172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 27)

Dadhkan By Rania Mehar

آفسر داٶد آپ کدھر جا رہے ۔۔

جنرل نے داٶد کے قریب آتے ہوے پوچھا جو یونفارم چیج کیے جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔۔۔

سر اپنے گھر میری ڈیوٹی پوری ہو آج ۔۔

داٶد نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

آپ گھر ابھی نہیں جا رہے صبح جاے گے کیونکہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ۔۔۔

اور ہم اپنا ہونہار آفسر کھونا نہیں چاہتے ۔۔۔

جنرل داٶد کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوے بولے ۔۔۔

لیکن سر۔۔۔

لیکن ولیکن کچھ نہیں رات آپ نے بہت بہادری دیکھائ سب دشمنوں کو دھول چھٹا دی اب آپ یہاں ہماری نگرانی میں رہے گے ۔۔۔

از مائ آڈر

جنرل نے سرد پن سے کہتے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

یس سر ۔۔

داٶد نے بیزار ہوتے حامی بھری ۔۔۔

لیکن وہ ڈی ایم ہی کیا جو کسی کی بات مان لے ۔۔۔

اپنی بلیک ہڈی پہنے ڈی ایم ہیڈ کواٹر سے صبح چپھکے ہوۓ باہر نکل آیا تھا ۔۔۔۔

جب گاڑی میں بیٹھنے والا تھا تب محمل کا فون آیا ۔۔۔

افففف سویٹ ہارٹ کو چین نہیں اگر میں سامنے چلا جاٶ تو ایسے ڈرتی ہے جیسے میں کھا جاٶ گا ۔۔۔

داٶد نے مسکراتے ہوے کان پک کرتے سوچا ۔۔۔۔

سر ڈی ایم ہمارے سامنے کھڑا ہے کیا کرے ہم ۔۔۔

ڈان کے آدمی نے فون میں بات کرتے سامنے دیکھتے کہا ۔۔

جہاں داٶد مسکراتا ہوا فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔

وہ بھول چکا تھا اس کی جان خطرے میں ہے اگر کچھ یاد تھا وہ یہ محمل اس کے فکرمند ہے ۔۔۔

آڑا دو اسے دل پر شوٹ کرنا تاکہ تڑپتے ہوے مرے وہ ۔۔۔

ڈان نے غصہ اور خوشی سے غراتے ہوے آڈر دیا ۔

داٶد بات کر رہا تھا جب اچانک سامنے دیکھتا رک چکا تھا ۔۔

جہاں ایک آدمی اسے شوٹ کرنے تیار کھڑا تھا ۔۔

داٶد اس کو دیکھتا جلدی سے کال کاٹ کی ۔۔۔اپنی نیلی آنکھوں میں وحشت لے داٶد نے گن نکال کر آدمی کی طرف نشانہ کیا ۔۔

اس سے پہلے داٶد اسے شوٹ کرتا جب اسی آدمی نے پہلے دو گولیاں اس کے سینے پر ماری تھی ۔۔۔

درد کو برداشت کرتے داٶد نے اپنی گن سے فائر کرتے اس کے شولڈر پر شوٹ کیا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہہاہا کیسا فیل ہوا یہ درد ڈی ایم ۔۔۔

اس آدمی نے قہقہ لگاتے ڈی ایم کی حالت دیکھتے طنز کیا ۔۔۔

چھ۔و۔چھوڑو گا نہیں می۔ی۔میں تم س۔ب کو ۔۔

مو۔ت۔موت ک۔وک دعوت دی ہے تو نے ۔۔

ڈی ایم درد میں کراتا ہوا بولا ۔۔

جبکہ اس کی شرٹ ساری خون سے بھر چکی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہا پہلے خود کو بچا لے پھر ہمیں کہنا آیا بڑا ڈی ایم ۔۔

آدمی غصہ سے طنز کرتے دو گولیاں اور دل کے مقام پر مارتے بولا ۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہ گولی لگتے ہی ڈی ایم زمین پر گرتا چلایا تھا ۔۔۔

جبکہ آدمی اپنا کام کر کے بھاگ چکا تھا ۔۔

اپنی آنکھوں کو بند کرنے سے پہلے اسے مسکان ہاشم ارتضٰی تیمور صاحب اصغری بیگم مختار صاحب سب کی شکلیں سامنے آی تھی ۔۔

