280.2K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dar Novel (Episode 02)

Dar Novel By Irsa Rao

“دیکھا دو دن ہوگئے کچھ کیا اس نے۔۔۔تو خوامخواہ ڈر رہی تھی”
زوہا نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں میں بلاوجہ ہی ڈر رہی تھی۔۔۔۔”
زارا نے سوچ میں ڈوبتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اب اسی خوشی میں ایک کارڈ اور لکھ لو اس کے نام”
زوہا نے خوش دلی سے کہا۔۔۔۔
“پاگل ہوگئی ہے تو۔۔۔۔۔”
وہ حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔۔
“پاگل کی کیا بات ہے۔۔۔بیٹھے بیٹھے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ہاتھ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اپنی محبت پانے کے لیے۔۔۔۔”
زوہا نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“یہ ہم کہاں جارہے ہیں؟” زارا نے اسے دوسرے راستے پر گاڑی بھگاتے دیکھ پوچھا۔۔۔
“شاپنگ مال۔۔۔۔” زوہا نے مختصر کہا۔۔
“اب کیا رہ گیا ایوینٹ کے لیے تو تم نے لے لیا تھا ڈریس۔۔۔۔”
زارا نے پھر سر سوال کیا۔۔۔
“میرے لیے نہیں تمہارے لیے”
زوہا نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔پہلے ہی تم مجھے بہت کچھ دے دیتی ہو۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔”
زارا نے اچھل کر جواب دیا مگر زوہا نے بیچ میں بات کاٹی
“تم سے پوچھا میں نے۔۔۔؟ نہیں نا اب چپ بیٹھو۔۔۔۔”
زوہا نے کہتے ساتھ ہی گاڑی روکی۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“آپ اپنا دھیان نہیں رکھتی نا تبھی اپ کی طبیعت خراب ہوتی ہے”
جواد نے طاہرہ بیگم کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے فکر مندی سے کہا۔۔۔
“ارے بس بی پی زرا سا بڑھ گیا تھا۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
انہوں نے پاس بیٹھے جواد کی فکر دور کرنی چاہی۔۔۔۔
“ہاں مجھے دکھ رہا ہے۔۔۔۔”
جواد نے خفگی سے انہیں ٹوکا۔۔۔
“تم کل سے فیکٹری بھی نہیں گئے۔۔۔۔تم چلے جاؤ میں اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
انہوں نے اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔میں شام تک آجاؤں گا ابھی صفیہ بی سوپ جوس لا رہی ہیں۔۔۔۔وہ لازمی پینا ہے آپ نے اوکے۔۔۔۔”
جواد نے ہدایت کرتے ہوئے ماں کو پیار کیا۔۔۔۔
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
اور جواد مسکراتے ہوئے باہر چلا گیا۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
“عظیم صاحب آج آپ مشینوں کی طرف کام کرلیں۔۔۔۔”
رفیق صاحب نے سامنے کھڑے عظیم صاحب کو دیکھتے ہوئے حکم دیا۔۔۔
“مگر آفس۔۔۔۔۔” انہوں نے کچھ پوچھنا چاہا۔۔۔
“وہ ہم دیکھ لیں گے۔۔۔آڈر مکمل کرنا ہے اور ٹائم کم ہے۔۔۔ویسے بھی آپ تو خود مشینوں کا کام جانتے ہیں۔۔۔”
رفیق صاحب نے تفصیل دی۔۔۔
“جی سر کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ہوجائے گا سب۔۔۔۔تھینک یو”
وہ حامی بھرتے وہاں سے چلے گئے۔۔
تبھی پاس ٹیبل پر رکھا فون بجنے لگا۔۔۔
رفیق صاحب نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔۔۔
“سر آگئے؟ اچھا میں آتا ہوں۔۔۔۔”
وہ فون رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“تونے اتنی ساری چیزیں لے لیں میں کہاں پہنتی ہوں اتنا کچھ۔۔۔”
وہ سیڑھیاں اترتی ساتھ چلتی زوہا کو کہنے لگی۔۔
“تو پہنا کر ورنہ عماد صاحب محبت کرنے کے بجائے بھاگ جائیں گے۔۔۔۔”
