی،

“بات ہوئی تمہاری۔۔کیسی ہے وہ۔۔۔؟”

اس کے نکلتے ہی ہیثم بےقرار ہوتا کھڑا ہوا ساتھ اس سے پوچھا،

“صاحب وہ بات ہی نہیں کررہی ہیں۔۔”

ہلکی آواز میں بول کر وہ نگاہ چراتی مہناز بیگم کے برابر میں جا کھڑی ہوئی،شدید بےچینی کی حالت میں ہیثم اپنی پیشانی مسلتا بیٹھا،دل کسی طور سکون میں نہیں آرہا تھا،ان مہینوں میں کتنا تڑپا تھا وہ،مگر اب۔۔۔،اب اس لڑکی کی خاموشی پر بےسکونی ہی بےسکونی ہوئی اسے،

“میں نے کہا بھی تھا کہ وہ جب ہم سے نہیں مل رہی تو اس سے کیا ملے گی۔۔”

دکھی لہجے میں کہہ کر مہناز بیگم ہیثم کی پشت تھپتھپائیں جب انہیں لگا کہ وہ رونے کو ہورہا ہے،اپنی سرخ آنکھیں مسلتا وہ مٹھی لبوں پر جمائے زمین کو گھورنے لگا،بار بار آنکھوں میں نمی اپنی جھلک دکھارہی تھی پر وہ نہیں رونا چاہتا تھا تبھی آنسو نکلنے سے پہلے ہی انہیں صاف کرگیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے جانے کے بعد عنادیہ دریہ بیگم کو اپنی غلط سوچ سے آگاہ کرتی روئی تھی،اپنی کم عقلی پر وہ جتنا شرمندہ ہوتی اتنا کم تھا،دوسری جانب دریہ بیگم کو بھی حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس ہوا عنادیہ کی سوچ پر،انہوں نے اسے سنجیدگی سے اپنے کیے کی معافی سلسبیل سے مانگنے کا کہا تھا،جس پر وہ حامی تو بھری تھی مگر خوف بھی تھا محبوب کے غصے کا،

صبح کا گیا رات دیر سے وہ گھر لوٹا،دریہ بیگم سے مل کر کمرے میں داخل ہوا،کوٹ اتار کر ہینگ کرتا وہ مکمل بےنیاز بنا تھا صوفے پر بیٹھی کنفیوز سی عنادیہ سے،کبھی وہ ناراض نہ ہوا تھا تو عنادیہ الجھ کر سوچنے لگی کہ کیسے منایا جائے،کافی دیر تک سوچ میں محو عنادیہ چونکی جب وہ نہاکر واشروم سے نکلا،وائٹ ٹراؤزر پر گرے ویسٹ پہنے وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا بھیگے بالوں پر کومب کرنے لگا،عنادیہ چور نظروں سے اسے دیکھتی خود میں ہمت پیدا کی،

“کھانا کھایا آپ نے۔۔؟”

کچھ نہ سجھائی دیا تو جلدی سے یہ سوال کی،دوسری جانب سے جواب ندار،وہ اپنے جہازی سائز بیڈ پر جا لیٹا ساتھ سائیڈ لیمپ آف کیا،عنادیہ کو اس کی گھمبیر خاموشی بہت کَھلی،

لب کاٹتی وہ بھی لائٹ آف کر کے بیڈ پر آئی،مقابل چت لیٹا آنکھیں موند چکا تھا،وجیہہ چہرے پر پتھریلے تاثرات نے عنادیہ کو تھوک نگلنے پر مجبور کیا،تھوڑا سوچ بچار کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ گئی پھر گردن موڑ کر سلسبیل کو دیکھی،ایک بازو بیڈ پر ہمیشہ کی طرح پھیلائے تو دوسرا سر کے نیچے رکھے وہ کشادہ پیشانی پر شکنوں کا جال لیے شاید سونے کی کوشش میں تھا،روز کی طرح عنادیہ اس کے قریب ہوئی پھر لبوں پر زبان پھیرتی سلسبیل کے آہنی بازو پر اپنا سر رکھی ساتھ اپنا دودھیا ہاتھ اس کے کشادہ سینے پر رکھ کر آنکھیں موند گئی مگر اس بار سلسبیل نے اسے عادت کے برخلاف خود میں بھینچنے کے بجائے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر سے ہٹایا ساتھ اپنا بازو اس کے سر کے نیچے نکال کر دوسری کروٹ ہوگیا،وہ کبھی اس سے ایسا رویہ نہیں رکھا تھا تبھی اب اسے خود سے اجنبیت برتے دیکھ عنادیہ روہانسی ہوئی،

“سلسبیل۔۔۔سوری۔۔”

اس سے اور قریب ہوتی وہ سلسبیل کی پشت پر اپنا سر ٹکائے لیٹ گئی،کالی آنکھوں سے نکلتے آنسو خوب محسوس ہوئے تھے سلسبیل کو اپنی پشت پر،

“میں نے بہت غلط کیا بہت بری ہوں میں پر آپ تو اچھے ہے نا۔۔۔معاف کردیں۔۔”

اندھیرے میں عنادیہ کی بھیگی آواز سنتا وہ اپنی موندی آنکھیں وا کیا،پشت سے وہ سختی سے مقابل کے گرد اپنے دونوں بازوؤں کو حائل کیے پکڑی ہوئی تھی جیسے کھونے کا ڈر ہو،

“تم بری ہو اس میں کوئی شک نہیں اور زرا فاصلے پر ہو۔۔۔ہر بار یہ سب اچھا نہیں لگتا۔۔”

سپاٹ تاثرات سمیت بےرحمی سے کہتا وہ بآسانی عنادیہ کے کہے الفاظ آج اس ہی پر لوٹایا تھا،لمحوں میں رونی صورت بنی تھی عنادیہ کی اسے اپنا ہاتھ جھٹک کر خود سے دور ہوتے دیکھ،

“نہیں کریں اس طرح سلسبیل۔۔۔میں ہرٹ ہورہی ہوں۔۔”

اس کے دور ہونے پر پھر قریب ہوتی وہ اب سلسبیل کے آہنی بازو پر اپنی تھوڑی ٹکائے بولی،

“اگر تمہیں یہی سب کرنا ہے کرو۔۔۔میں چلا جاتا ہوں روم سے۔۔”

وہ ڈسٹرب ہورہا تھا بار بار اس کی بھرائی آواز سن کر،دکھتے دماغ کو آرام چاہیے تھا تبھی وہ ابھی سکون سے سونا چاہ رہا تھا،

دوسری جانب اس کے سخت لہجے پر عنادیہ بآواز رونے لگی،

“غلطی ہوگئی۔۔۔معافی مانگ تو رہی ہوں۔۔”

ہچکیوں کے درمیان وہ تھوڑا زچ ہوکر بولی،سلسبیل چند پل تو نیم اندھیرے میں اسے روتا دیکھتا رہا پھر لب بھینچتا بیڈ سے تکیہ لے کر اٹھا،مضبوط قدم روم سے باہر کا رخ کیے تھے،اسے جاتا دیکھ عنادیہ رونا بھول کر بوکھلاتے ہوئے اٹھی پھر تیزی میں اس کے پاس آئی،

“کہاں جارہے ہیں۔۔؟”

وہ خوفزدہ ہوئی تھی،

“سکون سے سونے۔۔”

کانچ آنکھوں کی سرخی واضح نیند کا پتا دی تھی،

“یہاں کیوں نہیں سورہے۔۔”

اس کے سوال پر سلسبیل کا دل چاہا ٹھیک سے جھنجھوڑ کر رکھ دے اس لڑکی کو جو اسے سونے بھی نہیں دے رہی تھی اور اب اس کے جانے پر استفسار کی تھی،

“کیونکہ یہاں سکون نہیں ہے۔۔”

سرد مہری سے کہتا وہ عنادیہ کو برابر میں کرتا نکلنے لگا روم سے،ادھر اس کی بات کا مطلب سمجھتی عنادیہ پھر سلسبیل کے سامنے آئی،

“اچھا نا اب نہیں کروں گی پریشان آپ سوجائیں۔۔”

