Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz NovelR50599 Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 08)
Rate this Novel
Deedar e Mehboob Ka Hijar (Episode 08)
Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz
اسے اندر کھینچ کر مقابل نے دروازہ جس زور سے بند کیا،دھاڑ کی آواز پر مطیبہ کا دل اُچھل کر حلق میں آیا،روم میں لیمپ کی مدھم روشنی کے باعث نیم اندھیرے میں مطیبہ کو کچھ ٹھیک سے دکھائی نہ دیا پر وہ خوفزدہ ضرور ہوئی تھی مقابل کا ایک بھاری ہاتھ اپنے لبوں پر جمے رہنے پر تو دوسرا نازک کمر کے گرد حائل محسوس کیے،وہ کون تھا مطیبہ کو نہیں معلوم تھا پر وہ کسی بھی طرح اس کی مضبوط گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی،حد سے زیادہ مزاحمت کرنے پر اس کا دوپٹہ گِرا تھا نیچے،گداز سراپا واضح ہونے لگا تو وہ لرز کر اپنے ناخن لبوں پر سختی سے جمے اس بھاری ہاتھ پر گاڑنے لگی پر تبھی مقابل کی گھمبیر خوبصورت آواز نے مطیبہ کو بےیقینی کے ساتھ ساتھ کانپنے پر مجبور کیا،
“میری بات بغور سنو۔۔۔اگر اب تم نے “میری بیوی” کو زرا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی مطیبہ جہانگیر۔۔۔تو یقین کرو میں تمہاری جان لینے سے زرا بھی دریغ نہیں کروں گا۔۔۔”
اس کی مانوس آواز پر ہی وہ مقابل کو پہچان گئی تھی،لفظ بیوی پر ایک موتی ٹوٹا تھا مطیبہ کی آنکھوں سے اور سیدھا مقابل کے بھاری ہاتھ میں جذب ہوا جو کہ اب تک مطیبہ کے لبوں پر سختی سے جما تھا،اپنا ہاتھ نم ہوتا محسوس ہوا تو ہیثم جھٹکے سے اسے چھوڑا اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے بمشکل سیدھی ہوئی ورنہ نیچے گرتی،
ڈرتے ڈرتے مطیبہ نے نگاہ اٹھاکر دیکھا،وہ اب تک خشمگیں نظروں سے اسے ہی گھوررہا تھا،کتنی نفرت تھی ان آنکھوں میں اس کے لیے،مطیبہ کے دل میں چبھن سی ہوئی،سرخ چہرہ لیے وہ بمشکل ہکلاتے لہجے میں بولی،
“می۔۔میری بہن ہے۔۔۔وہ۔۔۔میں کک۔۔۔کیوں اسے۔۔۔نقصا۔۔ن پہنچاؤں۔۔۔”
“اوہ رئیلی۔۔۔”
اس کی بات مکمل بھی نہ ہوپائی تھی جب ہیثم تپ کر تیزی میں آگے بڑھتا پوچھا،
مقابل کی قربت سے پہلے ہی گھبرائی ہوئی مطیبہ نے اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ جلدی سے قدم پیچھے لیے تھے پر نتیجتاً سیدھا دیوار سے جالگی،دوسری جانب اس کے قریب آتا ہیثم سخت گھوری سے اسے نوازتا ایک ہاتھ دیوار پر ٹکا کر تھوڑا جھکا تھا،جبکہ اپنی سانس اٹکتی محسوس کیے مطیبہ نے سر مکمل دیوار سے لگالیا،
“بلکل یہ سچ ہے کہ وہ تمہاری بہن ہے۔۔۔پر جس قسم کی تم بےحس لڑکی ہو۔۔۔تمہارا تو بس نہ چلے کہ ابھی جا کر مار ڈالو اسے۔۔۔پر ایک بات یاد رکھنا مطیبہ جہانگیر۔۔۔وہ اب تمہاری بہن ہونے سے زیادہ میری منکوحہ ہے۔۔۔اور میں ناذلی پر زرا سی آنچ بھی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔”