زویا نے ہنس کر مزاق اڑایا۔۔۔۔
“ایم سیریس۔۔۔۔” زارا خفا ہوئی۔۔۔
“زارا وہ دیکھ۔۔۔۔تیرا ہیرو۔۔۔۔۔۔۔”
زوہا نے اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ سامنے کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔
“عماد۔۔۔یہاں۔۔۔۔”
وہ حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔۔
“ہاں۔۔۔کہیں تجھے سٹاک تو کر رہا۔۔۔۔”
زوہا نے سنجیدگی سے چھڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔۔وہ کسی کام سے آیا ہوگا”
زارا نے تپھڑ اس کے بازوں پر رسید کیا۔۔۔
“چل آجا ملتے ہیں۔۔۔۔”
زوہا نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے لے جاتے ہوئے کہا۔۔۔
“تیرا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔وہ مجھے نہیں جانتا۔۔۔۔۔”
زارا روہانسی ہوئی۔۔۔
“اب بھی نہیں جانے گا۔۔۔ماسک پہن تو۔۔۔۔”
زوہا نے اپنا بھی ماسک اوپر کیا۔۔۔۔
زارا نے بھی خاموشی سے ماسک پہن لیا۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح دونوں کے ماسک پر Z لکھا تھا۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“کام کہاں تک پہنچا؟”
جواد نے پشت کو کرسی سے ہٹاتے ہوئے کہا۔۔۔
“آل موسٹ ڈن سر۔۔۔کل انشاء اللہ مال ڈیلیور ہوجائے گا”
رفیق صاحب نے پراعتمادی کا مظاہرہ کیا۔۔۔
“بہت اچھے۔۔۔اچھا۔۔۔ورکرز کی لسٹ ضرور بانی ہے۔۔۔جنہوں نے کام کیا ہے۔۔۔وہ انعام کے بھی حق دار ہیں۔۔۔”
جواد نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
تبھی دروازہ بجا۔۔۔اور سپروائزر اندر داخل ہوا
“سر پرابلم ہوگئی۔۔۔مشینوں کی سائیڈ حادثہ ہوگیا ہے۔۔۔”
خبر ملتے ہی جواد کے پاؤں تلے زمین کھسکی۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“ہیلو۔۔۔” پیچھے سے آتی آواز پر وہ یک دم پلٹا۔۔۔۔
سامنے ہی دو لڑکیاں ماسک لگائے کھڑی اسی سے مخاطب تھیں۔۔۔
“آپ۔۔۔۔” اس سے پہلے عماد کچھ کہتا زویا نے بات کاٹی۔۔۔
“میری دوست آپ کو بہت پسند کرتی ہے۔۔۔کوئی لالچ نہیں ہے آپ سے ہر کسی کی اپنی لائف ہوتی ہے۔۔۔۔اور”
زویا بولتی جارہی تھی۔۔۔کہ زارا نے اس کو بازوں سے پکڑا۔۔۔
“زویا کیا کر رہی ہے۔۔۔۔چل یہاں سے۔۔۔۔”
زارا شرمندہ ہوتی اسے ٹوکنے لگی۔۔۔
“کیوں؟ دراصل یہ بہت شائے ہے۔۔۔دل پھینک لڑکیوں میں سے نہیں ہے۔۔۔یہ تو کبھی آپ سے بات بھی نہیں کرتی۔۔۔نا اپنی فیلنگز بتاتی۔۔۔اسے میں نے کہا۔۔۔۔میرے کہنے پر ہی اس نے وہ کارڈ لکھا۔۔۔۔”
زوہا نے تو مانو قسم کھا لی تھی آج ہی سارے رازفاش کر کے جائے گی۔۔۔
“آپ سمجھ رہے ہیں نا میری بات کو؟”
زوہا نے رک کر پوچھا۔۔۔
ہاں۔۔۔بٹ میں کیا کرسکتا ہوں؟”
عماد ناسمجھی سے کبھی زوہا کو دیکھتا کبھی زارا کو۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے۔۔۔
“آپ کچھ کریں یا نا کریں۔۔۔وہ آپ کی مرضی ہے۔۔۔مگر قدر ضرور کرنا پلیز۔۔۔وہ کارڈ اس نے بہت پیار سے لکھا تھا۔۔۔۔”
زوہا نے اس کے سوال کے جواب میں لمبا لیکچر دینا چاہا۔۔۔مگر زارا نے اسے بازوں سے پکڑا اور زبردستی ساتھ لے گئی۔۔۔۔
عماد انہیں جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔پھر کچھ سوچتے ہوئے ان کے پیچھے باہر بھاگا۔۔۔۔
مگر وہ دور جا چکے تھے۔۔۔۔ان دونوں نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اس میں بیٹھ گئی۔۔۔لمحہ بھر میں گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور اس کی آنکھوں سے دور ہوتی چلی گئی۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“ابا آج بھی نہیں آئے۔۔۔۔” زارا نے اسٹیپس کھول کر چپل اتاری۔۔۔