یہ کہتے اس کا لہجہ پھر بھیگا مگر مشکل سے اپنے روتے ہوئے تاثرات کو نارمل کرنے کی کوشش کیے وہ سلسبیل کو اندر لے جانے لگی،سلسبیل ہاتھ ہٹا کر دور ہوا تھا اس سے،پھر سیدھا جاکر بیڈ پر لیٹا،اپنی سسکیاں لبوں میں سختی سے دبائے وہ پانی بھری آنکھوں سے اس محبوب کو دیکھتی لیٹی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلذہ کی گمشدگی نے اس بار مہناز بیگم جو جہاں نیم مردہ کیا وہی ہیثم بھی اب سخت پریشان ہوا،پہلے ہناد تھا تو اسے زرا پرواہ نہیں تھی مگر اب فلذہ بھی غائب وہ بےحد پریشانی میں گھرا رپورٹ لکھوایا تھا،ایک طرف مطیبہ کی لاتعلقی کو دوسری جانب بہن کا کھونا،اوپر سے مہناز بیگم کا غم میں کمرہ نشین ہونا وہ سمجھ نہ پایا کہ حالات کو کیسے سنبھالے،ان سب میں بری طرح الجھا وہ تب جھٹکا کھایا جب دو ہفتے بعد مطیبہ کا اچانک ہاسپٹل سے جانے کا سنا،وہ نہ اس سے ملی تھی نہ خبر تک دی تھی،ناجانے بنا بتائے کہاں گئی تھی،ہیثم سخت رنجیدہ ہوتا سکندر ولا پہنچا تھا،اسے تھک ہار کر لاؤنج میں بیٹھا دیکھ کچن سے نکلتی فرخندہ دیکھی،

“صاحب کھانا لگاؤں۔۔”

اس کے پوچھنے پر ہیثم نفی میں سر ہلایا لیکن معًا اس کے دماغ میں بجلی کا کوندا سا لپکا،پچھلے ہفتوں سے مہناز بیگم نے فلذہ کی گمشدگی کے بعد سے ہاسپٹل جانا بند کردیا تھا مگر فرخندہ ہر دو دن میں ان کی اجازت لے کر چکر لگاتی تھی ہاسپٹل کا،

“فرخندہ۔۔”

اس کی پکار پر فرخندہ رکی،

“جی صاحب۔۔”

ہیثم کو کھڑا ہوکر مشکوک نظروں سے خود کو دیکھتا پاکر وہ ناسمجھی سے پوچھی،

“مطیبہ کہاں ہے۔۔؟”

ماتھے پر بل لیے وہ استفسار کیا،فرخندہ بوکھلائی تھی پھر جلد سنبھل کر بولی،

“میں کیا جانوں صاحب وہ تو ہاسپٹل میں۔۔”

“جھوٹ مت بولو۔۔۔بتاؤ کہاں ہے مطیبہ۔۔؟”

اس کا لہجہ سخت ہوا جس پر فرخندہ کی جان پر بنی،

“نہیں معلوم صاح۔۔”

“بات سنو میری فرخندہ۔۔۔گھر کے حالات سے کم واقف نہیں ہو تم۔۔اگر چاہتی ہو کہ تھوڑا بہت سکون ہو اور مطیبہ یہاں آجائے تو پلیز بتادو۔۔”

وہ سمجھ چکا تھا کہ فرخندہ سختی سے استفسار کرنے کر نہیں بتائے گی تبھی نرمی سے سمجھاتا وہ پوچھا تو فرخندہ سوچ میں مبتلا ہوئی،

“بتاؤ۔۔”

اسے نیم رضامند دیکھ ہیثم پھر بولا،

“وہ اپنے بابا کے گھر پر چلی گئی ہیں۔۔”

سر جھکائے وہ شرمندہ سی بتائی،

“اکیلی۔۔”

ہیثم کو یقین نہ آیا کیونکہ جس قدر اس کی حالت خراب تھی اتنی جلدی تندرست ہونا ناممکن تھا تبھی حیران ہوتا پوچھا،

“نہیں صاحب وہ صغریٰ ہے نا۔۔۔اس سے رابطہ کیا تھا میں نے پھر وہ اور میں مل کر بی بی کو ویل چئیر کی مدد سے لے کر گئے تھے۔۔بی بی نے کہا تھا کہ اب وہی پر رہیں گی وہ تبھی چند کپڑے اور ضرورت کا سامان میں نے وہاں پہنچایا پھر صغریٰ کو بی بی نے اپنی مدد کے لیے وہی پر کام پر رکھ لیا۔۔”

اب کی بار تفصیل سے اسے مکمل بات بتائی تھی وہ،ہیثم کا ہاتھ بےساختہ ماتھے کو چھوا،رت جگے سے جلتی آنکھوں کو میچتا وہ قدم پیچھے لیا،رخ باہر کی جانب تھا،

کار فل سپیڈ میں چلاتا وہ چند منٹوں میں جہانگیر ہاؤس پہنچا تھا،ڈور بیل بجانے پر صغریٰ نے دروازہ کھولا،

“ارے صاحب آپ۔۔۔آئیں نا اندر۔۔”

خوشدلی سے کہتی صغریٰ اسے دعوت دی اندر آنے کی،اس کے پیچھے نظر دوڑاتا ہیثم داخل ہوا،

“کون ہے صغریٰ۔۔۔؟”

لاؤنج میں رکھتے قدم ٹھٹھک کر رکے تھے مقابل کی آواز پر،اچانک پیر اسے زمین پر جمتے محسوس ہوئے،اسے لگا وہ آگے نہیں چل پائے گا،درد کی ٹیسیں اٹھتے دل کو سنبھالتا وہ بمشکل قدم آگے بڑھایا،ہمت نہیں ہورہی تھی اس لڑکی کا سامنا کرنے کی،گناہ ہی ایسا سر زرد ہوا تھا اس سے،اندر آتا وہ سوچا کن نظروں سے دیکھے وہ آنکھیں اٹھاکر اس لڑکی کو،

دوسری جانب وہ جو صغریٰ کی مدد سے آج پھر چلنے کی کوشش کررہی تھی،اپنے سن ہوتے پیروں کے بدولت صوفے کا سہارا لیے کھڑی تھی،اس کے الفاظ گم ہوئے تھے مقابل نظر جھکائے مقابل کو کھڑے دیکھ،تقریباً ساتھ مہینے بعد وہ دیکھ رہی تھی اس شخص کو آج،پیلی شرٹ اور وائٹ پینٹ پر ڈھیلی ٹائی،ماتھے پر بکھرے بال اور بڑھی ہوئی شیوو،وہ عجیب سا بکھرا حلیہ بنایا ہوا تھا اپنا،شرمندگی سے جھکی نظروں کو دیکھ سرمئی آنکھوں میں سردمہری اتری،زردی مائل سپاٹ چہرے پر ناگواریت پھیلی جبکہ سن ہوتے پیروں پر اور کھڑی نہ ہوپاتی وہ صغریٰ کو بلند آواز میں پکاری،

صغریٰ آتے ہی اسے بیٹھائی تھی واپس ویل چئیر پر،ادھر ہیثم صغریٰ کے پھر جانے کے بعد ہمت کرتا سرخ نظریں اٹھایا،سامنے دیکھا تو وہ سرمئی آنکھوں میں دنیا جہاں کی ناگواریت لیے اسے ہی گھوررہی تھی،ان خوبصورت آنکھوں میں ہمیشہ خود کے لیے محبت کے جوت جلتے دیکھتا اس سے آج محال ہوا تھا ان میں نفرتوں کا جہاں آباد دیکھ،اس لڑکی کو دیکھ وہ جیسے آج اپنی گھٹن کو کم ہوتا محسوس کیا پھر کھل کر سانس لیتا بولنے لگا،

“مطی۔۔”

“کیا لینے آئے ہو تم یہاں۔۔”

بلکل اجنبیت بھرا لہجہ تھا،آپ کی جگہ تم واضح قطع تعلق کا اعلان کیا تھا جیسے،ہیثم کو عجب تکلیف میں مبتلا کیا اس کا یہ انداز،

“تم بنا کسی کو خبر کیے یہا۔۔”

“مجھے نہیں لگتا کہ میرا کوئی تھا وہاں جسے خبر دینا ضروری ہو۔۔”

ہنوز اجنبیت بھرا انداز،ہیثم کی برداشت جواب دی،آنکھوں میں پشیمانی کی نمی لیے وہ آگے بڑھتا گھٹنوں کے بل بیٹھا پھر سامنے ویل چئیر پر بیٹھی مطیبہ کو اذیت سے دیکھتا گویا ہوا،

“میرا گناہ معافی لائق نہیں ہے۔۔۔جانتا ہوں تبھی تمہیں خود کو معاف کرنے کا نہیں کہوں گا۔۔صرف اتنی التجاء ہے کہ گھر چل لو۔۔”

کرب بھرے لہجے میں کہتا وہ مطیبہ کے سپاٹ تاثرات دیکھ تھوڑا اور آگے ہوا،

“میں واقعی تمہاری معافی کے بھی لائق نہیں ہوں۔۔اسی لیے تم جو سزا دو گی وہ قبول کرلوں گا مگر پلیز یوں دور رہ کر مت تڑپاؤ مجھے۔۔چلو یہاں سے میرے ساتھ۔۔”

