274K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 6)

Dadhkan By Rania Mehar

ڈاکٹر کیا ہوامیرے ماموں جان کو ۔۔

مراد نے بے تابی سے ای سی یو کے کمرے سے باہر نکلتے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔۔

انھیں ہاٹ ایٹک آیا ہے وہ تو شکر ہے بروقت علاج کر دیا ورنہ ان کی جان بھی جاسکتی تھی ۔۔

اب وہ بہتر ہے آپ سب انھیں ٹنشین نہ دے ۔۔

ڈاکٹر نے تسلی آمیزلہجے میں کہا ۔۔

مراد تم جاو محمل کو ڈھونڈ لو میں یہاں بھای اور مسکان کے پاس ہو ۔۔

اصغری بیگم نے اپنے آنسو کو روکتے ہوے کہا ۔۔

وہ تو سمجھ ہی نہ پا رہی تھی ان کے گھر والوں کو اچانک کیا ہو گیا ۔۔

نہیں ماموں جان کو ضرورت ہو گی آپ سب اکیلی کیسے ہنیڈل کرے گی ۔۔

مراد نے ہمت جمع کرتے کہا ۔۔

مسکان کو گولی لگنے اور محمل کا گمشدہ ہونے میں وہ خود کو قصور وار سمجھ رہا تھا ۔۔

تبھی وہ یہ سب دیکھ کر اپنی ہمت ہار چکا تھا ۔۔۔

بیٹا میں ہو محمل کو ڈھونڈ لو دیکھو اب تو صبح بھی ہونے والی ہے ۔۔

اصغری بیگم نے سولہت سے سمجھایا ۔۔۔

ماما میرا بھی قصور تھا مسکان سے محمل کا بھی پوچھ لیتا ۔۔

مراد نے افسوس سے کہا ۔۔

بیٹا تم پریشان نہ ہو محمل ٹھیک ہو گی تم وہاں جاو جہاں مسکان پر حملہ ہوا تھا ۔۔

اصغری بیگم نے اپنی طرف سے بڑی بات کی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی مراد نے حملے والی بات جھوٹ بولی تھی ۔۔۔

کیسا بھای ہو میں اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا ۔۔

مراد اصغری بیگم کی بات سن کر اپنے جھوٹ پر شرمندہ ہوتے سوچا ۔۔

———————————————————————–

بے حیا بے شرم لڑکی تم پیدا ہونے سے پہلے مر کیوں نہیں گی ۔۔

کلثوم بیگم نے اکبٰری کومارتے ہوے کہا ۔۔

آپی سب کچھ اپنی ماں کو بتا چکی تھی تبھی کلثوم بیگم اس وقت اکبٰری کو روتے ہوے مار رہی تھی ۔۔۔

کیا کیا ہے میں نے امی ۔۔

میں یہ شادی نہیں کر سکتی مجھے صرف محبت حسن سے ہے میں اسی سے شادی کرو گی ۔۔

اکبٰری نے نڈر انداز سے ساری بات کی ۔۔۔

تمہارا نکاح صبح نہیں ابھی شام کو ہو گا بس ۔۔۔

میں سیلم اور انور کو کہتی ہو نکاح شام کو اور تمہاری رخصتی کل صبح ہوگی ۔۔۔

کلثوم بیگم نے اکبٰری کا نڈر انداز دیکھتے اپنی بات کہی ۔۔

لیکن امی ۔۔

بس میں فصیلہ کر چکی ہو تم یہ بات مانو گی میری ۔۔

کلثوم بیگم نے اکبٰری کی بات کاٹتے اپنی کہی اور کمرے سے چلی گی ۔۔۔

سن لے پھر میں بھی یہ شادی نہیں کرو گی ۔۔

اکبٰری نے بھی چلاتے ہوے کہا تھا ۔۔۔

———————————————————————–

سوری سر ہم یہ رپورٹ درج نہیں کر سکتے جب تک 24 گھنٹے نہیں ہو جاتے لڑکی کی گمشدگی کو ۔۔۔

انسپکٹر نے سہولت سے مراد کو انکار کیا ۔۔۔

سوچ سمجھ کر بولو جانتے بھی ہو میں کون ہو ۔۔۔

مراد کو اب غصہ آ گیا تھا تبھی غصےسے بولا ۔۔

لیکن سر آپ میری مجبوری بھی سمجھے ۔۔

انسپکٹر نے گھبراتے ہوے کہا کیونکہ وہ اچھے سے مراد کو جانتا تھا ۔۔۔۔

السلام و علیکم ڈی ایس پی صاحب جی جی خیریت ایک رپورٹ درج کروانی تھی لیکن یہ آپ کی پولیس کیا کام کرتی ہے جو ہماری بات ہی نہیں مانتی ۔۔۔