“آج تو انہوں نے فون بھی نہیں کیا” روبینہ بیگم نے فکرمندی سے کہا۔۔۔
تبھی کمرے سے فون بجنے کی آواز آنے لگی۔۔۔
زارا آواز سن مسکرائی۔۔۔
“لو آگئی کال ابا کی۔۔۔۔خوامخواہ بولتی ہیں آپ ابا بیچارے تو ڈرتے ہیں آپ سے۔۔۔”
زارا نے ہنس کر کہا۔۔۔۔
اور فون اٹھانے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔” زارا نے فون رسیو کرتے ہی کان سے لگایا۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے اسے اپنے پاوں پر کھڑےرہنا محال لگنے لگا۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
“یار تجھے صاف صاف منع کردینا تھا۔۔۔۔کل کارڈ دیا تھا آج بات کرنے لگی۔۔۔کل کو اور بھی کچھ کرے گی۔۔ “
ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“یار پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا۔۔۔۔مجھ سے کچھ کہا ہی نہیں گیا۔۔۔”
عماد نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
“کہیں تجھے وہ پسند تو نہیں آگئی؟اب کیا تیرا اسٹینڈرڈ اتنا گر گیا۔۔۔کہ کسی بھی راہ چلتی پسند آجائے”
ہادی کی بات اس کو تیر کی طرح لگی۔۔۔
“مجھے کیسے پسند آئے گی میں نے دیکھا ہی نہیں اسے۔۔۔ماسک میں تھی۔۔۔میں بس اتنا کہ رہا ہوں کہ وہ لڑکی مجھے انوسینٹ لگی۔۔۔اسی لیے شاید میں نے کچھ کہا ہی نہیں۔۔۔۔”
عماد نے صفائی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
“انوسینٹ؟ پیسے کے پیچھے ہوگی تیرے۔۔۔۔”
ہادی نے اندیشہ ظاہر کیا۔۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔کیوں کہ مال سے نکل کر وہ جس گاڑی میں بیٹھی تھی وہ معمولی نہیں تھی۔۔۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ لڑکی کوئی مڈل کلاس اور چیپ بیک گراؤنڈ کی نہیں ہے۔۔۔۔”
عماد نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
“اچھا۔۔۔پھر تو سوچنے والی بات ہے یار۔۔۔۔۔اسے تجھ میں نظر کیا آگیا۔۔۔۔”
ہادی سے چھیڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“سدھر بیٹا۔۔۔۔تو سامنے ہوتا تو تجھے جواب دیتا میں اس بات کا۔۔۔۔”
عماد نے مسکراتے ہوئے دھمکایا۔۔۔اور فون بند کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے دراز کھول کر کارڈ نکالا۔۔۔۔
وہی رنگین کارڈ۔۔۔جسے اس نے بے رخی سے دراز میں پھینک دیا تھا یہ سوچ کر کہ نیکسٹ ٹائم وہ لڑکی دکھی اسے واپس کرے گا۔۔۔۔
مگر آج جانے کیوں اس کا دل کیا اسے دوبارا پڑھوں۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ دونوں باہر بینچ پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔۔۔
آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹرز اپنی کوشش میں لگے تھے۔۔۔
کرنٹ زیادہ لگنے کی وجہ سے عظیم صاحب کی حالت بہت سیریس تھی۔۔۔
زارا اور روبینہ بیگم کا رو رو کر برا حال تھا۔۔۔
ان کا اور کوئی سہارا تھا بھی نہیں۔۔۔
عظیم صاحب نے بڑی محنت کی تھی تب جا کر زارا کو پڑھایا لکھایا۔۔۔۔
ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔۔۔بس ایک بیٹی تھی زارا۔۔۔۔جسے انہوں نے کبھی بیٹی نہیں سمجھا۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“جب مشین پرابلم کر رہی تھی تو آپ لوگوں نے ٹھیک کروائے بنا کیسے رسک لیا؟”
جواد اس وقت بہت غصہ میں تھا۔۔۔۔