اپنے الفاظ اسے رائیگاں لگ رہے تھے کیونکہ مقابل بیٹھی لڑکی اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو،

“مطیبہ مت برتو یہ رویہ۔۔۔”

تڑپ کر کہتا وہ وہیل چیئر پر بیٹھی مطیبہ کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے لگا،

“اپنے خونی ہاتھوں سے مجھے چھونے کا سوچنا بھی نہیں۔۔”

وہیل چئیر کو پیچھے کرتی وہ سختی سے ٹوکی تھی اسے،ہیثم کچھ ناسمجھی سے دیکھا اسے لفظ خونی سن کر،

“میرے بچے کے قاتل ہو تم بےحس انسان۔۔۔سوچنا بھی مت کہ اس کا قتل معاف کردوں گی میں۔۔۔”

سرمئی آنکھوں میں غضب کا اشتعال تھا،اس کے منہ سے یہ الفاظ سنتا ہیثم زمین پر گڑھتا گیا،آج اسے احساس ہوا تھا کہ اس لڑکی پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ کسی اپنے کا ہی قاتل اسے کہتا تھا،تڑپ کر آنکھیں میچتا وہ مطیبہ کو ان لفظوں سے ملی تکلیف کو واضح محسوس کیا تھا خود پر،ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ،اس کا گناہگار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قاتل بھی تو ٹہرا تھا اپنے بچے کا،

“ظلم ہوا۔۔بہت بڑا ظلم ہوا ہے مجھ سے مطیبہ۔۔اور دیکھو نا آج ہم سب کا کیا ہم سب کے سامنے آیا ہے۔۔۔سب کچھ ختم ہورہا ہے مطیبہ۔۔۔کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔بری طرح الجھ چکے ہیں ہم اور یہ سب یقیناً تمہارے ساتھ کی گئی زیادتیوں کی سزا ہے۔۔”

اسے مکمل بات بتاتا ہیثم رونے کو ہوا تھا جس پر مطیبہ تنفر سے اسے دیکھ کر سر جھٹکی،

“تم۔۔۔تم بتاؤ کہ ایسا کیا کروں جس سے میری زیادتیوں کا مداوا ہو۔۔کچھ ایسا جس سے تم خوش ہو تو مجھے کم از کم سکون مل جائے۔۔”

نم لہجے میں اس کے سامنے وہ فریاد کیا تھا،اسے یوں دیکھ مطیبہ کو بےساختہ وہ وقت یاد آیا جب وہ رو رو کر اس شخص کے سامنے فریاد کرتی مگر کتنی آسانی سے وہ بےرحم بنتا اس کے جذباتوں کو روند دیتا،

“مجھے طلاق چاہیے۔۔”

اس کی بات ہیثم سکندر کو سن کر کے رکھ دیا،وہ جھٹکے سے کھڑا ہوتا دور ہٹا،بےیقین نظریں مطیبہ ہر تھیں جو یہ الفاظ کہتے بلکل پرسکون سی ہوئی تھی،اسے بلکل توقع نہ تھی اس بات کی،

“تم مجھے طلاق دے دو اس سے مجھے زیادہ نہیں تو تھوڑا سکون مل جائے گا کہ میں آزاد ہوں تم جیسے ظالم سے۔۔”

سفاکی سے کہہ کر مطیبہ وئیل چئیر کا رخ موڑی،

“تم ایسا نہیں کہہ سکتی۔۔”

“میں ایسا ہی کہوں گی۔۔”

اس کے سامنے آتا ہیثم اچانک امڈتے غصے سمیت بلند آواز میں بولا مگر مطیبہ جواباً اس سے بھی تیز آواز میں کہی،

“رہو گی کیسے اکیلی۔۔”

کچھ نہ سمجھ آنے پر وہ جلدی سے جواز پیش کیا،

“میرے بابا تم لوگوں کی طرح نہیں تھے۔۔۔میرے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے رکھوائے تھے کہ آگے جاکر برے وقت میں کام آسکیں وہ۔۔”

رسانیت سے وہ حل بتائی،انداز اتنا اٹل تھا جیسے اپنے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹنے کی قسم کھا رکھی ہو،

“مطیبہ طلاق نہیں دوں گا میں تمہیں۔۔۔اس کے علاوہ جو سزا دو گی وہ قبول ہے پر یہ نہیں۔۔”

اس کو بمشکل اپنے لہجے پر قابو پاتے دیکھ مطیبہ تمسخر سے مسکرائی،

“پھر ٹھیک ہے۔۔۔جاؤ یہاں سے اور پھر کبھی جہانگیر ہاؤس کا رخ مت کرنا۔۔”

مطیبہ نے احسان کرنے والے انداز میں کہا جس پر ہیثم بےبسی سے اسے دیکھا،سرمئی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالتا وہ بہت تلاش کیا تھا اس میں پرانی مطیبہ جہانگیر کو مگر اس کی کوئی رمق تک نہ دکھی ہیثم کو،

“تم پہلے ایسی نہیں تھی۔۔”

وہ دکھ سمیت بولا،

“اب جو ہوں تمہاری ہی عنایت کردہ ہوں۔۔”

بےحسی سے کہہ کر وہ صغریٰ کو آواز دی،پھر وہیل چئیر کی مدد سے اس کے ساتھ کچھ دور کمرے میں چلی گئی،اسے بےبسی سے جاتا دیکھ ہیثم نم ہوتی پلکیں جھپک کر اندر بڑھتی گھٹن ہر بمشکل قابو پایا پھر تھکے قدموں کو واپسی کے رستے پر موڑا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو ہفتے ہوچکے تھے سلسبیل کو اس سے لاتعلقی برتے،عنادیہ ہر طرح کی کوشش کرچکی تھی اسے منانے کی مگر مقابل نے بھی جیسے قسم کھائی کو اس بات نہ کرنے کی،تھک کر کبھی وہ رونے لگتی تو کبھی دریہ بیگم سے اگلی ترکیب پوچھتی اسے منانے کی،

آج صبح بھی اٹھتا وہ روز کی طرح اس سے بےنیاز تیار ہوکر آفس کے لیے نکلنے لگا تبھی اسے مصروف دیکھ عنادیہ نظر بچا کر سلسبیل کی رسٹ واچ ڈریسنگ پر سے اٹھاتی روم سے باہر نکلی،اس کی یہ چوری مقابل کی زیرک نظروں سے مخفی نہ رہی،

“گرینی۔۔”

ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتی وہ دریہ بیگم کو چہک کر اس کی واچ دکھائی،معصوم چہرے پر خوشی کی رمق نے انہیں مسکرانے پر مجبور کیا،

“میں کہتی ہوں یہ پلین بھی فلاپ ہی ہونا ہے آپ کا۔۔صاحب نے دیکھ لیا تو برہم ہوں گے بی بی عافیت اس ہی میں ہے کہ ان کی واچ رکھ دیں واپس۔۔”

ان لوگوں کا ناشتہ ٹیبل پر رکھتی اسماء سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی،

“آپ تو چپ ہی رہو۔۔۔ایک تو ڈھنگ کے پلین بھی نہیں بتاتی دوسرا ہمیشہ دل گھبرادینے والی باتیں کرتی ہیں۔۔”

اسماء کی بات پر خفگی کا اظہار کرتی عنادیہ منہ بسوری،

“ارے سچ کہہ رہی ہوں بی بی۔۔اب آپ خود ہی سوچو ذرا سی بات کر غصہ ہونے والے جب اتنے دنوں تک سنگین حد تک خاموش رہیں تو سمجھ جاؤ کسی طوفان کی آمد کا اعلان ہے۔۔”

عنادیہ کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار دیکھ اسماء نے اسے اور زچ کرنا اپنا فرض سمجھا،اور عین توقع کے مطابق وہ گھبراتی جلدی سے پانی کا گلاس اٹھاتی ایک ہی گھونٹ میں اپنا حلق تر کی،دریہ بیگم ان دونوں کو دیکھ مسکراکر نفی میں سرہلائیں،تبھی سلسبیل روم سے نکلتا ہال عبور کر کے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آیا،

“میری پلیٹ نہیں لگاؤ اسماء۔۔”

اس کے آتے ہی اسماء سیدھی ہوتی پلیٹ سامنے رکھی تبھی سلسبیل بولا،

“کیوں بیٹا۔۔”

دریہ بیگم حیران ہوئیں،

“گرینی ناشتہ نہیں کروں گا آج۔۔۔”