آہہہہہہہ۔م۔رمیرا ب۔چ۔بچہ ۔۔

درد سے کراتے ہوے ڈی ایم نے ارتضٰی کا نام لیا تھا ۔۔۔

می۔ر چند۔ہ

اب وہ درد برداشت کرتا مسکان کو پکار رہا تھا ۔۔

اپنی آنکھوں کو اس سے پہلے بند کرتا جب اسے گرے آنکھیں دیکھی تھی ۔۔۔

اہہہہہہ ڈر۔م۔ہ۔ڈرامہ ک۔کویئ۔کوہئن ۔۔

میری ڈرامہ کوئی۔۔۔۔

محمل کو یار کرتے ڈی ایم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔

اس سے پہلے وہ پورا نام لیتا جب آنکھوں کو بند کرتا وہ

آہستہ آہستہ داٶد اپنا ہوش کھو بیٹھا تھا ۔۔۔

جبکہ آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔

————————————————————

—————————————————

بھاہیٶٶٶٶٶ ۔۔

کیا ہوا مسکان ۔۔۔

مسکان جو نیند میں تھی اٹھ کر چلاتے ہوۓ بیٹھی جب ہاشم بھی آٹھتا ہوا پوچھا ۔۔۔

م۔ر۔ی۔د۔ل۔

میرے دل میں درد ہو رہا ہے بھاہیٶ ٹھیک نہیں ہے ہاشم تم دیکھ کر آو جلدی ۔۔

مسکان اچانک پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوی بولی ۔۔

ریلکس یار وہ ٹھیک ہو گا می۔۔

بھائئءئییییییئ۔بھائئءئییییییئ۔بھائئءئییییییئ۔بھائئءئییییییئ۔

اس سے پہلے ہاشم تسلی میں کچھ کہتا جب اسے محمل کی چیخنے چلانے کی آواز آی ۔۔۔

محمل کیا ہوا تم یہاں روکو میں آتا ہو ۔۔

ہاشم پریشانی سے باہر جاتا بولا ۔۔

جبکہ مسکان کی سانس بند ہونے والی ہو گی تھی ۔۔۔

اے اللہٌمیرے بھاہیٶ کو کچھ مت کرنا بہت مشکل سے مجھے ملا ہے پلیز چاہے میری جان چلی جاے لیکن بھاہیٶ کو کچھ نہ ہو۔۔۔

مسکان اللہٌکے سامنے ہاتھ جوڑتی روتے ہوے بولی ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا بتاٶ ۔۔

ہاشم پریشان ہوتا بولا ۔۔

و۔ہ۔و۔دا۔و۔۔۔۔

وہ داٶد کو کچھ۔۔۔۔۔

محمل محمل ہوش کرو ۔۔

اس سے پہلے محمل روتے ہوے کچھ کہتی جب وہ زمین بوس ہوی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ہے بھابھی کو اور یہ چلا کیوں رہی تھی ۔۔

ہاشم محمل کو ہوش دالا رہا تھا جب ارتضٰی نیچے پریشان آتا بولا ۔۔۔

پتہ نہیں تم زرا جلاد کو فون کرو ۔۔

جلدی ہاشم غصہ س

جلدی ہاشم غصہ سے چلاتے ہوے بولا ۔۔۔

ہاں ہیلو جلاد یہ کام اچھا نہیں ہے یار کہاں دفع ہو گے بھابھی۔۔۔

ہیلو میجر ارتضٰی رضا کمانڈو داٶد کو گولیاں لگی ہے ہم انہیں ہاسپٹل لے کر جا رہے ہے ۔۔

ارتضٰی جو فون ملاۓ بول رہا تھا جب آرمی افسر نے اس کی بات کاٹتے جلدی سے بتاتے فون بند کر دیا تھا ۔۔۔

نہ۔ن۔نہیں ۔و۔۔

نہیں وہ جھوٹ بول رہا میں جانتا ہو ۔۔۔

ارتضٰی سکتے میں آتا بولا۔۔۔

کیا ہوا ہے ہاشم بھی ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔۔

جبکہ ارتضٰی روتا ہوا سب بتا چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