“سر میں نے کمپلینٹ آپ کے ٹیبل پر رکھ دی تھی۔۔۔۔”
رفیق صاحب نے ادب سے صفائی دی۔۔۔
“واٹ؟ میں کل پورا دن آیا ہی نہیں۔۔۔۔اور آپ لوگوں نے اگنور کردیا۔۔۔۔رفیق صاحب یہ چھوٹا مسئلہ نہیں تھا جو آپ نے کمپلینٹ کو ٹیبل پر سجا دیا۔۔۔۔آپ کی زمہ داری تھی یہ۔۔۔سپروائزر کی تھی۔۔۔کمپلینٹ مینیجر کی تھی یہ زمہ داری۔۔۔۔۔۔”
جواد نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔۔اس کی آنکھیں غصہ سے انگارے پھینک رہی تھی
“سر ہم نے ٹھیک کروائی تھی مگر شاید ہوئی نہیں مشین ٹھیک۔۔۔۔”
سپروائزر نے صفائی دی۔۔۔
“جن ورکرز نے مشین پر کام کیا تھا ان سب کی لسٹ لے آؤ یہاں۔۔۔۔جب مشین ٹھیک نہیں ہوئی تھی تو اوکے کیسے کی۔۔۔۔؟”
وہ دھاڑتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔
“”ایم سوری سر۔۔۔۔۔” سپروائزر نے بات ٹھنڈی کرنی چاہی۔۔۔
“سوری مائے فٹ۔۔۔۔آپ کی سوری سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔وہ جو ورکر ہاسپیٹل میں اپنی موت سے لڑ رہا ہے۔۔۔۔وہ اٹھ کر کھڑا ہوجائے گا؟ وہ ہماری فیکٹری کا ورکر تھا۔۔۔۔ہماری زمہ داری”
جواد کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے اب۔۔۔۔
سب ہی خوف زدہ تھے کہ جانے جواد صاحب اس غلطی کی کیا سزا دیں گے۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
“دیکھیے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔۔۔۔اگر اپ کے پاس ہے تو بتائیں”
ڈاکٹر نے پشت کو کرسی سے ٹکاتے ہوئے سامنے بیٹھے جواد کو دیکھا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔مگر ان کی جان بچنی چاہیے بس۔۔۔انہیں کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔”
جواد نے لمحہ بھر سوچتے ہوئے ڈاکٹر کے سامنے ہتھیار ڈالے۔۔۔
“”ہم اپنی پوری کوشش کریں گے انشاء اللہ اپ دعا کریں۔۔۔”
ڈاکٹر نے تسلی دی۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔۔۔” جواد اٹھ کر ہاتھ ملاتے ہوئے کہنے لگا اور باہر نکل گیا۔۔۔
ارادہ عظیم صاحب کی فیملی سے بات کرنے کا تھا۔۔۔
سامنے بیٹھی روبینہ بیگم پر ان کی نظر پڑی۔۔۔
وہ چلتا ہوا ان کے قریب پہنچا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بات کرتا اس کا فون بجنے لگا۔۔۔
اس نے فون کان سے لگایا۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے میں آتا ہوں”
وہ فون پر بات کرنے لگا۔۔۔مگر پاس کھڑی دیوار سے ٹیک لگائے اپنے آنسوؤں کو خود ہی صاف کرتی زارا اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اسلام وعلیکم….میں عبدل جواد غنی۔۔۔۔عظیم صاحب میری ہی فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔۔۔۔”
جواد نے روبینہ بیگم کو دیکھتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔۔۔۔
“دیکھیے عظیم صاحب کے ساتھ حادثے کا ہمیں بھی دکھ ہے۔۔۔میرے کوئی بھی الفاظ آپ کے کام نہیں آئیں گے۔۔۔مگر میں بس اتنا ہی کہ سکتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔۔۔۔کسی بھی چیز کی ضرورت۔۔۔۔”
وہ اپنی بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی زارا نے بات کاٹی۔۔۔
“اپ کو لگتا ہے یہاں ہمیں اپنے ابا کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت ہوگی۔۔۔۔؟”
زارا نے اس کے سامنے آکر کہا۔۔۔
“ارے آپ کیا ساتھ دیں گے۔۔۔۔آپ کو جلدی ہے جانے کی۔۔۔کیوں کہ یہاں جو ہسپتال میں داخل ہے نا وہ آپ کا چھوٹا سا ملازم ہے۔۔۔مالک کو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔ملازم جیے یا مرے۔۔۔۔”