انہیں بتاکر سلسبیل ان سے ملتا باہر کی جانب گیا،اس عرصے کے دوران عنادیہ اپنے ناشتے پر مکمل سر جھکائے ناجانے اس میں کیا تلاشنے میں مگن تھی کہ اسماء اور دریہ بیگم اسے دیکھ ایک دوسرے کو اشارہ کرتی ہلکا سا ہنسی،

“اب کب تک جاؤ گی۔۔”

کچھ دیر بعد ناشتے سے فارغ ہوکر دریہ بیگم نے اس سے پوچھا،

“بس تھوڑی دیر میں۔۔”

اس کے بتانے پر دریہ بیگم اثبات میں سرہلائیں پھر دونوں بیٹھ کر باتوں میں محو ہوئی تھیں،تقریباً پندرہ منٹ بعد عنادیہ سلسبیل کے لیے باکس تیار کر کے اس کی چرائی رسٹ واچ لی،پھر فرمان کے ساتھ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد اس کے آفس پہنچی،

ریسیپشن میں پوچھ کر اس کے فلور پر پہنچتی وہ شانِ بے نیازی سے چند قدم کا فاصلہ طے کرتی گلاس ڈور وا کیے اندر داخل ہوئی مگر اس کے خوبصورت چہرے پر ہوائیاں اڑیں مقابل کی سنجیدہ نظروں کو پہلے سے ہی گلاس ڈور کی طرف پاکر جیسے پہلے سے ہی واقف ہو اس کی آمد سے،جتنی ہمت اس نے خود میں مجمع کی تھی وہ ساری پل میں رفا ہوتی اسے بوکھلانے پر مجبور کیں،

مقابل کی سنجیدہ نظروں کا ارتکاز ہنوز خود کر پاکر وہ اپنے گرد لپٹی شال کو ٹھیک کرتی آگے بڑھی،

“آپ نے ناشتہ نہیں کیا۔۔”

“کوئی نہیں بات ہے۔۔”

وہ جو بات کا آغاز نارمل انداز میں کرنا چاہ رہی تھی سلسبیل کے سوال پر رہی سہی ہمت بھی ختم ہوئی،واقعی وہ اکثر ناشتہ نہیں کرتا تھا تبھی یوں پوچھ رہا تھا اب اس سے،

“نہیں۔۔میرا مطلب کہ۔۔۔”

کیا کچھ کہنا تھا اسے پر اب جیسے سارے الفاظ ہی بھول گئے تھے تبھی سوچ کر بولتی رکی پھر اچانک یاد پڑنے پر چونکی،

“ہاں۔۔۔یہ آپ کی واچ بھول گئے تھے آپ پہننا۔۔”

جھٹ سے کہتی وہ پرس میں ہاتھ ڈالی مگر اس کا ہاتھ اندر کا اندر ہی رہ گیا جب سلسبیل شرٹ کی بائیں آستین کو دوسرے ہاتھ سے کچھ اونچا کیا،مضبوط آہنی کلائی پر دوسری واچ تھی،عنادیہ کو جی بھر کر غصہ آیا اپنی بےوقوفانہ حرکت پر،ظاہر سی بات تھی اس نے کونسا سلسبیل کی ساری واچ لی تھی،اس کے پاس تو رسٹ واچ کا ڈھیر تھا یقیناً وہ ایک نہ ملنے پر دوسری پہنتا،

“تمہاری اطلاع کے لیے اگر واچ نہ بھی پہنتا میں تو پھر بھی وقت بآسانی دیکھ سکتا تھا۔۔”

مقابل کا اشارہ موبائل اور وہاں کی دیوار پر نسب گھڑی پر تھا،اس کی بات پر عنادیہ اپنے گلابی لب بےدردی سے کچل کر اپنی سبکی کم کرنے کی کوشش کی،

“تمہارا زحمت کر کے یہاں آنا تو بےکار گیا۔۔”

وہ بھرپور شرمندہ کیا تھا اسے،اب عنادیہ شرمندگی کے ساتھ ساتھ تنگ بھی ہوئی تبھی آبرو بھینچ کر اسے گھوری،

“آپ کو میرا آنا اچھا نہیں لگا۔۔”

ناچاہتے ہوئے بھی لبوں سے پھسل ہی گیا اسکے جس پر سلسبیل راکنگ چئیر پر کھولتا نفی میں سرہلایا،عنادیہ کو زرا سی امید تھی کہ وہ بولے گا کہ اچھا لگا مگر اب اس کا ہنوز سرد انداز عنادیہ کو دکھ پہنچایا گیا،

“آپ کو برا لگا میرا آنا تو چلی جاتی ہوں۔۔”

اسے دکھ سے دیکھ وہ چئیر سے اٹھی،پھر پلٹ کر گئی وہاں سے،اس کو سنجیدگی سے دیکھتا سلسبیل اٹھا تھا چئیر سے پھر تیز قدم اٹھاتا گیا عنادیہ کے پیچھے،آفس سے نکل کر وہ باہر پارکنگ میں فرمان کو ڈھونڈی مگر اسے وہ کہیں نہ دکھے،سلسبیل کی بات یاد کرتے اس کی آنکھیں بھیگی تبھی پلکوں پر ٹہری نمی صاف کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائی مگر اچانک وہ بوکھلائی جب پیچھے سے اس کی آنکھوں پر کسی نے سختی سے پٹی باندھی،عنادیہ کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی،

“شش۔۔”

بھاری آواز کانوں میں پڑی تھی،عنادیہ کی جان نکلنے کو ہوئی،

Episode 34

“سلسبیل۔۔!”

لب پھڑپھڑائے تھے اس کے،دوسری جانب سلسبیل اسکی آنکھوں میں پٹی کچھ اور سختی سے باندھا کہ ایک پل کو عنادیہ کو اپنی آنکھیں اندر دھنستی محسوس ہوئیں،وہ ڈری تھی مقابل کے عمل پر،

تبھی پٹی باندھنے کے بعد سلسبیل اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتا اپنے ساتھ لے چلا،چند قدم کی دوری پر پارک ہوئی اپنی کار پر عنادیہ کو بیٹھاتا وہ خود بھی اپنی جانب آکر بیٹھا،پھر ایک میسیج ٹائپ کرتا کار سٹارٹ کیا،

“کہاں جارہے ہیں ہم۔۔۔؟”

وہ دیکھ نہیں سکتی تھی مگر محسوس تو کر ہی لی تھی کہ اسے کار میں بیٹھاکر مقابل کہیں لے جارہا تھا تبھی سوال کی،

“تمہاری کم عقلی کی سزا دینے لے جارہا ہوں جانم۔۔۔اب چپ رہو اگر چاہتی ہو سزا زیادہ نہ بڑھے تو۔۔”

مقابل کا گھمبیر لہجہ عنادیہ کو چونکایا،ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس کر کے وہ یکدم چپ ہوگئی،

ناجانے وہ اسے کہاں لے جارہا تھا کہ تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر بھی سفر ختم نہیں ہوا تھا،ادھر سلسبیل مسلسل ڈرائیو کرتا ایک آدھ سنجیدہ نظر اس دشمنِ جاں پر بھی ڈالتا جو اپنی سزا دیکھ پتا نہیں کیسا رئیکشن دینے والی تھی اسے،

“سلسبیل کچھ تو بتائیں کہاں جارہے ہیں۔۔۔میں تھک گئی یوں بیٹھے بیٹھے۔۔”

ایک گھنٹہ اور سِرکا تو وہ روہانسی ہوتی پوچھی،اپنا آفس آنا اسے بےوقوفی ہی لگنے لگا اب،

“کہا نا چپ رہو ورنہ پھر تیار رہو سزا بڑھوانے کے لیے۔۔”

اس کی رونی صورت پر ایک گہری نظر ڈالتا وہ تھوڑا سخت لہجے میں بولا،

“پہلے ہی کیا کم سزا دی ہے دو ہفتے لاتعلقی برت کر۔۔۔”

اس کے ڈپٹنے پر کلستے ہوئے وہ زیرِ لب بڑبڑائی،

“بلکل وہ سزا کم تھی۔۔”

اس کا بڑبڑانا سن کر سلسبیل رسانیت سے جواب دیا،

“میری آنکھیں دکھ رہی ہیں۔۔”

وہ پھر سے جواز پیش کی،سلسبیل گہری سانس بھر کر کار روکا پھر تھوڑا آگے جھکتا پٹی کی گرفت ڈھیلی کیا،

عنادیہ منہ بنا کر رہ گئی،جان گئی تھی مقابل کسی طور پٹی نہیں ہٹانے والا،کافی دیر گزرنے کے بعد وہ اب اونگھنے لگی تھی اور پھر چند منٹوں بعد نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی،

سورج غروب ہونے لگا تھا اور دوپہر شام سے گزر کر کچھ گھنٹوں بعد رات میں بدلی،عنادیہ کو گہری نیند میں دیکھ وہ کار کی رفتار کچھ بڑھایا،ہائی وے ختم ہونے کے بعد ایک نظر وہ باہر کی طرف دوڑایا،اپنی منزل سے زیادہ دور نہ تھا وہ اب،اگلے تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے عین اپنی منزل پر کار روکا،جس جھٹکے سے سلسبیل نے کار روکی تھی عنادیہ ہڑبڑاکر اٹھی،

“سلسبیل۔۔!”

