Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 29) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 29) 2nd Last Episode
Dadhkan By Rania Mehar
تم صرف میری بیٹی ہو وہ بلیک مین کیا سمجھتا ہے خود کو ۔۔
میرے ڈی ایم کی نشانی ہو مجھے معاف کر دو بیٹا پورا ایک سال تم میرے لمس سے محروم رہی ہو ۔۔
لیکن اب نہیں میں تمہیں پیار دو گی پتہ تمہارے ڈیڈ ہوتے یہاں تو خوش ہوتے تمہیں دیکھ کر ۔۔
محمل جب سے راجو کی باتیں سن کر آی تھی تب سے پہلی دفعہ اپنی بیٹی کو ہاتھوں میں لیتی مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
اسے ڈر تھا کہی داٶد کی طرح اس کی بیٹی دور نہ ہو جاۓ ۔۔۔
تبھی آج اپنے دل میں ممتا پیدا کرتے وہ اپنے دل کی ہر بات بیٹی سے کر رہی تھی ۔۔۔
اس کی بیٹی جو بلیک کمبل میں لیٹی اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھوں میں چمک لے محمل کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
پتہ تمہارے ڈیڈ کھڑوس بہت ہے تم ایسا مت بنا ۔۔
محمل آنکھوں میں آنسو لاتے مسکراتے بولا ۔۔
جبکہ بیٹی کی تینوں ڈمپل شو ہوے ۔۔
ارےےے واہہہہ میری بیٹی کے ڈمپل ہے بلکل ڈیڈ جیسے بس اس کی طرح مت بنا ۔۔
محمل اس کے گال تھوڑی کو بے تحاشا چومتے ہوے بولی ۔۔
وہ اپنی بیٹی کو سوتے ہوے دیکھ بیڈ پر لٹا رہی تھی جب کھڑکی سے اسے اندر آتے راجو کو دیکھ کر ڈر گی ۔۔۔
ت۔م۔تم یہاں کیسے ۔۔
محمل اپنا نائٹ سوٹ ٹھیک کرتے بولی ۔۔
جب اسے خیال آیا وہ ڈوپٹہ کے بنا کھڑی ہے ۔۔۔
ارے میم صاب ہم تم سے ملنے آیا ۔۔
راجو اپنے دانت نکال کر اس کے قریب آتا بولا ۔۔۔
جاٶ یہاں سے میں بھای کو بلا لو گی روکو میں ابھی بلاتی ہو ۔۔
محمل گھبراہٹ کے مارے جلدی سے کہتی دروازے کی طرف جاتے بولی ۔۔
اس نے دھیان ہی نہیں دیا تھا راجو آج بلکل بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ میں تھا ۔۔
صرف چہرے کا رنگ کالا تھا ویسے وہ کوئ غریب راجو لگ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔
محمل ڈرتے گھبراتے کہتی جب روم سے باہر جانے والی تھی تب راجو نے اسے پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔
میم صاب بڑی مشکل سے جان بچا کر آیا ہو ۔۔
اب بس تم ہماری ہے صرف ہماری ۔۔
راجو محمل کے قریب جاتے اس کی گردن کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔
چھو ۔ڑ۔چھوڑو مجھے میں بیوی ہو ڈی ایم کی ۔۔۔
محمل اپنی بے بسی پر روتی ہوئ مشکل سے بولی ۔۔۔
محمل کو اپنی عزت جاتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
چھ۔چھوڑو مجھے۔
بے ہودہ انسان ۔۔
محمل اپنی پوری طاقت لگاتے راجو کو خود سے دور کیا ۔۔۔
کیوں چھوڑو میں تم کو تم نے ہم کو تھپڑ ماری ہے اس کی سزا ملے گی ۔۔
راجو غصہ سے محمل کو باہوں میں بھرتا بولا ۔۔
تمہیں خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو میں بیوی ہو اس کی ۔۔
محمل اس کی باہوں میں تڑپتے ہوے ہاتھ جوڑ کر بولی ۔۔
مر گی تمہارا شوہر سمجھ۔۔
چٹاخ ۔۔