مراد نےجب دیکھا انسپکٹر کچھ نہیں کر سکتا تبھی ڈی ایس پی کو فون ملاتے ساری بات بتا دی ۔۔۔۔

لو بات کرو صبح تک مجھے میری کزن ملنی چاہے ۔۔۔

مراد نے فون انسپکٹر کو پکڑاتے ہوے غصے سے کہا ۔۔۔

جی سر ۔۔۔

مراد سر آپ کا کام ہو جاے گا ۔۔۔۔

انسپکٹر نے ڈی ایس پی سے بات کر کے مراد کو فون واپس کرتے کہا ۔۔۔۔

———————————————————————–

اکبٰری تم تیار ہو گی ہو کیا مولوی صاحب آ چکے ہے ۔۔۔

آپی نے کمرے میں آتے ہوے اکبٰری کو کہا ۔۔۔

جو کہ شاہدکمرے میں نہیں تھی ۔۔۔۔

اکبٰری کہاں ہو جلدی باہر آو۔۔۔

آپی سمجھی تھی وہ واش روم میں نہ ہو تبھی واش روم کے دروازے کے پاس جا کر پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔

جب اچانک آپی نے بیڈ پر ایک خط دیکھا ۔۔۔۔

(کلثوم بیگم کے کمرے سے باہر جاتے اکبٰری نے فورًا حسن کو فون کیا اور اسے کہا وہ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کو تیار ہے ۔۔۔۔

حسن کو کیا چاہے تھا وہ مان گیا ۔۔۔

اکبٰری نے پلان کے مطابق اپنے شادی کے زیورات اور پیسے اور کپڑوں سے بیگ تیار کر لیا تھا ۔۔۔

لیکن جانے سے پہلے وہ ایک خط لکھ چکی تھی جس میں آپی کے لیے دھماکہ تھا ۔۔۔

جو کہ اس نے خط میں سارا جھوٹ بولا تھا ۔۔۔)…

آپی تو اکبٰری کا خط پڑھ کے شوکڈ رہ گی تھی ۔۔۔

وہ حیران رہ گی تھی اس کی چھوٹی بہن نے اس کے ساتھ کیا کیاتھا ۔۔۔۔

———————————————————————-

مبارک ہو آپ کے مرئضں کو ہوش آ چکا ہے ۔۔۔

نرس نے باہر آتے مراد اور اصغری بیگم کو بتایا ۔۔۔

ماما آپ اندر چلے اگر میں گیا تو ماموں جان محمل کا پوچھے گے تو میں کیا جواب دو گا ۔۔۔

مراد نے افسودگی سے اصغری بیگم کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

بیٹا تم فکر مت کرو ۔۔۔

محمل إن شاءالله جلد مل جاے گی ۔۔

اصغری بیگم نے مراد کو حوصلہ دیا

۔۔۔

بھائ صاحب کیسی طبیعت ہے اب ۔۔

اصغری بیگم نے اندر آتے مختار صاحب سے پوچھا جو مسلسل چھت کو گھور رہے تھے ۔۔۔

م۔ی۔ر ب۔۔۔۔

میری بیٹی ۔۔۔

مختار صاحب نے اصغری کی طرف متوجہ ہوتے ہکلاتے ہوے پوچھا ۔۔۔

بھای صاحب ہماری بیٹی ٹھیک ہو گی آپ فکر مت کرے اللہٌ پر بھروسہ رکھے ۔۔۔

اصغری نے مختار کے ہاتھ پکڑتے ہو حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔

میری بیٹی معصوم ہے اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہونا چاہے ۔۔۔

مختار صاحب نے روتے ہوے کہا جو اپنی بیٹی سے بے حد محبت کرتے تھے ۔۔۔

ای سی یو کے کمرے کے باہر کھڑے مراد نے بھی یہ بات سنی تھی ۔۔۔

اسے خود پر غصہ آ ر ہا تھا وہ کیوں نہ کچھ کر سکا ۔۔

کیونکہ وہ مختار صاحب کی ایسی حالت نہیں دیکھ سکتا تھا جو کچھ ہی گھنٹوں میں بوڑھے لگ رہے تھے ۔۔۔۔

——————————————————-

محمل نے جیسے ہی اپنی انکھوں کو ہلکا سا کھول کر دیکھا اسے کچھ سمجھ نہ آیا ۔۔۔

وہ کہاں ہے ۔۔

تبھی اس نے اپنی انکھوں کو دوبارہ بند کر لیا تھا ۔۔۔

اوو میڈیم نیند سے جاگ جاو کب تک ایسے ہی رہو گی ۔۔

اچانک محمل کے کانوں میں کیسی کی آواز گونجی تبھی فورًا اپنی آنکھوں کو کھول کر دیکھا ۔۔

اس وقت وہ کشادہ خوبصورت کمرے میں بیڈ کے اوپر لیٹی تھی ۔۔

اسے کوئ ہوش نہ تھا ورنہ وہ کمرے کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ جاتی ۔۔۔

مسل کر اپنی آنکھوں کو محمل نے سامنے دیکھنا جب شوکڈ رہ گی ۔۔۔

سامنے صوفے پر میر اپنی پوری وجہہ پرسنلیٹی کے ساتھ بیٹھا جوس پی رہا تھا ۔۔۔

بیلو کلر کی پینٹ اور

بلیک کلر کی ٹی شرٹ جس میں اس کا کسرتی جسم واضع ہو رہا تھا ۔۔

براٶن بال جو کہ جیل سے سیٹ کیے تھے ۔۔

سرخ سفید رنگ بڑی بڑی براٶن آنکھیں عنابی ہوہٹ اور چہرے پر پڑتے ڈمپل کے ساتھ کیسی کا بھی دل دھڑا سکتا تھا ۔۔۔

لیکن سامنے بھی محمل تھی جیسے یہ انسان زہر لگاتا تھا ۔۔۔

میں کہاں ہو اور تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔

محمل نے بیڈ سے اترتے ہوے میر کے پاس جاتے غصہ سے پوچھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہا ۔۔۔

واقعی نہیں پتہ تیمں کہ کیا ہوا رات یہاں حالت دیکھو اپنی ۔۔۔

میر نےطنزیہ ہنسی ہنس کر محمل کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

بکھرے بال شرٹ کا بازو پھٹا ہوا تھا جو کہ اس وقت برہنہ نظر آ رہا تھا ۔۔۔

ڈوپٹہ بھی غائب تھا ۔۔۔

محمل تو اپنی حالت دیکھ کر شوکڈ تھی اسے تو یہ بھی یاد نہیں تھا ہوا کیا ہے ۔۔

اگر یاد تھا تو بس اتنا کہ ہادی کے ساتھ وہ اور مسکان تھی اس سے آگے کیا ہوا وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔

منہ بعد رکھو اپنا بتاو مجھے کیا ہوا تھا اور میں یہاں کیسے آی ۔۔۔

محمل نے اپنا سر پکڑ کر چلاتے ہوے میر سے پوچھا ۔۔۔۔

( کوٹھے پر جب محمل اور ڈی ایم تھے اس سے پہلے ڈی ایم محمل کی خوبصورتی دیکھ کر بہکتے ہوے کوئ گستاخی کرتا جب پولیس سائرن کی آواز سن کر ڈی ایم ہوش میں آتے محمل کو وہاں بے ہوش ہوتا چھوڑ کر بھاگ چکا تھا ۔۔۔

جبکہ میر کے جو آدمی محمل کے پیچھے لگے تھے وہ محمل کے پیچھے کوٹھے تک پہیچ چکے تھے ۔۔۔

محمل کو بے ہوش دیکھتے وہ اسے اٹھا کر میر کے فارم ہاوس جا کر چھوڑ آے تھے ۔۔۔

جب میر نے محمل کو بے ہوش ہوتے دیکھا تو اس کے جاگنے کا انتظار کرنے کیونکہ وہ اس کا شوکڈ چہرہ دیکھنا چاہتا تھا جب محمل ہوش میں آتے اس کی شکل دیکھ کر ہوتی ۔۔۔

ساری رات جب محمل کو ہوش نہ آیا میر نے صبح تک کا ویٹ کیا جیسے ہی محمل ہوش میں آتی دیکھی تبھی میر نے اس کا شوکڈ چہرہ دیکھتے جھوٹ بولا ۔۔۔)))…

کیسی لڑکی ہو یار مجھ سے پوچھ رہی رات کیا ہوا تھا مجھے تو بتاتے ہوے شرم آ رہی ہے توبہ توبہ ۔۔

میر نے آنکھوں میں شرارت لاتے ہوے کہا ۔۔

لیکن محمل وہ شرارت نہ دیکھ سکی ورنہ جان جاتی میر جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔

ک۔ا۔کیا ہوا تھا رات کو ۔۔

محمل نے ہکلاتے ہوے پوچھا اور اپنے کپڑے سیدھے کرنے لگی ۔۔۔

اففف کیا بتاو کیا ہوا ۔۔

میر نے اب بھی مذاق کیا ۔۔۔

دیکھا دی نہ اپنی اوقات ویسے تو تیمں نفرت تھی لڑکیوں سے تو میری بے ہوشی کا فائدہ کیوں اٹھایا ۔۔۔

محمل تو یہ سنتے ہی آپے سے باہر ہو گی تھی تبھی میر کے کالر کو پکڑتے غصہ سے بولی ۔۔۔

اےےے لڑکی ہاتھ پیچھے کر پہلے ۔۔

میر جو مذاق کر رہا تھا اب محمل کو اپنی کالر پکڑتے دیکھ غصہ سے بولا ۔۔

آج تک کیسی نے بھی اس کے ساتھ ایسا سلوک نہ کیا تھا ۔۔۔

کیوں اب کیا مسلہ ہو گا اگر قریب آو ویسے بھی میرا فائدہ اٹھا چکے ہو ۔۔

محمل نے بھی غصہ سے کہا ۔۔

(وہ تو سوچ کر ہی پاگل ہو رہی تھی اپنی بے گناہی کا ثبوت اپنے پاپا کو کیسے دے گی ۔۔

کیسے بتاے گی ان کی بیٹی نے ان کی عزت خراب نہیں کی ۔۔۔

محمل کو بس اپنے پاپا کی فکر تھی تبھی اب بھی وہ میر تیمور سے کھڑی لڑ رہی تھی )۔

ہاں جیسے تم تو بڑی پاک صاف ہو پتہ بھی ہے کہاں تھی تم ۔۔

مجھ سے تو بچ گی اگر وہاں ہوتی تو زندہ بھی نہ رہتی ۔۔۔

میر نے حقارت سے کہا ۔۔

کہا۔کہاں تھی میں ۔۔

محمل نے گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔

کوٹھے تھی تم اب تیمں پتہ ہو گا وہاں کیسے گی ۔۔۔

میر نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔

محمل سکتے میں چلی گی تھی اسے سمجھ ہی نہیں ایا اس کے ساتھ کیا ہو رہا ۔۔۔

چلو آو تیمں گھر چھوڑ دو ۔۔

میر نے اپنی نظریں چراتے ہوے کہا ۔۔

وہ محمل کی ایسی حالت نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔

محمل اپنے آپ میں مگن تھی اس نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ میر نے رات والی بات مذاق میں تھی یا سچ ۔۔۔

تم چھوڑ دو گے مجھے میں نے پاپا کے پاس جانا ہے ۔۔

محمل نے کوٹھے کا نام جب سے سنا تب سے اس کا دل رہا تھا جلدی سے اپنے پاپا کے پاس چلی جاے ۔۔

تبھی اب آنکھوں میں آنسو لاتے میر سے آس سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

نہیں تو کیا میں دعوت پر لے کر جا رہا ہو پاگل لڑکی ۔۔

میر کو اس کے آنسو دیکھ کر عیجب فیل ہوا تبھی زرا غصہ سے ککہتا کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔

————————————————————

یہ پہن لو ۔۔

میر نے محمل کے گھر کے پاس گاڑی روکتے اپنی جیکٹ اتار کر دی جو وہ آتے ہوے پہن کر آیا تھا ۔۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا کوئ محمل کو غلط سمجھے ۔۔

یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا کہ وہ محمل کو کیوں یہاں چھوڑنے آیا حالانکہ وہ چاہتا تو محمل کو اپنے پاس رکھ لیتا ۔۔۔

پھر بھی وہ اسے گھر چھوڑنے آیا تھا ۔۔۔

————————————————————

ماموں جان ایک دن اور ہاسپٹل رہ جاتے ڈاکٹر نے منع کیا تھا لیکن آپ گھر واپس آ گے ۔۔

مراد نے مختار صاحب کو صوفے پر بیھٹاتے ہوے کہا ۔۔

ارےے میری بیٹی آ جاتی تو پریشان ہوتی پاپا کہاں گے ویسے بھی اب میں ٹھیک ہو ۔۔۔

مختار صاحب نے زبردستی مسکرا کر کہا ۔۔

کیونکہ وہ چاہتے تھے محمل کے گھر واپس آنے سے پہلے وہ گھر میں ہوتے ۔۔

اچھا ی۔۔۔

اس سے پہلے مراد کچھ کہتا جب دروازے پر دستک ہوی ۔۔۔

میں دیکھتا ہو ۔۔۔

مراد نے دروازے کو کھولتے ہوے کہا ۔۔۔

جیسے ہی دروازہ کھولا مراد حیران رہ گیا ۔۔

میر اور محمل کو دیکھ کر ۔۔

کہاں چلی گی تھی محمل ۔۔

مراد نے میر کو اگنور کرتے محمل سے پوچھا ۔۔

جو رونے میں مصروف تھی ۔۔۔

پاپا پاپا ۔۔۔

محمل نے جواب دینے کی بجاے مختار صاحب کو پکارتی ہوی ان کی طرف بھاگی جو خود کمرے سے نکل کر باہر ہال میں کھڑے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

مختار صاحب ایک منٹ کے لیے میر کی شکل دیکھ کر حیران رہ گے تھے ۔۔

جیسے کچھ یاد آیا ہو ۔۔

ہوش تو تب آیا جب محمل ان کے گلے لگی ۔۔

دور رہو مجھ سے میری بیٹی نہیں ہو تم ایسی ہوتی ہے بیٹی جو اپنی عزت کا خیال نہ رکھ سکے ۔۔

مختار صاحب نے محمل کو خود سے دور دھکا دیتے کہا ۔۔

محمل کی حالت دیکھ کر کوئ بھی کہہ سکتا تھا کچھ غلط ہوا ہے ۔۔

تبھی مختار صاحب نے بھی یہی سوچا ۔۔۔

ن۔ن۔نہیں پاپا میں ایسی نہیں آپ میری بات تو سننے ۔۔۔

محمل جو گرتے ہوے بچی تھی جلدی سے پاس آتے روتے ہوے کہا ۔۔۔

نہیں ہو میری بیٹی جاو اس لڑکے کے ساتھ جس کے ساتھ پوری رات رہی ہو ۔۔۔

میرا زرا خیال نہیں آیا ایک بوڑھا باپ بھی ہے تمہارا ۔۔

مختار صاحب نے دکھ سے کہا ۔۔

میری بات تو سن لے تم بتاو میں کہاں تھی ۔۔

محمل نے اچانک میر کے پاس جا کر کہا جو خاموش کھڑا سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔

میرا کام تھا یہاں تک آنا آگے مجھے نہیں پتہ اب میں چلتا ہو ۔۔۔

میر نے انجان بنتے ہوے کہا ۔۔۔

رک جاو اس لڑکی کو بھی یہاں سے لے کر جاو ۔۔

سوری انکل میں ایک انجان لڑکی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ۔۔۔

مختار صاحب نے گھر سے باہر جاتے میر کو دیکھ کر کہا جب میر نے انکار کر دیا ۔۔۔

جب گناہ کر رہے تھے ساری رات تمہارے پاس رہی تب یاد نہیں آیا ۔۔

تم نکاح کرو گے اس کے ساتھ ۔۔

مراد جو کب سے خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا جب اچانک میر کے سامنے آتے غصہ سے بولا ۔۔

۔

اوو ہلیو مسٹر جانتے نہیں ہو کیا کہ میں کون ہو ۔۔۔

میر نے غصہ سے مراد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔

میر کی آنکھوں میں کچھ تو تھا کہ مراد بھی دو منٹ کے لیے گھبرا گیا ۔۔۔

نہیں جانا مجھے تم نکاح کرو اس سے اور دفع ہو جاو ۔۔

بھایییییی ۔۔۔

محمل جو صدمے میں کھڑی تھی نکاح والی بات سن کر مراد کو دیکھ کر بولی ۔۔۔

محمل تم نکاح کرو گی ہم اپنی عزت ایسے خراب نہیں کر سکتے تم جاو یہاں سے پہلے ہی ماموں جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔

مراد نے محمل کو صورتِحال سمجھای ۔۔

ارےےے واہ کیا ذلیل ہو رہی ہے نکاح کے بعد میری قید میں رہے گی مجھے تو مزہ آ جاے گا ۔۔

میر محمل کی حالت کو انجواے کرتے سوچا ۔۔۔

میں نہیں کرو گی نکاح ۔۔

محمل نے بھی نڈر ہو کر کہا ۔۔

ٹھیک ہے میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی تم اگر یہ نکاح نہ کیا تم نے ۔۔

مختار صاحب نے غصہ سے دھاڑتے ہوے محمل کی بات سن کر کہا ۔۔۔

وہ کیسے برداشت کر لیتے محمل ایسے ہی گھر میں جاتی وہ کیا جواب دیتے سب کو تبھی دل پر پتھر رکھتے انہوں نے یہ فصیلہ کیا ۔۔۔

نہیں پاپا یہ ظلم مت کرے مجھ پر آپ جو کہے گے میں وہی کرو گی لیکن یہ نہیں ۔۔۔

محمل نے اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھ کر روتے ہوے کہا ۔۔۔

(وہ کیسے اس انسان سے شادی کر لیتی جیسے خود عورت کی عزت کرنے نہیں آتی تھی ۔۔

وہ تو اپنے لیے ڈی ایم جیسے بندے کو سوچتی تھی شادی کے لیے اور ملا کون میر تیمور )..

کرو ورنہ میرا مرا ہوا منہ دیکھنا ۔۔

مختار نے اپنی بات دوبارہ کہی ۔۔

جیسا آپ کہے گے میں کرنے کو تیار ہو ۔۔

محمل نے اپنے باپ کا فصیلہ مان لیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی اس کے پاپا کو کچھ ہو ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد جب مولوی آ گیا تو محمل نے میر کی طرف دیکھا جو خود اپنے آپ کو پھستا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔۔

ایک منٹ مجھے محمل سے بات کرنی ہے ۔۔

جیسے ہی نکاح ہونے والا تھا ۔۔

میر نے وہی روکتے ہوے کہا ۔۔۔

تم مجھے کہو گی میر مجھ سے نکاح کر لو پھر کرو گا ۔۔۔

میر نے اپنی عیجب سے خواہش بتای محمل کو دیکھ کر ۔۔

دماغ خراب ہو چکا ہے کیا بکواس کر رہے ہو میں محبت نہیں کرتی جو تمہاری بات مانتے کہو شادی کر لو مجھے سے

ہنہہ ۔۔۔

محمل تو میر کی بات پر تپتے ہوے بولی ۔۔

وہ صرف اپنے پاپا کے کہنے پر راضی ہوی تھی ۔۔

ہاں جیسے میں تو مرا جا رہا ہو نکاح کے لیے ۔۔

جاو یہاں سے دیکھو اپنے مرتے ہوے باپ کو پھر ۔۔۔

میر نے بھی غصہ سے کہا ۔۔

میر نکاح کر لو مجھے سے ۔۔۔

محمل نے میر کو جاتے دیکھ کر منہ بگڑاتے ہوے کہا ۔۔۔

ایسے نہیں پلیز بھی کہو ساتھ ۔۔

میر نے مسکراہتے ہوے کہا ۔۔

۔

پلیز میر نکاح کر لو مجھے سے ۔۔۔

اگر کہتے ہو تو پاٶں پکڑ لیتی ہو ۔۔۔

محمل نے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔

(تمہارا جینا حرام میں کرو گی اچھے سے مسٹر میر محمل نے دل میں سوچا )..

نہیں اب اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

میر نے احسان کرنے والے انداز سے کہا ۔۔۔

کچھ دیر بعد محمل مختار سے محمل میر تمیور بن چکی تھی ۔۔۔

محمل نے روتے ہوے سائن کیے تھے ۔۔

اب لے جاو اس لڑکی کو آج کے بعد میرا اس کے ساتھ کوئ رشتہ نہیں ہے مر چکی ہے میرے لیے یہ اور میں اس کے لیے ۔۔

مختار صاحب نے جیسے ہی دیکھا نکاح ہو گیا ویسے ہی کھڑے ہوتے بولے ۔۔۔

پاپا ایسا مت کرے میرے ساتھ میں آپ کے بنا کیسے رہو گی ۔۔

محمل نے روتے ہوے کہا ۔۔

جاو یہاں سے ورنہ ۔۔

مختار صاحب نے غصہ سے بات ادھوری چھوڑتے ہوے کہا ۔۔

ایک دفعہ مجھے لگے لگا لے پاپا صرف ایک دفعہ

محمل نے ڈرتے ہوے اپنی خواہش بتای ۔۔

مختار صاحب خاموش کھڑے رہے ۔۔

مراد درواز بند کر دینا جب سارے چلے جاے۔۔

محمل جو خودی اپنے باپ کے گلے لگی تھی مختار صاحب نے اسے دور کرتے اپنی بات کہہ کر کمرے میں چلے گے ۔۔۔

اس طرح روتے ہوے محمل میر کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی ۔۔