آنکھوں میں اب تک پٹی بندھی رہنے کے باعث وہ گھبراکر پکاری جس پر اس کا ہاتھ تھام کر وہ اپنی موجودگی کا احساس دلایا،عنادیہ کو یک گونہ سکون ہوا،

“کتنی دیر ہوئی ہے اور ہم کہاں جارہے ہیں۔۔کب پہنچیں گے کچھ تو بتائیں سلسبیل۔۔”

اسے الجھن ہونے لگی تھی،تبھی کار سے نکل کر سلسبیل اس کی جانب آیا پھر ڈور کھول کر عنادیہ کا ہاتھ تھام کر اسے باہر نکالا،

“کیا ہم پہنچ گئے۔۔؟”

اسے اپنا ہاتھ تھام کر سیدھ میں چلتے محسوس کرتی عنادیہ ایک ہاتھ آنکھ ہر بندھی پٹی پر رکھتے پھر پوچھی،

“تم چپ نہیں رہ سکتی تھوڑی دیر۔۔”

رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتا سلسبیل سنجیدگی سے کہا تو اپنا سا منہ لے کر رہ گئی،کچھ قدم چلنے کے بعد وہ رکا ساتھ زیرِ لب بڑبڑایا،

“اوکے۔۔!”

کہتے ہی وہ عنادیہ کی آنکھوں پر لگی پٹی ہٹایا،اس کی آنکھیں سن سی ہوئی تھیں،نیم وا کر کے سامنے دیکھا تو پہلے منظر کچھ دھندلایا سا ہوا لیکن جیسے جیسے منظر صاف ہونے لگا عنادیہ کی آنکھیں اتنی ہی کھل کر رہ گئیں جبکہ زبان گنگ ہوئی،بےیقین سی وہ سامنے دیکھی تھی،

“ہیپی برتھ ڈے آپی۔۔”

اورفونیچ کے تمام بچے یک بیک چہک کر بلند آواز میں بولے،دوسری جانب عنادیہ کو سکتہ ہی لگ گیا،سلسبیل نے پھر وقت دیکھا،بارہ بج کر دو منٹ پھر مسکراکر وہ عنادیہ کے ایکسپریشن انجوائے کرنے لگا،

“آپی۔۔”

سب سے پہلے آگے نائمہ آکر اسے ہاتھ میں تھاما گفٹ پکڑائی،اس کے چہرے پر خوشی کی دمک دیکھ عنادیہ ہوش کی دنیا میں آئی،

“نائمہ۔۔معاذ۔۔انوشہ۔۔تم لوگ۔۔”

پیچھے سے گفٹ لانے والے انوشہ اور معاذ کو بھی دیکھ عنادیہ خوشی سے بولی،اسے سمجھ نہ آیا ان سب کو دیکھ کیا رئیکشن دے،وہ لوگ دوسرے شہر میں اورفونیچ میں رہتے تھے پھر۔۔۔،معاً ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ تیزی سے پلٹ کر پیچھے کھڑے سلسبیل کو بےیقین نظروں سمیت دیکھی،وجیہہ چہرے پر نرم مسکراہٹ دیکھ اس کا شک یقین میں بدلا،اور وہ ہر جانب دیکھی،رات ہورہی تھی،تو کیا وہ اسے سرپرائز دینے کے لیے اس شہر لایا تھا،عنادیہ مشکور نظروں سے اسے دیکھ واپس ان بچوں کو دیکھی،تین سالوں بعد وہ زرا بڑے دکھنے لگے تھے،نائمہ کو گلے لگا کر وہ سبھی بچوں سے بھی ملی پھر پرشوق نظروں نے ہر جانب کسی کو تلاشا اور وہ ننھی بسمہ جو کہ اب کچھ بڑی ہوچکی تھی آج بھی اپنی معصوم نظریں سلسبیل مراد پر ٹکائے اسے مسکراتا حیرت سے دیکھ رہی تھی،

“بسمہ۔۔”

جھک کر اس کی تھوڑی پکڑتی عنادیہ پکاری،

“آپی یہ ہنستے بھی ہیں۔۔”

مسکراتے ہوئے سلسبیل کو دیکھ وہ شدید حیرت میں یہ سوال پوچھی اور عنادیہ کھل کر ہنسی،

“ہاں یہ کھڑوس اب ہنستے بھی ہیں۔۔۔ہماری آپی نے انہیں اپنی طرح بنادیا۔۔”

بسمہ کے سر پر چپت لگاتی انوشہ ہمیشہ کی طرح چٹخ کر بولی،

“آپی یہ مجھے بہت مارتی ہے۔۔”

اپنی بےیقینی بھول وہ عنادیہ کو شکایت لگائی،

“تم لوگ بلکل نہیں بدلے۔۔”

ہنس کر بسمہ کے گال ہر پیار کرتی وہ بولی،

بچوں کی نینیز پھر خاص کر روبینہ میڈم (اورفونیچ کی مالک) نے بھی اسے وِش کیا،سب سے مل کر اس نے بچوں کے ساتھ بہت اچھا ٹائم سپینڈ کیا،اس دوران سلسبیل اس کے ساتھ رہا تھا،کہا کچھ نہیں وہ بس خاموشی سے عنادیہ کے تاثرات دیکھ رہا تھا جو اس قدر دمک کر اس کے خوبصورت چہرے کو چمکارہے تھے کہ دیکھنے والے کی آنکھیں خیراں ہوتیں،

“تھینک یُو سلسبیل۔۔۔تھینک یُو سو مچ۔۔”

کافی دیر بعد وہاں سب سے مِل کر نکلتی عنادیہ سلسبیل کے پاس آکر چہکی،وہ مسکرادیا،

“آہ۔۔ہم یہاں ہے تو گرینی۔۔۔آپ نے انہیں بتایا وہ تو گھر پر ہی تھیں۔۔”

اچانک یاد پڑنے پر عنادیہ کے چہرے پر سے ہوائی اڑی،تبھی جھٹ سے سلسبیل سے پوچھی،

“یہ لو۔۔”

موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرتا سلسبیل اس کی جانب بڑھایا،عنادیہ لے کر کان سے لگائی،دو بیل پر ہی کال ریسیو کرلی گئی،

“سالگرہ مبارک ہو بچہ۔۔”

دوسری جانب سے دریہ بیگم نے پرشفقت لہجے میں کہا،

“میری طرف سے بھی۔۔”

پیچھے سے آتی اسماء کی آواز پر عنادیہ کھلکھلائی،

“مطلب آپ لوگوں کو پہلے سے ہی معلوم تھا۔۔اور مجھے بتایا بھی نہیں۔۔”

اس نے شدید حیرت کے زد میں ایک نظر سلسبیل کو دیکھ کر پوچھا،

“بتا ہی دیتے تو سرپرائز کیسے رہتا۔۔”

انہوں نے الٹا سوال کیا جس پر عنادیہ مسکراکر رہ گئی،

“اب کل کا پورا دن تم لوگ پرسکون ہوکر گزارو۔۔۔پھر پرسوں خیریت سے گھر پہنچ جانا۔۔”

“کیا مطلب گرینی ہم آج واپس نہیں آئیں گے۔۔”

سوال وہ دریہ بیگم سے کررہی تھی مگر نظریں سلسبیل پر تھیں،اس نے نفی میں سرہلایا دوسری جانب سے دریہ بیگم نے بھی وہی جواب دیا،

“پر گرینی پھر آپ کیسے رہیں گی اکیلی۔۔؟”

“میں اکیلی نہیں اسماء ہے نا میرے ساتھ۔۔۔”

اس کے پریشانی سے پوچھنے پر انہوں نے رسانیت سے کہا،عنادیہ کے چہرے پر متفکر تاثرات امڈتے دیکھ سلسبیل اس سے فون لیا،

“پرسوں نکلنے سے پہلے میں آپ کو کال کروں گا۔۔۔اپنا خیال رکھیے گا۔۔”

کہتا ہوا وہ ٹہلنے لگا پھر دوسری جانب دریہ بیگم سے مطمئن ہوکر کال کٹ کیا،مڑ کر عنادیہ کو دیکھا جس کے ایکسپریشن ہنوز فکرمند تھے،