نہیں مرا وہ سمجھ مجھے محسوس ہوتا ہے ۔۔
ابھی بھی وہ میرے پاس ہے ۔۔
محمل طش میں آتی دوبارہ اس کو تپھڑ مارتی چلاتے ہوے بولی ۔۔
جبکہ اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل گر رہے تھے ۔۔
لو میم صاب ہم تو پیار کر رہا ہے چلو آو باتھ لے ساتھ مزہ آے گا ۔۔۔
راجو محمل کو زبردستی گود میں اٹھا کر واش روم کی طرف جاتا بولا ۔۔
چھو چھوڑو میں قتل کر دو گی ۔۔
محمل اسے واش روم کی طرف جاتے اس کے شولڈر پر مکے مارتی روتے ہوے بولی ۔۔
جان اس کی لبوں پر آی تھی ۔۔۔
قتل تو کیا ہے میم صاب تم نے جب سے ہم نے تم کو دیکھا تھا ۔۔۔
باتھ کے اندر آتے راجو خود کو اور محمل کو شارو کے نیچے کھڑے کرتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا ۔۔۔
چھو ڑ۔۔۔
راجو نے جب شارو کا ٹائپ اون کیا تو ٹھنڈا پانی دونوں کے اوپر گرا ۔۔
جیسے محسوس کرتی محمل نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔
لیکن یہ کیا محمل منہ کھولے راجو کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اوپر سے گرتا پانی اس کے چہرے پر لگی کالی بیس اتر رہی تھی ۔۔
نیلی سرخ آنکیھں جن میں شرارت واضح تھی ۔۔
آی برو پر لگے گہرے تین کاٹ براٶن بال جو کہ اب شولڈر تک آتے تھے جس کو ایک پونی میں قید کیا ۔۔
سفید کشادہ پیشانی پر ہلکی براٶن شیو جو کہ چہرے کو اور خوبصورت بنا رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا سویٹ ہارٹ اب کیوں سکتے میں چلی گی ۔۔
چلو اچھے سے ملو اپنے ڈی ایم سے ۔۔۔
داٶد اس کو خود سے قریب کیے اپنی شرٹ اتارتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔
جو پوری گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
ت۔تم۔مطلب آپ یہ۔زند۔۔۔۔
محمل شوک سی داٶد کا چہرہ چھوتے بولی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے ۔۔
ہاں میری جان میں قریب آو محسوس کرو مجھے پتہ کب سے ارے ارے اپنے شوہر کو ایسا مارتے ہے کیا ۔۔
داٶد جو محمل کے لبوں کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوے بول رہا تھا جب محمل ہوش میں آتی اسے زور زور سے مکے مارنے شروع کیے ۔۔۔
کیوں آے ہو جاٶ یہاں سے مر جاتی تب آنا تھا ۔۔
کیوں آے ہو بتاٶ پتہ تھا نہ کہ میرے لیے تم کیا ہو پھر بھی چلے گے ۔۔۔
محمل مسلسل مکے مار رہی تھی ۔۔
جبکہ داٶد خاموش کھڑا محمل کا خوبصورت چہرہ دیکھ
رہا تھا ۔۔
ایک ایک دن روز تڑپ کر مرتی رہی ہو آپ کو احساس بھی تھا میری کیا حالت تھی ۔۔
میں اپنے غم میں اتنا تھی کہ اپنی بیٹی کو کبھی ماں جیسا پیار نہیں دیا ۔۔
کیوں گے تھے آ۔۔۔
محمل جو روتی ہوی اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی جب داٶد نے اس کی سانسوں کو قید کیا ۔۔۔
محمل اس کا جلا دینے والے لمس پر تڑپ گی تھی ۔۔
اتنی شدت اس کے عمل میں محمل کو محسوس ہوی تھی ۔۔
چ۔ھ۔و۔
محمل اس کے شولڈر پر مکے مارتی دبا دبا چلا رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر اس کی گرفت اور مضبوط لگ رہی تھی ۔۔