وہ اور بھی بہت کچھ بول رہا تھا پر مطیبہ اس کی جھلساتی سانسوں سے اپنا چہرہ تمتماتا محسوس کیے موڑ گئی،لیکن ہیثم کے بےحس بولنے پر وہ تڑپ کر اسے دیکھی تھی،
مقابل کیا سمجھ رہا تھا اسے۔۔۔وہ بےحس تو نہ تھی۔۔۔وہ بھی تو ایک دل رکھتی تھی۔۔۔جو ہر دم اس ستمگر کے لیے دھڑکتا پھر کیوں وہ اسے بےحس کہا تھا۔۔۔مطیبہ کا دل چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر اس پر واضح کردے کہ وہ غلط نہیں ہے۔۔۔اسے غلط اس کی جنونی محبت نے بناڈالا ہے۔۔۔وہ تو محبت کرتی ہے اپنی بہن سے بھی۔۔۔ہار تو وہ کچھ دیر پہلے ہی گئی تھی اپنی محبت میں،جب اس ستمگر کا نکاح ہوا تھا اس کی بہن کے ساتھ،اب کیوں وہ اس کے زخموں پر اپنے لفظوں سے نمک چھڑک رہا تھا،بہت سے شکوے تھے اسے،
لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہ بول پائی،فلحال تو وہ اپنی حالت پر بوکھلائی ہوئی رو رہی تھی،بنا دوپٹے کے وہ اس کے اس قدر قریب مطیبہ کو لگا وہ شرم سے مرجائے گی اگر سامنے کھڑا ستمگر کچھ دیر اور یونہی رہا تو،
“مجھے جانے دو۔۔۔”
ہیثم کی سخت نظروں کی تپش سے اپنا سرخ چہرہ تمتماتا محسوس کیے وہ پیچھے دیورا پر اپنے ناخن کھروچتی مترنم آواز میں بولی،
“پہلے وعدہ کرو مجھ سے کہ اب ناذلی کو تم کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گی۔۔۔”
اس کی بوکھلائی حالت پر رحم کھاتا ہیثم تھوڑا پیچھے ہوکر اس بار تحمل سے پوچھا،اب مطیبہ کی برداشت جواب دی تھی،وہ کیوں اسے یہ احساس دلارہا تھا بار بار کہ مطیبہ جہانگیر ایک خطرناک لڑکی ہے،
“نہیں کروں گی کوئی وعدہ میں۔۔۔”
جب سے پہلی مرتبہ وہ تڑخ کر بھیگی آواز میں بولتی اپنے گال بےدردی سے رگڑی ساتھ ہی اس کے برابر سے نکلنے لگی مگر وہ بھول چکی تھی کہ انجانے میں وہ اس بار ہیثم کے بمشکل ضبط کیے ہوئے غصے کو ہوا دے چکی تھی،
ابھی وہ بند دروازے کی طرف جا ہی رہی تھی جب ہیثم نے دیوار پر نسب شیلف پر رکھی تین شو پیس نما خوبصورت بوتلوں میں سے ایک اٹھا کر ڈریسنگ پر مار کر توڑی پھر مطیبہ کا بازو تقریباً دبوچتے ہوئے اسے جھٹکے سے بیڈ پر پٹخا،سب کچھ جس پھرتی سے ہیثم نے کیا مطیبہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی،اور اب خود کے سنبھلنے پر وہ خوفزدہ نظروں سے ہیثم کے ہاتھ میں کانچ کی ٹوٹی بوتل کو دیکھنے لگی،
خون آشام نظروں سے اسے گھورتا وہ چند قدم کا فاصلہ طے کر کے بیڈ کے قریب آیا تھا ساتھ ہی ایک پیر بیڈ پر رکھ کر جھکا،مطیبہ جو ساکت نظروں سے بوتل کو تو کبھی ہیثم کو دیکھ رہی تھی اپنی پنڈلی پر اس کا پیر ٹچ ہونے سے ہی گھبراکر پیچھے ہوئی،ہاتھ میں بوتل کی نوک اسکے خوبصورت مگر آنسوؤں سے بھیگے چہرے کے قریب کیے ہیثم تقریباً غرایا تھا،
“بکو کہ تم کبھی ناذلی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گی۔۔۔”