“گرینی کو بھی لے آتے۔۔”

سلسبیل کے پاس آنے پر وہ اداسی سے بولی،

“کہا تھا پر انہوں نے انکار کردیا۔۔”

اس کے نرم لہجے میں کہنے پر عنادیہ مسکرائی،

“تو یہ تھی میری سزا۔۔”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ سلسبیل کو چھیڑتے ہوئے کہی،

“نہیں۔۔”

وہ سنجیدگی سے بولا اور عنادیہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی،کالی آنکھوں میں ناسمجھی اتری،

“پر آپ نے تو کہا تھا سزا دینے لے جارہا ہوں اور پھر یہاں لاکر سرپرائز دیا۔۔ایک منٹ اگر یہ سزا نہیں تھی تو سزا کیا ہے۔۔”

اپنی پرانی ٹون میں نان سٹاپ بولتی وہ الجھ کر آخر میں پوچھی،سلسبیل مسکراہٹ دبایا تھا،اس شہر میں مقابل کھڑی لڑکی کا انداز بھی بلکل ویسا ہی ہوا تھا جیسا پہلی ملاقات میں ہوتا تھا،

“بتاتا ہوں۔۔”

کہہ کر سلسبیل اسکے گرد بازو حائل کرتا اسے لے کر اورفونیچ سے نکلا،کار اس نے وہی پر باہر چھوڑی پھر چند قدموں کا فاصلہ طے کر کے کچھ دیر بعد وہ عین اپنے پرانے گھر کے سامنے کھڑا ہوا تھا،عنادیہ خوشگواری سے اس گھر کو دیکھی تھی،

“چلیں۔۔”

عنادیہ کو لُو دیتی نظروں سے دیکھتا وہ گھمبیر لہجے میں پوچھا جبکہ خوشی سے نہال وہ جھٹ اثبات میں سرہلائی،

“اتنے سال بعد اس کو دیکھ میں بتا نہیں سکتی کتنی خوش ہوں میں۔۔۔سلسبیل آپ کو پتا ہے آج میری لائف کا سب سے خوبصورت دن ہے۔۔”

وہ جو سلسبیل کے لاک کھولنے پر اندر آئی تھی،نفاست سے سیٹ ہوئے گھر پر ہر جانب گلاب کے پھولوں کا گلدستہ دیکھ چہک کر خوشی سے بولی،

“رات۔۔!”

گیٹ بند کرتا سلسبیل تصحیح کیا اس کی،

“ہاں جو بھی ہے پر میں بہت خوش ہوں۔۔۔مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ یہ سب حقیقت ہے۔۔۔سلسبیل۔۔!”

سلسبیل کے تمام لائٹس آن کرنے پر لاؤنج میں خوشگوار حیرت لیے ہر جگہ بکھرے پھول دیکھ وہ سبھی چیزوں کو چھوتے بول کر آخر میں پلٹی پھر سلسبیل کے پاس آکر مسکراتے ہوئے گویا ہوئی،

“آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔بہت زیادہ۔۔”

اس نے جس جذب بھرے انداز میں کہا سلسبیل ہلکا سا ہنس دیا،

“دو ہفتے کافی پریشان کیا۔۔۔سوچا تھوڑا خوش کردوں۔۔”

کندھے اچکاکر وہ اسے بتایا تھا،

“تھوڑا۔۔۔تھوڑا نہیں بہت خوش کیا ہے آپ نے۔۔۔حالانکہ غلطی میری تھی۔۔سوری سلسبیل میں اب آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گی۔۔۔آپ پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ کروں گی۔۔”

اسے بولتی عنادیہ آخر میں پشیمانی سے کہتی مقابل کے وجیہہ چہرے کو دیکھی جس پر تاثرات اب کچھ سنجیدہ ہوئے تھے،

“آپ سزا دیں گے نا۔۔دیں میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں۔۔”

اچانک ذہن میں آتے وہ یہ بات کہی تھی،سلسبیل کے عنابی لب معنیٰ خیزی سے پھیلے،عنادیہ کی شال پکڑ کر وہ کھینچا تھا جس پر عنادیہ اس سے حد درجہ قریب ہوئی،

“کیا سچ میں۔۔۔تیار ہو۔۔”

گھمبیر لہجے میں کی گئی اس کی سرگوشی پر عنادیہ ناسمجھی سے اسے دیکھی،

“ہاں بلک۔۔”

بےدھیانی میں بولتی عنادیہ چونک کر رکی،الفاظ ختم ہوئے تھے ساتھ ہی مقابل کی آنکھوں میں تپش دیکھ وہ اس کی بات کا مطلب سمجھی،لمحوں میں اس کی پیشانی نم جبکہ عارض گلابی پڑے تھے،نوکداد پلکیں لرز کر رہ گئیں،

“چلو۔۔اپنی سزا لینے۔۔”

عنادیہ کے کان قریب لب لاتا وہ دھیمے آنچ دیتے لہجے میں بولا ساتھ ہی اس کی کان کی لُو دانت میں لیا،عنادیہ سسک کر آنکھیں میچ گئی،سلسبیل کی شرٹ کا تھاما کالر جکڑتے وہ گھبراکر لرزتی آواز میں بولنے لگی،

“مج۔۔مجھے گھر۔۔دیکھنا ہے۔۔”

اس کی گردن پر جھک کر خود کو سیراب کرتا جب وہ عنادیہ کی گھبرائی آواز سنا تب مسکرادیا ساتھ گردن سے چند انچ نیچے ابھری ہڈی پر اپنے لب رکھ کر آنکھیں بند کرگیا،عنادیہ کی ہتھیلیاں بھیگی تھیں،

بیوٹی بون پر مقابل کا ٹھنڈا نرم لمس اس کی سانسیں پل میں تیز کرگیا،گلابی لبوں کو سختی سے دانتوں میں دبائے وہ اپنے معطل ہوتے حواس بحال کرنے کے غرض سانس کھینچی،

“گھر بعد دیکھنا۔۔چلو پہلے تمہیں اپنا کمرہ دکھاتا ہوں۔۔”

کچھ دیر بعد پیچھے ہٹ کر اس کا خوبصورت چہرہ بری طرح سرخ دیکھ وہ جذبات سے چُور لہجے میں بولا،میچی آنکھ کھولتی عنادیہ بوکھلاکر نظر جھکائی مقابل کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دیکھ،

جھک کر اسے بازوؤں میں بھرتا سلسبیل قدم اپنے کمرے کی جانب اٹھایا،اس کی باہوں میں گھبرائی شرمائی وہ سلسبیل کے کمرے میں آکر ایک خوشگوار احساس کے تحت شرمگیں مسکراہٹ لبوں پر سجائی،یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ روز امید سے اس انسان کے پاس آتی جس کا دل تقریباً پتھر بن چکا تھا اور آج،بےساختہ عنادیہ کا سرخ و سفید ہاتھ سلسبیل کے سینے پر گیا،روز کے مخالف کچھ تیز دل دھڑکنیں محسوس کرکے ہی عنادیہ کا دل بھی دھڑک کر رہ گیا،اس کی معصوم حرکت نوٹ کرتا سلسبیل مسکراکر اسے بیڈ پر بیٹھایا ساتھ روم کی لائٹس آن کیا،

وہ جو بیڈ پر بیٹھتے ہی کسی نرم چیز کے احساس کے تحت بیڈ پر ہاتھ رکھتی معطر ہوئے کمرے میں پھیلی خوشبو سانسوں میں اتاری تھی لائٹس آن ہونے پر کالی آنکھیں چمک اٹھیں،بیڈ گلاب کے پھولوں سے بھرا تھا جبکہ کمرے میں جگہ جگہ کلیاں سجائیں ہوئی تھیں،اسے گلاب بےتحاشہ پسند تھے اور اب ہر جانب انہیں دیکھ وہ بہت خوش ہوئی،

“میں اپنی خوشی بیان کرنے سے قاصر ہوں۔۔”

بیڈ پر بچھے پھولوں کی نرمی محسوس کرتی وہ بولی،

“لفظوں کا بیان ضروری نہیں۔۔۔تمہاری خوبصورت آنکھوں کی چمک ہی اندر کی ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔۔”

ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ ڈریسنگ پر رکھا بوکیٹ اٹھا کر عنادیہ کے پاس آیا،

“تمہارے دینے پر ہمیشہ دھتکاردیتا تھا۔۔۔امید ہے تم ایسا نہیں کروگی۔۔”

اس کے آگے بڑھاتا بوکیٹ سلسبیل محبت سے بولا،عنادیہ کو بےساختہ وہ دن یاد آئے جب وہ مقابل محبوب کے لیے روز تازہ گلاب کا بوکیٹ لاتی اور وہ کبھی تو انہیں ڈسٹ بن میں پھینک دیتا تو کبھی پیروں سے ہی مسل کر اسکے جذبات مجروح کردیتا،لیکن آج وہی شخص اسے یوں گلاب دیتا کتنا اچھا لگ رہا تھا،

“آپ کی دی ہوئی چیزیں کبھی نہیں دھتکار سکتی۔۔”

شرمگیں مسکراہٹ سمیت کہتی وہ سلسبیل کو بےحد حسین لگی،اس کے ہاتھ سے بوکیٹ لیتی عنادیہ اس کی خوشبو سے اپنی روح تک کو خوشگوار احساس سے بھرنے لگی،

“اپنی سانسیں معطر کرلیں۔۔۔اب باری میری ہے۔۔”

اسے آنکھیں موندے بوکیٹ پر گال مس کرتے دیکھ سلسبیل مسکراکر گویا ہوا،

“ہاں۔۔یہ لیں نا۔۔”

خوشی سے عنادیہ اس کی جانب بوکیٹ بڑھائی،

“ایسے نہیں۔۔”

کہتے ہی وہ بوکیٹ لے کر برابر میں رکھتا عنادیہ کو خود سے قریب کیا ساتھ ہی اس پر جھکتا چلاگیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ماما۔۔!”