اسے ایسا محسوس ہوا جیسے آج اس کی کمر کی ہڈیاں ٹوٹ جاے گی ۔۔
اففففف بہت بولتی ہو تم ۔۔
داٶد نے دیکھا جب محمل کی سانس رک رہی ہے تبھی اسے چھوڑا ۔۔۔
ابھی محمل دو سکینڈ کے لیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔۔
جب دوبارہ داٶد نے اس کی سانس کو قید کیا ۔۔۔
اب واقعی محمل کو اپنی سانس جاتی محسوس ہوی ۔۔۔
———————————————————–
کیسا فیل ہو رہا جان مجھے دیکھ کر ۔۔
داٶد اسے نرمی سے چھوڑا اس کے بھیگے لبوں کو چھوتے بہکے ہوۓ انداز سے پوچھا ۔۔۔
آپ ٹھیک ہے کہاں تھے یہ لمس محسوس کرنے کے لیے میں ترس گی تھی ۔۔
محمل داٶد کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا دیوانہ ور چومتی روتے ہوے بولی ۔۔
یہ کیا کام ہوا یا رو لو یا کس کر لو اگر مجھے پتہ ہوتا تم ایسے چومو گی میں کب کا مر۔۔۔
داٶددددد اب نہیں پلیز میں نہیں سہہ پاٶ گی ۔۔
داٶد محمل کو چپ کرواتا مسکراتا بول رہا تھا جب محمل نے اس کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ بات ہمارا بیٹی کدھر ہے اس کو بتاٶ ڈیڈ آی اس کی ۔۔۔
داٶد کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے راجو کی نقل اتارتا بولا ۔۔۔
ہاے بیوٹی کوئین میں آپ کا ڈیڈ کیسا ہے میرا بیٹا ۔۔۔
داٶد خود محمل کو چھوڑا اپنی بیٹی کے پاس آتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
ویسے شکل سے میرے جیسی ہے نام کیا رکھا ۔۔
داٶد اپنی بیٹی کو دیوانہ وار چومتا بولا ۔۔
ن۔ا۔نام تو نہیں رکھا میں نے بس۔وہ۔۔۔
محمل جو مہیوت ہوتی داٶد کا چہرہ دیکھ رہی تھی اس کی آواز پر متوجہ ہوی ۔۔۔
ہہہممم میں سمجھ سکتا ہو چلو اب نام رکھ لیتے ہے ۔۔
دھڑکن داٶد میر نام ہو گا میری بیٹی کا بتاٶ کیسا نیم ہے ۔۔
داٶد اپنی بیٹی کی آنکھیں چومتے بولا ۔۔۔۔
بہہتتت پیارا نیم ہے شکریہ آپ آ گے داٶد ورنہ میں مر جاتی ۔۔۔
محمل داٶد کے سینے لگی روتے ہوے بولی ۔۔۔
افففف پھر رونا شروع ویسے قریب آنا ہے تمہیں تو آ جاو یہ رونا کیوں ۔۔
داٶد دھڑکن کو دوبارہ لٹاتا محمل کو اپنی گرفت میں لیتا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
میں اچھا بیٹا نہیں بن سکا محمل ڈیڈ نے اتنی بڑی قربانی دی میرے لیے میں کیسے یہ احسان اتار پاٶ گا ۔۔
داٶد محمل دونوں کے گلے شکوے ختم ہو چکے تھے ۔۔
داٶد اسے سب کچھ بتا چکا تھا ۔۔
تبھی دکھ ہوتے بولا ۔۔۔
آپ ایسا مت کہے ڈیڈ کو محبت تھی آپ سے آپ تو بہت اچھے بیٹے شوہر اور باپ ہے ۔۔
محمل جو اس کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی ۔۔
داٶد کے دل کے مقام پر اپنے لب رکھتے بولی ۔۔
دل سے اسے دکھ بھی بہت ہوا تھا ۔۔
محمل کا لمس اپنے دل پر محسوس کرتے داٶد کو اپنے اندر سکون اتارتا محسوس ہوا ۔۔۔
ہمممم ۔۔
اب دونوں ایک دوسرے کی خاموشی سے دھڑکن محسوس کر رہے تھے ۔۔۔
ویسے یہ سمجھ نہیں آیا میں تم سے آپ کیسے ہوا ۔۔۔۔
داٶد خاموش محمل کو اپنی طرف متوجہ کرتے شرارت سے بولا ۔۔۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔
محمل شرماتے ہوے اسی کے سینے منہ چھپاۓ بولی ۔۔۔
ارے ابھی تو تمہارے بے شرم ڈی ایم نے کچھ کیا ہی نہیں تم شرما گی ۔۔۔
داٶد اس کی شہ رگ پر لب رکھتے بولا ۔۔
د۔و۔پلیز۔۔۔
محمل اس کے لبوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے گھبراتے ہوے بولی ۔۔
اس کی دل کی دھڑکن تیز ہوی تھی ۔۔
نو آج نہیں بلکل نہیں مجھے یہ لمس محسوس کرنا ہے ۔۔۔
داٶد محمل کے شولڈر پر لب رکھتا بولا ۔۔۔
نہیں و۔وہ میں کہ۔رہی رات ہو گی ۔۔
محمل اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتی جو منہ میں آیا بولی ۔۔۔
اووہ سیریسلی مجھے نہیں تھا پتہ رات ہو گی ۔۔
داٶد اپنا آی ابرو اٹھاتا طنز کرتا محمل کا ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں قید کرتا بولا ۔۔۔
جبکہ محمل اب پچھتا رہی تھی کیوں یہ بولی ۔۔۔
شکریہ میری جان میری زندگی میں آی میری دھڑکن بنی تم ۔۔۔
داٶد محمل کے لبوں پر لب رکھتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا ۔۔
محمل بنا کوئ مزاحمت کرتی آنکھیں بند کیے اس کی شدت برداشت کر رہی تھی ۔۔۔
داٶد پورا مدہوش محمل کی خوشبو میں مگن ہوا تھا ۔۔۔
دو سالوں کی شدت وہ محمل پر لٹا رہا تھا ۔۔
———————————————————–
افففف میں اتنی لیٹ سو گی ۔۔۔
صبح محمل نیند سے جاگتے ہوے بولی تھی ۔۔۔
جب گھڑی پر ٹائم دیکھتی ہربڑا کر بولی ۔۔
لیکن داٶد کی گرفت سے نکل نہ
پائ ۔۔
داٶد داٶد اٹھ جاے ۔۔
محمل بڑی مشکل سے داٶد کو اٹھاتے ہوے بولی
جیسے وہ آواز دے رہی تھی شاہد ہی داٶد نے سننی ہو ۔۔
کشادہ سفید پیشانی براٶن بال جو ماتھے پر گرے تھے ۔۔۔
گلابی ہونٹ سختی سے آپس میں بند کیے ہلکی شیو اس کے چہرے کو خوبصورت بنا رہی تھی ۔۔
محمل اسے مگن ہوتے دیکھتی خود پر قابو نہ پاتے بے اختیار اپنی لبوں سے اس کے لب چھوے اتنی نرمی سے چھوے کہ اسے محسوس نہ ہو ۔۔
گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ ۔۔
محمل جو جلدی سے پیچھے ہوئ تھی تب داٶد نے اپنی نیلی آنکھوں کو کھولتے دیکھا تھا ۔۔
م۔ی۔ جاتی ہو ۔۔
محمل گھبراتے ہوے بولی ۔۔۔
ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھی تم اب سزا ملنی چاہے کیوں ۔۔۔
داٶد اس کی حرکت نوٹ کرتا آی برو اٹھاتا کروٹ لیتا محمل کو دیکھتا بولا ۔۔
و۔ہ۔نہیں۔پتہ نہ۔۔۔
نہیں کیسے ہوا ۔۔
اپنی چوری پکڑتے محمل گھبراتے ہوے کہتی آنکھوں کو بند کر گی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہااہہہاہا چلو چھوڑ دیا کیا یاد کرو گے جاٶ دھڑکن کو دیکھو شاہد جاگ گی ہو ۔۔
داٶد محمل کے چہرے سے بال ہٹاتا ہنستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اسے ترس آ گیا تھا محمل کی حالت پر ۔۔۔
شکریہ وہ غلطی سے ہوا تھا لیکن یہ خوشی سے ہو گا ۔۔
محمل شکر ادا کرتی داٶد کے گال چومتی بھاگ چکی تھی ۔۔۔
ہاہااہاہہاہا ڈرامہ کوئین اب اگر میں کرتا تو کیا کرتی یہ ۔۔۔
داٶد مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
————————————————————
ارےےےےے چپ کر جا کیوں لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے ۔۔۔
ہاشم ابراہئیم کو چپ کرواتے ہوے بولا جو مسلسل رو رہا تھا ۔۔۔
مسکان مسکان کیا ہے یہ چپ نہیں ہو رہا ۔
ہاشم زور سے چلاتا ہوا بولا ۔۔
ابراہیئم چپ کر ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔
کیا ہے ہاشم ایک بچہ ہنیڈل نہیں ہو رہا مجھے کام ہے ۔۔۔
مسکان کچن سے آتی غصہ سے چلاتی بولی ۔۔
اس کے ہاتھوں میں آٹے والا باول تھا ۔۔
یار یہ چپ نہیں کر رہا بلکل باپ پر نہیں گیا ۔۔
بس شکل سے میرے جیسا ہے ۔۔
ہاشم مسکان کو کمر سے پکڑتا مسکراتا ہوا بولا۔۔
تو باپ چپ کروانے کی بجاۓ میرے پاس کیوں آ رہا ہے ۔۔۔
ہاشم دیکھے وہ چپ ہو گیا ۔۔۔
مسکان ہاشم کو متوجہ کرتی بولی جو مدہوش ہوا اس کی گردن پر لب رکھ رہا تھا ۔۔۔
سارا دن بیٹے کی فکر ہوتی ہے کبھی جو شوہر کا احساس ہو ۔۔
ہاشم اس کے کان کی لو کو چومتے بولا ۔۔۔
ک۔۔
کوئ شرم ہوتی ہے کوئ حیا ہوتی ہے جو بلکل تمہارے اندر نہیں ہے ۔۔
بیڈ روم نہیں یہ ۔۔۔
اس سے پہلے مسکان کچھ کہتی جب داٶد تیار ہوتا نیچے آتا طنز کرتا بولا ۔۔
————————————————————
آہہہہہ آہہہہہہ اہہہہہہ بھوت بھوت ۔۔۔
مسکان جو گبھراتے ہوے اس نے آٹا داٶد کی آواز سنتے اس کے اوپر گرا دیا تھا ۔۔۔
اب آٹے میں لت پت داٶد کو کھڑا دیکھ مسکان اور ارتضٰی چیخ رہے تھے ۔۔
ارتضٰی ابھی ہاشم سے ملنے آیا تھا ۔۔۔
افففف چپ کر جاٶ بھوت نہیں ہے یہ دیکھو کون ہے ۔۔۔
محمل نیچے آتی بولی جبکہ مسکان ارتضٰی اپنے کام میں مصروف تھے ۔۔
ادھر آو چندہ ۔۔۔
داٶد خاموش ویسے ہی کھڑا چندہ کو بلایا ۔۔
بھاہیٶووووو جلاددددد ۔۔۔
دونوں داٶد کی آواز سنتے خوش ہوتے اس کی طرف بھاگے ۔۔
ارے ارے کیا ہو گیا ہے مجھے گرا دو گے ۔۔
دونوں کو گلے لگاۓ داٶد مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بھاہیٶ میں نے بہہہہتتت مس کیا پتہ میں کتنا تڑپی ہو ۔۔
مسکان روتے ہوے بولی
شششش چندہ خاموش رونا نہیں بھاہیٶ سے ایسے بات کرو گی ۔۔۔
داٶد اسے چپ کرواتا ہوا بولا ۔۔
جبکہ ارتضٰی ویسے ہی گلے لگاۓ کھڑا تھا ۔۔
اور یہ میرا بچہ کب سے سنجیدہ ہو گیا بتا مجھے ۔۔
تو روتا بھی ہے ۔۔
داٶد ارتضٰی کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا مسکراتا بولا ۔۔
نہ کر یار تو کیا چاہتا ہے میں رونے لگ جاٶ بیٹی کا باپ بن گیا ہو میں ۔۔
ارتضٰی موڈ کرتا اترا کر بولا جبکہ آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔
تو مجھے بتا رہا ہے شرم حیا کا خود کے بارے میں کیا خیال ہے زرا جو شرم ہو تم میں ۔۔۔
ہاشم مسکان کو دور کرتا خود اس کے گلے لگا پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ۔۔۔
دو سال سالے دو سال صبر کیا میں نے پل پل مرتا رہا میں لیکن سب کو حوصلہ دیتا تھا ۔۔۔
لیکن خود کا دل ڈرتا تھا کہ کہی کچھ ہو نہ جاے کسی کو نہیں بتایا تیرا اس لیے کوئ یقین نہیں تھا تو بچ پاے گا یا نہیں ۔۔۔
ہاشم روتے ہوے بولا تھا ۔۔۔
دیکھ جلاد یہ رو رہا ہے مجھے دیکھ میں بلکل اچھے بچوں کی طرح چپ ہو ۔۔
ارتضٰی بھی پھوٹ پھوٹ کر روتا بولا ۔۔۔
بلکہ تینوں ہی اپنا غم کم کر رہے تھے ۔۔۔
کوئ کہہ نہیں سکتا تھا برائ کو ختم کرنے والے ایچ ایم اے اے ڈی ایم اب بچوں کی طرح رو رہے تھے ۔۔۔
———————————————————–
ارےےےے یار یہ تمہاری بیٹی کتنی تیز ہے میرے بال ہی نہیں چھوڑ رہی ۔۔
داٶد نے سودہ ارتضٰی کو پکڑاتے بیزار ہوتا بولا ۔۔۔
ہاہاااہاہااہاہااا یہ مجھ پر گی ہے ۔۔
دیکھو بیٹا یہ جلاد پاپا ہے ہیلو کرو ۔۔
ارتضٰی ہنستا سودہ کو داٶد کی طرف کرتا بولا ۔۔
جو مسکراتے ہوے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
نہ میرے بال پکڑتی ہے یار محمل دھڑکن کدھر ہے ۔۔
داٶد نے ہنستے ہوے محمل کو آواز دی ۔۔
کیییییاااااا دھڑکن یہ کون ہے دیکھ یار غلط ہے یہ سب بھابھی اتنی پیاری ہے ۔۔
ارتضٰی چیختے ہوے بولا ۔۔
کیا بکواس کرتا جا رہا ہے تو بے شرم انسان میری بیٹی کا نام ہے ۔۔۔
داٶد ارتضٰی کی گردن دبوچتا ہوا بولا ۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔۔
ارتضٰی سکون میں آتا بولا ۔۔
————————————————————
پنک باربی فراک پہنے نیلی آنکھوں میں چمک لے چہرے پر ڈمپل وہ سنجیدہ شکل لے محمل کی گود میں آ رہی تھی۔۔
اوووو میری بیوٹی کوئین کیسا ہے میرا بیٹا ۔۔
داٶد خوش ہوتا دھڑکن کو گود میں اٹھاتا بولا ۔۔
بہتتت پیارا نام ہے بھاہیٶ ۔۔
لیکن پیار آپ مجھ سے کرتے ہے ۔۔
مسکان شرارت سے کہتی بولی ۔۔
نہیں میرا ہے جلاد میں بچہ ہو اس کا ۔۔
ارتضٰی بھی شرارت سے بولا ۔۔
یہ دھڑکن ہے میری اور سویٹ ہارٹ کی ہماری زندگی ہمارے جینے کی وجہ ہماری بیٹی دھڑکن داٶد میر ۔۔۔
داٶد خوشی سے محمل کو اپنے قریب کرتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
محمل جو گھبراتے ہوے خاموش کھڑی تھی ۔۔۔
ویسے یار یقین نہیں آ رہا ہم تینوں باپ بن گے ۔۔۔
ہاشم بھی خوش ہوتا بولا ۔۔
ہاں بس تو تیاری کر میری بیٹی تیرے گھر آۓ گی کیوں مسکان ۔۔۔
ارتضٰی دانت نکالتا مسکراتا مذاق سے ہاشم کو بولا ۔۔۔
توبہ توبہ ادھر آ میں تمہیں بتاٶ بچے چھوٹے ہے تمہیں شادی کی پڑی گی ۔۔
ہاشم اس کی شرارت سمجھتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔
ویسے جلاد میں نے مس کیا تیرا مارنا ہاےےے کیا مارتے ہو زرا اس ایچ ایم کو مار کے دیکھا ۔۔۔
ارتضٰی داٶد کو دیکھتا بولا جو دھڑکن کے ساتھ کیھلنے میں مصروف تھا ۔۔۔
ہاں یار کیا خیال ہے پھر ایچ ایم ہو جاۓ ۔۔
داٶد مسکراتا ہوا ارتضٰی کو پکڑتا ہاشم سے بولا ۔۔
یہ ناانصافی ہے جلاد مجھے کیوں دیکھ اب میں بچے والا ہو گیا ترس کر ۔۔۔
ہاےے میں پھس گیا کہا کر کوئ کو بچا لے ۔۔۔
ارتضٰی ہاشم اور داٶد کے ہاتھوں میں آتا دہائ دیتا چیخ چلا رہا تھا ۔۔۔
ہاہاہہاہاہاا
راضیہ غنڈوں میں پھس گی ۔۔۔
مسکان ثانیہ محمل ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی کہا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ تینوں اپنے بچوں کو چھوڑ ایک دوسرے کے ساتھ میدان جنگ جیسا ماحول بنا کر لڑ رہے تھے ۔۔۔