جھیل رنگ حسین آنکھوں کو پھیلائے وہ اپنے چہرے سے چند انچ کی دوری پر ہیثم کے وجیہہ چہرے کو دیکھی تھی،تو کیا وہ اس قدر جنونی تھا ناذلی کے معاملے میں،مطیبہ کے اندر کچھ ٹوٹا تھا،شاید وہ چھوٹی سی امید کہ کبھی تو وہ ستمگر اس کی طرف مائل ہوگا،
“بولو۔۔”
وہ دھاڑا ساتھ ہی کانچ کی نوک حد درجہ قریب کی،
ہلکی سی چبھن گال پر محسوس کرتے ہی مطیبہ جھرجھری لے کر رہ گئی پھر ڈرتے ہوئے نم لہجے میں ہکلاکر بولی،
“پ۔۔پلی۔۔پلیز۔۔اسے۔د۔۔دور کرو۔۔۔مج۔۔مجھے درد ہور۔۔ہورہا ہے۔۔۔”
اس کا یہ بولنا تھا کہ ہیثم بوتل دور پھینکتا اس کے دونوں بازوؤں کو جکڑ کر مطیبہ کو اپنے قریب کیے دھاڑا،
“میں تمہیں موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کردوں گا مطیبہ جہانگیر اگر تم نے میری ناذلی کو کچھ بھی کِیا تو۔۔۔”
ہیثم کے زہریلے لفظوں سے زیادہ وہ اس کے حد سے زیادہ قریب ہونے پر تڑپی تھی،
“چھوڑو مجھے۔۔۔دور رہو مجھ سے تم۔۔۔”
انتہائی کرب میں وہ چیخی جس پر ہیثم جھٹکے سے اسے چھوڑا ساتھ ہی حیران ہوکر مطیبہ کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے بآواز رونے لگی،
ہیثم ابھی حیران ہی تھا پر تبھی نظر نیچے پڑے مطیبہ کے دوپٹے پر گئی اور لمحے کے ہزارویں حصّے میں اس کے چیخنے کی وجہ سمجھتا ہیثم اسے دیکھا جو شرم سے مرنے کے قریب ہوئی گھٹنوں کے گرد اب بازوؤں کو باندھ کر چہرہ چھپائے رورہی تھی،
چاہے جیسی بھی پر تھی وہ ایک لڑکی اور اپنے غصے میں اندھا ہوتا وہ جس قدر اس کے قریب ہورہا تھا مطیبہ کا چیخنا بجا تھا،تبھی اس پر سے نظریں پھیرتا وہ اب غصہ ضبط کیے بولا،
“اُمید ہے جو کہا اس پر عمل بھی کرو۔۔۔”
اپنی بات کہہ کر ہیثم جھک کر نیچے سے دوپٹہ اٹھاتا روتی ہوئی مطیبہ کے پاس آیا پھر نرمی سے اس کے گرد وہ دوپٹہ لپیٹ کر پیچھے ہٹا ساتھ ہی گیسٹ روم سے تیزی میں بنا کچھ اور کہے نکلتا چلا گیا،
دوسری جانب مطیبہ بلند آواز میں رونے لگی تھی،وہ محبوب سہی پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا اسے چُھونے کا،وہ تڑپ کر چیخی تھی تب جب خوف محسوس ہوا تھا اسے کہ کہیں غصے میں ہیثم اپنے ساتھ ساتھ اس کا بھی نقصان نہ کر بیٹھے،آج وہ بےحد خوفزدہ ہوئی تھی ہیثم سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن ازلی سرد چلنے لگے تھے،نکاح کے بعد جہاں مطیبہ نے اپنے جذباتوں پر پتھروں سے بندھ باندھ لیے تھے وہی ناذلی کی خوشیاں بےحساب تھیں،وہ اکثر کالج کے بعد ہیثم کے ساتھ کہی نہ کہی گھومنے نکلتی،ہیثم نے اب اسے نیو موبائل گفٹ کیا تھا تاکہ دونوں کی بات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے،پہلے تو ناذلی جہانگیر صاحب سے موبائل کی اجازت لی تھی دوسری جانب ان کی اس بار رضامندی پر خوش ہوئی،
ادھر فلذہ کی جی توڑ کوششیں کافی حد تک کامیاب ہوئی تھیں،سابی جو پہلے اس سے زیادہ بات نہ کرتا اب دوست کی حد تک اس سے مذاق یا بات چیت کرلیتا اس کی فلذہ سے دوستی میں زیادہ ہاتھ ہناد کا ہی تھا،چونکہ ہناد اور سابی کی دوستی ہر دن پروان چڑھ رہی تھی اس وجہ سے اس نے فلذہ کی دوستی کی آفر کو ٹھکرانے کے بجائے قبول کیا تھا،سب کی نظر میں جہاں یہ دوستی تھی وہی مہناز بیگم فلذہ کے طور اطوار سے اتنا تو سمجھ چکی تھیں کہ وہ سابی کے لیے ایک الگ احساس رکھنے لگی ہے اپنے دل میں،فلحال تو انہوں نے اس بات کا ذکر اس سے نہ کیا تھا پر وہ جلد اس موضوع پر فلذہ سے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں،
آج فِلذہ نے سابی کو ایک ریسٹورنٹ میں بلایا تھا،پہلے تو سابی حیران ہوکر انکار کیا تھا پر اس کے ضروری بات کا کہہ کر ضد کرنے پر بمشکل مانا،
ابھی فلذہ ہاتھ میں موبائل لیے ریسٹورنٹ میں بیٹھی بار بار انٹرنس پر دیکھ رہی تھی پر تبھی اسے سابی اندر داخل ہوتا دِکھا،ہاتھ کے اشارے سے وہ سابی کی نظر خود پر کرنے سے کامیاب ہوئی،
“بولو۔۔۔کیا ضروری بات ہے۔۔۔”
اس کے پاس آکر سابی کچھ مصروف انداز میں بولا،
“بیٹھو تو پہلے۔۔۔”
اس کی گریس پرسنیلٹی کو دیکھ وہ مسکراکر گویا ہوئی،
“فِلذہ میری جاب کا ٹائم ہورہا ہے۔۔۔اگر جلدی بتادو تو مہتر ہے۔۔۔”
سیٹ پر بیٹھتا وہ ایک نظر رِسٹ واچ پر ڈالے سنجیدگی سے بولا،
“کیا بتادوں۔۔۔”
وہ شاید باتوں کو طول دینا چاہ رہی تھی تبھی معنیٰ خیزی سے مسکراتے ہتھیلی تھوڑی کے نیچے رکھ کر بولی،
“ضروری بات جس کے لیے بلایا ہے تم نے۔۔۔”
ویسے تو نزاکت سے باتیں کرنا فلذہ کا خاصہ تھا پر آج سابی کو اس کے لہجہ اور دنوں کے حساب کچھ عجیب لگا تھا،
“ہممم۔۔۔اگر نہ بتاؤں تو۔۔”
لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے وہ اسے تنگ کی تھی اور سابی بےساختہ مسکرایا،فلذہ کو لگا مقابل کو اس کی یہ ادا بھائی ہے،تبھی نظریں ایک ادا سے پھیریں،
“لڑکی نمونی لگ رہی ہو۔۔۔۔جو بات ہے جلدی بولو۔۔۔”
ہنس کر کہتا وہ فلذہ کو مسکراہٹ سمیٹنے پر مجبور کیا،مقابل کی دلکش مسکراہٹ سے نگاہ چراتی وہ ناراض لہجے میں بولی،
“تم بدتمیز۔۔میں تمہیں نمونی لگ رہی ہوں۔۔۔”
“نہیں تم بلکل نمونی نہیں ہو۔۔۔پر فلحال حرکتیں ویسی ہی کررہی ہو۔۔۔”
اپنی مسکراہٹ دبائے وہ کندھے اچکاکر بولا تو فلذہ یکدم مسکراتے ہوئے ٹیبل پر رکھے سابی کے مضبوط ہاتھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھی،
“اگر میں تم سے کہوں کہ میں اپنے ان ہاتھوں کو یونہی ساری زندگی تمہارے ہاتھوں میں دیکھنا چاہوں گی تو تمہارا کیا جواب ہوگا۔۔۔”
فلذہ کے سوال پر سابی نے ایک نظر اپنے ہاتھ پر رکھے اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر کہا،
“ساری زندگی تو دور کی بات ہے۔۔۔کل تک بھی نہیں رکھ پاؤ گی۔۔۔ابھی رات کو یہ ریسٹورنٹ بند ہو جائے گا۔۔۔”
اپنے ہاتھ غیر ارادی طور پر پیچھے کر کے ٹیبل سے ہٹاتا وہ مذاقاً بولا تھا جس پر فلذہ نے آنکھیں گھمائیں،
“میں مذاق نہیں کررہی سابی۔۔۔سیرئیس ہوں۔۔۔”
“مجھے تو مذاق ہی لگ رہا ہے۔۔”
وہ شاید اب بھی اس کی بات کو لائیٹلی لیا تھا،
“سابی آئی لوو یُو۔۔۔لوو یُو سو مچ۔۔۔صرف یہ ہاتھ نہیں رکھنا تمہارے ہاتھوں میں بلکہ اپنی پوری زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔”
اچانک ہی وہ ایک سانس میں بولی تھی جبکہ سابی کی مسکراہٹ یوں غائب ہوئی جیسے کبھی وہ مسکرایا ہی نہ ہو،
“سابی جواب تو دو۔۔۔”
بےباکی سے کہنے کے بعد وہ مقابل کی خاموشی پر بےچین ہوکر بولی،
“تمہیں ہوش بھی ہے کہ کیا بول رہی ہو۔۔۔”
یکلخت بدلا تھا سابی کا لہجہ،
“ہاں ہوش بھی ہے حواس بھی ٹھیک ہیں۔۔۔اور جو بول رہی سوچ سمجھ کر بول رہی ہوں۔۔۔سابی محبت کرنے لگی ہوں تم سے۔۔۔بےحد،بےانتہا۔۔۔ایسی محبت جو دن بدن میرے حواس سلب کررہی ہے۔۔۔”
“فلذہ کیا بکواس کررہی ہو یار۔۔۔”
وہ جو بنارکے بولے جارہی تھی سابی کے اچانک الجھ کر ٹوکنے پر رکی،
“تمہیں میری فیلینگز بکواس لگ رہی ہیں۔۔۔”
اس کی آنکھیں پل میں نم ہوئی تھیں سابی کی بات پر تبھی بولی،
“اور نہیں تو کیا۔۔۔مطلب یار کچھ بھی بول رہی ہو۔۔۔بنا کچھ سوچے۔۔۔نہ مجھ سے کچھ پوچھا بس اپنی ہی کہے جارہی ہو۔۔۔”
اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرے بےاختیار اندر امڈتے اشتعال پر قابو پاتا وہ سنجیدگی سے بولا،یہاں وہ اسی لیے آیا تھا کہ مقابل بیٹھی لڑکی کو دوست ماننے لگا تھا پر دوستی کے بعد اس کا یہ بولنا سابی کو انتہائی ناگوار لگا پر دوستی کا بھرم رکھنے کے باعث وہ اس بار لہجے کو نرم کرنے کی کوشش کیے بولا،
“میں نے ایسا کبھی سوچا ہی نہیں تھا تمہارے بارے میں۔۔۔یار تم تو بہن جیسی ہو میرے لیے۔۔۔”
سابی اسے آرام سے سمجھایا تھا،
“پر میں تمہیں بھائی نہیں سمجھتی۔۔۔پلیز سابی میری محبت کو یوں مت دھتکارو۔۔۔”
وہ گڑگڑانے لگی تھی اسکے آگے،ہاتھ بےساختہ جڑے جنہیں دیکھ کر سابی جھٹکے سے کھڑا ہوا،
“انف۔۔۔فِلذہ۔۔۔کچھ بھی بول رہی ہو۔۔۔دیکھو ہماری دوستی کو غلط وے میں تم لے کر گئی تھی نہ کہ میں۔۔۔اور پیار محبت ان سب کے بارے میں تو میں نے ابھی سوچا بھی نہیں۔۔۔مجھے پڑھنا ہے ابھی اپنا کریئر سیٹ کرنا ہے۔۔۔پلیز آئندہ مجھ سے اس طرح کی بات نہ کرنا ورنہ تو میں خود ہی چلا جاؤں گا انکل کے گھر سے۔۔۔”
اسکے روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے پر سابی سخت لہجے میں کہتا مڑ کر نکلا تھا وہاں سے،ادھر فِلذہ کے چہرے پر اگلے ہی لمحے غم و غصے کی لکیریں اُبھری،آخر اپنی محبت کا ٹھکرانا کہاں برداشت ہوا تھا اُسے،
“میری تذلیل کی تم نے سابی۔۔اپنے کرئیر کی وجہ سے۔۔۔کرئیر۔۔۔ہنہہ۔۔۔اب میں تمہارا کرئیر بناؤں گی۔۔۔وہ بھی ایسا جو تم کبھی نہیں بھول پاؤگے۔۔۔”
نفرت سے کہتی وہ بےبسی میں ٹیبل پر رکھا گلاس اٹھا کر نیچے پھینکی تھی،
کچھ دیر بعد ریسٹورنٹ سے نکل کر وہ روتے ہوئے اپنے فون میں ہناد کا نمبر ڈائل کی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں وہ آفس کے ایک چھوٹے سے کیبن میں بیٹھا اپنا کام کررہا تھا،اس کے ساتھ چند کلیگس بھی تھے جو اگلی میٹنگ کے حوالے سے بحث و مباحثہ کررہے تھے لیکن سابی ان سے ایکسکیوز کر کے وہاں سے اٹھا جب اس کے فون پر ہناد کی کال آئی،وہ اسے فوراً سکندر ولا میں بلارہا تھا،سابی نے انکار کرنا چاہا پر تب تک دوسری طرف سے ہناد کال کٹ کرچکا تھا،
باس سے اجازت لیتا وہ نکلا آفس سے،پھر اگلے آدھے گھنٹے بعد سکندر ولا کے لاونج میں کھڑا تھا،ہناد اب تک آیا نہیں تھا وہ حیران ہوا پھر کیوں بلایا گیا تھا اسے،ابھی حیرت کے دریا میں غوطہ زن سابی کچھ اور سوچ ہی رہا تھا جب وہاں رکھے لینڈ لائن فون بجا پہلے تو وہ کسی سرونٹ یا گھر کے مکین کے فون اٹھانے کے انتظار میں اگنور کرتا رہا پر جب کوئی نہ آیا اور فون مسلسل بجتا رہا تب خلافِ عادت جاکر اس نے فون اٹھایا،ابھی کان پر لگایا ہی تھا کہ دوسری جانب نے ایک سُریلی مگر تیز آواز کان سے ٹکرائی،
“مطلب میں گھر سے دور ہوں تو ویلیو ہی ختم ہوگئی۔۔۔ارے آدھے گھنٹوں سے کال کررہی ہوں۔۔۔پر نہیں کسی نے فون ہی نہیں اٹھانا تھا۔۔۔اب بھی کیوں ریسیو کیا۔۔۔رکھ دیں۔۔”
مدھر بچکانہ آواز تھی جیسے کوئی پندرہ سولہ سالہ بچی اپنا غصہ اتار رہی ہو،اس کی باتیں سنتا سابی ٹینشن میں بھی بےاختیار مسکرایا ساتھ ہی بے آواز “جھوٹی” بولا جو پانچ منٹ تک کال کرنے کو آدھے گھنٹے سے مشابہت کررہی تھی،
“ایک منٹ۔۔۔کیا سچ میں رکھ دیا۔۔۔یہی عزت ہے میری۔۔۔ارے یار کچھ تو بولیں۔۔”
ایک بار پھر جھنجھلاہٹ بھری آواز تھی،سابی نے گلا کھنکھار کر کچھ بولنا چاہا کہ پھر دوسری جانب سے بولا گیا،
“میں سمجھ گئی۔۔۔ہیثم بھائی آپ ہو نا۔۔۔دیکھیں بھائی مستی مذاق کا بلکل موڈ نہیں ہے میرا کیونکہ میں فلحال تو آپ سے ناراض ہوں۔۔۔میرے بغیر نکاح شکاح کرلیا اور ویسے بھی ناذلی آپی کو بھی کچھ خاص بخشنے نہیں والی میں۔۔۔”
اس کے چپ ہونے کا انتظار کیے سابی ابھی خاموش تھا کہ کسی نے اچانک اس کے ہاتھ سے فون لیا،سامنے ہناد کو کھڑا دیکھ سابی مسکراتے ہوئے بولا،
“سوری پر جب سے فون بج رہا تھا کوئی نہیں تھا تو سوچا۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔”
سابی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ فون کان سے لگائے بولا،
“اوہ تو آپ ہو ہناد بھائی۔۔۔میں کب سے اپنے ہی آپ باتیں کررہی ہوں اور آپ ہو کہ جواب ہی نہیں دے رہے آگے سے۔۔۔”
عندلیب کی باتیں سنتا ہناد ایک سنجیدہ نظر سابی پر ڈالا تھا،
“گڑیا تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔”
“ارے نہیں۔۔۔میں کوئی بعد میں بات نہیں کرنے والی۔۔۔آپ لوگوں سے ناراض ہوں ابھی۔۔۔صرف یہ بتانے کے لیے کال کی تھی کہ اس مس فاریہ نے ایگزیمس کی وجہ سے منع کیا ہے کہ پندرہ تاریخ کو نہیں آؤں گی میں گھر۔۔۔”
اس کا ناراض لہجہ جہاں ہناد کو مسکرانے پر مجبور کیا وہی وہ تھوڑا پریشان ہوا،
“پر لڑکی ایک تو آتی ہی چار مہینوں میں ایک ہفتے کے لیے اب وہ بھی بند۔۔۔”
“صرف اس بار بند۔۔۔اور ویسے بھی اگلے مہینے آجاؤں گی۔۔۔پر آپ لوگوں سے بات شات نہیں کرنی میں نے۔۔۔”
کہہ کر فوراً کال کٹ کردی گئی تھی،اشارہ تھا ازلی ناراضگی کا،کہ ہیثم کے نکاح کا بعد میں کیوں بتایا گیا اسے،حالانکہ یہ مہناز بیگم نے ہی منع کیا تھا کہ اگر اسے معلوم ہوجاتا کہ ہیثم کا نکاح ہے تو وہ آکر دم لیتی اور مس فاریہ نے انہیں بتایا تھا کہ عندلیب کی پڑھائی میں کارکردگی کچھ خاص اچھی نہیں چل رہی،
اس کے کال کاٹنے پر ہناد مسکراکر نفی میں سر ہلاتا فون رکھا پر نظر جیسے ہی فاصلے پر کھڑے سابی پر پڑی تو اس کی مسکراہٹ سمٹی،آنکھیں یکدم سنجیدہ ہوئیں،
“کل میرے کچھ فرینڈز پارٹی رکھ رہے ہیں۔۔۔چلو گے میرے ساتھ۔۔۔”
تاثرات کے برعکس اس کا لہجہ انتہائی ہلکا پھلکا لگا تھا سابی کو،
“آ۔۔”
“منع مت کرنا۔۔۔تم ویسے بھی پارٹی وغیرہ نہیں کرتے جانتا ہوں لیکن دوست ہوں میں تمہارا اتنا تو کر ہی سکتے ہو میرے لیے۔۔۔”
سابی نہ جانے کا بہانہ سوچتے کچھ بول ہی رہا تھا کہ ہناد فوراً بولا جس پر وہ ہلکا سا ہنستے بولا،
“چلو پھر دوست کے لیے کل چلتے ہیں پارٹی میں۔۔۔لیکن تمہیں کوئی کام تھا شاید مجھ سے۔۔۔”
اچانک ہی سابی کو یاد آیا کہ ہناد نے کسی کام سے جلد اسے بلایا تھا سکندر ولا،
“کام یہ ہے میرے دوست کہ کل کی پارٹی کے لیے مجھے کچھ چیزیں لینی ہیں۔۔۔تو چلو ابھی میرے ساتھ تھوڑی شاپنگ پر۔۔۔”
ہناد کی اس بات پر سابی ہنسا تھا،
“سیریئسلی۔۔۔یہ کام تھا تمہیں۔۔۔مطلب ہناد شاپنگ کرنی ہے۔۔”
اسے انتہائی بےتکی لگی تھی ہناد کی یہ بات تبھی بنا ہناد کے سنجیدہ تاثرات دیکھے وہ بولا،
“کیوں نہیں کرسکتا شاپنگ۔۔۔”
اچانک وہ بدلے لہجے میں بولا تو سابی کندھے اچکائے کہنے لگا،
“کرسکتے ہو پر۔۔۔”
“تو پھر چلو۔۔۔”
اس بار سابی کی بات کاٹتا وہ بولا ساتھ ہی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا باہر نکلا،سابی کا بلکل موڈ نہیں تھا اس کے ساتھ شاپنگ پر جانے کا پر ہناد صدا کا ضدی اپنی منواکر ہی رہا،شاپنگ کرتے ہوئے ہناد نے اپنے لیے کوئی خاص چیزیں نہیں لیں ہاں مگر سابی کو ایک پرفیوم ضرور گفٹ کیا تھا،سابی نے پرفیوم لیتے ہوئے ایک مرتبہ سمیل کرنا چاہا پر ہناد کا کہنا صاف تھا کہ جب وہ پارٹی میں آئے تبھی وہ لگائے ابھی اسے کھولے بھی نہ،اس کی یہ بات سابی کو کچھ عجیب لگی پر اس نے زیادہ سوچا نہ اس بارے میں،
اس عرصے کے دورانیے میں سابی فِلذہ کے پروپوزل کو بلکل فراموش کرچکا تھا ساتھ ہی ہناد کا اپنے ساتھ کچھ عجیب اور بدلا ہوا رویہ بھی نہ نوٹ کرسکا۔