آدھی رات کو گھر پر آیا تھا وہ اور اب روم کا دروازہ ناک کرتا اندر داخل ہوا،مہناز بیگم بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندی لیٹی تھیں،بچوں کی فکر نے انہیں چند دنوں میں بوڑھا سا کر کے رکھ دیا تھا،چھائی زدہ چہرے پر پژمردگی اور ہر پل تفکر کے سائے انکے اندر کی بےچینی کا واضح ثبوت تھے،

“فرخندہ نے بتایا کہ آپ دوائی نہیں لے رہیں۔۔”

ان کے پاس بیٹھتا وہ مہناز بیگم سے فکرمند لہجے میں پوچھا،آنکھیں وا کرکے انہوں نے اپنے سامنے بیٹھے ہیثم کو دیکھا جس کا خود کا حلیہ اس وقت قابلِ رحم ہورہا تھا،

“پتا چلا فلذہ کے بارے میں۔۔؟”

سیدھے ہوکر انہوں نے بےچینی سے پوچھا مگر اگلے ہی پل ہیثم کے مایوسی سے نفی میں سر ہلانے پر وہ کرب سے آنکھیں میچیں،

“ہناد بھی غائب ہے فلذہ کا بھی کچھ نہیں معلوم۔۔۔کیا ہوگیا ہے اس گھر کو۔۔”

تکلیف دہ لہجے میں کہہ کر انہوں نے پھر ناامید ہوتے ٹیک لگالیا،

“عندی کو بتایا آپ نے؟”

کچھ دیر بعد ہیثم نے پوچھا،

“نہیں۔۔۔اسے نہ بتانا پہلے ہی اتنے دکھوں سے نکل کر اسے خوشیاں نصیب ہوئی ہیں اب وہ خراب نہ ہونے دو۔۔”

آزردگی سے بولتیں وہ تھکی ہوئی نظر کھڑکی پر ڈالیں،ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھی انہیں سکون بخشنے میں ناکامیاب ہورہے تھے،دل تھا کہ الگ گھٹن میں قید ہوا،

“ہم سب کو اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔۔۔بہت ظلم کیا ہے ہم نے اس پر۔۔”

طویل خاموشی کے بعد اذیت سے کہتے ان کا لہجہ بھیگا تھا،ہیثم کے چہرے پر بمشکل چھپائی اذیت پھر رونما ہونے لگی،اس نے بڑھ کر مہناز بیگم کے ہاتھ تھامے،

“اصل گناہگار تو میں ہوں اس کا۔۔۔جس نے اس کی لاکھ فریادوں کے باوجود اس پر بھروسہ نہ کیا۔۔”

ہیثم کا ڈگمگاتا لہجہ اندر کے کھوکھلے پن کی عکاسی کیا تھا،

“اور میں۔۔میں کونسا اس کی باتوں پر یقین کرتی۔۔۔بیٹے کی محبت میں اندھی ایک مرتبہ بھی اس لڑکی کے لہجے میں سچائی اور اپنے بیٹے کی آنکھوں میں حوس نہ دیکھ سکی۔۔اور اب۔۔دل کلپتا ہے کہ وہ معصوم معاف کردے مجھے۔۔۔اس سے کہو نا ہیثم معاف کردے مجھے۔۔۔”

کہتے ہوئے آخر میں روتی اپنی ماں کو دیکھ ہیثم تڑپ کر ان کے گلے سے لگ گیا،

“کس منہ سے مانگوں معافی جتنی اذیتیں اسے دیں یہ لفظ واقعی بہت چھوٹا ہے اس کے لیے۔۔۔”

سرخ آنکھوں سے روانی میں آنسو نکلنے لگے تھے،باریک لبوں کو بھینچتا وہ بےبسی سے کہا ساتھ آنکھیں میچ گیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہلکی صبح کا وقت تقریباً ساڑھے چار بجے وہ اٹھا تھا،ایک بھرپور نظر خوابِ خرگوش میں ڈوبی اپنی متاعِ جاں پر ڈال کر وہ جھکا اس پر،

“جانم۔۔!”

نہایت میٹھی اور دلکش سرگوشی تھی کہ گہری نیند میں ڈوبی عنادیہ ناچاہتے ہوئے بھی ہوش کی دنیا میں لوٹتی اپنی مندی مندی آنکھیں نیم وا کی،

“اٹھ جاؤ شاباش۔۔”

اس کے ریشمی بال نرمی سے سہلاتا سلسبیل محبت سے بولا،

“امم۔۔تھوڑا سا اور سونے دیں سلسبیل۔۔”

خمار آلود لہجے میں بمشکل کہتی وہ دوبارہ آنکھیں موند گئی،اس کی ادا پر مسکراتا سلسبیل جھک کر عنادیہ کی پیشانی پر اپنے سلگتے لب رکھا،

“ایک سرپرائز ہے۔۔؟”

دھیمے لہجے میں وہ اس کے کان میں سرگوشی کیا تو عنادیہ پٹ سے آنکھیں کھولتی حیران نظروں سے اسے دیکھی،

“کیا وقت ہورہا ہے۔۔؟”

نظر دوڑاتے وہ سب سے پہلے پوچھی،

“چار چالیس۔۔!”

سلسبیل کے جواب پر اس کی آنکھیں مکمل کھل کر رہ گئی،

“اتنی صبح کون سرپرائز دیتا ہے۔۔”

“میں دیتا ہوں۔۔۔اب اٹھو فوراً ہمیں نکلنا ہے۔۔”

وقت زیادہ نہیں تھا تبھی سلسبیل اب عنادیہ کو پکڑ کر سیدھا بیٹھاتا بولا،

“کہاں کے لیے۔۔؟”

اتنی صبح اٹھ کر کہیں جانا عنادیہ کو وبالِ جاں لگا تبھی سستی سے ٹیک لگاتی پوچھی،

“بتادوں گا فلحال اٹھو لڑکی ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔”

اسے ٹیک لگاکر پھر اونگھتے دیکھ سلسبیل جھنجھوڑا،

“آہ۔۔۔کیا کررہے ہیں سلسبیل۔۔”

بری طرح گھبرائی تھی وہ جھنجھوڑنے پر تبھی زچ ہوئی،

“اٹھ رہی ہو یا نہیں۔۔”

اب کی بار سلسبیل کے ایکسپریشن سیریس ہوئے اور عنادیہ کا سارا نروٹھا پن پل میں ختم ہوا،

“کبھی پیار کرتے ہیں کبھی غصہ۔۔”

منہ بنا کر کہتی وہ بیڈ سے اٹھی پھر سلسبیل پر ایک خفگی بھری نظر ڈالتی اسکے برابر سے ہوکر واشروم میں گئی،اسے جاتا دیکھ سلسبیل اپنی مسکراہٹ کچلتا سر نفی میں ہلایا،

کچھ دیر بعد گھر کو لاک کر کے دونوں ساتھ نکلے،عنادیہ کی خاموشی ناراضگی کا واضح اعلان تھی،ایک تو مقابل اتنی صبح اسے اٹھایا تھا دوسرا صبح صبح اسکی سنجیدہ گھوری پر وہ تپی ہوئی تھی،

“بیٹھو۔۔”

کار کے پاس آکر وہ پلٹ کر اورفونیچ کو دیکھ کچھ سوچنے لگی تھی تبھی سلسبیل کی آواز پر چونکتی کار میں بیٹھی،