زارا نے کاٹ دار لہجے میں طنز کیا۔۔۔
جواد خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جو رونے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔
“زارا چپ ہوجاؤ۔۔۔۔” روبینہ بیگم نے اسے چپ کروانا چاہا۔۔۔۔
“مجھے فرق پڑتا ہے سر۔۔۔میری امی کو پڑتا ہے۔۔۔ہمارا ان کے سوا کوئی نہیں۔۔۔۔آپ مالک تھے نا تو اپ کی زمہ داری تھے میرے ابا۔۔۔۔” زارا کے آنکھ سے دو آنسوں نکل کر پھسلے۔۔۔۔
جواد یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جانے کیوں جواد کو اس کے آنسوں تکلیف پہنچا رہے تھے۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
(ارے آپ کیا ساتھ دیں گے۔۔۔۔آپ کو جلدی ہے جانے کی۔۔)۔
وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے سوچنے لگا۔۔۔
بار بار زارا کا روتا چہرہ اس کے سامنے آرہا تھا۔۔۔
اس نے گھر پہنچ کر گاڑی روکی۔۔۔
جلدی سے اترتا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
اس کا رخ طاہرہ بیگم کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔۔
“مام۔۔۔۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟” وہ لپک کر سامنے بیڈ پر لیٹی طاہرہ بیگم کی جانب بڑھا۔۔۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔۔” انہوں نے اس کا گال تھپتھپایا۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا بھائی امی ٹھیک ہیں اب۔۔۔۔بی پی ہائی تھا اسی وجہ سے طبیعت خراب ہوگئی تھی ان کی۔۔۔ابھی ڈاکٹر چیک اپ کر کے گئے ہیں۔۔۔۔”
عماد نے تسلی دی۔۔۔۔۔
“آپ کو کہا بھی تھا ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔۔اگر آپ صبح ہی چل لیتی تو ابھی آپ کی طبیعت خراب نہیں ہوتی۔۔۔۔”
جواد نے فکرمندی سے کہا۔۔۔
میں ابھی بھی ٹھیک ہوں عماد میرے پاس ہی تھا۔۔۔”
انہوں نے اس کی پریشانی دور کرنی چاہی۔۔۔
جواد نے مسکرا کر ماں کا ہاتھ چوما۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
“آپ ہی تو کہتے تھے میں آپ کی بیٹی نہیں بیٹا ہوں۔۔۔آپ کا بازوں ہوں۔۔۔۔پھر آپ کو کسی سہارے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔میں ہوں نا اپنے بابا کے پاس۔۔۔۔”
وہ عظیم صاحب کو تسلی دیتی ان کے گلے ملی۔۔۔۔
عظیم صاحب اپنا دکھ چھپاتے۔۔۔۔اپنے آنسوؤں کو پینے لگے۔۔۔کہ اگر وہ رو دیا تو زارا جو مضبوط ہونے کا دکھاوا کر رہی ہے وہ نہیں کر پائے گی۔۔۔۔
اور وہ اپنی بیٹی کو مضبوط بنانا چاہتے تھے۔۔۔۔
تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔۔۔اور جواد صاحب اندر داخل ہوئے۔۔۔۔
“سر آپ۔۔۔۔” عظیم صاحب نے ان کی جانب دیکھا۔۔۔
“کیسی طبیعت ہے آپ کی؟”
جواد نے پاس جاتے ہی کہا
زارا اس پر بری نظر ڈالتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
اور باہر بینچ پر بیٹھ گئی۔۔۔
کب سے روکے آنسوں بہنے لگے۔۔۔۔
وہ اپنے باپ کو بنا بازوں کے دیکھ کر آئی تھی۔۔۔وہ جس تکلیف سے گزر رہی تھی شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتی تھی۔۔۔
آنسوں بہتے چلے جارہے تھے۔۔۔
اب تو عالم یہ تھا کہ رو رو کر آنکھیں سوج گئی تھیں۔۔۔ہچکیاں بندھ گئی تھی۔۔۔مگر اسے صبر نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ روتی چلی جارہی تھی۔۔۔اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جاری ہے