ڈاکٹر ڈاکٹر کیسا ہے اب داٶد ۔۔

ہاسپٹل میں سارے آ چکے تھے جب انہیں پتہ چلا تھا داٶد کو آپریشن تھیٹر لے کر گے ہے ۔۔۔

سب کی روتے ہوے دعا مانگ رہے تھے ۔۔۔

مسکان محمل ارتضٰی کا رو رو کے بہت برا حال ہو چکا تھا ۔۔

ایک ہاشم ہی تھا جو ہمت کرتا پوچھ رہا تھا ۔۔

کافی دیر بعد ڈاکٹر آپریشن کرتا باہر آیا تھا ۔۔۔۔

سوری مسڑ ہاشم میں کوئ جھوٹی تسلی نہیں دو گا ۔۔۔

دل پر چار گولیاں لگی تھی جو کہ آر پار بھی ہوئ ہم بہت مشکل سے نکال تو چکے ہے لیکن۔۔۔

لیکن کیا ڈاکٹر جلاد ٹھیک ہو جاے گا نہ ۔۔۔

ارتضٰی جو بات سن رہا تھا جلدی سے بات کاٹتا

بولا ۔۔لیکن یہ ان کا ہارٹ بہت ڈامیج ہو چکا ہے ۔۔۔

ہم یہ نہیں کہا سکتے وہ دل دوبارہ پمپ کر سکتا ہے ۔۔۔

باقی اللہٌکی مرضی ہم نے بہت کوشش کی ہے ۔۔

جب تک انہیں ہوش نہیں آتا ہم کچھ نہیں کہا سکتے سوری ۔۔۔

ڈاکٹر نے افسوس کرتے تفصیل سے ساری بات بتائ ۔۔

آپ ایسا کرے میں ہارٹ لے اس جلاد کو لگاۓ دیکھنا وہ جلدی ٹھیک ہو جاے گا ۔۔

ارتضٰی ساری بات سنتا اپنی کہی ۔۔

تم پاگل ہو کیا ارتضٰی حوصلہ کرو اللہٌسب بہتر کرے گا ۔۔۔

ہاشم نے شوک ہوتے ارتضٰی کو ہنیڈل کرتے کہا ۔۔۔

میں نہیں رہ سکتا اس کے بنا ہاشم وہ میرا جلاد ہے میں کچھ بھی کرو گا لیکن یہ سب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔

ارتضٰی روتا ہوا زمین پر بیٹھاتا ہوا بولا ۔۔۔

حوصلہ کرو سب بہتر ہو جاے گا دیکھو سب کو ہم نے سبنھالا ہے ۔۔

ہاشم نے اس کی توجہ سب کی طرف کراوتے ہوے کہا ۔۔۔

————————————————————

”””چار دن بعد ۔۔۔

جی ڈاکٹر آپ نے مجھے بلایا ۔۔۔

ہاشم روم میں داخل ہوتے پوچھا ۔۔۔

چار دن ہو چکے تھے داٶد کو ہوش نہیں آیا تھا ۔۔۔

مسٹر ہاشم آپ کی بہن زندگی کی طرف آنا نہیں چاہتی ۔۔۔

ان کی ہارٹ بیٹ بہت کم چل رہی ہے ۔۔۔

ہم نے بہت کوشش کی لیکن ان کا دل کی دھڑکن بہت کم چل رہی ہے ۔۔

جیسے ان کی دھڑکن کوئ لے گیا ہو ۔۔۔

محمل نے جب سے سنا تھا داٶد کو گولیاں لگی ہے تب سے وہ بے ہوش ہوی تھی ۔۔۔

چار دن بعد بھی اسے ہوش نہیں آیا تھا ۔۔۔

اب اللہٌہی کچھ کر سکتا ہے کیونکہ دونوں کی دھڑکن مدھم چل رہی ہے۔

زندگی میں پہلی دفعہ یہ واقعہ دیکھا ہے جہاں دو انسانوں کے دل کی دھڑکن ایک دوسرے کے ساتھ جوڑی ہو ۔۔

ڈاکٹر حیران ہوتا بولا ۔۔۔

ل۔۔۔

آہہہہہہ آہہہہہہہہہ نہیں نہیں ایسا ہو سکتا ۔۔۔

اس سے پہلے ہاشم کچھ کہتا جب باہر سے ارتضٰی کے چیخنے چلانے کی آواز آی ۔۔۔

————————————————————

ارتضٰی کیا ہوا اور آپ سب کیوں رو رہے ہے ۔۔۔

ہاشم نے باہر آتے حیران ہوتا پوچھا ۔۔۔

ارتضٰی روتے ہوے دیوار پر سر ما رہا تھا ۔۔۔

تیری وجہ سے یہ سب ہوا کہا بھی تھا کہ جلاد کو دل دو گا لیکن تو تیری وجہ سے میں آج واقعی یتیم ہو گیا ہاشم ۔۔۔

ارتضٰی مسلسل پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا بولا ۔۔۔

کی۔کی۔ہوا۔۔۔

ہاشم ہکلاتے ہوے بولا۔۔۔

بھاہیٶ نہیں رہے ہاشم میں کیوں زندہ ہو میرا بھاہیٶ چلا گیا ہمیں چھوڑ کر ۔۔۔

مسکان اچانک اس کے سینے لگے روتے ہوے بولی ۔۔۔

یہ۔ک۔

یہ کیا بکواس ہے ایسا نہیں ہو سکتا جاہل ڈاکٹر ہو چار دن بعد بتا رہے ہو ۔۔۔

میں آگ لگا دو گا سارے ہاسپٹل کو سمجھے ۔۔۔

وہ جلاد ہمیں زندہ چاہے سمجھے۔۔۔

ہاشم حیران ہوتا غصہ سے ڈاکٹر کا گریبان پکڑاتا غراتے ہوے بولا۔۔۔

حوصلہ رکھے آپ سب جو اللہٌکو منظور تھا وہی ہوا ۔۔۔

ڈاکٹر اپنے آنسو صاف کرتے بڑی مشکل سے بولا ۔۔۔۔

ت۔تم ڈاکٹر ہو میرا دل نکال کر دو پلیز میرا جلاد مجھے چاہے میرا باپ تھا وہ ۔۔

میرا سایہ مجھے چاہے ۔۔۔

ارتضٰی ڈاکٹر کے پاٶں پکڑتا روتا ہوا بولا تھا ۔۔

ارتضٰی حوصلہ کرو مرد بنو ایسا کی۔کی۔۔۔۔

نہیں ہو میں مرد میں جلاد کا بچہ ہو ۔۔

اسے بتاٶ جا کر اب ارتضٰی اسے تنگ نہیں کرے گا بتاٶ جا کر اسے ۔۔۔

ارتضٰی ہاشم کی بات کاٹتے ہوے بولا جو اسے حوصلہ دے رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ہر کوئ رونے میں مصروف تھا ۔۔۔۔

تم مجھے مارو بھاہیٶ کو پتہ چلے میں درد میں ہو ۔۔۔

مارو مجھے ۔۔۔

مسکان اچانک ہاشم کے پاس آتے اس کا ہاتھ پکڑے خود کے چہرے پر تپھر مارتے جنونی انداز سے بولی ۔۔۔

کیا کر رہی ہو مسکان

ایسا ہی ہو گا مجھے درد میں نہیں دیکھ سکتے تھے اب آے گے واپس میرے پاس ۔۔

میں نہیں رہ سکتی ان کے بنا ہاشم بھاہیٶ تھا میرا سب کچھ ۔۔

میرا سایہ دنیا میں واحد رشتہ تھا میرے پاس وہ بھی چلا گیا ۔۔۔

مسکان ہاشم کی بات کاٹتی روتی ہوی بولی ۔۔۔

میرا بھی کچھ لگتا تھا وہ جلاد سمجھے سارے اپنا دکھ دیکھ رہے ہے کوئ مجھے بھی حوصلہ دے ۔۔

میرا جلاد وہ ہاے میں کیسے بتاٶ اس کا مجھے غصہ سے بولنا مجھے اچھا لگتا تھا ۔۔۔

ہاشم بھی ہمت کرتا کرتا آخر میں حوصلہ توڑتا پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔۔۔۔

تینوں ایک دوسرے کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر روے تھے ۔۔۔

ہاشم مسکان ارتضٰی بچوں کی طرح رو رہے تھے ۔۔

ڈاکٹر ڈاکٹر جلدی آے مسز داٶد کی ہارٹ بیٹ بند ہو چکی ہے ۔۔۔

زمین پر تینوں بیھٹے رونے میں مصروف تھے جب اچانک نرس آتی چلاتے ہوے بولی ۔۔۔

جبکہ تینوں بات سنتے خود کو حوصلہ دے رہے تھے محمل کو کچھ نہ ہو داٶد کو تو کھو چکے تھے ۔۔۔۔

————————————————————

””””دو سال بعد ۔۔۔۔

یہ دیکھو تمہارا جلاد پاپا ۔۔۔

بہت جلاد ہوتا تھا یہ تمہارے ڈیڈ کو مارتا تھا ایسے ایسے کر کے اور تمہارا ڈیڈ بھی سکون سے مار کھا لیتا تھا ۔۔۔۔

اب دیکھو مجھکوئ مارنے والا ہی نہیں ہے ۔۔۔

تم دعا کرو نہ کہ یہ جلاد واپس آ جاے ہمارے پاس ۔۔۔

ارتضٰی اپنی ایک سال پانچ ماہ کی بیٹی کو دیکھتا کہا رہا تھا ۔۔

جبکہ اس کی بیٹی اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے داٶد کی پک دیکھ رہی تھی ۔۔۔

آرمی یونفارم پہنے مجیر ہاشم مجیر ارتضٰی اور کمانڈو داٶد میر تینوں کھڑا مسکرا رہے تھے ۔۔۔

داٶد کی نیلی آنکھوں اور گالوں پر پڑتے ڈمپل ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے ۔۔۔

ارتضٰی دے مجھے سودہ کو آپ تو رونے بیٹھ جاتے ہے ۔۔۔

ثانیہ روٹھے پن سے کہتی پاس آتی بولی ۔۔

اس کا مقصد یہ تھا ارتضٰی اپنا ذہین بدل لے ۔۔۔

کیوں دو ایک یہی تو ہے جو سکون سے میری ہر بات سن لیتی ہے ۔۔

اور تم لوگ ہو جو میری کوئ بات نہیں سنتے وہ ہاشم دیکھو وہ بھی نہیں سنتا کچھ میرا صرف جلاد تھا ۔۔۔

دیکھنا بہت جلد میں بھی اسی کے پاس چلا جاٶ گ۔۔۔

ارتضٰییییییییی۔۔۔

کیوں ایسا کیوں کیا کمی رہی میری محبت میں جو ایسی بات کی کیا آپ کے لیے وہی ضروری تھے ۔۔

میں اور ہماری بیٹی کچھ نہیں لگتی کیا ۔۔۔

ثانیہ ارتضٰی کی بات کاٹتے پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوی بولی ۔۔۔

تم لوگ ضروری ہو لیکن وہ جلاد مجھے زیادہ عزیز ہے تم نہیں جانتی کیسے اس نے میرا خیال رکھا ۔۔

پتہ میں بہت تنگ کرتا تھا اسے اتنا زیادہ کہ حد نہیں لیکن کبھی اس نے مجھے کچھ نہیں کہا ۔۔۔

میری کلاس کا ہر ٹیسٹ وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرتا تھا ۔۔۔

کبھی میں نے خود کام کیا ہی نہیں ۔۔

ماما سے زیادہ مجھے اس جلاد سے ڈر لگتا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہہاہااہاہا کوئ مجھے نہیں کہا سکتا میں ایک آرمی آفسر ہو میرا ہر میشن ہر کام وہ خود کرتا تھا ۔۔۔

پتہ اگر کبھی بخار ہو جاتا ساری ساری رات وہ سوتا نہیں تھا کہ مجھے کسی بھی چیز کی ضرورت نہ ہو ۔۔۔

جب تم کو پہلی نظر دیکھا تو مجھ سے پہلے وہ جلاد سمجھ گیا کہ مجھے محبت ہے تم سے ۔۔

میں چھپ کر کوٹھہ آیا تھا کہ وہ جان نہ پاے میں نے تم سے نکاح کر لیا ہے ۔۔

لیکن میں بھول گیا ڈی ایم تھا وہ جو شخص بچپن میں میرا اتنا خیال رکھتا تھا وہ میرا اب اور زیادہ رکھتا ہو گا ۔۔۔

ارتضٰی آج پھر روز کی طرح ثانیہ کے پاس بیٹھا دل کی باتیں کرتا تھا ۔۔۔

اسے کوئ خبر نہ تھی باہر کیا کچھ ہوتا ہے ۔۔

ان دو سالوں میں ارتضٰی گھر بیٹھا ثانیہ راحیلہ بیگم اور اپنی بیٹی سودہ کے ساتھ ٹائم گزارتا تھا ۔۔

دو سال پہلے جب اس کی پیاری سی بیٹی ہاتھوں میں آی ارتضٰی اپنی بیٹی کو لیتا پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔۔۔

وہ بلکل اسی کی کاربن کاپی تھی ۔۔۔

پھر آہستہ آہستہ ارتضٰی روز اپنی بیٹی سے داٶد کی باتیں کرتا ۔۔۔

جیسے اب بھی کرتا رو رہا تھا ۔۔۔

حوصلہ کرے اللہٌسب بہتر کرے گا ۔۔۔

ثانیہ بس اتنا بول سکی تھی ۔۔۔

————————————————————

بس کر دے میرے باپ توبہ ہے کیسے لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے تو ۔۔۔

ہاہاہاہااا یہاں وہ جلاد ہوتا تو تمہیں بتاتا کیسے رویا جاتا ہے ۔۔

ہاشم اپنے ایک سال پانچ ماہ کے بیٹے کی منت کرتے ہنستا روتا بولا ۔۔۔

دو سال ہو چکے تھے کچھ بھی بدلا تھا ۔۔۔

سب کو جیسے چپ لگ گی تھی ۔۔

تیمور صاحب لندن سے واپس آے ہی نہیں تھے ۔۔۔

اصغری اور مختار غم میں تھے ان سب کے بچوں کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔۔۔

اللہٌنے ہاشم مسکان کو خوبصورت بیٹا دیا تھا ۔۔۔

ی

جو بلکل ہاشم کی کاربن کاپی تھی ڈارک گرین آنکھیں ۔۔۔

کیا ہو گیا ہے ہاشم بچہ ہے ایسے کوئ چپ کرواتا ہے ۔۔۔

مسکان اپنا رونا کنٹرول کرتی پاس آتی بولی ۔۔۔

جلاد کو بچے پسند تھے بہتتتت زیادہ اتنے زیادہ اس نےاس نے ارتضٰی کو بچہ بنایا اپنا ۔۔

وہ ڈرتا تھا شادی کرنے سے اور بچوں سے وہ کہتا تھا کب اس کی جان چلی جاۓ کوئ بھروسہ نہیں ۔۔

اور دیکھو مسکان آج کتنا دور چلا گیا ہے ۔۔۔

یہ دو سال میں نے بہت اذیت سے گزارا ہے ۔۔۔

میں تھک چکا ہو اب سب کو سبنھالتے ہوے ۔۔

مجھے چاہے وہ جلاد مسکان تم کہو نہ کہ میں نے تمہیں درد دیا ہے وہ آے گا دیکھنا ڈی ایم والے روپ میں ۔۔۔

دوسال کا غبار اپنے دل میں رکھتا ہاشم آج ہمت توڑتا پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔۔۔

ہاشم اگر ہم نے ایسا کیا تو باقی سب کا کیا ہو گا ۔

مجھے بھی دیکھے جیسے اتنے سالوں بعد بھاہیٶ ملا اور جلدی مجھ سے دور چلا گیا میں کتنی بدقیسمت ہو ہاشم جو اپنے بھاہیٶ کا پیار بھی نہ لے سکی ۔۔۔

مسکان اس کے گلے لگے روتے ہوۓ بولی ۔۔۔

میرے ان ہاتھوں سے دور چلا گیا مسکان اور میں رک بھی نہ سکا اسے ۔۔

ایسا دوست ہوتا ہے کیا ہم دونوں کو چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔

ہاشم اپنا دکھ یاد کرتا ایک دفعہ پھر رو پڑا تھا ۔۔۔

دونوں ہی اپنا غم ہلکا کر رہے تھے ۔۔

————————————————————

کیا ہو گیا ہے محمل بچی دیکھو کیسے رو رہی ہے ۔۔

بیٹا ایک دفعہ تو اس کی طرف دیکھو ۔۔

اصغری بیگم روم میں آتی بولی تھی

جہاں محمل سکون سے ایک جگہ پر بیٹھی مسلسل دیوار کو گھور رہی تھی ۔۔۔

جبکہ اس کی ایک سال کی بیٹی رونے میں مصروف تھی ۔۔۔

اصغری بیگم بیٹی کو گود میں اٹھاتے اسی کے پاس آی ۔۔۔

دیکھو بیٹا جو چلا گیا اس کا مطلب یہ نہیں تم اپنے خون سے منہ موڑ لو دیکھو ایک دفعہ بلکل داٶد کی کاربن کاپی ہے ۔۔

وہی نیلی آنکھیں گالوں اور تھوڑی پر پڑتے ڈمپل ہاں بال تمہارے جیسے ہے سنہری ۔۔

دیکھو زرا ۔۔

اصغری بیٹی اس کے سامنے کرتی بولی ۔۔

محمل منہ موڑ چکی تھی ۔۔

اچھا باہر آ جاٶ وکیل آیا ہے ۔۔۔

اصغری بیٹی کو باہر لے کر جاتی بولی ۔۔

دو۔سال پہلے محمل کو جب ہوش آیا تب یہ خبر بجلی بن کر اس پر ٹوٹی تھی داٶد اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔

محمل بلکل سکتے کی حالت میں چلی گی تھی ۔۔

نہ بولتی تھی نہ ہی کچھ کھاتی پیتی تھی ۔۔

ہاشم محمل کی حالت دیکھتا اپنے پاس لے آیا تھا ۔۔۔

پر افسوس محمل ویسی ہی تھی ویران نظروں سے سب کو دیکھتی تھی ۔۔۔

دل جیسے مردہ ہو چکا تھا احساسات سے عاری ہو جیسے ۔۔۔

دل میں تب بھی خوش اور احساس نہیں جاگا تھا جب اسے پتہ چلا وہ ماں بنے والی تھی ۔۔۔

ایک سال پہلے اس نے ایک خوبصورت بیٹی کو جنم دیا تھا ۔۔۔

اس ایک سال میں محمل نے نہ بیٹی کو پکڑا تھا نہ ہی نام رکھا تھا اس کا ۔۔۔

وہ دو سال میں ایک زندہ لاش بن کر رہی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

ہاشم کیا ہو گا محمل کا میں اتنا پریشان ہو دیکھو کوئ رسپانس نہیں دے رہی وکیل کی بات کا ۔۔۔

مسکان ہاشم محمل کو دیکھتے بولی ۔۔

جہاں وکیل بات کر رہا تھا پر محمل خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔

میں کیا کہہ سکتا ہو سمجھ سے باہر ہے سب محمل کسی کی بات نہیں سنتی ۔۔

ہاشم دکھ کرتے بولا ۔۔۔

سب تیری وجہ سے ہوا کہا بھی تھا جلاد کا خیال رکھنا لیکن تو ایسا کر نہ سکا کیسا دوست تھا ۔۔۔۔

ارتضٰی پیچھے سے آتا غصہ کرتا ہاشم کو بولا ۔۔۔

کیا کرتا میں وہ سنتا تھا کسی کی جہاں تم نے اپنے باپ جیسا دوست کھویا ہے وہاں میں نے بھی اپنا عزیز رشتہ کھویا ہے ۔۔۔

کیوں نہیں سمجھتا دو سال کیسے گزارے میں نے یہ میں اچھے سے جانتا ہو ۔۔۔

ہاشم زبردستی اس کے گلے لگاۓ روتے ہو کہا ۔۔۔

ہم بچا سکتے تھے اسے جلاد اتنا کمزور بھی نہ تھا وہ واپس زندگی کی طرف نہ آتا ۔۔۔۔

ارتضٰی گلے لگتے روتے ہوے کہا ۔۔۔

ان دونوں کو دیکھتے سب ایک دفعہ پھر سب کی آنکھیں اشک بار ہو چکی تھی ۔۔

———————————————————–

مسز داٶد آپ یہاں پر سائن کرے آج سے یہ ساری پڑاپڑٹی آپ کی ہو جاۓ گی ۔۔۔

مسڑ داٶد نے اپنا سیف ہاٶس داٶد پیلس داٶد ائمپیائر اور یہ اسی کڑوڑ سب آپ کے نام لگا دے ہے ۔۔۔

لندن والا فلیٹ دوبئ اور امریکہ والا فلیٹ مسکان ہاشم ارتضٰی کے نام کر چکا ہے ۔۔

ان کی وصیت تھی اگر انہیں کچھ ہو جاۓ میں یہ سب پیپرز آپ سب کو بھیج دو ۔۔۔

وکیل نے تحمل سے سب کو بتاتے کہا ۔۔

جبکہ سب حیران تھے داٶد نے اتنا سب کچھ کیسے کیا ۔۔۔

سوری میں نہیں لے سکتا مجھے صرف جلاد چاہے اور کچھ نہیں ۔۔۔

ارتضٰی فورًا انکار کرتا وہاں سے غصہ میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

محمل محمل رک جاٶ کیوں خود کو نقصان پہنچا رہی ہو ۔۔۔

مسکان پریشانی سے محمل کے پیچھے جاتی بولی ۔۔

جو وہاں سے غصہ میں اٹھ کر روم میں آ چکی تھی ۔۔۔

ہاشم آپ سمجھاۓ نہ محمل کو ۔۔۔

مسکان ہاشم کے پاس جاتی التجا کرتی بولی ۔۔۔

جبکہ روم سے اب چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔۔۔

رک جاو مسکان اسے اپنے دل کا غبار نکالنے دو۔۔

ورنہ مر جاۓ گی پورے دو سال بعد اس نے کسی بات پر ری ایکٹ کیا ہے ۔۔۔

اچھا ہے غصہ کرے گی روے گی تو ٹھیک ہو جاۓ گی ۔۔۔

تم آو میرے ساتھ ۔۔۔

ہاشم مسکان کو سمجھاتے اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوے بولا ۔۔۔

————————————————————

کیوں کیوں اتنے پاس آ کر تم دور چلے گے ۔۔۔

جب پتہ تھا دور جانا ہے تمہیں تو پاس کیوں آے جواب دو مجھے ۔۔

سب نے مجھے دوکا دیا ۔۔۔۔

تمہارا آخری دیدار بھی نہ دیکھ سکی ۔۔

کیوں کیا اتنی بری تھی میں میرا اتنا حق بھی نہ تھا میں تمہیں چھو سکتی دیکھ سکتی ۔۔۔

نہیں کرتے تھے محبت مجھ سے میں جانتی ہو اگر محبت ہوتی تو اس دنیا میں مجھے اکیلا نہ چھوڑ کر جاتے ۔۔۔

تم بے وفا ہو ۔۔۔

میں کیوں سانس لے رہی ہو کیوں۔۔۔

روم میں انٹر ہوتے محمل نے ساری چیزوں کو توڑتے غصہ سے چلاتے روتے ہوے کہا ۔۔۔

دل میں دفن ساری باتیں وہ آج کہہ رہی تھی ۔۔۔

کیوں ایسے کیا میرے ساتھ مسڑ کھڑوس پتہ تھا تمہیں میں کتنی محبت کرتی ہو تم سے ۔۔۔

مجھے نہیں چاہے یہ کڑوڑں کی جاہیداد مجھے بس تم چاہے صرف تم ۔۔

اگر پیسے چاہے ہوتے مجھے تو کب کی یہ پیسے لے چکی ہوتی ۔۔۔

لیکن مجھے تم چاہے میرے دل کی

دھڑکن ہو تم ۔۔۔

اگر دل میں دھڑکن نہ ہو تو فائدہ دل کا ۔۔

پلیز آ جاٶ واپس تمہاری ڈرامہ کوئین ٹوٹ رہی ہے بکھر رہی ہے ۔۔۔

مجھے سمیٹ لو اپنی باہوں میں پلیز داٶد پلیز ۔۔۔

میں تڑپ رہی ہو اب آ جاو واپس نہیں رہ جاتا اس دنیا میں اکیلے ۔۔۔

محمل اپنی بکھری حالت لیتی داٶد سے بات کرتی آخر میں زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر روتی کہا رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اس کی سسکیاں سننے والا کب کا اس دنیا سے دور جا چکا تھا ۔۔۔۔

ساری رات محمل اپنا غم کم کرنے میں مصروف تھی لیکن غم اس کا بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