پون گھنٹے کے سفر میں عنادیہ ایک لفظ بھی نہ بولی،شیشے سے باہر فلک پر ہلکا گلابی پن دیکھتی وہ ہنوز منہ بنائے بیٹھی تھی،اسے وقفے وقفے سے دیکھتا سلسبیل ہاتھ بڑھا کر عنادیہ کے نرم ہاتھ کو تھاما پھر اسکی ہتھیلی کو چومتا ہاتھ اپنے سینے پر رکھے ڈرائیو کرنے لگا،مقابل کی عنایت پر گلال تو بکھرے تھے اس کے گال پر مگر چہرہ مکمل موڑے وہ اپنے تاثرات اس سے چھپائی،

ایک اونچی پہاڑی پر کار روکتا سلسبیل نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑ کر کار سے اترا،عنادیہ حیران ہوتی کر جانب دیکھی،

“آؤ۔۔”

اسکی جانب کا ڈور کھول کر سلسبیل اسے کہا،وہ اتر کر پہلے تو پیچھے کی طرف نگاہ دوڑائی پھر ایک سوالیہ مگر شکوہ کناہ نظر سلسبیل پر ڈالی،جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیسا سرپرائز ہے،

اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتا سلسبیل عنادیہ کے کندھے کے گرد اپنا بازو حائل کرتا سیدھ میں چلا،

“وہ دیکھو۔۔”

نرمی سے کہا تھا وہ،اس کے وجیہہ چہرے کو دیکھتی عنادیہ ہنوز ناراض نظریں سامنے کی اور بس۔۔،اسے لگا وہ اب سانس نہیں لے پائے گی اور اگر ایسا تھا تو وہ پھر لینا بھی نہیں چاہتی تھی سانس،

ایک نظر کا دیکھنا تھا کہ وہ محویت سے دیکھے گئی،مکمل آنکھوں سمیت لب بھی ہلکے سے کھلے تھے سامنے کا منظر دیکھ،وہ دونوں عین پہاڑی کے آخر میں کھڑے تھے،

دوسری جانب سامنے سے بہتا آبشار اور اس پر سے اٹھتے بخارات وہاں کے ماحول کو خراب ناک بنائے تھے،ٹھیک اس پہاڑی کے اوپر سیدھ میں طلوع ہوتا سورج فضا کو الگ ہی رونق بخش رہا تھا،گلابی فلک رنگ بدل کر نیلا ہوتا بےانتہا حسین لگا تھا،بہتے آبشار سے اوپر اِس پہاڑی تک گھومتی زرد رنگ تتلیاں وہاں کے منظر پر چار چاند لگانے کے لیے کافی تھیں،قدرت کا یہ حسین منظر شاید ہی وہ کبھی دیکھی تھی،

“کیسا لگا سرپرائز۔۔۔؟”

کافی دیر تک اس منظر کو بنا پلک جھپکائے محویت سے دیکھتی وہ کان میں بھاری آواز پڑنے پر چونکی،

“بہت خوبصورت یوں لگ رہا ہے جیسے یہ حقیقت نہیں خواب ہو۔۔”

ٹرانس کی کیفیت میں کہتی وہ بغور دیکھتی اس خوبصورت منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کرلینا چاہ رہی تھی،

اس کی کمر پر اپنا ایک مضبوط بازو حائل کر کے دوسرے ہاتھ سے عنادیہ نرم و نازک ہاتھ تھام کر اٹھا وہ آگے کیا،خواب سی حالت میں عنادیہ ابھی کچھ اور سوچتی جب ایک خوبصورت زرد رنگ تتلی اس کے فضا میں معلق ہاتھ کی مخروطی انگلی پر آ بیٹھی،

“ہا۔۔”

وہ بولنا چاہتی تھی مگر منہ کھلا کا کھلا رہ گیا خوشی سے،پھیلی آنکھوں سمیت اس تتلی کو دیکھ عنادیہ خوشگوار حیرت سے چہرہ موڑے سلسبیل کو دیکھی،اس کا ہاتھ لرز جاتا اگر سلسبیل ہنوز مضبوطی سے نہ پکڑا ہوتا،

“یہ بہت حسین ہے۔۔”

وہ صرف لب ہی ہلا سکی،گلابی لبوں کی جنبش بغور دیکھ سلسبیل گویا ہوا،

“تمہاری طرح۔۔”

“نہیں مجھ سے بھی زیادہ حسین۔۔”

سلسبیل کے جذب بھرے لہجے میں کہنے پر وہ آگے سے بولی،تتلی اڑی تھی اور سلسبیل نرمی سے اس کا رخ اپنی جانب کیا،

“پر میری نظر کو صرف اپنی محبت ہی حسین لگتی ہے۔۔۔”

اس سے پیشانی ٹکائے وہ شدتِ جذبات سے کہا،اس پل عنادیہ کو اپنا آپ دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکیوں میں لگا،واقعی وہ بہت خوش قسمت تھی جو اللّٰہ نے اسے اتنے محبتی شوہر سے نوازا تھا،

“آپ کی عنایتیں مجھے شرمندہ کردیتی ہیں۔۔۔اس لائق نہیں ہوں میں۔۔”

یکدم ذہن کے پردے میں اپنا کیا گیا سلوک یاد آنے پر عنادیہ شرمندہ ہوتی بولی ساتھ سلسبیل کے سینے پر سر رکھی،

“میں نے بہت غلط کیا تھا سلسبیل سوری۔۔”

وہ جو اسے اپنے سینے پر سر رکھا دیکھے اس کے گرد بازو باندھے آنکھیں موندا تھا کچھ دیر بعد پھر اس کے بولنے پر گویا ہوا،

“تم ہر اس خوشی کی حقدار ہو جو سلسبیل مراد کے عوض تمہیں ملتی ہے اور جہاں تک بات غلط کی ہے تو بلکل تم نے غلط کیا تھا۔۔۔عنادیہ۔۔!”

اس کی پشت سہلاکر کہتا سلسبیل آخر میں پکار کر اسے خود سے الگ کیا،

“میں ہر بار تمہاری دھتکار برداشت نہیں کروں گا۔۔۔کوشش کرنا کہ اب مجھ پر بھروسہ رکھو کیونکہ تمہاری بےاعتباری میرا دل دکھادیتی ہے۔۔سلسبیل مراد مایوس ہوجاتا ہے تمہیں خود پر بھروسہ نہ کرتے دیکھ۔۔بہت محبت کرتا ہوں تم سے بہت زیادہ۔۔۔مت کیا کرو مجھے خود سے دور۔۔”

عنادیہ کے بازوؤں کو ہلکے سے جھنجھوڑتا وہ جنونی انداز میں کہہ کر آخر میں اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر نرمی سے کہا،مقابل کے لہجے کا جنون عنادیہ کی آنکھوں میں نمی لے آیا،یقیناً وہ اس رات کی بات کیا تھا جب وہ اس کے قریب ہونے پر سلسبیل کا ہاتھ جھٹک رہی تھی،

“سوری سلسبیل۔۔۔اب کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی آپ کو۔۔”

لہجے میں عقیدت کیے کہتی وہ پیروں کو اونچا کر کے سلسبیل کی کشادہ پیشانی اپنے گلابی لبوں سے چھوئی،

اس دشمنِ جاں کے پُر سرایت لمس پر زندگی سے بھرپور مسکراتا سلسبیل اسے خود میں بھینچ گیا،

“ایک وعدہ کروگی مجھ سے۔۔”

کچھ دیر بعد کار کی بونٹ پر وہ دونوں بیٹھے اس حسین منظر کو نظروں میں اتار رہے تھے تبھی سلسبیل کے پوچھنے پر عنادیہ متوجہ ہوئی،

“جی۔۔”

“میں نے کچھ ایسے کام سر انجام دیے ہیں جو میری نظر میں بلکل ٹھیک مگر دنیا کی نظر میں قابلِ قبول نہیں۔۔۔”

“آپ کی نظر میں اگر وہ کام ٹھیک ہیں تو یقیناً میری نظر میں بھی ٹھیک ہونگے۔۔”

سلسبیل کی بات کاٹ کر اس کے کندھے پر سر رکھی عنادیہ بےفکری سے کہی،

“کیا سچ میں۔۔”

وہ جیسے یقین دہانی کررہا تھا،

“بلکل۔۔”

کندھے اچکاکر اس نے آنکھیں موندی،وجیہہ چہرے پر تاثرات پھر بلا کے سنجیدہ ہوئے،ذہین نظریں سامنے اس حسین منظر پر جمائے وہ کسی گہری سوچ میں گِھرتا پھر نیند کی وادیوں میں اترتی عنادیہ کے گرد مضبوط بازو کا گھیرا تنگ کیا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *